Web Special Novel, haveli based novel, urdu novels,

haveli based novel, urdu novels, saaiyaan episode 9

haveli based urdu novel, urdu novels, saaiyaan based on forced marriage, revenge based & novel is full of emotions, romance, suspense & thrill, Story of a girl who wants to follow the society style.Novel written by Bisma Bhatti.

Web Special Novel, haveli based novel, urdu novels, saaiyaan,

 

سیاں

از_قلم_بسما_بھٹی

#قسط_09

” آپ لوگوں نے میرى بہن کو ونی کر دیا!!! کیسے ہمت کیسے ہوئی ۔۔ واپس لے کر آئیں ” زمر اپنے کمرے میں بلند آواز سے چیخ رہی تھی
اس وقت کمرے میں بی جان فضیلت اور ملیحہ موجود تھے ۔ جو ساکت بیٹھے خاموش تھے ۔
زمر کو دودھ کا گلاس پلایا گیا تھا جس میں نیند کی گولیاں شامل تھیں یہی ایک راستہ تھا جس سے زمر کو چپ کروایا جا سکتا تھا ۔ یہ دودھ کا گلاس کیف کو بھی پلایا گیا تھا تا کہ دونوں کوئی ہنگامہ نا کریں ۔
اور اب زمر کو جب ہوش آیا تو اسے حقیقت بتائی گئی جس پر اس کے پیڑوں تلے زمین نکل گئی تھی ۔ اپنی تکلیف جو قسمت میں ہو وہ جان کے تو انسان صبر کر لیتا ہے لیکن اچانک وہ تکلیف آپ کے جان سے پیارے کسی رشتے پر آ جائے تو تکلیف دوگنی ہو جاتی ہے ۔ یہی حال زمر کا تھا وہ خود کے بس میں نہیں آ رہی تھی کسی کے بس میں کیا آتی ۔
” ایسا ہونا ہی تھا ” بی جان نے ٹھہر ٹھہر کر جواب دیا ۔
” ایسا نہیں ہونا تھا ۔۔۔ ایسا آپ سب نے کیا تھا ۔۔۔میری بہن کو زندہ مارا ہے آپ سب نے ۔۔۔ اسے واپس لائیں ” وہ ہزیاتی انداز میں چیخ رہی تھی ۔ پہلی بار زمر اتنے غصے میں آئی تهی اور اس کی آواز بلند ہوئی تھی ۔
 ” آواز نیچی رکھو زمر ۔۔۔ تم شاہ حویلی میں ہو ” بی جان نے کرخت آواز سے کہا جو بھی ہوا تھا وہ ہونا تھا زمر نا صحیح تو عنابیہ اگر عنابیہ نا ہوتی تو ملیحہ یہ بھی نا ہوتی تو ماہم اگر یہ بھی نا ہوتی تو اور کوئی فیصلہ ۔ لیکن اس کے باوجود شاہ حویلی کے اصولوں میں یہ شامل تھا کہ شاہ حویلی کی بیٹیاں اپنی آوازیں بلند نہیں کرتی ہیں بلکہ اپنی زبانوں کو دانتوں کے پیچھے ہی رکھتی ہیں ۔
” بی جان ۔۔ بی جان ” زمر روتے بلکتے بی جان کے گھٹنوں کے پاس بیٹھی۔
” خدا کا واسطہ ہے بی جان۔۔۔اسے بلا لیں واپس ۔۔ ایسے نا کریں ۔۔ ایسے نا کریں ۔۔ وہ کیسے رہے گی ان میں ۔۔ وہ بہت معصوم ہے ۔۔ میری عنو بہت معصوم ہے ” وہ روتی ہوئی بی جان کی منت کرنے لگی ۔
ملیحہ کا دل بھر آیا کب دیکھا تو اس نے زمر کو اس حال میں ۔ اس نے جلدی سے آگے ہوتے زمر کو سنبھالا ۔
بی جان کو ایک چپ لگ گی ہوئی تھی انہوں نے کیسے سینچ سینچ کر اس حویلی کے لوگوں کو جوڑا تھا کیا پتہ تھا کہ ایسا دن انہیں بھی دیکھنا پڑے گا ۔
” زمر ۔۔۔ میری جان ” فضیلت شاہ آگے ہوئیں اور اس اپنے سینے سے لگا لیا ۔ زمر ان کے گلے سے لگتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی. اس کا حلیہ بگڑ گیا تھا نا آنکھوں میں چمک تھی نا ہی بال سنورے تھے نا ہی دوپٹہ سر پر ٹک رہا تھا ۔
