Web Special Novel,forced nikah based love story

forced nikkah based, shiddat-e-lams Epi 9

Web Site: Novelsnagri.com
Novel name : shiddat-e-lams Epi 9 , Written by: faiza zainab , Catogery: forced nikkah based, forced marriage & novel is full of emotions, romance , suspense & thrill, Story of a girl who wants to follow the society style.

Web Special Novel, forced nikkah based,

 9 شدت لمس قسط نمبر 
از قلم فائزہ شیخ

عابس کب سے اسے ڈھونڈ رہا تھا جو صبح سے ہی اس سے چھپنے کی معصوم سی کوشش کر رہی تھی مگر شاید وہ عابس سلطان کے جنون سے نا واقف تھی۔۔تبھی وہ ہر بار اپنی معصوم حرکتوں سے عابس کا غصہ بڑھا دیتی تھی۔ ہنیزہ میکال کا اسکے قریب رہنا جیسے ہر آتی جاتی سانس کے مترداف تھوہ ہوا میں موجود آکسیجن کی مانند اسکی سانسوں کو کھینچ لینا چاہتا تھا مگر اپنے طریقے سے اسے پور پور اذیت دیتے وہ اپنے نشے کو پورا کرنا چاہتا تھا عابس آنکھوں میں سرد تاثرات لیے کمرے سے باہر آیا تھا۔

وہ ہر اس جگہ دیکھ چکا تھا جہاں ہنیزہ کا پایا جانا ممکن تھا مگر وہ خود بھی حیران تھاکہ وہ اسے کہیں نہیں ڈھونڈ سکا تھا مگر اسکی خوشبو وہ محسوس کر پا رہا تھا کہ وہ اسکے آس پاس ہے بہت قریب ، عابس نیچے آیا اور ماما سے پوچھنے کا سوچ وہ چلتا کچن میں گیا ، مگر اسکی آنکھوں میں عجیب سی سرخی پھیلنے لگی , قدم زمین پر ساکت ہو گئے۔۔

سامنے ہی ہنیزہ میکال اطمینان سے کچھ بنانے کی کوشش میں پوری طرح سے کھوئی جتن کر رہی تھی۔”

عابس سلطان کی گہری نظریں اسکی بھیگی کمر سے ہوتے اسکے بالوں میں اٹکی ، ہنیزہ میکال کے بھیگے بالوں سے ٹپ ٹپ کرتے پانی کے گرتے قطرے دیکھ عابس سلطان کے اندر ایک الگ سا طوفان برپا ہونے لگا، وہ پھولی رگوں سے گردن کو آگے پیچھے حرکت دیے خود پر ضبط کرنے لگا۔ مگر ہینزہ میکال ہر بار نا چاہتے ہوئے بھی اسکے حواسوں پر طاری ہوتے اسے بری طرح سے اپنی جانب مائل کر دیتی تھی۔””

عابس اپنے بھاری قدم اٹھائے ہنیزہ میکال کے قریب تر ہوا ، شاید اسکی نظروں کی تپش تھی یا پھر عابس سلطان کی حواسوں پر طاری ہوئی خوشبو کہ ہنیزہ میکال کے ہاتھ تھم سے گئے نیلی کانچ سی گہری آنکھوں میں سایہ سا لہرایا ۔ ہنیزہ نے اپنے سرخ ہونٹوں پر زبان پھیرتے انہیں تر کیا اور پھر اپنے نازک کپکپاتے ہاتھوں کی کپکپاہٹ پر قابو پانے کی سعی کرتے وہ پھر سے اپنے کام میں مشغول ہوئی۔”

عابس اسکا سانس روکنا محسوس کر چکا تھا مگر اب اسے خود کو اگنور کرتے دیکھ اسکے اندر کا ڈیول انگڑائی لئے بیدار ہونے لگا مگر عابس نے مٹھیاں بھینجتے اپنے آپ پر ضبط کیا ،

” کیا بنا رہی ہو ہنی___؟”۔

عابس نے جھکتے اسکے کان میں سرگوشی کی تو ہنیزہ نے بمشکل سے اپنے لرزتے وجود کو سنھبالا وہ ظالم ہنیزہ کی پشت کو اپنے سینے سے لگائے اب ہونٹ اسکے بھیگے کندھے پر رکھ چکا تھا ۔ ہنیزہ کا روم روم عابس سلطان کے دہکتے لمس پر مچل اٹھا۔۔”

