Web Special Novel, force marriage based, Urdu novels,

force marriage based, Urdu novels, saaiyaan Epi 12

force marriage based, urdu novel, online Urdu novels, saaiyaan novel revenge based & novel is full of emotions, romance, suspense & thrill, Story of a girl who wants to follow the society style.Novel written by Bisma Bhatti.

Web Special Novel, force marriage based, Urdu novels,

سائیاں

#از_قلم_بسما_بھٹی

#قسط_12

 

🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
” عنابیہ کھ۔۔۔ ” قمر جو اپنے دھیان کمرے میں داخل ہوا تھا کہ اس کے الفاظ سامنے عنابیہ کو دیکھ کر دم توڑ گئے تھے ۔ وہ اتنی حسین تھی !
وہ تو خواب میں بھی عنابیہ کو اتنا حسین نہیں تصور کیا تھا جتنا ابھی وہ لگ رہی تھی ۔ بنا نقاب کے پہلی دفعہ دیکھا تھا ۔ اور سانس تو جیسے تهم گئ تھی ۔ دل رک رک کر چل رہا تھا ۔ اس کی آنکھیں عنابیہ کے ہوشربا سراپے پر جیسے اٹک گئی تھی ۔ اس کا چہرہ ایک بھی داغ سے پاک تھا ۔ جیسے خدا نے فرصت سے اس کے ایک ایک نقش کو تراشا ہو ۔ اس کے گلابی گال جو چہرے کی سفیدی میں شامل ہو کر کسی گلابی گلاب کے پھول کی طرح لگ رہے تھے ۔ اس کے پتلے پتلے ہونٹ لیکن ان کی ساخت اتنی حسین جیسے مصور پینسل سے اپنی فنکاری کو تراشتا ہے ایسے ہی اس کے ہونٹ چہرے پر نمایاں تھے ۔ اس کی آنکھیں جو لمبی اور کالی تھیں اور اس پر سونے پر سہاگا اس کی دراز پلکیں ۔ وہ تو اپنے دھیان صوفے پر بیٹھی تھی کسی سوچ میں محو یہ جانے بنا کہ قمر کے دل پر کیا کیا ظلم ڈھا دیا ہے اس نے ۔
وہ یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا. اس کا دل اس کے قابو میں نہیں تھا ۔ اس کی محبت تو اسے چارو شاانے چت کرنے کا سامان رکھتی تھی ۔ ابھی تو اس نے میک اپ نہیں کیا تھا تو اس کا حسن ایسا تھا ۔ جب وہ قمر سبکتگین کیلیے مکمل سجے گی تب ! تب کیا حال ہو گا قمر کا اور اس کے دل کا !
تجھ کو دیکھا تو سیر چشم ہوئے
تجھ کو چاہا تو اور چاہ نہ کی
تیرے دست ستم کا عجز نہیں
 دل ہی کافر تھا جس نے آہ نہ کی
” چھوٹے بابا ” تبھی دروازے پر ناک ہوئی تو دونوں ہوش میں آئے ۔
عنابیہ نے اس کی موجودگی میں خود کو نا محسوس انداز میں چھپانا چاہا ۔ نقاب ہٹا تو دیا تھا لیکن ہمت نہیں تھی کہ وہ اسے ایسے دیکھے ۔
” ءہ ۔۔۔۔ ی ۔۔ اندر رکھ دو ” خود کو نارمل کرتے قمر نے کہا ۔آنکھیں بھٹک بھٹک کر اس کی طرف جا رہی تھیں ۔
ملازمہ کھانا رکھ کر چلی گئی ۔
قمر گلہ کھنگرتا اندر آیا۔ اندر جیسے بےقراری سے تھی ۔حالت اضطرابی سی تھی ۔ دل کہہ رہا تھا نگاہ ہٹاؤ نا اور دماغ کہہ رہا تھا کہ یہ اخلاق کے خلاف ہے ۔
خود کو بہت مشکل سے سنبھالتا وہ بھی اس کے پاس فاصلے پر بیٹھ گیا ۔
دونوں میں خاموشی تھی ۔
عنابیہ کی خاموشی اس کی جھجھک تھی جس نے پہلی بار اپنا نقاب اتارا تھا ۔ اور قمر کے دل کی حالت غیر ہو رہی تھی اسے ایسے سامنے اتنے پاس اپنا محسوس کرتے دل سنبھل نہیں رہا تھا ۔
” کھانا عنابیہ ” ہمت کرتے قمر نے اسے مخاطب کیا ۔ اسے مخاطب کرنے میں بھی لزت تھی ۔ جیسے راج نیتی مل گئی ہو ۔
” دل نہیں کر رہا ” ہلکی آواز میں کہا ۔
