Web Special Novel, Best haveli based Novel, saaiyaan

Best haveli based novel | Saiyaan Ep#22

Best haveli based novel | Saiyaan Epi#22.  Love is the many emotions that expression affection and care. Honestly, responsibility and trust constitute Love. It is a feeling that everybody years for as its make them feel happy and vital. Our first experience of love is at breath.

 

#سائیاں

#از_قلم_بسما_بھٹی

#قسط_22

وہ تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا کہ کوریڈور .مرتے ہی اس کے سامنے کوئی لڑکی آ کر کھڑی ہو گئ ۔

” تم ۔۔۔ کون ہو ! ” یوسف شاہ نے اس کو سخت تیوری سے پوچھا ۔ وہ اس وقت سخت غصے میں تھا ۔

” میری تعریف تو آپ ہیں شاہ جی ” اس کے چہرے کو بے تابی سے نہارتے بولی ۔

” کیا مطلب اس بات کا ؟ … نقاب کہاں ہے تمہارا ! ” یوسف شاہ کے ماتھے پر مزید بل پڑے ۔

” وہ ۔۔۔ میں ارم ۔۔ فرحین کی چھوٹی بہن ۔۔۔ ” اس کی سخت آواز پر وہ ہڑبڑاتے بولی ۔

یوسف شاہ شاہ کے ماتھے کے حل تو ڈھیلے ہوئے لیکن اس کا بے باک انداز اسے پسند نا آیا ۔

” ہٹو میرے سامنے سے ” اپنی آنکھوں کا زاویہ بدلتے کہا ۔

” میری بات تو سن لیں پھر چلی جاؤں گی شاہ جی ” اس کے چہرے ہر نظر ٹکائے منت کے سے انداز میں کہا ۔

” پتہ ہے نا ۔۔۔ کہ شاہ حویلہ کی لڑکیاں اور بیٹیاں ۔۔ شاہ حویلی کے مردوں سے بات نہیں کرتی ہیں “

 یوسف شاہ نے سنجیدگی سے کہا نظریض اب اس ہی طرف نہیں تھیں ۔ وہ کیسے فرحین کے علاوہ کسی کو آنکھ بھر کر دیکھتا ۔

” سب جانتی ہوں ۔۔۔ لیکن دل نے مجبور کر دیا ہے اور اگر میں نے بات نا سنی دل کی تو بہت نقصان ہو گا شاہ جی ۔ ” ہاتھوں کو آپس میں جوڑتے کہا ۔

اس وقت جوئی شرم کوئی لحاظ اسے یاد نہیں آ رہا تھا ۔ اسے بس یاد اتنا تھا کہ یوسف شاہ کے علاوہ وہ کسی اور سے رشتہ نہیں بنا سکتی ۔

” شاہ جی ۔۔۔ کاش کہ حویلی میں ہمیں بچپن سے بتا دیتے کہ ہمارا نام کس سے منسوب کیا جا رہا ہے تو شائد یہ دن نا دیکھنا پڑتا ۔۔۔

ہم دونوں ہی اس رشتے سے خوش نہیں ہیں ۔۔ فرحین اور میں دونوں ہی اپنے نام کے ساتھ جوڑے جانے والے ناموں پر راضی نہیں ۔”

یوسف شاہ نے جھٹکے سے اسے دیکھا آنکھوں میں پہلے ہی سرخی تھی اب غضب کا تعیش بھی آ گیا تھا ۔

” بہتر یو گا کہ اس فضول بات جو تم اپنے تک رکھو ” دوبارہ نظروں کا رخ پھیرتے غصہ ضبط کرتے کہا ۔

” شاہ جی ۔۔ فرحین کبھی نہیں کہے گی اس کے لیے تو اس حویلی کے اصول اور ہمارے والدین کی عزت عزیز ہے ۔۔۔ مر جائے گی مگر اپنے لیے ایک لفظ بھی نہیں نکالے گی ۔۔۔ اور رہی میں ۔۔ میں تو جب سے آہ جو دیکھا ہے میرا دل میرے اختیار میں نہیں ہے ۔۔۔

 آپ پہلے مرد ہیں شاہ جی جسے ارم نے اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھا ہے ۔۔۔۔ اور مجھے نہیں لگتاا کہ آپ کے علاوہ کسی اور کا میں تصور کر سکتی ہوں “

اس کے لہجے میں بےباکی تھی ۔ بغاوت لی بو تھی ۔ محبت بے شک سچی تھی لیکن خودغرضی کی رمق تھی ۔

