Web Special Novel, haveli based novel , saaiyaan

haveli based novel , saaiyaan Epi #14

haveli based novel , revenge based, urdu novels, online Urdu novels, saaiyaan novel is full of emotions, romance, suspense & thrill, Story of a girl who wants to follow the society style. Novel written by Bisma Bhatti.

Web Special Novel, haveli based novel , saaiyaan
haveli based novel , saaiyaan Epi #14

#سائیاں

#از_قلم_بسما_بھٹی

#قسط_14

مدتوں بعد ہم سر پھرے سے ہو گئے

جو کبھی نا تھا ہمارا ہم اسی کے ہو گئے

خود کو ہم نے ہے اب سنبھالا ہے

دوبارہ کیا کروں۔۔۔

ڈوبتے کو ملا ہے تنکے کا سہارا ۔۔۔

اب دوبارہ کیا کروں ۔۔۔۔

دل لگایا ہے دوبارہ ۔۔۔۔

ہاں دوبارہ کیا کروں ۔۔۔۔

 

وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھی تھی ۔ اسے بڑے مان سے زوبیہ شاہ اپنے بیٹے کے کمرے میں لے کر آئی تھیں ۔ اور اس کو بٹھایا تھا ۔ زامل شاہ کی آن بان شان سمجھ کر پورے چاہوں سے اس کا استقبال ہوا تھا ۔ لیکن جس کہ طلب تھی جس کی چاہت تهی وہ ہی کہیں نظر نہیں آ رہا تھا ۔ جس کی ملکیت تھی وہ ہی کمرے میں نہیں تھا ۔ کتنے گھنٹے گزر گئے تھے لیکن وہ کمرے میں نہیں آیا تھا ۔

اس کی کمر میں شدید درد آ گئ تھی ۔ کی گھنٹوں سے ایسے ہی بیٹھی تھی ۔ لیکن دل بھی بضد تھا کہ اس کا انتظار کرنا ہے اب ۔

تھل ہار کر سر اس نے بیڈ سے لگا دیا ۔

تبھی دروازہ کھلنے کی آواز آئی ۔

وہ چونک کر سیدھی ہوئ ۔ دل کی عجیب حالت تھی ۔ خوف بھی تھا اور دھڑکن بھی اپنی جگہ پر نہیں تھیں ۔

وہ مغرور چال چلتا اندر آیا ۔ بے اختیار نظر بیڈ کی طرف گئ جہاں وہ بیٹھی تھی گھونگھٹ لیے اس کے انتظار میں ۔ ریشم کا گھونگھٹ اس کے چہرے پر تھا ۔

دل تو بہت کیا کہ اس کے پاس جائے اس کا سجا سنورا روپ دیکھے ۔ لیکن اس کی غیرت نے گوارا نہیں کیا کہ اس شخص کے بہن کو محبت سے دیکھے جس نے اس کی اپنی بہن کو تکلیف دی ۔

سپاٹ چہرے کرتے وہ ڈریسنگ کی طرف بڑھا ۔

اس کے قدم دور جانے پر اس نے تڑپ کر گھونگھٹ اٹھایا اور اس کی طرف دیکھا جو ڈریسنگ کے سامنے کھڑا ہو کر اب گھڑی اتار رہا تھا ۔

” سائیں ” اس کے لب پھڑپھڑائے ۔ وہ اسے بے رخی کی مار مار رہا تھا ۔

زامل کے ہاتھ رکے مگر پلٹا نہیں ۔

” تمہیں کس نے کہا تھا کہ اس بیڈ پر اتنی دیر بیٹھو ؟ کپڑے تبدیل کیوں نہیں کیے ؟ ” اپنی شال کو کندھوں سے ہٹاتے سنجیدگی سے کہا ۔

اس کی اتنی بے حس آواز پر ملیحہ کو اپنا دم گھٹتہ محسوس ہوا ۔

اپنے لہنگے کو سنبھالتی وہ بیڈ سے نیچے اتری ۔ اس کے لہنگے سے لگے گھنگھرووں نے شور مچا دیا ۔

چھنک کی آواز پر وہ لاکھ قابو کرنے کی کوششش کرتا رہا لیکن نا ہوا ۔ اس کا جسم اس کا سر خود بخود ملیحہ کی طرف پلٹ گیا جو سرخ آنکھوں سے سجی سنوری اس کے سامنے قیامت لگ رہی تھی ۔

