Web Special Novel, Tania Tahir , Best Urdu Novel, Romantic Story 2022

Best Urdu Novel | یہ عشق کی تلاش ہے | Ep#13

Best Urdu Novel, Revenge Story Novel, Urdu Novels, Tania Tahir novels, all categories forced marriage based, politics based, cousin marriage based and also funny based novel, multiple categories & Complete pdf novel.

Here you find all kind of interesting New Urdu NOVEL.

 

Best Urdu Novel, Revenge Story Novel, online reading novels

Web Site: Novelsnagri.com

Category : Web special novel 

Novel name : یہ عشق کی تلاش ہے

Written by: Tania Tahir

#قسط_13

 

آئرہ اب بھی اسے مسکرا کر دیکھ رہی تھی ۔۔حمائل ۔۔۔ نے ادھر ادھر دیکھا ۔۔۔ پیچھے صیام

کھڑا تھا ۔۔۔۔ صیام نے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے گاڑی میں دھکیلا ۔۔

اے ہیرو کیوں لے کر جا رہے ہو اسے ” ائرہ نے پھر سے ۔۔ بیچ میں ۔۔۔ ٹانگ اڑائی ۔۔جبکہ صیام نے آنکھیں نکال کر اسکو دیکھا ۔۔۔۔ علینہ اور ارسلان اسکے ساتھ نہیں تھے ۔۔

تم پر پولیس کیس کرا دوں گا اب میرے معاملے میں مت بولنا جو حرکتیں تم کر چکی ہو اتنی ہی بہت ہے کہ میں برداشت کر چکا ہوں “وہ غرایا ۔۔ آئرہ بنے ڈرے اسے دیکھنے لگی ۔۔

تم مجھے دھمکا رہے ہو ” آئرہ نے بھڑک کر کہا ۔۔

ہاں” صیام نے اسے دور دھکیلا اور گاڑی میں بیٹھا ۔۔

حمائل بھی گاڑی میں بیٹھ گئ تھی جبکہ آنکھوں میں آنسو تھے ۔۔۔۔

آئرہ حمائل کو دیکھنے لگی ۔۔

حمائل آنسو سے تر آنکھوں سے مسکرا دی ۔۔

آئرہ کو بہت برا محسوس ہو رہا تھا مگر بولی کچھ نہیں ۔۔۔۔ جبکہ باسم غصے سے اسے گھور رہا تھا ۔۔۔۔

حمائل کی گاڑی تو چلی گئ باسم کے تیور دیکھ کرآئرہ نے گھیرہ سانس بھرا ۔۔۔ دوبارہ کیپ سر پر رکھی اور ایکدم سے باسم کو دھکا دیتی وہ دوڑ لگا چکی تھی ۔۔۔

اروش میرے ہاتھوں تم مرو گی” وہ دھاڑا ۔۔۔

تم پہلے مجھ تک پہنچ جاؤ ۔۔۔ اروش کو پکڑنا ناممکن ہے ” وہ گاڑی تک پہنچ کر جلدی سے گاڑی سٹارٹ کر گئ ۔۔

اروش میں تمھاری جان لے لوں گا رک جاؤ ” وہ بھڑکا ۔۔۔ جبکہ ائرہ نے گاڑی ریورس کی اور اسے منہ چیڑہ کر وہ نو دو گیارہ ہو گئ ۔۔۔

جبکہ باسم وہیں کھڑا کا کھڑا رہ گیا ۔۔۔ تلملا کر اسنے ٹیکسی کرا لی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سارا راستہ بلکل خاموشی سے گزرا۔۔۔۔ حمائل نے سوال نہیں کیا کہ کہاں ہیں اب وہ دونوں۔۔۔۔ جبکہ صیام نے بھی حمائل سے کوئ سوال نہیں کیا ۔۔۔۔

جیسے جیسے گھر قریب آنے لگا ۔۔۔ حمائل کے اندر خوف بڑھنے لگا ۔۔۔ بلاشبہ وہ اب حمائل سے اس تھپڑ کا بدلا لے گا جو اسنے جرت کرکے اسکے منہ پر دے مارا تھا ۔۔۔