قمر نے اسے دیکھا جو مرجھائے ہوئے چہرے سے اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی ۔
” کیوں اداس ہیں !” اس کے ہاتھوں کو دیکھتے نرمی سے پوچھا ۔
” جو کچھ ہوا ۔۔۔ جیسے میرے ساتھ ہوا ۔۔۔ ایسے لگتا ہے. جیسے ۔۔۔ میں کسی کی پسندیدہ نہیں ہوں ۔۔۔۔ میں ایک آپشن تھی اور اب بھی بن سکتی ہوں لیکن ۔۔۔ کبھی بھی کسی شخص کی پسند نا تھی ۔۔۔ اور نا ہی بن سکتی ۔۔۔ بی جان کا میں ایک انتخاب تھی ۔۔۔ انہیں سب سے زیادہ مجھسے محبت تھی ۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔ لیکن ۔۔ سائیں کیلیے ۔۔ لیکن وہ کبھی نہیں تھی جسے منتخب کیا گیا ہو ۔۔۔ ایک اوپشن بس ۔۔۔ میں جانتی ہوں کہ آخر میں جب سب کو میرے اور دوسرے شخص درمیان انتخاب کرنا ہوگا ۔۔۔ تو وہ اس ۔۔ شخص کو منتخب کرے گا ۔۔۔ جو ان کی خوشی ہو ۔۔ کوئی بھی مجھے منتخب نہیں کرے گا اور میں اکیلی رہ جاؤں گی ۔۔۔ یہی تو ہوتا آ رہا ہے ۔۔۔۔ شائد اب بھی ۔۔ ایسا ہی رہے ۔۔۔ یہ ایک حقیقت ہے جس سے مجھے ہر بار نمٹنا پڑتا ہے ۔۔۔ اور نمٹتی آئی ہوں ۔۔۔۔ جب میں لوگوں کو اپنی زندگی میں رہنے دیتی ہوں ۔۔۔۔ تو میری ۔۔۔چاہت ۔۔۔ تو کم سے ۔۔۔۔ کم ۔۔۔۔ میری چاہت ہوتی ۔۔۔۔۔ کم سے کم ۔۔۔اوپشن نا بناتے سب مجھے ” اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو کھوجتی وہ نم آلود آنکھوں سے بول رہی تھی ۔ جیسے کسی نے پہلی بار اتنے پیار سے ہوچھا ہو کہ تمہارا دکھ کیا ہے اور رہا نا جائے بے اختیار اس سے دل کے راز کہہ دینے کو دل کرے ۔۔۔ یہی حال اس وقت عنابیہ کا تھا جس سے قمر نے اتنی نرمی محبت سے پوچھا تھا کہ وہ بس دل کھول کے رکھ رہی تھی اس کے سامنے ۔
قمر نے اس کی باتوں کے درمیان ٹوکا نہیں تھا ۔ اس کی باتوں سے تکلیف تو ہوئی تھی مگر اسے ہی سنبھالنا تھا اپنی شہزادی کو ۔ اس نے پیار سے اس کے ہاتھ تھامے ۔ عنابیہ نے اسے دیکھا۔
” کبھی کبھی کسی بھی رشتے میں ، تعلق میں بہت کچھ ایسا ہوتا ہے جو تکلیف دیتا ہے کسی کارویہ ، باتیں ،الفاظ ، دوری بہت کچھ مگر ان سب سے زیادہ تکلیف دہ ایک اور چیز ہوتی ہے اور وہ ہوتی ہے یہ کہ جب سب کچھ اگلے بندے کے اختیار میں ہو وہ چاہے وقت دے نہ دے ، اچھے سے بات کرے یارو میں برار کھے ، آپ نہ اسے مجبور کر سکتے ہونہ کچھ کہہ سکتے ہو ، بس جو وہ دے اسی پر راضی رہنا پڑے۔ آپ تو بس اپنی حالت دکھا سکتے ہو ، ریکوسٹ کر سکتے ہو ، یہ بے بسی کہ آپ کچھ نہ کر سکیں اور سب کچھ اگلے کے اختیار میں ہو ، یہ سب سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔” اس کے ہاتھوں کو تھامے جیسے وہ اسی کے درد کی زبان بن گیا تھا ۔
عنابیہ نے اس کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے روتے ہوئے سر ہلایا ۔
” لیکن جو آپ کو چاہے ۔۔۔آپ کی قدر کرے ۔۔۔ آپ سے محبت کرے ۔۔۔ آپ سے پیار کرے ۔۔۔ آپ کی فکر کرے ۔۔۔ آپ کا انتظار کرے ۔۔۔ آپ کو پانے کی خواہش کرے ۔۔۔ آپ کی چاہت کرے ۔۔۔ آپ سے عشق کرے ۔۔۔۔ اس کے سامنے ۔۔۔ خود کو بے مول نہیں کہتے ۔۔۔۔۔ روح پر وار ہوتا یے ” اس کے ہاتھوں پر دباؤ دیتے جزبات سے چور لہجے میں بولتے وہ عنابیہ کو اپنی جگہ منجمد کر گیا تھا ۔ وہ اپنا غم بھلائے اس کی آنکھوں کے رنگ پڑھتے اندر سے تڑپ اٹھی تھی ۔
” ک ۔۔ کون ۔۔۔ مجھسے ..”
