Web Special Novel, haveli based novel, online urdu novels,i

haveli based novel, online urdu novels, saaiyaan episode 8

Web Special Novel, haveli based novel , online urdu novels,

Category: Web special novel 

Novel name : Saaiyaan Episode 8

Written by: Bisma Bhatti

haveli based urdu novel, online urdu novels, saaiyaan based on forced marriage, revenge based & novel is full of emotions, romance, suspense & thrill, Story of a girl who wants to follow the society style.

 

سیاں
از_قلم_بسما_بھٹی
قسط_08
“زمر میری بات سنو یار” جھٹکے سے دروازہ کھول کر وہ اندر آیا تھا ۔
مگر زمر اس سے فاصلہ بناتی کھڑکی کے پاس چلی گئی تھی ۔
“یار ایک دفعہ میری بات تو سنو تم مجھسے ایسا رویہ نہیں اپنا سکتی ہو !” وہ غصے سے بولتا اس کے پیچھے آیا اور اس کا بازو پکڑ کر اپنی طرف گھما دیا ۔ وہ اس کی گرفت سے خود کو کیسے نکال سکتی تھی ۔
اپنے چہرے پر وہ سنجیدگی لانا چاہ رہی تھی مگر تکلیف جو دل میں تھی وہ چھپنے میں ناکام ہو رہی تھی ۔
محبت سے دور جانے کا درد آنکھوں کی زبان بن گیا تھا ۔ اچانک قسمت کے کھیل سے ایک پل میں محرم بدل گیا تھا ۔ عشق کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کو تیار تھے ۔ کتنی سفاک تهی دنیا جو اس کے دل اور محبت کے پیچھے ہی پڑ گئی تھی جسے راس نہیں تهی کسی کی خوشیاں ۔
” زمر ۔۔۔ میری جان ۔۔۔۔ ایک دفعہ مجھ سے بات کر لو ” اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتے منت کرنے کے انداز میں کہا ۔
“ک ۔۔۔ کیا بات کروں میں ۔۔۔ سائیں ۔۔۔۔ میری قسمت کا فیصلہ کر تو دیا ہے شاہ حویلی کے سرداروں نے ۔۔۔ مجھے آپ کی جان کے بدلے پیش کیا جائے گا ۔۔ ۔۔ اب کونسی کمی رہ گئی ہے بات کی ؟” آنسوؤں پر بند باندھنے کی ناکام کوشش کرتے کہا کوشش کر رہی تھی کہ اس کا لہجہ نم نا ہو مگر ایسا نہیں ہو رہا تھا ۔
” میں کسی پنچایت کسی اصول کو نہیں مانتا ۔۔۔۔ میں تمہیں کسی اور کا ہونے نہیں دوں گا ” اس کے ہاتھوں پر دباؤ دیتے کہا ۔
” سائیں ۔۔۔کس بات کی ضد لگا رہے ہیں ؟؟ کیوں دھوکہ دے رہے ہیں خود کو!” الجھنزدہ لہجے میں کہا اور جھٹکے سے ہاتھوں سے اپنے ہاتھ نکال لیے ۔
” کیف یوسف شاہ اتنا بےغیرت نہیں ہے کہ اپنی منگ کو کسی اور کا ہونے دے ۔۔۔ جان لے لوں گا سب کی ” شدت پسندی سے اسےجواب دیا ۔ نہیں برداشت ہو رہا تھا زمر کا ایسے بے پرواہ ہونا ایسے رونا ایسے اذیت میں رہنا ۔
” نہیں.۔۔۔۔ مان لے کہ مجھے اب ونی ۔۔۔ “
“شششش ۔۔۔ چپ” اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی کیف نے اسکے بازووں سے پکڑ کر اپنے قریب کرتے دانتوں کا پیس کر کہا ۔ اس کی آنکھیں غضب کی شعلے برسا رہی تھیں ۔ ماتھے کی رگیں پھول گئیں تھیں ۔
ّزمر اس کی پکڑ پر مچل کر رہ گئی ۔ ایسے لگ رہا تھا کہ انگلیاں ماس ے اندر گھسا دے گا ۔ یہی تو مسئلہ تها کیف کا جس کی گرفت بہت مضبوط تهی ۔
اس کی سخت پکڑ اور سرخ آنکھوں سے اس کا دل بھر آیا ۔آنسو رفتار سے بہنے لگے ۔ اب بس ہو گئ تھی ۔ وہ بے ساختہ اس کے سینے پر سر رکھ گئ۔ اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔
کیف نے اس کے گرد بازو کر دیے اور خود میں بھینچ لیا ۔ اس وقت دل کر رہا تھا کسی قیمتی متاع کی طرح اسے سنبھال کر رکھے اسے دنیا کے نظروں سے اوجھل کر دے ۔
