haveli based romantic novel,haveli based romantic novel,Best romance novel ,saaiyan,

Best romance novel | saiyaan | Epi-20

Best romance novel ,saaiyan, Epi#20 . Love is the many emotions that experience affection and  care. Honesty, responsibility and trust constitute Love. It  is a feeling that everybody years for as its make them feel happy and vital. Our first experience of love is at breath.

 

Best romance Novel, Web special novel, Best romance novel ,saaiyan,
Best romance Novel , SAAIYAAN by Bisma Bhatti , Web special novel , haveli based novel

#سائیاں

#از_قلم_بسما_بھٹی

#قسط_20

😍😍😍

وہ تینوں گیٹ سے باہر نکلیں جہاں سامنے کچھ سڑک کے پار دو گاڑیاں تھیں ۔ ایک شاہ حویلی کی جو ارم اور فرحین کو لینے آئی تھی ۔ اور دوسری گاڑی سبکتگین نواز کی تھی جو اپنی بہن سہیلہ کو لینے آیا تھا ۔

فرحین اور ارم ننے بڑی سی شال اپنے ارد گرد کی ہوئی تھی ۔ اور ہمیشہ کی طرح ہاتھ سے نقاب پکڑا ہوا تھا ۔

سبکتگین باہر ہی کھڑا تھا ۔ لینے تو وہ سہیلہ کو آتا تھا لیکن اس کا دل کسی کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے زیادہ آتا تھا ۔ اب بھی وہ گاڑی سے کمر لگائے سینے پر ہاتھ باندھے ہلکی مسکان سے سامنے دیکھ رہا تھا ۔ اس پری وش کو جو خود کو چادر میں چھپائے نقاب چہرے پر رکھے دھیمی چال سے چل رہی تھی ۔ جن کا وہ شیدائی ہو گیا تھا وہ تو اس پری وش کی آنکھیں تھیں جو زیادہ تر جھکی ہوتی تھیں لیکن جب اٹھتی تھیں تو اگلے بندے کا دل ہلا دیتی تھیں ۔ اور سبکتگین نواز اس پل کے لیے مرنے کو بھی تیار تھا جب وہ پلکیں اٹھا کر اپنی گاڑی کی طرف دیکھتی تھی ۔ اس کی بلی آنکھیں سبکتگین نواز کے دل کو اپنے مقام سے ہلا کر رکھ دیتی تھیں ۔

” اوکے اللّٰه حافظ ” گاڑی کے پاس آتے سہیلہ نے ارم سے کہا ۔ ارم نے بس سر ہلایا تها اور اپنی گاڑی کی طرف طڑھی تھی ۔ جبکہ فرحین خاموش نگاہوں سے پہلے ہی اپنی گاڑی میں بیٹھ چکی تھی ۔ اسے کبھی بھی سہیلہ کے خدا حافظ کا انتظار نہیں ہوتا تھا ۔ وہ بیوقوف نہیں تھی جو کسی کی مخصوص نگاہوں کو اپنے میں الجھتا محسوس نا کرے ۔ بے شک کوئی بات نہیں ہوتی تھی ۔ کبھی دیکھا نہیں تھا ایک دوسرے کی طرف ۔ نا ہی بات کرنے کا دل مانا تھا لیکن اس کا دل ہمیشہ پاس سے گزرتے وقت سپییڈ پکڑ لیتا تھا ۔ شاہ حویلی کے اصولوں و قواعد اور روایت کی دیواروں کے اندر پلنے بڑھنے والی یہ لڑکیاں کسی غیر مرد کی آنکھ کی منظورِ نظر بننے کا خواب نہیں سوچ سکتی تھیں ۔ انہیں علم تھا کہ ایسی باتوں پر قتل و غارت اور پھر بدلے میں بیٹیاں ونی کر دی جاتی تھیں ۔ ان کے گاؤں میں کسی بھی گھرانے کے لیے اس سے زیادہ سخت سزا کوئی اور نہیں ہوتی تھی کہ خون بہا میں بیٹی دے دی جائے ۔

” چلیں لالہ ! ” سہیلہ نے سبکتگین کے سامنے چٹکی بجائی تو وہ ہوش میں آیا ۔

” کیا ! ” سہیلہ جو ایسے خود کو دیکھتے پا جر وہ جھنجھلا کر بولا ۔

” وہ کب کی چلی گئی ۔۔۔ ” شرارتی نگاہوں سے سبکتگین کو دیکھتے کہا ۔

” کون چلی گئی ” خود کو ریلیکس کرتے سہیلہ سے پوچھا ۔ اندر ڈر بھی تھا کہ کہیں چوری پکڑی نا گئ ہو ۔

