Web Special Novel, haveli based novel , saiyaan, Best Urdu Novel 2022

Best Urdu Novel 2022 | saiyaan | 3rd last Ep | Bisma Bhatti Novels

Best Urdu Novel 2022 | saiyaan | 3rd last Ep | Bisma Bhatti Novels

 

Love is the many emotions that expression affection and care. Honestly, responsibility and trust constitute Love. It is a feeling that everybody years for as its make them feel happy and vital.

 

An online platform created just for Best Urdu Novel 2022 lovers, where they can easily find PDF copies of Urdu novels, haveli based novel 2022 and can download Pdf books free of cost.

 

#سائیاں

#از_قلم_بسما_بھٹی

#3rd_last_episode

 

💘
💘💘

 

 

” میں چھوڑ دوں ! ” احسام اس کے ساتھ باہر آتا بولا ۔

ماہم نے گلاسز کے اندر سے گردن موڑ کر دیکھا جو آج ضرورت سے زیادہ حسین لگ رہا تھا ۔

” نہیں ۔۔ آپ لیٹ ہو جائیں گے ” داخلی دروازے سے باہر نکلتے وہ اپنی آنکھوں کا رخ بدل گئی تھی ۔ شک تھا کہ کہیں اس کی اپنی نظر ہی نا لگ جائے ۔

احسام نے اس کے رخ پھیرنے پر جھٹکے سے اس کی کمر سے ہکڑ کر اپنے قریب کیا ۔

وہ اس اچانک حملے پر بوکھلا گئی ۔ اس کے کندھوں کو مضبوطی سے تھاما ۔

” اتنی حسین کیوں لگ رہی ہو آج ! ” اس گلاسز لگی آنکھوں میں دیکھتے پیار سے پوچھا ۔

” یہی سوال میرا ہے مسٹر احسام شاہ ” اس کے دل کے مقام پر اپنا نام لکھتے مسکرا کر پوچھا ۔

” میرے پاس ہی رہ جاؤ ۔۔۔ دل نہیں کر رہا کہ تمھیں جانے دوں ” اس کے گلابی رخسار پر اپنی انگلی پھیرتے کہا ۔ آج وہ دوپٹے کے حالے میں ایک چمکتا چاند لگ رہی تھی ۔

” زرا دل میں جھانکے ۔۔ میں تو پاس ہی ہوں ” اس کی ناک سے اپنی ناک رب کرتے کہا ۔ احسام نے محبت لٹاتی نگاهوں سے اسے دیکھا ۔

وہ ہسن دی اور بہت پیار سے اس کے ماتھے پر پیار کیا ۔

” اچھا یہ لو ۔۔۔ یہ ائیر پوڈز ہیں ” احسام نے اسے اپنے حصار میں لیے ہی ہاکٹ سے ایک چھوٹی ڈبی نکال کر اسے دی ۔

” یہ بیت یونیک ہیں ۔۔۔ میں نے آج تک ایسے کبھی نہیں دیکھے ” وہ ایک ہاتھ میں لیتی اشتیاق سے بولی ۔

” اس میں سینسر اور ڈیٹیکٹو چیپ ہے ۔۔۔ تمہارے کام آئے گی ۔۔ کیونکہ اکثر وکیلوں کے لیے ان کا شعبہ خطرے میں پڑ جاتا ہے تو ایسی صورتِ حال میں یہ موجود ہوں تو فوراً امداد ملنے میں آسانی ہوتی ” اس کو تفصیل سے جواب دیا ۔

” میرق پہلا د ہے مجھ پر کیا خطرہ ؟ ” وہ اس کی لوجک کو بنا سمجھے بولی ۔

” مسز احسام شاہ ۔۔۔ میرا دل کسی بھی وقت آپ کے قریب آمے کا کرے گا ۔۔۔ تو کم سے کم مجھے آپ سے ہوچھنا نہیں پڑے گا کہ کہاں ہیں آپ. ” اس کے ہاتھ سے ائیر پوڈز لہتے اس کی شرٹ کے گلے کے اندر اٹیچ کرتے کہا ۔

