Urdu Novel 2022 | saiyaan | 2nd last Ep | Bisma Bhatti Novels

 Urdu Novel 2022 | saiyaan | 2rd last Ep | Bisma Bhatti Novels

Love is the many emotions that expression affection and care. Honestly, responsibility and trust constitute Love. It is a feeling that everybody years for as its make them feel happy and vital.

An online platform created just for Best Urdu Novel 2022 lovers, where they can easily find PDF copies of Urdu novels, haveli based novel 2022 and can download Pdf books free of cost

#سائیاں

#از_قلم_بسما_بھٹی

#2nd_last_episode

_______

اس کے ہوش واپس آ رہے تھے ۔ آنکھیں کھلتی بند ہو رہی تھیں ۔ سر بھی درد سے بھرا ہوا تھا ۔ ہوش مکمل آنے پر جب اس نے آنکھیں کھولی تو کمرے کو اندھیرے میں پایا ۔ صرف ایک زیرو لائٹ بلب روشن تھا جو اس کمرے کے اندھیرے کو دس فیصد کم کرنے کی کوشش میں تھا ۔

ڈولتے سر کے ساتھ وہ بیڈ پر بیٹھی تو خود کو بے چین پایا ۔ اسے لگا تھا کہ وہ اپنے بیڈ

پر ہے اور احسام نے یہ بلب روشن کیا ہے ۔ لیکن یہ اس کا کمرہ نہیں تھا ۔ اس کا بیڈ نہیں تھا ۔ اس کے کمرے جیسی مہک بھی نہیں تھی ۔

اس کے کمرے میں تو ہر وقت احسام کے پرفیومز اور باڈی سپرے کی خوشبو رہتی تھی ۔ جب کبھی اسے محسوس ہوتا تھا کہ اب کمرے میں خوشبو نہیں رہی تو وہ اس کے پرفیومز اٹھا کر چھڑک دیتی تھی اور کمرہ دوبارہ معطر ہو جاتا تھا ۔ لیکن اب وہ جس کمرے میں تھی وہ اس کا نہیں تھا۔

دماغ پر زور ڈالنے پر اسے سارے گزرے پل یاد آنے لگے کیسے وہ صبح احسام سے ملی تهی پھر گاڑی میں بیٹھنا کورٹس کی طرف جانا راستہ سنسان اور گاڑی کا لڑکھڑانا پھر ڈرائیور کو گولی لگنا اس کا مر جانا اس کا گاڑی سے نکلنا اور احسام کو فون ملانے پر کسی مرد کا اس کے پاس آنا ۔۔ اور اس کے آگے بس ۔ یادداشت ختم؟ وہ کیڈنیپ ہو چکی تھی ۔

یہ سمجھ آتے ہی اس کا دماغ بھک سے اڑ گیا ۔ اس کے چہرے پر ہوائیاں تھی ۔ اسے نہیں علم تھا کہ کس نے اسے اغواہ کیا ہے لیکن اگر احسام کا نا علم ہوا کہ ماہم کہاں ہے تو وہ کیا کرے گی؟

خوف سے اس کا وجود سنسنا اٹھا ۔

ابھی انہی سوچوں میں وہ ملوث تھی کہ جھٹکے سے دروازہ کھلا اور تیز باہر کی روشنی نے اس کی آنکھیں چندھیا دیں ۔ اس نے بے ساختہ اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھا ۔ تبھی اسے قدموں کی چاپ محسوس ہوئی ۔ اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا ۔

آنکھوں کو زور سے بند کرتے کھول کر ہاتھ ہٹائے تو اپنے سے کئی قدم دور ایک شلوار قمیض میں 45 50 سال کے لگ بھگ عمر کے مرد کو کھڑا پایا . جس کے چہرے پر مکروح مسکراہٹ تھی ۔ وہ سفید شلوار قمیض میں ملبوس تھا ساتھ بڑی سی براؤن شال اس کے کندھوں پر تھی ۔

” خوش آمدید نیاز کھوکھر کے حجرے میں جانِ من ” بازووں کو ہوا میں بلند کرتا وہ جوش سے بولا ۔ فتح کا رنگ اس کے چہرے پر عیاں تھا اس لہے کہ اب تک وہ احسام شاہ سے ناواقف تھا ۔

