Web Special Novel, Forced Marriage Based Novel,

Forced marriage based, شدت لمس Epi 10

Web Special Novel, Forced Marriage Based Novel,

Web Site: Novelsnagri.com

Category: Forced marriage based Novel

شدت لمس 
#قسط نمبر دس 
#ازقلم فائزہ شیخ
ہنیزہ کی کھلکھلاہٹ کمرے میں گونج رہی تھی عابس اس کے جذباتوں سے کھیلتا اسے مکمل خود میں گم کر رہا تھا کسی زہر کی طرح جو رفتہ رفتہ انسان کی رگوں میں پھیلتااسے قریب المرگ کر دیتا ہے وہی زہر تھا عابس سلطان ہنیزہ کے لیے ۔۔۔ پر وہ شاید انجان تھا کہ جس زہر کو وہ ہنیزہ کے وجود میں پرو رہا ہے وہ زہر اس کی جڑیں کاٹ دے گا اسے جھکنے پر مجبور کردیگا محبت نامی بلا سے اس کا پالا نہیں پڑا تھا یا شاید عابس سلطان اسے محسوس کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا
عابس نے ہنیزہ کی کمر میں ہاتھ ڈالے کسی گڑیا کی طرح اپنے پاوں پر کھڑا کر لیا ۔۔۔۔
ہنیزہ خود کو ہوا میں محسوس کرتی سختی سے عابس کے کندھے تھام گئی ۔۔۔ عابس اسے باہوں میں بھرے گول گول گھمانے لگا ۔۔۔ ہنیزہ اس کی گردن کے گرد اپنی باہیں ہائل کیے مسرور سی قہقہے لگانے لگی۔۔۔
عابی مجھے نیچے اتاریں ۔۔۔ہاہاہا میں گر جاونگی عابی ۔۔ ہنیزہ چکراتے سر کو تھامتی اسے رکنے کا بول رہی تھی جب عابس نے اک زور دار چکر ہنیزہ کو دیا جس کے ساتھ ہی ا س کا نازک سا وجود زمین بوس ہوا ۔۔۔
ہنیزہ کو کمر میں درد کی ٹیسیں اٹھتی محسوس ہوئِیں ۔۔۔ آنکھوں سے بے ساختہ تکلیف سے آنسو بہنے لگے
“اوہ ساری ہنی مجھے معاف کردو میری جاناں ۔۔۔۔پتا نہیں کیسے میرا ہاتھ “عابس چہرے پر ہمدردی سجائے ہنیزہ سے بولا اور فورا اسے باہوں میں بھرتا سینے میں بھینچ گیا۔۔۔۔
ہنیزہ کو کافی زور سے کمر پر لگی تھی ۔۔۔
جاناں ۔۔۔ اسے مسلسل روتے دیکھ عابس نے اپنی سرخ نظروں سے از کے سسکتے وجود کو دیکھا ۔۔۔
عابس اسے لیے بیڈ پر بیٹھا
“کہاں لگی ہے ہنیی۔۔۔ بتاو میری جان ۔۔۔ “
عابی مجھے کمر پر لگی ہے زور کی ۔۔۔ تم گندے ہو عابی ۔۔۔ تم نے ہنی کو گرا دیا ہنی کٹی ہے تم سے ۔۔۔ چاکلیٹ بھی نہیں دے گی ۔۔۔ ہنیزہ سوں سوں کرتی ۔۔۔اپنے پلان بتانے لگی ….. عابس کو سخت افسوس نے آن گھیرا ۔۔۔۔۔
اچھا ہنی مت دینا یار سوری بول تو رہا ہوں میری جان ۔۔۔عابس چہرے پر شرمندگی کے تاثرات سجائے بولا: عابس نے ہنیزہ کی پیشانی پر بوسہ دیا اور اسے لٹائے اسے مرہم پکڑاتا باہر کی طرف جانے لگا ۔۔۔
پر وہ ناراض تھی ۔۔۔ تبھی بنا دیکھے آواز دیے عابس کے قدم جکڑ گئی
“مجھے نہیں لگتی یہ عابی مما کو بھیج دیں پلیز “ہنیزہ روتے ہوئے بولی ۔۔۔
عابس نے گردن ٹیڑھی کیے ہنیزہ کو دیکھا اور چلتا ہوا اس کے قریب آبیٹھا نہایت نرمی سے اس کے مرہم لگا کر وہ ہنیزہ میکال کے وجود میں برقی لہر دوڑا گیا ۔۔۔ ہنیزہ فورا سے اٹھ کر سیدھی بیٹھی ۔۔۔ عابس سے نظریں چرانے لگی ۔۔۔عابس نے بنا کچھ کہے اسے سینے سے لگالیا