اس کے آنسو اس کی شرٹ بھگو رہے تھے اور وہ لب بھینچے اس کو اپنے حصار میں لیے کھڑا تھا ۔ وہ مرد تھا اسے رونے کی اجازت نہیں تھی ۔
” چھوڑیں ۔۔ سائیں ۔۔۔ ایسے عادت نا ڈالیں ۔۔۔ عادت ایک دفعہ لگ جائے تو ۔۔۔ اترتی نہیں ۔۔ جان پہلے لیتی ہے ” اس کے حصار میں کسمساتے اپنے آنسوؤں پر بند باندھتے کہا ۔
” زمر شاہ کو اگر کسی کہ عادت لگ سکتی ہے تو وہ صرف اور صرف کیف یوسف شاہ ہے ۔۔۔ حس کی رگوں میں محبت خون بن کر دوڑتی ہے ۔۔۔ جس کی سانسوں میں صرف زمر شاہ کی مہک ہے ۔۔۔ جس کے دل میں صرف ایک ملکہ ہے ایک راجدھانی ہے ایک عشق ہے ۔۔۔ اور وہ صرف زمر ہے ۔۔ کیف کی زمر ۔۔ صرف کیف ” اس کے گرد مزید حصار کرتے کہا ۔
زمر کے آنسو تو جیسے تھمنے کا نام نہیں لے ریے تھے ۔ اپنے محرم کی آغوش میں دل تو ایسے ہی بھر آتا ہے ۔
کیف نے اس کے آنسو اپنے ہونٹوں سے چنے ۔ یہ جو بھی تھا بلکل غیر ارادی طور پر تھا ۔ وہ دونوں تو کبھی پاس نہیں آئے تھے ۔ کبھی کیف نے اپنی حدود نہیں پھیلانگی تهی ۔
زمر اس کے لمس سے بری طرح سے کانپ گئی تھی ۔ اس کی سانسوں کی گرم تپش اس کے رخسار جلا رہے تھے وہ ایک سیکنڈ میں لال کندھاری روپ دھار چکی تھی ۔ خود کے دل جو بےقابو پاتے وہ اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر دور ہونے لگی مگر کیف نے نہیں دور جانے دیا بلکہ اس کے بازوؤں کو پکڑ کر مزید قریب کر لیا ۔ زمر مزاحمت کرنے لگی تا کہ اس کے حصار سے نکل سکے ۔
“تم صرف میری ہو۔۔۔ صرف میری کیف یوسف شاہ کی سمجھی” اسکے بازوؤں سے دیوار کے ساتھ پن کرتے کہا ۔
” میں آپ کی نہیں ہوں۔۔۔ آپ کی ہوتی تو آج مجھ پر نہیں پوری پنچایت کے سامنے گرجتے ” وہ نم آنکھوں سے چلائی ۔
“زمر سامر صرف اور صرف کیف کی ہے۔۔ زندہ گاڑ دوں گا ہر اس شخص کو جو تمہیں مجھسے چھینے گا” اسکی آنکھوں میں اپنی لال غصے طیش سے بھری آنکھیں ڈالتے کہا ۔
” رہنے دیجیے صاحب ” اسکے ہاتھوں کو کندھے سے زور سے ہٹایا ۔
“کیف یوسف شاہ میں اتنا دم نہیں کہ وہ زمر سامر شاہ کی حفاظت کر سکے ۔۔۔ محبت تو دور کی بات لگتی ہے ” آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو بہے ۔ اور وہ تیزی سے چلی گئی ۔
 ” کیف یوسف شاہ اپنی چیزوں کو کسی اور کا ہونے نہیں دیتا ۔۔۔ تم تو پھر میری محبت ہو زمر “
 تم مری آنکھ کے تیور نہ بھلا پاؤ گے
 ان کہی بات کو سمجھوگے تو یاد آؤں گا
 ہم نے خوشیوں کی طرح دکھ بھی اکٹھے دیکھے
 صفحۂ زیست کو پلٹو گے تو یاد آؤں گا
 اس جدائی میں تم اندر سے بکھر جاؤ گے
 کسی معذور کو دیکھو گے تو یاد آؤں گا
 اسی انداز میں ہوتے تھے مخاطب مجھ سے
 خط کسی اور کو لکھو گے تو یاد آؤں گا
 میری خوشبو تمہیں کھولے گی گلابوں کی طرح
 تم اگر خود سے نہ بولو گے تو یاد آؤں گا
 آج تو محفل یاراں پہ ہو مغرور بہت
 جب کبھی ٹوٹ کے بکھرو گے تو یاد آؤں گا
” سائیں ۔۔۔۔ آپ ۔۔۔۔ آئیے ” دروازے پر سیف کو کھڑے دیکھ کر عنابیہ نے کہا چہرے پر دوپٹہ کر چکی تهی اور کھڑکی کے پاس جا کھڑی ہو گئ ۔ اتنی بے تکلفی نہیں تھی کہ آرام سے ہر شرم بالائے طاق رکھ کر اس کے روبرو ہو کر بات کرے ۔
سیف اندر داخل ہوا اور سامنے صوفے پر بیٹھ گیا ۔اس کے چہرے پر سنجیدگی تهی ۔ جیسے کوئی بہت اہم بات کرنی ہو ۔