” گاڑی لالہ ۔۔۔ گاڑی ” دروازہ کھولتے ہوئے کہا اور ہنس کر اندر بیٹھ گئ ۔

سبکتگین بھی ہنستا اندر بیٹھ گیا اب ارادہ گھر کی طرف تھا ۔ لیکن زہن اسی طرف تھا جن سے دل لگ گیا تھا ۔

اس راستے کی مجھے خبر نہیں ۔۔۔۔

میرے مہرباں کی گزر ہو جیسے ۔۔۔۔

میرے قدم بھی اس طرف اٹھے ہیں جیسے ۔۔۔

اس راستے کی مجھے خبر نہیں ۔۔۔

وہ کہاں سے چلا پھر کہاں رکا ۔۔۔

وہ کس کا عاشق کون معشوقہ ۔۔۔۔

محبت تگنی ناچ نچائے ۔۔۔۔

فانی لا فانی کا پاٹ پڑھائے ۔۔۔۔

میں منزل دھونڈوں اس کے پیچھے ۔۔۔

میرا ہم نموا خاموش مسافر ۔۔۔

تربتِ دل میں ۔۔۔ پھیکی مسافت ۔۔

ابھی تو چلنا شروع کیا ہے ۔۔۔

ہے منزل میری کس کنارے ۔۔۔۔

میں کہاں ہوں آخر کس سہارے !۔۔۔

بس چل رہی ہوں دل سنبھالے ۔۔۔

اس راستے کی مجھے خبر نہیں ۔۔۔۔



(بسما بھٹی )

🌹🌹🌹

” تم لڑکیاں زنان خانے میں پہنچو ۔۔۔ گھر میں پھرتی نظر نا آو سمجھ گئی ” زکیہ کمرے میں آتی فرحین اور ارم سے بولیں ۔

” ماں ۔۔۔ آج حویلی میں کون آ رہا ہے ؟ ۔۔۔ اتنی گہما گہمی کیوں ہے ! ” ارم اپنی تجسس کے ہاتھوں فٹافٹ اپنی ماں کے پاس آ کر بولیں ۔

” بھائی صاحب کے دونوں بیٹے آ رہے ہیں ۔۔۔ ان کے استقبال میں سب ہو رہا ہے ” زکیہ شاہ نے ہلکی مسکراہٹ سے کہا ۔

” ہیں ! … کون سے بیٹے ؟ … میں نے تو کبھی دیکھے نہیں ۔۔۔ سوائے فرید بھائی کے ” ارم گال پر ہاتھ رکھتے حیرت سے بولی ۔

” ہاں امی ۔۔۔ کون سے بیٹے ! ” فرحین نے بھی کتاب سے سر اٹھا کر پوچھا ۔

“. ظاہر ہے شاہ حویلی میں صرف تم ہی دو لڑکیاں ہوں لیکن مرد کے بارے میں بات کبھی نا کی نا سنی نا کرنے کی کوشش کی ۔۔۔۔ اسی لیے تم دونوں کو نہیں علم ۔۔ بھائی صاحب کے تین بیٹے ہیں ایک سامر جو اپنی خالہ کے پاس ہوتا تھا پھر اپنے بڑے بھائی یوسف کے ساتھ باہر پڑھنے چلا گءا ۔۔ اب دونوں آ رہے ہیں ” زکیہ نے پاس صوفے پر بیٹھتے ہوئے بتایا ۔

” اچھا ۔۔۔۔ ہمیں تو ان کا پتہ ہی نہیں ۔۔ خیر کب آ رہے ہیں ! ” ارم نے دوبارہ سے پوچھا ۔

” شام میں ۔۔۔ اور تم دونوں زنان خانے میں رہو گے ” ان دونوں کو دوبارہ تنبیہہ کرتے وہ کمرے سے چلی گئیں ۔

 

🌹🌹🌹🌹

” چلو زنان خانے میں جاؤ فوراً ” زکیہ شام میں ان کے کمرے میں آتیں. جلدی سے بولیں ۔

شاہ حویلی میں ایک دم ہلچل سی مچ گئی تھی ۔ یوسف شاہ اور سامر شاہ کی گاڑی مین گیٹ سے اندر جو آ رہی تھی ۔

