Revenge | Urdu Novel 2022

Best Revenge Novel 2022 | یہ عشق کی تلاش ہے | Tania Tahir | Ep#27

Best Revenge Novel 2022 | یہ عشق کی تلاش ہے | Tania Tahir | Ep#27

Tania Tahir Best Novel 2022 written a variety of Urdu novels and has large number of fans waiting for new novels. Tania Tahir also writes suspense, Romantic, Social Issue and rude hero based Urdu novels. Tania Tahir novels are published in episodic on every month at various platforms furthermore online released.

Web Site: Novelsnagri.com
Category : Web special novel
Novel name : یہ عشق کی تلاش ہے
Written by: Tania Tahir
Episode #27

 

عالم کی نظر ائرہ پر تھی ۔۔۔ وہ خاموشی سے بے تاثر نظروں سے اسکیطرف دیکھ رہا تھا ۔۔ جو بہت دل لگی سے ۔۔ گارڈن میں پھول لگا رہی تھی ۔۔۔

عالم اور اسکے بیچ اس موضوع پر ایک ہفتہ گزر جانے کے بعد بھی کوئ بات نہیں ہوئ تھی ۔۔۔۔ان دونوں کی نہ اسنے ۔۔۔ اختلاف کیا تھا نہ اسکے عمل کے بارے میں کچھ کہا تھا کہ اسکے برے رویے کی شکایت کی تھی وہ بس خوش تھی ۔۔۔ کیونکہ عالم نے اسے ایک بیوی کی حثیت دینی شروع کر دی تھی ۔۔۔۔

اور یہ بات ائرہ کے لیے بہت نہیں بہت زیادہ تھی کہ وہ اسے اپنی بیوی سمھجہ چکا ہے ۔۔۔ اب یہ بات عالم ہی جانتا تھا یہ شاید وہ خود بھی جانتی تھی کہ عالم اپنی کی گئ جزبات میں بھٹکی ہوئ حرکت کی وجہ سے ۔۔۔۔ اسے یہ رتبہ دے گیا ہے ۔۔۔۔

اسکے سارے غم اسکے اپنے تھے کوئ اس میں شریک نہیں تھا ۔۔۔۔

اور جب تک کوئ شریک نہیں تھا اسے اپنے سامنے کھڑے کسی بھی انسان کی پرواہ نہیں تھی مگر شاید وہ رات گزر چکی تھی ۔۔۔ اپنے ساتھ عالم شاہ کے اکیلے ہونے کا دعواہ توڑ چکی تھی ۔۔۔ اب عالم شاہ تنہا نہیں رہا تھا ۔۔وہ اپنے اندر ہی اس بات پر روز گھٹتا تھا کہ اروش کے ساتھ بے ایمانی کی ہے اسنے ۔۔کیا وہ حوس پرست تھا ۔۔۔ یہ پھر اس وقت اسے اس سہارے کی ضرورت تھی ۔۔ اس وقت اس میں اتنی آگ تھی کہ وہ سب بھسم کر دیتا جس کو آئرہ نے بھجایا تھا ۔۔۔

یہ پھر اگلے دن اپنی جنونیت کے تمغے اسکے چہرے پر سجے دیکھ کر وہ مزید شرمندہ ہو گیا

نہ ہی اسے ائرہ سے محبت تھی اور نہ ہی کوئ اور جزبہ ہاں اسے ائرہ سے چیڑ تھی نفرت کا جذبہ بھی سمھجا جا سکتا ہے کیونکہ یہ ہی وہ لڑکی تھی جس نے ۔۔عالم کو یہاں لا پٹخا تھا ۔۔۔

کہ وہ ۔۔۔ نہ تیمور کو نگل پا رہا تھا نہ ہی اگل ۔۔۔۔

وہ سب کچھ بیچ چکا تھا ۔۔ساری جڑیں کمزور پڑ چکیں تھیں ۔۔ پہلے بھی ہر چیز اس کے ہی نام پر تھی مگر ۔۔ اسنے ۔۔ یہ سب ۔۔ تیمور کے پیچھے سے کیا تھا ۔۔ اسکی ہر طاقت کمزور کر دی تھی اور اگر کچھ ۔۔ تیمور کے نام تھا بھی تو ۔۔وہ بھی اپنے نام اتروا لیا تھا ۔۔۔۔

