haveli based novel 2022

haveli based novel 2022 | saiyaan |Ep#26 | Bisma Bhatti Novels

haveli based novel 2022 | saiyaan |Ep#26 | Bisma Bhatti Novels

Love is the many emotions that expression affection and care. Honestly, responsibility and trust constitute Love. It is a feeling that everybody years for as its make them feel happy and vital.

An online platform created just for urdu novel lovers, where they can easily find PDF copies of urdu novels, haveli based novel 2022 and can download Pdf books free of cost.

#سائیاں

#از_قلم_بسما_بھٹی

“قسط_26

 

💘
💘💘

 

فرحین شاہ نے وقت دیکھا تو رات کے دس بج رہے تھے لیکن کمرے میں یوسف شاہ نہیں آئے تھے ۔ یعنی صاف تھا کہ انہیں منایا جائے ۔

 

ان کی سوچ پر مسکراتے وہ اپنی جگہ سے اٹھیں ۔

جب سے ارم ہو کر حویلی سے گئ تھی انہیں یوسف شاہ سے اور انسیت محسوس ہو رہی تھی ۔ ارم کی بےقرار نگاہوں نے فرحین شاہ کے اندر چھپی محبت کو آواز اور احساس دے دی تھی ۔ وہ جان گئ تھیں کہ ایک بار خاموشی نے بہت نقصان اٹھائے ۔

اب وہ یوسف شاہ کے سامنے خاموش رہیں تو یوسف شاہ کو بے حد تکلیف ہو گی ۔ وہ جانتی تھیں کہ یوسف شاہ آج بھی بے قرار ہیں فرحین شاہ کی زبان سے محبت کا اقرار سننے کو ۔

وہ مسکراتی ہوئی کمرے سے باہر آئی ۔ ساری حویلی کی لائٹس اوف تھیں ۔ لیکن مردان خانے کی لائٹ جل رہی تھی ۔

انہوں نے اپنے قدم مردان خانے کی طرف کیے ۔

 

دروازے میں آ کر اندر جھانکا تو یوسف شاہ کو اپنی سرخ آنکھوں کو ملتے پایا ۔ یعنی وہ انتظار کر رہے تھے فرحین شاہ کو اور ان کو سخت نیند بھی آئی ہوئی تھی ۔ یوسف شاہ کی پشت فرحین شاہ کی طرف تھی ۔ اور وہ خود کو جگائے رکھنے کی کوشش میں تھے ۔

بچے اگر دیکھ لیتے اس عمر میں یوسف شاہ کی حرکتیں تو یقیناً حیرت سے یقین ہی نہیں کرنا تھا ۔ فرحین شاہ نے نفی میں سر ہلاتے قدم رکھا تو جیسے یوسف شاہ الرٹ ہو گئے ۔ وہ تو ان کی آہٹ سے بھی پہچان جاتے تھے کہ کون ہے ۔

 

فرحین شاہ چلتے ان کے پیچھے آئیں اور ان کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیا ۔ فرحین شاہ کو لگا تها کہ شائد نہیں پہچانے وہ ۔

” بہت دیر کر دی مہرباں آتے آتے ” ان کے لمس پر یوسف شاہ سکون سے صوفے سے ٹیک لگاتے بھاری آواز سے بولے ۔

فرحین شاہ ہنس دیں ۔ نہیں جیت سکتی تھیں وہ ان سے ۔

” آپ کو پتہ لگ گیا کہ میں ہوں ! ” صوفے کی سائیڈ سے گزر کر ان کے پاس بیٹھتے پوچھا ۔

” یوسف شاہ کو آپ کی آہٹ کی پہچان نا ہو تو تف ہے یوسف شاہ کی عاشقی پر ” سرخ آنکھوں سے فرحین شاہ کو دیکھتے کہا ۔

فرحین شاہ کے گال تپ اٹھے تھے ۔

” شاہ جی ۔۔۔۔ آپ کمرے میں نہیں آئے ” بات کو بدلتے پوچھا ۔

” دیدارِ یار میسر ہی نہیں تھا ہمیں دیدارِ یار کیا ۔۔۔۔ صحبتِ یار بھی میسر نہیں تھا ہمیں ۔۔۔ کیسے آ جاتے ۔۔ ” روٹھے ہوئے انداز میں کہا فرحین شاہ تو ان کی باتوں پر سرخ ہو رہی تھیں ۔

” اتنے شاعرانہ مزاج کیوں ہوئے ہیں آپ کے ! ” بڑی ہمت سے یوسف شاہ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا ۔