ماہم نے محبت لٹاتی نگاہ سے دیکھا ۔

” اتنی محبت ہو گئ محھ سے ! ” اس کے دل ہر دوبارہ اپنا نام لکھتے پوچھا ۔

” بے حد بے انتہاء ” اس کے ماتھے سے ماتھا جوڑتے کہا ۔

” میرے لیے دعا کرنا ۔۔ آج میرا فرسٹ ڈے ہے ” اس کے سینے سے سر کو لگاتے وہ زرا نروس ہوتے بولی ۔

” احسام شاہ کی بیوی ہو ۔۔۔ ہلنا نہیں یے ۔۔۔ ہلا کر رکھنا ہے سب کو ” اس کو اپنے سینے میں بھینچتے وارفتگی سے کہا ساتھ ہی اس کے کان کی لو بھی دانتوں میں دبائی ۔

” سسسی ۔۔۔ ظالم ” اس کے سینے سے چہرہ اٹھاتے مصنوعی غصے سے کہا ۔

” پہنچ کر کال کرنا ” اس کے گالوں پر پیار کرتے کہا ۔

تو وہ مسکراتی دور ہوئی ۔

وہ بھی اس پر پیار بھری مسکان اچھالتا اپنی گاڑی میں بیٹھا ۔

جب تک اس کی گاڑی شاہ حویلی سے نکل نہیں گئ ماہم نے اپنی گاڑی میں بیٹھنا پسند نہیں کیا ۔ کھڑے ہو کر اسے جاتا دیکھنے لگی اور دعاؤں کا ساتھ بھیجا ۔ وہ شخص اس کی رگِ جاں سے بھی زیادہ عزیز ہو گیا تھا ۔ اس کی سلامتی کی دعائیں اب اس کے لبوں پر ہر وقت رہتی تھیں ۔

اس کے جاتے ہی وہ اپنی گاڑی میں بیٹھی ۔ اس کے بیٹھتے ہی ڈرائیور بھی آگے بیٹھ گیا اور گاڑی شاہ حویلی سے باہر نکلی ۔

” نیاز صاحب گاڑی شاہ حویلی سے نکل گئ ہے ۔۔سمجھ لیں لڑکی ایک گھنٹے میں آپ کے کمرے میں ہو گی ” ماہم کی گاڑی کے پیچھے گاڑی لگاتے نیاز کھوکھر کے خاص آدمی نے نیاز کھوکھر کو اطلاع دی ۔

آگے سے شاباشی ملنے پر وہ فون کان سے ہٹاتا اب اپنے ساتھ والے آدمی کو بڑے دھیان سے اس گاڑی کا تعاقب کرنے کا کہہ رہا تھا ۔

ان کا ارادہ اس وقت اٹیک کرنے کا تها جب وہ سنسان راستہ آنا تھا ۔ اس سنسان سڑک سے گزر کر ہی آگے شہر کی آبادی آنی تھی ۔ اور اس جگہ اٹیک کرنے کا موقع بہترین تھا ۔

سنسان سڑک پر جب ماہم کی گاڑی آئی تو ایک دم سے اس کی گاڑی لڑکھڑائی ۔

ڈرائیور نے بہت مشکل سے گاڑی کو سنبھالا ورنہ وہ بری طرح سے الٹ کر سامنے درخت میں لگ کر بلاسٹ ہو سکتی تھی .

” کیا ہوا تھا ! ” خود کا سانس بحال کرتے و ہ ڈرائیور سے بولی ۔

” بی بی جی لگتا ہے ۔۔ ٹائر پنکچر ہوئے ہیں ” ڈرائیور پریشانی سے بولا اور جلدی سے گاڑی سے نکلا ۔

” اوففف ۔۔۔ یہ کیسے ہو گئے ۔۔۔ جلدی سے گاڑی ارینج کرو ہم شاہ حویلی سے اتنے بھی دور نہیں ” ماہم نے موبائل پر وقت دیکھتے کہا ۔ اسے ایک گھنٹے میں پہنچنا تھا ۔

ڈرائیور اب اپنے موبائل سے کسی کو کال ملا رہا تھا تا کہ فوراً دوسری گاڑی حویلی سے لائ جا سکے ۔

ابهى کال ملی نہیں تھی کہ کہیں سے اس کی گردن پر سائلنسر سے گولی آ کر لگی اور ڈرائیور شہہ رگ دبنے پر فوراً ہی لڑکھڑا کر زمین پر گرا ۔