پورے کمرے میں فسوں خیز خاموشی چھائی ہوئی تھی”…
“نیم اندھیرے کمرے میں ڈوبا وہ کمرا اور اس کمرے میں موجود اپنے جنون کی داستان رقم کرنے والے لوگ تھے جن میں سے ایک جی جاں سے محبت کرنے لگی تھی تو دوسرا اسی شدت سے خاموش نفرت نبھا رہا تھالیکن اظہار کرنا دونوں کے لئے ہی دوبھر تھا”…
“سب کی اپنی منزلیں تھیں سب کے اپنے راستے
ایک آوارہ پھرے ہم دربدر سب سے الگ”
“خیال کیوں نہیں رکھتی اپنا”..؟؟؟
“خاموشی کو چیرتی عابس کی آواز ہنیزہ کے کان کے پرودوں سے ٹکرائی تھی”….
“وہ خاموش رہی اس نے کوئی جواب نہ دیا تھا”…
“اسی خاموشی میں وہ اپنا سر عابس کے کندھے پر پورے استحاق سے ٹکائے بیٹھی تھی “…
“اسکی خاموشی میں کی گئی اس حرکت پر عابس کے لبوں پر ایک خوبصورت مسکراہٹ نمایاں ہوئی تھی”…
“بے ساختہ طور عابس نے اس دشمنِ جاں کا نرم و نازک ہاتھ تھام اپنے ہاتھوں میں لیا تھا”…
“کہ وہ جانان خود میں سمٹی تھی”….
“جبکہ وہ حیران ہوا تھا اپنی اس دلربہ کی حرکت پر جو پہلی بات خود سے اس کے اس قدر قریب آئی تھی اک نظر میں اسے دیوانہ بنا گئی تھی”…
“مطلب محبت کا خاموش اظہار بھی کرنا ہے اور ہے اور شرما کر سمٹنا بھی اسی میں ہے”..
“بولو خیال کیوں نہیں رکھتی اپنا”…؟؟؟؟
“اسکو خاموش دیکھ دوبارہ سوال داغا گیا”..
“جیسے اس بار جواب کی پوری امید ہو”…..
“آ۔۔۔آپ ہیں نا میرا خیال رکھنے کیلئے”….
“ہنیزہ کی میٹھی آواز جب گونجی تھی ساتھ بیٹھے عابس کے کانوں میں رس گھول گئی تھی”….
“اگر یہ خیال رکھنے والا ہی نہ رہا تھا پھر کیا کروں گی”…
“وہ ٹرانس کی کیفیت میں بولا تھا”….
ہنیزہ جو عابس سے کوئی اور بات سننے کی توقع کر رہی تھی اس کی یوں بے تکی بات پر کرنٹ کھا کر اپنا ہاتھ کھینچا جس سے عابس بھی ایک دم چونکا تھا شاید ہنیزہ کو عابس کی بات پسند نہیں آئی تھی “…
“کیا ہوا”..؟؟؟
“اسکو یوں پیچھے ہوتے دیکھ وہ حیرانی سے بولا تھا”…
“آ۔۔آپ۔۔آپ کی ہمت کیسے ہوئی اپنے بارے مین ایسے الفاظ استعمال کرنے کی”….
“وہ جنوبی انداز میں عابس کا کالر تھامے چلائی تھی”…
“جبکہ آنسوں تواتر اسکا چہرا بھگو رہے تھے”…
“ہئے”…
“جانم”….
“میں مزاق کر رہا تھا”…
“تم رونے کیوں لگ گئی”….
“اسکے ہاتھوں پر دوبارا اپنا ہاتھ رکھا تھا جنہیں وہ غصے سے جھٹک گئی تھی”….
“مزاق”…؟؟؟؟
“یہ باتیں مزاق میں کرنے والی ہیں”..؟؟؟؟
“کیوں خود کی موت کو بلا کر ہنی کو مارنا چاہتے ہیں آپ”..؟؟؟؟
“آپ نہیں رہیں گے تو میں بھی نہیں رہوں گی”…
“وہ روتے ہوئے بولی تھی کہ بے اختیار عابس نے اسکو کھینچ اپنے چوڑے سینے سے لگایا تھا”….
“آئیم سوری وائفی”..
“اسکی کانچ سی انکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا “..
“ویسے یہ آنسوں ، میری موت کیلے ہیں یا پھر میرے مرنے کے بعد تمہاری اپنی موت کے”..؟؟؟
