Best Romance Novel, Saiyan,Episode 21

Best Romance Novel | Saiyaan Ep#21

Best romance Novel, saiyaan, Epi#21. Love is the many emotions that expression affection and care. Honestly, responsibility and trust constitute Love. It is a feeling that everybody years for as its make them feel happy and vital. Our first experience of love is at breath.

 

Best Romance Novel, Saiyan by bisma bhati Episode 21
Best Romance Novel, Saiyan by bisma bhati Episode 21

ناول: سائیاں

#از_قلم_بسما_بھٹی

#قسط_نمبر_21

🔥🔥🔥🔥🔥🔥

“کیا حال ہے ! ” کال اٹھاتے ہی سامر نے مسکرا کر پوچھا ۔

” کیا ہو گیا ہے آپ کو ۔۔۔ یہ لینڈ لائن ہیں . ۔۔ میرا پرسنل فون نہیں جو آپ کبھی بھی کھڑکا دیتے ہیں ۔۔۔ یہ تو شکر منائیں کہ میں اتفاق سے اس وقت گھر ہوتی ہوں ۔۔ورنہ وبال آ جائے ہمارے گھر” سہیلہ ہلکی آواز میں دانت پیستے بول رہی تھی ۔ دل اس کا خوف سےدھڑک رہا تھا ۔ نظر ادھر ادھر بھی سکینر کی طرح پھر رہی تھیں کہ کہیں اس کے لالہ

یا امی نا آ جائیں ۔

“جانِ من کتنا ڈرتی ہیں آپ ! میں نے تو نہیں کہا تھا کہ پیرس آ کر میرے دل کے تار چھیڑیں اور مجھے اپنا دیوانہ کریں ۔۔۔ اب بھگتو خود بھی ” بیڈ پر بیٹھتےوہ لاپرواہ انداز میں بولا.

” ویری فنی ۔۔۔۔ مسٹر سامر شاہ ۔۔۔ اس وقت ایک چھوٹا سا سٹڈی ٹوور تھا ۔۔ اور کیا اسے میں اپنی غلطی سمجھوں کہ میں پیرس دیکھنے چلی آئی تهی اور آپ مل گئے مجھے ! ” کمر پر ہاتھ رکھتی وہ ٹیلی فون پر ہی لڑنے کو تیار تھی ۔

” مس سہیلہ نواز ھاشم ۔۔۔۔ کیا لگتا ہے آپ کو ؟ ۔۔۔ سہیلہ نواز ھاشم زیادہ نام حسین لگتا ہے یا ۔۔۔۔ سہیلہ سامر شاہ! ” ٹیلی فون پر اس کی گھمگھکر آواز گونجی ۔

سہیلہ سرخ ہو چکی تھی ۔ کتنا انوکھا احساس تھا جو وہ اسے ہر بار محسوس کرواتا تھا ۔

” پتہ ہے ۔۔۔ آپ بہت برے ہیں ” آنکھیں جھکائے وہ منمنائی ۔ اس کی حیا ایسے تھی جیسے وہ سامنے ہو ۔

“ہاں مگر تمہارا ۔۔۔ اچھا میں آج بی جان سے بات کروں گا ۔۔۔ تمہارے اور میرے رشتے کے لیے” سامر نے مسکراتے کہا تو وہ اور خوشی سے سرخ ہو گئ ۔

” وہ مان جائیں گی نا ؟ ” سہیلہ نے لب کاٹے ۔

” ہاں ۔۔۔ ان شاء اللّٰه ۔۔۔۔ مجھے یقین ہے پورا ” سامر نے اسے تسلی سے کہا ۔

” لالہ آ رہے پھر بات کرتے بائے ” سہیلہ نے احمد نواز کو اوپر سے نیچے آتے دیکھ کر جھٹکے سے فون بند کر گئ۔

” تم یہاں کھڑی کیا کر رہی ہو ! ” احمد نے گرج کر اس سے پوچھا جو پہلے ہی خوفزدہ تھی کہ اس کی آواز پر بوکھلا گئی۔

” ک۔۔۔ کچھ نہیں بڑے لالہ ۔۔۔ میں کچن میں جا رہی تھی ” خود کو ریلیکس کرتے کہا ۔

احمد نے اسے غصیلی نگاہوں سےگھور کر دیکھا اور باہر نکل گیا ۔

سہیلہ نے گہرا سانس ہوا کے سپرد کیا ۔ کتنا مشکل تھا اس کے لیے محبت نبھانا ۔

🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥

” نہیں بی جان میں ۔۔۔ میں یہ شادی نہیں کر سکتا ” سامر فوراً سے بول اٹھا ۔

ابھی بی جان نے یوسف اور سامر کو اپنے کمرے میں بلایا تھا تا کہ ان سے بات کر سکیں ان کی شادی کی ۔ لیکن سامر تو سن کو ہی گرم ہو گیا تھا ۔ یوسف شاہ سے زیادہ جلدی غصے میں آ جانا اس کی فطرت تهی ۔