“ببببھوک لللگی تتتھی تتتو کککچچھ کککھانے کککو ۔۔۔۔ ” عابس سلطان کے بے باک ہاتھ اب بڑی دیدہ دلیری سے ہنیزہ کی گردن پر چپکے بالوں کو سمیٹنے میں مصروف تھا ۔

اچھا میری بھوک کا ذرا احساس نہیں تمہیں ۔۔۔ اور اپنی بھوک مٹانے کی پڑی ہے ۔۔” ججج جی عابی اپپپ کک کو بھی بھوک للگی ہے ۔۔۔ “وہ معصوم عابس سلطان کے بے باک گہرے لہجے کو سمجھنے سے قاصر اپنی سوچ کے مطابق بولی ، ہممممم مجھے کچھ خاص کھانا ہے ،جو صرف تمہی دے سکتی ہو_” ہنیزہ نے نا سمجھی سے اپنی نیلی آنکھوں کو پھیلائے مڑتے عابس سلطان کو دیکھا،

مم میں کیسے مٹا سکتی ہوں عابی ” ہنیزہ کی آنکھوں میں حیرت تھی، تمہی دے سکتی ہو سب کچھ ہنی تمہارے پاس وہ سب کچھ ہے جو عابس سلطان کو چاہیے۔۔۔” عابس سلطان کے خوبصورت ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری، اچھا چھوڑو یہ سب میں کچھ لایا ہوں تمہارے لئے۔۔۔۔۔”اپنے مضبوط ہاتھ میں ہنیزہ کا نازک ہاتھ مضبوطی سے تھامے وہ مسکراتا بولا ۔۔ مممگر عابببی ییی مممیرا__”

اششش__”کچھ نہیں ماما کر لیں گی تم چلو میرے ساتھ ۔۔۔۔۔”اسکی بات کاٹتا عابس اسے لئے اپنے کمرے کی جانب بڑھا تھا ہنیزہ میکال کا نازک وجود اسکے ساتھ کھینچتا چلا جا رہا تھا۔ عابس سلطان گہری مسکراہٹ سے مسکراتا اسے کمرے میں لایا اور مڑتے دروازہ لاک کیا۔ہنیزہ کی نیلی آنکھوں میں عجیب سے تاثرات نمایاں ہوئے۔

گھبرا کیوں رہی ہو، ہنی میں تو تمہارا دوست ہوں ناں۔۔”ہنیزہ کی گھبراہٹ کو دیکھتا وہ معصومیت سے پوچھتا اسکے قریب ہوا۔۔ ہاں عاببببی اپپ میرے دوسسست ہیں ممیں نہیںں ڈرتی اببب۔۔۔۔”عابس سلطان کی آنکھوں میں دیکھتے وہ بمشکل سے مگر بول چکی تھی عابس کے اندر سرور کی لہریں برپا ہونے لگیں وہ جھولتا مسرور سا ایک دم سے اسے خود میں بھینج گیا۔

ہنیزہ کی دھڑکنیں ساکت سی تھیں وہ عابس سلطان کے مضبوط تنگ حصار میں اسکے سینے سے لگی اسکی قربت میں اپنے اندر ایک الگ سی خوشی محسوس کر رہی تھی۔ دل جیسے عابس سلطان کی قربت اسکی طلب کو بےچین تھا۔ عابس نے بہت نرمی سے ہنیزہ کے چہرے کو دیکھا جہاں صرف سکون آباد تھا۔

عابس نے بے حد نرمی سے اپنے ہونٹ ہنیزہ کی تھوڑی سے ذرا اوپر اسکے ہونٹوں کے بلکل قریب رکھے،اسکے لمس میں نرمی تھی مگر آنکھوں میں جنون برپا تھا، ہنیزہ کا نازک وجود عابس سلطان کے ہر نئے لمس پر مسرور سا ہو رہا تھا اور عابس سلطان اسے ہر بار ایسے چھوتا تھا جیسے وہ بے حد انمول ہو کوئی کانچ کی گڑیا جسے اپنی بانہوں کے تنگ حصار میں قید کرتے تڑپانا صرف اور صرف عابس سلطان ہاتھقسط
از قلم فائزہعابس کب سے اسے ڈھونڈ رہا تھا جو صبح سے ہی اس سے چھپنے کی معصوم سی کوشش کر رہی تھی مگر شاید وہ عابس سلطان کے جنون سے نا واقف تھی۔۔تبھی وہ ہر بار اپنی معصوم حرکتوں سے عابس کا غصہ بڑھا دیتی تھی۔ ہنیزہ میکال کا اسکے قریب رہنا جیسے ہر آتی جاتی سانس کے مترداف تھا۔۔