ارم اور فرحین نے دوپٹہ صحیح سے لیا اور تیزی سے اپنے کمرے سے نکل کر زنان خانے کی طرف قدم بڑھائے ۔

فرحین تو اندر چلی گئی لیکن ارم دروازے پر رک کر پردے کی اوٹ میں ہو گئ کیونکہ اس زنان خانے کے سامنے ہی مردان خانہ تھا اور انہوں نے وہیں تو پہلے جانا تھا ۔ اس کا دماغ کہہ رہا تھا کہ دیکھے تو سہی ان شاہ زادوں کو جن کے استقبال میں اتنا احتمام ہوا ہے ۔

” بسم اللّٰه کراں بسم اللّٰه کراں ” تبھی داخلی دروازے سے بی جان نے یوسف شاہ کی بلائیں لیتے ماتھا چوما ۔

ارم کو بس آوازیں آ رہی تھیں لیکن اسے دیکھنے کا اشتیاق بہت تھا ۔

اب وہ داخلی دروازے پر کھڑے سب لوگوں سے مل رہے تھے ۔ اپنے ماں باپ اپنے چچا چاچی سے اپنی خالہ سے ۔

ارم کی ٹانگیں کھڑے رہنے سے درد میں آ رہی تھیں ۔ وہ مسلسل آدھے گھنٹے سے کھڑی تھی بس یہ دیکھنے کے لیے کہ یوسف شاہ اور سامر شاہ دکھنے میں کیسے ہیں ۔ لیکن وہ انجان تھی اس بات سے کہ اس کا یہ شوق کیا کر ڈالے گا ۔

” اندر آؤ ارم ۔۔۔ آغا جان نے دیکھ لیا تو قیامت آ جائے گی ” فرحین جو کتاب میں سر دیے پڑھ رہی تھی کہ اچانک زنان خانے میں خاموشی محسوس کرتے ادھر ادھر ارم کو دیکھنا چاہا تو اسے دروازے کے پاس پردے کی اوٹ میں باہر کی دیکھتے پایا ۔

” فرحی میں آدھے گھنٹے سے کھڑی ہوں ۔۔۔ اب تو ان کی شکلیں دیکھے بنا نہیں آتی ” پلٹ کر آہستہ آواز میں فرحین سے کہا ۔

لیکن جیسے ہی چہرہ دوبارہ سامنے کیا تو جیسے سانس وہیں جم گئی ۔ اسے نہیں پتہ تھا کہ وہ ایسے دیکھے گی شکل ۔

یوسف شاہ جو فون کال کے لیے سب کو ایکسکیوز کرتا جلدی سے اندر آیا تھا کہ کسی نسوانی آواز پر رکا بے اختیار زنان خانے کی طرف چہرہ کر دیا ۔ دل میں سوئی ہوئی خواہش جاگی تھی کہ وہ شائد فرحین شاہ کو دیکھ لے ۔ لیکن دروازے پر جو کھڑی تھی اس کا چہرہ دوسری طرف تھا جو اندر کسی کو فرحی کہہ کر مخاطب تھی ۔ دل چاہا کہ پلٹ جائے لیکن پھر سے دل نے شور کیا کہ دیکھ ہی لے شائد فرحین کی ایک جھلک ہی نصیب میں ہو ۔ لیکن جو لڑکی پلٹی جو سامنے تھی وہ ایک دم جیسے گھبرا گئی تھی کسی مرد کو اتنے پاس دیکھ کر ۔

میں چلوں اس راستے ۔۔۔

جو ہے تیرے دل کا راستہ ۔۔۔۔

وہ یک ٹک سانس روکے اتنے پاس سے اسے دیکھ رہی تھی ۔ ہلکی داڑھی ، سفید رنگت میں وجیح و پر کششش اس کی آنکھیں ، موبائل کو ہاتھ میں ہکڑے اس کا دیکھنا ۔ ارم کا دل تو جیسے اس کا رہا ہی نہیں تھا ۔ وہ تو پلک جھپکنا ہی بھول گئی تھی ۔ چہرے پر نقاب تو نہیں تھا اور وہ اس کو دیکھ کر لینا بھی بھول گئی تھی ۔ زندگی میں پہلی بار ارم نے کسی مرد کو دیکھا تھا اور اس پہلی دفعہ میں ہی اس کی آنکھیں اپنی نہیں رہی تھیں ۔