زامل کو لگا جیسے اس کے قیامت خیز سراپے میں اس کا اپنا دل اٹک گیا تھا ۔ اس کی جھل مل آنکھیں اداس چہرہ اس کے سنورے روپ پر قہر کا ساماں لگ رہے تھے ۔ وہ تو جیسے پلک جھپکنا بھول گیا تھا ۔

اس نے اپنے نازک قدم اٹھائے ۔ ایک دفعہ پھر گھنگھرو نے شور مچایا ۔ اس کمرے میں چھائی خاموشی نے چھنک کی آواز پیدا کر دی تھی ۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدم لیتی لہنگہ سنبھالتی اس کے سامنے کھڑی ہو گئ ۔

اس کی آنکھوں میں اپنی آنکھیں ڈالیں ۔

زامل پر تو جیسے جادو ہو گیا تھا ۔ نا وہ ہل پا رہا تھا نا گردن ہلا پا رہا تھا نا اتنی ہمت ہو رہی تھی کہ نظریں ہی کہیں اور کر دے ۔

” یہ آپ مجھ سے ۔۔۔ پوچھ رہے ؟ ۔۔۔ کہ میں یہاں کیوں ۔۔۔ بیٹھی ہوں ؟ ” دل شکن انداز سے وہ بولی ۔ آنکھوں میں اس کی بے حسی کی تڑپ تھی ۔

” ہاں ۔۔۔ تمہارا بھائی نے بھی ۔۔۔ میری نازو پلی بہن کو ایسے الفاظ سے تکلیف دی ہو گی ۔۔۔ یا شائد اس کی موجودگی پر اس سے بھی کڑوے الفاظ بولیں ہوں ” ایک پل میں اپنے خول میں سمٹتا وہ اسے دوہری تکلیف دے گیا تھا ۔

” بھائی ۔۔۔ کی سزا ہمیں کیوں دے رہے ہیں ؟؟؟ ۔۔۔ ہماری محبت کو کیوں دے رہے ہیں ؟؟؟ مجھے کیوں دے رہے ہیں سائیں ! ” اس کی طرف الجھ کر دیکھتے پوچھا ۔ وہ نہیں برداشت کر پا رہی تھی اس کا نظرانداز کرنا ۔

” کون سی محبت ؟ … وہ جو تمہارے بھائی نے کسی اور سے کی ؟؟؟؟ ۔۔۔۔ اس محبت پر یقین رکھوں جس میں اندھا ہو کر تمہاری بھائی نے تمہارا نہیں سوچا ۔۔۔ یہ جانتے ہوئے کہ اس کی امانت ماہم ہے عنابیہ نہیں ۔۔۔ پھر بھی ۔۔۔ پھر بھی وہ کسی اور کو دل میں بسا گیا ۔۔۔۔ کیوں ؟؟؟ ” اس کے بازووں سے پکڑے وہ دبی دبی آواز میں چیخا تھا ۔ اس کا چہرہ تنا ہوا تھا ۔ سرخ آنکھیں وحشت برپا کر رہی تھیں ۔

ملیحہ کو اس کی پکڑ میں درد بھی محسوس ہوا اور تکلیف بھی ۔ اس کی آنکھوں میں پانی بھر گیا ۔

اس کی پانی بھری آنکھوں کو دیکھ کر زامل کا پارا اور ہائی ہوا تھا ۔ وہ اسے ایسے تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا ۔ جھٹکے سے اس کے بازو چھوڑتے خود دوسری طرف منہ کر لیا ۔ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا تا کہ خود کو ریلیکس کر سکے ۔

اس نے روتے ہوئے زامل کو دیکھا اور پھر پیچھے سے ہی اس کے گرد باہیں کر لیں ۔

زامل نے ضبط سے آنکھیں بند کر لیں ۔ اس کی نزاکت ان ہاتھوں سے محسوس ہو رہی تھی جو اس کے سینے پر تھے ۔

” سائیں ۔۔۔ مجھ سے بے خبر نہیں ۔۔۔ میری چاہت سے نے خبر نہیں آپ ۔۔۔ میرا جنون ہیں آپ ۔۔۔ مجھے ایسے نظر انداز نا کریں ۔۔۔ مجھے خود سے جدا نا کریں ” اس کی پشت اے ار لگائے وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی ۔