” میرے سامنے دوبارہ ۔۔۔ ایسی واحیات بات کرنے سے گریز کرنا ۔۔۔۔ اور میرے سامنے آنے کی بھی کوشش نا کرنا ” ٹھنڈے ٹھار لہجے میں اسے وارن کیا اور سائیڈ سے گزرنے لگا کہ ارم نے اس کی کلائ پکڑ لی ۔

یوسف شاہ نے قہر برساتی نگاہوں سے اپنے ہاتھ کو دیکھا جس کو ارم تھام چکی تھی ۔

” پلیز شاہ ۔۔۔ میری تڑپ کو سمجھیں ۔۔۔ آپ کے سوا کسی اور کو تصور کرنا گناہ ہے میرے لیے ” اس کے ہاتھ پر دباؤ دیتے کہا ۔

یوسف شاہ نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے جدا کیا ۔

” ایک بات کان کھول کر سن لو ” اس کی طرف کرخت نگاہوں سے دیکھتے کہا کہ ارم کے قدم ڈگمگائے ۔

اسے خوف سا آیا تھا یوسف شاہ سے ۔

” یوسف شاہ کے لیے اگر کوئی ہے تو بس فرحین ۔۔۔۔ بس ۔۔۔ نا اسے پہلے نا اس کے بعد کوئی ۔۔۔ اور اس کے علاوہ مجھے کسی کو دیکھنے کا شوق نہیں نا ہی اس کی تڑپ جاننے کا من ہے ۔۔۔۔

دور رہو جتنا دور رہ سکتی ہو مجھ سے ” اس کی آنکھوں میں اپنی خون آشام نگاہیں ڈالے وہ ارم کو کپکپانے پر مجبور کر گیا تھا ۔

” شاہ ” اس کے لب پھڑپھڑائے ۔

یوسف شاہ نے اس پر کٹیلی نگاہ ڈالی اور تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھا ۔

” فرحین ۔۔۔ کسی اور کو پسند کرتی ہے ” اس نے جلدی سے یوسف شاہ کے پیچھے سے کہا

اسے نہیں پتہ تھا کہ اس نے ایسا کیوں کیا لیکن اس نے بس کیا اسے یہ صحیح لگا ۔ نہیں برداشت ہوتا اس کا ایسے نظر انداز کرنا ۔

یقیناً وہ اس وقت صرف اپنا سوچ رہی تھی ۔

یوسف شاہ کے قدم اپنی جگی منجمد ہوئے ۔ دل جیسے اندر ہی کہیں سکڑ سا گیا تھا ۔ یہ بات بمب کی طرح اس کی روح پر لگی تھی ۔

خطرناک تیوروں سے وہ پلٹا ۔

ارم کے قدم لڑکھرائے ۔ اسے یوسف شاہ کی سرخ خوفناک آنکھیں اپنے اندر دھنستی ہوئ محسوس ہو رہی تھیں ۔

وہ لمبت قدم بڑحتا اس کی طرف آیا اور جھٹکے سے اس کا گلہ پکڑ کر پاس دیوار سے پن کیا ۔

” شا ۔۔۔ ہ ” وہ اس اچانک افتاد پر بوکھلا کر اس کے ہاتھ پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ گئ ۔

وہ اپنے گلے ہر سخت ہکڑ محسوس کر رہی تھی اور اس کی آنکھیں تو جیسے بھسم کر دینے والی تھیں ۔

” کیا کہا تم نے ۔۔۔ وہ کسی اور کو پسند کرتی ہے ۔۔۔ایسے الفاظ منہ سے تم نے ادا کیسے کر لیے ۔۔۔ اس سے پہلے کہ تم یہ الفاظ دوبارہ ادا کرو ۔۔۔

میں تمہارا قصہ ہی ختم کر دیتا ہوں ” اس کے گلے پر زور لگاتے وہ وحشناک انداز میں بول رہا تھا ۔

” ارم ! شااہ !” فرحین جو اپنے دھیان کمرے سے نکل کر سیڑھیوں کی طرف جانے لگی تھی کہ کسی مرد کہ وحشرزدہ آواز پر وہ کوریڈور کی طرف مڑی تو جیسے پیڑوں سے زمین نکل گئی ۔

