Web Special Novel, haveli based novel, online urdu novels,

haveli based novel | online urdu novels | saiyaan | Ep#10

haveli based urdu novel, online urdu novels, saiyaan based on forced marriage, revenge based & novel is full of emotions, romance, suspense & thrill, Story of a girl who wants to follow the society style.Novel written by Bisma Bhatti.

 

Web Special Novel, haveli based novel, online urdu novels,
haveli based novel, online urdu novels, Episode #10

سائیاں

#از_قلم_بسما_بھٹی

#قسط_10

” آغا جان ۔۔ وہ معصوم لڑکی ہے ۔۔ اس کو یہ تکلیف ہونے دی ۔۔۔ کوئی اور حل نکال دیتے ۔۔ مجھے پیش کر دیتے ۔۔۔ یہ کیا کر دیا ” کیف مردان خانے میں موجود غصے سے بول رہا تھا ۔

اس کے لہجے کی گرمی اس کے اندر کے اشتعال کی خبر دے رہی تھی ۔ وہ جب سے ہوش میں آیا تھا ۔ زمر سے بھی زیادہ برا ری ایکٹ کیا تھا ۔ وہ کسی صورت برداشت نہیں کر پا رہا تھا کہ اس کے گناہ کی سزا اس کی بہنوں جیسی عنابیہ کو سہنی پڑ رہی تھی ۔ اور جب تک اسے ہوش تھا تب تک اس کی بہن کو وہ بری طرح سے ظلم کا نشانہ بنا چکے ہوں گے یہ سوچ کر ہی اس کی روح لرز رہی تھی ۔

مردان خانے میں اس وقت آغا جان اپنی نشست پر ۔ سیف احسام زامل کیف اور فرید موجود تھے ۔

” جب شاہوں کے خاندان میں غیرت مر جائے ۔۔۔ تو غیرت والوں کو بھی مرنا پڑتا ہے ۔۔۔۔ اب اس لڑکی کا ذکر اس گھر میں نا ہو ۔۔ سمجھو وہ ہے ہی نہیں ” یوسف شاہ نے گجتی آواز میں کہا ۔

بے اختیار سیف کا سر جھک گیا اسے ہی سنایا گیا تھا

احسام نے آغا جان کو دیکھا ۔

” اپنی عزت کی فکر کرنی چاہیے ۔۔۔۔ مرد بنو ” یوسف شاہ نے احسام کی اٹھتی نظروں پر چوٹ کرتے کہا ۔

احسام کا سر جھک گیا ۔

” آغا جان ۔۔۔۔ عنابیہ کا ذکر تو رہے گا ” زامل نے سنجیدگی سے احسام کو دیکھ کر کہا ۔

یوسف شاہ نہیں اسے دیکھا پھر اس کی نظروں کے تعقب میں دیکھا ۔ یوسف شاہ کو سب سمجھ آ رہی تھی کہ اس وقت زامل کا دماغ ماہم کو لے کر کتنا سر پھرا ہوا ہے ۔ کتنی قہر برساتی نگاہوں سے وہ احسام کو دیکھ رہا تھا ۔

” کوئی اب اس کا ذکر کر کے دکھائے زرا ” یوسف شاہ نے احسام کو دیکھتے کرختگی سے کہا ۔

احسام نے سرخ چہرے سے یوسف شاہ کو دیکھا ۔

” میری بہن کوئی فالتو چیز نہیں آغا جان ۔۔۔۔ زہن میں رکھیے گا ” زامل نے جبڑا بھینچتے کہا اور اٹھ کر مردان خانے سے چلا گیا ۔

” یہاں بیٹھے ہوئے لوگوں میں کوئی مرد ہے ۔۔۔۔ تو اپنی غیرت جگائے پہلے ” یوسف شاہ بھی رعبدار آواز سے کہتے مردان خانے سے چلے گئے ۔

فرید شاہ ان کے پیچھے ہی چلے گئے ۔

” تم جانتے تھے کہ وہ تمہاری منگ ہے ۔۔۔ کیسے جانے دیا تم نے !” کیف س کی طرف دیکھتا بولا ۔