” کون ہو تم ۔۔۔ مجھے یہاں ۔۔۔۔ کیوں لائے ۔۔۔ ہو ” وہ اس سے خوفزدہ ہوتی بیڈ پر کھڑی ہو گئ ۔ جسم اس کا لرز رہا تھا ۔ اس نے کبھی ایسی حقیقت آنکھوں سے نہیں دیکھی تھی اس نے تو ایسے کیسز صرف اپنی کتابوں میں پڑھے تھے اسے نہیں علم تھا کہ وہ خود اس کا شکار ہو جائے گی ۔

” میری جان میرى آنکھوں کا چین ہو تم ۔۔۔ کتنا انتظار کیا اس پل کا جب تم میری دسترس میں میرے ہی بیڈ پر میری باہوں میں آؤ گی ” اس کی طرف آہستہ آہستہ قدم بڑھاتے نیاز کھوکھر نے کمینگی سے کہا ۔ اس کی سکین کرتی نگاہیں اس کے جسم سے آڑ پاڑ ہو رہی تھیں ۔

” چھی ۔۔۔ کتنے بڑے ۔۔۔ کم* ۔۔۔ ہو تم ۔۔۔ تم نے سوچا بھی ۔۔۔ کیسے کہ میں ۔۔۔ تمہاری دسترس میں آؤں گی! نیچھ انسان ” غصے اور ڈر کے ملے جلے جزبات سے وہ اس پر چیخی تھی ۔

” ہائے ۔۔۔ دل قیدی کیا ہوا ہے تمہارے حسن نے ہمارا ۔۔ دسترس میں تو آؤ گی ۔۔۔ جان ” اب وہ بیڈ کے پاس آتا بولا ۔

ماہم ڈر کر بیڈ کراؤن سے جڑ گئ ۔ اس کے ہاتھ پیڑوں سے جیسے جان نکل رہی تھی ۔ سامنے درندہ صفت شخص کی آنکھیں ہوس سے بھری ہوئی تھیں ۔

” خبر ۔۔ خبردار جو ۔۔۔ تم میرے پاس۔۔۔ آئے ۔۔۔ تم جانتے نہیں ۔۔ احسام کو ۔۔۔۔ جان لے لے گا ۔۔۔ تمہاری ! ” اس کے خوفناک چہرے سے ڈرتے ڈرتے کہا ۔

” ایسے کیسے ” ایک جھٹکے سے اس کا بازو پکڑتے اپنے قریب کیا کہ وہ خوف اور درد سے چلا اٹھی ۔

” احسام شاہ کی اتنی اوقات کہاں کہ وہ نیاز کھوکھر کے پنجرے میں ہاتھ مارے اور اپنی چڑیا نکال کر آسانی سے لے جائے ۔۔۔۔۔ اور نیاز کھوکھر اسے اس کا عمل کرنے دے اور ایسے ہی جانے دے ! ” اس کی کلائی کو کمر پر مڑورٹے اس کے کان کے پاس طنزیہ انداز میں کہا ۔

وہ درد سے بلبلا اٹھی ۔ وہ ناز و پلی بیٹی تهی اور محبت میں احسام نے رنگا تھا ۔ وہ اس تکلیف کو برداشت نہیں کر پا رہی تھی ۔

نیاز کھوکھر نے جھٹکے سے اسے بیڈ پر پھینکا ۔

وہ منہ کے بل بیڈ پر گری لیکن اس کے خوف سے جھٹکے سے مڑ کر اسے دیکھا جو اب اپنی چادر کو اتار کر دور اچھال چکا تھا ۔

” ن ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ دور رہو ! خبر دار جو میرے پاس آئے ” بیڈ پر پیچھے کو کھسکتے وہ بوکھلا کر بولی ۔ دل کی دھڑکن تیز ہو گئ تھی ۔ سانس جیسے سینے میں اٹک رہا تھا ۔

” کہاں ہو احسام ۔۔۔۔ بچا لو نا ۔۔۔ تمہیں کیوں خبر نہیں ہو رہی میری ! ” دل اس کا دہائی دے رہا تھا ۔ اور آنکھیں اس صنم کی بے خبری پر ماتم کناں تهی ۔

” پکار اپنے شوہر کو ۔۔۔ بلا اسے چیخ چہارا کر ۔۔۔ میں بھی دیکھوں کہاں سے نکلتا ہے وہ ! ” ایک پاؤں بیڈ پر رکھتے وہ پھنکارا تھا ۔