” اب بھولنا پڑے گا اسے میری جان اب بھولنا پڑے گا ” اس کے سر کو مسلسل بوسہ دیتے کہہ رہی تھیں ۔
” کیا ہو رہا یے !” تبھی یوسف شاہ اندر داخل ہوئے ۔
ملیحہ نے جلدی سے اس کا دوپٹہ پکڑ کر زمر کے سر پر اوڑھا دیا ۔
” آ۔۔۔ غا جان ۔۔۔ خدا کا واسطہ یے ۔۔۔ میری بہن واپس لے آئیں ۔۔ میں چلی جاتی ہوں اس کی جگہ ۔۔۔ مگر اس پر ظلم نا کریں ” وہ اب یوسف شاہ کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھی ہاتھ جوڑ کر منت کرنے لگی تھی ۔
یوسف شاہ نے دکھ سے اسے دیکھا لیکن وہ مجبور تھے وہ کچھ نہیں کر سکتے تھے ۔
” کس کی بات کر رہی ہے یہ !” سب کچھ سنبھالنے کے لیے یوسف شاہ نے رعب سے پوچھا ۔
بی جان نے جھٹکے سے گردن موڑ کر انہیں دیکھا ۔
ملیحہ اور فضیلت اس بات پر ساکت ہو چکیں تھیں ۔
ّزمر نے روتے ہوئے آغا جان کو دیکھا جو کمر پر ہاتھ باندھے اسی مغرور چال میں کھڑے تهے ۔
” آ۔۔ غا ۔۔ جان ۔۔ م ۔۔ میری بہن ۔۔ عنابیہ ۔۔ اور کون ! ۔۔ بچا لیں واپس لے آئیں” بلکتے ہکلاتے کہا ۔ جسم جیسے سن ہو رہا تھا۔
” تم تو سامر شاہ کی ایک ہی بیٹی تھی ۔۔۔ خبردار جو اب تمہاری آواز شاہ حویلی کی دیواروں سے ٹکڑائی ” اس کی طرف دیکھتے ازلی رعب سے کہا اور لمبے لمبے ڈانگ بڑھتے کمرے سے نکل گئے ۔
زمر کی تو مانو جیسے جان ہی جسم سے نکل گئی تھی ۔ وہ مردہ سے جسم سے نڈھل ہوتی زمین پر گرنے کے انداز میں بیٹھی ۔
آنکھیں دروازے کو شاکڈ کے عالم میں دیکھ رہی تھیں. جیتے جی عنابیہ کے ساتھ آج اسی وقت آغا جان نے زمر کو بھی مار دیا تھا ۔ اس کی مسکراہٹ اس کی بہن اپنے ساتھ لے گئی تھی اب تو یہ مسکراہٹ کبھی واپس نہیں لائی جا سکتی تھی ۔ اس کی بہن جس ظلم جس درد سے گزر رہی ہو گی اس کا درد اس کا احساس فقط زمر کو تھا یا اس کی ماں کو جو بری طرح سے ٹوٹ گئی تھیں جنہوں نے خود کو اپنے کمرے میں بند کر لیا تھا. جنہوں نے خود کو شاہ حویلی سے کاٹ لیا تھا جس نے ان کی بیٹیوں کی خوشیاں کھا لی تھیں ۔
💖💖💖💖💖💖💖💖
” امی بات کیا ہے ۔۔۔ جب جب میں شاہ حویلی کی بات کرتا ہوں آپ کا رنگ کیوں بدل جاتا ہے ؟ طبیعت کیوں بگڑ جاتی ہے !” قمر اس وقت اپنی ماں سے پوچھ رہا تھا جن کے ماتھے پر پھر سے شاہ حویلی کا نام سنتے ہی پسینا نمودار ہوا تھا ۔
” م ۔۔۔ میں بھلا کیوں ۔۔۔ اس نام سے ۔۔ کوئی اثر لینے لگی ” ارم سبکتگین نے نا محسوس انداز میں ماتھے سے پسینا صاف کیا ۔
” امی کیا بات ہے ۔۔۔ جب میں کہتا ہوں کہ چلیں رشتہ لینے تبھی آپ بات بدل دیتی ہیں یا کسی کام میں مصروف ہو جاتی ہیں ” قمر ان کے سامنے بیٹھا اور تحمل انداز سے پوچھا ۔ وہ جتنا جلدی رشتہ لے کر جانا چاہیتا تھا لیکن اس کی ماں سن ہی نہیں رہی تھی ۔
” قمر ۔۔۔بات کو کیوں پکڑ کر بیٹھ جاتے ہو ! ۔۔ میں تو بس وہاب کا سوچ کر پریشان تھی کہ جس شاہ حویلی کا تم نے شور ڈالا ہوا ہے اسی کے ساتھ وہاب کی دشمنی نکل آئی ہے ۔۔۔ اب آگے ہم انہیں دشمن خاندان میں رشتہ کر لیں !” ارم نے اپنی بدلتی حالت کو اس طرف کر دیا اور اندر کی بات چھپا لی ۔