” ظاہر ہے جب محبوب میرے رقیب کے گلے لگے گا تو ایسی گفتگو تو ہو گی نا ” پرشکوہ نگاہ سے فرحین شاہ کو دیکھا ۔

” شاہ جی ۔۔۔۔ بیٹا ہے آپ کا ” فرحین شاہ نے گھورا ۔

” تو کیا ضرورت تھی چپکنے کی آپ سے ۔۔۔ یہ کام میں بہت دھیان سے کرتا ہوں ۔۔ اور وہ کیسے چپک کر بیٹھا تھا آپ سے ” پھر سے سرخ چہرے سے وہ منظر یاد کرتے کہا ۔

” اچھا چلیں غصہ تھوک دیں ” ان کی باتوں سے وہ صرف سرخ ہو سکتی تھیں وہ جانتی تھیں تبھی پیار سے کہا ۔

” ہم تو نہیں جانے والے کمرے میں ” فرحین شاہ کو زرا ناز نخرے دکھاتے کہا ۔

” چلیں پھر ہم بھی نہیں جائیں گے ” انہی کے انداز میں کہتی وہ صوفے پر ٹانگیں فولڈ کرتے سر ان کے کندھے پر رکھ گئیں ۔

 

یوسف شاہ نے بے یقینی سے فرحین شاہ کو دیکھا جو ان کے ہاتھ کو دوبارہ اپنے ہاتھوں میں لیے ان کے کندھے پر سر رکھے ہوئی تھیں ۔

” فرحی ۔۔۔ آپ ۔۔۔ ٹھیک ہیں ” فکر سے ان کا ماتھا چھوا تو وہ فرحین شاہ ہنس دیں ۔

یہ جلترنگ پہلی بار اپنے سامنے یوسف شاہ دیکھ رہے تھے ۔

” کیوں محبت کرنے کا حق صرف آپ کو ہے ! ” سر اٹھا کر ان کی آنکھوں میں دیکھتے پوچھا کہ یوسف شاہ کو اپنا دل رکتا ہوا محسوس ہوا ۔

کیا وہ ان سے محبت کا اعتراف کر رہی تھیں ۔

” کیا کہا آپ نے کیا مطلب آپ کا ! ” بے یقینی سے فرحین شاہ کو دیکھا ۔

” مجھے بہت نیند آ رہی ہے شاہ جی ۔۔۔ اور آپ کے بنا سونے کی مجھے عادت نہیں ۔۔۔ اور آپ مجھے ہرٹ نہیں کر سکتے مجھ سے ناراض رہ کر ” ان کے بازو کو اپنے شانوں کے گرد کر کے وہ ایک ادا سے بولیں ۔

” فرحی ۔۔۔ آپ ہم سے محبت کرتی ہیں !” یوسف شاہ کی آنکھوں میں پانی تھا ۔

” ساری زندگی آپ کے ساتھ گزار دی ۔۔۔ اب بھی کیا گنجائش ہے اس بات کے یقین ہونے کی ” ان کے سینے پر سر رکھتے کہا ۔ چہرہ البتہ گلال تھا ۔ یوسف شاہ نے ایسے ہی ان کے گرد بازو تنگ کرتے اپنے اندر سمو لیا ۔

” شکریہ ” پیار سے ان کے ماتھے پو بوسہ دیا تو وہ آسودگی سے مسکرا دیں ۔

” چلیں رات کافی ہو گئ ” ان کے ہاتھ پکڑ کر اٹھاتے کہا تو یوسف شاہ بھی مسکراتے ان کے ساتھ اٹھے .

 

آج نظر فرحین شاہ کے چہرے سے ہٹانے کو جی نہیں کر رہا تھا ۔

 

تیس سال گزر گئے ان کے دل میں محبت ڈالتے اور آج تیس سال کے صبر کے بعد اعتراف بھی مل گیا ۔

شائد ہی کوئی اس احساس کو سمجھ پاتا ۔

 

💘💘💘

 

 

” تمہیں میں نے کون سے کام لگایا تھا ابھی تک ہوا کیوں نہیں کیوں وہ لڑکی میرے سامنے موجود نہیں ! ” نیاز کھوکھر اپنے خاص آدمی پر گرجتے بولا ۔

” صاحب ۔۔۔ میں اسی حوالے سے حاضر ہوا ہوں ” اس نے ڈرتے ڈرتے کہا ۔ کوئی پتہ نہیں تھا نیاز کھوکھر کا کہ کب کوئی چیز پکڑ کر اس کے سر پر توڑنا شروع کر دے ۔