” مجھے ۔۔۔ یقین ہے ۔۔۔۔ میرا رب ۔۔۔ میری حفاظت ۔۔۔ کے لیے ۔۔ احسام کو ضرور ۔۔۔ بھیجے گا ” اپنے آپ میں سمٹتے وہ ڈرٹے ڈرتے بولی ۔ وہ اتنی بھی بہادر نہیں تهی کہ کسی خوفناک شخص کے ساتھ اس خوفناک صورتِ حال میں مقابلہ کر سکے ۔

” ہاہاہاہاہاہا ۔۔ کیا بات ہے ۔۔۔۔ قید میں تم میری ہو ۔۔۔ اور خواب تم ۔۔۔ اس کے سجا رہی جو نا ممکن ۔۔۔ ہاہاہاہاہاہا ۔۔۔ نہیں آئے گا وہ ۔۔۔ بلکل نہیں ْئے گا ” دونوں بازووں کو ہوا میں بلند کرتے وہ کمینگی سے قہقہے لگا رہا تھا ۔

ماہم کا دل سکڑ کر جیسے مٹھی میں آ رہا تھا ۔

” احسام ۔۔۔ آئیں گے ۔۔۔۔ مجھے یقین ہے ۔۔۔۔ تم میرا کچھ نہیں ۔۔۔ بگاڑ سکتے ” آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے وہ عظم سے بولی ۔ اس کا دل اس خوفناک صورتِ حال میں اسی کا دم بھر رہا تھا ۔ اسے یقین تھا اللّٰه پر کہ وہ آئے گا ۔ وہ احسام شاہ کہ عزت تهی ایسے کیسے کوئی بھی اس کی عزت کو خراب کرنے کی کوشش کرے اور وہ کچھ کرے نا ۔

” اچھا ۔۔۔۔ چل دیکھتے ہیں ۔۔۔ کہاں سے ۔۔۔ اور کب آتا یے ! ” اپنی قمیض کو اتارتے ایسے ہی نیاز کھوکھر بدمعاشی سے بولا کہ ماہم نے خود میں سمٹتے آنکھیں بند کر لیں ۔

اس نے مکروح ہنسی ہنستے بیڈ پر بڑھتے اس کا پاؤں پکڑ کر اپنی طرف کھینچا کہ وہ چیختے ہوئے اس کے سامنے آئی ۔

” نہیں ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ دور دور ۔۔۔ رہو ” اس کے ہاتھوں سے بچنے کے لیے مزاحمت کرتے وہ چلا اٹھی ۔

اور وہ ہنستا ہوا اس کی بے بسی کا مزاق اڑانے لگا ۔

نیاز کھوکھر نے بھرپور قہقہے کے ساتھ اس کی آستینوں سے پکڑ کر قمیض کھینچی کے قمیض کے بازو اس سے جدا ہو گئے ۔ اب اس کے دودھیا بازو سامنے تھے جس پر نیاز کھولھر کے آستینیں کھینچنے پر ناخنوں کی بھی خروشیں آ گئیں تھیں جس سے دونوں بازووں پر سرخ داڑھیں واضح ہو گئی تھیں ۔

نیاز کھوکھر کو اس وقت یوسف شاہ کو نیچا دکھانے کا جنون سوار تھ اور کچھ سامنے دودھیا رنگت کی مالک حسن کی دیوی ماہم شاہ کے جسم کی ہوس اس کا نشانہ تھی ۔ وہ اس کے دودھیا بازو پر گرفت کرتا اپنے چہرے کے پاس جھٹکا دیا ۔

وہ مسلسل روتے ہوئے نفی میں سر ہلاتی مزاحمت کر رہی تھی لیکن مقابل شخص درندہ صفت تھا جو ایک معصوم عورت کو بے بس کر رہا تھا ۔

” نیاز کھوکھر جب ۔۔۔ تیرا وجود نوچے گا نا ۔۔۔۔ تب ۔۔ تب یوسف شاہ کی بربادی کا نظارا ۔۔۔۔ دیکھنے لائق ہو گا ۔۔۔ جب وہ جھکے سر سے نظر آئے گا ۔۔۔ تب سواد آئے گا ” اس کے جبڑے سے منہ دبوچے کہا ۔ اس نے روتے ہوئے مزاحمت کی ۔