” آپ سب نے تھوپی تھی مجھ پر ۔۔۔ آپ سب جانتے ہیں کہ میں اسے پسند نہیں کرتا ۔۔۔ اور ویسے بھی تم زمر کو چاہتے ہو ۔۔ یہ زیادہ بہتر طریقہ تھا کہ زمر تمہارے پاس رہتی ” سیف اس کے مقابل آتا بولا ۔

احسام کی مٹھیاں بھینچ گئیں ۔

” تم نے اچھا نہیں کیا سیف ” احسام نے سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتے کہا ۔

” تمہیں شرم کرنی چاہیے احسام ۔۔۔ میری منگ تھی چاہے میں مانتا نہیں ۔۔ لیکن تمہیں پتہ تها ۔۔۔ تم نے پھر بھی اس پر نظر رکھی ۔۔۔ اتنے بے غیرت تو نا تھے تم ” سیف اس کی طرف دیکھتے بولا اس کےلہجے میں طنز واضح تھا ۔

” لیکن اس کا کیا کسور تها ! اسے ہی کیوں پیش کیا ؟ ” احسام تعیش میں آتا اس کے مقابل آیا ۔

” تمہاری بہن کو پیش کر دیتے وہ ٹھیک تھا !” سیف نے دانتوں کو پیس کر کہا ۔

” اہےےے ” احسام ایک سیکنڈ میں اس کے کالرز پکڑ چکا تھا ۔ آنکھیں لال شعلہ بنی پھڑک رہی تھیں ۔

” اگر نہیں دے سکتے بہن کو تو منہ بند رکھو ” سیف نے اس کے ہاتھوں کو جھٹکتے کہا ۔

” صحیح کہتے ہیں آغا جان ۔۔۔۔ تم دونوں ہی شاہ خاندان کی نسل کے نہیں لگتے.۔۔ اپنی عزتوں کا سودا کر دیا ” کیف ان پر افسوس کی نگاہ ڈالتے بولا اور مردان خانے سے نکل گیا ۔

سیف نے اسے سخت گھوری سے نوازا اور چلا گیا ۔

احسام کا جبڑا بھینچ چکا تھا ۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ شاہ حویلی کے ایک ایک فرد کو اپنے ہاتھوں سے مار دے جنہوں نے اس کی عنابیہ کو ایسے ونی کر دیا ان جاہلوں کے حوالے کر دیا ۔

غصے سے دروازے کو ہاتھ مارا ۔ بے اختیار نظر اپنے ہاتھ پر ٹھہر گئی. اسے وہ پل یاد آ گیا جب ماہم نے خود کو پیش کیا تھا کہ وہ ونی بن جائے گی اور اس پر اس نے کیسے رکھ کر اس کے چہرے پر تھپر مارا تھا ۔ نہیں علم لیکن اسے بہت برا لگا تھا کہ ماہم نے ایسی بات کی ۔ اور اس وقت سے وہ اس کے سامنے بھی نہیں آئی نا ہی الجھی اس سے آ کر نا ہی اس تھپر کا بدلہ لیا ۔

🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥

” آئیں باہر ” قمر نے اس کی سائیڈ کا دروازہ کھولتے کہا ۔

عنابیہ ساکت اپنی جگہ بیٹھی تھی نا وہ اس وقت یہاں موجود تھی ناا اس کے حواس ۔

اس کے جواب نا دینے پر قمر نے گہرا سانس بھڑا وہ اس کی حالت سمجھ رہا تھا ۔

” عنابیہ !” اس کے کندھے کو ہلکا سا ہلایا ۔ تو وہ ہربڑا گئ ۔ اس کی طرف دیککھا ۔

” آ جائیں باہر ” قمر نے باہر کی طرف اشارہ کیا ۔

عنابیہ گاڑی سے اتر گئ۔

وہ اس کی تقلید میں چھوٹے چھوٹے قدم لیتی اس کے ساتھ گھر میں داخل ہوئی ۔

” کہاں گئے تھے قمر میں تم۔۔۔۔۔ ہارا فون ۔۔۔ ” ارم جو لاؤنج میں ٹہلتے بت چینی سے اسی کا انتظار کر رہی تھیں اس کے اندر آرے ہی وہ تیزی سے بولیں لیکن ساتھ کسی لڑکی کو نقاب میں دیکھ کر ان کی بات منہ میں ہی رہ گئی ۔