اس کی بہن کو یوسف شاہ دیوار سے لگائے اس کا گلہ دبا رہا تھا یعنیا سے حان سے مار رہا تھا ۔ وہ اس خوف زدہ وہتی ان کی طرف بھاگی ۔

” شاہ ۔۔ چھوڑیں ۔۔۔ شاہ چھوڑیں ” یوسف شاہ کے ہاتھ کو مضبوطی سے کھینچتے وہ چلا رہی تھی

لیکن اس کی گرفت اتنی سخت تهی کہ وہ اس کا ہاتھ ہلا ہی نہیں پا رہی تھی ۔ اور یوسف شاہ پر تو جیسے خون سوار ہوا تھا ۔

” شاہ چھوڑیں ۔۔۔ خداکا واسطہ ” پوری جان لگا کر وہ یوسف شاہ کا ہاتھ ہٹا پائی تھی اور خود ارم کے سامنے آ گئ تھی ۔

ارم بری طرح سے کھانسنے لگ گئی ۔ اور فرحین پھولے تنفس سے اس کے سامنے کھڑی تھی ۔ اس صورت میں اس کا دوپٹہ سر سے سِڑک کر کندھوں پر آ گیا تھا۔

 بالوں کا ڈھیلا جوڑا بنایا ہوا تھا اور چند آواز لٹیں اس کے رخساروں پر بوسہ دے رہی تھیں ۔

 وہ پوری جان سے یوسف شاہ کو دور کر پائی تھی اور اس کا چہرہ زور لگانے کی وجہ سے سرخ ہو گیا تھا ۔ بلی آنکھوں میں سرخ ڈورے تھے ۔

یوسف شاہ تو سامنے فرحین کو دیکھ کر جیسے اپنی جگہ منجمد ہو گیا تها ۔ وہ اس کے سامنے پہلی دفعہ آئی تھی.

اور جس روپ میں وہ کھڑی تھی قیامت سے کم نہیں لگ رہی تھی ۔ اس کے خوف سے ہھرپھراتے لب یوسف شاہ کو اپنی جگہ ہلا کر رکھ گئے تھے ۔

.” کیا کر رہے تھے آپ ؟ جان سے مار رہے تھے اسے ؟ ” ارم کے سامنے ڈھال بنی و ہ یوسف شاہ سے استفسار کر رہی تھی ۔

اس کی چاہت اس کے سامنے کھڑی تھی ۔ جسے دیکھنے کی طلب یوسف شاہ کے جسم کے ایک ایک پور میں سمائی تھی اس کی حاکت اسے سامنے دیکھ کر جیسے بلکل اپنے بس میں نہیں رہی تھی ۔

” بتائیے ۔۔۔ مارنا چاہتے تھے اسے ۔۔۔ کیوں ؛ “اس کے سینے پر ہلکا سا دھکا دیتے بولی ۔ اپنی بہن کی حالت دیکھ کر اتنا ہمت تو آ ہی گئ تھی ۔

” آپ کی بہن ۔۔۔ کتنی غلیظ سوچ کی مالک ہے ۔۔ اگر جان لیتی تو دائد آج مجھے روکنے کے لیے سامنے نا آتیں ” ارم کی شکل پر نظر پڑتے جیسے وہ دوبارہ سرد حلیے میں واپس آ کر ایک ایک لفظ کو چبا چبا کر بولا ۔

” سوچ سمجھ کر بات کیجیے ۔۔۔۔ بہن ہے میری ۔۔۔ مجھے اچھے سے علم ہے کہ وہ کس سوچ کی مالک یے ” ارم کے کندھوں کے گرد اپنے بازو پھیلاتے ٹھوس لہجے میں کہا ۔

” ہاں ۔۔۔ بہت جانتی ہیں آپ ۔۔۔ تبھی یہ نہیں جان سکیں کہ یہ میرے سامنے اس وقت ۔۔۔ کیا الفاظ ادا کر ہی تھیں “. یوسف شاہ کا جبڑا دوبار بھینچ گیا تھا ۔

فرحین نے ارم کو دیکھا جو پھولے سانسوں سے ٹکر ٹکر یوسف شاہ کو دیکھ رہی تھی ۔

 یہ حرکت دیکھنے کی تو فرحین کو بھی بری لگی کیونکہ اسے ارم کی آنکھوں میں حیا نظر نہیں آئی تھی ۔

” مجھ سے محبت کا دعویٰ کر رہی تھیں جس کی حقدار آپ ہیں ” یوسف شاہ نے دانتوں کو پیستے کہا.