گرنے کی آواز پر ماہم باہر نکلی تو اس کے اوسان خطا ہو گئے کیونکہ سامنے ہی ڈرائیور گرا ہوا تھا اور اس کی گردن سے خون ابل ابل کر نکل رہا تھا ۔

وہ بری طرح سے خوفزدہ ہو گئ ۔

” اح ۔۔۔ احسام ” احسام کا چہرہ اس کی آنکھوں میں لہرایا ۔ اس نے جلدی سے احسام کے نمبر پر کال ملائی ۔

کال جا رہی تھی ۔ کہ اچانک اسے اپنے پیچھے محسوس ہوا جیسے کوئی آ کر رکا ہو ۔

وہ جھٹکے سے مڑی ۔ موبائل پر کال آن کر لی گئی تھی ۔

” کون ۔۔ ” ابهى الفاظ اس کے منہ میں تھے کہ سامنے آدمی نے اس کے منہ پر رومال رکھا ۔ وہ جھٹپٹائی اور اسی چکر میں موبائل ہاتھ سے گر گیا لیکن کال بند نہیں ہوئی ۔

دو سیکنڈز کا کھیل تها کہ وہ اس آدمی کے بازو میں جھول گئ ۔

” چل ڈال اس کو گاڑی میں ۔۔۔ آج صاحب تو بہت خوش ہوں گے مجھ سے ” نیاز کھوکھر کا آدمی بڑی خوشی سے بولا اسے اپنا انعام نظر آ رہا تھا ۔

لیکن اس کی قسمت ایسی تھی کہ پاس نیچے گرے موبائل پر دھیان نا دے سکا جہاں احسام شاہ کے کانوں تک اس کی آواز پینچ چکی تھی ۔

______

احسام ڈرائیو کر رہا تھا کہ اسے ماہم کی کال آیی ۔ اسے حیرت ہوئی کہ اتنی جلدی کیسے کورٹس پہنچ گئ ۔ لیکن پھر مسکرا کر کال آن کی ۔

” یس مای ڈارلنک ” مسکرا کر جواب دیا لیکن آگے سے جواب نہیں آیا لیکن کچھ ہلچل سی محسوس ہوئی اسے ۔

” ماہی ۔۔۔ میری آواز کی اڈیکٹ ہو گئ کیا ! ” اس کے نا بولنے پر وہ پھر مسکرا کر بولا ۔

“کون ۔۔۔ ” ماہم کی خوفزدہ آواز ابھر کر معدوم ہوئی ۔

احسام کو کچھ عجیب لگا ۔ اس نے کان سے ہٹا کر موبائل دیکھا پھر موبائل کان سے لگایا ۔

” چل ڈال اس کو گاڑی میں ۔۔۔ آج صاحب تو بہت خوش ہوں گے مجھ سے ” تبھی اس کے کانوں میں جو الفاظ ادا ہوئے احسام کی گاڑی چڑچڑ کی آواز سے روڈ پر رکی ۔

” ماہم ۔۔۔ ماہی ۔۔۔ تم ٹھیک ہو ! ” جو الفاظ اس کے کانوں میں پڑے تھے وہ اس کی روح کو ہلا کر رکھنے کے لیے کافی تھی ۔

وہ مسلسل بول رہا تھا لیکن آگے سے جواب نہیں مل رہا تھا ۔

اس نے اضطرابی کیفیت میں کال کٹ کر کے دوبارہ ملائی لیکن کال نہیں اٹھائی گئ ۔

” ماہم ” اس کو لگا جیسے اس کا دل کوئی مٹھی میں لے کر کرچی کرچی کرنے کے ارادے سے اپنی بند مٹھی میں دباؤ دے رہا ہے ۔

اسے اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہوا. ۔ لیکن اس وقت اسے ہوش سے کام لینا تھا ۔

ایک جھٹکے سے گاڑی ریورس کرتے واپس موڑی ۔ دوسرے ہاتھ سے ایک نمبر ڈائل کیا ۔

 جس نے بھی احسام شاہ کی بیوی پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت کی تهی یقیناً اب اس کے ہاتھ سلامت نہیں رہنے والے تھے اور سج کے حکم سے کیے تھے وہ تو پکا اس دنیا سے بلوک ہونے کے لیے تیار پیس تھا ۔