” امی ۔۔۔ ایسا کچھ نہیں یے ۔۔۔ وہاب کا لینا دینا نہیں یے ۔۔۔ وہ تو شہاب بھائی نے غلطی کی تھی لڑائی میں پہل کی تھی غلط الفاظ ادا کیے تھے اور آپ جانتی ہیں کہ شاہ خاندان غیرت کے معاملے میں کیسے ہوتے ہیں ” اپنی امی کا ہاتھ پکڑ کر انہیں سمجھانے کے انداز میں کہا ۔
” جانتی ہوں ۔۔۔۔ بہت غیرتمند ہوتے ہیں ۔۔۔ ایک منٹ میں فیصلہ کر دینے والے ” ارم سبکتگین کی کھوئی ہوئی آواز ابھری جیسے ماضی کی کسی یاد میں کھوئے ہوئےکہا گیا ہو ۔
” آپ پریشان نا ہوں وہ ایسا خاندان نہیں ہے کہ ہم خطرے میں آ جائیں اور ویسے بھی میں ایک آرمی آفیسر ہوں مجھے کس سے خطرہ ہونا میں تو خود سنبھال لوں گا ” قمر نے ان کے ہاتھوں پر دباؤ دیتے کہا ۔
” ہممم پھر بات کرتے اس پر یہ بتاؤ کہ ۔۔ آج ان کا فیصلہ تھا نا ۔۔۔ کیا بنا ؟” ارم نے بات کو ختم کرنے کیلیے کہا ۔
” ہاں ۔۔ میرى بات نہیں ہوئی وہاب سے ۔۔۔ میں کرتا ہوں اس سے بات ۔۔ ویسے صبح بتا رہا تھا کہ نیاز انکل بہت بری ڈیمانڈ کر رہے ہیں ” قمر نے پریشانی سے بتایا اسے سوچ کر ہی غصہ آ رہا تھا ۔
” کیوں کیا مانگ رہے ہیں انصاف میں !” ارم نے حلق تر کرتے پوچھا ایسے جیسے ان کی زندگی کے پل کہیں سے گھوم کر آ گئے ہوں ۔
” یہی ۔۔ شاہ حویلی کی کوئی خوبصورت بیٹی یا بدلے میں خون ۔۔۔۔ پر مجھے لگتا ہے کہ بات پیسے لینے دینے میں ختم ہو گی ” قمر نے بتایا اسس کی سوچ اس طرف آ ہی نہیں رہی تھی کہ خوبصورت بیٹیوں میں سے عنابیہ بھی جا سکتی ہے ۔
” یہ غہط ہے بہت ۔۔۔ کب بدلے گا یہ رواج ” ارم سبکتگین کی آنکھوں میں پانی کی لہر آ گئی ۔
” اچھا سن۔۔۔۔” ابهى وہ کچھ بولنے ہی لگا تھا کہ اس کے موبائل پر میسج آیا اور ساتھ ہی مس بیل بھی آئی ۔
ارم نے بھی اس کے موبائل کی طرف دیکھا ۔
موبائل پر وہاب کا میسج اور مسڈ کال تھی
” میرے گھر مجھسے 5 منٹ میں مل ورنہ نا آنے پر تو زندگی بھر پچھتائے گا ” یہ میسج لکھا ہوا تھا ۔
قمر کو سمجھ نہیں آئی کہ آخر ایسا کیا ہو گیا کہ وہ ایسے بلا رہا ۔
” کیا بات ہے کس کا میسج ہے !” ارم نے اس سے پوچھا ۔
ابھی وہ جواب ہی دینے لگا تھا کہ دوبارہ قمر کا میسج آیا ۔ قمر نے اسے اوپن کیا ۔
 “قمر ۔۔۔مووو فاسٹ ۔۔۔ میرے گھر پہنچ جتنی تیزی اور جتنی رفتار سے آ سکتا ہے ورنہ ہم دونوں کی زندگی تباہ ہو جائے گی ” اس میسج کو پڑھ کر قمر کو اچھی خاصی پریشانی لاحق ہوئی ۔
وہ تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھا اور ارم کی آوازوں کا جواب دیے بنا گاڑی کی چابیاں اٹھاتا باہر نکل گیا ۔ اس کا ارادہ اب وہاب کے گھر جانے کا تھا ۔
” یا اللّٰه ۔۔ خیر کرنا ۔۔ میرا ماضی ۔۔۔ میرے بیٹے کے سامنے نا آئے ” ارم دل ہی دل میں اپنے رب سے مخاطب ہوئی ۔
💖💖💖💖💖💖💖💖
تین گاڑیاں نیاز کھوکھر کے گھر کے باہر رکیں ۔ درمیان والی گاڑی میں عنابیہ تھی جو بری طرح سے ڈری سہمی ہوئی تھی ۔
” چل نکل باہر ” تبھی اس کی سائیڈ کا دروازہ کھوکھر کے آدمی نے کھولا ۔
