Web Special Novel, Best haveli based Novel, saaiyaan

Best haveli based novel | Saiyaan Ep#23

Best haveli based Novel | Saiyaan Epi#23 

Love is the many emotions that expression affection and care. Honestly, responsibility and trust constitute Love. It is a feeling that everybody years for as its make them feel happy and vital. Our first experience of love is at breath.

 

#سائیاں

#از_قلم_بسما_بھٹی

#قسط_23

🌹🌹🌹

” میری بات ۔۔۔ سنو ۔۔سہیلہ ” ارم اس کے ساتھ کھنچی جا رہی تھی اتنی سخت پکڑ سہیلہ کی ہو گی اس نے کبھی نہیں سوچا تھا ۔

اس کے چیخ پکار کے باوجود سہیلہ نے لان میں لا کر اسے جھٹکے سے چھوڑا کہ وہ توازن نا رکھ سکی اور نیچے گر گئی ۔

لیکن کسی کے قدموں کو اپنے چہرے کے قریب پایا ۔

کیا یہ اس کی حقیقت تھی ؟

یہ اس کی جگہ تھی ؟

یہ اس کا مقام تھا ؟

کسی کے قدم ؟

نظر اٹھا کر اوپر دیکھا تو سبکتگین اسے دیکھ رہا تھا بے تاثر نگاہوں سے ۔

ارم کا جیسے سانس بند ہو رہا تھا. ایک انجانہ سا خوف اس کے اندر سرائیت کر رہا تھا. سبکتگین کی ٹھنڈی ٹھار نظریں اس کےجود کو سکڑنے پر مجبور کر رہی تھیں ۔

سبکتگین نے جھک کر اس کے بازو سے کھڑا کیا تو وہ خوفزدہ ہو گئ ۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ اب اس کے ساتھ کیا ہونے والا تھا ۔

” چندا ۔۔۔ یہ کیا طریقہ ہے ! ” سبکتگین نے سنجیدگی سے سہیلہ سے پوچھا ۔

” نہیں لالہ ۔۔۔۔ آپ ایسے نہیں کر سکتے ۔۔۔ آپ نے فرحین آپی کو پسند کیا تھا ۔۔۔ ان سے محبت کی تھی ۔۔۔ آپ اس کو ۔۔۔ ان کا درجہ نہیں دے سکتے ۔۔۔ آپ اپنے دل کی راجدھانی پر ۔۔ اس کی حکمرانی نہیں ۔کروا سکتے ۔۔۔ آپ نے فرحین آپی سے محبت کی تھی لالہ ” وہ نفی میں سر ہلاتی مسلسل رو رہی تھی ۔ اپنے لالہ کے لئے بے پناہ پریشان تھی ۔ اور ارم کو وہ نہیں تصور کر پا رہی تھی اپنی بھابھی کی جگہ ۔

” سہیلہ ۔۔۔۔ فرحین میری محبت تھی نہیں ۔۔۔ اب بھی ہے ۔۔۔ اور رہے گی ” سنجیدگی سے سہیلہ کو دیکھتے کہا تو وہ اور رونے لگ گئی ۔

” لیکن یہ تمہاری بھابھی ہیں ۔۔ جیسے بھی نکاح ہوا ۔۔۔ لیکن اب یہ تمہاری بھابھی ہے ۔۔۔۔ تم کوئی زیادتی نہیں کرو گی ” ارم کی طرف اشارہ کرتے کہا ۔ ارم نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا وہ یقیناً کوئی ظالم شوہر تصور کر رہی تھی ۔ لیکن یہ تو اس کی سوچ سے برعکس نکلا ۔

” لیکن لالہ ! “

” بس چندا ۔۔۔۔ اندر جاؤ ” اس کو مزید بات کرنے سے روکا ور آرام سے اندر جانے کا کہا تو وہ ایک نظر ارم کو دیکھ کر نفی کرتی اندر چلی گئی ۔

” آپ آئیں میرے ساتھ ” ارم کو اسی سرد لہجے میں کہا جس میں کچھ دیر پہلے بات کر رہا تھا ۔

 ارم اس کے اندر جاتے ہی گہرا سانس لیتی اس کی پیروی میں چلنے لگی ۔

دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا اور وہ بھی اس کے پیچھے اندر داخل ہو گئ ۔

وہ دروازہ کے ساتھ اس وقت لگ کر کھڑی تھی ۔

” آپ جانتی ہیں اس بات کو جو ابھی سہیلہ نے کہی ۔۔۔ آپ کی بہن کے بارے میں ؟ ” سبکتگین نے بنا رخ پھیرے پوچھا ۔

” جی ۔۔۔ لیکن کچھ ۔۔۔ زیادہ نہیں ” اپنے ہاتھوں کو مسلتے ڈرتے ڈرتے جواب دیا ۔ نجانے کیوں اسے اتنی گھبراہٹ محسوس ہو رہی تھی ۔