” بولو منہ میں گٹلیاں ڈال کر کیوں کھڑے ہو گئے ہو ” ایہ دفعہ پھر جلد بازی سے گرجا ۔

” صاحب سننے میں آیا ہے کہ وہ لڑکی اب وکیل بن گئ ہے ۔ اور یہ بھی سنا ہے کہ اس نے آج پہلے دن جانا ہے اسلام آباد کورٹس میں ۔۔ اور آج کا دن ہمارے لیے بہترین ہے ہم اسے حویلی سے نکلنے کے بعد آرام سے جال میں جکڑ سکتے ہیں ” اس آدمی نے نیاز کھوکھر کو ساری بات بتائی ۔

” وہ وکیل بن گئ ! ۔۔۔ خیر مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا ۔۔۔ مجھے وہ لڑکی آج رات ہر صورت اپنے بیڈ روم میں چاہیے ” اس نے وارننگ دینے والے انداز میں حکم دیا تو وہ ملازم سر ہاں میں ہلاتا کمرے سے نکل گیا ۔

” میری رانی ۔۔۔ کیسا نشہ ہے تم میں جو کسی اور میں نہیں ایک بار ہاتھ آ جاؤ ۔۔ ایک وار سے دو شکار کیے عرصہ ہو گیا ۔۔۔ تم سے سکون بھی حاصل ہو گا اور ۔۔۔ یوسف شاہ کو قدموں میں گرانے کا حسین موقع بھی مل جائے گا ” ماہم کا چہرہ اس کی آنکھوں میں تھا اور اسی کو خباثت سے سوچتے وہ بول رہا تھا ۔

لیکن بھول گیا تھا کہ وہ صرف ماہم نہیں تھی ۔ پہلے ماہم سعیر شاہ تھی ۔ زامل شاہ کی بہن ، یوسف شاہ کی بھانجی ۔ اور اب وہ ماہم احسام شاہ تھی ۔ احسام شاہ کی بیوی اور شاہ حویلی کہ بڑی بہو ۔ اس کی طرف آنکھ اٹھا کر نیاز کھوکھر اپنی آنکھیں نکلوانے کا پروگرام بنا رہا تھا ۔

 

 

💘💘💘💘

 

 

وہ کمرے میں آئی تو زامل کو بیڈ پر بیٹھے پایا ۔ گود میں اس کے لیپ ٹاپ تھا ۔

 

” کبھی اس کی جان چھوڑ بھی دیا کریں ” ڈریسنگ کے سامنے آتے شیشے سے اس کے عکس کو دیکھتے کہا ۔

زامل نے نظر ہٹا کر اسے دیکھا جو شیشے سے اسے مسکرا کر دیکھ رہی تھی ۔

” ادھر آو ” سنجیدگی سے بلایا ۔

اس کی سپاٹ آواز پر ملیحہ کی مسکان دھیمی پڑی اسے لگا کہ وہ دوبارہ اپنے سخت خول میں بند یو گیا ہے ۔

گہرا سانس لیتی وہ اس کی طرف بڑھی ۔

زامل نے لیپٹاپ بند کیا اور سائیڈ ٹیبل پر رکھا ۔

” یہاں بیٹھو ” اسی سرد انداز میں اپنے سامنے بیٹھنے کو کہا ۔ ملیحہ خاموشی سے بیٹھ گئ ۔۔

” کب سے انتظار کر رہا ہوں تمہارا لیٹ کیوں آئی ہو کمرے میں ! ” سخت تیوروں سے پوچھا ۔

ملیحہ نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اسے دیکھا ۔ یہ بات وہ پیار سے بھی کہہ سکتا تھا ۔

” کچن میں تھی ۔۔ برتن سمیٹ رہی تھی ” ہلکی آواز میں جواب دیا ۔

” یعنی اب تم مجھ سے بدلے لو گی ! ” زامل نے اسے ٹوکا ۔

” یا اللّٰه ۔۔۔ کون سے بدلے ” ملیحہ کی آنکھوں میں حیرانی تھی ۔

” تم سے اتنی دیر بات نہیں سہی سے کی اگنور کیا ۔۔۔ اب جب مجھ سے نہیں دوری برداشت ہو رہی تو تم مجھے نخرے دکھا رہی ہو ۔۔۔ مجھے اگنور کر رہی بو ۔۔ دور رہ رہی ہو ۔۔۔ اب ایسے تکلیف دو گی مجھے ” آنکھوں میں خفگی لیے وہ سرد انداز میں جھاڑ رہا تھا اسے ۔