” میں ” اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ بولا ۔ عنابیہ کی آنکھیں بھر آئیں ۔ وہ ایسا تو نہیں سوچ کر بیٹھی تھی ۔
” میرے رب کی قسم ۔۔۔ اس کے محبوب (ص) کو گواہ بنا کر آپ کو ایک بات بتاتا ہوں عنابیہ ۔۔۔۔ میں آپ سے بہت محبت کرتا ہوں ۔۔۔۔ مجھے محبت بے شک نا دیں ۔۔۔لیکن ایسے خود کو بے مول کر کے مجھے تکلیف نا دیں ۔۔۔۔ مسکرا دیں ۔۔۔ ساری زندگی آپ کی مسکان پر گزار دوں گا ۔۔۔ بس ایک چیز چاہیے آپ سے ” اس کے ہاتھوں کو لبوں سے لگائے وہ اس کی جھیل جیسی گہری کالی آنکھوں میں ڈوبتا بولا ۔
” ک ۔۔ کیاا !” اس کے لب حیرانی و کشمکش سے پھڑپھڑائے ۔
” میری رہیے گا ۔۔۔۔ میری وفادار رہیے گا ۔۔۔ مجھے کچھ نہیں چاہیے اور ” ایہ منت ایہ آس ایک چاہ تھی اس کے لہجے میں جو وہ اس سے کر رہا تھا
” آپ ۔۔ مجھسے کیسے کر سکتے ہیں محبت ۔۔۔ یہ جانتے ہوئے بھی ۔۔۔ کہ میں کسی اور کو چاہتی تھی ۔۔دل میں کوئی اور میرے ۔۔!” وہ ششدر اس کی باتوں سے بولی ۔
” مجھے بس اتنا پتہ ہے کہ جو سامنے میرے لڑکی بیٹھی یے اس ۔۔۔ اس کا نام ۔۔۔ عنابیہ قمر ہے ۔۔۔۔۔ اور وہ میری ہے ۔۔بس ۔۔۔ اور مجھے آپ کے ماضی سے کچھ نہیں چاہیے ” اس کے گالوں سے پھسلتے آنسووں کو صاف کرتے مسکرا کر کہا ۔
” آپ نے تو مجھے معتبر کر دیا۔۔۔۔اس قابل نہیں میں ۔۔۔ میں تو جتنے شکر ادا کروں ۔۔ اتنے کم ہیں اللّٰه نے مجھے آپ تک پہنچا دیا ۔۔۔ ورنہ اگر میں ونی ہو جاتی تو ۔۔۔۔ میں نجانے ۔۔۔ کس ۔۔۔ کس …” وہ تکلیف سے مزید کچھ بولتی کہ قمر نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی ۔
” شششش۔۔۔چپ کر جائیں ۔۔ آپ کو مجھ تک ہی آنا تھا ۔۔۔ سمجھیں ” زرا سنجیدگی سے کہا تو عنابیہ نے سر جھکا لیا ۔
” ایک مزے کی بات سناؤں !۔۔نوڈ اچھا ہو جائے گا آپ کا ” لہجے میں شرارت لے کر وہ اس کی طرف دیکھتے بولا ۔
عنابیہ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا ۔
 ” مشتاق احمد یوسفی لکھتے ہیں کہ جب انکی شادی ہوئی اور رخصتی کا وقت آیا تو دلہن کی ماں بہنیں رونے لگیں مگر ان کی بیگم خاموش تھیں۔ انہوں نے اپنی بیگم سے کہا کہ آپ بھی رو لیں کیونکہ دلہن رخصتی کے وقت گھر والوں سے جدا ہوتی ہیں تو روتی ہیں، مگر وہ نہ روئیں ،
پھر گھر کا دروازہ آیا ہم نے کہا اب تو آپ دروازے پر آگئیں ہیں اب رو لیں مگر وہ پھر بھی نہ روئیں،
پھر گاڑی کے قریب آکر ہم نے پھر کہا مگر وہ نہ روئیں اور گاڑی میں بیٹھ گئیں اور پھر جب ہم اپنا سہرا اٹھا کر گاڑی میں بیٹھے اور انہوں نے ہمیں دیکھا تو وہ پھر خوب پھوٹ پھوٹ کر