عنابیہ نے سہم کر اسے دیکھا اتنا بڑا سانڈ جیسا تو تھا ۔ جو کبھی اپنی حویلی میں کسی مرد کے سامنے ایسے نہیں آئی تهی آج کیسا وقت آیا تھا کہ جس جگہ اسے لایا گیا تھا وہاں قدم قدم پر مرد کھڑے تھے. وہ بچی نہیں تھی جو مردوں کی اٹھتی غلیظ نظروں کو نا پہچان پاتی ۔
ڈرتے ڈرتے وہ باہر نکلی چہرے کو اچھی طرح شال سے ڈھانپ رکھا تھا ۔ اس کا دودھیا ہاتھ اس کے خوبصورت ہونے کا گواہ تها ۔
” کوئی شک نہیں یوسف شاہ کی حویلی کی لڑکیاں کافی حسین ہیں ” نیاز کھوکھر جو پہلے ہی اپنی گاڑی سے نکل کر کھڑا تھا عنابیہ پر نظر پڑتے ہی کہا ۔
وہاب نے بیت مشکل سے خود کو کنٹرول کیا. وہ ایک آرمی آفیسر ہونے کے باوجود کوئی اختیار نہیں رکھ پا رہا تھا۔
” بابا ۔۔۔ مجھے اس لڑکے سے اکیلے میں ملنا ہے اس کا دماغ درست کرنا ہے کہ یہ کوئی بھاگنے کا پلین نا بنا پائے ” وہاب نے سرخ آنکھوں سے اپنے باپ کو دیکھتے کہا ۔
” ارے واہ میرے بیٹے کو جلدی عقل آ گئی ” نیاز کھوکھر مکروح ہنسی ہنستا بولا ۔ اس کے ساتھ ہی سب پیچھے ہنس دیے ۔ وہاب کا ان سب کو قتل کر دینے کو دل کر رہا تھا ۔
عنابیہ وہاب سے ڈر رہی تھی اسے نہیں علم تھا کہ اس کے ساتھ وہ کیا کرنا چاہتا تھا ۔ جیسے جیسے وہاب کے قدم اس کی طرف بڑھ رہے تھے وہ ویسے ویسے پیچھے قدم لیتی بری طرح خود سے لرز رہی تھی ۔ نفی میں سر ہلاتی قدم پیچھے لے رہی تھی ۔وہاب کو کوئی خوشی نہیں مل رہی تھی ایسا کرنے سے لیکن اسے کرنا پڑا ورنہ اس کا باپ ایسی حرکت کرتا ۔
وہ اور کتنا پیچھے جا سکتی تھی اس کی کمر گاڑی کے ساتھ لگی جا کر ۔ عنابیہ نے خوفزدہ نظروں سے وہاب کو دیکھا ۔ وہاب نے آگے بڑھ کر اس کی کلائی پکڑی ۔عنابیہ خوف سے کانپ رہی تھی ۔ اس سے پہلے وہ کوئی مزاحمت کرتی وہاب نے اسے اپنے ساتھ کھینچا اور اپنے گھر کی طرف چلنے لگا ۔
عنابیہ گرتی پڑتی اس کی تیز رفتار میں تقریباً گسیٹی جا رہی تھی اور وہاب لمبے لمبے ڈانگ بڑھتا بس جلدی سے اندر جانا چاہتا تھا ۔
سب تماشائی بنے مکروح مسکراہٹ سے یہ منظر دیکھ رہے تھے ۔ کھوکھر کے چہرے پر الگ ہی فتح کی ہنسی تھی وہ یوسف شاہ کو سارے گاؤں کے سامنے نیچا دکھا کر اس کی حویلی کی بیٹی کو ونی بنا کر لایا تھا اپنے ہی فیصلے سے مکر گیا تھا کہ اسے لڑکی غلامی میں چاہیے ۔ اس وقت یوسف شاہ مجبور تھا ورنہ وہ اس کی زبان کو گتھی سے کھینچ لیتا اور اف بھی نا کرتا ۔
جیسے ہی وہ دروازے سے اندر داخل ہوا تو اس کا خاص ملازم ادب سے ہاتھ باندھے پہلے ہی کھڑا تھا ۔
” فیض تمہیں ہوشیاری سے اس(قمر) کو پچھلے دروازے سے میرے کمرے میں لانا ہے ۔۔ بابا یا گھر کے کسی فرد کو خبر نا ہو ۔۔۔ اوکے ؛” اس کے پاس رک کر وہاب نے سرگوشی کے انداز میں کہا وہ یہ بات عنابیہ کے سامنے بھی نہیں کہہ سکتا تھا ۔
” بے فکر رہیے آپ سر” فیض نے ادباً جھک کر کہا ۔ وہاب نے سر اثبات میں ہلایا اور اور عنابیہ کو اسی طرح کھینچتا اپنے کمرے کی طرف لے گیا
کمرے میں داخل ہو کر عنابیہ کا ہاتھ چھوڑا اور دروازہ بند کیا.