اور ملیحہ کا حیرت سے منہ کھل گیا ۔ یہ باتیں وہ پیار سے کر سکتا تھا لیکن نہیں انا کیسے جھکنے دے ۔

” بلکل بھی نہیں سائیں ۔۔۔ میں سچ میں آپ کو اگنور نہیں کر رہی تھی ۔۔۔۔ میرے اندر اتنی ہمت نہیں ہے کہ آپ کی موجودگی میں اپنا دھیان کہیں اور لگاؤں ” ملیحہ نے یقین دلانا چاہا ۔

” جھوٹ ” اس کی کلائی کو پکڑتے خفا انداز میں کہا ۔

ملیحہ کو اس کی آنکھوں میں بس محبت ہی نظر آئی ۔ جو اس کی آغوش میں سکون چاہتی تھی ۔

” سچ میں سائیں ۔۔۔ میں آپ سے کیسے دور رہ سکتی ہوں” اس کے گال پر ہاتھ رکھتے پیار سے کہا۔

” اس سائیڈ پر آؤ ” سر جھکاتے اپنے ساتھ والی جگہ پر آنے کو کہا تو وہ سر ہلاتی اس کے ساتھ آ کر بیٹھ گئ ۔

زامل نے اس کی گود میں سر رکھ دیا اور اس کے ہاتھوں کو اپنے بالوں میں رکھ دیا ۔ بنا کچھ کہے وہ اس سے سکون کا طالب تھا ۔

ملیحہ مسکرا دی اور اس کے بالوں میں ہاتھ چلانے لگی .

” سائیں ۔۔۔ محبت کے رشتے میں اظہار کرنے میں دیر نہیں کرتے نجانے کس ہاں پر کس کی سانسیں جڑی ہوں ” اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے کہا ۔

اس کی میٹھی آواز پر زامل نے آنکھوں کو کھولا اور اسے دیکھا ۔

” مجھے تم سے محبت ہے. ” اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر اپنے سینے پر رکھتے کہا ۔

وہ تو سٹپٹا گئ ۔ اسے نہیں علم تھا کہ وہ اظہار کرنے میں اتنی جلدی کرے گا ۔

” یا اللّٰه ۔۔۔۔ سائیں ۔۔۔ شرم کریں ” یڑبڑاتے وہ یہی بولی ۔ گال سرخ ہو گئے تھے ۔

” اسی لیے نہیں کہ رہا تھا تم سن ہی نہیں سکتی ہو ” اس کے سرخ چہرے کو دیکھتے ہنس کر کہا تو وہ سرخ چہرہ کرتی سر جھکا گئ۔

زامل نے کروٹ لی اور اس کی گود میں منہ دے دیا اور بازووں کو اسکی کمر کے گرد لپیٹ دیا ۔

اس کی پناہ میں سکون تھا بے حد بے پناہ ۔

ملیحہ نے شرمائی سی اس کے بالوں میں ہاتھ چلانے لگی ۔ اپنے گرد اس کا سخت حصار اسے سرخ گلابی کر رہا تھا ۔

دل ہر جگہ نہیں لگتا ۔ لاڈ ہر کسی سے نہیں اٹھواۓ جاتے۔ پاگل پن کی سبھی حرکتیں ہر کسی کے سامنے نہیں کی جاتیں۔ مان ہر کسی پہ نہیں ہوتا۔ ہر کسی کیلئے ہم بچوں جیسے نہیں بنتے۔ کھلی کتاب کی طرح ہر کسی کی آنکھوں سے پڑھے جانے کی خواہش نہیں ہوتی !

کچھ لوگ ہوتے ہیں، کبھی کہیں ، کسی بھی جگہ ، ہجوم بھی نگاہ نہیں روکتا ۔نظر کسی ایک پہ ہی ٹکتی ہے ۔

خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن سے کوئی بے لوث پیار کرتے ہیں !