وہ جانتا تھا تیمور پیسوں کا پجاری ہے ۔۔۔۔

اگر اسکے پاس پیسہ نہ ہو ۔۔۔ تو وہ کسی قابل نہیں رہے گا ۔۔ یہاں بھی وہ ۔صرف اس جائیداد کی وجہ سے ٹکا ہے ورنہ شاید اروش کو مارنے کے بعد وہ اگلے روز ہی یہاں سے چلا جاتا ۔۔۔

ٹھرنے کی دوسری وجہ پروپرٹی کا بڑا حصہ عالم کے نام ہونا تھا اسنے وکیلوں سے بہت طریقے پوچھے تھے مگر کوئ بھی طریقہ کار آمد ثابت نہیں ہوا اور اسطرح اسے یہاں پر روکنا پڑا اور مزید وہ یہاں تباہی مچانے لگا ۔۔۔۔

عالم کے لیے تیمور کو مارنا مشکل نہیں تھا وہ بس مرتے وقت اسکی آنکھوں میں اروش کو دیکھنا چاہتا تھا

وہ اسے دیکھانا چاہتا تھا ۔۔۔۔ کسی کی سانسیں چھین لینے کا اختیار ۔۔۔ اس کو نہیں۔ ۔۔۔ اور اسی سوچ کے تحت اسنے اتنا عرصہ اسکو نظروں کے سامنے رکھ کر نکلوا دیا تھا ۔۔۔

اسکی زندگی میں ائرہ کے لیے جگہ نہیں تھی مگر جگہ بن گئ تھی ۔۔۔۔

وہ جانتا تھا وہ کیا کر چکا ہے اب وہ اسپر جتنا پشتاتا اتنا کم تھا

لیکن وہ چاہ کر بھی آئرہ پر یہ پشتاوا نکال نہیں سکتا تھا ۔۔۔

اور تبھی ائرہ کو باندھنا پڑا تھا اپنے ساتھ ۔۔۔۔

کیونکہ اگر اسکی زندگی سے کوئ اور زندگی جڑ گئ تو شاید ۔۔۔ ایک نیا عالم جنم لے ۔۔۔ جبکہ وہ ۔۔۔ اب کوئ ایسا عالم نہیں چاہتا تھا جو حسرتوں کا مارا ہو ۔۔۔ جس کے پاس رشتے نہ ہوں ۔۔۔۔۔

جس کی محبت ۔۔ ادھوری ہو ۔۔۔

اور جیسے اپنی بھڑاس کسی اجنبی پر نکال کر خود کو زبردستی اسکے ساتھ باندھنا پڑے ۔۔

ہاں شاید وہ کسی نئے عالم کے پیدا ہونے سے ڈر رہا تھا ۔۔۔

وہ اپنی سوچوں میں مگن تھا کہ ۔۔۔۔ ائرہ نے اسکے سامنے چٹکی بجائ ۔۔

ائرہ کے لبوں کی تراش میں خوبصورت مسکان تھی وہ اسے ۔۔ چاہت بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی جیسے دنیا کی ساری خوشیاں اسے مل گئیں ہوں ۔۔۔

اگر اروش اسکے دل پر نا بھائ ہوتی تو ضرور وہ ائرہ کی جانب مائل ہوتا کیونکہ یہ حقیقت تھی کہ ائرہ اروش سے کئ گناہ خوبصورت تھی اور سب سے بھڑ کر بات اسکی چمکتی آنکھوں میں عالم شاہ پورا دیکھائی دیتا تھا ۔۔