وہیں حمائل خود سے کانپنے لگی ۔۔۔

گاڑی رکی ۔۔۔ اور صیام پہلے گاڑی سے باہر نکلا ۔۔۔ دوسری طرف حمائل بیٹھی انگلیاں موڑ رہی تھی۔۔۔۔۔

صیام اسکی جانب آیا دروازہ دھڑ سے کھولا اور اسے باہر نکالا ۔۔۔ اسکا چہرہ سنجیدہ تھا کسی بھی تاثر کا اندازا اسکے چہرے سے نہیں لگایا جا سکتا تھا ۔۔۔ حمائل کو اپنے ساتھ کھینچتا ہوا وہ اندر لے آیا ۔۔۔

جبکہ حمائل نے اس سے ہاتھ چھڑانا چاہا مگر صیام اسے اپنے پورشن کیطرف لے آیا ۔۔۔

جہاں پر گارڈز موجود تھے ان سب گارڈز کو اسنے وہاں سے نکل جانے کا کہا ۔۔۔

اور ساتھ ساتھ وارن بھی کر دیا کہ اماں کو بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہم لوگ واپس آ گئے ہیں ۔۔

گارڈ تھے ہی کیا اسکے حکم کے غلام ۔۔۔ وہ سب سر ہلا کر چلے گئے ۔۔۔ جبکہ صیام نے ۔۔۔۔ اسے صوفے پر دھکیل دیا ۔۔۔

حمائل نے ایک نظر اسکی جانب دیکھا ۔۔اور دل میں سوچ لیا کہ وہ اس سے بلکل نہیں ڈری گی ۔۔اسکی محبت اسکے لیے بہت پاک ہے ۔۔۔ اور وہ اسطرح اسکے لیے خود کو بد نام نہیں کر سکتی تھی۔۔۔

اس سمیت اسکے رشتے بھی اسے بے حد تکلیف پہنچا رہے تھے ۔۔۔۔

حمائل سر جھکائے بیٹھی رہی ۔۔صیام کچھ دیر کھڑا رہا وہ نہیں جانتی تھی وہ کیوں اسطرح کھڑا ہے ۔۔۔ اور پھر چند لمہوں بعد وہ پلٹا ۔۔۔ اور حمائل کے سامنے چئیر گھسیٹ کر بیٹھ گیا ۔۔۔

کیا کیا ہے ارسلان نے تمھارے ساتھ ” صیام نے اسکی جانب دیکھا ۔۔۔ سخت نظروں سے پوچھا ۔۔۔

حمائل نے اپنی بھیگی پلکیں اسکی جانب اٹھائیں ۔۔ آنکھوں میں شکوے تھے ۔۔۔۔ صیام انھیں آنکھوں میں دیکھتا رہا ۔۔

میں پوچھ رہا ہوں کیا کیا ہے حمائل ارسلان نے تمھارے ساتھ ” وہ ایکدم دھاڑا ۔۔۔۔۔

حمائل نے تھوک نگلا ۔۔ وہ کچھ نہ کر کے بھی چور سی بن گئ تھی ۔۔۔۔

بدتمیزی کی ہے انھوں نے میر ادوپٹہ کھینچا ہے ۔۔۔۔۔ جبکہ وہ یہ کام اکثر کرتے رہتے ہیں۔۔۔ م۔۔۔۔مجھ سے زبردستی وہ ۔۔۔۔ واشروم میں گھس آئے تھے ۔۔۔۔

جبکہ ۔۔۔۔ ” اتنے میں ہی وہ بری طرح رو دی جبکہ صیام ۔۔ کی آنکھوں کیطرف دیکھ لیتی تو شاید ۔۔اسکا دم گھٹ جاتا ۔۔۔۔ جو شخص اسکی توجہ ۔۔۔ کسی انسان کیطرف برداشت نہ کر سکا تھا ۔۔۔اور اسے یہاں سے چلے جانے پر مجبور کر دیا ۔۔وہ کیسے ۔۔۔۔ کسی کو اسکے چھونے پر برداشت کر لیتا ۔۔۔