” کیوں کیا مسئلہ ہے تمہیں ! ” بی جان نے سنجیدگی سے پوچھا ۔ سامر کے لہجے سے بغاوت کی بو آ رہی تھی ۔

“بی جان میں اس رشتے کو کبھی نہیں مانوں گا ۔۔۔ آپ کیسے مجھ سے پوچھے بنا شادی طے کر سکتے ہیں میری ! ” وہ سرخ چہرے سے بولا ۔

” کیوں نہیں کر سکتے ہم ! ہم کر سکتے ہیں ۔۔۔ ہمیں پورا اختیار ہے ۔۔۔ اور وہ تمہاری بچپن کی منگ یے ” بی جان نے غصے سے کہا ۔

” کون سی بچپن کی منگ ؟ کہاں کی منگ ؟ میں کوئی ایسی رشتہ داری کو نہیں مانتا ۔۔۔۔ میں اس سے شادی نہیں کروں گا ” سامر نے صاف انکار کیا ۔

” سامر ۔۔۔ تمیز سے بات کرو بی جان سے ” یوسف شاہ نے اسے ٹوکا جو بدتمیزی سے بات کر رہا تھا ۔

” بی جان میری بات سن لیں ۔۔۔ میں شادی اسی سے کروں گا ۔۔۔ جسے میں پسند کرتا ہوں ۔۔ وہ بہت اچھی لڑکی ہے ۔۔۔ مجھے بے حد پسند ہے ۔۔۔ اور وہ ہماری حویلی ہمارے اصولوں

کو آرام سے سمجھنے والی ہے ۔۔۔ میں اس کے علاوہ کسی اور سے شادی نہیں کروں گا “

سامر نے بڑے تحمل سے ساری بات کہ ڈالی ۔ وہ اس بے جوڑ رشتے میں بندھ کر خود کو

قید نکر سکتا تھا ۔

” یہ کیا بول رہے ہو تم ۔۔۔ ہمارے خاندان میں آج تک کسی نے خاندان سے باہر شادی کرنے کا سوچا بھی نہیں ۔۔ تم کیسے سوچ سکتے ہو ؟ ” بی جان اس کی پسند والی بات پر برہم ہو چکی تھیں ۔

” بی جان میں حویلی کی کسی لڑکی سے شادی نہیں کروں گا یہ میرا آخری فیصلہ ہے ۔۔۔ میں شادی کروں گا تو صرف اور صرف سہیلہ سے ۔۔۔ بس ” سامر نے ان کے غصے کی پرواہ نہیں کی ۔ اپنی محبت کے لیے وہ سچ میں باغی تھا ۔

” تم میری بات کان کھول کر سن لو ۔۔ اگر تم نے سوچا بھی کہ ہم تمہاری شادی حویلی سے باہر کریں گے ۔۔۔ تو یاد رکھنا ۔۔۔ ہم تمہاری یہ بھول ہونے نہیں دیں گے ۔۔ حویلی سے نکال دیں گے تمہیں ” بی جان نے گرحتے لہجے میں وارن کیا ۔

” بی جان آپ سن لیں ۔۔۔ میں وہ مرد نہیں جو بیچ چوراہے میں اس عورت کا ہاتھ چھوڑ کر بھاگ جاؤں جس کو میں نے ساتھ زندگی گزارنے کے خواب دکھائے ۔۔۔۔ میں سامر شاہ ہوں

 مجھے حویلی چھوڑنا بھی پڑی ۔۔۔ تو میں چھوڑ دوں گا ۔۔۔ مگر آپ کی مرضی سے کہیں بھی شادی نہیں کروں گا ” سپاٹ انداز سے وہ برفیلے لہجے میں بی جان کو شاکڈ کر گیا تھا ۔

” بی جان ریلیکس ۔۔۔ میں بات کرتا ہوں اس سے ” یوسف شاہ نے آگے بڑھ کر ان کے کندھوں سے ان کی جگہ پر واپس بٹھایا تو وہ بے دم سی بیٹھیں ۔

” اس میں ۔۔۔ سے بغاوت کی بو آ رہی ہے یوسف ۔۔۔ وہ اب ہماری ایک بھی نہیں سنے گا ۔۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا میں شاہ جی سے کیسے بات کروں گی ” بی جان نے اپنا سر پکڑ لیا ۔

” اچھا آپ پریشان نا ہوں ۔۔۔ میں بات کرتا ہوں اس سے ” یوسف شاہ نے دوبارہ انہیں تسلی دی ۔

🔥🔥🔥🔥🔥🔥

” ہائےےےے یہ قوم کہاں گم ہے ؟ ” سہیلہ کے کندھے پر ہاتھ مارتے ارم نے شوخی سے کہا تو وہ اپنی سوچوں سے نکلتی مسکرا دی ۔ گال دہک اٹھے تھے اسے اس وقت سامر کی بات ہی تو یاد آ رہی تھی کہ اس نے اپنے گھر بات کرنی تھی ۔