وہ ہوا میں موجود آکسیجن کی مانند اسکی سانسوں کو کھینچ لینا چاہتا تھا مگر اپنے طریقے سے اسے پور پور اذیت دیتے وہ اپنے نشے کو پورا کرنا چاہتا تھا عابس آنکھوں میں سرد تاثرات لیے کمرے سے باہر آیا تھا۔

وہ ہر اس جگہ دیکھ چکا تھا جہاں ہنیزہ کا پایا جانا ممکن تھا مگر وہ خود بھی حیران تھاکہ وہ اسے کہیں نہیں ڈھونڈ سکا تھا مگر اسکی خوشبو وہ محسوس کر پا رہا تھا کہ وہ اسکے آس پاس ہے بہت قریب ، عابس نیچے آیا اور ماما سے پوچھنے کا سوچ وہ چلتا کچن میں گیا ، مگر اسکی آنکھوں میں عجیب سی سرخی پھیلنے لگی , قدم زمین پر ساکت ہو گئے۔۔

سامنے ہی ہنیزہ میکال اطمینان سے کچھ بنانے کی کوشش میں پوری طرح سے کھوئی جتن کر رہی تھی۔”

عابس سلطان کی گہری نظریں اسکی بھیگی کمر سے ہوتے اسکے بالوں میں اٹکی ، ہنیزہ میکال کے بھیگے بالوں سے ٹپ ٹپ کرتے پانی کے گرتے قطرے دیکھ عابس سلطان کے اندر ایک الگ سا طوفان برپا ہونے لگا، وہ پھولی رگوں سے گردن کو آگے پیچھے حرکت دیے خود پر ضبط کرنے لگا۔ مگر ہینزہ میکال ہر بار نا چاہتے ہوئے بھی اسکے حواسوں پر طاری ہوتے اسے بری طرح سے اپنی جانب مائل کر دیتی تھی۔””

عابس اپنے بھاری قدم اٹھائے ہنیزہ میکال کے قریب تر ہوا ، شاید اسکی نظروں کی تپش تھی یا پھر عابس سلطان کی حواسوں پر طاری ہوئی خوشبو کہ ہنیزہ میکال کے ہاتھ تھم سے گئے نیلی کانچ سی گہری آنکھوں میں سایہ سا لہرایا ۔ ہنیزہ نے اپنے سرخ ہونٹوں پر زبان پھیرتے انہیں تر کیا اور پھر اپنے نازک کپکپاتے ہاتھوں کی کپکپاہٹ پر قابو پانے کی سعی کرتے وہ پھر سے اپنے کام میں مشغول ہوئی۔”

عابس اسکا سانس روکنا محسوس کر چکا تھا مگر اب اسے خود کو اگنور کرتے دیکھ اسکے اندر کا ڈیول انگڑائی لئے بیدار ہونے لگا مگر عابس نے مٹھیاں بھینجتے اپنے آپ پر ضبط کیا ،

” کیا بنا رہی ہو ہنی___؟”۔

عابس نے جھکتے اسکے کان میں سرگوشی کی تو ہنیزہ نے بمشکل سے اپنے لرزتے وجود کو سنھبالا وہ ظالم ہنیزہ کی پشت کو اپنے سینے سے لگائے اب ہونٹ اسکے بھیگے کندھے پر رکھ چکا تھا ۔ ہنیزہ کا روم روم عابس سلطان کے دہکتے لمس پر مچل اٹھا۔۔”

“ببببھوک لللگی تتتھی تتتو کککچچھ کککھانے کککو ۔۔۔۔ ” عابس سلطان کے بے باک ہاتھ اب بڑی دیدہ دلیری سے ہنیزہ کی گردن پر چپکے بالوں کو سمیٹنے میں مصروف تھا ۔

اچھا میری بھوک کا ذرا احساس نہیں تمہیں ۔۔۔ اور اپنی بھوک مٹانے کی پڑی ہے ۔۔” ججج جی عابی اپپپ کک کو بھی بھوک للگی ہے ۔۔۔ “وہ معصوم عابس سلطان کے بے باک گہرے لہجے کو سمجھنے سے قاصر اپنی سوچ کے مطابق بولی ، ہممممم مجھے کچھ خاص کھانا ہے ،جو صرف تمہی دے سکتی ہو_” ہنیزہ نے نا سمجھی سے اپنی نیلی آنکھوں کو پھیلائے مڑتے عابس سلطان کو دیکھا،