” سا۔۔۔ ئیں ۔۔ ٹھیک ہیں آپ !” عنابیہ نے جھجھکتے پوچھا کیونکہ اسے سیف کے تاثرات کافی سنجیدہ لگ رہے تھے ۔
” ہمممم۔۔۔ بات کرنی تھی ۔۔۔۔ تم سے ” ہاتھوں کو آپس میں دباتے کہا ۔آواز کہیں سے بھی نرم نہیں لگ رہی تھی نا ہی ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی عام سی بات کرنے آیا تھا ۔
.” جی ۔۔۔ کہیے ” اپنے عادت کے مطابق نرمی سے جواب دیا ۔
” تم سے کچھ بھی چھپا نہیں ہے جو شاہ حویلی میں چل رہا ہے “سیف نے گہرا سانس لے کر بات کا آغاز کیا
عنابیہ نے سر اثبات میں ہلایا ۔ سیف نہیں دیکھ ریا تها اس کی طرف ۔ یا شائد دیکھنا ہی نہیں چاہتا تھا ۔
” کیف کا معاملہ تمہارے سامنے ہے ۔۔۔ جو فیصلہ ہوا جو پنچائت بیٹھی ۔۔۔ آغا جان کی زبانی سب معلوم ہے تمہیں ” سیف نے سنجیدگی سے کہا ۔ ” ج۔۔ جی ۔۔ لیکن ۔۔۔ مجھے کیوں ۔۔۔ بتا رہے ہیں ۔۔۔ آپ! میں آپ کی بات کی گہرائی نہیں سمجھ پا رہی ” عنابیہ نے الجھتے ہوئے کہا سیف تو کبھی اس کے کمرے میں نہیں آیا تو اب ایسے آنا اور یہ بات کرنا سمجھ سے بالاتر تھا ۔
سیف نے اس کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا تو وہ خود میں سمٹی سی پریشان نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔
” میں تم سے ۔۔۔ جو بات کرنے آیا ہوں ۔۔۔ وہ مجھے پتہ ہے تمہیں کافی تکلیف دے گی لیکن ۔۔۔۔ یہ ضروری یے ” سیف نے پھر سے سنجیدگی سے کہا آنکھیں عنابیہ کی طرف اٹھنے سے انکاری تھیں اور یہی بات عنابیہ کو تنگ کر رہی تھی کہ سیف نے کبھی بھی نیچے نظریں کر کے بات نہیں کی تھی وہ تو رعب دکھا کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا تھا ۔ آج ایسے اور وہ بھی عنابیہ شاہ کے سامنے یقین سے بالاتر تھا ۔
” کیوں الجھا رہے ہیں سائیں ۔۔۔ کیا بات ہے اصل کہیے نا ” عنابیہ نے بےتابی سے پوچھا ۔
“دیکھو عنابیہ ۔۔۔ تم جانتی ہو ۔۔ کہ میں یہ شادی ۔۔ بی جان کی وجہ سے کر رہا ہوں ” سیف نے اسی سنجیدگی سے کہا ۔ عنابیہ نے چونک کر اسے دیکھا ۔
” اور مجھے یقین بھی نہیں کہ میں ۔۔۔۔ اس رشتے کو نبھا بھی پاتا یا نہیں ۔۔ لیکن جو میں نے اب فیصلہ کیا ہے ۔۔۔ وہ مشکل ضرور ہے ۔۔۔ لیکن کئی زندگیوں کو محفوظ کیا جا سکتا ہے ” سیف ٹکڑوں میں ٹھہر ٹھہر کر بات پوری کر رہا تھا ۔ جیسے جو بات کہنی تھی اس کے لیے ہمت جمع کر رہا تھا ۔
” ک۔۔۔ کیسا ۔۔۔ ف۔۔فی۔۔ فیصلہ ؟” عنابیہ نے نم آنکھوں سے اسے دیکھتے پوچھا جس نے اس کی ذات کو چند سیکنڈز میں کسی نا کام کا کر دیا تھا ۔
” کیف ۔۔۔ اور زمر ایک دوسرے کو بہت چاہتے ہیں ۔۔۔ میں برداشت نہیں کر سکتا کہ زمر کے ساتھ ایسا ہو اور میرا بھائی ۔۔۔ جیتے ہوئے بھی زندہ ہو ۔۔۔۔ زمر بھی سکون سے نہیں رہ پائے گی ۔۔۔ وہ بھی ایک زندہ لاش بن جائے گی ۔۔۔۔ شاہ حویلی میں محبتوں کا قتل ہو جائے گا ۔۔۔ یہ مجھسے دیکھا نہیں جائے گا ” اپنے ہاتھوں کو مسلسل مسلتے ملتے سر جھکائے وہ سنجیدگی سے کہہ رہا تھا ۔
” میرى بہن ہے وہ سائیں ۔۔ اس کا درد میرا درد ہے ۔۔۔ میرے لیے بھی یہ بہت مشکل ہے برداشت کرنا ۔۔۔۔ لیکن میں کیا کر سکتی ہوں سائیں ؟ ۔۔۔ دل تو بہت کرتا یے کہ میں کچھ ایسا کروں جس سے میری آپی بچ جائیں اس۔۔۔ اس روائت کی بھینٹ نہ چڑھ جائے ” بولتے بولتے اس کی اواز رندھ گئی تھی۔ سر جھکا دیا اسے لگ رہا تھا کہ وہ اب رو دے گی.