“دانتوں تلے لب دبائے اپنی ہنسی ضبط کیے بولا تھا”….
“جبکہ اسکی بات سن ہنیزہ نے خون خوار نظروں سے اسے گھورا تھا اور ہاتھ چھڑا کر جانے لگی تھی”…
“کہ عابس نے اس کو واپس اپنی عور کھینچا تھا “…..میکال صاحب کو جب ہنیزہ کی خبر ملی وہ دوڑے چلے آئے عاشر نے انہیں فلحال عابس کی بابت کچھ نہیں بتایا تھا وہ چاہتا تھا کہ میکال صاحب کو خود پتا چلے۔۔۔ وہ کیسے جان سے پیارے چچا کو اس حال میں دیکھتا ۔۔۔
میکال صاحب پیلس میں داخل ہوتے ہنیزہ کو آوازیں دینے لگے عفت بیگم اور افرال صاحب سب ان سے نظریں چرا رہے تھے ۔۔۔ وہ خود ہی ہنیزہ کے کمرے کی جانب قدم بڑھا گئے۔۔۔ پر یہ کیا ۔۔۔ ہنیزہ تو وہاں موجود نہ تھی ۔۔۔
میکال صاحب حیرت سے اسے ہر کمرے میں ڈھونڈتے عابس کے کمرے میں داخل ہوئے جہاں ہنیزہ عابس کے کندھے پر سر رکھے تھی ۔۔۔میکال صاحب حیرانی سے یہ منظر دیکھتے اپنے غصے پر قابو پانے لگے ۔۔۔
عابس ہنیزہ کو اپنے کمرے میں جانا ہے ۔۔۔۔
اپنے بابا کی آواز سن کر ہنیزہ کو نئی زندگی سی ملی تھی وہ دومنٹ پہلے آئی ساری ناراضگی بھلائے عابس سے دور ہوتی ۔۔۔۔ ان کے سینے سے لگتی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
یہ دن و رات ہنیزہ نے کیسے گزارے تھے یہ صرف وہی جانتی تھی ۔۔۔ ازیت کی جس انتہا پر اس نے درد برداشت کیے ۔۔۔ کوئی اور لڑکی ہوتی تو کب ک مر جاتی میکال صاحب اسے ساتھ لگائے کمرے میں لے آئے ۔۔۔
وہ ہنیزہ کو آرام کا کہتے خود نیچے چلے آئے ۔۔افرال صاحب سر ہاتھوں میں تھامے بیٹھے تھے .
افرال یہ سب کیا ہورہا ہے اس گھر میں ہنیزہ کو عابس کے کمرے میں رکھنے کی جرات کس نے کی ۔۔۔ کس حق سے عابس نے ہنیزہ کو اپنے روم میں رکھا ۔۔۔ مجھے جواب چاہیے………میکال صاحب گرجدار آواز میں بولے
افرال صاحب بنا ایک لفظ منہ سے نکالے ان کے سامنے ہاتھ جوڑ گئے
عفت بیگم نے روتے ہوئے میکال صاحب کو سارے معاملے سے آگاہ کیا اور معافی مانگی ۔۔۔۔میکال صاحب کی آنکھوں میں خون اتر آیا ان کو کہاں اس سب کی امید تھی اپنے ہی خون سے ۔۔۔۔۔۔ عابس کا رویہ وہ ہنیزہ کے ساتھ کس طرح کا رہا ہے اس سے وہ بخوبی واقف تھے کیسے جان بوجھ کر اپنی بیٹی کو ایک ایسے شخص کے حوالے کر دیتے ۔۔۔ جو وحشی تھا ۔۔۔ جس کی آنکھون میں چھپی وحشت وہ دیکھ پاتے تھے
 “نہیں افرال بہت غلط ۔۔۔ بہہہت غلط کیا ہے عابس نے میری ہنی کے ساتھ اسے ابھی کے ابھی ہنی کو طلاق دینی ہوگی یہی میرا آخری فیصلہ ہے ۔۔۔ “میکال صاحب کے لہجے میں صاف گوئی کے ساتھ انتہائی سختی تھی جسے محسوس کرتے وہاں موجود ہر شخص لب سیے رہ گیا ۔۔۔ن
“میں ہنیزہ کو طلاق کسی صورت نہیں دونگا چاہے آپ کچھ بھی کرلیں ۔۔۔۔ اور اگر آپ نے ایسی کوئی کوشش کی یا ہنیزہ کو مجھ سے دور کرنے کا سوچا ۔۔۔ بھی تو یہ عابس سلطان کا وعدہ ہے ۔۔۔ کہ آپ میں سے کوئی ہنیزہ کا دوبارہ نہیں دیکھ پائے گا “