زامل کا دل کٹ رہا تھا لیکن وہ کیا کرتا ۔ اسے احسام سے سخت گلہ تھا ۔

اس نے ملیحہ کا ہاتھ پکڑا اور اپنے سامنے کیا ۔ وہ ہچکیوں سے روتی اس کے سامنے تھی ۔ زامل نے ہاتھ بڑھا کر اس کے آنسو صاف کیے ۔

” تمہاری قسم ملیحہ زامل شاہ ۔۔۔۔۔ میں یعنی زامل شاہ یہ وعدہ کرتا ہے تم سے ۔۔۔ جب احسام شاہ کو میری بہن کی قدر ہو گی ۔۔۔۔ تب اس کی بہن کی قدر کر لی جائے گی ۔۔۔ اس کی بہن کو میں اپنی محبت سے خود سجاؤں گا ۔۔۔ اس دن ہماری محبت مکمل ہو گی ” اس کے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں لیتے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا ۔

اس کی آنکھوں کے سردپن سے ملیحہ کو اندازہ ہو گیا تھا کہ زامل شاہ جھوٹ نہیں بول رہا ۔

” سا۔۔۔۔ سائیں ؟ ” بے یقینی سے اسے پکارا ۔

” صرف تمہارا ” اس کے یونٹوں پر ہلکا سا بوسہ لیتے کہا اور جھٹکے سے چھوڑتا ڈریسنگ روم میں چلا گیا ۔

وہ اس ہوا کے جھونکے کو محسوس کیا کرتی جب وہ اس کا ہو کر بھی اس کا نہیں تھا ۔

اس کا جسم جیسے ہلنے سے انکاری تھا ۔ دل رک رک کر چل رہا تھا ۔

اس کے پاس بس ماتم رہ گیا تھا جو وہ اپنی محبت پر کرتی ۔ یا پھر اپنے بھائی کے کالر پکڑتی یہ پوچھتی کہ اس کے گناہ کی سزا ملیحہ شاہ کو کیوں مل رہی ہے ؟ اپنی چاہت جو پا کر بھی وہ نہیں پا سکی ۔ اتنا ستم کیوں کیا اس پر ۔

آنکھوں کو زور سے بند کرتے وہ پاس پڑے سٹول پر بیٹھ گئ ۔ اسے نہیں علم تھا کہ اب اسے کتنا انتظار کرنا تھا. زامل کو حاصل کرنے کے لیے اس کی محبت کے لیے اور کتنا تڑپنا تھا ۔

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی

یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں

غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لو

نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں

تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا

دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں

آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر

کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں

اب نہ وہ میں نہ وہ تو ہے نہ وہ ماضی ہے فرازؔ

جیسے دو شخص تمنا کے سرابوں میں ملیں

یوسف شاہ کمرے میں آئے تو فرحین شاہ کو کھڑکی میں کھڑے پایا ۔

” اب تو خوش ہیں نا بیگم آپ ؟ ” ان سے چند قدم دور کھڑے ہو کر سوال کیا ۔

ان کی آواز پر فرحین شاہ نے بند آنکھیں کھولیں ۔ ٹھنڈی ہوا اب بھی ان کے چہرے کو چھو رہی تھی ۔

انہوں نے پلٹ کر انہیں دیکھا جو کمر پر ہاتھ باندھے وجاہت سے بھرپور نگاہوں سے انہیں دیکھ رہے تھے ۔

وہ مسکرائیں اور چہرہ دوبارہ کھڑکی سے باہر کر دیا .