کسی انہونی کا خدشہ ہوا ۔

ہراساں نا سمجھی نگاہوں سے اپنے بیٹے کو دیکھا ۔ جو خود بے حد سنجیدہ ان کے سامنے نظریں نہیں ملا رہا تھا ۔

” کون ۔۔۔ ہے یہ قمر !” ارم سبکتگین نے عنابیہ کو دیکھتے پوچھا ۔

” امی ۔۔۔ عنابیہ ۔۔۔ شاہ حویلی ۔۔۔ کی بیٹی ” قمر نے نظریں چراتے دھیمی آواز میں کہا ۔

” شاہ حویلی کی بیٹی ؟؟؟… یہاں کیا کر رہی ہے ” ارم سبکتگین کے چہرے کا رنگ ایک آ رہا تھا ایک جا رہا تھا ۔

” امی ۔۔۔۔ میں نے ۔۔۔نکاح کر لیا ہے ” قمر نے بتا کر آنکھیں ضبط سے بند کیں ۔

ارم سبکتگین کا چہرہ فق ہو گیا ۔ وہ بے ساختہ لرکھڑا گئیں ۔ قمر نے جلدی سے آگے ہو کر انہیں سنبھالا.

“تمہارا دماغ ٹھیک یے۔۔۔۔ ۔ کیا بول رہے ہو !” وہ قمر کو خود سے دور کرتی تیز لہجے میں بولیں. ان کی آنکھوں کے سامنے اپنا ماضی گھوم گیا ۔ جیسے تاریخ دہرائی گئ ہو ۔

” امی ۔۔سچ ہے ” قمر نے جواب دیا ۔

عنابیہ آنکھوں میں پانی لیے ایک طرف سمٹی سی کھڑی تهی۔

” کیوں ؟ … کیسے ؟ ۔۔۔ اچانک کیسے نکاح کر لیا !” ارم قمر کی طرف گھومتی ڈبڈبآئی نظروں سے دیکھتے بولیں ۔

قمر نے ان کے پوچھنے پر ساری بات بتا دی کہ کیسے وہاب کی کال آئی اور کیا فیصلہ ہوا اور وہ کیسے نکاح کر کے لے کر آیا

ارم سبکتگین کے تو مانو جیسے جسم میں جان ہی با رہی ہو ۔ اتنے سالوں بعد پھر سے شاہ حویلی کی بیٹی ونی ہوئی تھی ۔ ان کی ماضی کی تلخ حقیقت ایک نئے روپ میں ایک نئی کہانی میں ایک نئے انداز میں سامنے آئی تھی وہ الگ بات کہ اب کردار بدل گئے تھے وہ الگ بات کہ جس جگہ کبھی وہ کھڑی تھیں آج اس جگہ عنابیہ کھڑی تھی وہی شاہ حویلی کی بیٹی ۔

وہ نفی میں سر ہلاتی اپنے حواس کھو چکیں تھیں ۔

” امی ۔۔۔۔۔ امی ۔۔۔ ” ایک دم سے قمر حواس باختہ انہیں سنبھالنے لگا ۔ اس کی آوازیں ان کے کانوں میں جام ہو گئیں اور وہ اس کی باہوں میں جھول گئی ۔ وہ انہیں باہوں میں اٹھاتا باہر بھاگا ۔

عنابیہ کی آنکھوں کے سامنے چند سیکنڈز میں سب ہوا تھا اس کی ذات کو جھٹکوں کی ضد میں آنے کیلیے زیادہ وقت نا لگا ۔ یک بدلے میں آئی گئ لڑکی کیا حیثیت رکھتی ہے ۔

عنابیہ یہ سب دیکھ کر مزید ڈر گئ تھی وہ سوچ سکتی تھی کہ اب اس کے ساتھ کیا ہو گا کیسے برتاؤ کیا جائے جائے گا ۔ اسے اس وقت سیف بے حد یاد آیا جس کی وجہ سے وہ اس حال میں .تھی وہ ۔

🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥

” کمال کر دیا کھوکھر تم نے تو ” جمشید ضیاہ قہقہہ لگاتے بولا ساتھ ہی نیاز کھوکھر کے ہاتھ میں تالی ماری ۔

تینوں کے مکروح قہقہے کمرے میں گونجے ۔

” میں تو تجھے بس عام سا کم* سمجھتا تھا ۔۔۔ مگر تو تو ۔۔۔ اس سے بھی بڑا کم* نکلا ” اکبر ملک خباثت سے ہنستا بولا ۔

جمشید ضیاہ بھی ہنسا ۔ نیاز کھوکھر نے فخریہ انداز میں کندھے اچکاے ۔

” یقین جانو جب یوسف شاہ کو میں نے اپنا فیصلہ سنایا تو اس کی شکل دیکھ کر اس کے جھکے سر کو دیکھ کر سینے میں جو سکون اتر رہا تھا تم سوچ بھی نہیں سکتے ” نیاز کھوکھر پنچایت کے وقت کو یاد کرتا بولا ۔

” صحیح بات ہے کاش میں بھی تمہارے ساتھ وہیں ہوتا اور اپنی آنکھوں سے اس کا جھکا ہوا شرمندہ سر دیکھتا ” اکبر ملک ٹھنڈی آہ بھرتا بولا ۔

” ملک صاححببب ۔۔۔ آپ ایک بات تو جانتے ہی نہیں مزے کی ” نیاز کھوکھر خباثت سے ہنستا اس کی طرف جھکتا بولا ۔

 اکبر ملک نے اسے دیکھا کہ بولو کیا نہیں جانتا ۔

” یوسف شاہ کی حویلی کی بیٹیاں بہت حسین ہیں ” شیطانی سوچ کے ساتھ بولا ۔

” اچھا !!! ۔۔۔ تم نے دیکھیں کیا اس ونی میں آئی لڑکی کے علاوہ ؟ ” اکبر ملک نے اسی کے جیسے انداز میں پوچھا ۔

” اس کو بھی کہاں دیکھا وہاب نے اسے ایک پل بھی نہیں چھوڑا اکیلا اور وہ نیک پروین نقاب میں تھی کوشش تو بہت کی میں نے کہ اس کا نقاب اتروا دوں مگر وہاب نے ہونے نا دیا ” نیاز کھوکھر نے بد مزا ہو کر کہا ۔ اس بات پر اسے وہاب پر غصہ آ رہا تھا ۔

” اور باقی لڑکیاں حویلی کیں ۔۔ اتنے سالوں سے جانتے ہیں یوسف شاہ کو مگر اس کی بیٹیاں نہیں دیکھیں ۔۔۔ سنا تو میں نے بھی ہے کہ ۔۔۔بہت ہی قیامت خیز حسن کی مالک ہیں ” جمشید ضیاہ نے آنکھ دباتے کمینگی سے کہا ۔

” سنا تو میں نے بھی ہے مگر میں نے دیکھا صرف ایک کو ہے ۔۔ اور وہ بہت حسین تھی ملک صاحب کیا بتاؤں ۔۔۔ ایسے جیسے کوئی انگریزن لائی ہو حویلی میں ۔۔۔ نام نہیں معلوم لیکن نظر نہیں ہٹی تھی اس پر سے ” نیاز کھوکھر اپنے ہونٹوں کو کاٹتا ہوس زدہ لہجے میں بولا ۔

” اچھا ۔۔۔کہاں دیکھ لیا تم نے ؟” اکبر ملک نے اس کی طرف جھکتے تجسس سے پوچھا. جیسے بتا رہا تھا یقیناً حسین ہو گی ۔