سیف نے جبڑا بھینچ لیا کیونکہ وہ جو بات کہنے جا رہا تھا شائد اس کیلیے اس کی اپنی زبان لڑکھڑا رہی تھی ۔
” میں چاہتا ہوں کہ۔۔۔۔ کیف اور ۔۔۔زمر کسی طور الگ نا ہوں” سیف نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا ۔
پسینے کے ننھے قطرے ماتھےپر نمودار ہو گئے تھے.
“کیا سائیں ۔۔۔ کیسے ؟۔۔ کیا کر سکتے ہیں ہم ؟” عنابیہ نے فوراً کہا کم سے کم اگر وہ اپنی بہن کو بچانے کے لیے کر سکتی ہے تو وہ ضرور کرے گی ۔
“عنابیہ ۔۔۔۔ میں چاہتا ہوں ۔۔۔ کہ ۔۔۔ تم ۔۔۔ ” خاموش ہو گیا جیسے زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی۔
” میں کیا سائیں ۔۔۔ اگر میں زمر آپی کو بچا سکتی یوں یا کوئی ایسا کام جس میں میری ضرورت ہے میں ساتھ دوں گی ” وہ اس کے سامنے آتی تیزی سے بولی اس کی پریشان نم آنکھیں سیف کے چہرے پر ٹکی تھیں۔
” تم بچا سکتی ہو ” اس کی طرف دیکھتے کہا
اس کے دیکھنے پر عنابیہ کی نگاہیں جھک گئیں اس وقت بھی اس میں ہمت نہیں تھی سیف کی آنکھوں میں آنکھیں ملانے کی ۔
” بتائیں سائیں حکم کریں ” اسے عجیب تو لگا سیف کا ایسے صرف اسی سے مددد مانگنا کیونکہ آج تک جتنی بھی پنچایتوں کے فیصلے ہوئے تھے اور اس میں بیٹیوں کو غلام یا ونی دیا جاتا تھا اور اس کا کوئی دوسرا حل نہیں ہوتا تھا ۔ اب یہ وقت جب شاہ حویلی پر آیا ہے تو جہاں بڑے کچھ نہیں کر پا ریے وہاں یہ کیا کر سکتی تھی ایسا کیا عمل تھا جو کر دینے سے اس کی بہن بچ سکتی تھی ؟
” عنابیہ ۔۔۔۔ میں چاہتا ہوں کہ۔۔۔۔۔ تم ۔۔۔ زمر کی جگہ جاؤ ۔۔۔ ” سیف نے بڑی مشکل سے الفاظ ادا کیے مگر کر دیے
عنابیہ نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا جو آنکھیں اپنے ہاتھوں پر لگائے بیٹھا تھا اور سکون میں تھا ۔
عنابیہ تو ایسے جیسے پوری حویلی کی چھت اس کے سر پر گر گئی ہو ۔ جو دھماکہ ابهى سیف نے کیا تھا وہ اس کی سماعت میں بمب کی طرح لگا تھا ۔ اسے یقین نہیں آیا کہ سیف نے ابهى اسے کیا کہا ۔
” س ۔۔۔۔۔ ا ۔۔۔۔ یں ۔۔۔ یہ کیا ۔۔۔ کہہ رہے آپ ؟ ” تیز دھڑکن کے ساتھ اس کی آواز بھی لڑکھڑا گئی تھی ۔
” میں جانتا ہوں عنابیہ جو میں کہہ رہا ہوں ۔۔۔ وہ بلکل بھی آسان نہیں ۔۔ نا ہی ایسا مناسب یے ۔۔۔ ہمارے لیے تم بھی اتنی اہم ہو جتنی زمر ۔۔لیکن عنابیہ ” اس کو سمجھاتے ہوئے دیکھا جو بے یقینی حیرانی سے سیف کو دیکھ رہی تھی چہرے پر ہنوز دوپٹے کا پلو دے رکھا تھا.