وہ بھی مسکراتے ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے ۔

” اب تو یہ زمہداری بھی مکمل ہوئی ۔۔۔ ننکاح یو گیا سب بچوں کا ” ان کی طرف مسکرا کر دیکھتے جواب دیا ۔

” شکریہ آپ کا ۔۔۔ میری بات کو سنجیدہ لیا ” ان کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لیتے مسرور سا بولیں ۔

” شکریہ کیسا بیگم ۔۔۔ ایسا ہونا ہی تھا ” ان کے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھتے کہا ۔

” کیف نے جو حرکت کی تھی ۔۔۔۔ اس کے بعد مجھے ڈر تھا کہ ۔۔۔ شاہ حویلی کی کوئی اور بیٹی نا قربان ہو جائے ” گہری سوچ لیے وہ ماضی کے ہنوں سے حال جو ملاتے بولیں ۔

” کیسا ڈر ؟ ” انہیں سمجھ نہیں آئی تھی ۔

” ڈر تھا کہ ۔۔۔۔۔ کہیں ۔۔۔ ایک اور ارم پیدا نا ہو جائے ۔۔۔ ایک اور سبکتگین پیدا نا ہو جائے ” باہر سرد ہوا سے لہراتے درختوں پر نظر ٹکائے وہ یوسف شاہ کو اپنی جگہ منجمد کر گئ تھیں ۔

ایک عرصے بعد یہ نام فرحین شاہ کی زبان پر آیے تھے ۔

” بیگم ۔۔۔۔ کہا تھا نا ۔۔۔۔ کہ ان کا نام نہیں لیں گی آپ ” یوسف شاہ کے لہجے میں وارننگ تھی ۔ غصہ تھا ۔ تعیش تھا ۔

” وہ ہم میں سے دور کبھی ہوئے ہی نہیں ۔۔۔ گزرے وقت کو یاد کیا جائے تو ۔۔۔۔۔ شاہ جی ۔۔ آپ ہمیں پسند کرتے تھے ۔۔۔ ہمارا تو کوئی کسور نہیں تھا نا ” ان کے ہاتھوں سے ہاتھ نکالتے وہ ازیت سے بولیں ۔ پھر سے ماضی کے پنے ان کی یادوں کی کتاب میں کھل گئے تھے ۔

یوسف شاہ کا رنگ متغیر ہوا ۔

ان کی خاموشی پر وہ ان کے پاس سے گزر کر بیڈ کی طرف بڑھیں ۔

” ک ۔۔ کیا آپ ۔۔ آج بھی پچھتا رہی ہیں ہماری ساتھ ہونے پر ؟ ” یوسف شاہ کے گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی تھیں ۔ انہیں بے حد محبت تھی فرحین شاہ سے ۔

فرحین شاہ بیڈ پر بیٹھیں اور ایک نگاہ انہیں دیکھا جو آنکھوں میں سوال لیے انہیں ہی دیکھ رہے تھے ۔

” میری سوچ سے بھی زیادہ ۔۔۔ آپ نے ہم سے محبت کی ہے ۔۔۔۔ ہمیں معتبر بنایا ہے ” ہلکی مسکان سے ان کو دیکھتے جواب دیا ۔ آنکھوں میں نمی تهی ۔

وہ چلتے ہوئے ان کے پاس بیٹھ گئے ۔

” پھر آج اس شکوے کا مطلب ؟ ” نا سمجھی سے پوچھا.

” سبکتگین کا کیا کسور تها شاہ جی ؟ ” نم آنکھوں سے پوچھا ۔

یوسف شاہ کے پاس جواب نہیں تھا

 ۔

” لیکن آپ ہماری منگ تھیں تب ” یوسف شاہ نے جواز پیش کیا ۔

” مجھے تو علم نہیں تھا ۔۔۔۔ انہیں بھی علم نہیں تھا ۔۔۔۔ اور کمال دیکھیے ۔۔۔۔ ہم دونوں کو کیسی سزا ملی ۔۔۔ کہ اپنے بڑوں کے آگے ہم جھک گئے ” اس پل کو یاد کرتے ان کی آنکھ سے آنسو موتی کی طرح ٹوٹ کر گرا ۔

” خدارا ۔۔۔۔ ہم مر جاتے اگر آپ دور ہوتیں ” ان کے رخسار سے آنسو صاف کرتے تڑپ کر کہا ۔

” اسی لیے آپ نے ہمیں مار دیا ۔۔۔۔۔ اور ایک فرحین شاہ کو ابھار کر شاہ حویلی میں جنم دیا ۔۔۔۔ صحیح کیا تھا آپ نے ۔۔۔۔ بہت صحیح ” ان کے ہاتھوں کو تھامتے استہزائیہ ہنسی سے بولیں ۔