” حویلی کے ٹیرس پر ۔۔ اور کمال کی حیرت کی بات یہ تھی وہ بنا نقاب اور دوپٹے کے ٹیرس پر کھڑی باہر دیکھ رہی تھی ۔۔۔ میں تو گزر رہا تھا کہ اتنی حسین لڑکی کو دیکھ کر مجھے گاڑی روکنی ہی پڑی ۔۔۔ اور نجانے کیسا نشہ ہے ۔۔ اس شراب میں بھی اس کا عکس نظر آ رہا ہے ” نیاز کھوکھر شراب کا گلاس سامنے کرتے ہوئے اسی پری پیکر کو دیکھتے بولا ۔ کتنا چاہا تھا کہ ونی وہی آ جاتی تا کہ کچھ پل اسے استعمال کر کے وہ وہاب کے سپرد کر دیتا لیکن یوسف شاہ نے اس بار پھر اس کی خواہش پر پانی پھیر دیا ۔

” تو اگر اتنی دل کو چھو گئ ہے نیاز صاحب تو ۔۔۔ اٹھا لیتے ہیں ۔۔۔ آپ بھی حسن میں بہکیے گا اور ۔۔۔ ہمیں بھی کچھ لمحے لطف ہونے دیجیے گا ” جمشید ضیاہ آگے ہوتا آنکھ دبا کر بولا ۔

تینوں کا قہقہہ کمرے میں گونجا ۔

” ابهى تو وہاب اس لڑکی کو اپنے کمرے میں لے کر گیا یے مجھے فخر ہے اس پر ۔۔ مجھے لگا تھا فوج میں گیا ہے تو میرے راستے سے ہٹ جائے گا ۔ مگر آج جب وہ لڑکی کو اپنے کمرے میں لے کر گیا وہ بھی بناا نکاح کے تو دل میں ٹھنڈ پڑ گئی میرا بیٹا میرا ہی سایہ ہے ۔۔۔ ویسے ہے وہ بھی بہت حسین میں نے سنا ہے کہ حویلی کی سب سے حسین لڑکی ہے وہ ” شراب کے گھونٹ بھرتے نیاز کھوکھر بولا اس کی آنکھوں میں بیک وقت دو چہرے تھے ایک وہ جسے ٹیرس پر دیکھا تھا اور ایک عنابیہ جس کے سراپا اور آنکھیں دیکھیں تھی اور وہ جان گیا تھا کہ یہ لڑکی بے حد حسین ہے ۔

” نیاز صاحب ۔۔۔ ہمیں خوش کرو ۔۔۔ ہم یوسف شاہ کو تباہ دیکھنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ہر لحاظ سے مالی لحاظ سے بھی ۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔ خاندانی لحاظ سے بھی ” اکبر ملک صوفے ہر چوڑا ہو کر نخوت زدہ لہجے میں بولا ۔

” میں بھی کچھ ایسا ہی سوچ رہا ہوں ۔۔۔۔ اب ہمی کچھ سکانل ہی جانا چاہیے ۔۔۔۔ کیوں جمشید صاحب ” نیاز آنکھ دباتا شیطانی لہجے میں بولا کہ جمشید ضیاہ مکروح قہقہہ لگاتا اس کے ہاتھ پر تالی دے گیا ۔

” اب آئے گا مزا جب یوسف شاہ ہمارے سامنے ۔۔۔ اپنی عزت اور اپنے وقار کیلیے بھیک مانگے گا ” گلاس پر گرفت کرتے اکبر ملک نے دانت پیس کر کہا ۔

انسان اپنی جیت کیلیے کس قدر گر جاتا ہے اور وہ اچھے سے جانتا ہوتا ہے کہ وہ اپنے کردار سے گر رہا ہے مگر اس کا نفس اور اس کے نفس کی تسکین بھاری ہو جاتی ہے ۔ کتنا غلط کرتا ہے انسان ۔

🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥

” کیا بات ہے بیگم ! کیا سوچ رہی ہو ! ” فرحین شاہ کو گم صم کھڑکی کے ہاس کھڑا پا کر اندر آتے یوسف شاہ نے پوچھا ۔ اور آ کر اپنی کرسی پر بیٹھ گئے جہاں وہ بیٹھ کر کتاب ہڑھا کرتے تھے.