روئیں_____!! ” قمر نے مسکراتے بڑے مزے سے بتایا ۔
اس بات پر نا چاہتے ہوئے بھی عنابیہ سر جھلا کر ہنس دی ۔
کئی پل قمر نے اسے تلخ حقیقت کو بھلا دینے میں مدد کی تھی ۔
قمر بھی اس کی مسکراہٹ پر ہنس دیا ۔
” اب کھانا کھا لیں ۔۔۔ ٹھنڈا ہو جائے گا ” کھانے کی طرف دھیان دیتے کہا تو وہ محض سر ہی ہلا سکی ۔
بہت مشکل ہوتا ہے ایسے تلخ حالات سے گزرنا ۔ لیکن آسانی ہو جاتی ہے اگر کوئی ساتھ نبھانے والا ہو تو ایسے کئی حالات گزر جاتے ہیں اور تکلیف بھی نہیں رہتی ۔اور بات اگر محبت زادوں کی ہو ، تو مجال ہے غم پاس بھی پھٹک جائیں ۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
چاک دل بھی کبھی سلتے ہوں گے
لوگ بچھڑے ہوئے ملتے ہوں گے
روز و شب کے انہی ویرانوں میں
خواب کے پھول تو کھلتے ہوں گے
ناز پرور وہ تبسم سے کہیں
سلسلے درد کے ملتے ہوں گے
ہم بھی خوشبو ہیں صبا سے کہیو
ہم نفس روز نہ ملتے ہوں گے
صبح زنداں میں بھی ہوتی ہوگی
پھول مقتل میں بھی کھلتے ہوں گے
اجنبی شہر کی گلیوں میں اداؔ
دل کہاں لوگ ہی ملتے ہوں گے
پوری حویلی میں اس وقت بھاگ دوڑ لگی ہوئی تھی ۔ جمعے کی نماز کے بعد نکاح جو تھا شاہ حویلی کے بیٹوں کا ۔ سب کاموں میں لگے ہوئے تھے ۔ لیکن رونقیں خوشیوں والی نہیں تھیں ۔ ان میں غم اداسی چھائی ہوئی تھی ۔ ایک بیٹی ونی کر دی تھی ۔ مسکراہٹ کیسے آ جاتی. لیکن آگے تو بڑھنا تھا نا جیسے وقت کا کام ہے گزر جانا سو اسے گزارنا بھی پڑتا ہے ۔
” ساری لڑکیوں کے کمرے میں ایک ایک بیوٹیشن بھیج دینا ” بی جان نے سامنے کھڑی لڑکی کو کہا جو کسی سلون کی ہیڈ تھی ۔ حویلی آنے کیلیے وہ خاص طور پر سوٹ میں آئی تھی ۔
” جو حکم آپ کا ” اس نے مسکرا کر جواب دیا ۔
مگر بی جان کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں تھی ۔
تبھی سیف داخلی دروازے سے داخل ہوا تو نظر سامنے بی جان پر پڑی جو کسی لڑکی سے بات کر رہی تھیں ۔ اس کے چہرے پر افسردگی چھا گئی اس کی بی جان ناراض جو تھیں ۔ وہ مردان خانے میں جانے کی بجائے سیدھا لاونج میں آ گیا ۔
” اور تم خود ۔۔۔ ” وہ اس لڑکی کو کچھ بتانے لگی تھیں کہ سیف کو آتے دیکھا تو خاموش ہو گئیں ۔
” تم جاؤ دیکھ لینا ” اسے سپاٹ انداز سے کہتی وہ خود اوپر کمرے میں جانے کیلیے پلٹ گئیں .
” بی جان ” وہ ان کے پلٹنے پر تیزی سے بولا ۔
فرحین شاہ کے قدم رکے مگر پلٹی نہیں.
” اب مجھے ۔۔ دیکھیں گی بھی نہیں !” اداسی سے پوچھا.