” اوئےےے ہوئےےےے ۔۔ یہ سرخ سرخ گال ۔۔۔ یہ گہری مسکراہٹیں ۔۔۔ راز کیا ہے ؟ ” ارم نے اس کے پیٹ میں گدگدی کی تو وہ کھلکھلا کر ہنس دی ۔

” بتاؤ ” ارم نے دوبارہ اصرار کیا ۔

” ان کا نام ۔۔۔ سامر ہے ” شرماتے ہوئے جھجھکتے بتایا ۔

” کیا !! ان کا ؟ …. یہ ان کب سے ہیں ! ” ارم نے اس کے بازو پر چٹکی کاٹی ۔

” کافی ۔۔ وقت سے ۔۔۔ جب ہمارا سٹڈی ٹوور گیا تھا پیرس ۔۔۔ تم نہیں گئ تھی ۔۔۔۔ لیکن میں گئ تھی ۔۔۔ وہاں یونیورسٹی کے سنئیر بوائز میں سے تھے اور ۔۔۔ ہمارے ٹوور کے تمام سٹاف اور سٹوڈینٹس کو ان کی ٹیم نے گائیڈ کیا تھا ۔۔۔ تبھی ” سہیلہ جھجھکتے ساری بات بتا رہی تھی ۔

ارم کا حیرت سے منہ کھلا ہوا تھا اور آنکھیں پھٹنے کے در پر تھیں ۔

” اس. سٹڈی ٹوور کو تو ۔۔۔ او مائی گاڈ ۔۔۔ سات ماہ گزر گئے ۔۔۔ تم تب سے ؟ … مجھے بتایا کیوں نہیں ” اس کے بازو پر تھپڑوں کی بارش کرتے ارم سخت ناراض ہو رہی تھی ۔

” اچھا نا ۔۔۔ سوری ۔۔ کل انہوں نے کہا تھا کہ ۔۔۔ وہ اپنے پیرنٹس سے بات کریں گے ۔۔۔

ہمارے رشتے کے لیے ” سہیلہ نے مسکرا کر ارم کو بتایا ۔

” او مائی گاڈ ۔۔۔ تم مجھے کب بتانے والی تھی چھپی رستم ! ” ارم نے اس کے بازو پر پھر چپٹ لگائی ۔

” کہا نا سوری ” سہیلہ سکڑی سمٹی سی بولی ۔ صرف سامر کے زکر پر وہ بری طرح شرما رہی تھی ۔

” کیا نام بتایا تھا ان کا تم نے ! ” ارم نے ایکسائیٹڈ سا پوچھا ۔

” سامر ۔۔۔ سامر شاہ ” اپنے بالوں کو کان کے پیچھے اڑیستے کہا ۔

” واٹ!!! … تم کہیں ہماری حویلی کا بندہ تو نہیں قبضے میں کر گئ ! ” ارم نے آنکھیں سکیڑیں ۔

” کیا مطلب ! ” اسے سمجھ نا آئی اس بات کی ۔

” ارے بدھو ۔۔۔ میرے تایا جان کے بیٹے کا نام سامر ہے ۔۔۔ اور وہ بھی امریکہ سے ہی آئیں ہیں ۔۔۔ تم کہیں انہی کو تو نہیں پھنسا چکی ! ” ارم پر جوش سی بولی ۔

نا کرو ۔۔۔ اگر ایسا ہوا ۔۔۔ تو میں ۔۔۔ گز جتنے دوپٹے کیسے سنبھالوں گی ! … اور نقاب کیسے کروں گی ! ” سہیلہ تو خود کو کنات میں تصور کرتی ہڑبڑائی ۔

” ویری فنی مس سہیلہ نواز ھاشم ۔۔۔ میں نے کہا ہو سکتا ہے ” ارم نے سر جھٹکا ۔

” ہممم ۔۔۔ پر دعا کرنا ۔۔

یقیناً انہوں نے رات کو بات کر لی ہو گی ” سہیلہ نے ایک آس سے کہا تو ارم نے اسے اپنے بازووں میں بھر لیا ۔ اس کی سب سے پیاری دوست جو تھی ۔

” چلیں ۔۔ سوری میم لیکچر دے رہی تھیں ” فرحین نے ان سے کہا ۔

” چلیں ” تبھی سہیلہ اپنی جگہ سے اٹھی اور ارم بھی اٹھ گئ۔

تینوں کا رخ اب باہر کی طرف تھا ۔

جیسے جیسے قدم گیٹ کی طرف بڑھ رہے تھے فرحین کا دل بری طرح سے دھڑکنا شروع ہو چکا تھا ۔ اسے علم تھا کہ گیٹ سے جب باہر نکلے گی تو سامنے ہی وہ کھڑا ہو گا جو چپکے سے اس کے دل پر حکومت کر گیا تھا ۔

 تینوں نے سڑک کراس کی ۔ فرحین کا دل بری طرح سے بگڑا ہوا تها ۔ آج اپنی ہی گاڑی کے پاس جانا اسے محال لگ رہا تھا ۔