” چلیں میں آپ کو کچھ زیادہ بتا دیتا ہوں ” زرا سی گردن موڑ کر کہا ۔

” میں نے انہیں ۔۔۔۔ ٹوٹ کر چاہا ہے ” اس کی آواز میں تڑپ تھی کہ ارم اس کی پشت کو دیکھنے لگ گئی ۔

” ان کی انکھوں سے عشق کیا ہے میں نے ۔۔۔۔ اور انہیں تو شائد اس بات کی خبر بھی نہیں کہ کوئی ان کی آنکھوں کا کتنا بڑا شیدائی ہے ” فرحین کی آنکھوں کو تصور میں لاتے سبکتگین ایک جزب کے عالم میں بول رہا تھا ۔

رمشا کو ایسے لگا جیسے اس کی حالت سبکتگین کی زبان بنی ہوئی ہے ۔

” ان کی آنکھوں کے بعد ان کی صورت بے حد حسین ہے ۔۔۔۔ بلکل جادو ہو جیسے ۔۔۔ میں نے چاہ نہیں کی تهی کبھی انہیں دیکھنے کی لیکن جب اچانک انہیں دیکھا تو اس غلطی کو میں نے اپنے پر احسان سمجھا ۔۔۔ وہ وقت کا پہرا تھا کہ میری آنکھوں کے سامنے ان کا نقاب ہٹا تھا ۔۔۔۔ اور یہ بہت بڑا احسان تھا خدا کا مجھ پر کہ میں انہیں دیکھ سکا ۔۔۔۔ میری محبت اور گہری ہو گئ تھی ” اس کے ایک ایک لفظ سے فرحین کے لیے عشق ٹپک رہا تھا ۔

” میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ۔۔۔ وقت اس احسان کا بدلہ ایسا لے گا ” تبھی اس کی آواز میں جیسے سرد پن آ یا تھا ۔

ارم اب بھی اس کی پشت گھور رہی تھی ۔

وہ پلٹا تو اس کی آنکھیں سرخ تھیں ۔ جسے دیکھ کر ارم نے تھوک نگلا ۔

” آپ جس طرح بھی آئیں ہیں ۔۔ اس گھر میں ۔۔۔ اور میرے نکاح میں ۔۔۔۔ یہ میں بھولوں گا نہیں. ۔۔ کیونکہ میں جب جب آپ کی شکل دیکھوں گا ۔۔۔ تب تب فرحین سے کیے گئے عشق سے غداری محسوس ہو گی ” اس کا سپاٹ انداز میں بات کرنا ارم کو شرمندگی اور خوف میں مبتلا کر چکا تھا ۔

” آپ کو پورا حق ملے گا اس گھر کی بہو کہلانے کا ۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔ ایک بات جو ضروری ہے ۔۔۔ وہ سن لیں ” وہ چلتا ہوا اس. سے کچھ قدم دور رکا ۔

ارم نے خوفزدہ سی نگاہوں سے اسے دیکھا اور پھر نگاہیں جھکا لیں ۔

” مجھ سے کبھی ۔۔۔۔۔ ازدواجی زندگی کا حق مت مانگیے گا ۔۔۔۔ یہ میرے بس میں نہیں ۔۔۔۔ میرا دل جس کا خواہاں ہے ۔۔۔ اس سے غداری نہیں کر سکتا ۔۔۔۔ کوشش کر کے معاف کر دیجیے گا ” اس کے چہرے پر ایک سرد نگاہ دوڑا کر وہ تیز قدموں سے باہر چلا گیا ۔

جبکہ ارم کا وجود زلزلوں کے جھٹکوں میں تھا ۔ جو ابھی اس نے الفاظ سنے تھے وہ اتنے بھیانک تھے کی اس کا اثر اسے اپنی روح پر محسوس ہوا تھا ۔ وہ اپنی شاہ جی سے محبت اور ان کی زندگی کی خاطر اس شخص کے نکاح میں آئی ۔۔۔ اور یہ شخص ۔۔۔۔ اس کی زات کی دھجیاں کیسے بکھیر گیا ۔ کسی عورت کے لیے اس سے بڑھ کر سزا نہیں ہوتی کہ اس کا شوہر اسے چھونے سے منع کرے اور اس کی زات پر کسی دوسری عورت کو فوقیت دے اور ایسے وقت پر یہ بلکل بات اہمیت نہیں رکھتی کہ وہ عورت کس طرح سے اس کے نکاح میں آئی تهی ۔ اب بھی اس کے اندر جھکڑ چل پڑے تهے ۔ اس کے اندر سے محبت ختم نہیں ہوئی تھی یوسف شاہ کے لیے لیکن جو ابھی سبکتگین نے جو کہا تھا وہ ناقابل یقین تھا۔ اسے ساری زندگی اس شخص کے ساتھ گزارنی تھی ۔ اپنی محبت کو قربان کر کے وہ بھی تو آگے بڑھی تھی ۔ تو اس کا شوہر کیسے اسے دھتکار سکتا تھا ۔ ۔ وہ کیونکہ ایک پنچایت کا فیصلہ تھی بس اس لیے اس کی زات کو بے مول کر دیا تھا ۔