” ارم اندر آ جاؤ ۔۔۔ آغا جان آ جائیں ” تبھی پیچھے سے فرحین کی پریشان کن آواز ابھری ۔

ارم فوراً سے چونکی اور تیزی سے نقاب کا پلہ چہرے پر کرتے اندر کو ہو گئ کہ پردہ لہرایا ۔

یوسف شاہ کی نظر بے ساختہ اندر گئ ۔ جہاں پردے کے اس پار سامنے ہی صوفے پر بیٹھی لڑکی پریشان نظروں سے ارم کو دیکھ رہی تھی لیکن اس کا چہرہ آدھا ڈھکا ہوا تھا ۔ لیکن جو آدھا چہرہ اس نے دیکھا تھا وہ یوسف شاہ کو سکون میں مبتلا کر گیا تھا ۔ اتنی حسین تو اسے ابھی کچھ پل پہلے سامنے کھڑی لڑکی نہیں لگی تھی جتنی اپنی منظورِ نظر لگی تھی ۔ لبوں پر جاندار مسکراہٹ آن ٹھہری ۔ اب دل اسے اپنا بنا لینے کے لیے پاگل تھا ۔

” آو بیٹا ” تبھی پیچھے سے آغا جان کی آواز نے اسے فوراً سے ہوش دلایا تو وہ ساتھ ہی مردان خانے چلا گیا ۔ اس عمر میں بھی وہ اپنے باپ سے ڈرتا تھا ۔

ارم اندر تو آ گئی تھی لیکن اس کا دل اور دماغ اس کے پاس نہیں تھے ۔ اس کی ساکت آنکھیں اس لڑکے کے چہرے کے تصور پر ٹک گئی تھیں ۔

” تمہیں سمجھ بھی آ رہی ہے کہ میں کیا بول رہی ہوں ! ” فرحین نے اس کا بازو ہلایا تو وہ چونکی ۔ اور ہنس دی ۔

فرحین کو اس کی بلکل سمجھ نہیں آ رہی تھی تبھی اس کے حال ہر چھوڑ کر دوبارہ کتاب میں منہ دے دیا ۔

معصوم نظر کا بھولا پن للچا کے لبھانا کیا جانے

دل آپ نشانہ بنتا ہے وہ تیر چلانا کیا جانے

کہہ جاتی ہے کیا وہ چین جبیں یہ آج سمجھ سکتے ہیں کہیں

کچھ سیکھا ہوا تو کام نہیں دل ناز اٹھانا کیا جانے

چٹکی جو کلی کوئل کوکی الفت کی کہانی ختم ہوئی

کیا کس نے کہی کیا کس نے سنی یہ بتا زمانہ کیا جانے

تھا دیر و حرم میں کیا رکھا جس سمت گیا ٹکرا کے پھرا

کس پردے کے پیچھے ہے شعلہ اندھا پروانہ کیا جانے

یہ زورا زوری عشق کی تھی فطرت ہی جس نے بدل ڈالی

جلتا ہوا دل ہو کر پانی آنسو بن جانا کیا جانے

سجدوں سے پڑا پتھر میں گڑھا لیکن نہ مٹا ماتھے کا لکھا

کرنے کو غریب نے کیا نہ کیا تقدیر بنانا کیا جانے

آنکھوں کی اندھی خود غرضی کاہے کو سمجھنے دے گی کبھی

جو نیند اڑا دے راتوں کی وہ خواب میں آنا کیا جانے

پتھر کی لکیر ہے نقش وفا آئینہ نہ جانو تلووں کا

لہرایا کرے رنگیں شعلہ دل پلٹے کھانا کیا جانے

جس نالے سے دنیا بے کل ہے وہ جلتے دل کی مشعل ہے

جو پہلا لوکا خود نہ سہے وہ آگ لگانا کیا جانے

 



🌹 🌹 🌹 🌹

” امی لاالہ کے تیور ٹھیک نہیں ہے نا آج کل ” سہیلہ نے شرارتی انداز سے اپنی سے پوچھا ۔ سامنے کمرے سے سبکتگین نکل کر جو باہر آیا تھا .