” خدا ۔۔۔ کا واسطہ ہے میرے ساتھ ۔۔۔ کچھ ۔۔مت کریں ۔۔آپ کو اللّٰه کا واسطہ ہے ۔۔ میری عزت مجروح مت کیجیے گا ” اس کے سامنے ہاتھ جوڑتی کئی قدم کے فاصلے بناتی بول رہی تھی ۔ آنکھیں سرخ ہو گئی تھیں اور آنسو رخسار کو بھگو رہے تھے. اسے لگ رہا تھا کہ اب شائد وہی ہو گا جو ہر ونی کے ساتھ ہوتا آیا تھا اسے بھی رکھیل بنا دیا جائے گا ۔
” لسن ۔۔ چپ کیجیے ” وہاب اس کے سامنے آتا آہستہ آواز سے بولا:
اس کے لہجے کی نرمی اور چہرے کی سنجیدگی نے عنابیہ کو خاموش کروا دیا اور وہ کیا کر سکتی تھی اس کی سننے کے علاوہ ” میرا پہلے ہی نکاح ہو چکا ہے ۔۔۔۔۔ میں ان اصولوں کو نہیں مانتا یہ ونی غلامی خون کا بدلہ خون ۔۔ یہ بکواس ہے ۔
” وہاب نےاس سے چند قدم کے دوری پر دھیمی آواز میں کہا تا کہ کوئی باہر بھی نا سن لے ۔
عنابیہ کی حیرت سے آنکھیں کھل گئیں وہ تو بہت کچھ سوچ کر بیٹھی تھی لیکن یہ جو سامنے شخص تھا وہ کیا کہہ رہا تھا ! اسے یہ بھی کسی قسم کی سازش یا ان کا طریقہ کار لگا ۔
” میں سچ کہہ رہا ہوں ۔۔ میں آپ کو یہاں نہیں لانا چاہتا تھا ” وہاب نے اس کے چہرے پر موجود ہنوز خوف اور بے یقینی دیکھتے کہا ۔
” م۔۔۔ زاق ۔۔ کر رہے ۔۔ ہیں ۔۔ کیوں لیا پھر ۔۔ ونی میں ۔۔ مجھے” عنابیہ نے خود کے گرد چادر کو اچھے سے لپیٹتے ڈر ڈر کر سوال کیا ۔ اس کا جسم اب بھی ڈر سے کانپ رہا تھا ۔
” مجھے مجبور کیا گیا تھا ۔۔ جو میری منکوحہ ہے اسے مارنے کی دھمکی دی گئ تھی ۔۔۔۔۔ اس پر اب تک بندوق چلا دیتے اگر میں نا یہ کرتا ۔۔۔ مجھے آہ کو لانا پڑا ” وہاب نے اپنی مجبوری بتائی جس وجہ سے آج اس سے ایک گناہ کے برابر غلطی ہوئی تھی ۔
” اب۔ ۔۔۔ کیا ۔۔ کریں گے آپ !” عنابیہ نے دوبارہ ڈرتے سوال کیا ۔ وہ تو سمجھ گئ تھی کہ یہ لڑکا اپنی منکوحہ کیلیے سچا ہے لیکن اس کا کیا جسے حویلی سے دور یہاں لایا گیا ہے !
” میں آپ کو ان حیوانوں کے پاس مرنے کیلیے نہیں چھوڑ سکتا ” وہاب پریشانی سے بولا اور اپنے بیڈ پر بیٹھ گیا اسے بس قمر کا انتظار تھا.