اسے فکر ہو رہی تھی اپنے آنے والے وقت کی کیونکہ سبکتگین کی بیوی کون ہے اس بات کا سب کو اشتیاق ہونا تھا اور پورا ھاشمی خاندان ارم کو دیکھنے کے لیے آئے گا ۔ پھر وقت گزرے گا ۔ سب کو انتطار ہو گا کہ سبکتگین کی اولاد ہو ۔ تب وہ کیا کرے گی !کہاں سے ھاشمی خاندان کو سبکتگین کی اولاد دے گی ۔

یہ سوچیں اسے کھڑی کھڑی آن گھیری تھیں اور وہ اپنے پورے قد سے جیسے زمین بوس ہوئی تھی ۔

🌹🌹🌹🌹

وہ کچھ دیر پہلے یوسف شاہ کے نکاح میں آئی تھی ۔

ارم کو اس شاہ حویلی سے گئے مہینہ ہو گیا تھا ۔ اور فرحین کو چپ لگی ہوئی تھی ۔ ایک تو اس کو یہ تکلیف نا انصافی اس کو پریشان کر کے رکھتی تهی کہ ارم جس شخص کے نکاح میں گئ وہ اس کو پسند نہیں کرتا اور دوسرا وہ جانتی تھی کہ خون بہا میں دی جانے والی لڑکیوں کے ساتھ کیسا سلوک ہوتا تھا ۔ اس کی چپ ارم کے ساتھ نا انصافی پر لگی تھی ۔ وہ تو پہلے بھی اپنے جزبات اور کیفیات کا برملا اظہار نہیں کرتی تھی اور نا اب اس کے اندر اس طرح کی کوئی تبدیلی آئی تھی ۔

وہ سجی سنوری حسین روپ میں افسردہ سی چپ بیٹھی ہوئی تھی نا یوسف شاہ کا اسے انتظار تھا نا اس کی طلب ۔ کہیں نا کہیں یوسف شاہ کو وہ اس سب کا کسوروار ٹھہرا رہی تھی ۔ اگر وہ نا لڑتا اور ھاشمی خاندان کا بیٹا نا مرتا تو آج ارم اس کی لاڈو پلی بہن ان کے درمیان ہوتی.

دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ سوچوں سے باہر نکلی ۔

یوسف شاہ نے اس کا سنجیدہ چہرہ دیکھا جس پر کوئی چمک نہیں تھی ۔ وہ اس دورانیے میں فرحین کی فطرت سے واقف ہوا تھا کہ وہ کم گو تھی ۔ اگر بولتی بھی تو نپے تلے الفاظ میں ۔ اپنے جزبات آشکار کرنا اس کی فطرت میں نہیں تھا ۔

گہرا سانس لیتا وہ اس کی طرف آیا ۔

فرحین نے اس کی موجودگی میں کسی بھی قسم کا ردِ عمل نہیں دکھاءا تھا بس سر جھکائے سنجیدگی سے بیٹھی تھی ۔

” فرحی ۔۔۔ مجھ سے کچھ چھپایا آپ نے ۔۔۔۔ میرا مطلب ۔۔۔ ارم نے جو کہا ۔۔۔ اس میں کتنی حقیقت ہے ! ” یوسف شاہ نے اس کے سامنے بیٹھتے پوچھا ۔

فرحین نے اسے دیکھا ۔

” مجھ سے میرے کردار کی گواہی مانگ رہے ہیں شاہ ! ” فرحین نے بنا لحاظ کے پوچھا.

اس کے جواب ہر یوسف شاہ جیسے گڑبڑا گیا.