” ہاں ۔۔۔ میں بھی دیکھ رہی ہوں ” سہیلہ کی امی نے گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے اتفاق کیا ۔

سبکتگین سر کے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہنستا اپنی بہن کے ساتھ بیٹھا ۔

” اچھا ۔۔۔ جیسے کہ کون سے تیور دیکھ لیے آپ نے میرے ! ” اپنی امی کو مسکراتی نظروں سے دیکھتے پوچھا ۔

” ہاں ۔۔۔ میرا پنکچوئل بیٹا رات کو دیر سے سویا تھا ۔۔۔۔ اور آج ۔۔۔ گیارہ بجے اٹھا ہے ۔۔۔۔ ہممم ! ” چائے کا سپ لیتے وہ بھی اسی کے انداز میں بولیں ۔

” بتائیں سبکتگین نواز ۔۔۔۔ کیا کہنا چاہیں گے اپنی صفائی میں ! ” سہیلہ نے جج کی طرح حکم سنایا تو سبکتگین کا قہقہہ لگا ۔

” امی دیکھ لیں ۔۔۔ اندر سے قہقہے لگ رہے ۔۔۔ میں بتا رہی ہوں ۔۔ اب ساس بننے کی تیاری شروع کر دیں ” سہیلہ نے ہنستے ہوئے اپنی امی سے کہا ۔

سبکتگین نے اس کی گردن میں ہاتھ ڈال کر دبایا ۔

” اب بتاؤ ۔۔۔ اتنی کس خوشی میں زبان چل رہی ہے ! ” اس کی گردن پر ہلکا دباؤ دیتے وہ شوخ لہجے میں بولا ۔

” امی آپ کی بیٹی ضائع ہو رہی ہے بچا لیں ” سہیلہ نے دہائی دی ۔

” سبکتگین ۔۔ چھوڑو اسے ” ماریہ نواز نے ڈپٹا.

” بہت بولتی آپ کی بیٹی ” سہیلہ کو جھٹکے سے چھوڑتے کہا ۔

” لالہ ۔۔ میں تو کہتی ہوں ابھی امی کو اس کا بتا دو لوہا گرم ہے فوراً مان جائیں گی ” اپنے بھائ کی طرف جھکتے رازدارانہ انداز میں کہا کہ سبکتگین نےا سے گھورا ۔

” چپ ۔۔ بلکل ۔۔۔ پہلے وہاں کا پتہ لگاؤ ۔۔۔ ” اس کے سر پر چپٹ لگاتے وہ اسی رازدارانہ انداز میں بولا ۔

” وہاں کہاں ؟ اور کس والی سے ! ” سہیلہ نے دوبارہ پوچھا ۔

” وہ جس کی آنکھیں بلی ہیں ” پھر سے خجل مٹاتے کہا ۔

” اووووووو ” بے اختیار سہیلہ کے منہ سے نکلا کہ سبکتگین نے اس کا منہ ہاتھ سے بند کیا ۔

” چپ. ۔۔ شور ڈالنے کو کب کہا ۔۔۔ پہلے وہاں پوچھو ” اس کو آنکھیں دکھاتے کہا ۔

” پر پوچھنا کیا ہے ! ” جان کر الٹا سوال کیا ۔

” یہی ۔۔۔ کہ آگ برابر لگی ہے یا یک طرفہ ! ” اس کے ماتھے ہر دو انگلیوں سے تین دفعہ دباؤ دیتے کہا ۔ کہ سہیلہ اس ہی بات سمجھ کر چھیڑنے والے انداز میں دیکھنے لگی ۔

” یہ تم دونوں کیا کھسر پھسر کر رہے ہو ۔۔ بتاؤ مجھے بھی ” ماریہ نواز نے آنکھیں چھوٹی کرتے کہا ۔

“کچھ نہیں امی ایسے ہی ۔۔۔۔ یہ بتائیں کہ احمد بھائی کہاں ہے ! ” سبکتگین نے بات بدلتے اپنے بڑے بھائی کا پوچھا ۔

” کہاں ہو سکتا ہے ۔۔۔ اپنے آوارہ دوستوں کے ساتھ شکار پر گیا ہے ” ماریہ نواز نے بے دلی سے جواب دیا وہ اپنے اس بیٹے کی حرکتوں سے بے حد پریشان تھیں

ان کی بات پر خاموشی چھا گئی ۔ سب ہی احمدد نواز کی حرکتوں سے پریشان تھے جو ہر وہ حرکت کرتا تھا جس کا نقصان ہوتا ۔

 

🌹🌹🌹

وہ تینوں اس وقت بریک ٹائم میں کیفے بیٹھے ہوئے تھے ۔ تب ارم نے اسے حویلی کے احتمام اور ہلچل کے بارے میں بتایا ۔