 

 

💘💘💘

 

 

ایک گھموتی ہوئی چیز اس کے منہ پر لگی کہ وہ گڑگڑا کر اٹھا اسے لگا کہ کوئی طوفان آ گیا ہے ۔

کتنی دیر وہ اپنے کمرے کو گھورتا رہا لیکن اس کا دماغ اپنی جگہ بلکل نہیں تھا ۔

تبھی اسے لگا زلزلہ آ گیا ہے کیونکہ وہ بری طرح سے ہل رہا تھا ۔

” احسام اٹھو یارر ” تبھی ماہم نے پاس پڑا پانی کا گلاس اٹھا کر اس کے منہ پر پھینکا کہ احسام کے چودہ طبق روشن ہو گئے ۔

وہ ہڑبڑاتے بیڈ پر اٹھ بیٹھا ۔

ہوش سنبھلا تو سامنے دیکھا جو اسی کی شرٹ میں جوالہ مکھی بنی سخت تیوروں سے گھور رہی تھی ۔

” تمہارا دماغ ٹھیک ہے ۔۔۔ ایسے کون اٹھاتا ہے ؟ ” اپنے گھومتے سر کے ساتھ وہ تپے ہوئے لہجے میں بولا

” مسٹر احسام شاہ ۔۔۔ مجھے کورٹ کے لیے نکلنا ہے ۔۔۔براہِ کرم ۔۔ اٹھ جائیے اور میرے ساتھ نیچے ناشتے پر چلو ۔۔دو دفعہ ملازمہ بلانے آ گئ ہے ” خود کو غصہ کرنے سے روکتے وہ بڑے تحمل انداز سے بولی ۔

احسام نے اسے دیکھا جو سرخ سفید سی اس کے رنگوں میں نہائی ہوئی وائٹ لیلی لگ رہی تھی ۔

 اس کی استحقاق بھری نظریں اور ایکسرے کرتی سوچیں جو اس کے سر سے پاؤں تک سکین ہو رہی تھی وہ ماہم کو سٹپٹانے کے لیے کافی تھا ۔

“اٹھ ۔۔۔جاؤ احسام ” اپنا ڈریس لیتی وہ جتنی جلدی سے واشروم میں جا سکتی تھی گئ ۔

پیچھے احسامشاہ کا زندگی سے بھرپور قہقہہ لگا ۔

اس کے قہقہے کی آواز پر وہ بھی اندر شرما کر ہنس دی ۔ شیشے میں خود کا عکس دیکھا اور اپنے اوپر چھائے سنہری گلابی رنگ اسے مزید سرخ کر گئے ۔

” تم ایک نشے کی طرح ماہم کے وجود میں سرائیٹ کرتے ہو احسام شاہ ۔۔۔۔ تم کتنے اہم ہو میرے لیے شائد میں کبھی لفظوں میں نا بیان کر سکوں ” احسام کے ہیولے سے مخاطب ہوتے مسکرا دی ۔

لیکن شائد یہ سکون کے پل کچھ دیر کے تھے ۔

کچھ دیر بعد وہ واشروم سے باہر نکلی تو اسے احسام ڈریسنگ روم میں نظر آیا جو سوچ رہا تھا کہ اسے آج کون سا ڈریس پہننا ہے .

وہ اس کے پاس جا کر ڈریس بتا کر اپنی شامت نہیں بلوانا چاہتی تھی کیونکہ وہ پہلے ہی لیٹ ہو رہی تھی ۔

جلدی سے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آئی اور گیلے بالوں میں برش پھیرنے لگی ۔ ڈھیلا سا کلپر اپنے بالوں میں لگایا اور ہلکا ہلکا سا میک اپ کیا ۔

تب تک احسام اسے گہری نظروں سے دیکھ کر واش روم میں چلا گیا ۔ اس کی نظریں گھائل کر رہی تھیں اگر وہ کوئی عمل کرتا تو پکا وہ بے ہوش ہو جاتی ۔

اس کے نکلنے سے پہلے ہی وہ فٹافٹ کمرے سے باہر چلی گئی تا کہ ناشتہ کر کے کورٹ کے لیے نکلے ۔

نیچے آئی تو سب مرد ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے ۔

بے ساختہ اس کی نظر زامل پر گئ جو مسکرا کر زوبیہ شاہ سے بات کر رہا تھا ۔ ایک عرصے بعد اس نے زامل کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھی تهی ۔ جب دلوں ے انا اور اداسی کے بادل چھٹ رہے تھے تو وہ بھی اپنے بھائی سے ناراض نہیں رہ سکتی تھی ۔

کسی کی بھی پرواہ کیے بنا وہ زامل کی طرف آئیاور پیچھے سے ہی اپنے بھائی کی گردن میں بازو ڈال دیے ۔

اس عمل پر زامل کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا ۔ اس کی بہن اتنے دنوں بعد اس کے پاس خود آئی تھی ۔