فرحین کو ڈھیڑوں شرمندگی نے آن گھیرا ۔ سرخ تمتماتتے چہرے سے ارم کو دیکھا جس نے نظریں چرائیں ۔

” اور جانتی کیا کہہ رہی تھیں ! .. آپ کے کردار پر انگلی اٹھائی اس نے ” یوسف شاہ نے غصے سے پاس دیوار پر ہاتھ مارا کہ اس وحشت میں فرحین کانپنے کے ساتھ جیسے ساکت ہوئی تھیں ۔ یہ نا قابلِ یقین تھا ۔

” یہ کہہ رہی تھی کہ ۔۔ آپ ۔۔ کسی ۔۔ اور مرد ۔۔۔ کو ۔۔ پسند کرتی ہیں ؟؟ … حیا نہیں آئ اسے اپنی بہن کے لیے ایسے الفاظ ادا کرتے ہوئے ” یوسف شاہ کو یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے کتنی شرمندگی ہو رہی تھی یہ بس وہ جانتا تھا ۔

فرحین نے ویران نظروں سے ارم کو دیکھا جو اب انگلیاں چٹخا رہی تھی ۔ اور آنکھوں کے زاویے چور جیسے ادھر ادھر ہھڑک رہے تھے ۔

” میں نے بچپن سے لے کر اب تک وقت ساتھ نہیں گزارا لیکن ۔۔۔ آپ کی آنکھوں سے آپ کے کردار کی گواہی دے سکتا ہوں ۔۔۔ یہ مجھے بتائے گی کہ آپ کا کردار کیسا ہے آپ کیا سوچتی ہیں جو خود میرے سامنے آپنی دو کوڑھی کی محبت کا ثبوت دے رہی ہے۔

 ” یوسف شاہ کی غصے سے ارم کو گھورتا بول رہا تھا ۔

فرحین کا جیسے دل بند ہو رہا تھا ۔ اس نے آج تک اپنے جزبات اپنی باتیں کسی پر آشکار نہیں ہونے دی ۔

 پہلی بار اس نے خاموش لفظوں سے اپنی بہن کو کچھ بتایا تو اس نے ایسے نیلام کی اس کی عزت ! ارم کے لیے ہو سکتا یہ کوئی بڑی بات نا ہوتی لیکن فرحین کے لیے بہت بڑی بات تھی ۔

اس کے کردار کو اس شخص کے سامنے خراب کرنا چاہا جس سے اس کی شادی فکس کر دی گئی تھی ۔

اور وہ کردار کا اپنی چاہت کا اتنا سچا تھا کہ بنا فرحین سے کچھ پوچھے اس کی کردار کی گواہی دینے کو تیار تھا ۔

خود کو وہ شرمندگی میں گرا ہوا محسوس کر رہی تھی ۔

” بہتر ہو گا ۔۔۔ کہ اب یہ میرے سامنے نا آئے ۔۔ ورنہ میں آپ کا ۔۔۔ بھی لحاظ نہیں کروں گا ” ارم کو سخت نظروں سے فیکھتے وہ لمبے لمبے ڈانگ بھرتا اپنے کمرے میں چلا گیا ۔

خود کو لرکھڑانے سے بچانے کے لیے فرحیج نے دیوار کا سہارا لیا ۔

ارم کو شرمندگی محسوس ہو رہی تھی ۔ وہ سچ میں خود غرض ہو گئ تھی لیکن وہ کیا کرتی اس کا ظرف اس کی بہن جیسا نہیں تھا ۔ وہ اپنے دل کو قابو نہیں کر پا رہی تھی ۔

اس سے پہلے فرحین سے کوئی بات ہوتی وہ تیزی سے سیڑھیاں اتر کر اپنے کمرے میں چلی گئی ۔

” میرے خدایا ۔۔۔ میری لاج رکھنا ” اس ک دل خوف ست دھڑک اٹھا تھا ۔ وہ اپنی ہی نظروں میں شرمندہ ہو چکی تھی ۔

 

🌹
🌹🌹

پنچائت لگی ہوئی تھی ۔ شاہ حویلی کے تمام مرد اور ادھر سے سبکتگین اور اس کے چچا اور تایا موجود تھے ۔

سبکتگین تو شہر کے رہنے والے تھے ان کے ہاں پولیس کیس بنتا تھا لیکن یہ اس دور کی بات تھی جب گاؤں کے اثر ورسوخ رکھنے والے لوگوں کے اصولوں کے مطابق فیصلے کرنے کو زیادہ ترجیح دی جاتی تھی ۔