” ک۔۔ کیا کریں گے آپ !” دیوار سے خود کو لگاتے اسی ڈر سے پوچھا
” میں جو بھی کروں گا ۔۔ آپ کی بہتری کیلیے کروں گا ۔۔۔ بس چپ رہیے گا ۔۔۔ جو کہوں مان لیجیے گا ” وہاب نے اس کی طرف منت کے سے انداز میں کہا وہ خود مجبور تها اس وقت” کیا ۔۔۔ ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔۔ کہ کچھ نا ہو” عنابیہ نے گلہ تر کرتے پوچھا:
وہاب نے اسے دیکھا اب اسے سمجھ نہیں آئی تھی کہ کیا کہہ رہی یہ !
” مطلب ۔۔۔ میں نکاح نہیں کرنا چاہتی نا ۔۔۔ ہی پلیز مجھے کسی کے سامنے مت پیش کیجیے گا ! ۔۔ میں کسی کی امانت ہوں ۔۔۔ میں اپنے سائیں کی امانت ہوں ۔۔۔ مجھے مار دیں لیکن ایسا کچھ مت کیجیے ۔۔۔جو میں نا کر سکوں !” اس کے نرم لہجے کی وجہ سے وہ اپنے دل کی بات کہہ گئ اسے علم تھا کہ اگر کوئی اور ہوتا تو اب تک اسے کسی قابل نا چھوڑتا ۔
” دیکھیں ۔۔ آپ اچھے سے جانتی ہیں آپ کہاں ہیں ! اور ابهى سب کو یہی لگ رہا ہے کہ ۔۔۔۔ میں اس وقت ۔۔۔ آپ کو کمرے میں کیوں اور کس لیے لے کر گیا ہوں ۔۔۔۔ لیکن میں جو کروں گا ۔۔ آپ کو خاموشی سے کرنا ہو گا ” وہاب بات کی اصلیت کو بات میں ہی چھپا گیا تھا ۔اسے شرمندگی ہو رہی تھی کہ وہ اس لڑکی کے سامنے اپنے گھر والوں کی کیا حقیقت آشکار کر رہا ہے لیکن یہ سچ تھا ۔
اس سے پہلے کہ عنابیہ کچھ کہتی دروازہ ناک ہوا ۔
وہاب تیزی سے اٹھا اور دروازے کی طرف بڑھا اسے ناک سے اندازا ہو گیا تھا کہ کون ہو گا ۔
عنابیہ سہم کر اور دیوار سے لگ گئی ۔ آج اس نے شال کو پن کیا ہوا تھا تبھی اس کا نقاب نہیں اترا تھا اور شائد یہ نقاب اتر بھی جاتا اگر وہاب کی جگہ کوئی اور ہوتا ۔
وہاب نے دروازہ کھولا ۔
” کیا ہو گیا تھا تجھے ۔۔۔ اور پیچھے دروازے سے کیوں اندر لے کر آئے ۔۔کیا چ۔۔” قمر جو دروازہ کھلتے ہی بولتا اندر آیا تھا لیکن اس کی بولتی تب بند ہوئی جب سامنے عنابیہ کو دیوار سے لگے پایا ۔ بولتی کیا قدم بھی جم گئے تھے ۔
” یہ ۔۔۔ تجھے نظر آ ۔۔ رہی ہے !” قمر کو اپنا وہم لگ رہا تھا تبھی گردن موڑ کر وہاب سے پوچھا جو پریشان سا کرسی پر بیٹھا موبائیل پر نمبر ڈائیل کر رہا تھا.
” وہ سچ میں ہیں یہاں ” کال ملاتے قمر کو دیکھتے کہا اور نظر دوسری طرف کر لی اسے اس وقت قمر سے نظریں ملانے کی ہمت نا تھی جس سے محبت کرتا تھا اس کا جگری یار اسی کی محبت کو ونی بنا کر لے آیا تھا ؟ کیسا دوست تھا ۔
” کیا ! ۔۔۔ یہ یہاں کیوں ہیں ؟” قمر کو کسی انہونی کا خدشہ ہوا ۔ تیزی سے پلٹ کر وہ وہاب کی طرف دیکھتے بولا
 ” چپ رہ ” وہاب نے اسے کہا اور موبائیل پر دھیان دیا ۔
” کیا مطلب ہے ؟ ۔۔ یہ یہاں کیوں ہے ؟ تو آج جرگے میں گیا تھا نا ۔۔۔ کیا فیصلہ ہوا ۔۔۔ بکواس نا کرنا ۔۔۔ سچ بولنا ۔۔کیا کر رہی ہے یہاں !!” قمر اس بار کافی غصے سے بولا اسے شک ہو رہا تھا بلکہ اس کی چھٹی حس بتا رہی تھی کہ معاملہ کچھ اور ہے عنابیہ ایسے یہاں وہاب کے گھر نہیں ہو سکتی تھی ۔