” نہیں نہیں نہیں. ۔۔ بلکل نہیں ۔۔۔ فرحی میں تو آپ سے کوئی صفائی نہیں مانگ رہا ۔۔۔ میرے لیے. ۔۔ اس سے بڑھ کر کچھ اہم نہیں کہ آپ میری ہیں میرے نکاح میں ہیں میری دسترس میں ہیں ۔۔۔۔ پلیز مجھے غلط نا سمجھیں ” سر کو نفی میں ہلاتے وہ اس کے ہاتھ تھام گیا تھا ۔

” شاہ جی ۔۔۔ ارم کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے ۔۔۔ کیا یہ بس غلطی تھی اس کی کہ اس نے آپ سے محبت کی ؟ آپ سے محبت کرنے کی کیسی سزا ملی اسے کہ آپ کی جان کے بدلے اسے خون بہا میں پیش کر دیا ! ” فرحین کی آواز میں بے حد تکلیف تھی ۔

یوسف شاہ کا چہرہ متغیر ہوا ۔ اسے علم تھا کہ فرحین اس سے یہ بات چھیرے گی ۔

” کیا اتنا نقصان دہ ہے آپ سے محبت کرنا ! مجھے تو آپ نکاح میں لےچکے ہیں ۔۔۔۔ میرے لیے کیا سزا ہو گی ابھی بتا دیں ” اس کے ہاتھوں میں ہی اپنے ہاتھوں کا دباؤ دیتے وہ ٹوٹے ہوئے لہجے میں پہلی بار اپنی حالت آشکار کر رہی تھی ۔ اسے نہیں علم تھا کہ وہ اس شخص کے سامنے اتنا کیوں بکھر رہی تھی ۔ اپنے اندر کی حالت اس پر عیاں کیوں کر رہی تھی ۔ نہیں علم تھا کہ وہ یوسف شاہ کے سامنے دل برداشتہ ہو جائے گی ۔

 

” پلیز فرحی ۔۔۔ آپ ایسے نا بولیں ۔۔۔ میری سانسیں صرف آپ کی وجہ سے چل رہی ہیں ۔۔۔۔ میں نے تب سے آپ کو محبت کی ہے جب میں اس جزبات کو پہچانتا بھی نہیں تھا ۔۔۔۔۔ آپ کو بنا دیکھے محبت کی ہے ۔۔۔ دس سال کی عمر میں مجھے بی جان نے بتایا تھا کہ آپ کو میرے نام پر محفوظ کیا ہے ” اس کے لہجے میں جزبات کی شدت تھی ۔

فرحین کا سانس جیسے سینے میں اٹکا تھا ۔ وہ دم سادے اسے سن رہی تھی ۔

” دس سال سے لے کر اب تک ۔۔۔ میں نے فرحین شاہ محبت کی ہے ٹوٹ کر محبت کی ہے. ۔۔۔ دیکھا تک نہیں تھا ان سالوں میں ۔۔۔۔ اس دن ارم کے سامبے جب آپ آئیں تو پہلی بار آپ کو دیکھا تھا ۔۔۔ سب کہتے ہیں کہ شاہ حویلی کی سب سے حسین لڑکی ارم تھی ۔۔۔ لیکن مجھے نہیں پتہ کہ میرے دل کو آپ شاہ حویلی کیا پوری دنیا سے اتنی حسین کیوں لگی ” اس کے ہاتھوں پر بوسہ دیتے دل لگی سے کہا ۔

فرحین کی نگاہیں اس کی والہانہ نظروں کو دیکھ کر جھک گئی ۔

” آپ کو کوئی مہرہ بنا کر کوئی غلط بات کرے تو میں کیسے برداشت کر سکتا ہوں ۔۔۔ میری شدت میری تڑپ میری چاہت کا کسور بس یہ ہے کہ میں آپ کے نام سے جیتا آیا ہوں ۔۔۔ ” اس کے چہرے پر فداوانہ انداز سے نظریں ٹکائے پہلی دفعہ یوسف شاہ نے اعتراف کیا تھا.

“لیکن ۔۔۔۔ ارم کا کیا کسور ۔۔۔ وہ ایک ان چاہے انسان کے سپرد کی گئ ہے شاہ. ۔۔۔ اس کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہو گا آپ جانتے ہیں “اس کے ہاتھوں پر سر رکھ کر وہ رو دی تھی ۔

” کیا یہ وہ وہی شخص ہے جس کی بات ارم کر رہی تھی ” یوسف شاہ نے نرمی سے پوچھا.

فرحین نے بوکھلا کر اسے دیکھا ۔ ایک پل کو لگا کہ وہ اس کے کردار کو غلط سمجھے گا ۔

” یہ وہ ہیں جن کا رشتہ میرے لیے شاہ حویلی میں آیا تھا ” فرحین نے جھکے سر سے بتایا ۔

“اور ! اس کے ہاتھوں پر دباؤ دیتے پوچھا.