تبھی ان دونوں کا دھیان دروازے کی طرف ہوا جہاں سے ایسی آوازیں آ رہی تھی جیسے بہت سارے لوگ دوڑ رہے ہوں اور ان کے پیڑوں اور بوٹوں کی تھاپ سے زمین پر شور برپا ہو جائے ۔

نیاز کھوکھر نے خطرہ محسوس کرتے غصے سے اپنا موبائل پکڑا اور نمبر ملایا ۔ لیکن نمبر بند جا رہا تھا ۔ نیاز کھوکھر کے خاص ملازم کا نمبر پہلی بار بند ہوا تھا اور یہ بات خطرے سے خالی نہیں تھی ۔ اس نے غصے سے موبائل ہاتھ میں دبایا اور خونخوار نظروں سے ماہم کو گھورا جو لرز رہی تھی اپنے آپ میں سمٹی سی بیڈ پر تھی ۔ اپنے دوپٹے کو اپنے بازووں پر ڈال لیا تھا ۔

تبھی دیکھتے دیکھتے دروازے پر زور زور سے جھٹکے لگنے لگ گئے ۔

نیاز کھوکھر نے خوفزدہ ہو کر دروازے کو دیکھا ۔ یہ اس کی خفیہ جگہ تھی اور اس کے خاص آدمی کے علاوہ کسی کو علم نہیں تھا ۔ اور اس طرح کسی کا اس جگہ سیدھا سیدھا خطرہ تھا ۔

جھٹکے زور سے زور ہوتے گئے اور پٹخ سے پھر دروازہ ٹوٹا کہ ہوا میں دھول ہی دھول ہو گئ ۔

ماہم مزید خود میں سمٹی اسے لگا کہ شائد مزید اس کے ساتھ کچھ برا ہو گا ۔ خود کو گول مول سا کرتے وہ ڈر کر بیڈ کراؤن سے لگ گئی ۔

تبھی دروازے سے کئی آرمی آفیسرز ہاتھوں میں گن پکڑے تیزی کے ساتھ اندر داخل ہوئے اور پورے کمرے میں پھیل کر کھڑے ہو گئے اور نشانہ نیاز کھوکھر پر رکھا ۔

ماہم نے نا سمجھی سے سب کو دیکھا پھر مخصوص چاپ پر گردن گھما کر دروازے پر دیکھا تو اپنے بےخبر صنم کو دروازے سے اندر آتے پایا تو جسیے اس کے جسم میں ڈھیڑوں خون بھر گیا ۔

اس کی آنکھوں میں پانی آ گیا کہ لینز تک دھندلا گئے ۔ جسم جیسے اس کی موجودگی سے ہی بے دم ہو گیا جیسے وہ اب اسے خود ہی سنبھال لے گا ۔ پوری جان سے اٹھتے وہ جیسے بھاگنے کے انداز میں بیڈ سے اتری ۔

مقابل احسام کو تو اس کی یہ حالت دیکھ کر اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہوا ۔ جسے وہ اپنی پناہوں میں بھی محبت میں رکھتا تھا اس کو ایک انچ بھی تکلیف نہیں ہونے دی وہ اس کے سامنے کس حال میں تهی ! اسے اتنی دیر ہو گئ آنے میں ؟ اس کی حالت غیر ہو رہی تھی اس کہ بیوی کی یہ حالت ؟

” ا۔۔۔ ح ۔۔ سام ” لڑکھراتے وہ اس کی طرف بڑھی تھی اس سے پہلے وہ گر جاتی اس نے جلدی سے آگے بڑھ کر اسے اپنی بازووں میں بڑھ لیا ۔ اور زور سے سینے میں بھینچ لیا ۔

” اح ۔۔۔ سام ۔۔۔ کیوں ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ آ ۔۔ رہے تھے ۔۔۔ کیوں نہیں ۔۔۔۔ جلدی ۔۔۔ آ رہے تھے ۔۔۔ کیوں ” اس کے سینے میں پوری زور سے لگے وہ زور زور سے روتے ہچکیوں سے بول رہی تھی ۔

” ایم ۔۔۔۔ سوری ۔۔ میری جان ” اس کو خود میں بھینچے وہ خود تڑپ گیا تھا ۔ آنکھوں میں پانی آگیا تھا ۔