صیام کی سرخ نظریں۔ ۔۔۔ جیسے حمائل کو بیٹھے بیٹھے ہی چیڑ دینے کا ارادہ رکھتیں تھیں۔۔۔

تم نے مجھے بتایا ” اسنے حمائل کا ہاتھ جکڑ لیا ۔۔ ہاتھ کی گرفت میں سختی تھی ۔۔۔ بے تحاشہ ۔۔۔۔

آپ نے کبھی مجھے نہیں سنا ” حمائل نے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ سے نہیں نکالا کیسے نکالتی اسنے کبھی اسکے سامنے تردد نہیں کیا تھا ۔۔۔۔

یہ بات تم مجھے زبردستی بتا سکتی تھی حمائل” وہ اب بھی اپنے غصے میں تھا ۔۔۔۔

آپکی نظر میں میری کوئ اہمیت نہیں ہے ۔۔ آپ دوسری شادی بھی کرنا چاہتے ہیں ۔۔

آپ کو میری محبت نہیں دیکھائی دیتی ۔۔۔آپکو دیکھائی دیتا ہے تو ۔۔ صرف یہ کہ مجھے تو نام بھی آپ نے دیا ہے میں کون ہوں ۔۔ کیا ہوں ۔۔۔ یہ تو میں بھی نہیں جانتی ۔۔۔۔ مگر آپ نے مجھے بہت بار یہ احساس دلا دیا ہے ۔۔۔ تو فکر نہ کریں ۔۔۔۔ اب مجھے اندازا ہے ۔۔۔ کہ آپ اپنی نسل چلانے کے لیے دوسری شادی کریں گے اور انتخاب علینہ ہو گی۔۔۔۔۔

آپ خوش رہیں صیام اپنی زندگی میں ” وہ بولی ۔۔ آنسو آنکھوں سے پٹ پٹ گیرنے لگے۔۔۔

صیام اسے خاموشی سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔

اسکے ہاتھ کی گرفت حمائل کے ہاتھ پر ڈھیلی ہو گئ ۔۔اور اس گرفت کا ڈھیلا ہونا حمائل کے دل پر وار کر گیا تھا ۔۔۔

اسنے اپنا ہاتھ ہٹا لیا ۔۔۔

کاش وہ یوں ہی جکڑے رکھتا اسکا ہاتھ تو وہ کبھی نہ اٹھتی ۔۔

وہ وہاں سے اٹھ گئ ۔۔

صیام یوں ہی بیٹھا تھا ۔۔

حمائل نے دروازہ کھولا اور اسکیطرف دیکھا جس کی پشت دیکھائی دے رہی تھی ۔۔۔

م۔۔مجھے لگا ۔۔۔۔ جب آپ ۔۔ جان جان جائیں گے تو ۔۔۔ ارسلان کے شاید ۔۔ ہاتھ ۔۔ توڑ توڑ دیں۔۔۔۔۔۔

مگر میں بھول گئ تھی ۔۔۔۔ اصل ناپاک تو آپکے لیے میں ہوں ۔۔۔ جسے چھونا تو کیا دو گھڑی پیار سے دیکھنا بھی آپکو گوارا نہیں ہے ۔۔” سسکی بڑھتی وہ یہ بات کہتی وہاں سے نکل گئ ۔۔۔

صیام سب سن تو چکا ہی تھا ۔۔۔۔ مگر پھر بھی کچھ نہیں بولا ۔۔۔ گھیرہ سانس اسنے اپنے غصے کو قابو میں کرنے کے لیے لیا ۔۔

تبھی اسکا دوبارہ دروازہ نوک ہوا ۔۔۔

مکرم تھا ۔۔۔۔ مایوس سا کھڑا تھا ۔۔۔۔

صیام اس خبر کا بھی منتظر تھا کہ کسی طرح عالم کا پتہ چل جائے کہ وہ کہاں ہے ۔۔۔۔۔

جبکہ اسکے دشمنوں کو یوں منہ زور کھڑے دیکھ کر وہ بلکل اچھا محسوس نہیں کر رہا تھا ۔۔۔۔۔