” اتنے سال گزر گئے ۔۔۔ آپ کے دل میں ۔۔ ہمارے لیے محبت نہیں پیدا ہوئی کیا ؟ ” ن کے ہاتھوں کو بوسہ دیتے یوسف شاہ نے پوچھا ۔

” یہ وفاداری ہے چاہت ہے جو میں اب تک زندہ ہوں ۔۔۔ آپ کے لیے جی رہی ہوں ۔۔۔ اگر آپ وفادار نا ہوتے ۔۔۔ آپ کہ چاہت سچی نا ہوتی ۔۔۔ تو یقیناً ۔۔۔ فرحین شاہ حقیقتاً مر جاتی ” ان کے کندھے پر سر رکھتے وہ مسکراتے بولیں ۔

” کاش میں آپ کو کبھی غمگین نا ہونے دیتا ” اان کے سر پر بوسہ دیتے پیار سے کہا ۔

” آپ نے کبھی نہیں ہونے دیا ” ان کے ہاتھوں پر زور دیا ۔

” اداس نا ہوا کریں ۔۔ بیگم آپ میں یوسف شاہ کی جان ہے ۔۔۔ عشق ہیں آپ میرا ۔۔۔ دل کرتا ہے آج بھی میں پرانا پچیس سال کا جوان ہو جاؤں ۔۔۔ اور آپ کو ایسے ہی وارفتگی سے چاہوں جتنا چاہا جا سکتا ہے ” ان کے گرد بازو کرتے نم آواز سے کہا ۔

” آپ شرم کر لیں ۔۔۔ آپ کے بیٹے اب جوان ہو گئے ہیں ” فرحین شاہ سرخ ہوتی ان کے سینے پر تھپر مارتے بولیں ۔

یوسف شاہ ہنس دیے ۔

” ہم اب بھی جوان ہیں ” ان کے سر پر دوبارہ سے بوسہ دیتے کہا ۔

یہ تو سچ تھا ان کے بیٹے جوان تھے ۔ اور وہ فقط 56 کے تھے ۔ یعنی وہ بھی جوان تھے ۔

” یوو باسٹرڈ ” نیاز کھوکھر نے اپنے خاص ملازم کے سینے پر ٹانگ مارتے چیختے کہا ۔

غصے سے اس کا چہرہ سرخ تھا ۔ آنکھوں میں نفرت تعیش تھا ۔

” تم لوگ ہو ہی نکارا ۔۔۔ اتنا آسان شکار تم لوگوں نے ہاتھ سے جانے کیسے دیا ” وہ ٹیبل پر رکھا ہوا ڈنڈا اٹھاتے تعیش سے اس کی طرف بڑھا ۔

اور دھڑا دھڑ اس کے جسم پر وار کرنے لگا ۔

نیچے پڑا ملازم کراہتا ہوا خود کو بچا رہا تھا لیکن نیاز کھوکھر اس پر تشدد کر رہا تھا ۔ پاگل ہو گیا تھا وہ.

 تبھی اکبر ملک اور ضیاء کمرے میں آئے اور سامنے کا منظر انہیں ہلا کر رکھ گیا ۔ نیاز کھوکھر کسی کو لوہے کے ڈنڈے سے مار رہا تھا ۔ زرا دھیان دیاا تو علم ہوا کہ یہ تو اس کا خاص ملازم ہے ۔ وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھے ۔

” نیاز ۔۔ بس کرو ہوش کرو ” اکبر ملک نے یاز کھوکھر کو کمر سے پکڑ کر پیچھے کرتے کہا ۔

” چھوڑو مجھے ۔۔ میں اس کو جان سے مار دوں گا ۔۔۔ اس سے کیسے غلطی ہو گئ ” وہ بپھڑے شیر کی طرح اس کی طرف لپکنے کی کوشش کر رہا تھا ۔

” کس کی بات کر رہے ہو ۔۔ آرام سے کرتے بات ” ضیاء نے اس کے ہاتھ سے ڈنڈا بہت مشکل سے کھینچا جس پر نیاز کھوکھر کی گرفت بہت سخت تھی ۔