اس کو خود میں سماتے خوفناک نگاہوں سے نیاز کھوکھر کو دیکھا جو آرمی اہلکاروں کے نشانے پر ڈرا ہوا کھڑا تھا ۔ اب اسے موت ہی نظر آ رہی تھی ۔

تبھی یونیفارم میں وھاب کھوکھر اندر داخل ہوا ۔ اور نفرت سے اپنے باپ کو دیکھا ۔ اسے نہیں علم تھا کہ اس کا باپ اس حد تک گر سکتا تھا ۔

” مسٹر شاہ ۔۔۔۔ آپ مسز کو لے کر گھر جائیے ۔۔۔ ان کا انجام ہم پر چھوڑ دیں ” احسام شاہ کی آنکھوں میں خون اترتا دیکھ کر وھاب نے تحمل انداز سے کہا ۔

احسام شاہ نے اسی خون آشام نگاہوں سے اسے دیکھا ۔ وہ تو بھسم کر دینا چاہتا تھا نیاز کھوکھر کو جس نے ایک دفعہ پھر ان کی عزت پر نگاہ رکھی تھی ۔

” بھائی پلیز ۔۔۔ قانون کو ہاتھوں میں نہیں لے سکتے ہیں ۔۔۔۔ پلیز سمجھیں ۔۔۔ بھابھی کی کنڈیشن ایسی نہیں ہے کہ یہاں زیادہ دیر کے لیے رکیں ۔۔۔ پلیز گھر جائیں ” وھاب اس کے سامنے منت کر رہا تھا ساتھ میں اس کا دھیان ماہم کی طرف دلایا جو اب بھی اس کے سینے سے لگی لرز رہی تھی ۔

احسام نے اسے ایک دفعہ پھر اپنے سینے میں بھینچا تھا .

” خدا قسم ۔۔۔۔ اگر تم نے اپنا باپ سمجھ کر کوئی عنایت کی یا ڈھیل دی ۔۔۔۔ تو یاد رکھنا ۔۔۔ احسام شاہ ایسا بدلہ لے گا ۔۔۔ کہ تمہارے باپ کی بوٹیاں بھی تمہیں نہیں ملیں گی ” خون خوار نگاہوں سے نیاز کھوکھر کو دیکھتے دانتوں کو چبا چبا کر کہا ۔

” بے فکر رہیے مسٹر شاہ ۔۔۔۔ میرا باپ اب دنیا میں نہیں رہا ۔۔۔۔ اور سامنے کھڑا انسان مجرم ہے ۔۔۔۔ جسے سخت سے سخت سزا میں خود دلواؤں گا ۔ ” سرد نگاہوں سے اور سرد لہجے میں احسام شاہ کو دیکھتے جواب دیا ۔ اس کا دل بھی نہیں کیا تھا کہ ایک دفعہ مڑ کر اپنے باپ کو دیکھے ۔

احسام نے ایک تائیدی نظر وھاب پر ڈالی اور ماہم کو اپنی باہوں میں بھرا اور باہر کا رخ کیا ۔ ماہم اس کی باہوں میں جھول گئ تھی ۔ اب اسے ہوش نہیں تھا کیونکہ اس کے ہوش کی حفاظت کرنے والا اس کا محافظ اس کے پاس تها اور وہ اس کی پناہوں میں محفوظ تھی ۔

” و۔۔۔ھاب ۔۔۔ بی ۔۔ بیٹا ۔۔۔ میں ۔۔باپ ہوں تمہارا ” وھاج کو کمرے سے باہر کی طرف بڑھتے دیکھ کر وہ بوکھلاتے بولا ۔ خوف اس کی آنکھوں میں تها ۔

” زبیر ” وھاب نے سختی سے پکارا کہ ایک اہلکار فوراً سے آگے ہوا ۔

” مجھے ایک بھی شور کی آواز نا آئے ۔۔۔ اگر چلانے کی کوشش کرے تو زبان کاٹ دینا ۔۔۔ ” بنا پلٹے وہ حکم دیتا تن فن کرتا کمرے سے نکل گیا ۔

پیچھے نیاز کھوکھر اپنے قریب موت کو منڈلاتا دیکھ رہا تھا ۔

😉😉😉

ارم سبکتگین نے لرزتے ہاتھوں سے دروازہ کھولا ۔ اور اندر قدم رکھا ۔ سبکتگین سے اس وقت خوف محسوس ہو رہا تھا ۔ اسی خوف سے اس کا جسم ٹھنڈا ہو رہا تھا ۔ گلہ تر کرتے اندر قدم بڑھایا اور دروازہ بند کیا ۔