یوسف شاہ کی آواز پر اپنی سوچ سے باہر آئیں اور پلٹ کر ان کی طرف دیکھا جو کرسی پر بیٹھے ان کو ہی دیکھ رہے تھے ۔

سرد سانس بھرتی وہ چلتے ہوئے اپنی کرسی پر ان کے سامنے بیٹھ گئیں ۔

” بہت صحیح کیا آپ نے شاہ جی عنابیہ کو بھیج کر ” اپنے ہاتھوں پر نظریں ٹکائے پر سوچ انداز میں کہا ۔

” ایسے کیوں کہہ رہی ہو !” وہ ان کو دیکھتے سنجیدگی سے بولے ۔

” اس کی قدر کونسا کی ہے آپ کے بیٹے نے ۔۔۔اچھا ہے نا چلی گئی ورنہ ساری زندگی آپ کا بیٹا رول دیتا مگر اپناتا نا ” ان کی طرف دیکھتی تاسف سے بولیں. یوسف شاہ نے پہلو بدلہ وہ آخر کیا جواب. دیتے اس ہر سچ ہی تو تھا ۔

” مجھے لگا تھا کہ وہ راضی ہو گیا ہے نکاح کیلیے مگر یہ میرى سوچ تھی. اور اس پگلی (عنابیہ) کی بیوقوفی کے اس کے خواب سجا لیے ۔۔۔۔ بےغیرت ” سیف کی حرکت کو زہن میں لاتے وہ دانت پیس کر نم آنکھوں سے بولیں ۔

” فرحین ” یوسف شاہ نے افسردگی سے مخاطب کیا.

” میں نے ایک فیصلہ کیا ہے شاہ جی ” اپنے آنسووں کو اندر دھکیلتے ہوئے ٹھوس لہجے میں کہا ۔

” کیسا فیصلہ !” وہ چونکتے بولے فرحین شاہ کا چہرہ جتنا سنجیدہ تھا کچھ بھی اخز کرنا نا ممکن تھا ۔

” اس جمعے کو آنے میں دو دن ہیں اور اس جمعے کو میں سب کا نکاح کر دوں گی ” اپنے لہجے میں بلا کی سنجیدگی لاتے ہوئے وہ بولیں۔

” یہ کیا کہہ رہی ہو تم ! حویلی کا ماحول اس فیصکے کو قبول نہیں کرے گا “

” میں قبول کرواؤں گی سب سے ۔۔۔ جب عنابیہ کو آہ نے زندہ دفنا ہی دیا ہے تو سب کو آگے بھر جانا چاہیے ۔۔۔ مرنے والوں کے ساتھ مرا نہیں جاتا یہی تو کہتے ہیں آپ ۔۔۔ اور اس سے پہلے کہ کوئی اور غیرت مند بے غیرت ہو جائے ان کے پیروں میں غیرت کی بیڑیاں ڈالنی پڑیں گی ” اپنے ہاتھوں کو دیکھتے اٹل لہجے میں کہا ۔ آنسو ٹوٹ کر رخدار پر بہا ۔

یوسف شاہ انہیں دیکھنے لگے جو آج ایک عرصے بعد روئی تھیں رونا بھی کیا ضبط کر رہی تھیں ۔ ان کا سینچ سینچ کر سنبھالا ہوا گھر بکھر گیا تھا ۔

وہ اپنی جگہ سے اٹھے اور ان کے پیچھے کھڑے ہوئے ۔ اپنے دونوں بازووں کو ان کی گردن میں ڈالا ۔

فرحین شاہ نے ان کا حصار پا کر ہچکی دبائی جو ضبط سے باہر ہو رہی تھی ۔

پیار سے فرحین شاہ کے سر کا بوسہ لیا۔

یہ کرنا تھا کہ وہ ان کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھتی بنا آواز کے رو دیں ۔

” بیگم ۔۔۔ آپ مجھے ہرٹ کر رہی ہیں ” ان کے رونے میں کمی نا دیکھ کر وہ افسردگی سے بولے ۔

” میں ۔۔۔۔ نے. ۔۔۔ کیا ۔۔ آپ ۔۔ کو ۔۔۔ہرٹ کرنا !” سوں سوں کے درمیان پوچھا ۔

” آپ کو پتہ ہے کہ آپ کے آنسو مجھے تکلیف دیتے ہیں ” ان کے سر پر دوبارہ سے بوسہ دیتے کہا ۔

فرحین شاہ کو ان کے الفاظ پر شک نہیں تھا ان کی محبت پر ایمان رکھتی تھیں ۔

” ہاں تو۔۔۔ ساری حویلی کے لوگ تکلیف دے رہے ہیں ۔۔۔ اب میں شکوہ بھی نا کروں ” ان کے ہاتھوں کو اپنی گردن سے ہٹانے کی کوشش میں کہا لیکن ہاتھوں کو ہٹا نہ سکیں کیونکہ یوسف شاہ نے ایسا کرنے نہیں دیا تھا.