مم میں کیسے مٹا سکتی ہوں عابی ” ہنیزہ کی آنکھوں میں حیرت تھی، تمہی دے سکتی ہو سب کچھ ہنی تمہارے پاس وہ سب کچھ ہے جو عابس سلطان کو چاہیے۔۔۔” عابس سلطان کے خوبصورت ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری، اچھا چھوڑو یہ سب میں کچھ لایا ہوں تمہارے لئے۔۔۔۔۔”اپنے مضبوط ہاتھ میں ہنیزہ کا نازک ہاتھ مضبوطی سے تھامے وہ مسکراتا بولا ۔۔ مممگر عابببی ییی مممیرا__”

اششش__”کچھ نہیں ماما کر لیں گی تم چلو میرے ساتھ ۔۔۔۔۔”اسکی بات کاٹتا عابس اسے لئے اپنے کمرے کی جانب بڑھا تھا ہنیزہ میکال کا نازک وجود اسکے ساتھ کھینچتا چلا جا رہا تھا۔ عابس سلطان گہری مسکراہٹ سے مسکراتا اسے کمرے میں لایا اور مڑتے دروازہ لاک کیا۔ہنیزہ کی نیلی آنکھوں میں عجیب سے تاثرات نمایاں ہوئے۔

گھبرا کیوں رہی ہو، ہنی میں تو تمہارا دوست ہوں ناں۔۔”ہنیزہ کی گھبراہٹ کو دیکھتا وہ معصومیت سے پوچھتا اسکے قریب ہوا۔۔ ہاں عاببببی اپپ میرے دوسسست ہیں ممیں نہیںں ڈرتی اببب۔۔۔۔”عابس سلطان کی آنکھوں میں دیکھتے وہ بمشکل سے مگر بول چکی تھی عابس کے اندر سرور کی لہریں برپا ہونے لگیں وہ جھولتا مسرور سا ایک دم سے اسے خود میں بھینج گیا۔

ہنیزہ کی دھڑکنیں ساکت سی تھیں وہ عابس سلطان کے مضبوط تنگ حصار میں اسکے سینے سے لگی اسکی قربت میں اپنے اندر ایک الگ سی خوشی محسوس کر رہی تھی۔ دل جیسے عابس سلطان کی قربت اسکی طلب کو بےچین تھا۔ عابس نے بہت نرمی سے ہنیزہ کے چہرے کو دیکھا جہاں صرف سکون آباد تھا۔

عابس نے بے حد نرمی سے اپنے ہونٹ ہنیزہ کی تھوڑی سے ذرا اوپر اسکے ہونٹوں کے بلکل قریب رکھے،اسکے لمس میں نرمی تھی مگر آنکھوں میں جنون برپا تھا، ہنیزہ کا نازک وجود عابس سلطان کے ہر نئے لمس پر مسرور سا ہو رہا تھا اور عابس سلطان اسے ہر بار ایسے چھوتا تھا جیسے وہ بے حد انمول ہو کوئی کانچ کی گڑیا جسے اپنی بانہوں کے تنگ حصار میں قید کرتے تڑپانا صرف اور صرف عابس سلطان کے ہاتھ میں تھا۔

عابس سلطان کی مونچھوں کی جبھن پر وہ معصوم کسمسا سی گئی مگر اسے خود سے دور کرنے کی کوشش نہیں کی تھی اور یہی عابس سلطان کی جیت تھی، عابس سلطان نے استحقاق سے اپنا بھاری ہاتھ اس نازک وجود کے گرد لپیٹتے اسے خود سے قریب تر کیا اور اپنے تشنہ ہونٹ ہنیزہ میکال کی نازک پنکھڑیوں پر رکھتے وہ نرمی سے انکی نرماہٹ محسوس کرتے اپنے لمس سے ہنیزہ میکال کو اپنی سحر میں جکڑنے لگا۔۔

ہنیزہ میکال کی سانسوں کو خود میں اتارتے وہ بے حد نرمی سے پیچھے ہٹا تھا، اسکے دور جانے پر بھی ہنیزہ آنکھیں موندے عابس سلطان کو محسوس کر رہی تھی۔ عابس کے ہونٹ اس معصوم کو دیکھ مسکرائے۔۔