” ہیں ! …. دو بیٹے ۔۔۔ تمہارے چاچا کے ! … اور تم دونوں کو پتہ ہی نہیں ! ” سہیلہ تو حیرانی سے ارم کی بات سن رہی تھی جسے اپنے کزنز کا ہی نہیں علم تھا جب کہ ایک ہی جگہ رہتے تھے ۔

” ہاں ۔۔۔ ہم لڑکیوں سے حویلی کے مردوں کے متعلق بات نہیں کی جاتی ہے ” فرحین نے چائے کا سپ لیتے ہوئے تحمل سے کہا ۔

” کیا بات ہے ۔۔۔ کیسا خاندان ہے یار تم لوگوں ! عجیب روایت اور اصول ” سہیلہ تو بدمزہ ہوئی تھی اس روایت پر ۔

” اشھا تم اب زیادہ نا بولو ” ارم نے اسے آنکھیں دکھائیں ۔ اس کی تو آنکھوں سے وہ منظر ہی نہیں جا رہا تھا جو اس نے دیکھ لیا تھا کل شام میں ۔ صبح بھی کوشش کی کہ کسی طرح وہ یوسف شاہ کی جھلک دیکھ سکے مگر سخت پہروں کی وجہ سے ایسا ممکن نا ہو سکا ۔

” اچھا چلو ۔۔۔ بریک ختم ہونے میں پانچ منٹ رہ گئے میں کلاس میں جا رہی ” ارم نے سرنھٹکا اور بیگ اٹھاتے کلاس کی طرف بڑھی ۔

” آپی فرحین ۔۔۔ لسن مجھے بات کرنی آپ سے ” فرحین بھی اٹھنے لگی تھی کہ سہیلہ نے روک دیا ۔

فرحین اس کی بات سننے کے لیے دوبارہ بیٹھ گئ ۔

” آپی وہ ۔۔۔۔ مجھے ۔۔ آپ سے بات کرنی تھی ۔۔۔ اپنے لالہ کے متعلق ” تھوڑا جھجھکتے ہوئے بولی ۔

” لالہ ! ” بے اختیار اس کا دل دھڑک اٹھا تھا ۔

” جی ۔۔۔ اپنے لالہ کے بارے میں ” سہیلہ نے سر ہاں میں ہلایا ۔

” مجھ ۔۔ سے ۔۔۔ کیا بات کرنی ہے ! “. فرحین کا لہجہ بھاری ہو گیا تھا ۔ عجیب سی اس کی کیفیت تھی جسے وہ خود سمجھ نہیں رہی تھی ۔

” وہ ۔۔ آپی ۔۔۔ لالہ آپ کو ۔۔۔ پسند کرتے ہیں ” سہیلہ نے لب کاٹتے ہوئے کہا ۔

فرحین نے حیرت سے اسے دیکھا ۔ دل جیسے رک گیا تھا سانس بھی مدہم ہو گئ تھی ۔ یعنی جس سے وہ ڈر رہی تھی وہ سچ ثابت ہو گئی ۔

” ت ۔۔۔ تم ۔۔۔ تمہارا دماغ ٹھیک ہے ” فرحین نے ہڑبڑاتے کہا ۔ وہ بری طرح نروس ہو رہی تھی ۔

” پلیز فرحین آپی ۔۔۔ ایک دفعہ بس ۔۔۔ میری بات سوچ کر دیکھیں ۔۔۔۔ میرے لالہ کی ایسی طبیعت نہیں کہ وہ ہر ایک پر فدا ہوں نا ان کے خلاف آج تک ایسی بات ہمیں ملی ہے ۔۔۔۔ انہوں نے پہلی بار کسی کی طرف دیکھا ۔۔ ارے وہ تو آپ کا نام بھی نہیں جانتے ۔۔۔ بس اتنا جانتے ہی کہ آپ بڑی ہیں ۔۔ پلیز ایک دفعہ اس بارے میں غور کر لیں ” سہیلہ نے فرحین کے ہاتھ پکڑتے منت کی ۔

” پلیز ۔۔۔ تم ۔۔۔ مجھے ان سب سے دور رکھو ” فرحین نے اپنے ہاتھ چھڑوائے اور اٹھ کھڑی ہوئی ۔