وہ اپنی جگی سے اٹھا اور اسے اپنے حصار میں لے لیا ۔

زوبیہ شاہ نے سکھ کا سانس لیا ۔ ان کے دونوں بچے آج پر سکون تھے ایک تھے ۔

” میری چندا میری رونق میری جان ۔۔۔ بھائی یاد آ گیا ! ” اس کو اپنے سینے میں بھینچے وہ روٹھا روٹھا سا بولا ۔

کچن سے دیکھتی ملیحہ کا چہرہ بھی کھل اٹھا تھا ۔ ماہم کا مسکراتا سرخ چہرہ اس کے پر سکون دل کی گواہی دے رہا تھا ۔ ایک عرصہ ہی سہی لیکن اسے سکون مل گیا تھا ۔ اور اس کے بھائی احسام شاہ نے اسے سکون دے ہی دیا تھا ۔ وہ جانتی تھی کہ احسام شاہ چاہ کر بھی ماہم سے پرے خود کو نہیں کر سکتا تھا ۔نکاح کے بولو میں اثر ہی کچھ ایسا ہوتا ہے ۔

” میرے بھائی کو میری یاد تو آئی نہیں ۔۔۔سوچا خودی جا کر سے اپنی شکل دکھا دوں ” اس کے سینے سے لگے وہ بھی روٹھے ہوئے انداز سے بولی ۔

” کیا تم دونوں میں لڑائی ہوئی تھی ؟ شرم نہیں آتی اتنے بڑے ہو کر لڑتے ہوئے ؟ ” یوسف شاہ نے پانی کا گلاس اٹھاتے دونوں کو دیکھتے ڈانٹا ۔

جس پر وہ دونوں سر جھکا کر ہنس دیے لیکن زامل نے اسے الگ اب بھی نہیں کیا تھا ۔

” آغا جان لڑائی تو نہیں کی البتہ ناراض ضرور تھی میری لاڈلی مجھ سے ۔۔۔ لیکن اس کی مسکان بتا رہی ہے کہ اب وہ مجھ سے ناراض نہیں ” ماہم کے سر پر بوسہ دیتے خوشی سے کہا تو ماہم بھی ہنستی اس کو دیکھ کر سر ہلا گئ ۔

” اسلام علیکم ” تبھی وہاں احسام شاہ کی بھاری آواز نے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا ۔

سب نے اس کو دیکھا جو نکھرا سا فریش موڈ میں ڈائینگ ٹیبل کی طرف آیا تھا اور اب کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا تھا ۔

ایک دم خاموشی پر اس نے سر اٹھا کر سب کو دیکھا جو اپنا اپنا ناشتہ روکے اسے بڑی گہری نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔ اتنا فریش احسام شاہ تو کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ہر وقت ماتھے پر ڈھیروں بل ڈالے پھرنے والا احسام شاہ ایسے فریش سا ان کے سامنے آیے تو کون سکون سے بیٹھ سکتا تھا ۔

” سب ٹھیک ہے ؟ ” سب کو دیکھتے پوچھا ۔

” تم بتاؤ برخوردار ۔۔۔ خیر ہے بڑے چمک رہے ہو ! پروجیکٹ ملا ہے کیا یا کوئی اور بات ؟ ” یوسف شاہ بھی اپنی کشمکش کو نہیں چھپا سکے تھے تبھی پوچھ لیا ۔

احسام شاہ نے مسکراتے ماہم کو دیکھا ۔

نظروں میں کچھ ایسا تھا کہ وہ اپنی جگہ سٹپٹا گئی ۔

” وہہ ۔۔۔ وہ ۔۔ آغا جان وہ ۔۔۔ میرا پر سو رزلٹ آیا تھا ۔۔۔ میرا ایل ایل بی مکمل ہو گیا ہے ۔۔۔ فرسٹ ڈویژن سے اور ۔۔۔ میری آج سے اسلام آباد کورٹ میں جوائیننگ ہے ” اس نے فوراً سے بات کو سنبھالا تھا ۔ نجانے احسام شاہ کس وقت کیا بول دے ۔

” ارے واہ ۔۔۔ بہت مبارک ہو ۔۔۔ میری گڑیا ” زامل نے دوبارہ اسے اپنے سینے میں بھینچا ۔