مگر ۔۔۔ عالم شاہ کا اسکی خوبصورتی سے متاثر ہو کر اسکیطرف بڑھنا ایک احماقانہ حرکت ہو سکتی تھی ۔۔ پھر اسکی محبت زلیل خوار ہو جاتی ۔۔

کچھ خاص سوچ رہیں ہیں ” ائرہ اسکے سامنے بیٹھ گئ ۔

عالم نے نظر پھیر لی ۔۔

ام م م چلو میں گیس کرتی ہوں ۔۔اپ سوچ رہیں ہیں اروش کو ” وہ بولی لہجے میں کھنک تھی جیسے اسے پرواہ نہ ہو کہ وہ اسکے علاؤہ کسی کو سوچے ۔۔۔۔۔۔

عالم کے تاثرات میں پھر بھی تبدیلی نہیں آئ ۔۔

میں سچ کہہ رہی ہوں نہ ” وہ اسے دیکھنے لگی

آنکھوں میں عجیب ویرانی سی پل میں اتر آئ ۔۔۔۔

عالم کو نہ جانے کیوں اس سےایکدم ہمدردی سی ہوئ ۔۔

اسکی آنکھوں میں اپنا آپ دیکھنے لگا جیسے وہ اروش کو سامنے دیکھنے کے لیے ۔۔۔ سب کچھ درھم برھم کر دیتا تھا ۔۔

عالم نے نہ چاہتے ہوئے بھی سر نفی میں ہلا دیا ۔۔۔

نہیں میں کسی کو نہیں سوچ رہا ” اسنے سنجیدگی سے کہا ۔۔۔۔

اور پل دو پل میں ائرہ کی آنکھوں میں جیسے جوش سا ابھرا

کیا واقعی ” وہ ایسے خوشی کا اظہار کرنے لگی گویا ۔۔۔

چھوٹا بچہ ۔۔۔ اپنی تعریف پر خوش ہو جاتا ہو ۔۔۔

اچھا چلیں ٹھیک ہے آپ نے دیکھا میں نے پلانٹس لگائیں ہیں جب میں امریکہ میں تھی ۔۔ تو میرے اپارٹمنٹ میں بہت پلانٹس ہوتے تھے مجھے پودے بہت پسند تھے ۔۔۔

مگر بابا کو نہیں پسند تھے بابا کہتے تھے حشرات ا جاتے ہیں ۔۔۔ تو میں باسم سے کہتی تھی۔ تم سے شادی تبھی کروں گی جب ۔۔ مجھے ایک نرسری بنوا کر دو

۔۔۔۔

وہ ایکدم رک گئ ۔۔۔۔

جوش میں کچھ زیادہ ہی بول گئ تھی ۔۔

عالم۔کے چہرے پرمجال ہو جو کوئ اور تاثر آیا ہو ۔۔۔

وہ دیکھ چکا تھا اس لڑکے کی آنکھوں میں اسکے لیے محبت اور یہ دنیا تھی یہاں کسی کو کسی کا محبوب آج تک ملا ہے جو ۔۔۔ ان چارو میں سے کسی کو کوئ ملتا ۔۔۔۔

جسے اسنے چاہا وہ کسی اور کی بانہوں میں رہی اور جسے باسم نے چاہا وہ ۔۔۔۔

اسکی بیوی بن گئ ۔۔۔۔

عجیب تھے یہ سارے کھیل سمھجو تو ۔۔ الجھ جاؤ ۔۔۔ بکھر جاؤ ۔۔۔

یہ عجب سی عشق کی تلاش ہے جو ۔۔ ادھر ادھر بھٹکا دیتی ہے ۔۔۔ دم گھوٹ دیتی ہے ۔۔۔۔

محبت ۔۔۔۔ بے بس کر دیتی ہے ۔۔۔۔

وہ شاید سمھجہ رہی تھی عالم کو برا لگا ہے ۔۔جبکہ عالم کے دل میں اروش کے علاؤہ کسی کے لیے گنجائش نہیں تھی وہ یہ بات باخوبی جانتی تھی