جب وہ لوگ اپنی گاڑیوں کے پاس آئے تو بے اختیار فرحین کی نگاہیں سامنے آنے والے

شخص پر اٹھیں جو اچانک ہی اپنی جگہ سے ہل کر اس کے مقابل آیا تھا ۔ اس کے قدموں کو بری طرح بریک لگی تھی ۔

ہاتھ لرز گئے تھے جو دو انگلیوں سے جو دوپٹہ نقاب کی صورت میں چہرے پر کیا تھا وہ لرزتے ہاتھوں کی وجہ سے نیچے گر گیا ۔

سبکتگین نواز جو صرف فرحین شاہ کی زرا سا آنکھوں کا رخ اپنی طرف چاہتا تھا کہ مقابل کا نقاب کیا گرا وہ اسے منجمد کر چکا تھا ۔ اس کا حسین چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے تھا ۔

سبکتگین کا دل جیسے رک کر چلا تھا ۔ اس نے جیسے تصور کیا تھا وہ تو اس سے بھی زیادہ حسین تھی ۔ سبکتگین کی نظریں ٹھہر گئی تھیں ۔

فرحین شاہ ہڑبڑا گئیں ۔ سامنے سبکتگین تھا جس کی نگاہیں وہ اپنے چہرے میں دھنستی

محسوس کر رہی تھیں ۔ دل خوف سے کانپ گیا تھا ۔

اس سے پہلے کوئی مسئلہ ہوتا فرحین نے تیز سے دوپٹہ چہرے پر کیا اور تیزی سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھی ۔

سبکتگین اس کے ہٹ جانے پر مضطرب ہوا اور پلٹ کر اس کی طرف دیکھا جو تیز قدموں سے اپنی گاڑی کی طرف جا رہی تھی ۔

تبھی وہ رکی اور پلٹ کر سبکتگین کو دیکھا ۔ جس پر وہ سینے پر ہاتھ رکھ کر سر کو جھکا گیا ۔ یہ شکریہ ادا کرنے کا انداز تھا جو فرحین شاہ کو پوری طرح سے گھائل کر گیا تھا ۔

چہرہ موڑ کر وہ تیزی سے گاڑی میں بیٹھی ۔ وہ تو شکر تھا کہ ارم نے دھیان نہیں دیا تھا ۔

گاڑی فوراً سے شاہ حویلی کے لیے نکل گئ ۔

“لالہ ۔۔۔ واہ جی واہ ۔۔۔زیارتیں ” سہیلہ کی شاکڈ آواز پر سبکتگین چونکا اور پلٹ کر اسے دیکھا جو گاڑی کا دروازہ کھولے اس پر دونوں بازو ٹکائے پُر شوق نگاہوں سے سارا منظر دیکھ رہی تھی ۔

سبکتگین ہنس دیا اور اس کی طرف آیا گاڑی میں بیٹھا ۔

“پیاری ہے نا ! ” سہیلہ نے شوخی سے پوچھا ۔

” بے حد ” گاڑی سٹارٹ کرتے سبکتگین کے لب پھیلے ۔

“برابر آگ لگی ہے کیا ! ‘ سہیلہ پھر سے پر جوش سی بولی ۔

سبکتگین ہنس دیا ۔

” ووو ہووو ۔۔ یعنی اب میں تیاریاں کروں آپ کی شادی کی ” سبکتگین کے بازو سے

چپکتے وہ جوش سے بولی تو وہ بھی ہنس دیا اس کی تیزیوں پر ۔

🔥🔥🔥🔥🔥

” چھوٹے شاہ ۔۔۔ ہماری زمینوں پر اس وقت احمد نواز اور اس کے آدمی فساد مچا رہے ہیں ” فرحاد شاہ کے خاص ملازم نے لاؤنج میں آتے خبر دی تھی ۔ آغا جان تو اپنے کمرے میں تهے ۔

اسے یہی مناسب لگا کہ فوراً سے شاہ حویلی کے مردوں کو بتا دے ۔

” کون احمد نواز ! ” یوسف شاہ نے تیوری سے پوچھا ۔

” صاحب جی وہ ۔۔۔ فرید شاہ کے ساتھ مسئلہ ہو گیا تھا کچھ مہینے پہلے ہماری حویلی میں گھس کر چوری کرنی چاہی تھی تو فرید شاہ نے اسے پولیس کے حوالے کر دیا تھا ۔۔۔ اب وہ دوبارہ ہماری زمینوں پر آ گیا ہے ۔۔۔ مزدوروں کو نا حق پریشان کر رہا ہے ۔۔۔ اور کام

جو گندم کی کٹائی کا ہوا تھا وہ سارا بکھیر دیا ہے ” اس نے تفصیل سے ساری بات یوسف شاہ کے سامنے رکھ دی ۔