سامنے ہی کھڑکی کے پاس پشت پر ہاتھ باندھے کھڑے تھے ۔

گلہ دوبارہ تر کرتے وہ بیڈ کی طرف قدم لیتی کھڑی ہو گئیں ۔

” کیوں گئی تھیں آپ شاہ حویلی ؟ ” بنا پلٹے پوچھا ۔ لہجہ انتہائی سرد تھا ۔

ارم سبکتگین نے ہاتھوں کو مسلا ۔ وہ نروس ہو گئ تھیں . وہ کیا جواب دیں اب اس سوال کا ۔

” کچھ پوچھا ہے آپ سے ارم ! ” پلٹ کر اسی سرد لہجے میں دوبارہ دریافت کیا ۔

” مجھے لگا ۔۔۔ کہ ۔۔۔ انہیں ۔۔۔ علم ہونا چاہیے ۔۔۔ کہ ۔۔۔ ان کی حویلی کی بیٹی ۔۔۔ میرے بیٹے سے ۔۔۔ بیاہی ہے ” سر جھکائے ہکلاتے جواب دیا ۔

” اس کی کیا ضرورت تھی !؟ ” پھر سے سوال کیا ۔

” مجھے ۔۔۔ لگا ۔۔۔ ان کو پتہ ہو ۔۔۔ نا چاہیے ” زرا سی نظریں اٹھا کر کہا اور چہرہ پھر جھکا لیا ۔

” کیا پتہ ہونا چاہیے؟ کیا جب آپ کو ونی کیا گیا تھا یوسف شاہ کے کیے گئے قتل میں … تو کیا اب تک کوئی ناطہ رکھا یا رشتہ بنایا ؟ ” لہجے میں کاٹ تھی ۔

” سبکتگین ۔۔۔ میں بس بتانا چاہتی تھی ” اپنی بات کو کلئیر کرنا چاہا ۔

” نہیں ارم ۔۔ آپ کو در اصل موقع ملا تھا اتنے سالوں کی فرسٹیشن نکالنے کا. ۔۔ آپ کو موقع مل گیا تھا فرحین کو تکلیف دینے کا ۔۔۔۔ کیونکہ ایک وہی تو ہے ۔۔۔ جسے آپ اپنی ۔۔۔ خوشیوں کا قاتل سمجھتی ہیں ” غصے سے ارم کے جھکے سر کو دیکھتے کہا کہ وہ اپنی جگہ سٹپٹا گئ ۔ یہی تو حقیقت تھی ۔وہ یہی تو کرنے گئ تھیں ۔

” آپ جانتی ہیں ارم ۔۔۔ میں نے اس دن کے بعد سے فرحین کو سوچا نہیں چاہا بھی نہیں جس دن آپ نے مجھے شوہر مانا تھا ” ان کے قریب کچھ قدم رک کر سبکتگین نے رنجیدگی سے کہا کہ ارم نے جھٹکے سے سر اٹھایا .

” میں آپ کے ساتھ ۔۔۔ اپنی فیملی بنانا چاہتا تھا ۔۔۔ بتانا چاہتا تھا کہ ونی میں آئی لڑکی بھی ایک عام لڑکی ہوتی ہے جس سے محبت کی جا سکتی ہے ۔۔ آپ کو بیوی بنانا چاہتا تھا ۔۔۔ آپ کے حقوق پورے کرنا چاہتا تھا ” آواز میں بے بسی تھی درد تھا ۔

” تو ۔۔۔ کیوں ۔۔۔ پاس نہیں ۔۔۔ آئے ” ارم کے گلے میں جیسے آواز اٹک رہی تھی ۔ یہ بات اب کیوں کھل رہی تھی ۔

” میں سچ تو بتا دوں لیکن آپ نے جو حویلی جا کر ان سب کو تکلیف دی ہے ۔۔۔ اس کا کفارا کون ادا کرے گا ؟ ” پھر سے افسردگی سے پوچھا جیسے ارم کی حرکت نے انہیں تکلیف دی تھی ۔