 وہ اٹھ کر اس کے مقابل آیا ۔ عنابیہ شاکڈ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔
.” زمر اور کیف ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے ہیں ۔ کم سے کم میرے میں اتنی ہمت نہیں کہ میں اپنے بھائی کو اجڑنے دوں ۔۔۔ میں تو اس کے بدلے میں اپنی جان کی قربانی پیش کر دیتا لیکن شاہ جی بی جان ایسا برداشت نہیں کر پائیں گے ۔۔۔ اور اس کے علاوہ حل بھی نہیں کہ ہم شاہ حویلی کی بیٹی دیں انہیں ۔۔۔
ہمیں یہ کرنا ہو گا عنابیہ ” سیف نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اسے اس وقت یہ راستہ بہتر لگ رہا تھا ۔ اپنا بھائی اور اس کی محبت نظر آ رہی تھی ۔ پنچایت کے فیصلے میں زمر کی قربانی نظر آ رہی تھی اور اسے یہ نظر آ رہا تھا کہ کیف زمر کو بچانے کیلیے ہر قیمت لگا دے گا ہر وہ چیز کرے گا جس سے وہ زمر کو ایسی سزا نا ہونے دے ۔ وہ جانتا تھا کہ کیف کتنا شدت پسند ہے زمر کے معاملے میں ۔ اور ایسی سنگین صوررِ حال میں اسے یہی حل سمجھ آ رہا تھا شام جو فیصلہ ہو جانا تھا ۔
” آ پ ایسا ۔۔۔ کیسے کر. ۔۔۔ سک ۔۔ سکتے ہیں سائیں ۔۔۔ میں ۔۔ میں ۔۔۔ آپی کی۔۔۔ جگہ ۔۔ خدارا ۔۔۔ مجھے مار دیں ۔۔۔ مگر ۔۔ ایسا نا کریں ۔۔ میں صرف آپ کی ہوں ۔۔۔ میں ۔۔۔ نہیں آپ ۔۔۔ کے علاوہ نہیں ” وہ اس کے ہاتھوں پر اپنا دوسرا ہاتھ رکھتے بولی. آواز نم آلود تھی آنسو چھم چھم آنکھوں سے بہہ رہے تھے ۔ نقاب اب چہرے پر نہیں رہا تھا ۔ وہ کتنی زیادہ حسین ہے ایک دفعہ پھر سیف یوسف شاہ کو یقین ہوا تھا ۔
سیف کا بے حد دکھ ہوا اس کی حالت پر لیکن اس کے دل میں محبت کے پھول اب بھی نہیں کھلے تهے اس کے حسن سے متاثر ہوا تھا اور یہ زندگی گزارنے کیلیے کافی نہیں تھا ۔
“کرنا پڑے گا عنابیہ ۔۔۔ پلیز ۔۔ پلیز مان جاؤ ۔۔۔ میرا بھائی بکھر جائے گا اگر زمر کے ساتھ یہ ہوا تو ” سیف نے اس کے ہاتھوں پر دباؤ دے کر کہا ۔
” میرا ۔۔ کیا سائیں ؟ ۔۔ میں ۔۔۔کیسے ۔۔ آپ کے بنا ۔۔۔ کسی اور ۔۔۔ نہیں سائیں ۔۔۔ میری جان لے لیں ۔۔۔ مگر یہ نا کہیں ” وہ روتے ہوئے نفی کرتے ہوئے بولی.
“کرنا پڑے گا ۔۔۔ کیا تم نہیں چاہتی کہ تمہاری بہن بچ جائے ۔۔یا پھر تم شاہ حویلی میں محبتوں کی موت دیکھنا چاہتی ہو ؟ یا یہ کہہ دوں کہ تمہیں فرق نہیں پڑے گا جب بی جان زمر کی وجہ سے درد میں آئیں گی اور کیف کی زندہ لاش پر ماتم کناں ہوں گی ” سیف نے اسے ایک قسم کا بلیک میل کیا تھا جزباتی طور پر جو سچ میں کام کیا تھا ۔
“س۔۔۔ سا۔۔ئیں ۔۔۔جان لے لیں ۔۔۔ پر۔۔۔ یہ نا کہیے ۔۔۔ میں اپنی آپی کو بھی اس حال میں نہیں دیکھ سکتی ۔۔۔ لیکن. ۔۔ میں خود ۔۔۔ کیسے !؟؟۔۔۔ساری زندگی ۔۔۔ صرف آپ کا سوچا ہے ۔۔۔ میں کیسے ۔۔۔ کسی اور کی ۔۔ہو جاؤں ۔۔ اور وہ بھی ونی یا۔۔۔ غلام ہو کر !” اس کی کانپتی آواز اس کی روح کےچھلنی ہونے کی گواہ تھی. بری طرح سے تڑپا دیا تھا سیف نے.