اس بار بھی احمد نواز کے قتل پر فرحاد شاہ نے پولیس کیس بننے نہیں دیا بلکہ اپنے گاؤں کی پنچایت میں فیصلہ ہونے کا کہا ۔

” فرحاد شاہ کے بیٹے یوسف شاہ نے نواز ھاشمی کے بیٹے احمد نواز ھاشمی کا قتل کیا ہے یہ معنی نہیں رکھتا کہ کس وجہ سے قتل کیا گیا کیونکہ دونوں نے مقابلے پر لڑائی کی اور اس مقابلے کے وار میں یوسف شاہ نے قتل کیا۔

 کہا یوسف شاہ اپنی صفائی میں کچھ کہیں گے ” سر پنج نے پوری پنچایت کے سامنے اس سے پوچھا ۔

یوسف شاہ کا جبڑا تنا ہوا تھا ۔ اگر فرحاد شاہ نا روکتے تو وہ پوری پنچایت کو بتا دیتا کہ شاہ حویلی کی بیٹی پر جو بھی بات کرے گا وہ اس کا اس سے بھی برا حال کرے گا ۔

” تو اس کی سزا میں تین باتیں آتی ہیں۔۔۔

اوّل یہ کہ فرحاد شاہ اپنی ساری جائیداد مقتول کے گھر والوںکے نام کر دے اور ساتھ میں ایک بیٹی یا بیٹا بطور غلام دے۔۔۔

دوئم کہ خون بہا میں یوسف شاہ کا خون بہا کر برابری کی جائے ۔۔۔

اور سوئم ۔۔۔اپنی کسی ایک بیٹی کو ونی کر دیا جائے ” پنچایت کے اصولوں کو بڑی وضاحت سے سر پنج نے سامنے رکھا ۔

فرحاد شاہ نے دانت پیسے ۔ وہ ان تینوں کو نہیں مان سکتے تھے لیکن ان کے بیٹے کی حرکت نے کیا وقت لا کھڑا کیا تھا کہ انہیں ان میں سے ایک کو چننا تھا ۔

” بولو فرحاد شاہ ۔۔ کیا چنوں گے ان میں سے ” سر پنج نے ان کی خاموشی پر دوبارہ مخاطب کیا ۔

” سر پنج صاحب فیصلہ تو ہم سے کروائیں آپ ۔۔۔۔ ان سے کیا پوچھ رہے ہیں ” سبکتگین کے چاچا نے نفرت سے کہا ۔

یوسف شاہ نے کٹیلی نظروں سے انہیں دیکھا ۔

” بولو ۔۔ کیا چاہیے ان کی سزا میں ” سر پنج نے سر ہلاتے ان سے پوچھا ۔ یہ بھی اصولوں میں سے تھا کہ مقتول کے ایلِ خانہ سزا دینے کے مکمل حق دار ہوں گے ۔

” ہمیں حویلی کی سب سے حسین لڑکی ۔۔۔ ونی میں چاہیے ” سبکتگین کے تایا نے سپاٹ انداز میں کہا

سبکتگین اور اس کے چاچا نے جھٹکے سے انہیں دیکھا ۔

سبکتگین کے چاچا کا خیال تھا لہ جائیداد ہاتھ آتی لیکن اس کے بھائی نے عجیب ڈیمانڈ کی تھی ۔

” تایا جان ” سبکتگین نے کچھ کہنا چاہا کہ ان کے اٹھتے ہاتھ پر وہ خاموش ہو گیا ۔

” بولو فرحاد شاہ ۔۔۔۔ کون سی بیٹی دو گے ونی میں ! ” سر ہنج نے دوبارہ سےفرحاد شاہ کو مخاطب کیا ۔

” سر پنج صاحب ۔۔۔ ہمیں ۔۔ دو گھنٹے کی مہلت دیجیے ۔۔۔ ” فرحاد شاہ نے یوسف شاہ کا سختی سے ہاتھ پکڑتے کہا ۔

یوسف شاہ اس وقت بری طرح سے غصے میں تھا ۔ وہ کیسے خون بہا میں اپنی حویلی کی بیٹی انہیں دے دیتا.