” سبکتگین ۔۔۔ مجھ سے شئیر کریں ۔۔۔ خدارا تیس سال سے ۔۔۔ آپ کے ساتھ ہوں ۔۔۔ میں آج بھی ۔۔۔ پاک ہوں ۔۔۔ پلیز مجھے سچ بتا دیں ۔۔۔ ایسا کوئی لمحہ نہیں ہے جب ۔۔ مجھے یہ احساس نہیں ہوا کہ میری اپنی ۔۔۔ کوکھ میں کچھ نہیں ” سبکتگین کے آگے ہاتھ جوڑتی وہ رو دی تھیں ۔

اس کو روتا دیکھ کر وہ الماری کی طرف بڑھے اور اس میں سے ایک فائل نکالی جسے انہوں نے تیس سال پہلے چھپایا تھا اور آج تک اس کے اندر کی حقیقت واضح نہیں ہونے دی تھی ۔

ارم نا سمجھی سے اس فائل کو ان کے ہاتھوں میں دیکھ رہی تھی ۔

سبکتگین نے گہرا سانس لیا اور پلٹے اور درد بھری نگاہوں سے ان کے ہاتھوں میں فائل دے دی ۔

” یہ ۔۔۔ کیا ہے ؟ ” ارم نے سوال کیا ۔

” دیکھو ” سبکتگین نے جواب دیا ۔

ارم نے فائل کھولی تو سامنے کچھ رپورٹس تھیں ۔

ارم نے جب رپورٹس پڑھیں تو جیسے پیڑوں سے زمین کھسک گئی ۔ آنکھیں وہیں منجمد ہو گئیں ۔

” کہتے ہیں ۔۔ اولاد مرد کے نصیب سے ہوتی ہے اور دولت عورت کے نصیب سے ۔۔۔۔۔ آپ نے اپنے نصیب سے دولت تو دے دی ۔۔۔لیکن ۔۔۔۔۔ میں آپ کے نصیب میں ۔۔۔ اولاد نہیں دے سکا ارم ۔۔۔۔ میں باپ بن ہی نہیں سکتا کبھی ” ان کے ٹھہرے ہوئے الفاظ درد کی شدت لیے ہوئے تھے ۔

ارم سبکتگین نے حیران بے یقین نگاہوں سے سبکتگین کو دیکھا ۔

” آپ کو حق دے دیتا ۔۔۔ لیکن اس کا فائدہ نہیں تھا. ۔ مجھ میں اتنی ہمت نہیں تھی ۔۔۔ کہ یہ بات آپ کو بتاتا ۔۔۔۔ میری انا میرے سامنے تھی ۔۔۔ میرا خاندان سامنے تھا ۔۔۔۔ نہیں ہمت تهی کہ میں ۔۔۔ اپنا فالٹ بتاتا ۔۔۔ اسی لیے ۔۔۔ آپ کو اس تکلیف سے گزارا ۔۔۔ خود سے دور رکھا ۔۔۔ اور یہ زندگی بھر کا پچھتاوا تھا ۔۔۔ جو مجھے آج تک چین کی نیند نہیں لینے دے سکا ۔۔۔۔ پلیز مجھے معاف کر دو ارم ” سبکتگین نے روتے ہوئے ان کے سامنے ہاتھ جوڑ لیے

ان کی بے بسی ان کا پچھتاوا جیسے زبان بن گیا تھا ۔

ارم ہق دق انہیں دیکھ رہی تھی تھی ۔ کبھی سبکتگین کے ہاتھوں کو کبھی جھکے سر کو۔

” بس ۔۔۔ کریں …. بتاتے تو ۔۔۔ کوئی نا ۔۔۔ کوئی حل نکل ہی آتا ۔۔۔۔ یہ کیا کیا آپ نے ۔۔۔ اتنی بڑی بات چھپائی آپ نے ” ان کے ہاتھوں کو پکڑتے وہ بھی رو دی تھی ۔

” میں ساری زندگی فرحین کو برا بھلا کہتی رہی ۔۔۔ اسے کوستی رہی کہ اس کی وجہ سے ۔۔۔مجھے یہاں بھی سکون نہیں ملا ۔۔۔ مجھے ایک بٹا ہوا شخص ملا ۔۔۔