سیڑھیوں سے اترتے عابس کے کانوں میں میکال صاحب کے لفظوں نے جیسے آگ لگا دی تھی تبھی وہ بنا لگی لپٹی انہیں اپنے ارادے سے آشنا کر گیا ۔۔۔۔
میکال صاحب اپنا آپا کھوتے عابس کی طرف لپکے اور ایک ہی جست میں اس کا گریبان دبوچ لیا ۔۔۔۔
“تم ۔۔۔۔۔ تمہاری اتنی ہمت میرے سامنے زبان لڑاو گے تم ۔۔۔ میری بیٹی کی معصومیت کا فائدہ اٹھایا ہے تم نے . . کبھی معاف نہیں کرونگا تمہیں عابس ۔۔۔ اعتبار توڑا ہے تم میرا ۔۔۔ مان توڑا ہے”…میکال صاحب آخر میں شکست زدہ لہجے میں بولے
عابس بلکل خاموش تھا بنا کچھ کہے ۔۔۔۔ اپنی من مانی تو وہ کر ہی چکا تھا ۔۔۔۔ اس کا مقصد ہنیزہ میکال کو حاصل کرنا تھا وہ کر چکاتھا ۔۔۔
___________________
عاشر واپس آیا تو میکال صاحب کو دیکھ اسے معاملے کی نوعیت کا اندازہ ہوا یعنی ان کو ساری بات کا پتا لگ چکا تھا
کاوچ پر عفت بیگم نڈھال سے بیٹھی اپنا غم غلط کر رہی تھیں تو دوسری طرف میکال صاحب اور عابس آمنے سامنے تھے…عاشر کو آتے دیکھ ۔۔۔ میکال صاحب اس کی جانب بڑھے ۔۔۔
“عاشر تم نے ذمہ لیا تھا نا میری بیٹی کی حفاظت کا تو کیسے چوق گئے تم عاشر کیسے میری پھول سے بچی کے ساتھ یہ ظلم تم نے ہونے دیا آخر قصور کیا ہے اس کا ۔۔۔”
 میکال صاحب اس وقت ایک ہارے ہوئے باپ لگ رہے تھے عاشر شرم سے نظریں جھکا گیا ۔۔۔ حال ایسا تھا کہ عابس. کو گولی سے اڑا دے ۔۔۔ آج صرف اس کی وجہ سے اس گھر کا شیرازہ بکھرا تھا سب لوگ ایک دوسرے سے نظریں چرانے پر مجبور ہو گئے تھے ۔۔۔
عابس اپنی شاہانہ چال چلتے میکال صاحب کے سامنے آکھڑا ہوا پر اس بار اس کے لہجے نے وہاں کھڑے ہر شخص کو چونکنے پر مجبور کر دیا تھا کسی کو بھی عابس سے اس قدر نرمی اور سمجھداری کی گفتگو کی امید نہیں تھی….”بڑے پاپا مجھے پتا ہے آپ کو تکلیف دی ہے جس کی معافی شاید مجھے کبھی بھی نہ مل سکے پر ایک وعدہ ضرور کرتا ہوں ۔۔۔ کبھی ہنیزہ کو ایک خراش تک نہیں آنے دونگا اپنی جان سے بڑھ کر اس کی حفاظت کرونگا”
ایک ٹہھراو تھا اس کے لہجے میں ۔۔۔ میکال صاحب نے سخت نگاہ اس پر ڈالی ۔۔۔میکال صاحب برس پڑے “اور کیوں مانوں میں تمہاری تمہاری بات ۔۔۔ ہاں جو لڑکا میری بیٹی سے زبردستی بنا اس معصوم کی عمر کا لحاظ کیے اسے اس قدر تکلیف دے سکتا ہے ۔۔۔۔ ایسے لڑکے کو اپنی بیٹی سونپنے کا میں سوچ بھی نہیں سکتا۔۔۔۔ “
“بڑے پاپا ایک ریکوئیسٹ ہے آپ بس مجھے تین مہینے کا وقت دیں ان تین مہینوں میں ہنیزہ کو آپ کی نظروں کے سامنے پھول کی طرح رکھونگا اس کی ہر تکلیف خود پر لونگا اور اگر ان تین مہینوں بعد ہنیزہ میرے ساتھ رہنا نا چاہے تو میرا وعدہ ہے کبھی ہنیزہ کے راستے میں نہیں آونگا “
عابس نے ایک اور داو پھینکا جانتا تھا اب بازی صرف عاطس سلطان کی ہوگی ۔۔۔ کیونکہ ہارنا تو اس نے سیکھا ہی نہیں تھا