” اچھا ۔۔ چلو میں دیکھتا ہوں ۔۔ ” یوسف شاہ نے اسے باہر کی طرف اشارہ کرتے کہا۔

اور تین گاڑیاں لوڈ ہوئیں شاہ حویلی سے نکلیں ۔

🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥

” یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں ! … ہماری شادی ۔۔۔ ایسا کیسے کر سکتے ہیں آپ لوگ ” ارم تو پوری طرح سے جیسے ہل گئ تھی اپنی شادی سامر شاہ کے ساتھ سوچ کر ۔

” آہستہ بولو ۔۔۔ کیسے بات کر رہی ہو ” ارم کی امی نے اسے جھڑکا ۔

” امی ۔۔۔ آپ ایسا نہیں کر سکتی ہمارے ساتھ ۔۔ بنا ہم سے رائے جانے ۔۔ بنا ہماری مرضی پوچھے آپ ہماری شادی کیسے کر سکتی ہیں ! ” ارم کا ٹیمپر لوز ہو رہا تھا ۔

فرحین تو شاکڈ اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی جس نے کیسا بھیانک بمب پھوڑا تھا ان پر ۔ اگلے مہینے شادی ! اور وہ جو ابھی اس کے دل میں سبکتگین کی محبت کی دستک ہوئی تھی اس کا کیا .

” تم ہوتی کون ہو جس سے ہم مرضی پوچھیں ! حیا کرو ۔۔ لڑکیوں کو زیب نہیں دیتا کہ وہ منہ پھاڑ کر اپنی شادی کی ایسے بات کریں ” زکیہ شاہ نے کڑے تیوروں سے ڈانٹا اسے ۔

” امی کیا ہو گیا ہے ۔۔۔۔ ہم انسان ہیں ۔۔ایسے کیسے کسی کے ساتھ بھی شادی کر سکتی ہیں ہماری ! ” ارم اٹھ کر ان کے مقابل آتے حیران پریشان سی بولی ۔

” وہ کوئ ایرے غیرے نہیں ہی جو اتنا ہمیں سوچنا پڑےے ۔۔۔ یہ بات تو شروع سے طے تھی ۔۔ تم دونوں کو بچپن میں ہی ان دونوں کے نام سے محفوظ کر دیا گیا تها تبھی تم دونوں کے لیے ایک بھی رشتہ نہیں آیا ۔۔۔ کیوں چلا رہی ہو میرے سامنے تم ” زکیہ شاہ نے دوبارہ غصے سے جواب دیا ۔

” بچپن کا رشتہ؟ .. تو ہمیں غافل کیوں رکھا ؟؟ ۔۔ میں یہ شادی نہیں کروں گی ۔۔۔ بلکل نہیں کسی بھی سامر شاہ سے نہیں کروں گی ” ارم نے کٹر لہجے میں انکار کیا ۔

” کیوں کیا پرابلم ہے ؟ … اپنی بہن کو دیکھو ۔۔ وہ تو ایک لفظ نہیں بولی ! .. تم کیوں واویلا مچا رہی ہو ! ” زکیہ شاہ نے اپنے پیچھے دروازہ بند کرتے پوچھا ۔

” امی میں ۔۔۔ فرحی کے بارے میں نہیں جانتی ۔۔۔ لیکن میں اتنا جانتی ہوں ۔۔۔ کہ میں زبردستی آپ لوگوں کی مرضی کے ساتھ نہیں بندھوں گی ” پورے سپاٹ انداز میں وہ کوئی باغی لڑکی لگ رہی تھی ۔

” کیا مطلب ؟ ہم لوگوں کی مرضی ! .. تمہاری مرضی ہے کوئی جو اتنا اکڑ رہی میرے سامنے ! ” زکیہ شاہ نے نیچی آواز میں جانچتے لہجے میں پوچھا ۔

” ہاں ۔۔۔ ہے میری مرضی ۔۔۔ یوسف شاہ ” بڑی دلیری سے ارم نے وہ نام لیا تھا۔ اپنی چاہت کے لیے وہ بغاوت پر اتر آئی تھی ۔

فرحین نے لرزتے دل سے اسے دیکھا ۔ یہ طوفان سے کم نہیں تھا جو وہ بول گئ تھی ۔

” چٹاخ ” زکیہ شاہ کا ہاتھ اٹھا تھا اور ارم لڑکھڑا کر زمین بوس ہوئی تھی ۔

” امی ” فرحین بے ساختہ ارم کی طرف بڑھی ۔

“بے غیرت ۔۔۔ بے حیا ۔۔۔ بے شرم ۔۔۔ اپنی ہی بہن کے ہونے والے سہاگ پر نظر رکھی تم نے ۔۔ اس سے پہلے کہ تم کوئی فضول حرکت کرو ۔۔۔ میں تمہیں یہی دفن کر دوں گی ۔۔۔

خبرادار جو تمہارے منہ سے دوبارہ یہ بات نکلی ” زکیہ شاہ نیچی آواز میں پورے تعیش

سے بول رہی تھیں ۔

” امی ۔۔۔ میں ۔۔ میں بات کرتی ہوں ” اب تک فرحین شاہ نے یہ بات کہی تھی ۔

” سمجھاؤ اسے ۔۔۔ اور اس کے دل و دماغ سے ہر فتور باہر نکال مارو ” سختی سے وہ کہتی کمرے سے باہر چلی گئیں ۔