سب خوشی سے اسے مبارکباد دینے لگے۔

” آپ کس کے ساتھ جا رہے ہو بچے !” فرید شاہ نے اس سے پوچھا ۔

“بابا میں ڈرائیور کے ساتھ جا رہی ہوں ۔۔۔ ان کو تو شہر والے آفس میں وزٹ کرنا ہے اور واپسی پہ آغا جان کے ساتھ ڈیڑے پر بھی جانا ہے ” ماہم نے احسام کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھتے کہا ۔

یہ پہلی لڑکی تھی جو مردوں کے ساتھ بیٹھنے کی جرأت کرتی تھی ورنہ شاہ حویلی کی لڑکیاں مردوں کے ہوتے ہوئے نا کچھ کھاتی تھی نا ساتھ بیٹھتی تھیں ۔

 

” سہی ۔۔۔ وش یو گڈ لک ” فرید شاہ نے مسکرا کر کہا ۔

” شکریہ بابا ” ماہم نے مسکرا کر کہا اور ناشتے کی طرف دھیان دیا ۔

“مسز ۔۔لوگ میرے فریش چمکتے چہرے کا راز پوچھ رہے ہیں کیا کہوں ؟ ” اس کی طرف زرا جھکتے ہلکی آواز میں احسام شاہ نے کہا ۔

” تو بتا دیجیے ۔۔۔ کہ احسام شاہ ۔۔۔ اپنا دل اور اپنی جان ۔۔۔ اپنی بیوی ماہم احسام شاہ کے نام لگا چکے ہیں ۔۔۔ جہاں سے اب فرار ممکن نہیں ” اسی کے انداز میں جھکتے ہلکی آواز میں شوخی سے کہا ۔

احسام شاہ نے سر جھکاتے اس کی بات پر سر تسلیم کیا تو وہ سرخ ہوتی ناشتے کی پلیٹ پر سر جھکا گئ ۔

 

زامل نے دونوں کو دیکھا ۔ اسے شک تھا کہ شائد اب تک اس کی بہن احسام شاہ کے ساتھ ٹھیک نہیں ۔لیکن دونوں کی مسکراہٹیں اور ماہم کا سرخ چہرہ ان دونوں کی خوشی اور سکون کے گواہ تھے ۔

گہرا سانس لیتے وہ بھی آسودگی سے مسکرا دیا ۔ دل سے ان دونوں کی خوشیوں بھری زندگی کی دعا نکلی ۔

 

 

💝💝💝

 

 

” قمر آپ کی چھٹیوں میں کتنا وقت رہ گیا !” اس کی سائیڈ کی الماری میں کپڑے ہینگ کرتے سرسری سا پوچھا ۔

” اممم ۔۔ دو ہفتے ہیں ابھی ” لیپٹاپ پر کیز دباتے وہ بھی مصروف سا بولا ۔

” ویسے ہی کتنی دیر تک آپ اپنے گھر والوں سے دور ہوتے ہیں ؟ ” دوسری شرٹ اٹھا کر اسے لٹکاتے ہوئے پوچھا ۔

” کبھی چھے مہینے ۔۔۔ کبھی ایک سال ۔۔ کبھی کبھی ڈیڑھ سال بھی لگ جاتا ہے ۔۔۔ ” پھر سے مصروف انداز میں جواب دیا ۔

کپڑے ہینگ کرتے اس کے ہاتھ رکے ۔ متفکر نگاهوں سے قمر کو دیکھا جو اسکی اندر کی کیفیت سے انجان تھا ۔

کمرے میں ایک دم خاموشی پر قمر نے سر اٹھا کر اسے تلاشا تو اسے عنابیہ الماری کے پاسس کھڑی نظر ْئی جو اسے ہی دیکھ رہی تھی

” کیا ہوا ۔۔ ٹھیک ہیں آپ ؟ ” اس کے اداس چہرے سے وہ کچھ بھی اخز نہیں کر پا رہا تھا ۔

” آپ ۔۔۔ اتنا عرصہ ۔۔ دور رہتے ہیں ! ” اس کے گلے سے الفاظ ٹوٹ کر نکلے تھے ۔

قمر نے اسے سنجیدگی سے دیکھا ۔ یعنی وہ اس بات کو دل پر لے گئ تھی ۔

اس نے لیپ ٹاپ سائیڈ پر رکھا اور اس کی طرف بڑھا ۔

اس کے ہاتھ پکڑ کر بیڈ کی طرف لایا اور اسے بٹھایا ساتھ خود بھی بیٹھ گیا ۔

” ایک فوجی کی بیوی ہیں آپ ۔۔۔ ہمت ہاریں گی ! ” شرارت سے پوچھا

” بہت مشکل سے سنبھالا خود کو ۔۔۔ اب آپ سے مح ت ہے یا آپ کی عادت نہیں جانتی لیکن۔۔۔ آپ سے دوری برداشت نہیں کر سکتی ” سر جھکائے افسردگی سے جواب دیا ۔