” پلیز آپی ۔۔۔ ایک دفعہ ۔۔ غور ضرور کیجیے گا ۔۔۔ میرے لالہ اتنے بے مول نہیں جن کی بات میں آپ سے کر رہی ہوں ۔۔۔ ان کی آنکھوں میں بہت محبت آپ کے لیے ۔۔۔ یقین نا آئے تو آج چھٹی کے وقت بس ایک دفعہ انہیں دیکھ لینا ۔۔۔ کچھ سیکنڈز ۔۔ اس کے بعد فیصلہ آپ کا ” اس نے فرحین کو جاتے ہوئے دوبارہ منت کی ۔

فرحین نے رک کر اسے دیکھا ۔

اور سہیلہ اس کے پاس سے چلی گئ ۔

جبکہ فرحین اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر دوبارہ بیٹھ گئ ۔ اتنی ہمت ہی نا ہوئی کہ کلاس میں جا سکے ۔

“ان کی آنکھوں میں آپ کے لیے محبت ہے ” سہیلہ کے الفاظ اس کے کانوں میں گونجے ۔

اس کی آنکھوں میں سبکتگین کا چہرہ لہرایا جو روز چھٹی کے وقت اپنی گاڑی کے ساتھ کھڑا ہو کر اسے دیکھتا تھا ۔

چاہے جانے کا احساس کتنا انوکھا ہوتا ۔ خاص طور پر تب جب آپ کو علم ہو کہ جسے آپ چاہتے ہو وہ آپ کو آپ سے زیادہ شدت سے چاہتا ہے ۔

فرحین نے سر جھکا لیا ۔ ہونٹ مسکرانے کو بے تاب تھے ۔

ٹھنڈی پھوار جیسے دل پر پڑی تھی ۔

 

🔥🔥🔥🔥

” سو سوری لالہ ۔۔۔ انہیں میں نے کہا تھا کہ ایک دفعہ آپ کو دیکھ لیں ۔۔۔ لیکن انہوں نے نظر ہی نہیں اٹھائی ” سہیلہ اداس سی اس سے ساری بات کرتے بولی ۔

سبکتگین کی پر سوچ نظر سہیلہ پر تھی ۔

” تمہیں کیا لگتا ہے ! … کہ وہ مجھے پسند نہیں کرتی ! ” رازدارانہ انداز میں پوچھا ۔

” ہمم ” سہیلہ نے اداسی سے کہا ۔

” اگر اسے میں نا پسند ہوتا تو وہ تمہیں رکھ کر تپھر لگا سکتی تھی تمہاری باتوں کے بدلے میں ” سبکتگین نے اس سے سنجیدگی سے کہا ۔

” نہیں بھلا ۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔ یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں ۔۔ انہیں نے مجھے بلکل بھی نہیں ڈانٹا ۔۔بلکہ ۔۔۔۔

” بلکہ بات کرنے سے کترا رہی تھیں … رائٹ ! ” سبکتگین نے اس کی طرف انگلی کرتے پوچھا ۔

” ہنڈرڈ پرسنٹ رائٹ ۔۔۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ۔۔۔ آگ برا لگی ہے ” سہیلہ تقریباً آخر میں چیخی تھی ۔

سبکتگین چوڑا ہو کر صوفے پر بیٹھ گیا ۔ حسین مسکراہٹ اس کے لبوں پر ٹھہر گئی تھی ۔

” لیکن میرے رکویسٹ کرنے پر انہوں نے آپ کو دیکھا کیوں نہیں ! ” سہیلہ نے نا سمجھی سے پوچھا ۔

” اگر وہ عام سی لڑکی ہوتی ۔۔۔تو وہ مجھے شروع میں ہی دیکھ لیتی ۔۔۔ وہ عام نہیں ہے ۔۔۔ وہ سبکتگین کی محبت ہے ۔۔۔ جو جانتی ہے کیسے خود کو خاص رکھنا ” اس کے نقاب والے چہرے پر اٹھتی گرتی پلکوں کے درمیان وہ بلی آنکھیں سبکتگین کی سوچوں کا محور تھیں ۔

” اوئےےےے ہوئےے ” سہیلہ نے جوشیلے انداز میں چھیڑا ۔

” کیا ہو رہا ہے ! ” تبھی احمد برے حلیے میں میں لاؤنج میں آتا بولا ۔ اس نے شورٹ ٹراؤزرز پہنے ہوئے تھے اوپر سے شرٹ لیس تھا.