” اٹ ۔۔ اٹھو ارم ” فرحین نے اسے نیچے سے اٹھایا ۔

” ائی ام سوری فرحی ۔۔۔ لیکن میں نے ۔۔۔ انہیں دیکھا تھا ۔۔۔ یوسف شاہ کو ۔۔ تب سے میرا دل بیقرار ہے ان کے لیے ۔۔۔ میرے جزبات بہت گہرے ان کو لے کر ۔۔۔ پلیز ۔۔۔

مجھے غلط مت سمجھو ” ارم اس کے ہاتھوں کو پکڑتی درد بھرے لہجے میں بول رہی تھی ۔ اس کا دل اس کے ہی اختیار میں نہیں تھا ۔

” میرے لالہ آپ کو بہت پسند کرتے ہیں ۔۔۔۔ ان کی آنکھوں میں محبت ہے آپ کے لیے ” فرحین شاہ کے کانوں میں سہیلہ کے جملے گھوم رہے تھے ۔ اور آنکھوں میں وہ ایک منظر جب سبکتگین کو اپنے سامنے دیکھا تھا

اور پھر اس کا وہ سر جھکانا ۔ فرحین کے اندر تو جزبات کے طوفان جل رہے تھے جن کا علم صرف اسے تھا . اتنی جلدی وہ ان جزباتوں کو دفنا دے گی ! یہ اس نے سوچا ہی نہیں تھا ۔

“فرحی ۔۔۔ میں یوسف شاہ کے بغیر نہیں رہ سکتی ” اس کے سامنے ہاتھ جوڑتے ارم نے کہا ۔

فرحین نے اس کے ہاتھوں کو تھام لیا ۔

” ہم دونوں کیسے بھول گئے ۔۔۔ کہ ہم شاہ حویلی کی بیٹیاں ہیں ! .. ہاں ! ” فرحین کی درد سے لبریز آواز نے ارم کو اپنی حگہ منجمد کر دیا ۔

” کیا مطلب ! … تمہیں ۔۔۔ کوئی پسند …

” چپ ۔۔۔ شششش ۔۔۔ آواز نہیں ۔۔۔ کوئی لفظ نہیں ” اس کے منہ سے بات کو کاٹتے فرحین نے کہا ۔ اس کا انداز وحشت زدہ تھا ۔ اس کے ہاتھ کانہ رہے تھے ۔

” فرحی ” ارم نے اس کے ہاتھوں کو تھامنا چاہا محر فرحین فوراً سے اپنی جگہ سے اٹھ گئ ۔

” میں بھول نہیں سکتی ۔۔۔ میرے والدین کی عزت ہم سے جڑی ہے ۔۔۔ میں بھول نہیں ۔۔۔ سکتی ۔۔۔ فرحین شاہ نام ہے میرا ۔۔۔ دل ہارنے کی ۔۔۔ غلطی نہیں کرتی” اپنے دل ہر ہاتھ رکھتے وہ روتے ہوئے کھڑکی کے پاس چلی گئی ۔ اس کے اندر کا طوفان ہچکیاں باندھنے پر مجبور کر رہا تھا ۔

ارم تو اپنی بات بھول کر اس کا حال دیکھ رہی تھی. جس کی حالت زیادہ نازک تھی ۔ نجانے کس پر دل ہار بیٹھی تھی ۔

” فرحین میری بات سنو ۔۔۔ کون ہے وہ ” ارم اس کے پاس جاتی مدھم آواز میں بولی ۔ یہ راز تھا اگر فرحین کا تو وہ اس کی بہن تھی ۔ وہ رازدار بن سکتی تھی اس کی ۔

” کون ہے وہ فرحین ” اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتت پوچھا ۔

فرحین نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا ۔ اور فوراً اس کی آنکھوں میں اس کے والدین کا چہرہ لہرایا ۔شاہ حویلی کے اصول لہرائے.

” ارم ۔۔۔ ایک احسان کر دو ۔۔۔۔ سہیلہ سے کہنا ۔۔۔ آج کے بعد ۔۔۔ کبھی اس کے لالہ مجھے نظر نا آئیں ” ارم کے ہاتھوں کو پکڑتے وہ رازداری سے دھیمے لہجے میں بولی ۔

ارم کی آنکھیں بے یقینی سے کھل گئیں ۔

” فرحین ۔۔۔ فرحین ” اس سے پہلے ارم کوئی سوال کرتی زکیہ شاہ تیز قدموں سے کمرے میں آئییں ۔ لہجہ ان کا بلا کا تلخ تھا ۔

دونوں نے چونک کر انہیں دیکھا ۔

” یہ سبکتگین کون ہے ! بتاؤ ! ” زکیہ شاہ نے تیوروں سے پوچھا.