مکرم نے نفی میں سر ہلایا تو صیام نے سر تھام لیا ۔۔ جبکہ مکرم کی حالت ایسی تھی کسی بھی پل رو دیتا ۔۔۔۔

ٹھیک ہے تم جاؤ اور دوبارہ کوشش کرو ۔۔۔ اس دنیا میں ہی ہے نہ ۔۔۔ڈھونڈ لو اسے تم ڈھونڈ سکتے ہو ” اسنے اسکیطرف دیکھا تو مکرم سر ہلا کر وہاں سے چلا گیا ۔۔۔

صیام جبکہ اپنی الجھنوں میں ۔۔ الجھ ہی گیا تھا ۔۔۔۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حویلی میں ڈھول کی تھاپ پر لڑکیوں نے ڈھولک بجانا شروع کر دی تھی ۔۔۔۔۔

چہل پہل مہمان سب وہاں موجود تھے ۔۔۔۔۔

کام بڑھ گیا تھا ۔۔

اماں نے حمائل کو ہر کام سے ہٹا دیا تھا ۔۔۔۔

آریان بھی لوٹ آیا تھا ۔۔ جبکہ علینہ بھی یہیں تھیں خون کے گھونٹ بھر رہی تھی ۔۔اور دوسری طرف ۔۔۔ ارسلان ۔۔۔ بھی یہیں تھا ۔۔۔۔ وہ بھی تلملایا ہوا سا تھا ۔۔۔

قیصر بھی موجود تھا ۔۔۔۔ جبکہ صیام دولہا ہونے کے باوجود کام میں مگن تھا ۔۔اس دن کے بعد حمائل اور صیام میں کوئ بات نہیں ہوئ یہاں تک کے ابٹن کی رسم بھی آ گئ ۔۔۔

حمائل نے صرف شادی کے لباس کی شاپینگ انکے ساتھ کی تھی وہ نہیں جانتی تھی یہ ابٹن کا لباس کہاں سے آیا ہے کون لایا ہے ۔۔۔۔۔۔

وہ اکیلے کمرے میں کھڑی اس لباس کو دیکھ رہی تھی ۔۔

جو کہ بار بار اسے احساس دلا رہا تھا کہ یہ صیام کی پسند کا ہے ۔۔۔ سلیو لیس بازو اور لونگ کامدارشرٹ ۔۔۔

جبکہ آگے پیچھے کا گلا گھیرہ ۔۔۔۔

اسنے غور سے اس لباس کو دیکھا ۔۔۔۔

تو اسے ان سلیو لیس بازو میں نیٹ کے بازو نظر آئے جو ۔۔ ایسے ہی جیسے عارضی سے چیپکے تھے اسے کچھ تسلی ہوئ ۔۔۔

تبھی دروازہ دھڑ سے کھلا ۔۔۔۔

اور کسی لڑکی نے اندر جھانکا ۔۔ وہ کسی سے ملنا نہیں چاہتی تھی حمائل نے منہ بنا لیا ۔۔۔

تم مجھے دیکھ کر اٹیٹیوڈ کیسے دیکھ سکتی اور۔ بھولو مت میں نے تمھاری جان بچائ تھی ” آئرہ کی آواز پر وہ ایکدم چونکی اور مڑ کر اسکو دیکھنے لگی ۔۔

بلیک جینز پر سفید کرتا پہنے ۔۔۔ جبکہ پاؤں میں ہیل پہنے ۔۔ بالوں کو یوں ہی کھلا چھوڑے۔۔ وہ بے حد دلکش لگ رہی تھی جبکہ ہیزل انکھوں میں غصے کی رمق تھی ۔۔۔

اور گالوں پر سرخی ۔۔۔۔ حمائل ایکدم بھاگتی ہوی اسکے گلے سے لگ گئ ۔۔۔۔۔

آئرہ نے کچھ حیرانگی سے دیکھا اور پھر شانے آچکا کر ۔۔۔ مسکرادی ۔۔

آپ یہاں کیسے”