” تم ۔۔۔۔۔ مان جاؤ ۔۔پلیز ۔۔۔ میں تمہیں بچانے آؤں گا ۔۔۔۔ تم دیکھنا ۔۔۔ میں بچا لوں گا ۔۔۔ شاہ حویلی کی بیٹی ہو میں تمہیں جلد بچا لوں گا وہاں سے ” اس کے سامنے منت کے سے انداز میں کہا اس وقت اسے صرف بھائی جو نظر آ رہا تھا اور اس کی تکلیف ۔
“سا ۔۔۔ ئیں ” روتے ہوئے نفی میں سر ہلایا
” تمہیں ۔۔۔میری قسم عنابیہ ۔۔۔ مجھسے اس محبت کی قسم جو تم مجھسے کرتی ہو” اس کے سامنے ہاتھوں کو جوڑتے سیف یوسف نے وہ پتہ پھینکا تھا جس نے عنابیہ کی سوچ اور زبان پر قفل لگا دیے تھے. سوچنے سمجھنے کی صلاحیت حذف کر لی تھی. اس کی محبت پر سوال کر دیا تھا۔
صحیح کہتے ہیں کہ زندگی میں ایک شخص آپ جو بہت عزیز ہوتا ہے جس کے ہاتھ آپ کے جزبات کی کنجی ہوتی یے جب چاہتا ہے ہنسا دیتا یے جب چاہتا ہے رلا دیتا ہے جب چاہتا ہے ساتھ کھڑا ملتا ہے اور جب چاہتا ہے دور ہو جاتا ہے چھوڑ جاتا ہے ۔
” سائیں ۔۔۔ مجھے قبول ہے ” ڈوبتے دل کے ساتھ اس کی دی گئی قسم کی لاج رکھی ۔اس قسم نے اس کے گھٹنے ٹکوا دیے تھے ۔
” ش۔۔شکریہ عنابیہ ۔۔تم نے میری بات کو سمجھا ۔۔۔ میں تمہیں جلدی نکال لوں گا وہاں سے پریشان نا ہو نا ۔۔۔” اس کے ہاتھوں پر ایک بار پھر دباؤ دیتے کیا اور تیزی سے کمرے سے نکل گیا ۔
عنابیہ زمین پر ڈھ سی گئی ۔ آنکھیں اب آنسو نہیں نکال رہی تھیں بلکہ منجمد ہو گئی تھیں یہ سوچ کر کہ سیف کے پاس اتنا جگرا کیسے آ گیا کہ عنابیہ کو بے مول کر دیا ۔
” سائیں ۔۔۔۔ آپ نے تو ۔۔۔ میرے عشق کا ۔۔۔ جنازہ نکال دیا” خود سے مخاطب ہو کر کہا ۔ اب اور راستہ نہیں تھا اسے بھولے گا نہیں کہ سیف کی خاطر محبت اور عزت کا سودا کیا تھا.
 نئے معانی سمجھ آگئے تھے ڈر کے مجھے
 سبھی کو پگڑی کے لالے تھے ، اور سر کے مجھے
 تو خواب توڑ دیے میرے ، خیر اچھا کیا
 تمہارا جی تو بھرا ، خالی کر کے مجھے
 کسی نے ساتھ نبھانے سے معذرت کرلی
 کسی نے دے دیے نقشے نئے سفر کے مجھے
 یہ لوگ مجھ کو سکھاتے ہیں شعر کیا شئے ہے
 یہ لوگ رستے بتاتے ہیں میرے گھر کے مجھے
 بس اک نظر سے میں نظروں میں آگیا احسن
 بس ایک شخص نے دیکھا تھا آنکھ بھر کے مجھے
“تمہارا دماغ ٹھیک ہے ؟” بی جان سیف کی طرف دیکھتی گرج کر بولیں
سارے لوگ لاؤنج میں جمع تهے سب ہی سیف کو حیران نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔ جبکہ کیف شاکڈ تھا کہ سیف اتنے آرام سے کیسے اپنی منگ کو دینے کیلیے تیار ہو گیا تھا.
” بی جان ۔ اس کے علاوہ کوئی چارا نہیں “سیف نے سنجیدگی سے کہا
“تم سب کا دماغ خراب ہو گیا ۔۔ میری بیٹیوں کو کیوں قربان کر رہے ہو” سہیلہ سامر روتے ہوئے اونچی آواز میں بولیں
” آواز نیچی “سہیلہ کہ بلند آواز پر یوسف شاہ کی گرجدار آواز گونجی ۔ سہیلہ اپنی آواز کو دباتی دونے لگ گئیں اور کیا کر سکتی تھیں ۔
ماہم اوپر کمرے میں تھی جسے زبردستی احسام چھوڑ کر آیا تھا کہ اگر یہ نیچے رہی تو اپنی فضول حرکتوں اور باتوں سے صرف کام بگاڑ دے گی اور کچھ نہیں ۔
” کسی صورت نہیں ۔۔۔ خبردار تم نے اگر عنابیہ کیلیے ایسے الفاظ ادا کیے “احسام آگ برساتی نگاہوں سے سیف کے سامنے آتا بولا
سیف نے اسے دیکھا جس کی آنکھوں میں شدت کے جزبات تھے یا شائد اسے لگا ۔
” سیف تم کیا بول رہے ہو ۔۔ زمر کی جگہ عنابیہ ؟ ۔۔۔۔ یہ کیا ہے ؟” اب کی بار آغا جان نے سیف سے پوچھا ۔ دو گھنٹے باقی تھے واپس پنچایت میں جانے کیلیے ۔
” یہی صحیح آغا جان ۔۔۔۔ کیف کو کیوں سزا دے رہے ہیں ۔۔ زمر سے اتنی محبت کرتا ہے وہ ۔۔ ایسے نہیں کریں آپ ” سیف نے سنجیدگی سے جواب دیا ۔
” تو تمہیں فرق نہیں پڑتا ۔۔۔ عنابیہ بھی تو تمہارے منگ ہے ؟” آغا جان نے تفتیشی انداز میں پوچھا۔
” آغا جان ۔۔۔ مجھے ویسے بھی عنابیہ پسند نہیں ۔۔۔ میں یہ شادی تک نہیں کرنا چاہتا۔۔ اور اسی لیے کچھ خاص
فرق نہیں پڑتا ” سیف نے سفاکی سے کہا
سہیلہ کے قدم لڑکھڑا گئے ۔ زوبیہ نے جلدی اسے سہارا دیا ۔
” چٹاخ “یہ تھپڑ بی جان نے مارا تھا ۔
سیف نے بے یقینی سے انہیں دیکھا ۔