” ہمیں لا علم رکھا گیا تھا اس منگنی سے ۔۔ آپ سے رشتہ جڑا ہے اس سے پہلے مجھ سے سہیلہ نے اپنے بھائی کے بارے میں بتایا تھا ۔۔۔۔ میں جھوٹ نہیں بولوں گی ۔۔۔۔ میرے دل میں ۔۔۔ ان کے پیغام سے ۔۔۔ احترام اور پسندیدگی آئی تھی ۔۔۔۔ لیکن میں نے خود کو بے باک نہیں ہونے دیا ۔۔۔ خود کو محفوظ رکھا کیونکہ میں جانتی تھی مجھ سے ۔۔۔۔ میرے والدن کی عزت جڑی ہے ۔۔۔۔ میں اس دن اور خود میں سمٹ گئ جس دن مجھے یہ علم ہوا کہ مجھے ۔۔۔ آپ کے نام سے جوڑا گیا تھا ۔۔۔ اور اب شادی بھی آپ سے ہو گی ۔۔ خود کو خاموش کر لیا تھا ۔۔۔ میں نے کبھی کسی کو دل میں آنے کی اجازت نہیں دی ۔۔۔ میرا کبھی کسی مرد سے سامنا ہوا ہی نہیں ۔۔۔۔ لیکن ان کے رشتے سے بس احترام ملا تو دل میں پہلی دفعہ ان کا خیال آیا ” سر جھکائے وہ نادم سی اسے بتا رہی تھی ۔

یوسف شاہ اس کی کیفیت بخوبی جانتا تھا .

” پلیز شاہ جی ۔۔۔ مجھے ۔۔۔ بدکردار۔۔۔

” ششششش ۔۔۔۔ کیا بول رہی ہیں آپ ۔۔۔ میری ہیں آپ ۔۔۔ اور میری عزت کے لیے ایسے الفاظ استعمال کریں گی آپ ! ” اس کی آنکھ سے ٹوٹ کر نکلنے والے آنسو کو وہ صاف کرتا خاموش کروا گیا ۔

” مجھے علم نہیں ۔۔۔ تھا آپ کی ۔۔۔ چاہت کا ” پھر سے وہ شرمندہ سی ہو گئ ۔

” اب علم آپ کو ہو گا ۔۔۔ جب میرى چاہت سے آپ پور پور مہکیں گی ۔۔۔۔ میں آپ کو خود سے محبت کرنے پر مجبور کر دوں گا ۔۔۔۔ بس وعدہ کیجیے ۔۔۔ کہ میری وفادار رہیں گی ۔۔۔۔ رہیں گی نا ؛ ” اس کے سامنے ہاتھ پھیلا جر آس سے وعدہ چاہا ۔

فرحین نے اسے دیکھا جو محبت سے اسے دیکھ رہا تھا ۔

ہلکی مسکان سے اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ رکھا ۔ تو یوسف شاہ کی مسکان گہری ہوئی ۔

” میں کبھی نہیں بھولنے دوں گا ۔۔۔۔ کہ آپ میری منظورں نظر ہیں ۔۔۔۔ یوسف شاہ کی چاہت ہیں ۔۔۔ اس کا عشق ہیں ” اس کے ہاتھوں پر بوسہ دیتے جیسے وعدہ کیا تھا ۔

وہ اس کے لمس سے سرخ ہو گئ تھی ۔

یہی چمک یہی سرخی اس کے کمرے میں آتے وقت نہیں تھی مگر اب فرحین شاہ اس کے ساتھ اس کے لمس اس کے نام سے مہک رہی تھی ۔