پھر” وہ بولا ۔۔۔

ائرہ تو منہ پر ہاتھ رکھ گئ ۔۔۔

خوشی اسکے گالوں سے پھوٹنے لگی ۔۔ جیسے پاگل سی ہو رہی ہو ۔۔اسکا انٹرسٹ اپنی باتوں میں دیکھ کر ۔۔۔

پھر وہ کہتا تھا ۔۔۔۔۔ کمرے کے علاؤہ کہنا مرضی رکھنا ۔۔ میں تمھاری ساری وشیز پوری کروں گا ۔۔۔

وہ بہت نائس مین ہے ۔۔ بہت کئیرنگ بہت لوینگ۔۔۔۔۔

دوسروں کا خیال رکھنے والا

ہمارا ساتھ بچپن کا تھا ۔۔۔ ہم اکھٹے ۔۔ کھیلے بڑے ہوئے ۔۔۔۔

اور ۔۔۔ ہم نے ایک دوسرے کے ساتھ اپنی اپنی زندگی کا بہترین حصہ گزارا۔۔ وہ اسے یاد کرتی بولتی رہی ۔۔

عالم نے پہلو بدلا ۔۔۔

ہاں تھوڑا عجیب تھا

مگر ۔۔۔۔ وہ سنتا گیا

ایک پل کو بس اسکے دل میں یہ خیال آیا تھا ۔۔ کہ شوہر کے سامنے اس بکواس کا مقصد ۔۔۔

پھر خود ہی خود کو ڈپٹ دیا

۔

وہ بھی تو سر عام

 اروش کے عشق میں مبتلہ ہے پھر بھی کہیں کہیں عجیب جزبہ اٹھا رہا تھا ۔ جیسے یہ باسم قاسم کا زکر بند ہو جائے

درحقیقت گھر میں کوئ نہیں تھا تبھی ۔۔۔ وہ یہاں بیٹھا تھا

لاکھ روکنے کے باجود صیام حویلی لوٹ گیا تھا

اور جاتے جاتے بس ایک بات کہہ گیا تھا ۔۔۔

تمھیں بہتر سے بہترین ملا ہے اسکی قدر کرنا ۔۔۔۔ جبکہ تیمور کا انجام دیکھنے کو ۔۔ شاید سب کی آنکھیں اب ترسنے لگیں تھیں

عالم نے اسے روکنا چاہا مگر وہ حمائل کو لیے چلا گیا حمائل کی طبعیت بھی ٹھیک نہیں تھی

۔ عالم کو کچھ اور ہی معملہ لگا تبھی زیادہ فورس نہیں کیا ۔۔۔

باقی تیمور اور انکی فیملی تھی وہ لوگ تو نہ جانے کی قسم کھا چکے تھے خیر اسے۔۔انکو نکالنا بھی نہیں تھا جنھیں مارنا ہو انھیں نکالا نہیں جاتا ۔۔ وہ پاس رکھ کر کتے کی موت مرتے اسے دیکھنا چاہتا تھا تب کہیں جا کر اسکے اندر سے شاید یہ جلال ختم ہوتا

وہ سب گھر کے ماحول سےفیڈپ ہو کر باہر تازہ ہوا کو نکلے تھے۔۔

اروش۔۔۔۔ سو کر اٹھی تو پورے گھر میں تنہا تھی ۔۔۔

وہ گھبرا کر اروش کی تصویر کے سامنے ا گئ ۔۔

شاید وہ۔ان دونوں کے بیچ ہمیشہ رہے گی ۔۔۔

اسنے سوچا ۔۔۔ اور کچھ دیر ۔۔۔ اسنے ۔۔۔۔ ادھر ادھر چکر کاٹے اور پھر باغ میں ا گئ ۔۔اور وہاں ۔۔۔ مالی سے سامان لے کر ۔۔۔ پودے ۔۔ خود لگانے لگی جو کہ مالی نے لگانے تھے ۔۔