پہلے تو میں تمھارے جتنی ہی ہوں ۔۔ تم کہو۔۔ بڑوں والی وائبریٹس آتی ہیں ۔۔ ” آئرہ نے کہا تو حمائل نے ہنسی دبائے ۔۔

سوری تم”وہ بولی تو آئرہ کو کچھ بہتر لگا ۔۔۔

ایکچلی میرے ڈیڈ لے کر آئیں ہیں ۔۔انھوں نے مجھ سے کہا ۔

بیٹا ائرہ گھر میں رہ کر ملازموں کو تم کسی لائق نہیں چھوڑو گی ۔۔۔۔ توچلو ۔۔۔۔ شادی ہے میرے دوست کے بیٹے کی ۔۔۔۔۔ تو میں نے پوچھا ۔۔ ڈیڈ یہ کون سا دوست پیدا ہو گیا ۔۔ تو کہنے لگے۔۔۔۔

بس میرا خاص دوست تھا ۔۔۔ کسی حادثے کے تحت الگ ہو گئے ۔۔۔۔ مگر مجھے پتہ چلا ہے اسکے بیٹے کی شادی ہے۔۔۔ تو مجھے یہاں لے آئے۔۔ نیچے ظالم سا فلمی سین ہوا ۔۔ مت پوچھا ایک بوڑھی خاتون نے مجھے توچوم ہی ڈالا ۔۔۔۔ “ائره مسکرائ

اماں ہیں وہ ہماری ” حمائل کو بھی خوشی ہوئ ۔۔۔۔

 

اوہ آئ سی ۔۔۔تو کس سے ہو رہی ہے تمھاری شادی ۔۔ اسی بندر سے ” آئرہ نے منہ بنایا ۔۔

اب بندر بھی نہیں ” حمائل نے فورا حمایت لے ڈالی ۔۔لو ایک تو مشرقی لڑکیوں کے مشرقی سپنے ۔۔۔۔ شوہر کچھ بھی کر لے برا نہیں ” وہ برا منا کر بولی تو حمائل نے مسکرانے پر اکتفا کیا ۔۔۔

یہ تمھارا ڈریس ہے ” ائرہ فرینکلی اسکا ڈریس دیکھنے لگی جبکہ حمائل کو زرا شرمندگی سی ہوئ ۔۔۔

کس بے ہودہ آدمی نے خریدا ہے ” وہ منہ بنا کر بولی ۔۔ جبکہ حمائل کو ہنسی آ گئ وہ کیسے چیڑ رہی تھی ۔۔۔

صیام نے ” اسنے ویسے ہی کہہ دیا وہ جانتی نہیں تھی اسنے اسکے لیے خریدا ہے بھی یہ نہیں ۔۔ مگر بے ساختہ منہ سے نکل گیا ۔۔۔ جس کا اثر یہ ہوا کہ ۔۔ آئرہ نے اسے دیکھا

اور ۔۔۔ ناک سکیڑی ۔۔۔اور ڈریس بیڈ پر ہی ڈال دیا ۔۔۔

تو تم ریڈی کیوں نہیں ہوئ ابھی تک اور وہ چھچھوندر بھی کیا ایسی گھر میں رہتا ہے ” آئرہ ارد گرد گھومتے ہؤے پوچھنے لگی ۔۔ جبکہ حمائل بیڈ پر بیٹھ گئ ۔۔۔۔

میں نے دیکھا نہیں ۔۔۔ جب سے تاریخ رکھی گئ ہے میں کمرے میں ہی ہوں ۔۔۔ ہمارے ہاں رسم ہے پردے کی ” حمائل بولی ۔۔۔ اور اسکو گھور سے دیکھنے لگی ۔۔

وہ لاپرواہ سی لڑکی بہت اچھی لگی تھی اسے ۔۔۔۔۔۔

یہ کیسی رسم ہوئ بھلہ” ائرہ کے تو خاک بھی پلے نہیں پڑی ۔۔

بس یہ ہمارے گاؤں کی رسم ہے ۔۔ کہ ۔ تاریخ رکھنے کے بعد ۔۔ شادی تک لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو نہیں دیکھتے ۔۔۔۔ اور اگر دیکھ لیں تو غلط سمھجا جاتا ہے یہاں تک کے ۔۔ لڑکی وہ کوئ باہر کا مرد بھی نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔ بس خواتین۔۔ “