مسکرا کر آسودگی سے اسکے ماتھے پر بوسہ دیا ۔

روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام

دہکا ہوا ہے آتش گل سے چمن تمام

حیرت غرور حسن سے شوخی سے اضطراب

دل نے بھی تیرے سیکھ لیے ہیں چلن تمام

اللہ ری جسم یار کی خوبی کہ خودبخود

رنگینیوں میں ڈوب گیا پیرہن تمام

دل خون ہو چکا ہے جگر ہو چکا ہے خاک

باقی ہوں میں مجھے بھی کر اے تیغ زن تمام

دیکھو تو چشم یار کی جادو نگاہیاں

بے ہوش اک نظر میں ہوئی انجمن تمام

ہے ناز حسن سے جو فروزاں جبین یار

لبریز آب نور ہے چاہ ذقن تمام

نشو و نمائے سبزہ و گل سے بہار میں

شادابیوں نے گھیر لیا ہے چمن تمام

اس نازنیں نے جب سے کیا ہے وہاں قیام

گلزار بن گئی ہے زمین دکن تمام

🌹🌹🌹🌹🌹

وقت کا کام ہے گزرنا اور وہ گزرا ۔ لیکن کافی کٹھن ۔

سبکتگین نے اپنا بزنس باہر کے ملک میں سیٹل کرنا شروع کر دیا ۔ وہ ارم کو اب بھی کسی محبت کی نگاہ سے نہیں دیکھ پا رہا تھا لیکن اس کی حیثیت پوری ملی تھی نواز ہاشمی گھرانے میں سبکتگین کی بیوی کی حیثیت سے ۔ ارم شائد اس کی دوری برداشت کر لیتی ساری عمر اگر اسے خاندان کے طرح طرح کے تانے نہیں سننے پڑتے۔ ہر دن اس کے لیے ایک کڑوا سچ اگلتا تھا ۔ ہر رات اس کی سسکیوں میں بدل رہی تھی ۔ کئی مہینے گزر گئے تھے لیکن ارم کو بری طرح سے خاندان کی عورتوں نے چہ میگوئیاں کر کر کے نظر اٹھانے کے قابل نہیں چھوڑا تھا. شروعات میں عورتیں اس سے ڈائریکٹ پوچھتی تھیں کہ اس کے ہاں اب تک خوشخبری کیوں نہیں ۔ وہ خاموش ہوتی تو کئی عورتیں نجانے کس کس بابوں اور ہسپتال کا پتہ دیتیں جہاں سے بانچ عورتوں کا علاج ہوتا تھا ۔ یہ بات کسی بھی عورت کے لیے مرنے کے مقام جیسی ہوتی ہے لیکن ارم کو حیرت ہوتی تھی کہ وہ یہ سب سن کر زندہ کیسے ہے ۔ سبکتگین کے ساتھ اس کے اتنی اچھی بے تکلفی نہیں تهی کہ وہ اس سے اس سب کی شکایت کرتی کیونکہ. وہ تو پہلی رات ہی سب بتا چکا تھا کہ وہ اس سے اولاد کا خواہشمند ہی نہیں ۔ وہ اس سنگین صورت حال میں کیا کرتی ۔

سبکتگین پہلے ہفتے میں دو تین دفعہ آتا تھا مگر پھر وہ ایک دفعہ آنے لگا ۔ پھر وقت گزرا تو مہینے میں مشکل سے ایک بار ۔ اسے علم تھا کہ اس کی بیوی پیچھے سب کے جوابات دیتی ہو گی لیکن اس کے پاس ان جھنجھڑوں میں پڑنے کا وقت نہیں تھا ۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ ارم کی باتیں سنے اور دل برداشتہ ہو کر اپنی محبت سے دغا کرے ۔

جب ارم کی برداشت کی حد ختم ہوئی تو اس نے ٹھان لیا کہ اس بار سبکتگین جب آئے گا تو وہ دو ٹوک فیصلہ کری گی ۔ وہ اس سب سے آزاد ہونا چاہتی تھی ۔

” مجھے آپ سے بات کرنی یے ” وہ صبح جب اپنی ماں سے مل کر کمرے میں آیا تو ارم نے سنجیدگی سے کہا ۔

” ہمم ” بس ہنکارا بھر کر بولنے کی اجازت دی.

” آپ کو نہیں لگتا ہماری اولاد ہونی چاہیے ” سپاٹ انداز سے پوچھا ۔ بے باک تو وہ شروع سے تھی اپنے معاملے میں ۔ اب بھی یہ بات کرتے اسے کوئی جھجھک نہیں لگی ۔ کیونکہ وہ بہت سہہ چکی تھی ۔

” تمہیں علم. ہے کہ میں پہلی رات ہی بتا چکا تھا کہ میں تمہیں یہ حق نہیں دے سکتا ” سبکتگین نے اسے سنجیدگی سے دیکھتے کیا ۔

” تو پھر ایسا کریں ۔۔۔ اپنے خاندان کی زبانیں بند کروائیں ۔۔ انہیں بتائیں کہ آپ نے مجھے یہ حق دیا ہی نہیں ۔۔۔۔ تو اولاد کہاں سے آئے گی ۔۔۔بتائیں انہیں کہ آپ کی بیوی ۔۔۔۔ بانچ نہیں ہے ۔۔۔ نہیں ہے وہ بانچ ۔۔۔ آپ نے اسے اس دہلیز پر لا کھڑا کیا ہے ” وہ ضبط کو دور کرتی پوری جان سے چیخی تھی ۔ اس کی حد ختم ہو گئ تھی ۔

سبکتگین نے اسے سپاٹ نظروں سے دیکھا بس ۔

“تو اتنا بھڑک کیوں رہی ہو ۔۔۔ بچہ اڈوپٹ کر لیتے ہیں ۔۔۔ کوئی پریشانی نہیں ہو گی ” سبکتگین نے سرد لہجے میں کہا اور اٹھ کر سٹڈی روم کی طرف بڑھا ۔

پیچھے ارم اس کی سفاکیت پر جیسے لرز کر رہ گئی ۔ اسے پرواہ ہی نہیں تھی ۔

” بچہ اڈوپٹ کر لیں ! …. آپ کیسے ۔۔۔ کہہ رہے ہیں یہ ۔۔۔۔ ہم اپنی اولاد کیوں نا کریں ۔۔۔ چھوڑ دیں ضد جو لگا کر بیٹھے ہیں آپ ۔۔۔ فرحین کی شادی ہو گئ ہے ۔۔۔۔ یقیناً اب بچے بھی ہوں گے اس کے ۔۔۔ کچھ تو خدا کا خوف کھائیں ” وہ اس کے سامنے آتے دوبارہ بولی ۔