اور عالم وہاں ا گیا اسنے ۔۔ عالم کو زبردستی اس کرسی پر اپنی نظروں کے سامنے بیٹھایا تھا ۔۔۔

جبکہ عالم کہاں بیٹھنا چاہتا تھا مگر وہ کچھ نرمی رکھ لیتا تھا اب اور ائرہ کو یہ نرمی دل و جان سے منظور تھی وہ فائدہ اٹھاتی رہی تھی اسکا ۔۔۔۔

اور اس وقت ۔۔۔ کو زندگی کے کس حصے پر رکھو گی ” عالم بے ساختہ سوال کر گیا احرہ نے چونک کر اسکیطرف دیکھا اسے ایک پرسنٹ بھی عالم سے اس سوال کی امید نہیں تھی آنکھوں میں حیرانگی چھا گئ ۔۔ عالم اپنے سوال پر خود ہی جزبز ہو گیا کہ کیا ضرورت تھی یہ بے توکا سوال کرنے کی ۔۔۔۔

ائرہ مسکرا دی ۔۔۔

عالم نے دیکھا اسکی مسکراہٹ بھی بہت پیاری تھی بلکل الگ سی

مگر جلد ہی وہ نگاہ پھیر گیا بلکل ایسے جیسے وہ کسی اور کی ہو ۔۔اسکی بیوی نہ ہو ۔۔

یہ پل ۔۔جص آج میسر ہیں ۔۔۔ یہ تو بڑی مشکلوں سے ملے ہیں اور ترس ترس کر ۔۔۔ مشکلوں سے ملے ہوئے لمہوں کا موازنہ نہیں ہوتا ۔۔۔

یہ آپ کے لیے قیمتی ہوتے ہیں ۔۔۔۔ آپکے کسی لمہے کو ۔۔۔ ان لمہوں سے تعلق نہیں جا سکتا ناپا نہیں جا سکتا ۔۔۔

کیونکہ ان ترستے لمہوں میں آپ اپنی زندگی جیتے ہیں اور اس خوشی میں کہ امید سے بڑھ کر مل گیا ۔۔۔اور اس خوف سے کہ ۔۔ کہیں دوبارہ نہ ملے تو ۔۔۔” وہ چپ ہو گئ ۔۔ علامہ اسکی جانب دیکھتا رہ گیا ۔۔۔

وہ اکثر دیوانگی کی باتیں کرتی تھی ۔۔ پہلے عالم کو چیڑ ہوتی تھی اب حیرت ہوتی تھی ۔۔ اسے لگتا تھا ۔۔ محبت صرف مرد کرنا جانتا ہے اور وج اسنے اروش سے کی ویسی محبت کوئ کسی سے نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔۔

مگرا ج سامنے بیٹھی لڑکی کی آنکھوں میں عالم شاہ کو اپنا آپ نظر آیا ۔۔ یہ خوہاش کے اروش کیا نکھوں میں عالم۔شاہ کے ن کے دیپ جلیں پوری تو ہوئ مگر کسی اور کی صورت میں یہ چہرہ یہ صورت اروش کی نہیں تھی ۔۔۔ احرہ کی تھی ۔

وہ لڑکی جس کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتا تھا اور نہ جاننا چاہتا تھا ۔۔ وہ بے باک تھی کھلے عام اس سے محبت کا اظہار کرتی تھی ۔۔ عالم محبت کرنے والوں کی قدر کرتا تھا مگر تب تک جب تک اسے امید تھی کہ اسے اسکی محبت مل جائے گی اب اسے یہ سب بے کار لگا رہا تھا ۔

تبھی اسنے ترچھی سرد نظر ائرہ پر ڈالی ۔۔۔ وہ اکسے ساتھ ہی بیٹھی تھی ۔۔۔۔ تاریخی ۔۔ آسمان پر پر پھیلانے لگی تھی ۔۔۔