” میرا دل تو تمہیں سننے کا بھی روادار نہیں ہے ۔۔۔ پر افسوس خود پر ۔۔۔ کہ ابهى کان سلامت ہیں جو مرضی کر لوں ۔۔ کان میں آواز پڑ ہی جاتی ہے ” سنجیدگی سے جواب دیا اور سیڑھیوں کا ایک زینہ چڑھا ۔
” پلیز بی جان ۔۔ ایسے نا کریں ۔۔۔ مجھسے منہ نا پھیریں ” وہ تڑپ گیا تھا ان کی بات پر ۔ آخر ماں تھی اس کی ۔
” جب انسان کی غیرت مر جاتی ہے نا ۔۔۔ تو غیرت والوں سے بات کرنے سے گریز کرنی چاہیے ۔۔ جو تم نے کیاا ۔۔۔ مجھے اب بھی نہیں بھولتا ۔۔۔ نا بھولے گا ” زرا سی گردن موڑ کر جواب دیا اور سیڑھیاں چڑھ گئیں ۔
 ان کے کانوں میں عنابیہ کی باتیں گونج رہی تھیں اس کی عادتیِ اس کا مسکراتا چہرہ گھوم رہا تھا ۔ کیسے وہ سیف کو معاف کر سکتی جس نے ان کی نازو پلی عنو کو بے شرمی سے ونی کرنے دیا ۔
🌷 بیتے گزرے لمحوں کی ساری باتیں ترپاتی ہیں 🌷
🌷 دل کی سرخ دیواروں پر بس یادیں ہی رہ جاتی ہیں 🌷
🌷باقی سب سپنے ہوتے ہیں🌷
🌷 اپنے تو اپنے ہوتے ہیں🌷
سیف ان کی بات کو بس اپنے اندر سماتا ہی رہ گیا ۔ نا جواب تھا نا ہمت کہ انہیں روک کر منا لے ۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
” کہاں گئ وہ لڑکی ۔۔تم کہاں تھے ۔۔اتنے دن ! ” نیاز کھوکھر وہاب کو دیکھتے گرجا تھا ۔
جب اسے پتہ لگا تھا کہ وہاب لڑکی لے کر کہیں چلاگیا ہے تو اس نے پورا گھر سر پر اٹھا لیا ۔ وہاب نے کوئی رابطہ بھی نہیں کیا تھا ۔
” بابا جو مجھے صحیح لگاا میں نے کیا ” وہاب نے سنجیدگی سے جواب دیا ۔
“کیا صحیح کیا تم نے ؟ سب برباد کر دیا ۔۔۔ میرے بیٹے کا بدلہ تھی وہ ۔۔ تم مے میری ناک کٹوا کر رکھ دی ” نیاز کھوکھر غصے اشتعال میں بول رہا تھا ۔
” بابا ۔۔۔بیٹیاں بدلے نہیں ہوتی ہیں ۔۔ آپ کے بیٹے نے جو کیا اس کا اثر تو ہونا تھا. ۔ اور میں شیریں کو پسند کرتا ہوں میرے نکاح میں ہے وہ ۔۔ میں کیسے اسے دھوکہ دے دیتا !” غصے کو دباتا بولا ۔ اسے اپنا باپ اس وقت بہت برا لگ رہا تھا ۔۔
” وہاب کون شیریں۔۔۔۔۔۔کدھر کی شیریں ۔۔۔ ایک سیکنڈ لگے گا مجھے اسے تمہاری زندگی سے نکالنے میں ” نیاز کھوکھر نے چٹکیاں بجاتے کہا ۔
” بابا خبردار اگر آپ نے کچھ کہا شیریں کو ” وہاب ایک دم غصے سے بولا ۔
” مجھے وہ لڑکی چاہیے وہاب ۔۔۔ یوسف شاہ کو میں نے جھکانا تھا ۔۔ اپنے قدموں میں لانا تھا تم ۔۔ نے سارا کھیل برباد کر دیا ” ” نیاز کھوکھر نے سختی سے کہا ۔ آنکھوں میں یوسف شاہ کیلیے نفرت ہی نفرت تھی اور لہجے میں ہار جانے کا ڈر ۔
” وہ جہاں ہے بلکل ٹھیک ہے ۔۔۔ میں کچھ ایسا نہیں کروں گا جس سے میں گناہ کا مرتکب ٹھہروں ۔۔۔ میں ایک آرمی آفیسر ہوں ۔۔ اور مجھے شرم سے ڈوب مرنا چاہیے کہ میں اپنے باپ کے کارناموں کو چھپاتا ہوں ۔۔ اس کے گناہ اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہوں لیکن اس کے خیلاف ایکشن نہیں لیتا ” وہاب گرج اٹھا تھا ۔ اس کی غیرت اور کردار پر جو بات آ گئی تھی ۔
” زبان سنبھال کر بات کرو ” نیاز کھوکھر نے اس کی طرف غصیلی نگاہوں سے دیکھتے کہا .