” ہاں فیض ۔۔۔ بھیج دو ” وہاب نے اس کے غصے کو برداشت کرتے کال پر کہا اور کال کاٹ دی ۔ گہرا سانس بھرا اور اسے دیکھا ۔ جو غصے سے بھرا سرخ چہرے سے اسے دیکھ رہا تھا ۔
” تیرا نکاح ہے ان کے ساتھ ۔۔ اب چپ رہنا ” اس کے سامنے آتے سنجیدگی سے کہا ۔
” مطلب ! ۔۔تو یہاں ۔۔ انہیں ۔۔۔ فیصلے میں ۔۔۔ لایا ہے ؛” قمر بے یقینی سے بولا
” قمر ۔۔۔ سن یا ر۔۔۔ تجھے یہ نکاح کرنا ہو گا ۔۔ ورنہ سب مجھے گناہ پر اکسا دیں گے ۔۔ اس سے نکاح کر اور لے کر نکل یہاں سے ۔۔۔ میں شیریں کو کچھ نہیں ہونے دے سکتا ۔۔۔ اسے مار دیتے اگر میں نا لے کر آتا انہیں یہاں ” وہاب اس کے سامنے بے بس سے بولا ۔ قمر کا جسم جھٹکوں کی ضد میں آ گیا تھا ۔ اس کی سماعت اس بات کو قبول نہیں کر پا رہی تھیں کہ اس کی محبت کو ونی کیا گیا تھا ۔
” پلیز یار ” وہاب اس کے سامنے ہاتھ جوڑتے بولا
قمر کی آنکھیں حیرت میں اب تک مبتلا تھیں ۔اس نے پلٹ کر عنابیہ کو دیکھا جو سہمی ڈری ہوئی دیوار سے لگی تھی اس کا نقاب اب بھی اس کے چہرے پر تها ۔ اس کی محبت یعنی محفوظ تهی ۔ اس نے پلٹ کر وہاب کو سینے سے. لگایا
” تھینکس یا ر۔۔۔ حفاظت کرنے کیلیے ۔۔۔ انہیں کچھ ہوتا نا ۔۔۔۔تو کبھی خود کو بخش نہیں پاتا تھا ” اس کے سینے سے لگے تڑپتے لہجے میں کہا ۔ وہاب نےاس کے گرد مضبوطی سے حصار بنایا ۔
تبھی دروازہ ناک ہوا ۔
وہاب پیچھے ہوا اور دروازہ کھولا ۔ سامنے مولوی اور اس کے دو دوست موجود تھے ۔
سب اندر آ گئے ۔
عنابیہ نا سمجھی سے سب کو دیکھ رہی تھی وہ اکیلی لڑکی تھی یہاں اور اسے ڈر بھی لگ ریا تھا دشمنوں کے گھر میں سکون کسے ہوتا ہے؟
” دیکھیں ۔۔ یہ نکاح کر لیں ۔۔ اور چلی جائیے یہاں سے ” وہاب اس کے سامنے آتا منت کرتے بولا ۔
” نکاح ! نہیں نہیں. ” نکاح کا سوچ کر اس کا دل جیسے بند ہونے لگا تھا ۔ سیف کے علاوہ کسی اور کے ساتھ نکاح یہ سب سے بھیانک سچ تھا زندگی کا جو اسے سہنا پڑ رہا تھا ۔
” ایک بھائی کی منت ہے ؟ میں آپ کو بچانا چاہتا ہوں ” وہاب نے دوبارہ کہا ۔
قمر اس کی بے سبی کو دیکھ رہا تھا مانا کہ وہ لڑکی اپنی حدود جانتی تھی قمر کو پسند بھی نہیں کرتی تھی.
مگر قمر نے سوچا نہیں تھا کہ وہ اسے ایسے اپنے نکاح میں لے گا ۔
وہاب نے اس کا ہاتھ پکڑا اور قمر کے برابر کرسی پر بٹھا دیا.
” نکاح شروع کیجیے ” وہاب نے سنجیدگی سے کہا ۔
عنابیہ کی ہچکی بند گئی تھی آنسو مزید بہنے لگ گئے تھے ۔
” عنابیہ شاہ ولد سامر شاہ کا نکاح قمر سبکتگین ولد سبکتگین ملک سے دس ہزار سکہ رائج الوقت طے پایا ہے قبول ہے ؟”
مولوی نے اس سے پوچھا
عنابیہ کو ایسے لگ دہا تھا جیسے دل نکل کر باہر آ جائے گا ۔
” پلیز ۔۔ ایک بھائی کی منت ہے مان جائیں ” وہاب نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے کہا ۔
عنابیہ نے زخمی نظروں سے اسے دیکھا.