” کتنی بار کہا ہے میرے حصار سے باہر جانے کی کوشش نا کیا کریں ” ان کی گردن کے گرد مزید باہیں کرتے زرا غصے سے کہا ۔

فرحین شاہ ہلکا سا مسکراتی ان کے سینے کے ساتھ سر لگا گئیں اور آنکھیں بند کر لیں.

” ایسے نا رویا کریں بیگم ۔۔۔ آپ کی آنکھیں بہت پسند ہمیں. عشق ہے ہمیں ان سے ” ان کی بند آنکھوں پر بوسہ دیتے وہ مسکرا کر بولے

فرحین شاہ جان گئی تھیں کہ یوسف شاہ ان کے فیصلے سے متفق ہیں تبھی ان جو ریلیکس کر رہے تهے ۔

” اب چپ کیوں ہیں ” ان کی خاموشی پر وہ بولے ۔

” سامنے آ جائیں شاہ جی ۔۔ کھڑے کھڑے تھک جائیں گے ” ان کے ہاتھوں پر ہلکا سا بوسہ دیتے بولیں ۔

” ہمیں بوڑھا کہہ رہی ہو ؛” شکوہ کناہ انداز میں وہ بولتے سامنے اپنی کرسی پر بیٹھتے بولے ۔

” وہ ہم دونوں ہو گئے ہیں بچے جوان ہمارے ” فرحین کچھ پل کیلیے سب ٹینشنوں کو بھلائے ان سے محو گفتگو تھیں.

” ارے جانے دیجئے پچپن بھی کوئی عمر ہے ۔۔۔ ابھی تو ہم جوان ہیں بلکہ بیگم آپ زیادہ جوان ہیں ہم سے تبھی تو ہمیں کسی اور کو دیکھنے کے قابل نہیں چھوڑا ” ان کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر مخمور انداز میں بولے ۔

ان کی گھمگھیر آواز پر وہ اس عمر میں بھی سرخ ہو گئیں اور مسکرا کر سر نیچے جھکا لیا ۔

” ایسے مسکراتی رہا کریں بیگم ۔۔۔۔ آپ کی سنجیدگی ہمیں بیمار کر دیتی ہے ۔۔ سب ٹھیک ہو جائے گا ” ان کے ہاتھ پر دباؤ دیتے پیار سے کہا تو وہ سر ہلاتے انہیں دیکھنے لگیں ۔

کبھی کبھی ایسے شخص کی سخت ضرورت ہوتی ہے جو آپ جو مسکرانے پر مجبور کر دے ۔

🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥

” زمر” کیف جو دروازے پر ابھی آیا تھا

” وہیں سے کوٹ جائیے. ۔۔۔۔ خبردار جو ایک قدم بھی آپ نے اندر کیا ” اس کی آواز پر بنا رخ اس کی طرف کیے کرخت لہجے میں کہا ۔ اس کی آہٹ تو اسے پہلے ہی آ گئ تھی ایسا کیسے ہو سکتا تھا کہ کیف ہاس ہو اور وہ اس کی آہٹ نا جانے ۔

کیف نے ضبط سے آنکھیں میچ کر کھولیں ۔ بہت مشکل تها زمر کو سنبھالنا ۔

” زمر میری بات تو سنو ” لاچاری سے دروازے پر کھڑے کہا ہمت نہیں تھی کہ اس کی اجازت کے بغیر اندر جاتا ۔