” مجھے مزید آپ کے ساتھ نہیں رہنا ” وہاب نے خود سخت الفاظ کہنے سے بہت مشکل سے روکا اور سپاٹ چہرہ لیے کمرے سے واک آؤٹ کر گیا ۔
” آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔ ” نیاز کھوکھر نے زور سے ٹیبل پر لات ماری کہ ٹیبل پر پڑا شیشے کا واز اچھل کر نیچے گرا اور کرچی کرچی. ہو گیا ۔
شیشہ ٹوٹنے کی آوازبپر اس کا خاصلازم اندر آیا ۔
” صاحب ۔۔۔ حکم کریں آپ بس ! یوسف شاہ کو نا تباہ کر دیا تو کہنا ” اس موٹے سانڈ جیسے آدمی کے اپنی خوفناک بھاری آواز سے کہا ۔
نیاز کھوکھر نے خون ریز آنکھوں سے اسے دیکھا ۔
” اٹھا لو اسے ” آنکھوں میں اس پریوش کا چہرہ لاتے خباثت سے کہا ۔
ایک موقع ہاتھ لگ گیا تھا یوسف شاہ کو دوبارہ تباہ کرنے کا ۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
” تمہارا آج نکاح ہے ماہم سے ۔۔ابھی بتا دوں تم کو احسام ۔۔۔۔۔ تم نے یہ رشتہ نبھانا ہے ۔۔ وہ بچی بہت نائس ہے ۔۔۔ تم سے بہت محبت کرتی ہے ۔۔۔ اسے دکھ دو گے تو خود کو تکلیف پہنچاؤ گے ” فضیلت شاہ احسام کے پاس بیٹھی سمجھا رہی تھیں ۔
وہ بس سر کھلائے ان کی سن رہا تھا ۔
” امی ۔۔۔ کاٹ کھانے کو پڑتی ہے وہ مجھے ۔۔۔۔آپ کو لگتا ہے نبھ جائے گی ! ” احسام نے بدمزا ہوتے کہا ۔
” تم نے جو کیا اس کے بعد تم اس سے نرمی کی توقع. رکھ رہے ہو !” انہوں نے آنکھیں تیکھی کر کے کہا تو احسام نے پہلو بدلہ ۔
گناہ ہو گیا تھا جو اس نے ساری حویلی والو کےسامنے اعتراف کر دیا تھا ۔
” جو بھی ہے ۔۔۔ اب اس کے دل میں ۔۔۔ میری کوئی محبت نہیں ” احسام نے بات بدلنی چاہی ۔
” ویسے تم مرد کتنی عجیب ہوتے ہو ۔۔۔خودغرض بھی ” انہوں نے دانتوں کو پیاتے کہا تو احسام نے نا سمجھی سے انہیں دیکھا کہ میں خودغرض کہاں سے !
” جب تک تمہیں علم ہوتا ہے کہ لڑکی تمہیں پسند کرتی ہے تو تم مرد اسے بھاؤ نہیں ڈالتے ۔۔۔جب لڑکی دل سے اتار دیتی ہے تو بھی تم مردوں کو وخت پڑ جاتا یے کہ وہ محبت کیوں نہیں کر رہی ۔۔۔لڑکی کو انسان سمجھنا کہ نہیں تم لوگوں نے !” اس کا کان پکڑ کر مڑورتے کہا ۔
” اماں ۔۔۔اففف۔۔۔ بس کریں ۔۔۔ کر تو رہا ہوں نکاح ” کان مسلتے سپاٹ انداز سے کہا ۔
” وہ اوپر سے سخت ہے ۔۔۔ اسے پیار سے کریدو گے تو اس سے زیادہ سوفٹ اور پیار کرنے والا نہیں پاؤ گے کہیں ” احسام کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا ۔
” اچھا امی ۔۔۔کوشش کروں گا ۔۔ ” اسی سپاٹ انداز سے کہا ۔
” سنو ۔۔ ایک بات یاد رکھو ۔۔۔ محبت یہ نہیں ہے کہ تم ایک ہی بار تمام جذبات ارادے احساسات کہو اور پھر چپ کر جاؤ بجاۓ اس کے کہ تم کسی کو پوری نر سری اٹھا کر دو اور اسے سمجھ ہی نا آۓ کہ کون سا پھول کتاب میں رکھنا ہے اور کون سابالوں میں سجانا کہ بہتر ہے تم ایک پھول دو مگر روزانه محبت تسلسل مانگتی ہے مقدار نہیں ۔۔۔۔وہ پگھل جائے گی تمہاری محبت میں ۔۔بس صحیح وقت میں صحیح پھول دینا ” محبت سے اپنے بیٹے جو سمجھایا جس کی ناک سے غصہ اترتا نہیں تھا ۔