اسنے ہاتھ بڑھا کر ائرہ کا ہاتھ جکڑا اور جھٹکے سےا سے اپنی طرف کھینچا۔۔۔۔۔۔

دنیا میں کبھی کسی وک کچھ بھی مکمل نہیں ملا ۔۔ یہ ترستے ہوئے لمہے ۔۔۔ تمھیں سکون دیں نہ دیں ۔ مجھے مشکل روز ڈالتے ہیں محبت تو وہ ہوتی ہے محبوب آپکے چنگل سے آزاد ہونا چاہے اور آپ باخوشی اسے آزاد کر دیں ۔۔۔

تمھاری نہیں ۔۔ کہ ایک غلطی سے۔۔۔۔ گلے کا ہار بن جاؤ ” اسکا لہجہ سخت نہیں تھا ۔ نرمی سے بول رہا تھا مگر لفظ کڑے تھے ۔۔۔ زور دار ڈنڈے کی صورت۔۔۔ ائرہ کے منہ پر پڑ رہے تھے ۔۔۔۔

اروش پھیکا سا مسکرائی

تو چھوڑ دیں نہ اروش کی جان آپکا محبوب آپ سے آزاد وہ ے کے لیے توبہت دور جا سویا شاید چین کی نیند جو دنیا میں نہیں مل سکی اسے ۔۔۔ آپکے خوف سے ۔۔۔۔ اور تیمور کے گندے رویے سے ۔۔۔

مجھے سمھجہ ا گئ ہے وہ معصوم تھی ۔۔اور جانتےہیں ۔۔۔۔ میرے دل میں بھی اسکے لیے محبت ہے ۔۔۔ ساتھ ہمدردی بھی ۔۔اپ سمھجتے ہیں تیمور نے اسے مار دیا ۔۔۔

جبکہ آپکا خود بھی اسےمارتا ہو گا ۔ جب واپس لوٹ کر تیمور کے پاس جانے سے ڈرتی ہو گی۔۔جب تیمور اس سے اسکی ملاقات کا بدلہ لیتا ہو گا ۔۔۔ آپ کس خوشی میں پرسا بن گئے ہیں ۔۔ عالم شاہ ۔۔۔۔۔ آپکو لگتا ہے جتنا غلط ہوااپکے ساتھ ہوا۔۔

ارد گرد دیکھیں ۔۔ آپ نے بھی ۔۔۔ کوئ اچھے کام نہیں کر رکھے ۔۔۔

یہ جو لفظوں کے تیر میرے منہ پر مار کر شایداپ اپنے دل کے کسی کونے کو تسکین دیتے ہیں

چھوڑ دیں میں اپنی محبت میں پکی ۔۔ہوں۔۔۔۔۔

میری محبت نے آپکو تکلیف دی ۔۔۔اپلو ڈرایا نہیں البتہ آپکی نفرت کے نشان اب بھی میرے وجود پر ہیں ۔۔۔۔۔

پلڑا میرا بھاری ۔۔اپکا نہیں محبت میں نے آپ سے کی ہے ۔۔۔ مجھے افسوس ہے ۔۔ کہ ا

کوئ آپ سے محبت نہیں کر سکا ۔۔۔۔۔۔

ورنہ آپ سمھجتے کہ ۔۔ چاہا جانا کیا ہوتا ہے ۔۔۔

چاہنے سے ۔۔۔۔۔۔ ” اسکے ہاتھ سے اپنا ہاتھ جھٹک کر چھڑاتی وہ کھڑی ہو گئ ۔۔۔

اور پلٹ گئ ۔۔۔ پلٹتے ساتھ اسکی انکھوں میں ۔ موٹے موٹے آنسو ا گئے ۔۔ایک ہفتےسے ۔۔۔ وہ یہ سوچ رہی تھی کہ شاید وہ بدل گیا ہو ۔۔۔ ہو سکتا ہے ۔۔ کہ جو اسنے کیا ۔۔اسکے لیے ہی وہ اسے ۔۔۔ نرمی سے برت رہا ہے ۔۔ مگر نہیں وہ غلط تھی ایک انسان اتنی جلدی کیسے بدل سکتا ہے