” ہاں ۔۔ دو گھنٹے لے لو ۔۔ پھر دو گھنٹے بعد ۔۔۔ قاضی اور لڑکی کے ساتھ حاضر ہونا ” سبکتگین کے تایا نے دوبارہ سرد لہجے میں کہا ۔

” چلو ۔۔۔ یوسف ” فرحاد شاہ نے اس کے ہاتھ کو جھٹکا دیا جو خون خوار نگاہوں سے سامنے والوں کو گھور رہا تھا ۔

“چلوو ” یوسف شاہ کو سخت آواز سے کہا اور اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئے ۔

یوسف شاہ بھی تیزی سے ان کے پیچھے گیا ۔

🌹🌹🌹

” نہیں ۔۔۔ آپ ایسا نہیں کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔ آپ شاہ حویلی کی ایک بیٹی بھی نہیں دے سکتے ہیں آغا جان ” یوسف شاہ کی دھاڑ پورے لاؤنج میں گونجی ۔

” آواز نیچے ” اس سے بھی با رعب آغا جان کی آواز نے یوسف کہ آواز کو دبا دیا ۔

” بھائی صاحب ۔۔ ایسے نا کریں ۔۔۔ میری بیٹیاں میری سرمایہ ہیں ۔۔۔ یہ ظلم نا کیجیے ” زکیہ شاہ روتے ہوئی ان کے آگے ہاتھ جوڑ گئیں ۔

” اندر جاؤ ۔۔۔ مردوں کے درمیان عورت کا کیا کام ” آغا جان نے رخ پھیرتے غصے سے کہا ۔

 بی جان جلدہ سے زکیہ شاہ کو پکڑ کر زنانہ خانے میں لے گئیں ۔

” بھائی صاحب ۔۔ کوئ اور حل نہیں نکل سکتا کیا ” آغا جان کے بھائی نے ہارے ہوئے لہجے میں پوچھا ۔

” کیا دوسرا حل ؟ اپنا بیٹا خون بہا میں دے دوں ۔۔۔ جو ہمارے سیدوں کا اگلا گدی نشین ہے ۔۔۔ جو تمہاری بڑی کا ہونے والا سہاگ ہے۔۔ اسے قتل کے لیے پیش کر دوں ” فرحاد شاہ کی آواز ایک بار پھر لاؤنج میں گونجی ۔

” میں فرحین کو ونی نہیں ہونے دوں گا ! ” یوسف شاہ نے ضبط سے یہ الفاظ ادا کیے ۔

” فرحین نہیں ۔۔۔ ارم ۔۔۔ ارم جائے گی ونی کے طور پر ۔۔ ” فرحاد شاہ نے سپاٹ آواز میں کہا ۔

” ارم ! ” سب نے حیرانی سے ایک دوسرے کو دیکھا جبکہ یوسف شاہ تو الجھ گیا تھا ۔

” آغا حان ۔۔۔ ارم ! ” یوسف شاہ کو اپنی آواز کنوے سے آتی محسوس ہوئی ۔

” انہیں حویلی کی سب سے حسین لڑکی چاہیے ۔۔۔

 اور ہماری حویلی کے بارے میں سب کی رائے یہی ہے کہ ارم پورے سید خاندان میں سب سے حسین لڑکی ہے ۔۔۔۔ وہی جائے گی ونی کے طور پر ” صوفے پر بیٹھتے سنجیدگی سے کہا ۔

” زری بیگم ۔۔۔۔ جاؤ ۔۔ ارم کو نیچے لاؤ ” فرحاد شاہ نے کسی کے بولنے سے پہلے ہی انوچی آواز میں کہا ۔

زرین شاہ جو زنان خانے میں بیٹھیں زکیہ شاہ کو حوصلہ دے رہی تھیں کہ فرحاد شاہ کی بلند آواز ہر کانپ کر اپنی جگہ سے اٹھیں ۔

” بھابھی میری بیٹی ” زکیہ شاہ بلک بلک جر رو دیں ۔

” میں ۔۔۔ مجبور ہوں زکیہ ۔۔۔ مجھے معاف کر. دو۔۔۔ میں اپنا بیٹا خون کے بدلے نہیں دے سکتی ” زکیہ شاہ کو درد بھری نگاہوں سے دیکھتیں وہ باہر نکل گئیں ۔

 

🌹🌹🌹

” چلو ۔۔۔ ارم ۔۔۔ چادر لے لو ” زرین شاہ نے کمرے میں آ تے کہا ۔

” کیوں ؟ … کہاں جانا میں نے بی جان ؟ … پنچایت کا فیصلہ ہونا تھا نا ۔۔۔ کیا ہوا ؟ ۔۔۔۔ بتائیں نا ” ارم کسی انہونی کے ڈر سے سوال کے بعد سوال کرتی ان کے سامنے کھڑی ہو گئ ۔