💘💘💘

” ڈیڈ “قمر سیڑھیوں سے ہی آواز دیتا سبکتگین کی طرف جوش سے بھاگنے کے انداز میں بڑھا ۔

” او مائی سن ” وہ اس کی آواز پر صوفے سے اٹھتے اس کی طرف باہیں پھیلا گئے ۔

قمر پورے جوش سے ان کے سینے سے لگا ۔

” مسڈ یو آ لوٹ ” ان کے سینے سے لگے وہ آسودگی سے بولا ۔

” سیم ہئیر مائی سن ” اس کی کمر پر تھپکی دیتے مسکرا کر کہا ۔

“آپ مجھے بتا دیتے میں ائیرپورٹ آ جاتا ” ان سے الگ ہوتا بولا ۔

” اگر بتا دیتا تو تمہیں اتنا خوش نا دیکھ پاتا ” ہنستے ہوئے وہ صوفے پر بیٹھ گئے ۔

قمر بھی مسکراتا ان کے ساتھ بیٹھ گیا ۔

” اسلام علیکم ” تبھی عنابیہ کی آواز نے دونوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ۔

سبکتگین نے سر گھما کر آواز کی سمت دیکھا جہاں سفید کلیوں والے فراک میں سر پر شال اوڑھے خوبصورت لڑکی کھڑی تهی ۔ جس کا چہرہ کسی کے چہرے سے مماثلت رکھتا تھا ۔

” و علیکم اسلام ۔۔۔ یہ کون ہے ! ” سبکتگین نے قمر کو دیکھا ۔

قمر نے سر جھکایا اور گہرا سانس لیا ۔

” یہ ۔۔۔ڈیڈ ۔۔۔ میری بیوی ہے ۔۔۔ عنابیہ ” قمر نے ہاتھوں کو مسلتے بڑی دلیری سے جواب دیا ۔

سبکتگین نے جھٹکے سے قمر کو دیکھا ۔ ایک پل میں انہیں لگا کہ ان کا بیٹا ان سے مزاق کر رہا ہے لیکن یہاں ان کا بیٹا چہرے پر سنجیدگی لیے بول رہا تھا ۔ سپاٹ چہرہ بتا رہا تھا کہ ان کا بیٹا مزاق نہیں کر رہا بلکہ سچ میں سامنے کھڑی لڑکی اس کی بیوی ہے ۔

” تمہارا دماغ ٹھیک ہے قمر ؟ ۔۔۔ بیوی ؟ ۔۔ کہاں سے آئی ؟ ۔۔ کب کی شادی تم نے ؟ اور میں کہاں ہوں ان سب میں ! ” وہ قمر کو دیکھتے غصے سے بولے تھے ۔

عنابیہ نے سر جھکا لیا تھا ۔ اس کا دل خوفزدہ ہو گیا تھا ۔ نہیں علم تھا کہ اب اس کے ساتھ کیا سلوک ہو گا ۔ قمر کا باپ اسے تسلیم کرے گا بھی یا نہیں ۔ اگر تسلیم نا کیا تو ؟ وہ کھڑے کھرے پریشان ہو چکی تھی ۔ اس کی زات ایک بار پھر ایک موضوع بنی تھی ۔

” ڈیڈ میں بتاتا ہوں آپ کو ۔۔۔ اس وقت حالات ہی کچھ ایسے تهے کہ مجھے نکاح کرنا پڑا ” قمر گہرا سانس لیتے رسان سے بولا ۔

” ارم کہاں یے ؟ ۔۔ انہیں پتہ ہے اس سب کا ؟ مجھے لا علم رکھا ہوا اس سب سے ؟ کب سے میں نہیں جانتا یہ حقیقت ! ” سبکتگین جتنا حیران ہوتے اتنا کم تھا ۔ اچانک ان کو بیٹے کی شادی کی خبر ملے گی تو وہ کوئی خوشی سے قبول تو نہیں کر لیں گے ۔

” امی بھی انجان تھی آپ کی طرح لیکن اب وہ بے خبر نہیں ” قمر نے دوبارہ سنجیدگی سے کہا ۔

” اسلام علیکم ۔۔۔ آپ نے بتایا ہی نہیں کہ آپ آ رہے ہیں ” تبھی ارم سبکتگین کی آواز لاؤنج میں گونجی ۔

وہ اپنے کمرے سے نکلتی مسکراتی لاؤنج کی طرف آئیں تھی ۔

لیکن ان کی مسکراہٹ سمٹ گئی جب وہاں سبکتگین کا سپاٹ چہرہ دیکھا ، قمر کا جھکا ہوا سر آنکھوں کے سامنے تھا ۔ وہ یقیناً صورتِحال نا سمجھ پاتیں اگر ان کی نظر پاس کھڑی عنابیہ پر نا جاتی ۔

انہوں نے گہرا سانس لیا ۔ یعنی سبکتگین کو علم ہو گیا تھا کہ قمر کی شادی ہو چکی ہے ۔

” آپ جانتی تھیں اس بارے میں ارم ؟؟؟ ” سبکتگین کی رعبدار آواز لاؤنج میں گونجی ۔

” جی” ارم سبکتگین نے گہرا سانس لیتے جواب دیا ۔

” تو مجھے آپ نے بتایا کیوں نہیں ؟ ایسی کون سی آفت آ گئی تھی جو ایسے مجھے بتائے بغیر شادی رچانی پڑی ؟ کیوں لا علم رکھا آپ نے مجھے ارم ؟ جواب چاہیے ! ” وہ سرد لہجے میں ارم سبکتگین سے سوال کر رہے تھے ۔

” پہلے یہ جان لیں ۔۔۔ کہ یہ لڑکی ہے کہاں سے ! ” قمر کے ساتھ کچھ فاصلے پر بیٹھتے وہ سبکتگین کے سامنے تھی ۔

سبکتگین نے عنابیہ کو دیکھا جو نظریں جھکائے کھڑی تھی ۔ اس وقت وہ ایک مجرم ہی لگ رہی تھی ۔

” کہاں سے ؟ ” اس کے چہرے کی شباہت کو سوچتے وہ بولے ۔

” شاہ حویلی سے ۔۔۔ ونی میں آئی ہے ” ارم سبکتگین کا لہجہ ہتک آمیز تھا ۔

قمر نے مٹھیاں بھینچ لیں وہیں عنابیہ نے اپنی آنکھوں کو زور سے بند کر لیا ۔ اپنے لیے ونی لفظ سننا کتنا تکلیف دہ تھا شائد وہ یہ بات واضح کر پاتی ۔

سبکتگین نے جھٹکے سے ارم کو دیکھا ۔ جو سنجیدہ چہرے سے انہیں ہی دیکھ رہی تھی ۔

” نہیں ۔۔۔ آپ مزاق کر رہی ہیں ؟ ۔۔۔ شاہ ۔۔۔ حویلی سے ؟؟؟ یہ کیسا مزاق ہے ! ” وہ غصے سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ انکا دل بند ہو رہا تھا ۔تاریخ دوہرائی جائے گی انہوں نے ایسا کبھی نہیں سوچا تھا ۔

” سچ ہے یہ ۔۔۔ سہیلہ کی بیٹی ہے ۔۔۔۔ جو کبھی فرحین شاہ کے چھوٹے بیٹے کی منگ تھی ۔۔۔۔ لیکن وہی روایت جس نے ہم سب کو توڑ دیا تھا ۔۔ دوہرا دی گئ یے سبکتگین ۔۔۔ مبارک ہو آپ کو ۔۔۔ آپ کے بیٹے کے حصے میں بھی ۔۔ ایک ونی آئی یے ۔۔۔ ” ارم طنزیہ لہجے میں سبکتگین کے دل پر کاری وار کر رہی تھیں ۔ ایک دفعہ پھر ان کا دل اذیت سے بھر گیا تھا ۔ بیتا ماضی ایک فلم کی طرح ان کی آنکھوں میں آ گیا تھا ۔ سبکتگین کی نا انصافی ان کے دل پر ہتھوڑے کی مانند لگ رہی تھی ۔ وہ چاہ کر بھی طنز کرنے سے خود کو روک نہیں پائی تھیں ۔

سبکتگین نے ڈوبتے دل سے عنابیہ کو دیکھا ۔ فرحین شاہ کے زکر پر دل جیسے بند ہو کر چلا تھا ۔ دھڑکنوں میں آج بھی فرحین شاہ کے نام کا طلاتم برپا ہوا تھا ۔

ساری صورتِ حال کو سمجھنے کے لیے ان کا دماغ جیسے ماؤف ہو گیا ۔

وہ بے یقینی سے عنابیہ اور ارم کو دیکھ رہے تھے ۔

” امی ۔۔۔ آپ دوبارہ یہاں ۔۔۔ ونی کا لفظ عنابیہ کے لیے استعمال نہیں کریں گی ۔۔۔ میری بیوی ہے ۔۔۔ یہ پہچان رکھیں پلیز ” عنابیہ کے کندھوں پر اپنا بازو پھیلا کر اپنے حصار میں لیتے وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں ارم سبکتگین کو دیکھتے بولا ۔

ارم سبکتگین نے اس کا لہجہ نوٹ کیا ۔ وہ بدتمیزی نہیں کر رہا تھا لیکن اس سے بعید بھی نہیں تھا کہ وہ عنابیہ کے حق میں سخت الفاظ بھی بول دے گا ۔

عنابیہ کے گلے میں آنسووں کی گلٹی ابھر کر معدوم ہو رہی تھی ۔ اس مے سختی سے شاال کر مٹھی میں جکڑ لیا ۔

” ڈیڈ ۔۔۔ میری محبت ہے عنابیہ ۔۔۔ میں اسے ایسے نہیں لانا چاہتا تھا اس گھر میں ۔۔۔ لیکن حالات نے اسے اس طرح سے میری زندگی میں شامل کر دیا ہے ۔۔۔ لیکن جو بھی ہے یہ اب میری بیوی ہے ڈیڈ ۔۔۔ قابلِ عزت ہے میرے لیے ۔۔۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ بھی میری اس خوشی کو قبول کریں ۔۔۔ ساری حقیقت آپ کو امی بتا دیں گی ” قمر نے سنجیدگی سے سبکتگین کو دیکھتے کہا ۔

” تم سہیلہ کی بیٹی ہو ؟ ” سبکتگین کی بے یقین سی آواز ابھری ۔

عنابیہ نےزرا سا سر اٹھا کر انہیں دیکھا جو نم آلود نگاهوں سے اسے دیکھ رہے تھے ۔

” ج ۔۔ جی ” تھوک نگلتے سر ہلایا ۔ اسے نہیں علم تھا کہ ماضی کیا ہے لیکن وہ اپنا تعلق اس گھرانے سے بہت پرانا محسوس کر رہی تھی ۔

” تو بیٹا اتنی دور کیوں ہو ۔۔۔ میری چندا کی اتنی پیاری نشانی ہو تم تو ۔۔ ادھر آؤ ” سبکتگین خوشی غم دونوں کے جزبات سے بھرے اس کی طرف بازو کھول گئے ۔

عنابیہ نے نا سمجھی سے انہیں دیکھا ۔ قمر بھی شش و پنج میں مبتلا ہو گیا ۔ ایک دم اس کے ڈیڈ کس کا ذکر کرتے آبدیدہ ہو گئے ۔

” سبکتگین تمہاری ماں کے بھائی ہیں ۔۔۔ رشتے میں تم ان کی بھانجی ہو عنابیہ ” تبھی ارم نے سنجیدگی سے کہا ۔

عنابیہ نے بے یقینی سے سبکتگین کو دیکھا ۔ اس کی ماں اکثر اسے بتاتی تھی کہ اس کے ماموں کس طبیعت کے تھے ۔ وہ کیسے سہیلہ سے پیار کرتے تھے ۔ اپنی ماں کی زبان سے اپنے ماموں کی تعریفیں باتیں سن کر اسے ہمیشہ سے خواہش رہی کہ کاش اس کا بھی بھائی ہوتا لیکن جو خدا کو منظور ۔ لیکن اس کے ہر بار پوچھنے پر سہیلہ بس اتنا کہتی تھی کہ یہ بات ضروری نہیں کہ اب وہ کہاں ہے ۔ اور آج ایک عرصے بعد اپنے سامنے انہیں دیکھ کر وہ عجیب کیفیت میں مبتلا ہو چکی تھی ۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیسا تاثر دے ۔

” آؤ نا بچے ” سبکتگین اسے ہونق بنا دیکھ کر تڑپ کر بولے ۔ مچل رہا تھا ان کا دل اپنے سینے سے لگانے کے لیے ۔

قمر نے عنابیہ کو سہارا دیا کہ وہ جائے ملے ۔

وہ مریل قدم اٹھاتی بڑھتی دھڑکنوں سے ان کے پاس گئ۔

سبکتگین مے آگے ہو کر اسے سینے سے لگا لیا ۔

ایک ممتہ بھرا لمس ایک اپنائیت سے بھری آغوش اس کی آنکھوں نم کر گئ ۔ وہ ان کے سینے ہر سر رکھتے بنا آواز کے رو دی ۔

سبکتگین کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہو گئے ۔

قمر کا دل آسودگی سے بھر آیا ۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ اتنا بڑا راز چھپا ہے اس کے اور عنابیہ کے رشتے کے پیچھے لیکن وہ یہ پہیلی بھی سلجھا ہی لے گا ۔

” ایک عرصہ ہو گیا مجھے میری چندا سے ملے ۔۔۔۔ قسمت نے کتنا دور کر دیا ہمیں ” عنابیہ کا ماتھا چومتے سبکتگین آبدیدہ تھے ۔

” امی ۔۔۔ آپ کا بہت ۔۔۔زکر کرتی تھیں ۔۔۔ بہت ۔۔۔ بہت شوق تھا آپ سے ملنے کا ۔۔۔ مجھے نہیں علم تھا کہ ۔۔۔ قسمت ایسے ملائے گی آپ سے ” عنابیہ اپنی آواز نم ہونے سے روک نہیں پائی تھی ۔

” میری خوش نصیبی ہے یہ کہ میرے بیٹے کی بیوی تم ہو میری سہیلہ کی بیٹی ” سبکتگین مسکرائے تھے ۔ انہیں عنابیہ بلکل سہیلہ کی کاپی لگی تھی ۔

” ارم آپ کھانا لگوائیں ۔۔۔ آج ہم سب بیٹھ کر کھانا اکٹھے کھائیں گے ” عنابیہ کو ایک بازو کے حلقے میں لیتے وہ ارم سے بولے جو اب بھی سپاٹ چہرہ لیے ہوئی تھی ۔

” آپ کو شائد صحیح سے سنا نہیں ۔۔۔ کہ میں نے کیا حقیقت بتائی ہے ۔۔۔ آج تو لڑ لیں کم سے کم اس روایت کے خلاف سبکتگین ۔۔۔ آج اتنے سالوں بعد تاریخ پھر سے دوہرائی گئی ہے ۔۔ پھر سے ایک معصوم کو کسی کی زندگی کی خاطر قربان کیا گیا یے ۔۔۔ آج بھی شاہ حویلی کے لوگوں سے کچھ نہیں کہیں گے ؟ ۔۔۔ حس نے ہم سے سب کچھ چھین لیا ؟ ” وہ سبکتگین کے سامنے آتے کٹر لہجے میں بولی ۔

سبکتگین کا جبڑا تن گیا ۔

” آپ شاہ حویلی گئ تھیں ! ” سبکتگین نے جانچتی نظروں سے پوچھا ۔

ارم کا چہرہ متغیر ہوا ۔ انہیں نہیں علم تھا کہ سبکتگین یہ سوال پوچھیں گے ۔

” وہ ۔۔ ” ارم کو کوئی بات نا بنی۔

” تو آپ وہاں گئ تھیں ۔۔۔ اور یقیناً آپ ۔۔ نے فرحین کو تکلیف پہنچائی ہو گی اپنی باتوں سے ۔۔۔ اپنے اندر کے غبار کو ان پر نکالا ہو گا ” سخت نظریں ارم پر گاڑتے وہ اندر کی بات جان گئے تھے ۔

“سبکتگین ” ارم نے بس اتنا ہی کہا کہ سبکتگین نے ان کے آگے ہاتھ کر کے روک دیا ۔

” کمرے میں آئیں آپ سے بات کرنی ہے ” ٹھوس لہجے میں کہتے وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے ۔

عنابیہ ایک دم اتنے سنجیدہ ماحول پر چپ سی ہو گئی ۔اسے شاہ حویلی کے زکر پر سب لوگ یاد آ گئے ۔ بی جان کی محبت اس کی آنکھیں نم کر گئں ۔

ارم سبکتگین فوراً سے کمرے کیطرف بڑھیں ۔

قمر عنابیہ کے پاس آیا اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔

” میرا نصیب مجھے تھکا رہا ہے قمر ۔۔۔ بہت بری طرح میں تھک رہی ہوں ان سوچوں سے ان باتوں سے جو مجھے اندر ہی اندر کھا رہی ہیں ۔۔۔ سب ٹھیک نہیں ہو رہا ہے ۔۔۔ بس تھکا رہا ہے مجھے ” اس کے سامنے سر جھکاتے وہ بس رو دینے کو تھی ۔

قمر نے مسکرا کر اس کا ہاتھ پکڑا اور صوفے پر بٹھایا اور ساتھ خود بھی بیٹھ گیا ۔

” اللہ تمہاری برداشت کی طاقت کو نہیں آزما تا ۔ وہ تمہارے ایمان کا امتحان لیتا ہے اور انہی کا لیتا ہے جن کو اپنا دوست بنانا چاہتا ہے ۔ اللّٰه کو تمہاری برداشت کی حد معلوم ہے اور اللّٰه کبھی تمہیں اس حد سے زیادہ غم نہیں دے گا ۔ تمہیں لگتا ہے اب ہم تھک گئے ہیں مگر تھکا تمہارا ایمان نہیں ، بس حوصلہ گھبرا جا تا ہے ۔ جب اللّٰه کن کہتا ہے تو ناممکن ممکن بن جا تا ہے اور دعائیں مقدر پہ بھاری پڑ جاتی ہیں ۔۔۔ تم تھک کیوں رہی ہو ۔۔۔ جب تمہین حوصلہ دینے کے لیے مجھے محافظ بنایا ہے اللّٰه نے ۔۔۔ اللّٰه کے بعد مجھ پر یقین رکھو ” اس کے ہاتھ کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں لیے وہ عنابیہ کو مسکرانے پر مجبور کر گیا تھا ۔

” ایسے کیا دیکھ رہی ہو ! ” اسے مسکراتے اپنی طرف دیکھتے پوچھا .

” یہ سوچ رہی ہوں کہ میرا ایسا کون سا عمل تھا جو میرے اللّٰه کو پسند آ گیا اور مجھے آپ مل گئے ! ” مسکراتی آنکھیں اس کے چہرے پر ٹکی تھیں ۔

” ہم دونوں ہی ایک دوسرے کے نصیب میں آئے ہیں ۔۔۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ آپ سے میں نے بے پناہ محبت کی ہے اور آپ کو میں نے دعاؤں میں مانگا یے ۔۔۔ یہ میری دعاؤں کا نتیجہ ہے کہ میں آپ کا ہوا ہوں ۔۔۔ ورنہ اس حسین پری کو کوئی اور بھی چرا کر لے جا سکتا تھا ” اس کو ہنسانے کی غرض سے وہ لطیف سا مزاح کر گیا کہ و ہ اس کی بات پر ہنستے سر جھکا گئ۔

یہ شخص اسے دن بدن خود سے محبت کرنے پر مجبور کر رہا تھا ۔

تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں مرے دل سے بوجھ اتار دو

میں بہت دنوں سے اداس ہوں مجھے کوئی شام ادھار دو

مجھے اپنے روپ کی دھوپ دو کہ چمک سکیں مرے خال و خد

مجھے اپنے رنگ میں رنگ دو مرے سارے رنگ اتار دو

کسی اور کو مرے حال سے نہ غرض ہے کوئی نہ واسطہ

میں بکھرگیا ہوں سمیٹ لو میں بگڑ گیا ہوں سنوار دو

💘💘💘

Read Best Urdu Novel 2022, saiyaan , Urdu novel at this website for more Online Urdu Novels and afsany that are based on different kind of content and stories visit this website and page Novelsnagri ebook. Visit to my channel for more New novels.

Leave a Comment

Your email address will not be published.