انڈرسٹینگ” آئدہ مسکرائ

ایکچلی مجھے علم نہیں ان چیزوں کا موم کی ڈیتھ کے بعد میں باہر چلی گئ تھی ۔۔۔۔ پھر سٹڈی کمپلیٹ کر کے ابھی دو ماہ پہلے ہی لوٹی ہوں ۔۔اور مجھے بہت خوشی ہے یہاں آتے ہی میری ایک اچھی دوست بن گئ ہے ۔۔” ائرہ نے اسکے آگے ہاتھ بڑھایا ۔۔

حمائل نے کبھی دوستی نہیں کی تھی ۔۔اسنے تو بس ایک انسان سے محبت کی تھی جس کو اسکی محبت کی قدر بھی نہیں تھی ۔۔۔۔

اسنے مسکرا کرائرہ کا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔۔

آئرہ بھی مسکرا دی۔۔

کیا تم بھی انگیج ہو “حمائل نے بات بڑھائی ۔۔۔۔

تبھی دروازہ بجا اور بیوٹیشن اندر آئ ۔۔۔ جس کے ساتھ علینہ بھی تھی ۔۔ علینہ کافی غصے سے اندر آئ تھی مگر ائرہ کو ۔۔ ڈرائے فروٹ اٹھا کر کھاتا دیکھ وہ رک گئ وہ نہیں جانتی تھی یہ لڑکی کون ہے ۔ ۔۔

آپ یہاں کیا کر رہی ہیں دولہن کے کمرے میں آنا اس طرح مناسب نہیں ہے جائیں آپ یہاں سے ” علینہ ائرہ کو دیکھ کر بولی جبکہ ۔۔۔ آئرہ نے جو کھانا تھا کھا کر ہاتھ جھاڑے ۔۔

نہیں میں انگیج نہیں ہوں اور نہ ہی میں ایسے فالتو کاموں میں پڑنا چاہتی ۔۔۔” اسنے مسکرا کر حمائل کو دیکھا ۔۔۔

آئرہ جبکہ علینہ کو دیکھ رہی تھی ۔۔

اور اب رہ گئ تمھاری بات تو تم کیوں آئ ہو جب دولہن کے کمرے میں آنا ہی گناہ ہے ” اسنے کمر پر ہاتھ رکھ کفر سوال کیا ۔۔

دیکھو بدتمیزی بند کرو اور جاؤ یہاں سے میں اس گھر کی ہی بیٹی ہوں کزن ہوں اسکی ” علینہ نے غصے سے کہا ۔۔۔

علینہ ۔۔۔”حمائل کو برا لگا

اور میں دوست ” ائرہ نے شانے آچکا دیے اسے مزہ آ رہا تھا وہ غصے میں ہے ۔۔۔ جبکہ علینہ اسکے مسکرانے سے تپ رہی تھی ۔۔

علینہ نے ضبط سے اسے دیکھا ۔۔۔

آئرہ بیوٹیشن کیطرف بڑھی ۔۔

چلو بھی جلدی سے دولہن کو ریڈی کر دو” اسنے بیوٹیشن کو حمائل کیطرف کیا اور خود بھی حمائل کے ساتھ ہو لی ۔۔ جبکہ وہ حمائل سے باتیں کر رہی تھی علینہ جل بھن کر باہر نکل گئ ۔۔۔

ائرہ ہنس دی ۔۔۔

یہ کالی مرچ کون تھی” اسنے قہقہہ لگایا ۔۔

کتنی بری بات ہے ” حمائل نے سر نفی میں ہلایا ۔۔

اچھا سوری تمھاری کزن ہے ۔۔ مطلب تھی کون ” وہ پوچھنے لگی ۔

صیام کی گرل فرینڈز ہے ” حمائل نے رکھی دل سے کہا ۔۔

کسی” آئرہ حیران رہ گئ ۔۔

وہ آدمی کیا اندھا ہے تم اتنی خوبصورت ہو اور وہ تمھیں ایسی تکلیف دے رہا ہے ۔۔ میں تمھاری جگہ ہوتی تو ۔۔ منہ سرخ کر دیتی تھپڑوں سے ” وہ برسی تو حمائل نے سر جھکا لیا ۔۔۔۔۔