فرحین بھی اپنی جگہ سے کھڑی ہو چکی تهی ۔

” پنچایت کا ہی فیصلہ ہے جس کے لیے تمہیں لے کر جا رہے ہیں ” ساکت نگاہیں ارم پر ٹکاتے وہ بے تاثر چہرے سے بولیں ۔

ارم کے تو سر سے گزری اور تلووں میں لگی تھی ۔ اس کے کانوں کو یقین نہیں آ رہا تھا جو ابھی حی جان کے منہ سے سنا تھا ۔

” ن ۔۔۔ نہیں ۔۔ نہیں نہیں بی جان ۔۔۔ آپ مزاق کر رہی ہی ” فرحین اپنی جگہ ست اٹھ کر ان کے پاس آتے بوکھلاتے بولی ۔

” چادر نکالو اور اس کے سر پر دو ” بی جان نے دونوں کی حالت پر جیسے آنکھیں بند کر لی تھیں ۔

” بی ۔۔۔ جان ۔۔۔ کہہ دیں ۔۔۔ یہ جھوٹ ہے ۔۔۔ مجھے ۔۔۔ونی نہیں کیا جا رہ نا ۔۔۔ کہیے نا ۔۔۔ یہ جھوٹ ہے ۔۔۔ خدا کا واسطہ ہے کہہ دیجیے ” ارم پھٹی پھٹی نگاہوں سے ان کے ہاتھ تھامتی تڑپ کر بولی ۔

” ارم ۔۔۔ تم یہ چاہتی ہو کہ بھری جوانی میں یوسف شاہ کا اس حویلی سے جنازہ نکلے ! ” بی جان نے کرخت لہجے میں اس سے پوچھا آنکھوں کی دہلیز سے آنسو ٹوٹ کر گرا تھا ۔

ارم کا وجود جیسے بے جان ہوا تھا ۔ یعنی اسے تو یوسف شاہ کی زندگی کی ضمانت کےطور پر پیش کیا جا رہا تھا ۔

” اللّٰه کرے ۔۔ ان کو میری عمر بھی لگ جائے ” ارم کے دل نے دہائی دی تھی لیکن. اس کی زبان اور لب ہل نا سکے تھے ۔

” فرحین ۔۔۔ چادر لاؤ “اب کی بار بی جان نے سختی سے کہا کہ فرحین اپنی جگہ کانپ گئ۔

روتے ہوئے وہ الماری ہی طرف بڑھی اور کانپتے وجود سے چادر نکالی ۔

بی جان نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ سے چادر لی اور پھیلا کر ارم کے سر پر دی ۔

ارم کی آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ گر رہے تھے لیکن اس کے کانوں میں بس یوسف شاہ کی زندگی کی ضمانت کے الفاظ گونج رہے تھے ۔

” ارم “فرحین بے ساختہ روتی اسے سینے سے لگا گئیں ۔

” مجھے رخصت کرو ۔۔ مجھے یوسف شاہ کا صدقہ سمجھ کر وار دو ۔۔۔ ” فرحین کو خود سے الگ کرتے سرخ ویران نگاہوں سے فرحین کو کہا کہ وہ اور تڑپ کر رونے لگ گئی ۔

” احمد نواز کے چھوٹے بھائی ۔۔۔ سبکتگین کے ساتھ ونی کیا جائے گا ” بی جان نے ارم کو جیسے بتایا تھا کہ وہ خود تیار رکھے ۔

فرحین نے جھٹکے سے بی جان کو دیکھا ۔

آنسووں کے ساتھ جیسے دل بھی رک گیا تھا ۔

” ن ۔۔۔ نہیں ” اس کا دل چیخا تھا مگر یہ شور زبان سے بیان ہونے سے قاصر تھا ۔

” چلو ” بی جان نے ارم کا ہاتھ پکڑا اور باہر لے گئیں ۔

” ن ۔۔۔ نہیں ۔۔ آپ ۔۔۔ نہیں ” سبکتگین کی شکل آنکھوں میں جیسے الجھ گئ تھی ۔ بے دم ہوتی وہ زمین پر گھٹنوں کے بل گر گئی ۔