” مجھے افسوس ہے خود پر ۔۔۔۔ تم میرے بیٹے ہو ۔۔۔ تمہیں کس نے حق دیا ہے اس کو ایسے بےآبرو کرنے کا ؟؟؟؟ ایسے اس کی عزت کو دو کوڑی کا کرنے کا ؟؟”بی جان کی شاکڈ حیران کن پریشان آواز لاؤنج میں گونجی تهی ۔ انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ جو بات عنابیہ اور ان کے درمیاان تھی وہ سیف نے اتنی ڈھٹائی سے کہہ دی ۔۔ یہ شادی کے کیے مان بھی تو گیا تھا ۔پھر کیسے آج سب کےسامنے اس کی قدر گنواہ دی ۔
” میں تیری جان لے لوں گا سیف ” احسام جھٹکے سے اسکے کالرز پکڑ کر چیخا ۔ غصے سے چہرہ سرخ ہو رہا تھا ۔
سب نےحیرانی سے احسام کو دیکھا جو ایف کے کالرز پکڑ کر کھڑا تھا ۔
” تو کیوں اتنا گرم ہو رہا ہے ؟” سیف نے اس کی آنکھوں کو سمجھتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا.
” اس نے ساری زندگی تیرے نام کر دی ۔۔۔ اس کے دل میں صرف تو تھا ۔۔۔ تیرے علاوہ ہر محبت کی نگاہ کو دار کیا اس نے ۔۔۔ پاس نہیں آنے دیا ۔۔ تو نے بھری محفل میں اسکی عزت کو دو کوڑی کا کیسے کر دیا ۔۔۔ میں تیری جان لے لوں گا اگر تو نے عنابیہ کے بارے میں کچھ بھی غلط سوچا ” اس کے کالرز کو مٹھیوں میں دبوچے وہ سیف کی آنکھوں میں غصے سے دیکھتے بول رہا تھا ۔
” تجھے کیا یے ۔۔۔ تو کیوں اتنی ٹینشن لے رہا ہے ؟” سیف نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ سختی سے رکھتے کہا ۔
“کیونکہ میں ” اس سے آگے بول نہیں پایا لب سی لیے اور اس کے کالرز چھوڑ کر دو قدم دور ہوا بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا تا کہ خودکو کنٹرول کر سکے ۔
“کیونکہ کیا ۔۔۔بول ۔۔ بول نا ” سیف نے اسے دو دفعہ ہٹ کیا
” کیونکہ میں اسے پسند کرتا ہوں ۔۔۔ محبت کرتا ہوں اس سے ۔۔۔ اس کے خلاف جو ہو گا میں اس کی جان لے لوں گا ” احسام نے تعیش میں آ کر کہا ۔ پورے لاؤنج میں یہ اعتراف بجلی بن کر گرا ۔
سب شاکڈ نگاہوں سے احسام جو دیکھ رہے تھے ۔
سہیلہ کی تو بس ہو گئی تھی وہ اپنی بیٹیوں کی عزت کا جنازہ ایسے اپنے ہی گھر میں نکلتا کیسے دیکھ سکتی تھیں ۔ زوبیہ کی آنکھیں پتھرا گئیں تھیں ۔
زامل کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی آ گئی تھی ۔
“چٹاخ ” اب یہ تھپڑ فضیلت نے احسام کو چہرے پر مارا تھا ۔ انہیں اس وقت سخت شرمندگی ہو رہی تھی ۔ احسام نے انہیں نہیں دیکھا تھا وہ سمجھ رہا تھا کہ کیا کہا ہے اس نے ۔
فضیلت نے کچھ نا کہا بس تیزی سے لاؤنج سے نکلتی اپنے کمرے میں چلی گئیں ۔
” احسام ۔۔۔۔ اپنی زبان کا یہیں قفل لگا لو ۔۔۔ اور سب سن لو ۔۔۔ ابھی ہم پنچایت جائیں گے ۔۔ عنابیہ کو تیار رکھنا” آغا جان نے سارے ماحول کو سمجھتے ہوئے کرختگی سے کہا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھے۔
“لیکن تایا جان “
“بس ۔۔۔۔ یہاں صرف عنابیہ کی بات ہوئی تھی بس ۔۔۔ اور کچھ نہیں. ۔۔۔ اب کوئی بحث نا کرے” احسام کے بولنے سے پہلے ہی آغا جان نے غصیلی رعبدار میں کہا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے ۔
” میری بیٹی کی زندگی ایسے ہی رولنی تھی۔۔۔۔تو فرید بتا دیتے نا ۔۔۔۔ میری زندگی کا حاصل ہے میرے بچے ۔۔ اور مجھے اب سمجھ آئی کہ میرے بیٹی ۔۔۔ کی مسکان کہاں اور کس وجہ سے غائب ہو گئی ۔۔۔۔۔ میری ماہم” زوبیہ شاہ کی آواز رندھ گئی تھی ۔ انہوں نے چہرے پر ہاتھ رکھ دہے اور رو دیں. زامل ان کی طرف بڑھا اور انہیں اپنے ساتھ لگا دیا ۔جبڑا بھینچ چکا تھا ۔ ماہم اس کی لاڈو پلی بہن تھی ۔کوئ ایری غیری نہیں جو فرق نا پڑتا ۔احسام تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھا اسے علم تھا کہ ایسا ہونا تھا ۔
فرید شاہ اپنا سر پکڑ کر صوفے پر ڈھے سے گئے ۔بی جان کے کان ابھی تک اس بات جو تسلیم نہیں کر پا رہے تھے جو ابهى ہوا تھا. لڑکیاں تو نیچے تھیں ہی نہیں سب اپنے اپنے کمرے میں تھیں ۔
اب لاْنج میں خاموشی تھی ۔ کسی کے پاس نا الفاظ تھے نا جوئی بات تھی جو کر سکتے.