 

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

صیام تھکا ہوا گھر لوٹا تو قیصر نے اسے اطلاع دی کہ کچھ دیر میں فنکشن شروع ہو جائے گا ابٹن کا تو وہ تیار ہو جائے ۔۔

صیام چیڑ چیڑا سا ہو گیا ۔۔۔

کیا مصیبت ہے ” وہ جھلایا ۔۔۔

اور فریش ہونے چلا گیا ۔۔

کچھ دیر بعد باہر نکلا تو باہرعلینہ کھڑی تھی ۔۔اسکا موڈ پہلے ہی ٹھیک نہیں تھا اور اوپر سے علینہ کے تیور ۔۔دیکھ کر ۔۔وہ چپ چاپ آئینے کے سامنے آ گیا ۔۔۔

تمھاری بیوی کیا سمجھہ رہی ہے خود کو ” علینہ نے اسکے شولڈر پر ہاتھ رکھا ۔۔

صیام کے لیے یہ نئی بات نہیں تھی پھر بھی صیام کو اچھا نہیں لگا اسطرح اسکا اسکے شانے پر ہاتھ رکھنا ۔۔۔۔

اسنے اسکا ہاتھ ہٹایا ۔۔

کیا کیا ہے اسنے ” صیام نے بالوں میں برش پھیرہ ۔۔

کچھ نہیں ۔۔۔” علینہ ۔۔ کو حیرت تھی ۔۔۔ آج سے پہلے صیام نے ایسی حرکت نہیں کی تھی ۔۔

صیام ارسلان نے جو بھی کیا اس میں میرا کوئ قصور نہیں ہے جو تم میرے ساتھ روڈ ہو رہے ہو ۔۔۔ اور ویسے بھی اسکے ساتھ کوئ کچھ بھی کرے تمھیں کیا فرق پڑتا ہے تم نفرت کرتے ہو اس سے ۔۔۔۔۔

صیام کی سرخ نظروں نے اسکی زبان دانتوں تلے دبا دی ۔۔۔۔

بیوی ہے وہ میری ۔۔۔۔

یہ بات مت بھولو ۔۔۔”

ٹھیک ہے تو میری اوقات تو کوئ نہیں اسکے سامنے ” علینہ بھڑکی

میرا موڈ نہیں فلحال بحث کرنے کا تم جاؤ ۔۔۔”صیام بولا ۔۔۔۔

صیام کیا تم شادی کی وجہ سے ۔۔ مجھ سے بدظن ہو رہے ہو ” وہ غصے سے بے حال ہوئ ۔۔

علینہ میں تھکا ہوا یوں ۔۔اس وقت مجھ میں سوچنے سمجھنے کی بلکل ہمت نہیں ہے تو میرا دماغ خراب مت کرو ” وہ چلایا ۔۔۔ تو علینہ۔۔۔ ایکدم ڈر گئ ۔۔اور اسکے کمرے سے باہر نکل گئ جبکہ ۔۔وہ ڈریس چینج کرنے چلا گیا ۔۔

وہ باہر ہوا ۔۔۔ تو تیار تھا ۔۔۔۔ آریان اور قیصر اندر آئے ۔۔۔

آریان سے تو صیام نے خود سے کوئ بات نہیں کی جبکہ قیصر کے ساتھ وہ نارمل تھا اور ارسلان ۔۔۔ بہتر ہی تھا اسکی نظروں کے سامنے نہ آتا ۔۔

وہ لوگ باہر آئے تو رات گھیری ہو چکی تھی مردوں کے پینڈال میں خوب رش تھا ۔۔ شور ہنگامہ سا مچ گیا ۔۔ جبکہ ایکطرف بوڑھی عمر رسیدہ عورتیں ۔۔اور کچھ رشتے کی عورتیں کھڑیں تھیں ۔۔۔ جبکہ ینگ لڑکیاں شاید تاک میں سے جھانک رہیں تھیں