فرحین کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا ۔

” کیا ہوا ہے امی ! ” ارم نے بڑے حوصلے سے پوچھا ۔

” نیچے وہ رشتہ لے کر آیا ہے ۔۔ اپنی بہن اور ماں کے ساتھ ! ” زکیہ شاہ حیرت و پریشانی سے بولی کہ فرحین نے سہم کر ارم کا ہاتھ پکڑا ۔ اس کا سانس سوکھ رہا تھا ۔ بے حد خوف آ رہا تھا ۔

” ہم ۔۔ ہم نہیں جانتے ” ارم نے فوراً انکار کیا اسے اس وقت یہی صحیح لگا ۔

” تم بتاؤ فرحین ۔۔۔ اس کی ماں کہہ رہی ہے کہ ۔۔۔ انہوں نے تمہیں کالج میں دیکھا تھا ! تم انہیں کیسے نظر آئی ! ہاں ! ” زکیہ شاہ نے فرحین شاہ کا بازو پکڑتے پوچھا ۔

” امی ۔۔۔ امی مجھے ۔۔ مجھے نہیں پتہ اس سب کا ۔۔۔ میرا یقین کریں ۔۔۔ میں نہیں ۔۔۔ جانتی کچھ بھی ” فرحین حواس باختہ سی بولی ۔ وہ بوکھلا گئی تھی ۔ ماں کی آنکھوں میں کہیں بے اعتباری نا دیکھ لے اس ڈر سے سبکتگین کو پہچاننے سے انکار کر دیا ۔

” مجھے تم پر یقین ہے میری بیٹی ۔۔۔ لیکن شاہ حویلی میں یہ قہرام مچ جائے گا ۔۔ حویلی میں اس وقت مرد موجود نہیں ۔۔۔۔ نہیں علم ۔۔۔ کہ بھابھی جان شام میں کیا ان سے کہیں گی ” زکیہ شاہ نے پریشان لہجے میں کہا ۔

فرحین ان کے سینے سے لگ گئی ۔ اسے بے حد خوف آ رہا تھا ۔

ارم تو عجیب صورت حال میں تھی ۔ ان دونوں بہنوں کے ساتھ عجیب واقعہ پیش آ رہا تھا ۔

ادھر شادیاں طے ہو رہی تھیں ، وہ خود انکار کر رہی تھی ، ابھی انکشاف ہوا تھا کہ فرحین کسی سے خاموش محبت کرتی ہے اور اوپر سے اس کے لیے شاہ حویلی میں رشتہ آ گیا ۔ سب سنبھل جاتا لیکن یہ رشتے والی بات بہت مسئلہ پیدا کرنے والی تھی ۔

اب اس کے والدین سے سو سو طرح کے سوال ہوں گے فرحین کو لے کر اس نے پریشانی سے ماتھا مسلا ۔

🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥

” تو تم ہو یوسف شاہ ۔۔۔ فرحاد شاہ کا بیٹا ۔۔۔ سنا ہے باہر سے آئے ہو ! ” اپنے سامنے یوسف شاہ کو کھڑے دیکھ کر احمد نواز نے طنزاً پوچھا ۔

” تم نے ہماری زمینوں پر پاؤں رکھنے کی کوشش بھی کیسے کی ! ” یوسف شاہ نے اس کے سوال کو اگنور کرتے سنجیدگی سے پوچھا ۔

” کیا شاہ صاحب ۔۔۔ میرے سوال کا تو جواب دیا ہی نہیں. ۔۔ اور الٹا سوال کر رہے ہیں ۔۔۔ ناٹ گڈ ” اپنی سٹک کو دائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر ہلکا ہلکا مارتے ہوئے وہ یوسف شاہ کو زہر لگا تھا ۔

” میں نے کہا ۔۔۔ کہ تم نے۔۔۔ شاہوں کی زمین پر پاؤں رکھنے کی ہمت کیسے کی ! … دوبارہ جیل جانا ہے کیا ! “یوسف شاہ نے اب کی بار ٹھنڈے ٹھار لہجے میں پوچھا ۔

اس جیل کے نام پر احمد نواز کے ماتھے کی رگیں پھول گئیں ۔

” جیل تو تم لوگوں نے بھیج کر غلطی کر دی ۔۔۔ اب جیل میں جاؤں یا نا جاؤں ۔۔۔ لیکن اس شاہوں کو برباد نا کر دیا تو میرا نام بھی احمد نواز ہاشمی نہیں ” یوسف کے مقابل کھڑے ہوتے وہ بھی غصے سے بولا ۔

” ایک تو ہماری زمینوں پر کھڑے ہو کر تم نے فساد پھیلایا ہے ۔۔۔ اور اوپر سے میرے سامنے کھڑے ہو کر ۔۔۔ ہمیں ہی برباد کرنے کی دھمکی لگا رہے ہو ! ” یوسف شاہ نے کٹیلی نگاہیں اس کی آنکھوں میں گاڑتے پوچھا ۔