ہنیزہ عابس کو خود سے دور محسوس کیے آنکھیں کھولتے اسے دیکھنے لگی اور پھر عابس کی گہری نظریں کو خود پر ٹکا پاتے ہنیزہ نے جلدی سے رخ موڑا اسکی یہ حرکت عابس سلطان کو ناچاہتے ہوئے بھی بھای تھی،

چاکلیٹس لایا تھا تمہارے لئے_”” اپنی پاکٹ سے چاکلیٹس نکالتے عابس سلطان نے اس معصوم کے سامنے کیں جس کی آنکھوں میں ایسی چمک تھی جیسے کوئی خزانہ مل گیا ہو۔۔

ایسی ہی تو تھی ہنیزہ میکال___چھوٹی چھوٹی چیزوں میں خوشیاں ڈھونڈنے والی۔۔۔ کسی بے جان کو بھی تکلیف نہیں دیتی تھی کبھی اور اسکے برعکس عابس سلطان تھا ایک ان دیکھا حیوان___ جو اس معصوم کی روح کو فنا کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔

چاکلیٹس عابی اپپپ مممیرے لئے لائے ہیں۔”” ہنیزہ نے اپنی اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے ان چاکلیٹس کو تھاما تو اسکے نازک ہاتھ کے لمس پر عابس نے بغور ہنیزہ میکال کی مخروطی نرم و نازک انگلیوں کو دیکھا۔

عابببی عاشو بببھائی کو ببببھی دے دوں ایکک___” ہنیزہ میکال جو اس وقت سر تا پاؤں اپنے بھیگے وجود سے اسکے سامنے کھڑی عابس سلطان کے ضبط کا کڑا امتحان لے رہی تھی اور اب اسکی بات سنتے عابس سلطان کے ماتھے پر تیزی سے بل نمایاں ہوئے۔۔

عابس سلطان کی نظریں ہنیزہ کے چاکلیٹ سے بھرے ہونٹوں پر تھیں وہ سرد سانس فضا کے سپرد کرتے اسکے نزدیک ہونے لگا، ہنیزہ اسکے تاثرات سے سہمی ہوئی پیچھے ہونے لگی مگر وہ معصوم انجان تھی کہ عابس سلطان اسے زمین سے بھی کھود کے نکال کر واپس اپنے سامنے لا سکتا تھا۔۔

اور اس وقت وہ جیتی جاگتی اسکے سامنے کھڑی تھی۔ “تمہارے ان لبوں سے میرے سوا کسی اور کا ذکر سننا سخت نا پسند ہے عابس سلطان کو۔۔۔۔” جو چیز تمہیں میں دوں اسے اپنے پاس رکھو تو ٹھیک اگر کسی دوسرے کو دینے یا نظر انداز کرنے کی کوشش بھی کی تو اچھا نہیں ہو گا ۔۔۔”

اپنی غصے سے لبریز سرخ آنکھوں کو ہنیزہ میکال کی نیلی سمندر جیسی گہری آنکھوں میں گھاڑتے وہ سخت ٹھٹرا دینے والے لہجے میں بولا۔ ہنیزہ نے جلدی سے سر ہاں میں ہلایا وہ عابی کو۔کسی صورت ناراض نہیں کر سکتی تھی۔ابھی تو ان دونوں کی دوستی ہوئی تھی۔

کچھ سمجھ آئی۔” عابس سلطان ہنیزہ میکال کے پیچھے ہوتے دیوار سے لگنے پر اپنے ہاتھ اسکے دائیں بائیں جمائے گہرے لہجے میں استفسار کرتا اپنے بائیں ہاتھ کے انگوٹھے سے ہنیزہ کے نچلے ہونٹ پر لگی چاکلیٹ کو رگڑتے صاف کرنے لگا۔

ہنیزہ عابس سلطان کے کھردرے سخت انگوٹھے کے لمس کو اپنے ہونٹوں پر پاتے ڈرتے آنکھیں میچیں تیز تیز سانس لیتی اپنا تنفس بحال رکھنے کی سعی کرنے لگی۔ ہنی میں نے کچھ پوچھا ہے۔۔۔۔” ہنیزہ میکال کا مسلسل خاموش رہنا عابس سلطان کو زرا بھی نہیں بھایا تھا۔