” کیا بات سنوں میں آپ کی ہاں !!” اس کی طرف جھٹکے سے رخ مورتی دانتوں کو پیس کر بولی ۔ آنکھیں سرخ ہوئی تھیں رو رو کر سوجھ چکی تھیں اب تو رونا بھی نہیں آ رہا تھا ۔ رو رو کر اندر سوکھ گیا تھا. بالوں کا لاپرواہ سا جوڑا بنا ہوا تھا ۔ دوپٹہ کندھوں پر تھا مگر اس لی ہوش نا تھی ۔ وہ ایک الجھی اجڑی حالت میں اس کے سامنے تهی ۔

کیف کے دل کو جیسے کسی نے مٹھی میں دبوچ لیا ہو اسکی حسین زمر آج کتنی بےپرواہ تهی اس کے سامنے اس کے دل کو تکلیف دے رہی تھی ۔

” زمر میری جان ” وہ بے اختیار اس کی حالت پر تکلیف سے بولا ۔

” کیا سنوں آپ کی بات ؟ ۔۔۔ میری بہن کی زندگی تباہ کر دی آپ نے ۔۔۔ آپ مجھسے محبت کرتے تھے تو اس میں میری کا کیا کسور تھا ! آپ کی محبت سلامت رہے اس لیے میری بہن کو ان جنگلیوں کے حوالے کر دیا ! .. کیوںننننن !” وہ چیخی تھی اس کے سامنے مگر آنسو نہیں بہے تھے یا پھر وہ آنسو نکلنے نہیں دے رہی تھی ۔

” مجھے نہیں علم تھا جو کچھ ہوا ” وہ اسے یقین دلاتے بولا ۔

” چلے جائیے یہاں سے ۔۔۔ اس سے پہلے کہ میں بھول جاؤں کہ میں نے کسی زمانے میں آپ سے محبت کی تھی ” دروازے کے دونوں حصے پکڑ کر انتہائ سرد لہجے میں کہا ۔

اس سے پہلے وہ کوئی بات کرتا یا مناتا زمر نے اس کے منہ پر زور سے دروازہ بند کر دیا ۔

” زمر ۔۔۔ لس یار ۔۔۔ یار مجھسے بات کرو ” کیف نے دروازہ بجاتے کہا اسے ڈر لگ رہا تھا کہ وہ اس سے اگر بدگمان ہو گئی تو کبھی وہ اس پر یقین نہیں کرے گی ۔

” چلے جائیے ۔۔۔ اب آپ کی راہیں تکنے والا نہیں ہے کوئی یہاں ” دروازے کے ساتھ بیٹھتے ہوئے وہ تلخ لہجے میں بولی ۔

اس کے تلخ لہجے پر وہ کچھ نا کر سکا بس تیزی سے واپس چلا گیا ۔ وہ جان گیا تھا کہ اب وہ نہیں سنے گی بلکل بھی ۔

کچھ محبتیں ایسے ہی دم توڑ دیتی ہیں جب محبتوں کے محافظ خاموش ہو جائیں۔

🔥اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

🔥جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

🔥ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی

🔥یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں

🔥غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لو

🔥نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں

🔥تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا

🔥دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں

🔥آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر

🔥کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں

🔥اب نہ وہ میں نہ وہ تو ہے نہ وہ ماضی ہے فرازؔ

🔥جیسے دو شخص تمنا کے سرابوں میں ملیں

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناول نگری میں ہر نئے پرانے لکھاری کی پہچان، ان کی اپنی تحریر کردہ ناول ہیں۔ ناول نگری ادب والوں کی پہچان ہے۔ ناول نگری ہمہ قسم کے ناول پر مشتمل ویب سائٹ ہے جو عمدہ اور دل کو خوش کردینے والے ناول مہیا کرتی ہے۔ناول کا ریوئیو دینے کیلئے نیچے کمنٹ کریں یا پھر ہماری ویب سائیٹ پر میل کریں۔شکریہ

novelsnagri786@gmail.com

Read haveli based novel, online urdu novels, saaiyaan novel at this website Novelsnagri.com for more Online Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit this website and give your reviews. you can also visit our facebook page for more content Novelsnagri ebook

Leave a Comment

Your email address will not be published.