احسام نا سمجھ نہیں تھا جو سمجھتا نا ۔۔ عنابیہ تو چلی گئی تھی اب کوئی فائدہ نہیں تھا اس کی خاطر بیٹھے رہنا ۔ پوری شاہ حویلی رنجیدہ ہو جاتی اگر احسام بھی پیچھے ہٹ جاتا ۔ خود کی نا سہی ۔۔ اب اسے ماہم کے جزبات کی قدر ہو رہی تھی ۔ وہ محسوس کر رہا تھا کہ جیسے عنابیہ اس سے دور ہوئی تو کتنی تکلیف اس نے سہی ۔۔۔اور یہی اگر ماہم کے ساتھ ہوا تو وہ تو سہہ نہیں پائے گی ۔بس اسی لیے مان گیا ۔ اسی فیصلے سے سب خوش تھے کہ احسام کو عقل آ گئی ۔
” چلو یہ شیروانی پہن لو پھر نیچے آ جانا ” اس کے ماتھے پر پیار دیتی وہ اٹھی اور باہر کی طرف بڑھیں ۔
” سام ” دروازے پر رک کر پلٹ کر پکارا تو وہ ان کی طرف متوجہ ہوا ۔
” وہ لڑکی تمہاری ایک بہکا دینے والی نظر کی مار ہے ۔۔۔ بیشک آزما لینا ” ہلکی مسکان سے وہ شرارت سے بھرپور لہجے میں بولیں کہ احسام نے حیرانگی سے انہیں دیکھا تو وہ ہسنتی چلی گئ باہر ۔
احسام ماہم کو اپنے تصور میں لایا ۔
” مجھے نہیں پتہ تم کیا ہو کیسی ہو کیا زہنیت ہے ۔۔۔ کتنی چاہت ہے میرى ۔۔۔ مجھے بس یہ پتہ ہے کہ۔۔۔ مجھ سے زبان مت چلانا ۔۔۔ ورنہ احسام شاہ ۔۔ ایک سیکنڈ میں تمہاری آواز سلب کر لے گا ” اس کی تیکھی آنکھوں کو یاد کرتا وہ زومعنی انداز میں ہمکلام تھا کہ اپنے ارادے جان کر خود ہی ہنس دیا ۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
” ماشاءاللّٰه میری بیٹی کتنی حسین لگ رہی یے “زوبیہ ماہم کے سجے انورے روپ کو دیکھتی بالائیں لیتی بولیں ۔
ماہم نے شیشے سے انہیں دیکھا ۔ اس کا چہرہ سپاٹ تھا.
” مام۔۔۔ آپ کی بیٹی پیاری ہے ۔۔ اب کو پتہ یے ۔۔۔ مگر آہ کیوں اتنی خوش ہو رہی ہیں ؛” سنجیدگی سے ان سے سوال کیا ۔
” ارے ۔۔۔ میں کیوں نا خوش ہوں ۔۔۔ میری بیٹی کی شادی ہے آج ۔۔۔اس کی ڈولی سجے گی ۔۔۔شہنائی بجے گی ” زوبیہ شاہ مسکراتی آنکھوں سے چہک کر بولیں ۔
” مام “شیشے میں انہیں پکارا تو وہ اسے دیکھنے لگی ۔
وہ اٹھی اور ان کے مقابل آئی ۔
” آپ کو کیا علم نہیں ! ۔۔۔۔ میتوں اور زندہ لاشوں کی ڈولیاں نہیں سجتی ۔۔ یہ جو سب یوں ہو رہا ہے نا ۔۔۔ بھائی کی وجہ سے ہے ۔۔ ورنہ ماہم سعیر شاہ میں اتنی غیرت ہے ۔۔۔کہ جہاں اس کی قدر نا ہو ۔۔۔وہاں میرے بدن سے چھوتی ہلکی سے ہوا بھی نا جائے ۔۔۔ میں تو بہت دور کی بات ہے ” ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ بری طرح سے زوبیہ شاہ کو چونکا گئی تھی ۔
” کیا بول رہی ہو ۔۔۔ یہ بہت بدتمیزی کی ہی تم نے. ” وہ اس کو غصے سے بولیں جو نجانے کیا بول رہی تھی ۔
” کبھی کبھی ہوو جاتی ہے ۔۔۔سوری ۔۔۔ دراصل مجھے کوئ مل نہیں رہا نا غصہ اتارنے کو ۔۔۔بس ” اپنی مام کی آنکھوں میں تکلیف پا کر وہ ان کے گلے لگتے بولی ۔
پل میں تولہ پل میں ماشہ والا حساب تھا اس کا ۔۔کب کیسی ہو جائے کسی کو خبر نہیں ۔