سہیلہ نے فوراً نظروں کا تعقب بدلہ اس کا بھائی تھا لیکن شرم زرا نہیں آ رہی تھی کہ گھر میں جواب بہن موجود ہے ۔

وہ فوراً سے ایکسکیوز کرتی اندر چلی گئی ۔

” احمد بھائی ۔۔۔ یہ کس حلیے میں آپ پھر رہے ہیں گھر ؟؟؟ بہن گھر میں موجود ہے شرم کریں ” سبکتگین نے مشکل سے اپنا غصہ ضبط کرتے لیا ۔

” مجھ سے زیادہ زبان چلانے کی ضرورت نہیں ۔۔ نا ہی یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ مجھے کیا کرنا ہے کیا نہیں ۔۔ اپنے کام سے کام رکھو ” اس کی طرف انگلی کرتے جارحانہ لہجے میں کہا ۔

سبکتگین نے غصے سے اس کی لینگوج برداشت کی ۔

اس سے پہلے وہ مزید کچھ سناتا تیزی سے وہ لاؤنج سے نکل گیا ۔

” ہاں ۔۔۔ بول ! ” تبھی احمد نے فون کو کان سےلگاتے پوچھا ۔

“بھائی ۔۔۔ شاہ حویلی کی بیٹیاں بڑی حسین ہیں ۔۔ ابھی حویلی سے باہر کھڑے انہیں ہی دیکھ رہے ہیں ” مقابل فون پر کسی نے خباثت سے کہا ۔

” ہاں کیا کہا ؟ … شاہوں کی بیٹیاں ۔۔۔ ارے اتنی تعریف میرے جگر ۔۔۔ تو بس دھیان لگا ۔۔۔ ایک پتہ تو میرا ہے ویسے بھی ان شاہوں سے پرانی دشمنی ہے ۔۔۔۔ اس فرید نے مجھے اندر کرایا تھا نا ۔۔۔۔ اب دیکھ میں کیسا مزا چکھاتا انہیں ” فوم پر ہی وہ اپنے ارادے بتا رہا تھا ۔ اس کے شیطانی دماغ میں ایک مکروح پلان تیار ہو چکا تھا ۔

 

🔥🔥🔥🔥

” تو بھائی صاحب ماشاءاللّٰه سے بچے بھی پڑھائی مکمل کر چکے ہیں ۔۔۔ تو کیوں نا ہم اب نیک کام میں دیر نا لگائیں ” زرین شاہ نے محبت سے اپنے دیور سے کہا ۔

اس وقت لاؤنج میں سب بڑے بیٹھے ہوئے تھے ۔ بچوں کی شادیوں کا ہی زکر کرنا تھا ۔

۔

” ہاں اور ماشاءاللّٰه سے ۔۔۔ ہماری بچیاں جوان ہو گئیں ہیں ۔۔ آخری مہینے ہیں ان کی پڑھائی کے پغر پیپرز ہیں ان کے ۔۔۔ کیا کہتے ہیں آپ ! ” زکیہ نے بھی مسکراتے کہا ۔

” ہمیں کوئی اعتراض نہیں بئی ۔۔۔ ہم تو جلد از جلد فرض نبھانا چاہتے ہیں ” فرحاد شاہ نے خوشی سے کہا ۔

سب نے اس کی تعید کی ۔

” پھر ایسا کرتے ہیں کہ اگلے مہینے کے پہلے جمعے کو ان سب کا نکاح کر کے رخصتی کر دیتے ہیں ۔۔۔ ٹھیک ہے ! “. فرحاد شاہ نے بلند آواز سے فیصلہ سنایا

لاؤنج میں بیٹھے سبھی لوگوں نے سر ہاں میں ہلایا ۔

سب کا منہ میٹھا کروایا ۔

جبکہ بچے جن کی زندگی کے فیصلے ہو رہے تھے وہ سب اوپر منزل پر تھے اور لا علم تھے کہ ان لے ساتھ کیا ہونے والا ہے ۔

اس حویلی میں اگر کوئی خوش ہوتا اس فیصلے سے تو بس یوسف شاہ تھا ۔ باقی کوئی بھی اس حق میں نہیں ہونے والا تھا.

نجانے شاہ حویلی نے کیسی داستان رقم کرنی تھیں ۔

 

 

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Read Best romance novel ,saaiyan, haveli based romantic novelsaaiyaan , Urdu novel at this website Novelsnagri.com for more Online Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit this website and give your reviews on this Website. you can also visit our facebook page for more content Novelsnagri ebook

1 thought on “Best romance novel | saiyaan | Epi-20”

Leave a Comment

Your email address will not be published.