محبت پل میں ختم ہوتی ہے جبکہ نفرت تو ختم کرنے میں سالوں لگ جاتے ہیں ۔ہاں وہ محبت کرتی تھی اس سے بہت زیادہ بے حساب ۔۔ مگروہ ہار رہی تھی ۔۔۔

وہ سمھجہ نہیں پا رہی تھی عالم شاہ کو کیسے ٹریٹ کرے ۔۔۔ آخر اور پھر آج اسکے دل میں وج آیا ہو کہہ آئ اسکے لفظوں سے دل دکھا تھا ۔۔

جسم دکھے تو ۔۔ بس تکلیف ہوتی ہے ۔۔

دل دکھے ۔۔۔ تو ازیت ہوتی ہے ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عالم۔کخھ دیر وہیں بیٹھا اسکے لفظوں پر غور کرتا رہا ۔۔

یہ کیسی بکواس تھی وہ اروش کا قاتل ۔۔ ایس انس ممکن تھا ۔وہ ڈرتی نہیں تھی اس سے ” اسنے دماغ جھٹکا اور آئندہ وک جھوٹا ثابت کرنے اچاہا تو اچانک پیچھلے دن اسکی آنکھوں میںآ۔ سمائے اور اسے یاد آیا جب وہ اپنی ضد کنوارا تھا بھلے پیار سے ہی تو وہ ڈر جاتی تھی سہم جاتی تھی اور جب تیمور اس سے بدلا لیتا تھا ۔۔ جب

۔۔ عالم سے ملنے پر اسے تھپڑ مارا ۔۔تھا ۔۔۔

عالم کا دماغ واقعی جھنجھٹا اٹھا ۔۔۔۔

یہ” وہ لاجواب ہو گیا ۔۔۔

ایسا لگا کہ۔ایک پل میں وہ لڑکی اسپر واضح کر گئ ہے کہ یہ۔ کا ڈھکوسلا بند کرو تم نے بھی کچھ کم نہیں کیا اسکے ساتھ ۔۔۔۔۔

وہ تیز کھاتا اٹھا ۔۔ دل کی آواز سنتا یہ زہن کی وہ دلیلیں جو وہ اسے دینے لگا تھا اسنے اس لڑکی کا منہ توڑنا زیادہ مناسب سمجھا جس کی بکواس نے اسے جھنجھوڑا تھا

اروش اسکی محبت تھی اور اپنی محبت کے لیے وہ اسکو اپنے پاس بلاتا تاج وہ ۔۔ اندر داخل ہوا تو ۔۔۔ائرہ وہاں نہیں تھی

وہ اپنے روم میں سیڑھیاں چڑھ کر ا گیا دروازہ کوھلا تو خالی کمرہ اسے منہ چیڑاہ رہا تھا ہفتے سے وہ اسکے کمرے میں رہی تھی اور اس حرکت سے اسنے عالم شاہ میں مزید غصہبھڑ دیا تھا غلام اسکے کمرے میں پہنچا دھاڑ سے دروازہ کھولا ۔۔وہ سامنے ۔۔ بیٹھی تھی سیل فون پر کسی کا نمبر ڈائل کر رہی تھی عالم نے ۔اسہے ہاتھو ے آگے بھڑ کر ڈیل فون جھپٹ کر لیا اور ایکطرف پھینک کر اسکو غصے سے کھڑا کیا ۔۔

ائرہ اسکی آنکھوں میں اٹھتے اشتعال دیکھ رہی تھی

کیا بکواس کر کے گئ ہو بہت یہ محبت صحبت کے بارے میں جانتی ہو ۔۔ دو لفظ طلاق کے تمھارے منہ پر مار دوں تو ۔۔ ٹکے کی بھی نہیں رہے گی یہ محبت تمھاری ” وہ اسے نیچا دیکھانے کے لیے ہر برا لفظ استعمال کر رہا تھا ۔۔۔۔

احرہ کی آنکھوں کے آنسو اسے تسکین دینے کے بجائے الجھا گئے مگر اسنے نرمی نہیں برتی ۔