آپ نا چھپاتے سبکتگین ۔۔۔بلکل نا چھپاتے ۔۔۔ یہ کیا کیا آپ نے ! … میں اسے بہت بڑی تکلیف دے آئی ہوں ۔۔۔ بہت زیادہ ۔۔۔ اس. حویلی کے لوگوں میں ذلیل کیا ہے میں نے اسے ۔۔۔۔ آپ مجھے بتا دیتے ” وہ روتے ہوئے انہی کے ہاتھوں پر سر رکھ گئ ۔

دونو اپنی جگہ رو رہے تھے ۔ دونوں شدت سے پچھتاوے میں گرے ہوئے تھے ۔ دونوں کی حالت ایک تھی ۔ آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔ دل پھٹنے کے مقابل تھا ۔

” مجھے معاف کر دیں ارم ” ان کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لیتے بہت شرمندگی سے کہا ۔

وہ کیا ان سے گلہ رکھتی جب یہ کھیل ہی قسمت کا تھا ۔ بس ایک یہی تو حق تھا جو نہیں دیا تھا سبکتگین نے ورنہ کتنی حسین زندگی دی تھی ان تیس سالوں میں وہ ان کی وفا میں رہی تھیں ۔ سبکتگین نے ان کے علاوہ کسی اور عورت کو دیکھا تک نہیں تھا ۔ ایک ایک مہینہ گھر سے باہر دور جگہ رہنے کے باوجود وہ ارم کے ساتھ وفا نبھاتے رہے تھے ۔ ہر آسائش دی تھی ۔

اولاد نا ہونا تو قسمت تھی ان کی ” بس سبکتگین ۔۔۔ بس کریں ۔۔۔ آپ نا روئیں ۔۔۔ میں نے ہمیشہ آپ کے چوڑے شانوں کی سلامتی مانگی ہے ۔۔۔ ایسے نا روئیں. ۔۔ آپ کی شرمندگی میری وفاداری کی توہین ہے ” ان کے ہاتھوں کو دل سے لگاتے وہ روتے ہوئے منع کر رہی تھیں ۔

سبکتگین نے بڑے حق سے محبت سے ارم کو سینے سے لگا لیا کہ وہ ان کے ہی سینے میں چہرہ دے گئیں ۔

دونوں کے آنسو آنکھوں سے رواں دواں تھے ۔

“بس معاف کر دو ۔۔۔ میں ہمت ہی نا کر سکا ” ان کو سینے سے لگائے سبکتگین پھر سے شرمندہ ہوئے تھے ۔

” نہیں. ۔ بس کریں ۔۔۔ میرے خیال سے مجھے حویلی جا کر معافی مانگنی چاہیے ۔۔۔ ” اپنے آنسو صاف کرتے ارم سبکتگین نے کہا ۔

” مجھے نہیں ۔۔۔۔ ہمیں جانا چاہیے ۔۔۔۔ یقیناً عنابیہ اس حویلی میں دوبارہ نہیں گئ ہو گی ۔۔۔ اور سہیلہ ماں ہے اس کی ۔۔۔ کیا بیتا ہو گا اس کے دل پر ! جیسے بھی وہ بچی آئی ہے ہمارے گھر بعد میں ڈسکس کریں گے ۔۔۔۔ لیکن ابھی ہمیں جانا چاہیے ” ارم کے کندھوں سے بازو گزارتے سنجیدگی سے کہا ۔

” صحیح کہہ رہے ہیں آپ ” مسکرا کر انہیں دیکھتے کہا تو وہ بھی مسکرا دیے اور پیار سے ان کے ماتھے پر بوسہ دیا ۔ تو وہ آسودگی سے مسکرا دیں ۔ کتنا سکون ہوتا ہے اس لمس میں وہ جانتی تھی کیونکہ وہ رات جب سبکتگین گھر آتے تھے تو وہ ویسا ہی سکون اس رات اپنی نیند میں پاتی اور صبح اٹھنے پر ان کے ماتھے پر وہی لمس جیسے قائم ہوتا ۔

یہی کچھ چھوٹے چھوٹے احساسات تھے جس نے ارم سبکتگین کو ساری عمر کے لیے سبکتگین ھاشمی کا پابند اور وفادار کر دیا تھا ۔

Read Best Urdu Novel 2022, saiyaan , Urdu novel at this website for more Online Urdu Novels and afsany that are based on different kind of content and stories visit this website and page Novelsnagri ebook. Visit to my channel for more New novels.

https://youtube.com/channel/UCKFUa8ZxydlO_-fwhd_UIoA

Leave a Comment

Your email address will not be published.