تو آپ اپنا انگوٹھا اٹھائیں گے تو ہی میں بولوں گی۔۔ ” ہنیزہ میکال نے آنکھیں پھیلائے اسے اپنے ہونٹ کی جانب اشارہ کرتے کہا تو عابس کے ہونٹ اسکی معصومیت پر مسکرائے۔۔

اگر آپ کو چاکلیٹ کککھانی ہے تو مممجھ سے لے لیں ۔۔۔” ہنیزہ کو لگا شاید وہ چاکلیٹ کھانا چاہتا تھا جبھی ہنیزہ کے ہونٹوں پر لگی چاکلیٹ کو اتار رہا تھا۔۔ہنیزہ نے چاکلیٹ اسکے سامنے کرتے کہا تو عابس نے ایبرو اچکائے ہنیزہ میکال کے۔معصوم چہرے کو دیکھا۔۔۔ نہیں ہنی تم کھاؤ میں کھا لوں گا۔”

عابس نے انگوٹھا منہ میں رکھتے کہا تو ہنیزہ نے آنکھیں پھیلائے عابس سلطان کو دیکھا۔۔ ” عاببببی مجھے بھی کھانا ہے۔۔ ہنیزہ نے چمکتی آنکھوں سے عابس سلطان کے انگھوٹھے کو دیکھا جسے وہ منہ میں دیے ہوئے تھے۔۔۔۔نہیں تم جیسے کھا رہی ہو ویسے ہی کھاؤ۔۔۔۔” میں اپنے طریقے سے کھاؤں گا۔۔

عابس سلطان نے استحقاق سے ہنیزہ میکال کو اپنی گرفت میں لیا تو ہنیزہ نے بغور عباس سلطان کے حسین چہرے کو دیکھا۔عابس نے ہنیزہ کے ہاتھ سے چاکلیٹ لیے ہنیزہ میکال کے گالوں اور پھر اسکی ناک پر لگائی۔۔۔ ہنیزہ کی آنکھوں میں دیکھتا وہ مسکرایا۔۔۔ اور پھر شدت سے جھکتے اسے گالوں پر لگی چاکلیٹ کو اپنے ہونٹوں سے چنتے وہ ہنیزہ میکال کو لرزنے پر مجبور کر گیا۔۔

ہنیزہ آنکھیں موندے اپنے چہرے پر عابس سلطان کے جادوئی لمس کو محسوس کر رہی تھی ۔عابس سلطان نے نرمی سے ہنیزہ کی ناک سے ہوتے اسکے ہونٹوں کو اپنی دہکتی گرفت میں لیا ہنیزہ میکال اپنی سانسوں میں الجھی عابس سلطان کی دہکتی سانسوں کو محسوس کرتی مدہوش سی ہونے لگی تھی۔۔

عابس سلطان کا نرم لمس اسے الگ ہی دنیا میں لے گیا تھا۔۔۔۔جبکہ عابس سلطان اپنی محبت کا سحر پھونکتا نرمی سے پیچھے ہوا تو ہنیزہ میکال لنگے لمبے سانس بھرتے اپنا تنفس بحال کرنے لگی۔ عابس سلطان کی نگاہیں ہنیزہ میکال کے چہرے پر اپنی شدتوں کے نشانات پر تھیں۔

عابببی ممم مممممجھے ببببھی ککک۔کھانی ہے۔۔۔ ” ہنیزہ میکال نے آنکھیں جھکائے ایک نئی فرمائش کی تھی مگر وہ بھول چکی تھی کہ وہ خود ہی اسں ڈیول کو اپنی معصوم حرکتوں سے جگا رہی تھی جس کے شدتیں ہنیزہ میکال کی سانس روک دیا کرتی تھی۔۔

تو کھا لو۔۔۔۔۔” عابس سلطان نے اپنی مخمور نگاہوں سے ہنیزہ میکال کے حسین چہرے کو دیکھ اجازت دی۔۔ تو ہنیزہ مسکراتے چاکلیٹ اسکے گالوں پر لگا گئی۔۔۔عابس کی آنکھوں میں سرخی اترنے۔لگی۔۔۔جس سے انجان وہ معصوم اب پاؤں اونچے کیے عابس سلطان کے انداز میں اسکے گالوں پر لگی چاکلیٹ کو اپنے ہونٹوں سے صاف کرنے لگی۔۔