اسے لگا وہ آگے سے بولے گی جوبای حملہ کرے گی اور عالم اسکا اچھے سے دماغ سیٹ کر دے گا مگر وہ خاموش اسے دیکھتی رہی البتہ گالوں پر آنسو پھسل رہے تھے ۔۔

اب بولو کیوں بولتی بند ہو گئ۔۔ بہت جانتی وہ سب کے بارے میں تم ۔۔۔اروش مجھ سے ڈرتی تھی کیا بکواس سہے میری محبت تھی ہے اور رہے گی ۔۔۔ سمھجی تم اور تم ہمیشہ دوسری ۔۔۔۔

خیر میری پسند ایک پرسنٹ

بس کریں عالم” وہ اسکاگریبان پکڑ گئ ۔۔۔۔

دل ہے میرا ۔۔۔ اتنا نہ دکھائیں ” وہ سسکی ۔۔۔۔۔۔

عالم ۔۔۔۔ اسکی بے بسی پر۔۔۔ شاکڈ سا رہ گیا وہ ایسےبولی تھی کہ عالم ساکت ہو گیا ۔۔۔

عالم۔نے اسے خود سے دور جھٹکا ۔۔۔۔۔

ائرہ بیڈ پر جا گیری ۔۔اور عالم باہر نکل گیا جبکہ ۔۔۔ احرہ بری طرح رو دی ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عالم۔وک ایک پل کے لیے بھی سکون نہیں ملا ۔۔۔۔وہ گھر سے باہر نکل آیا تھا عرصے بعد بھڑبھڑا دینےوالا غصہ اس میں اٹھا تھا کیا بکواس سہے یہ سب ” وہ چلایا ۔۔ گاڑی کے سٹیرنگ پر زور زور سے ہاتھ مار کراسنے ۔۔۔۔ اپنا غصہ اتارنا چاہا مگر ایک پل کے لیے بھی اسکے سینے میں جلتا دل شانت نہ ہو سکا ۔۔۔

مزید جلنے لگا ۔۔۔۔

یہ ہوتی کون ہے یہ سب بولنے والی ایک پل میں اس دو ٹکے کی لڑکی وہ سیدھا کرسکتا ہوں میں ” وہ

۔۔۔ مٹھیاں بھینچتا بولا ۔۔۔۔۔

گھر سے باہر نکلے ہوئے اسے بہت دیر وہ گئ تھی اسنے گھڑی دیکھی ۔۔

تین بج رہے تھے حالانکہ اسے اتنی لاپرواہی نہیں کرنی چاہیے تھی یہ جانتے ہوئے کہ ۔۔۔

اب وہاں صیام یہ حمائل نہیں وہ چند دیر اور وہاں رہا اور ۔۔۔ گاڑی واپسی کی راہ پر موڑ لی ۔۔۔۔

واپسی جاتے ہوئے اسکا دل نہیں تھا وہ وہاں جائے ۔۔۔

بساسک ادل تاج وہ بہت دور چلا جائے جہاں اسکے پاس کوئ نہ ہو ۔۔۔

کسی اسے پھر سکون ملے گا ۔۔۔

اسنے گاڑی ۔۔۔ حویلی کے آگے روکی اور ۔۔ وہیں سے باہر نکل آیا ۔۔ حویلی دوبارہ سے رنگین لگ رہی تھی ان خوبصورت پودوں سے جو کہ ۔۔۔

ائرہ نے لگائے تھے وہ ترچھی نظر ڈال کر ۔۔۔ وہاں سے ۔۔۔

اندر چلا گیا

 

Read Best Urdu Novel, Romantic Novel 2022, Tania Tahir Revenge Best Novel , all category to forced marriage, childhood marriage, politics based, cousin based and funny novels multiple categories & complete PDF novels.

Here you find all types of interesting New Urdu Novel.
Visit Novelsnagri ebook. Visit to my channel for more New novels.

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *