Eid special romantic novel,

Eid special romantic novel

Eid special romantic novel, Novelsnagri is a platform where all kinds of novels are presented to you online urdu novels readings, full pdf novels.

Eid special romantic novel,

 

لاحاصل عشق 

#از قلم فائزہ شیخ 

رات شبنم میں بھیگ کر نہا چکی تھی۔سحر کے تارے فلک کی اوٹ سے جھانک کر محوِ خواب دنیا کا نظارہ کر رہے تھے۔ ٹھنڈ کی شدت سے باہر پھیلی مسافتیں سکڑ رہی تھیں۔ نادیہ ہاتھ میں موبائل پکڑے کمرے کی کھڑکی کے ساتھ کھڑی باہر پھیلی ان مسافتوں کا زمین سے لے کر آسمان تک نظارہ کر رہی تھی۔ وہ کبھی باہر دیکھتی تو کبھی موبائل کی طرف متوجہ ہوتی۔ وہ پچھلے چالیس منٹوں سے خالد کے بھیجے ہوئے میسجز بیس مرتبہ پڑھ چکی تھی۔ خالد اُس کے والد کے دوست کا بیٹا تھا، تین سال پہلے نادیہ کی بڑی بہن کی شادی میں خالد نے نادیہ کو دیکھا ، نادیہ جو حُسن و جما ل کا پیکر تھی،اس وقت اس کی عمر بیس سال تھی ۔اور جوانی اپنے شباب پر دستک دے رہی تھی وہ پہلی ہی نظروں میں خالد کی آنکھوں میں اُترنے لگی۔ نادیہ خالد کی نظروں سے بے خبر ہنستی مسکراتی ، ہوا کی طرح اٹھکھیلیاں کرتی پوری محفل پر چھائی رہی۔ خالد کے والد عبد المنان کی دوستی نادیہ کے والد محمد اکرام سے زیادہ پرانی نہیں تھی۔ دونوں چند سال پہلے ہی ایک کاروبار پہ ایک ساتھ اکٹھے ہوئے تھے۔ کاروبار میں اُتار چڑھاؤ کہاں نہیں ہوتے ،بس ان دونوں کے درمیان بھی آہستہ آہستہ لین دین کے معاملات میں تعلقات کشید ہ رہنے لگے۔

نادیہ کو شادی میں دیکھنے کے بعد خالد کے من میں خواہش رہنے لگی کہ کسی طرح وہ نادیہ سے رابطہ رکھنے میں کامیاب ہو جائے۔ وہ اُسے بتا سکے کہ وہ اُس کے دل میں گھر کرنے لگی ہے۔

آج خالد کسی کام کے سلسلے میں محمد اکرام کے دفتر آیا، دفتر میں بیٹھے محمد اکرام کو کسی کام سے کچھ دیر باہر جانا پڑا،وہ اپنا موبائل میز پر ہی چھوڑ گیا۔ خالد خاموشی سے موبائل کو دیکھے جا رہا تھا ، اچانک اُس کے ذہن میں نہ جانے کیا خیال آیا، اُس نے موبائل اٹھایا اور رابطہ نمبر کی لسٹ سکرول کرنے لگا۔ اچانک اُس کا ہاتھ رکا، نادیہ بیٹی،۔۔۔۔ خالد کی آنکھوں میں ایک چمک اُتری اور اُس نے مزید کچھ سوچے بغیر وہ نمبر اپنے موبائل میں سیو کر لیا۔

میز پر پڑے موبائل کی میسج کی رنگ ٹون بار بار بج رہی تھی۔ نادیہ اپنے گیلے ہاتھ دوپٹے کے پلو سے صاف کرتی ہوئی موبائل کی جانب بڑھی اور میسجز کھول کر دیکھے۔۔۔سلام۔ ۔۔۔کیا حال ہے ؟ ۔۔۔۔۔۔جواب دو۔۔۔ میسج پڑھو۔۔۔ اس طرح کے میسجز انباکس میں دیکھتے ہوئے نادیہ تھوڑا جھنجھلاہٹ کا شکار ہوئی۔ اور فوراً جواب لکھا ۔۔آپ کون۔۔۔اُدھر سے میسج کی رنگ ٹون بجی۔۔۔۔میں کامی۔۔۔ کون کامی۔۔میں کسی کامی کو نہیں جانتی۔۔نادیہ نے میسج لکھ کر جواب دیا۔۔۔۔اور مزید کوئی میسج نہ کرے ایسا لکھا۔۔۔ لیکن اُس نمبر سے میسجز کا سلسلہ دن رات نہ رکنے والا طوفان بن گیا۔ نادیہ گھبراہٹ کا شکارہوئی ۔ اور لکھ دیا کہ میں تمہارا نمبر بلیک لسٹ کرنے لگی ہوں۔ اس بار میسج کی بجائے فون کال کی گھنٹی بجی۔ نادیہ نے یہ سوچ کر فون اٹھا لیا کہ خوب سنا کر اس کو بلیک لسٹ کر دے گی۔۔۔

ہیلو ۔۔نادیہ۔۔۔اپنا نام سنتے ہی ۔۔نادیہ کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا ،کہ یہ کون ہے جو اسے اس کے نام سے پکار رہا ہے۔۔۔۔میں خالد۔۔عبدالمنان صاحب کا بیٹا۔۔۔نادیہ بیشتر اس کے کہ کوئی اور بات کرتی عبد المنان کا نام سنتےہی چونک گئی۔ آپ ۔۔۔آپ ایسا کیوں کر رہے تھے۔۔۔نادیہ رکی رکی سی آواز میں بولی۔وہ اپنے والد سے عبد المنان کی فیملی کے بارے میں کافی سن چکی تھی اور اُس کے علم میں یہ بات تھی کہ خالد اُن کا بیٹا ہے۔ ۔۔آئی ایم سوری نادیہ ۔۔۔میں کامی بن کر تمہیں تنگ کر رہا تھا۔۔لیکن مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں تم سے بات کیسے شروع کروں۔ خالد بولا

لیکن آپ مجھ سے بات کیوں کرنا چاہتے تھے۔نادیہ نے وضاحت مانگی۔۔۔۔ نادیہ تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو۔۔خالد نے بلاتوقف بول دیا۔ جس پر نادیہ ششدر سی رہ گئی۔ ۔ک۔۔کیا۔۔۔یہ آپ کیاکہہ رہے ہیں اور آپ کو میرا نمبر کہاں سے ملا۔۔نادیہ نے استفسار کیا ۔۔

یہ بعد کی بات ہےنادیہ۔۔۔بس میں اب خود سے اور جھوٹ نہیں بول سکتا۔ میں نے تمہیں جب سے تمہاری بہن کی شادی پر دیکھا ہے تب سے چاہنے لگ گیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ واپس آنے کے بعد بھی تم کیوں میرے دل و دماغ پر چھائی ہو۔۔۔خالد نے بنا رُکے سب کہہ دیا۔

نادیہ کی بہن کی شادی کو چھ ماہ ہو چکے تھے۔۔نادیہ کے ذہن میں کئی سوالات طوفان بن کراُٹھ رہے تھے۔۔۔وہ ساکت نگاہوں سے دیوار کو دیکھے جا رہے تھی۔۔۔ہیلو نادیہ۔۔۔ادھر سے آواز آئی تو نادیہ چونکی اور فوراً بولی آج کے بعد مجھے فون یا میسجز مت کیجے گا اور فون بند کر دیا۔ اُس کے جسم پر عجیب سی کپکپی طاری ہور ہی تھی۔دوبارہ فون کی رنگ ٹون بجی۔نادیہ نے فون کال کاٹتے ہوئے فون کو سوئچڈ آف کر دیا۔

نادیہ کے دل و دماغ پہ عجیب سی کشمکش چھائی تھی۔ وہ فون کو آن کرنے سے ہچکچا رہی تھی کیونکہ کچھ دنوں سے جو میسجز کا سلسلہ جاری تھا اُسے یقین ہو رہا تھا کہ خالد اتنی آسانی سے اس کا پیچھا چھوڑنے والا نہیں۔بستر پر کروٹ بدلے وہ اپنی سوچوں میں گم صم لیٹی تھی، باہر رات کی تاریکی کا سناٹا چھایا تھا، ہلکی ہلکی سی ہوا کھڑکی سے گزرتی ساتھ لٹکے پردے کو جھول رہی تھی۔ پردے کی آگے پیچھے جنبش سے ستارے آنکھ مچولی کھیل رہے تھے۔آنکھوں میں انجانی سی چمک لے کر دل کے کسی گوشے میں ایک خیال مچل رہا تھا، کیا واقعی خالد مجھے چاہتا ہے؟ چاہے جانے کا احساس کتنا خوبصورت ہوتا ہے۔ وہ ایک دم اس کو مثبت کیوں سوچ رہی تھی۔شاید وہ جانتی تھی کہ خالد ایک اچھا لڑکا ہے۔ وہ اُسے اپنے ابو کے دفتر کی فوٹو البم میں دیکھ چکی تھی، اور اپنے ابو سے انکل عبد المنان کی فیملی کے بارے میں کافی سن چکی تھی۔ لیکن کبھی یہ بات اُس کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھی کہ خالد اُسے یہ بات کہہ سکتا ہے۔ وہ اپنے گمان سے گفتگو کرتے کرتے کب نیند کی آغوش میں چلی گئی اُسے پتہ ہی نہ چلا۔

کچن میں فرش پر اسٹیل کی پلیٹ گرتے ہی گھر کی فضا میں ایک شور سا گونج اٹھا۔ نادیہ کی امی ناشتہ بنانے میں مصرو ف تھیں کہ پلیٹ نیچے گر گئی۔اس شور نے نادیہ کو اچانک نیند کی آغوش سے جگا دیا۔ وہ بے اختیار اٹھی اور حسبِ معمول موبائل آن کیا، ایک لمحے کو اُس کے ذہن سے نکل گیا کہ اُس نے کل دوپہر سے موبائل بند رکھا ہو ا تھا۔ فون آن کر کے تکیے کے نیچے رکھ کہ وہ واش روم چلی گئی۔ واپس آ کہ موبائل دیکھا تو 70 کے قریب میسجز اُس کے موبائل میں موصول ہو چکے تھے اور مزید میسجز کا نوٹیفکیشن آ رہا تھا۔ وہ ایک ساتھ اتنے میسجز دیکھ کر تلملا سی اٹھی۔۔۔۔ خالد کی طرف سے میسجز کی ایک لمبی فہرست اُس کے سامنے موجود تھی۔ اُس نے بنا جواب دیے میسجز کو دیکھنا شروع کیا۔ ۔۔۔بیسوں مرتبہ ہر میسج میں نادیہ کا نام ٹائپ تھا۔ ۔۔نادیہ نے موبائل کی رنگ ٹون بند کرتے ہوئے موبائل واپس تکیے کے نیچے رکھ دیا۔ اور کچن کی طرف ناشتے کے لیے بڑھ گئی۔

برتن دھوتے ہوئے اُس کےذہن میں عجیب سے سوالات گردش کر رہے تھے اور وہ فون اٹھانے سے گریزاں ہو رہی تھی۔ جب دن گیارہ بجے کے قریب اُس نے ہمت کر کے دوبار موبائل تکیے کے نیچے سے نکالا، اس بار میسجز کے ساتھ بہت زیادہ مسڈ کالز بھی تھیں۔

پھر دن اور وقت گزرتے پتہ ہی نہیں چلا ، کب نادیہ ، خالد سے بات کرنے لگ گئی، اور دونوں میں محبت کا اٹوٹ رشتہ بندھ گیا،اس کا اندازہ نادیہ کو کبھی نہ ہو سکا۔

ان کو فون پہ بات کرتے تین سال گزر چکے تھے۔اور آج رات بھی نادیہ کھڑکی کے پاس کھڑے خالد کے میسجز بار بار پڑھ چکی تھی۔ ۔۔۔مجھے اپنے کاروبار کے سلسلے میں دو سال کے لیے ناروے جانا ہے۔ دیکھو تم میرا انتظار کرنا، میں واپس آتے ہی ایک بار پھر اپنے ابو سے بات کروں گا ہماری شادی کے بارے میں۔وہ نم آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب ضبط کیے بار بار یہ میسج پڑھے جا رہی تھی۔

ان تین سالوں میں جہاں دلوں میں محبت جوان ہوتی رہی ،وہاں دونوں خاندانوں میں کاروباری اختلافات بھی شدت پکڑتے گئے۔ نادیہ دل وجان سے خالد کو اپنا چکی تھی، وہ اُس کا پہلا پیار تھا، اور یہ محبت کا بیج بھی خالد کی طرف سے بویا ہوا اتھا۔ سب اختلافات اپنی جگہ لیکن محبت کا احساس بہت خوبصورت تھا۔ نادیہ نے ایم اے سوشل اسٹڈیز تک تعلیم مکمل کر لی تھی۔ اب اُس کی ماں کو اُس کی شادی کی فکر لاحق رہنے لگی، لیکن نادیہ تو خالد کے علاوہ کسی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ ابھی تک نادیہ اور خالد کے رشتے کی بات صرف خالد کے گھر تک ہی محدود تھی، خالد کے والد اس رشتے کے لیے رضامند نہیں تھے اس لیے بات ابھی نادیہ کے گھر تک نہیں پہنچی تھی، اور وہ خود یہ بات اپنی ماں سے کہنے سے گریزاں تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ خالد اُس کا رشتہ مانگنے اُس کے گھر اپنے والدین کے ساتھ آئے۔ ایک امید لے کر کہ کبھی تو خالد اپنے ابو کو منا لے گا۔ وہ انتظار میں تھی۔

اور اپنی ماں سے مزید دوسال کا وقت لے کر ایم ایڈ میں داخلہ لے لیا۔ اُسے امید تھی کہ جب خالد دوسال بعد ناروے سے واپس آئے گا تو ضرور اپنے ابو کو منا لے گا۔

جدائی کے لمحات بہت کرب انگیز ہوتے ہیں۔ خالد اُس کو روزانہ کال کرتا۔ بیرونِ ملک ہونے کی وجہ سے وہ زیادہ دیر لمبی بات نہ کر سکتے تھے لیکن روزانہ صبح و شام کچھ دیر بات کرنا اُن کا معمول رہا۔ خالد کا دیوانہ پن نادیہ کو ہواؤں میں اُڑا کر رکھتا۔ نادیہ کو اُس کے پیار پر بہت مان تھا۔ جدائی او ر انتظار کے لمحوں نے جب شدت اختیار کی تو نادیہ کی دعاؤں میں رب سے اصرار اور بڑھتا گیا۔ اُس کی نمازوں اور دعاؤں میں خشوع و خضوع پہلے کی نسبت بڑھتا رہا۔ اُس کودعاؤں میں ،ذکر میں ایک لذت اور سکون ملنے لگ گیا۔ بھلے وہ اُس کا عشقِ مجازی تھا لیکن رب کی قربت پانے کا بہانہ تھا۔

دن رات وقت کے پر لگا کر اُڑ رہے تھے۔ ایک دن خالد نے نادیہ کو فون پر بتایا، کہ سب مسائل نادیہ کے ابو کی طرف سے پیدا کردہ ہیں۔ اگر تمہارے ابو کاروبار میں لگائے گئے شئیرز واپس لے لیتے ہیں،تو ہم یہ کمپنی بیچنے کے قابل ہو جائیں گے۔ تمہارے ابو کی ضد کی وجہ سے ہمارا سارا کاروبار خسارے میں ہے۔

آہستہ آہستہ نادیہ پر یہ بات مکمل طور پر واضح ہو چکی تھی کہ دو خاندانوں میں جتنے بھی اختلافات ہیں ان کی وجہ اس کے اپنے ابو ہیں۔ لیکن اُس کےابو یہ بات نہیں جانتے تھے کہ وہ خالد سے پیار کرتی ہے۔ ایک عجیب سی جنگ اور کشمکش نادیہ کے اندر ہر وقت چلتی رہتی، کیونکہ وہ جتنا پیار خالد سے کرتی تھی، اُس سے کہیں زیادہ پیار اپنے ابو اور ان کی عزت سے کرتی تھی۔پیار کرنا کوئی جرم تو نہیں، اگر میں نے پیار کیا ہے تو اپنے آپ سے یا اپنی فیملی سے کوئی غداری تو نہیں کی۔ وہ خود کودلاسے دیتی۔لیکن آہستہ آہستہ صورتحال کشیدہ ہوتی گئی، نادیہ ذہنی دباؤ کی وجہ سے ڈیپریشن کا شکار رہنے لگی۔ وہ اپنے ابو سے نفرت بھی نہیں کر سکتی تھی۔ لیکن جب بھی اپنے ابو کو دیکھتی تو ایک درد کی لہر اُس کے وجود میں سرایت کر جاتی کہ جانے انجانے میں اُس کے ابو کی ضد کی وجہ سے وہ کیسی کرب ناک اذیت سے گزر رہی ہے۔

خالد ۔۔۔کاروباری اختلافات اپنی جگہ، تم اپنے ابو کو راضی کر لو رشتے کے لیے۔۔۔دیکھو میں اختلافات کی بھینٹ اپنی محبت کو نہیں چڑھا سکتی۔نادیہ فون پہ پرنم انداز میں خالد سے التجا کر رہی تھی۔میںٖ تین ماہ بعد پاکستا ن آ رہا ہوں اس بار پکی با ت کروں گا۔ تم اداس نہیں ہو۔ خالد نے دلاسہ دیتے ہوئے کہا۔

آخر وہ دن بھی آگیا، جب دوسال بعد خالد پاکستان واپس آیا۔ ایک خوف کے ساتھ نادیہ کی آنکھوں میں امید کی چمک اُتر رہی تھی۔پانچ سال۔۔پانچ سال۔۔اُ س کو محبت کے اس بندھن میں بندھے پانچ سال بیت چکے تھے۔ ان پانچ سالوں میں اُس نے کبھی خالد کے علاوہ کچھ نہ سوچا تھا۔ اور وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ اُس کے من میں خالد کو پا لینے کا جو یقین تھا اُس میں وہم و گمان کا شائبہ تک نہیں تھا۔

ہمیشہ کی طرح خالد کی بات اس بار بھی بے کار گئی۔ اور نادیہ اس غم کو لے کر کڑھتی رہتی کہ خالد اپنے ماں باپ کا لاڈلا ہونے کے بہت دعوے کرتا ہے۔ پھر اتنی سی بھی بات وہ گھر والوں سے نہیں منوا سکتا ۔ وہ اُن کو مجبور تو کرسکتا ہے کہ میں نادیہ کے علاوہ کسی سےشادی نہیں کروں گا۔۔۔لیکن۔۔۔وہ ایسا کیوں نہیں کر رہا تھا۔۔۔۔اس لیکن کے ساتھ شک کی گنجائش موجود نہیں تھی،کیونکہ گزشتہ پانچ سالوں سے جس طرح خالد دن رات نادیہ سے بات کرتا ،وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ خالد کے دل میں بے وفائی کی جگہ ہو گی۔

ہم کورٹ میرج کر لیتے ہیں۔خالد کی طرف سے یہ جملہ نادیہ کی سماعت سے ٹکرایا۔۔۔۔۔۔نادیہ جس کے لیے پیار ایک بہت مقدس اور جان سے بڑھ کر عزیز رشتہ تھا۔وہ کورٹ میرج کا مطلب اچھی طرح سمجھتی تھی کہ جس سماج میں وہ سانس لے رہی ہے وہ سماج کبھی اس کو عزت سے قبول نہیں کرے گا۔

خالد کی جدائی اور انتظار نے اُس کو جس کرب سے گزارا تھا، اور وہ جس طرح اپنے رب کے قریب ہوئی تھی، اُس کے اندر یہ احساس جاگ اٹھا تھا کہ وہ کبھی کوئی غلط قدم نہیں اٹھائے گی۔

نہیں خالد۔۔۔۔پیار کرتی ہوں ،حد سے زیادہ کرتی ہوں۔ اور پانچ سالوں سے انتظار کی دہلیز پر تمہارے نام کا دیا جلا کر بیٹھی ہوں ،لیکن میں ایسا کوئی کام ہر گز نہیں کروں گی جس سے میرے ابو کی عزت پر آنچ آئے۔ میرے لیے میرا پیار اور تم بھی بہت عزیز ہو،لیکن میرے لیے اپنے پاب کی دی ہوئی 25 سالہ محبت اور پرورش بھی بہت عزیز ہے۔ اپنی 5 سالہ محبت کے لیے 25 سالہ محبت کو کیسے دھوکہ دے دوں۔تم سمجھو خالد اب بھی وقت ہے اپنے والدین کو راضی کر لو۔کسی طرح بھی اُن کو منا لو۔لیکن کچھ کرو۔۔۔۔نادیہ نے سسکتی آواز میں جواب دیا۔

*****

مجھے دو سال مزید ناروے جانا ہے۔۔۔نادیہ میرا انتظار کرو گی۔اب کی بار یہ الفاظ نادیہ پر بجلی بن کر برس رہے تھے۔ بیشتر اس کے کہ وہ جواب دیتی ،اشکوں کی ایک لکیر اُس کے رخسار پہ کھینچ گئی۔ ۔۔اور کتنا انتظار خالد۔۔۔۔ میں اب اپنے ماں باپ کو اور نہیں ٹال سکتی۔ خدا کا واسطہ ہے یا مجھے اپنے نام سے جوڑ لو یا اس پیار کی قید سے آزاد کر دو۔ میں نہیں جانتی میں کیسے جیوں گی تمہارے بغیر لیکن یہ انتظار میرے ضبط کا خون چوس رہا ہے۔

جانے انجانے میں انتظار کی دہلیز پر ایک بار پھر خالد اُس کو چھوڑ کر چلا گیا۔ یہ پیار بھی انوکھا پیار تھا۔ خاندانی رسم و رواج کی پاسداری کرتے کرتے ان پانچ سالو ں میں نادیہ ایک بار بھی خالد سے نہیں مل پائی۔ بس اُن کا رابطہ فون پر ہی ہوتا۔ جہاں وہ دونوں ایک دوسرے کا قرب پانے کو بے تاب تھے،وہاں گھر کی چوکھٹ سے لپٹا انتظار نادیہ کو دیمک کی طرح چاٹ رہا تھا۔

وہ ڈھلتی سرخی شاموں کی

وہ دھوپ کا گھر کی دیوار سے سرکنا

فلک پہ تیرتے ہوئے کالے سفید بادل

اور ہوا میں ہلکی ہلکی سی خنک

میری آنکھوں کو مسکان کے

وہ تعویذ دے رہی تھی

جن کے سحر میں گرفتار ہو کر

طبیعت بس تیری ہی یادوں پہ مائل تھی

میں سیڑھیوں پر بیٹھی دن کی روشنی کو

شب ِجامہ میں اُترتا دیکھ رہی تھی

جہاں کے شور اور ہنگامے بھی

سکوت کی چادر میں لپٹ رہے تھے

پنچھی اُڑتے اُڑتے الوداعی چہچہاہٹ سے

شام کو خداحافظ کہے دیتے تھے

شام کی چوکھٹ پر نہ جانے

کتنے خوابوں کے دیے

خونِ جگر میں جل رہے تھے

کہنے کو تو یہ ایک دن تھا مگر

 کتنی صدیوں کی مسافت کا باب بند ہو رہا تھا

آج بھی میرا انتظار۔۔۔۔۔فقط

انتظار ہی تھا

آج بھی اک شب کو

تنہا چراغوں میں جلنا تھا

اب کی بار عید پر کچھ لوگ نادیہ کا رشتہ دیکھنے آ رہے تھے۔ اور نادیہ کے اندر بے چینی کسی لاوے کی طرح اُبل رہی تھی۔ اُس نے اپنی بڑی بہن کو اپنی محبت کا راز بتا ہی دیا۔ زیب النساء ،نادیہ کی بڑی بہن سر پکڑ کر بیٹھ گئی اور کچھ دیر بعد نادیہ کا ہاتھ پکڑے اُسے دلاسہ دے کر مزید کہنے لگی۔پاگل لڑکی اتنے سالوں سے تنہا اس کرب میں جل رہی ہو،مجھے تو بتا یا تو ہوتا، میں بات کرتی، اکیلے اپنی ذات پر انتظار کے درد جھیلتی رہی ہو۔ اُس نے نم آنکھوں کے ساتھ نادیہ کو گلے لگایا۔اور نادیہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ اُس کے وجود میں چھپا محبت اور انتظار کا کرب آج آہ و بکاہ کے ساتھ پھوٹ پھوٹ کر برس رہا تھا۔ وہ بہت سالوں سے خالد کی دی ہوئی امیدوں کے سہارے ضبط کے جام پی رہی تھی۔

زیب النساء نے اپنی ماں سے بات کی،جو کچھ تردد کے بعد اس رشتے کے لیے رضامند ہوتی نظر آئیں، اور نادیہ کو دلاسہ دیا کہ اب کی بار خالد اگر اپنے ابو کو راضی کرلے تو وہ خود نادیہ کے ابو کو اس رشتے کے لیے راضی کر لیں گی۔ گویا زیب النساء اور اُس کی ماں کا یہ دلاسہ نادیہ کے لیے خزاں رسیدہ شاخوں پر امید کی کونپلیں لے کر کھل رہا تھا۔

آج بہت مدت بعد اداسیوں کے لباد ے سے نکل کر نادیہ خوشی خوشی خالد سے بات کررہی تھی۔ پہلے وہ اکیلی تھی لیکن اب اُس کے ہمراہ اس کی ماں اور بہن کا ساتھ بھی تھا۔ بس اب جو کرنا تھا خالد کو کرنا تھا۔ معلوم نہیں وہ اس قدر نادان کیوں تھی،کہ اتنے سالوں سے آج بھی خالد پر اتنا ہی بھروسہ کرتی تھی ،اور کیوں نہ کرتی وہ بھی تو اس سے پیار کرتا تھا۔ نادیہ جس کے لیے اپنا او ر خالد کا پیار بہت معنی رکھتا تھا،وہ کیسے خالد کے پیار پر شک کر سکتی تھی۔

دُور دُور تک نظاروں میں کھوئے رہنا نادیہ کی عادت بن چکی تھی۔ تنہائی کے یہ سال کسی ریاضت سے کم نہیں تھے۔ اُسے تو بیس سال کی عمر میں ہی یہ محبت کا روگ لگ گیا تھا۔ اور وہ خالد کے خیالوں کو لے کر ساری دنیا سے بہت جلدی الگ ہو گئی تھی۔ اب تو ہوا، بادل، بارش، درخت، پھول پتے،تتلیاں اُسے خود سے ہمکلام ہوتے ہوئے محسوس ہوتے۔ہاں یہی سب تو تھے جو اس کی تنہائیوں کے ساتھی تھے۔ اُس کی محبت بہت پاکیزہ تھی۔

انتظار کی چوکھٹ پر جلتی ہوئی محبت کی یہ چنگاری اب عشق کی آگ میں بدل چکی تھی۔ دن بہ دن نادیہ کے جذبے عشق کی بھٹی سے کندن بن کر نکل رہے تھے۔ وہ محبت میں ہار نہیں ماننا چاہتی تھی۔ اور اتنے سال تنہا محبت کے خیالوں سے لگ کر انتظار کے تکیے پر جو ملن کے خواب دیکھے تھے وہ ان کی تعبیر پائے بغیر کیسے زندہ رہ سکتی تھی۔

انتظار کا ایک اور سال بھی بیت گیا۔جب ایک صبح ایک خبر نادیہ پر قیامت بن کر ٹوٹی۔ خالد کا فون آیا اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا کہ اُس کے ابو کو ہارٹ اٹیک ہو گیا۔ اور اب وہ اس دنیا میں نہیں رہے۔ صدمہ ہی ایسا تھا،کہ نادیہ کے دلاسے اس وقت خالد کا حوصلہ بڑھانے سے قاصر تھے۔

خدارا! یہ کیسی قیامت ٹوٹ پڑی،جس انسان کی مرضی کے انتظار میں ہمارا رشتہ انتظار کی دہلیز پر کسی دستک کا منتظر تھا، وہ ہی آج اس دنیا میں نہیں رہا۔ نادیہ کی نظریں فلک کی طر ف اٹھی ہوئی تھیں،اور وہ دل ہی دل میں کئی باتوں کے گمان لے کر خود سے ہمکلام تھی۔

خالد پاکستان آیا، اور تین ماہ کا وقت اسی غم و کشمکش میں گزر گیا۔ کاروبار کے سلسلے میں خالد کو دوبارہ ناروے جانا پڑا۔ صورتحال کچھ اس طرح کی تھی کہ نادیہ رشتے کی بات تک آ ہی نہ سکی۔ چند ماہ گزرنے کےبعد خالد کے رویے میں بدلاؤ آنے لگا۔وہ بات اب بھی کرتا تھا،لیکن رویے میں کچھ کجی سی آ گئی ۔ اور نادیہ کو اب بھی یقین تھا وہ ضرور اس سے شادی کر لے گا۔ لیکن اب دونوں کے بیچ ایک عجیب سی خلش پیدا ہو گئی۔جب خالد کے منہ سے نادیہ نے سنا کہ اُس کے لیے یہ رشتہ تکلیف دہ ہو سکتا ہے کہ اُس کا باپ اس رشتے کے لیے راضی نہیں تھا، اب اُس کے مرنے کے بعد اگر وہ نادیہ سے شادی کر بھی لیتا ہے تو ایک کسک اُس کے دل میں باقی رہ جائے گی۔۔۔۔گویا یہ باتیں نادیہ پر بجلی بن کر گرتی رہیں۔ ۔۔۔۔اُسے قطعاً اس بات کی امید نہیں تھی کہ خالد ایسی بات سوچ سکتا ہے۔ ۔۔۔میں کہاں ہوں، میرا کیا قصور ہے؟ نادیہ خود سے ہمکلام ہوئی۔۔۔ میں کس کی انا کی بھینٹ چڑھ رہی ہوں، میر ے ابو کو تو آج تک علم بھی نہیں کہ اُن کی انا اور ضد کی بھینٹ ان کی بیٹی کی محبت اور جوانی چڑھ چکی ہے۔مگر قصور میرے ابو کا بھی تو نہیں اُن کو تویہ بھی معلوم نہیں کہ خالد میری زندگی ہے۔ اور اگر خالد کے ابو فوت ہوگئے تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟ خالد نے ایسی بات کیو ں کی۔۔۔۔۔یہ سب سننے کے بعد نادیہ بجھی بجھی سی رہنے لگی۔ کبھی کبھی تو اُس کے دل میں بھی یہ خیال ابھرتا کہ خالد کے ابو دل سے خوش نہیں تھے،شاید وہ زندہ ہوتے تو مان بھی جاتے۔ اب کی بار تو خالد نے پکا وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کو منا لے گا۔

سات سالوں میں پہلی بار دونوں کے رابطے میں کچھ کمی آئی تھی۔ انتظار کی دہلیز پر بیٹھے بیٹھے نادیہ کے بالوں میں چاندی جیسی چمک اُترنے لگی تھی۔ اب تو خالد کی محبت اُس کی زندگی کا وظیفہ تھی، اور اُسے امید بھی نہیں تھی کہ اُس کی زندگی میں کوئی اور آ سکتا ہے۔ کتنے ہی رشتے وہ خالد کے انتظار میں منع کر چکی تھی۔ ۔۔رابطوں میں کمی کا سلسلہ بڑھا تو بات دنوں سے ہفتوں پر چلی گئی۔ پھر نہ جانے کیا ہوا کہ چار ماہ تک خالد کا کوئی فون یا میسج وصول نہیں ہوا۔ یہ چار ماہ نادیہ کے لیے کس قدر کرب انگیز تھے اس کا اندازہ کوئی نہیں کر سکتا تھا۔ کسی ماہی بے آب کی طرح وہ دن رات تڑپتی۔بارہا خالد کا نمبر ڈائل کرتی ،اس کا نمبر بند ملتا ۔ نادیہ کی تو اب سانسیں بھی رکنا شروع ہو گئیں۔ ایسا لگتا تھا کہ وقت پر کسی نے برف کی بھاری سیل رکھ دی ہو۔دن رات منجمند ہونے لگ گئے تھے،اور وہ قطرہ قطرہ کرب کی اذیت سے پگھل رہی تھی۔

نہ جانے خالد کے پیار نے ابھی اور کتنے امتحان لینا تھے۔ ۔۔وہ نادیہ جس کی آنکھوں میں کبھی جگنوؤں جیسی چمک تھی، سیاہ لمبے بال، گلابی رنگت۔۔۔آج وہ عشقِ مریضاں میں مبتلا صدیوں کا کرب لیے اُلجھے بکھرے لباس میں ملبوس صحن میں پڑی چارپائی پر لیٹی تھی۔ ۔۔۔

فون کی رنگ ٹون بجی۔۔۔۔نادیہ نے فون اٹھاتے ہی بنا رُکے ہر بات کہہ دی۔۔۔خالد تم کہاں تھے، تم جانتے ہو تمہارے بغیر میرے لیے ایک ایک پل گزارنا کس قدر مشکل ہے۔اور تم پورے چارماہ بعد مجھ سے بات کر رہے ہو۔۔۔۔نادیہ میں نے شادی کر لی ہے۔۔۔خالد نے کسی بھی بات کا جواب دیے بغیر گویا اعلانیہ نادیہ کو بتایا۔۔۔

نادیہ یہ خبر سنتے ہی سکتے کی حالت میں چلی گئی۔ک۔۔ک۔۔کیا۔۔تم کیا کہہ رہے ہو۔تم ایسا کیسے کر سکتے ہو۔ وہ زارو قطار رونے لگی، تم جانتے تھے میں تمہارا انتظار کر رہی ہوں، تم میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتے۔نادیہ مجھے معاف کر دو سب کچھ اتنا جلدی ہوا کہ ۔۔۔میری ماں کی طبیعت اچانک خراب ہوئی اور معلوم نہیں تھا کہ یہ اُن کی آخری بات ہو گی۔ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہی ہیں، وہ مرنے سے پہلے ماموں کی بیٹی کو میرا نام دے گئی تھیں۔ مجھے ماں کی آخری خواہش پوری کرنا پڑی۔۔۔۔۔خالد نے نادیہ کی بات کا جواب دیا

تمہارے لیے سب کچھ اہم تھا اور میں نہیں تھی۔۔۔یہی آخری الفاظ جو نادیہ کے منہ سے نکلے۔۔۔۔ہیلو۔۔ہیلو۔۔نادیہ میری آواز آر ہی ہے کیا؟ نادیہ میر ی بات کا جواب دو۔۔۔۔ مگر موبائل فون نادیہ کے ہاتھ سے گر کر دور جا پڑا تھا اور وہ گھٹنوں کے پل زمین پر بیٹھی زارو قطار رو رہی تھی۔ آج اُس کی چیخوں سے سارا ماحول گونج رہا تھا۔

اُس کا انتظار لاحاصل کیسے ہو سکتا تھا۔ خالد کی محبت نے اُسے گھر کی چار دیواری میں قید کر دیا تھا۔ اتنے سالوں سے وہ کسی کو دل کے اتنے قریب نہ لا سکی تھی۔ اور خالد نے سب کچھ اتنی آسانی سے ختم کر دیا تھا۔روتے روتے کب وہ ہلکان ہو کر نیم بے ہوشی کی حالت میں نیند کی آغوش میں چلی گئی،اُسے پتہ ہی نہ چلا۔۔۔۔

نادیہ۔۔۔نادیہ اُٹھو۔۔۔زمین پر ایسے کیوں لیٹی ہو۔۔اور تمہاری کیا حالت ہو رہی ہے۔ زیب النساء نادیہ کو جھنجھوڑ کر جگانے کی کوشش کر رہی تھی۔پھر نادیہ کو زیب النساء اور اس کی ماں نے سہارا دے کر چارپائی پر لٹایا۔ نادیہ بے ہوش ہو چکی تھی۔ کافی وقت کے بعد بھی جب اُسے ہوش نہیں آیا تو وہ اُسے ہسپتال لے گئیں۔۔۔انھیں بہت شدید صدمہ ہوا ہے۔ اور برداشت نہ کرنے کی وجہ سے بی پی بہت لو ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر نے دوائی کا نسخہ زیب النساء کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا کہ آج کا دن انھیں ہسپتا ل میں رکھنا ہو گا تاکہ ڈرپ وغیرہ لگا نے سے ان کی حالت بہترہو سکے۔ رات کو نادیہ کو ہوش آیا اور زیب النساء سے لپٹ کر زارو قطار رونے لگی۔ زیب النساء اس کےرونے کی ساری وجہ پہلے ہی جان چکی تھی۔ کیونکہ نادیہ کے بےہوش ہونے کے بعد اس کا موبائل زیب النساء کے پاس تھا ، اوروہ خالد کا فون اٹھا کہ ساری بات سے آگاہ ہو چکی تھی۔ اور اُس نے خالد کو سختی سے منع کر دیا تھا کہ اب وہ اُس کی بہن کی زندگی اور بربادنہ کرے ۔اور نہ آئندہ یہاں فون کرے۔ کیونکہ زیب کو اپنی بہن کی حالتِ زار کا بے حد صدمہ تھا۔ اُس نے یہ بات اپنی ماں سے بھی نہیں چھپائی اور ساری حقیقت بتا دی۔

نادیہ کے ابو کچھ ہفتوں کے لیے گھر سے باہر تھے۔ انھیں واپس آنے میں وقت لگا۔واپسی پر یہ تو علم ہوا کہ نادیہ بیمار ہے لیکن اصل حقیقت اب بھی اُس کے ابو کو پتہ نہیں تھی۔ اور نہ ہی کسی نے پھر اُس کے ابو کو اس حقیقت کے بارے میں بتایا۔ نادیہ جو لاعلمی میں جانے انجانے میں اپنے ابو کی ضد کا شکار ہوئی ، اب بھی سوچتی شاید اس سب کے قصوروار میرے ابو نہیں ہیں،کاش میں ایک بار اپنے ابو کو اعتماد میں لیتی اور بتا دیتی کہ میں خالد سے پیار کرتی ہوں تو ہو سکتا تھا ابو میر ی بات کا مان رکھ لیتے۔ لیکن وہ جس معاشرے میں سانس لے رہی تھی وہاں اپنے باپ کے سامنے اقرارِ محبت گویا غیرت کا قتل تھا۔ رسم و رواج کی کچھ بیڑیاں تو اس کے قدموں میں تھیں جنہوں نے اُس کو باز رکھا اور وہ چپ چاپ سات سال سُولی پہ لٹک کر زندہ درگور ہوتی رہی۔

نادیہ نے خود کو کمرے میں بند کر لیا تھا۔وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ اُسے کس جرم کی سزا ملی ہے۔ وہ خالد کو قصوروار کہتی یا اپنی قسمت کو الزام دیتی۔ بھلے جو بھی تھا وہ مجبوریوں کی سُولی پر لٹک چکی تھی۔ اُسے اپنا آپ کھوجنا مشکل ہو رہا تھا۔ اتنا کچھ ہونے کے باوجود اُس نے اپنی شہہ رگ نہیں کاٹی کیونکہ آج بھی وہ چپ چاپ اپنے باپ کی غیرت اور عزت کو نبھا رہی تھی۔ وہ اپنی اس محبت کی تلخی کو جیتے جی پینا چاہتی تھی۔ لیکن اُس کے لیے سانس لینا بھی دوبھر ہو رہا تھا۔ وہ رب سے بھی شکوہ کرتی تو کیسے کرتی۔

خالد کی محبت نے اُسے رب سے باتیں کرنا سکھا دی تھیں۔ خالد سے محبت کرتے کرتے وہ رب کی محبت کے بھی بہت قریب ہو چکی تھی۔ ہاں اب وہ اپنے رب سے بھی بہت محبت کرتی تھی تو وہ کیسے گلہ کر سکتی تھی رب سے۔ رب تو بے نیاز ہے وہ چاہتا تو مجھے خالد کا قرب عطا کر دیتا۔ اور اگر خالد میری قسمت میں نہیں لکھا تھا تو سات سال اُس کی محبت کی بھٹی میں کیوں جلتی رہی۔ دبی سوچوں میں وہ رب سے گلہ کر ہی گئی۔ لیکن اگلے لمحے ایک خاموشی اُس کے خیالوں پر پہرہ دینے لگی۔

ایک نہ ختم ہونے والی اذیت وقت کے آنچل میں سما چکی تھی۔ ہوا کا ہلکا سا جھونکا بھی بدن کو زخمی کرتا ، سانس لیتی تو دل کی دھڑکنیں زخموں سے چیخ اُٹھتی تھیں۔ اس کا فون مسلسل بجتا لیکن اب وہ خالد سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔ وہ اُس کی آواز بھی نہیں سننا چاہتی تھی۔ ہو نہ ہو۔۔۔قسمت کے ساتھ وہ اس سب کا قصوروار خالد کو سمجھتی تھی۔ ۔۔کبھی کبھی پرسکون ہونے لگتی تو قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول بھی کرتی ،مگر جب جاگتی رُتوں کے سنگ درد جاگ اٹھتا تو سب کا الزام خالد کے سر رکھتی۔۔۔۔

ہیلو کون۔۔۔۔میں نادیہ کی امی بات کر رہی ہوں۔۔۔۔جی ۔۔جی ۔آنٹی کیسی ہیں آپ۔۔خالد نے جواب دیا۔

خالد میں تمہیں آخری بار منع کر رہی ہوں اب میری بیٹی کی زندگی سے ہمیشہ کے لیے نکل جاؤ۔ جو زندگی تم نے اُس کی برباد کرنی تھی وہ کر چکے ہو۔ اب اُس کو اُس کے حال پر چھوڑ دو۔ نادیہ کی امی نے سختی سے خالد کو منع کیا۔ ۔۔پہلے اس کے کہ خالد کچھ کہتا ۔۔۔نادیہ کی امی نے فون بند کر دیا۔

وقت بھی آخر پھسلتی ریت ہے ،جتنا بھی قید کرنے کی کوشش کرو ہتھیلیوں سے سرک ہی جاتا ہے۔ نادیہ کا وقت اپنے رب کی یاد میں گزرتا۔ وہ بہت کم بولتی۔ لیکن پھول، خوشبو، تتلیاں، ہوائیں جو اُس کی تنہائیوں کی ساتھی تھیں آج بھی اُس سے ہمکلام ہوتیں۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ اب وہ خالد سے پیار بھی کرتی ہے یا نہیں۔ اُس کے من کی گہری خاموشی کو کوئی سمجھنے والا نہ تھا۔ اُس نے کبھی پلٹ کر خالد کو فون کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ وہ نہیں جانتی تھی وہ اتنی کیسے بدل گئی ہے۔ نہ شکوہ نہ شکایت۔۔۔۔۔ بس خاموشی سے وقت کے دھاروں میں بہہ رہی تھی۔

نادیہ کی ماں کو نادیہ کا گھر بسانے کی فکر اب بھی تھی۔ لیکن نادیہ اس موضوع پہ بات نہ کرتی۔ ہاں نہیں کے اس سفر میں مزید دوسال کا عرصہ گزر گیا۔ آخر ماں کے آنسو نادیہ کے دل پراثر کر ہی گئے ،اور اُس نے اپنی ماں کی خوشی کے لیے حامی بھر لی۔

نادیہ کی امی کو یقین تھا کہ شادی کے بعد اس کی پھولوں جیسی بیٹی دوبارہ کھل اٹھے گی۔ نادیہ کی عمر اس وقت 29 سال تھی۔ زیب النساء کے شوہر کے ایک دوست کے ساتھ نادیہ کا رشتہ طے ہوا۔

قاسم علی نادیہ سے عمر میں چند سال بڑا تھا۔ اور دیکھنے میں ایک خوبصورت شخصیت کا مالک، خوش وجہیہ انسان تھا۔ عید بقر کے بعد نادیہ کی شادی چند عزیز رشتہ داروں کی موجودگی میں سادگی کے ساتھ ہوئی۔۔۔۔ گلاب کے پھولوں سے مہکتی سیج پر آج و ہ قاسم علی کی دلہن بنے اُس کا انتظار کر رہی تھی۔

وہ نہیں جانتی تھی کہ اُس کی اس نئی زندگی کا آغاز اُس کے لیے کیسا ہو گا۔ انتظا ر کی دھوپ میں اُس کی خواہشوں کا بدن جھلس چکا تھا۔ اور وہ خود کو کسی حادثے سے بچ جانے والی زندہ مخلوق تصور کر رہی تھی۔ ۔۔۔ قاسم علی نیک سیرت انسان ہونے کے ساتھ ایک امیر بزنس مین بھی تھا جس کے پاس نادیہ کو دینے کے لیے ہر آسائش موجود تھی۔۔۔

تم جانتی ہو نادیہ تم میر ی زندگی میں ایک تازہ ہوا کا جھونکا بن کر آئی ہو۔ تمہارے آنے سے جیسے میری زندگی میں بہار آ گئی ہو۔ تمہاری آنکھیں بہت گہری ہیں۔ مجھے اچھا لگتا ہے تمہاری ان آنکھوں میں کھوئے رہنا۔۔۔قاسم نے نادیہ کو اپنے بہت قریب کرتے ہوئے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔

نادیہ قاسم کی قربت کو پا کر زندگی کی طرف لوٹنے لگی تھی۔ اُسے قاسم کی طرف سے جو پیار مل رہا تھا اُس کی توقع کے خلاف تھا۔ وہ سوچتی تھی کہ شاید لڑکی زندگی میں صرف ایک بار ہی پیار کرتی ہے۔ وہ دوسری بار نہیں کر سکتی۔لیکن اُسے اپنے دل میں قاسم کے لیے محبت کے پھول کھلتے محسوس ہو رہے تھے کیونکہ اس نے جتنا سہا تھا ، شاید اب وہ خالد سے نفرت کرنے لگ گئی تھی۔ ۔۔۔۔اُس انسان سے نفرت کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا جسے محبت کا دیوتا بنا کر سالوں پوچا ہو۔۔۔مگر جب وہی محبت کا دیوتا آپ سے آپ کی محبت کی ہی قربانی مانگ لے تو ،،،محبت کا خون بہہ جانے کے بعد اُس کو زندہ کیسے رکھا جا سکتا ہے۔ ۔۔۔ اُسے خالد سے اب نفرت تھی یا محبت وہ اُسے اپنی زندگی سے نکالنا چاہتی تھی۔

قاسم اُس کا شوہر تھا۔۔۔ وہ بیوی ہونے کی حیثیت سے اپنے شوہر سے وفا نبھانا چاہتی تھی۔ دوسال بعد نادیہ کی آغوش میں ایک ننھی پری نے جنم لیا۔ بیٹی کی پیدائش کے بعد نادیہ مکمل زندگی کی طر ف لوٹ آئی تھی۔ننھی گڑیا کے آجانے سے قاسم کی توجہ اور پیار بڑھ گیا۔ نادیہ رب کا شکر ادا کرتی ۔ اور اب اُسے احساس ہونے لگ گیا تھا کہ رب نے خالد سے بہتر اُس کی قسمت میں جیون ساتھی لکھا تھا۔ اُس کا اتنا سالوں کا تڑپنا ،اور انتظار لاحاصل نہیں گیا، کیونکہ اُس کا صلہ اُس کو قاسم کی صورت میں مل چکا تھا۔ اب وہ ماضی کی تمام اذیتیں بھول کر دل سے قاسم علی کو اپنا رہی تھی۔

بیڈ پر رکھے موبائل فون پر میسجز کی رنگ ٹون بار بار بج رہی تھی۔ نادیہ اپنے گیلے ہاتھ دوپٹے کے پلو سے صاف کرتی ہوئی موبائل کی طرف بڑھی اور میسجز اوپن کیے۔۔۔۔میسج پڑھتے ہی خون کی سر د لہر اُس کے جسم میں سرایت کر گئی۔۔۔۔میں نے تمہیں بہت ڈھونڈا نادیہ۔۔۔۔تم سے جدا ہو کر میں ایک پل خوش نہیں رہ پایا۔۔۔ آج پھر پانچ سال بعد نہ جانے خالد نےکہاں سے نادیہ کا نمبر تلاش کر لیا۔

نادیہ کی روح میں ایک درد اترنے لگا۔ اب جب کہ وہ اُسے بھول کر اپنی زندگی میں خوش ہے تو وہ دوبارہ اُسے کیوں ستانے آگیا۔ نادیہ نے کانپتے ہاتھوں سے اُسےمیسج لکھا کہ اب اُس کے دل میں اُس کے لیے زرا برابر بھی رحم یا محبت نہیں۔ اور نہ وہ کبھی اُس سے بات کرے گی۔ یہ کہتے ہوئے اُس نے خالد کا نمبر بلاک کر دیا۔۔۔۔۔۔

نادیہ کی آنکھوں سے آنسو کی لڑئیاں پھوٹ کر رخسارو ں پر بہنے لگیں۔ ۔۔وہ سوچنے لگی کاش آج سے کچھ سال پہلے ہی میں اس کا نمبر بلیک لسٹ کرتی تو شاید مجھے زندگی اس اذیت سےدوچار نہ کرتی۔۔۔ خالد کی مجبوری یا بے وفائی نے اُسے بہت صدمہ دیا تھا۔ وہ سمجھنے لگ گئی تھی کہ شاید سب مرد ہی بے وفا ہوتے ہیں۔ لیکن قاسم علی نے اُس کو جتنا پیار دیا اُسے مرد کی عظمت اور وفا کا یقین ہو گیا۔

تم کیوں رو رہی ہو۔۔۔قاسم علی کی آواز نادیہ کی سماعت سے ٹکرائی ۔۔وہ چونک کر اٹھی اور موبائل پھینکتی ہوئی بھاگ کر قاسم سے لپٹ گئی۔ ۔۔ہاں اب قاسم علی ۔۔اُس کا شوہر ہی اُس کی زندگی تھا۔ وہ کسی صورت اپنے شوہر سے بے وفائی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ آج کے میسجز پڑھ کہ خالد کا نمبر بلیک لسٹ کر کے وہ جان چکی تھی کہ اب وہ خالد سے نفرت کرتی ہے۔۔۔۔ایک عورت کی اصل محبت کا حقدار صرف اُس کا شوہر ہوتا ہے۔ خدا نے عورت کے من میں بہت محبت بھر دی ہے کیونکہ اس کے دل میں ممتا ہے۔ ہو ۔۔نا۔۔ہو۔۔۔اس محبت کا ایک حصہ ہر عورت مرد کوضرور دیتی ہے۔ لاحاصل کے پیچھے بھاگتے بھاگتے نادیہ جان چکی تھی کہ عورت کی محبت کی معراج اُس کے شوہر کی محبت ہے۔ اب وہ دل و جان سے قاسم علی کواپنا چکی تھی۔۔

ناول نگری میں ہر نئے پرانے لکھاری کی پہچان، ان کی اپنی تحریر کردہ ناول ہیں۔ ناول نگری ادب والوں کی پہچان ہے۔ ناول نگری ہمہ قسم کے ناول پر مشتمل ویب سائٹ ہے جو عمدہ اور دل کو خوش کردینے والے ناول مہیا کرتی ہے۔ناول کا ریوئیو دینے کیلئے نیچے کمنٹ کریں یا پھر ہماری ویب سائیٹ پر میل کریں۔شکریہ

novelsnagri786@gmail.com

Read Eid special romantic novel, urdu novels at this website Novelsnagri.com for more Online Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit this website and give your reviews. you can also visit our facebook page for more content Novelsnagri ebook

3 thoughts on “Eid special romantic novel”

Leave a Comment

Your email address will not be published.