ہنیزہ میکال کے نرم و ملائم نازک ہونٹوں کے لمس کو اپنے گالوں پر محسوس کرتا عابس سلطان آنکھیں موندے سکون خود میں اتارنے لگا۔ ہنیزہ میکال کھلکھلاتی اپنی حرکت پر خود ہی مسکراتی پیچھے ہوئی تھی۔۔مگر وہ معصوم انجان تھی کہ وہ کس طرح سے اس ڈیول کی قید میں خود کو خصد ہی الجھا رہی تھی۔

_______

کیا آپ ٹھیک ہیں۔۔۔؟” عاشر کی متفکر سی آواز پر نورلعین نے جھٹ سے گردن موڑے عاشر سلطان کو دیکھا ۔۔ جس کی آنکھوں میں جھلکتی پریشانی نورلعین کو عجیب سی کشمکش مبتلا کر رہی تھی،

“نننن نہیں ٹھیک ہوں میں۔۔۔۔”عاشر اسے گھر چھوڑنے جا رہا تھا مگر نورلعین کو اپنے اوپر ٹکی عاشر سلطان کی نظریں عجیب سی بے چینی میں مبتلا کر رہی تھی۔ نورلعین کی بے چینی گھبراہٹ عاشر سلطان سے مخفی نہیں تھی، مگر وہ چاہتا تھا کہ نورلعین اس سے کھل کر باتیں کریں، جو کشش اسے اس لڑکی میں محسوس ہوئی تھی وہ آج تک اپنے اندر ایسے جذبات کو محسوس نہیں کر پایا تھا۔

آپ کے گھر میں کون کون رہتا ہے۔۔۔؟” گاڑی ریورس کرتے عاشر نے بات بڑھانے کو سوال داغا۔جبکہ نور نے اپنی بڑی بڑی آنکھوں کو پھیلائے اسے حیرت سے دیکھا۔ عاشر تو اسکی نگاہوں سے ہی گھائل بمشکل سے اپنی نظریں چرا پایا تھا۔۔ وگرنہ اسے لگا تھا کہ آج یہ لڑکی اسے اپنی نگاہوں سے ہی قتل کر دے گی۔

بابا ماما اور میں ہم تین انسان رہتے ہیں۔۔!” نورلعین نے کھڑکی سے باہر دیکھتے جواب دیا۔ جبکہ عاشر سلطان تو اس نازک وجود کی بھینی بھینی سی خوشبو کو اپنے حواسوں پر طاری ہوتا محسوس کرتے سر جھٹک گیا۔۔

آگے کیا کرنے کا ارادہ ہے آپ کا ۔۔۔۔مطلب آگے پڑھنا چاہتی ہیں آپ یا پھر نہیں۔۔۔۔؟” نورلعین کو لگا کہ آج وہ کسی پولیس انویٹیگیٹر کے ہاتھ لگی ہو جو بار بار سوال کرتا جانے کیا جاننا چاہتا تھا۔

ابھی سوچا نہیں۔۔۔” نورلعین نے دانت پیستے کہا جبکہ اسکی آنکھوں کی سرخی دیکھ عاشر سلطان سمجھ گیا میڈم غصہ ہو رہی ہیں۔۔ اچھا تو کیا اپ کا رشتہ ہوا ہے مطلب ۔۔۔۔۔۔ ” عاشر کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آخر وہ بات کہاں سے شروع کرے۔۔

مسٹر سلطان آپ مجھے بتا دیں اپنے سوال میں گھر سے سب کے جواب لکھ کر لے آؤں گی۔۔۔” نورلعین نے میٹھا سا طنز کیا تو عاشر نے لب دانتوں تلے دبایا معا وہ کچھ کہتا گاڑی ایک زور دار جھٹکے سے بیلنس خراب ہونے پر رکی ۔۔

نورلعین اس اچانک جھٹکے پر جگہ سے اچھلتی عاشر سلطان۔کے چوڑے کندھے سے ٹکرائی۔۔اپنے کندھے پر اس نرم و نازک وجود کو محسوس کرتے عاشر سلطان کی دھڑکنیں منتشر ہوئی تھی دل تیزی سے دھڑکتا جیسے باہر آنے کو تھا۔۔

نورلعین نے جھٹ سے آنکھیں کھولی تو خود کو یوں عاشر سلطان کے اس قدر قریب دیکھ وہ فورا سے پیچھے ہوئی تھی۔عاشر جو بے اختیار اسے دیکھ رہا تھا فورا سے اپنی نگاہوں کا زاویہ بدلا۔۔