ٹھیک ہے دیتا ہوں تمہیں تین ماہ اگر اس کے بعد بھی تم مجھے میری بیٹی کے قابل نہ لگے یا میری بیٹی کو زرا سی تکلیف دینے کا سوچا بھی تو موت سے بدتر حالت کردونگا ۔۔۔ مجھے کمزور سمجھنے کی غلطی مت کرنا ۔۔۔۔
_________
کیا چاہتی ہو مجھ سے ؟۔۔۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی اس قدر گری ہوِئی حرکت کرنے کی وہ بری طرح اپنے سامنے کھڑی بلیک سلیولیس فراک میں ملبوس اس بے باک لڑکی سے مخاطب تھا جو اس کے لیے وبال جان بن چکی تھی ۔۔۔
ہاں وہ پلے بوائے تھا لیکن اس کے لنکس صرف مصنوعی چیٹ اور میسجز تک محدود تھے اس نے کبھی اپنی حدود سے تجاوز نہیں کیا تھا وہ ۔۔۔کبھی کسی لڑکی کی طرف مائل نہ ہوتا لڑکیاں اس کی خوبصورتی سٹیٹس دیکھ اپنا آپ نچھاور کرنے کو تیار رہتیں تھیں
وہ ارشمان تھا ۔۔۔۔ جو نور کے عشق میں ڈوبا سب کچھ بھلا چکا تھا نشاء اس کی کالج فرینڈ تھی اور دونوں ایک دوسرے کے کافی قریب تھے نشا ء بہت بولڈ لڑکی تھی اسے اپنی حدود کا کوئی پاس نہ تھا آئے دن وہ کسی نا کسی پارٹی کی زینت بنی ہوتی اس کی بے باکی اسے لوگوں میں کافی فیم دلا چکی تھی ۔۔۔
خصوصا لڑکوں میں۔۔۔ارشمان سب کچھ چھوڑ چکا تھا پر نشا سے اس کا تعلق اب بھی باقی تھا ۔۔۔۔ نشا ہر جگہ اس کے پیچھے لگی رہتی اور جان بوجھ کر اس کے قریب رہنے کی کوشش کرتی ۔۔۔”ارشمان میں محبت کرتی ہوں تم سے نہیں رہ سکتی تم سے دور سنا تم نے میں مار دونگی اس نور کووہی ہے نہ جس کی وجہ سے تم مجھے ریجیکٹ کر رہے ہو کمی کیا ہے مجھ میں جو تمہیں اد حجابن سے اس قدر لگاو ہے “
نشا اپنی سرخ نشیلی آنکھوں میں آگ سی تپش لیے ارشمان کو للکار رہی تھی ۔۔۔۔ ارشمان اس کی بکواس نور کے بارے میں سنتا انگاروں پر لوٹنے لگا ۔۔۔۔بنا سوچے سمجھے ارشمان نے نشا کے بالوں سے پکڑ کر اسے خود سے قریب کیا اور سانپ کی طرح پھنکارا خبردار جو نور کا نام اپنی اس قینچی جیسی زبان سے لیا ۔۔۔
تمہارے اس قدر ٹکڑے کرونگا کہ گھر والے میت ڈھونڈتے رہ جائیں گے ۔۔۔ تم ہوتی کون ہو اپنا موازنہ نور سے کرنے والی ۔۔۔ ارے تم تو اس کے پیروں کی خاک کے برابر بھی نہیں ۔۔۔۔
سنا تم نے ۔۔۔۔ارشمان اسے دور دھکیلتا باہر نکلتا چلا گیا.

جاری ہے ۔۔۔۔۔!

کومنٹس کر کے جائے شاباش.

ناول نگری میں ہر نئے پرانے لکھاری کی پہچان، ان کی اپنی تحریر کردہ ناول ہیں۔ ناول نگری ادب والوں کی پہچان ہے۔ ناول نگری ہمہ قسم کے ناول پر مشتمل ویب سائٹ ہے جو عمدہ اور دل کو خوش کردینے والے ناول مہیا کرتی ہے۔ناول کا ریوئیو دینے کیلئے نیچے کمنٹ کریں یا پھر ہماری ویب سائیٹ پر میل کریں۔شکریہ
novelsnagri786@gmail.com

Read Forced Marriage Based Novel with Romantic love story. At this website Novelsnagri.com  Also Give your comments on the novels and also visit our Facebook page for Ebooks . Hope all of you enjoy it.

Leave a Comment

Your email address will not be published.