” ارم ۔۔۔ فرحین کی شادہ ہو گئ ہو یا اس کے بچے ہو گئے ہوں ۔۔ میں اس بارے میں کچھ نہیں کہوں گا ۔۔۔ لیکن میں نے ۔۔۔۔ فرحین سے وفاداری کی قسم کھائی تهی ۔۔۔ میں ۔۔۔ اس قسم کو توڑ نہیں سکتا یہ میرے خون میں شامل ہے ” اس کی بات کا تحمل سے جواب دیا ۔

“پلیز ۔۔ سبکتگین ۔۔۔ صرف ایک رات ! …. صرف ایک رات دے دو مجھے ۔۔۔ مجھے اس حق سے محروم نا رکھیں ۔۔۔۔ میں دوبارہ نہیں کہوں گی ۔۔۔ پھر بے شک ۔۔۔ میری اولا ہو نا ہو ۔۔ لیکن میں اپنی اولاد چاہتی ہوں ۔۔۔ آپ سے اپنی اولاد چاہتی ہوں ۔۔۔ مجھے ایک رات دے دیں ۔۔۔ دوبارہ آپ سے نہیں کہوں گی ! ” اس کے سامنے ہاتھ جوڑتے وہ روتے ہوئے بول رہی تھی ۔ اس کا دل بے حد زخمی تھا ۔

” ہم بچہ اڈوپٹ کر لیں گے ۔۔۔ اور تمہیں میں اپنے

فارم ہاؤس پر لے جاؤں گا ۔۔۔۔ وہاں ہم اسے اپنا بیٹا بنا کر پالیں گے ۔۔۔ مجھے ایک رات تمہیں دینے کا سوچ کر ہی وحشت ہو رہی ہے ” کتاب کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ کر گھورتے وہ سرد پن سے بولا ۔

ارم بے بس سی زمین پر بیٹھی اور اسے دیکھنے لگی.

” جس طرح تم ۔۔۔ اپنے دل سے اس یوسف شاہ کو بھلا نہیں سکی ۔۔۔۔ اس سے کئی زیادہ گنا میں فرحین کی محبت میں گرفتار ہوں ۔۔۔ میں نے جو کہا وہ سہی رہے گا ” اس کی طرف دیکھتے کہا ۔

ارم کے چہرے کا رنگ متغیر ہوا تھا اس کی بات سے ۔

” کل چلیں گے اپنے فارم ہاؤس پر ۔۔۔ اور پھر ہم کوئی چھوٹا بچہ اڈوپٹ کریں گے ” کتاب چہرے کے سامنے کھولتے کہا ۔ صاف اشارہ تھا کہ اب وہ بات نہیں کرے گا ۔

ارم بس اسے دیکھتی ہی رہ گئی ۔

______

پھر سبکتگین اسے اپنے ساتھ لے گیا ۔

انہوں نے ایک نیو بورن بچےجو اڈوپٹ کیا جس کے والدین کسی ٹریفک حادثے میں چل بسے تھے ۔ وہ بچہ محض بیس دن کا تھا ۔

ارم اور سبکتگین نے اسے اپنی شناخت دی ۔ اس کا نام قمر سبکتگین رکھا ۔

وقت پھر سے گزرنا شروع ہوا ۔

اور اس دوران قمر اپنے والدین کے بے حد قریب ہو گیا ۔ ارم تو اس پر فدا ہو چکی تھی ۔ سچ میں وہ ایک حقیقی ماں کا روپ اختیار کر گئ تھی ۔ ادھر سبکتگین جب مہینے بعد آتا تو اس کے لیے قمر کی محبت دیدنی ہوتی ۔ اس کی چاہت سے محسوس ہوتا ت کہ اسے بچے بے حد پسند تهے لیکن اپنی قسم اور ضد کی وجہ سے وہ خاموش تھا ۔ اور ارادے کا اتنا پکا تھا کہ ایک ہل کے لیے بھی ارم کے سامنہ اس کے جزبات پھیکے نہیں پڑے ۔ لیکن یہ بھی سچ تھا کہ ارم کے علاوہ اس کی زندگی میں کوئی اور عورت قدم بھی نا رکھ سکی ۔

جیسے جیسے قمر بڑا ہو رہا تھا ارم اور سبکتگین کی سانسیں جیسے اس کے ساتھ جڑنے لگ گئی تھیں.