” پتہ ہے محبت کیا ہے ! ” قمر نے اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتے پوچھا ۔

یہ کیسا سوال تھا جس کا جواب دینے کے لیے عنابیہ کے پاس ایک بھی لفظ نہیں تھا ۔ اس نے نفی میں سر ہلایا ۔

” یہ جو کچھ لوگ کہتے ہیں ناں کہ جس سے محبت ہو تو اسے چھوڑ دو بروز حشر جب اللہ تم سے پوچھے گا “اے میرے بندے تو نے میری خاطر اپنی کو نسی محبوب چیز قربان کی تو تمہارے پاس جواب دینے کو کچھ نہیں ہو گا

” ایسی باتیں کتابوں میں بہت اچھی لگتی ہیں لیکن ان کا حقیقت سے دور دور تک کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ محبت کر کے کسی کو چھوڑنا یہ ایک گھٹیا ترین عمل ہے۔ محبت کرنا گناہ نہیں ہے، کیونکہ اللہ نے بھی فرمایا ہے کہ “جس سے محبت کرتے ہو اس سے نکاح بھی کرو”

محبت یا تو ہوتی ہے یا نہیں ہوتی، در میان کا کوئی راستہ نہیں ہوتا اس میں، اگر محبت کرتے ہو تو اسے نکاح تک پہچاؤ، کچھ لوگ اپنی محبتوں کا مان رکھ کے اسے حلال نکلے جاتے ہیں اور کچھ کم ظرف لوگ ذرا سی آزمائش پر اپنی محبت کو چ راستے میں لاوارث چھوڑ دیتے ہیں، ایسے لوگوں کیلیے محبت حرام ہے۔

جب محبت ہوتی ہے ناں تو نہیں کہا جاتا ” اللّٰه اگر وہ میرے حق میں بہتر ہے تو مجھے اس سے نواز دے” نہیں۔۔! بلکہ یہ کہا تا ہے کہ ” اللّٰه اگر وہ میرے حق میں بہتر نہیں بھی ہے تو اسے میرے حق میں بہتر لکھ ، مجھے وہی چاہیے ۔” پھر ایسی محبت کرنے والوں کو میں نے نمازوں میں روتے ہوۓ بھی دیکھا ہے اور ایسی محبتیں ہی سچی محبتیں ہوتی ہیں۔اور یہ فارغ وقت کی بیقراری کو محبت نہیں کہتے ہیں “

 

وہ ہر بار کی طرح اب بھی اس کے ارد گرد اس کے دل میں اس کے زہن میں سحر پھونج گیا تھا ۔

وہ یک ٹک سانس روکے اسے دیکھ رہی تھی سب رہی تھی ۔

” میری بیوی ہیں آپ ۔۔۔ مجھ سے محبت جائز ہے ۔۔ آپ کو میری طرح ہمت والا ہونا چاہیے ۔۔۔ میں نے دعاؤں میں مانگا یے آپ کو ۔۔۔ اپنی کمزوری نہیں ہمت بنانے کے لیے ” اس کے ہاتھوں پر بوسہ دیتے کہا تو وہ سر جھکا گئ۔

” صاحب ۔۔۔ نیچے بڑے صاحب آئے ہیں ” تبھی دروازے کے اس پار سے ملازم کی چہکتی آواز نے دونوں کو متوجہ کیا ۔

” ڈیڈ ! ۔۔۔ ڈیڈ آئے ہیں عنا ۔۔۔ چلو ” قمر کا چہرہ ایک دم خوشی سے چمک اٹھا تھا ۔ اس کے ہاتھوں سے ہاتھ نکالتے باہر کی طرف بڑھا ۔

” ڈیڈ ” عنابیہ نے گہرا سانس لیا ۔نجانے اب اس ہستی کا ری ایکش کیسا ہو گا اسے علم نہیں تھا

 

Continued………

 

Read Urdu haveli based novel 2022, saiyaan , Urdu novel at this website for more Online Urdu Novels and afsany that are based on different kind of content and stories visit this website and page Novelsnagri ebook. Visit to my channel for more New novels.

 

Leave a Comment

Your email address will not be published.