اصل ازیت جیسے ان دونوں کی شروع ہوئی تھی ۔ یوں فرحین داہ کی جو اچھے سے جانتی تھی کہ سبکتگین اس سے کتنی شدت سے محبت کرتا ہےاور اب اس کی بہن کو اس کے ساتھ ونی کے چور پر پیش کر دیا جائے گا ۔

یعنی ایک وقت میں کئی زندگیاں برباد ہو گئیں تھیں ۔

🌹🌹🌹

وہ اس وقت چادر میں سکڑی سمٹی سی بیڈ کے ک ارے ٹکی ہوئی تھی ۔

جب نکاح کر کے اسے گھر لائے تھے تو کوئی بھی زی نفس اسے گھر میں دکھائی نہیں دیا تھا ۔

 سبکتگین تو اسے گھر کے باہر اتار کر باہر ہی نکل گیا تھا ۔ وہی ہی مرتے مرتے قدموں سے اندر آئی تھی اور ملازمہ تو پہلے ہی سب جانتی تھی تبھی اسے سبکتگین کا کمرہ دکھایا ۔

وہ تو سمجھ رہی تھی کہ گھر پہنچتے ہی اس پر ظلم ڈھایا جائے گا ۔ لیکن یہاں ایسا کچھ نہیں تھا ۔

وہ پورے کمرے کو گھور رہی تھی ۔ پریشانی خوف اس کی آنکھوں میں منڈلا رہا تھا.

ابھی وہ کچھ بھی سوچتی کہ دھڑل سے دروازہ کھلا اور سامنے اس نے سہیلہ کو پایا ۔

اس کا تھڑکتا دل تھوڑا سکون میں آیا ۔

” سہیلہ ” اس سے پہلے کہ وہ اس کے گلے لگتی کہ اس کا ہوا میں ہاتھ دیکھ کر وہیں اس کے قدم رک گئے

” یہ تمہاری جگہ نہیں ہے ” اس کی آواز نم آلود تهی ۔

” نہیں ہے تمہاری جگہ یہ ۔۔۔ مہرے لالہ تمہیں نہیں لا سکتے یہاں ” اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو بہہ رہے تھے ۔

ارم کا دل وہیں اس کی بھڑائی آواز پر سکڑ سا گیا ۔ سہیلہ کی حالت ناقابلِ بیان تھی ۔

” سہیلہ میری بات سنو ۔” ارم نے اس کی طرف قدم بڑھائے ۔

” وہیں رہو ۔۔۔ تم میری دوست نہیں ہو ۔۔ تم میرے لالہ کی خوشیاں نہیں کھا سکتی ۔۔ تم فرحی آپی کی جگہ نہیں لے سکتی۔۔۔۔

 میرے بڑے لالہ کو مارا گیا ہے ۔۔۔ لیکن اس کے بدلے تم نا آتی ۔۔۔۔ میرے لالہ جو تباہ کر دیا سب نے ” وہ اب باقاعدہ چیخ رہی تھی ۔

” سہیلہ ” اس نے اپنا گلہ تر کیا اسے ایک سہارے کی اس وقت ضرورت تھی اور اس کید وست ہی اس کے خلاف جا رہی تھی

” نکلو یہاں سے ۔۔ جاؤ یہاں سے ” سہیلہ نے آپنے آنسو صاف کیے اور اس کا ہاتھ ہکڑ کر باہر کی طرف کھینچنے لگی ۔

” میری بات ۔۔۔ سنو ۔۔سہیلہ ” ارم اس کے ساتھ کھنچی جا رہی تھی اتنی سخت پکڑ سہیلہ کی ہو گی اس نے کبھی نہیں سوچا تھا ۔

اس کے چیخ ہکار کے باوجود سہیلہ نے لان میں لا کر اسے جھٹکے سے چھوڑا کہ وہ توازن نا رکھ سکی اور نیچے گر گئی ۔

لیکن کسی کے قدموں کو اپنے چہرے کے قریب پایا ۔

کیا یہ اس کی حقیقت تھی ؟

یہ اس کی جگہ تھی ؟

یہ اس کا مقام تھا ؟

کسی کے قدم ؟

نظر اٹھا کر اوپر دیکھا تو سبکتگین اسے دیکھ رہا تھا بے تاثر نگاہوں سے….

 

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

Read Best haveli based novel, saiyaan , Urdu novel at this website Novelsnagri.com for more Online Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit this website and page Novelsnagri ebook

Leave a Comment

Your email address will not be published.