” مجھے پرواہ نہیں ۔۔۔ بربادی تو ہو گی ۔۔۔ پنچائت بٹھا لو بے شک ” احمد نواز نے سائیڈ پر تھوکا ۔

اس کی حرکت پر یوسف شاہ کے آدمی آگے بڑھنے لگے تھے کہ اس کے ہاتھ کے اشارے پر واپس رک گئے ۔

” اب پنچائت بیٹھے گی اور اس بار تگڑی جیل میں تمہیں کرواؤں گا ” یوسف شاہ نے سپاٹ انداز سے کہا اور پلٹا ۔ کم سے کم وہ فساد یا لڑائی نہیں چاہتا تھا ۔

” سنا ہے شاہ جی ۔۔۔ شاہ حویلی کی لڑکیاں بڑی حسین ہیں ” اس کے قدم احمد نواز کی مکروح آواز پر تھمے ۔

” کیا بولا تو نے ! ” یوسف شاہ کڑے تیوروں سے پلٹ کر بولا ۔ آنکھوں میں سرخی آ گئی تھی ۔ چہرے کا سفید رنگ غصے سے سرخ ہو رہا تھا ۔

” یہی ۔۔۔ کہ میرے آدمیوں نے ۔۔۔ اس حویلی کی بڑی بیٹی دیکھی تھی ۔۔ دل مٹھی میں لیے پھرتے ہیں ” اپنے دل پر مٹھی بناتے پورے شیطانی لہجے میں کہا ۔

” اےےےے ” یوسف شاہ جھٹکے سے اس کا گریبان پکڑ چکا تھا ۔

بدلے میں احمد نواز نے بھی یوسف شاہ کا گریبان پکڑ لیا ۔ وہ تو پہلے ہی لڑائی چاہتا تھا ۔

اپنے مالک کو ایسے لڑتے دیکھ کر یوسف اور احمد کے آدمی بھی آپس میں الجھ گئے ۔

چند سیکنڈز کا کھیل تھا کہ سب کے سب آپس میں بری طرح الجھے ہوئے تھے ۔ ڈنڈے پسٹل مکے لاتیں تھپڑ سے ایک دوسرے پر وار کر رہے تھے ۔

یوسف شاہ اور احمد نواز بری طرح ایک دوسرے کو مار رہے تھے ۔ یوسف شاہ میں زیادہ جان تھی تبھی وہ پے در پے کئی مکے مار کر احمد نواز کو بے حال کر گیا تھا ۔

 یوسف شاہ کا غصہ ختم نا ہوا تو جھٹکے سے اپنے آدمی کے ہاتھ سے گن کھینچی

” شاہ حویلی ۔۔۔ کی ایک بھی بیٹی کے بارے میں ۔۔۔ غلط بات کرنے والے ۔۔۔ کو یوسف شاہ ۔۔ ایک ہی سزا دیتا ہے ۔۔۔۔ موت” اس کے چہرے پر پھنکارتے یوسف شاہ نے پسٹل اس کے ماتھے پر رکھی ۔

احمد نواز نے نڈھال جسم سے اس کا ہاتھ جھٹکنا چاہا لیکن اس سے پہلے ہی فضا میں ٹھاہ کی آواز گونجی ۔

پوری جگہ پر سنسناہٹ پھیل گئی ۔

جو آدمی ادھ موئے ہوئے تھے وہ بھی احمد نواز کا حال دیکھ کر ڈر گئے

اور جو ابھی تک گھتم گھتا تھے وہ سہم کر یوسف شاہ کو دیکھنے لگے ۔

” میری ۔۔۔ فرحین پر. ۔۔ نظر رکھو گے ۔,۔ میں تمہاری نظریں ہی مٹا دوں گا ” یوسف شاہ ایک جنونی عالم میں بولا اور اس کی آنکھوں پر دو فائر کیے ۔

جان تو پہلے ہی نکل گئ تھی اس کی ااب اس ہی آنکھوں کا بھی بیڑاغرق کر دیا تھا

” سائیں ۔۔۔۔ یہ کیا کیا آپ نے ! ” فرحاد شاہ کے خاص ملازم جس کے بازو پر کافی

گہرے کٹس لگے تھے لڑائی کے دوران کہ وہ لڑکھڑاتا یوسف شاہ کے پاس آتا بولا ۔

یوسف شاہ کا اشتعال ختم نہیں ہو رہا تھا ۔

اس سے پہلے وہ باقی گولیاں بھی سامنے مردہ وجود پر مارتا ۔

“یوسف ” تبھی وہاں فرحاد شاہ کی داڑھ گونجی جس نے یوسف شاہ کو ہوش کی دنیا میں پٹخا ۔

🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥😍

 

continued…………

 

Read Best romance Novel, saiyaan, haveli based romantic novel, saaiyaan, Urdu novel at this website Novelnagri.com for more Online Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit this website and give your reviews on this Website. you can also visit our Facebook page for more content Novelnagri.ebook

 

3 thoughts on “Best Romance Novel | Saiyaan Ep#21”

Leave a Comment

Your email address will not be published.