زوبیہ شاہ نے نم آنکھوں سے اس کے ماتھے کو چھوا ۔
” دیکھنا تم ۔۔۔ اللّٰه تمہیں اتنی خوشیاں دے گا ۔۔۔ کہ تمہیں ناز ہو گا خود پر ” محبت سے دعا دی ۔
ماہم نے گہرا سانس بھرا ۔مگر جواب نا دیا ۔
” گڑیا !” دروازے پر سیف نے دستک دی تو وہ دونوں اس طرف متوجہ ہوئے ۔
” آؤ سیفی ” زوبیہ نے پیار سے کہا ۔
سیف ہلکی مسکان سے اندر داخل ہوا ۔
” ماشاءاللّٰه میری چندہ بہت پیاری لگ رہی ” اس کے سر پر پیار دیتے کہا ۔
” شکریہ بھائی ” سنجیدگی سے حواب دیا ۔
” تم خوش نہیں ہو !” اس کے نا مسکرانے ہر سیف نے پوچھا ۔
“بھائ مجھے آپ سے گلہ بھی ہے غصہ بھی ہے اور تکلیف بھی ہوئی ہے ” سپاٹ انداز میں جواب دیا ۔
ایف کی مسکراہٹ سمٹی ۔
” کیس شکایت بچے ؛” نا سمجھیس سے پوچھا ۔
” مجھے ونی کا مطلب نہیں پتہ تھا اور میں نے نادانی میں خود کو پیش کیا ۔۔۔ احسام مجھے چاہتا نہیں ہے لیکن اس کا میٹر گھوم گیا تھا میری بات پر کیونکہ میں اس سے منسوب تھی ۔۔۔ عزت تھی اس کی ۔۔ وہ تصور میں بھی مجھے نا دیتا ” سیف کو تیکھی نظروں سے دیکھتے کہا ۔
سیف کے چہرے کا رنگ بدلہ ۔
” آپ نے ۔۔۔ اپنی منگ کو ہی پیش کر دیا ۔۔۔۔ ! کہاں سے لائے ایسا جگرا !” عجیب چبھن تھی اس کے لہجے میں جو چھری کی طرح سیف کے دل پر لگی ۔
” جو ہوا میں نے سوچ سمجھ کر کیا ۔ لیکن تم سب مجھے غلط کہہ رہے ۔۔۔ میں جلد وقت سنبھلنے پر اسے واپس لے آؤں گا ۔۔۔ میں نے وعدہ کیا ہے اس سے ” سیف نے نرمی سے جواب دیا ۔
” بھائی ۔۔ کیا بول رہے یو ؟ ۔۔۔ونی کیا ہے آپ لوگوں نے اسے ۔۔۔ جانتے ہیں نا ۔۔۔ وہ اب کس کی ۔۔۔۔۔ اب کیا ہو گیاا ہو گا اس کے ساتھ ۔۔۔کیا وہ معاف کرے گی آپ کو جو آپ نے کیا اس کے ساتھ !” نفرت امیز لہجے میں ماہم نے استفسار کیا تو سیف نے پہلو بدلہ ۔
ماہم نے اس کی کوئی دلیل نا سنی اور رخ پھیر کر واہس شیشے کے سامے سٹول پر بیٹھ گئ۔ صاف اشارہ تھا کہ اب چلے جاؤ ۔
سیف نے بے بسسی سے اسے دیکھا ۔
اس نے تو واقعہ نہیں سوچا تھا کہ عنابیہ اسے معاف کر ہائے گی یا نہیں………………

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ناول نگری میں ہر نئے پرانے لکھاری کی پہچان، ان کی اپنی تحریر کردہ ناول ہیں۔ ناول نگری ادب والوں کی پہچان ہے۔ ناول نگری ہمہ قسم کے ناول پر مشتمل ویب سائٹ ہے جو عمدہ اور دل کو خوش کردینے والے ناول مہیا کرتی ہے۔ناول کا ریوئیو دینے کیلئے نیچے کمنٹ کریں یا پھر ہماری ویب سائیٹ پر میل کریں۔شکریہ

novelsnagri786@gmail.com

 

Read force marriage based, Urdu novels, saaiyaan at this website Novelsnagri.com for more Online Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit this website and give your reviews. you can also visit our facebook page for more content Novelsnagri ebook

Leave a Comment

Your email address will not be published.