دونوں ہی ٹوٹ کر چاہنے لگے تھے ۔

اور قمر بھی بے پناہ محبت کرے واکا شریف فطرت کا مالک تھا ۔ اسے اپنی ماں سے محبت تو تھی لیکن جو جزبات اس کے اپنے باپ کے لیے تھے وہ لفظوں میں بیان کرنا مشکل تھا ۔ اس کے لیے ائیڈیل اس کا باپ تھا ۔

قمر سے لیکن یہ چھپایا نہیں تھا کہ وہ ایک اڈوپٹڈ بچہ ہے لیکن قمر شروع سے ہی سمجھدار اور حلیم طبیعت کا مالک تھا ۔ اسے جتنی شدت سے اپنے یہ والدین پسند تهے وہ اپنے اصلی والدین کو شائد ایسے چاہ نا پاتا.

لوگوں کی بھی زبان بند ہو گئ تھی ۔ سب اسے سبکتگین اور ارم کا بیٹا مانتے تھے ۔

ادھر فرحین شاہ کے دو بیٹے تھے ۔ دونوں ہی اپنے والدین سے رنگ روپ اور فطرت چرا گئے تھے ۔ بڑا کیف شکل و صورت سے اپنی ماں پر گیا تھا لیکن فطرت اس کی یوسف شاہ کی تھی ۔ چھوٹ سیف ہو بہو یوسف شاہ کی کاپی تھا لیکن اس کی طبیعت اپنے چاچو یعنی سامر شاہ پر گئ تھی ۔ اکثر لوگ اس کی حرکتوں اورسوچ کے زیرِ اثر سامر کا دوسرا روپ کہہ دیتے تھے ۔

🌹🌹🌹🌹🌹

سامر نے اس سب مشکل حالات کے باوجود اپنا فیصلہ نہیں بدلہ تھا. اسے فرحاد شاہ کے سامنے سہیلہ سے شادی کی ہی خواہش رکھی تھی ۔

سب اس بات کے خلاف تھے کہ جہاں ایک بیٹی خون بہا دی ہے اسی گھر کی بیٹی کیسے لے آئیں ۔

لیکن سامر شاہ اٹل فیصلہ کر چکا تھا ۔ اس نے صاف کہہ دیا تھا کہ وہ حویلی چھوڑ کر چلا جائے گا اگر اس کی کہیں اور شادی کرنی چاہی ۔

اس کی جنونی طبیعت کی وجہ سے فرحاد شاہ تھک ہار کر مان گئے ۔

یوسف شاہ کو بلکل یہ فیصلہ نہیں پسند تھا ۔ وہ کسی صورت اسی گھر کی بیٹی لانا نہیں چاہتے تھے ۔ مگر فرحاد شاہ کے فیصلے کے سامنے خاموش ہو گئے ۔ لیکن ان کے دل میں سہیلہ کے لیے اصل مقام نا بن سکا.

سبکتگین سے جب اس رشتے کی بات کی گئ تو اس نے سہیلہ سے سب سے پہلے پوچھا کیونکہ رشتہ لے کر جانے سے پہلے ہی سامر نے سبکتگین سے مل کر اپنی اور سہیلہ کی پسندیدگی واضح کی تھی ۔ سبکتگین نے جب سہیلہ سے اس بارے میں پوچھا تو وہ خاموشی سے سر جھکا گئ۔ وہ چاہ کر بھی سامر کے علاوہ کسی اور کا انتخاب نہیں کر سکتی تھی ۔

سبکتگین نے اس کی محبت کے پیشِ نظر سادگی سے نکاح کرنے کا کہا ۔ اور اس طرح سادگی سے سہیلہ کا نکاح ہو گیا ۔

فرحین شاہ کو سہیلہ شروع سے بہت پسند تھی ۔ اس نے سب کے سمانے اپنے دونوں بیٹوں کے لیے اس کی دونوں بیٹیاں مانگ لیں. سب متفق تھے ۔ یوسف شاہ خاموش رہے کیونکہ یہ ان کی بیوی کی خواہش تھی جسے وہ ہر حال میں پورا کرتے ۔

اسی طرح بڑوں کے فیصلے سے ۔ زامل کی بات ملیحہ سے طے ہوئی ۔ احسام کی بات ماہم شاہ سے طے ہوئی ۔ شاہ حویلی کے بچوں کو آپس میں ہی جوڑ دیا ۔ کیونکہ اب بھی شاہ حویلی میں باہر شادیاں کرنے کا رواج نہیں تھا ۔

🌹🌹🌹🌹🌹🌹

Continued…..

Read Best haveli based novel, saiyaan , Urdu novel at this website http://Novelsnagri.com for more Online Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit this website and page Novelsnagri ebook

1 thought on “Best haveli based novel | Saiyaan Ep#23”

Leave a Comment

Your email address will not be published.