” کوئی اور حل نہیں اس کے علاوہ ۔۔۔ ورنہ یہاں ایک ایک فرد تمہیں زندہ نہیں چھوڑے گا ۔۔۔ اور یہ میں برداشت نہیں کر سکتا ۔۔ مان جاؤ ۔۔ عزت دے رہا ہوں ۔۔ عزت سنبھال لو ۔۔ ورنہ یہاں سب عزت رہنے نہیں دیں گے ” وہاب ہنوز اس کے سر پر ہاتھ رکھے تکلیف سے بول رہا تھا ۔ اس کے اپنے گھر کے لوگ درندے تھے کتنی تکلیف کی بات تهی ۔
عنابیہ کو اس کے علاوہ سچ میں کوئی حل نظر نا آیا ۔ اسے واپس جانے نہیں دینا تھا کای نے اقر اگر چلی بھی جاتی تو کیا گارنٹی تهی کہ حویلی کی لوگ اسے قبول کر لیتے اسے باعزت سمجھتے ؟ پھر اسے سیف کا سخت دل یاد آیا جس نے خود اپنی منگ اپنی عزت کو جرگے کے فیصلے میں ہیش کر دیا تھا ۔ عزت کے رکھوالے تو کیف جیسے ہوتے ہیں جو مر جاتے ہیں مگر یہ کبھی نہیں چاہتے کہ ان کی منگ یا عزت ایسے کسی اور کی ملکیت میں جائے ۔
مولوی نے دوبارہ سے وہی الفاظ دہرائے ۔
” ق۔۔۔ قبول ۔۔۔ ہے ” اس کے لرزتے لبوں سے الفاظ ٹوٹ کر نکلے ۔
تینوں دفعہ الفاظ دہرائے گئے اور تینوں بار عنابیہ نے اپنی محبت کا گلہ گوٹ کر اپنے آپ کو کسی اور کے سپرد کر دیا تھا ۔
قمر نے زرا سی نظروں کو گھما کر اسے دیکھا جو اب بلکل ساکت ہو چکی تھی ۔ مگر اس کی آنکھیں اندر کی توڑ پھوڑ کی گواہ تھیں ۔
پھر قمر سے پوچھا گیا ۔ اس کے اعجاز و قبول کا مرحلہ بھی طے ہوا ۔
جیسے بھی ہوا حن حالات میں ہوا ۔۔ لیکن قمر سکون میں تھا ۔ اس کی محبت اس کے نکاح میں تھی محفوظ تهی ۔
” سائیں ۔۔۔ خوش ہو جائیں ۔۔۔ عنابیہ اب ۔۔ آپ کی راہ نہیں دیکھے گی ۔۔۔ کیونکہ ۔۔ آپ نے مار دیا عنابیہ کو ” سیف کے ہیولے سے مخاطب ہو تے کہا ۔
آنسو لری کی صورت میں رخسار پر بہہ گئے ۔ اب یہ آخری بار تھا ۔ اب سیف یا شاہ حویلی کے لیے عنابیہ آنسو نہیں بہائے گی ۔
جو مر جاتے ہیں وہ مر ہی جاتے ہیں بس۔۔۔۔
🔥دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں 🔥
🔥ہم نے سنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیں 🔥
🔥بیت گیا ساون کا مہینہ موسم نے نظریں بدلیں🔥
🔥لیکن ان پیاسی آنکھوں سے اب تک آنسو بہتے ہیں 🔥
🔥ایک ہمیں آوارہ کہنا کوئی بڑا الزام نہیں 🔥
🔥دنیاوالے دل والوں کو اور بہت کچھ کہتے ہیں 🔥
🔥جن کی خاطر شہر بھی چھوڑا جن کے لیے بدنام ہوئے 🔥
🔥آج وہی ہم سے بیگانے بیگانے سے رہتے ہیں 🔥

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناول نگری میں ہر نئے پرانے لکھاری کی پہچان، ان کی اپنی تحریر کردہ ناول ہیں۔ ناول نگری ادب والوں کی پہچان ہے۔ ناول نگری ہمہ قسم کے ناول پر مشتمل ویب سائٹ ہے جو عمدہ اور دل کو خوش کردینے والے ناول مہیا کرتی ہے۔ناول کا ریوئیو دینے کیلئے نیچے کمنٹ کریں یا پھر ہماری ویب سائیٹ پر میل کریں۔شکریہ

novelsnagri786@gmail.com

Read haveli based novel, urdu novels, saaiyaan novel at this website Novelsnagri.com for more Online Urdu Novels and  Afsanay that are based on different kind of content and stories visit this website and give your reviews. you can also visit our facebook page for more content Novelsnagri ebook

Leave a Comment

Your email address will not be published.