کیونکہ یہ رسم تو سب ہی دیکھتے تھے ۔۔ صیام نے ۔۔ساری کنڈیوں کو ۔۔ اپنی جوتی سے توڑا ۔۔۔۔وہ سفید ۔۔کرتے شلوار میں پیلا پٹکا ڈالے بے حد وجہی لگ رہا تھا ۔۔

اسنے ساری کنڈیاں بآسانی توڑ دیں تھیں ۔۔۔۔

جبکہ گاؤں والوں کا ماننا تھا اگر کنڈیاں پوری نہ ٹوٹیں تو رشتہ میں نبھا نہیں ہو سکے گا۔۔

جبکہ وہ ان بنی بنائ باتوں پر یقین نہیں رکھتا تھا ۔۔

اماں بھی بے حد خوش تھیں ۔۔جسیے ہی وہ صوفے پر بیٹھا اماں نے اسکے اوپر سے پیسے وارے ۔۔اور اسکی پیشانی چومی وہ اپنی ماں کی خوشی کے لیے ہی تو یہ سب کر رہا تھا اسنے ماں کے ہاتھ تھام کر بدلے میں چومے ۔۔۔ اور اماں نے سب سے پہلی ابٹن کی رسم کی ۔۔۔

اور پھر باری باری ساری خواتین ۔۔ کرتی چلیں گئیں ۔۔اتنی مٹھائ اسنے زندگی میں نہیں کھائ تھی ۔۔۔۔

مگر آج کھا رہا تھا بمشکل ہی سہی ۔۔۔۔

جیسے ہی عورتیں گئیں اسنے ۔۔ تو گھورا گھاری کر کے ۔۔۔ مردوں کو مٹھائ کھلانے سے روک دیا ۔۔۔

جبکہ ۔۔۔عالم کو وہ بری طرح مس کر رہا تھا ایک ہی اسکا دوست تھا جو اسکی شادی میں موجود نہیں تھا یہ شاید وہ تو جانتا بھی نہیں تھا کہ اسکی شادی ہو رہی ہے ۔۔۔۔ باقی سارا فنکشن ۔۔۔ آتش بازی بھنگڑے ۔۔۔ اور مختلف رسموں کی نظر ہو گیا ۔۔

جبکہ صیام کو توابھی سے اپنے لباس کی فکر ہو گئ تھی وہ تین دن بھلا ایک ہی لباس کیسے پہنے رکھتا ۔۔۔۔جبکہ اماں کی وجہ سے اسے ان رسموں کو بھی پورا کرنا تھا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوسری طرف ۔۔۔حمائل تیار ہوہی تو لگا آسمان سے کوئ حور اتر آئی ہو ۔۔۔۔ اور اسپر اسکی شرم و حیا نے گویا چار چاند لگا دیے تھے۔۔۔

اسنے بازو پورے کر کے پہنے تھے جبکہ دوپٹے کو اچھی طرح سے کورکر لیا کہ وہ ۔۔ ڈھکی ہوئی تھی اس لباس میں بھی اسنے اپنے شادی کے جوڑوں میں سے زبردستی آئرہ کو بھی لباس پہنا دیا ۔۔ لونگ شرٹ اور پجامے میں وہ ہیل پہنے ۔۔۔۔ سبکی نگاہوں کا مرکز تھی جب کہ تقریبا سب ہی خواتین نے۔۔اسے پکڑ پکڑ کر ۔۔۔

پوچھا کہ وہ کون ہے اور اسکی شادی ہوئ ہوئ ہے ۔ائرہ کے لیے یہ سب مزاحیہ تھا وہ خوب انجوائے کر رہی تھی ۔۔۔

 

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Read Best Urdu Novel, Revenge Story Novel, Tania Tahir Novels ,all category to forced marriage, childhood marriage, politics based, cousin based and funny novels multiple categories & complete PDF novels. Here you find all types of interesting New Urdu Novel.

Leave a Comment

Your email address will not be published.