گگگ گاڑی کک کو کیا ہو گگگ گیا۔۔؟” نورلعین نے ڈرتے گاڑی کے رکنے کی وجہ پوچھی تو اسکے ڈر پر عاشر کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے۔۔ شاید خراب ہو گئی ہے میں دیکھتا ہوں۔۔عاشر نے جلدی سے کہا اور پھر باہر نکلتا وہ گاڑی چیک کرنے لگا۔۔ نورلعین کا چہرہ خوف سے لٹھے کی مانند سفید پڑ گیا ۔۔ وہ انگلیاں چٹخاتے اپنے ڈر پر قابو پانے لگی۔۔

ککک۔کیا ہوا ہے پپ پلیز ممم مجھے گھر جانا ہے۔۔۔!” عاشر کے اندر آنے پر نورلعین نے بے قراری سے پوچھا عاشر نے سرد سانس فضا کے سپرد کرتے نورلعین کی خوفزدہ پانی سے بھری نگاہوں میں دیکھا۔

ری لیکس ڈونٹ وری کچھ نہیں ہوا نور گاڑی خراب ہو گئی ہے میں نے دوسری گاڑی منگوائی ہے۔۔۔۔!”عاشر نے اسے پرسکون کرنا چاہا تھا جو لٹھے کی مانند سفید پڑی آنکھوں میں ڈھیروں آنسوں لیے ایسے تھی جیسے آخری سانس لے رہی ہو ۔

” بب بابا کے پاس جانا ہے ممم مجھے ۔۔۔۔۔ نورلعین ڈرتے عاشر کو دیکھتے رونے جیسی ہوئئ تھی عاشر کے لئے اس کے آنسوں دیکھتے خود پر ضبط کرنا مشکل تھا۔۔ جبھی عاشر سلطان نے ایک دم اچانک سے نورلعین کی کمر کو تھامے جھٹکے سے اسے خود سے قریب تر کیا۔۔

نورلعین عاشر سلطان کو خود سے بے انتہا قریب دیکھ اپنی کمر پر اسکے دہکتی گرفت محسوس کرتی سانس روکے آنکھیں پھیلائے اسے دیکھے گئی جس کی آنکھوں میں سخت تاثرات تھے۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ میرا ضبط ٹوٹے اور میں کچھ غلط کروں اپنے آنسوں صاف کرو نور۔۔۔۔۔” نورلعین کے چہرے پر اپنی سلگتی سانسیں چھوڑتے وہ ضبط کرتے بولا مگر لہجہ سخت تھا۔

نورلعین نے فورا سے اسے خود سے دور کیا عاشر نے دانت پیستے اپنے آپ پر قابو کیا وگرنہ دل کا حال برا ہوا پڑا تھا۔ نورلعین نے ڈرتے جلدی سے آنسوں صاف کیے مگر اسکے وجود کی کپکپاہٹ عاشر سلطان بخوبی محسوس کر پا رہا تھا۔۔ گاڑی کے خاموش ماحول میں ان دونوں کی تیز تیز دھڑکتئ دھڑکنیں بکھر رہی تھی۔

اترو۔۔۔۔۔ ” سامنے سے آتی گاڑی کو دیکھ عاشر نے جلدی سے کہا مگر اب کی بار اسے دیکھا نہیں تھا۔نورلعین۔سنتے جلدی سے گاڑی سے اتری۔۔۔ عاشر سلطان اسے ساتھ لئے دوسری گاڑی کی جانب بڑھا۔۔ اور چابیاں ڈرائیور کو دیے وہ خود ڈرائیو کرتا اسے گھر ڈراپ کرنے نکلا۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناول نگری میں ہر نئے پرانے لکھاری کی پہچان، ان کی اپنی تحریر کردہ ناول ہیں۔ ناول نگری ادب والوں کی پہچان ہے۔ ناول نگری ہمہ قسم کے ناول پر مشتمل ویب سائٹ ہے جو عمدہ اور دل کو خوش کردینے والے ناول مہیا کرتی ہے۔ناول کا ریوئیو دینے کیلئے نیچے کمنٹ کریں یا پھر ہماری ویب سائیٹ پر میل کریں۔شکریہ

novelsnagri786@gmail.com

Read forced nikkah based, urdu novel, online urdu novels, saaiyaan novel at this website Novelsnagri.com for more Online Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit this website and give your reviews. you can also visit our facebook page for more content Novelsnagri ebook

 

Leave a Comment

Your email address will not be published.