“تو یہ طے ہوا کہ شہاب کھوکھر کے قتل کے بدلے یوسف شاہ کی بھتیجی عنابیہ سامر شاہ کو بطور ونی دیا جاتا ہے ۔۔۔سب راضی ہیں اس فیصلے سے!” سرپنچ نے کہا
سب کو افسوس تو ہو رہا تھا مگر یہی انصاف تھا تو رضامندی دینی پڑی ۔
یوسف شاہ کا آج سر جھکا ہوا تھا ۔ ایک دفعہ پھر تاریخ دوہرائی گئی تھی ۔۔کیف نے اس پر بھی بہت احتجاج کیا تھا مگر اسے چپ رہنے کو کہا گیا ۔ احسام نے کافی واویلا مچایا تھا مگر اس کی نہیں سنی گئ تھی. بلکہ اسے حویلی رہنے کا حکم ملا تھا آغا جان کے سامنے اس کا بھی بس نہیں چلا تھا ۔
” ڈیڈ میں ۔۔۔ کسی صورت یہ قبول نہیں کروں گا “وہاب نے دبی آواز میں انکار کیا یہ کام تو وہ گھر سے کرتا آ رہا تھا مگر کھوکھر نے اسے شیریں کی دھمہی دی کہا گر یوسف شاہ کی حویلی کی بیٹی جو ونی نا کیا تو شیریں کو ہمیشہ ہمیشہ کیلیے دور کر دے گا ۔ چارو نچار اسے پنچایت میں آنا پڑا.
” ایسا کرنا ہو گا ورنہ شیریں کو بھول جاؤ” نیاز کھوکھر نے اس کی طرف آنکھیں نکالتے کیا وہاب لب بھینچ کرر رہ گیا ۔
جب عنابیہ کو شال میں یعنی پردے میں لایا گیا تو وہاب کے دماغ پر جیسے دھماکے ہوئے تھے ۔قمر نے جو تصویر دکھائی تھی اس میں یہی حکیہ تو تھا اس کا ۔ اسے یاد آیا کہ وہ بھی تو شاہ حویلی کی بات کرتا تھا ۔ عنابیہ ہی نام بتاتا تھا یعنی جسے اس کا دوست چاہتا ہے وہ تو یہی ہے ۔ایک سیکنڈ لگا تھا وہاب کو پلین بنانے میں ۔
وہاب نے پھر شرط یہ رکھی کہ نکاح گھر ہو گا وہ یہاں نہیں کرے گا ۔کیونکہ کھوکھر اس وقت ہاور میں تھا اس کی طرف کی بات ماننی پڑی ۔
وہاب نے گاڑی میں بیٹھ کر موبائیل نکالا ۔
” مجھے گھر مل 5 منٹ میں ورنہ اپنے نا آنے ہر ساری زندگی پچھتائے گا ” موبایل پر میسج لکھ کر قمر کو بھیجا ۔ اب جو پلین اس نے بنایا تھا اس ہر عمل کا وقت تھا ۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناول نگری میں ہر نئے پرانے لکھاری کی پہچان، ان کی اپنی تحریر کردہ ناول ہیں۔ ناول نگری ادب والوں کی پہچان ہے۔ ناول نگری ہمہ قسم کے ناول پر مشتمل ویب سائٹ ہے جو عمدہ اور دل کو خوش کردینے والے ناول مہیا کرتی ہے۔
ناول کا ریوئیو دینے کیلئے نیچے کمنٹ کریں یا پھر ہماری ویب سائیٹ پر میل کریں۔شکریہ

novelsnagri786@gmail.com

Read haveli based novel, online urdu novels, saaiyaan novel at this website Novelsnagri.com for more Online Urdu Novels and  Afsanay that are based on different kind of content and stories visit this website and give your reviews. you can also visit our facebook page for more content Novelsnagri ebook

Leave a Comment

Your email address will not be published.