” دفعاں یو جاؤ تم یہاں سے ” ضیاء نے نیچے پڑے ملازم کو غصے سے کہا ۔

وہ لہو لہان خود کو مشکل سے اٹھاتا گرتے پڑتے کمرے سے باہر گیا ۔

اکبر ملک نے نیاز کھوکھر کو چھوڑا ۔

” آرررہہہہہہہ ” نیاز کھوکھر نے تعیش میں پاس پڑے سارے واز گرا دیے جو ڈیکوریشن پیس تھے ۔

سارا شیشہ زمین پر بکھر گیا ۔

” کیا ہوا ہے تمہیں ” اکبر ملک نے اسے جھنجھوڑا ۔

” اس کا نکاح ہو گیا ۔۔۔۔ ان بیغیرتوں نے اس کا نکاح کیسے ہونے دیا ۔۔۔۔ ” وہ غصے سے بھڑکا بولا ۔

” کس کا ۔۔۔ کس کی بات کر رہے ہو تم ! ” اکبر ملک کو سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔

” یوسف شاہ ۔۔۔ کی ۔۔۔ بھانجی ۔۔۔۔ ہے وہ ۔۔۔ ماہم شاہ ۔۔۔ حسن کی دیوی ہے ۔۔۔۔ نیاز کھوکھر کا جنون ہے ۔۔۔ میں ایسے پیچھے نہیں ہٹوں گا ” اپنی غصے سے سرخ آنکھیں اکبر ملک پر گاڑتے سرد لہجے میں کہا ۔

اکبر ملک نے ضیاء کو دیکھا ۔ ان کو نہیں علم تھا کہ نیاز اتنا برا ری ایکٹ کرے گا ۔

” مجھے وہ ہر صورت چاہیے ۔۔۔ میں یوسف شاہ ۔۔۔ کو دوبارہ نہیں جیتنے دوں گا ” ضیاء کی طرف انگلی کرتے خطرناک لہجے میں کہا ۔

” نیاز ۔۔۔ ایسے فیصلے ۔۔۔۔ پلین سے کیے جاتے ہیں ” اکبر ملک شاطر مسکراہٹ کے ساتھ بولا ۔

نیاز نے پھولے سانس سے اسے دیکھا ۔

” کیا مطلب ! ” نیاز کھوکھر نے نا سمجھی سے پوچھا .

” ادھر آو ۔۔ بیٹھو ” اس کا ہاتھ پکڑ کر صوفے پر بٹھایا ۔

نیاز اس کے ساتھ بیٹھ گیا ۔

ضیاء کے چہرے پر بھی شاطر مسکان تھی.

” تمہیں حسن چاہیے ؟ ۔۔۔ ہمیں حان کی قیمت ” شاطر نگاہوں سے نیاز کو دیکھتے کہا ۔

نیاز کھوکھر نے چونک کر اکبر ملک کو دیکھا ۔

” تم حسن سے لطف اٹھانا ۔۔۔ ہمیں ۔۔۔ ہماری قیمت سے لطف اٹھانے دینا ۔۔۔ سمپل ” صوفے پر چوڑے ہو کر بیٹھتے کہا ۔

ساتھ ہی ضیاء اور اکبر ملک کا قہقہہ گونجا ۔

” کرو گیا اب ؟ ” نیاز کھوکھر سارا کھیل سمجھتا بولا .

” تم دیکھتے جاؤ ۔۔۔ میں کیسا جال پھینکتا اب ” مکروح ہنسی سے ہنستے اکبر ملک نے کہا ۔

” ارے یار ہماری تواضع کرو ۔۔۔ کوئی محفل جماؤ ۔۔۔ اتنا اچھا پلین جو بنانے لگے ہم ” ضیاء نے خباثت سے بھری آواز میں کہا ۔

نیاز کھوکھر بھی ہنس دیا ۔

” فکر نا کرو ۔۔۔ ابھی جم جائے گی محفل ” آنکھ دباتا وہ بھی ان کے پلین میں شامل ہو گیا تھا ۔

” سوری امی ۔۔۔ اتنی تکلیف دے دی آپ کو ۔۔۔ آپ کو نہیں بتایا سب ” قمر اپنی ماں کے ہاتھوں کو پکڑتے بولا ۔

ارم کا چہرہ سپاٹ تھا ۔

” تم نے جو کرنا تھا کر لیا ” ارم نے سنجیدگی سے کہا ۔

” پلہز امی ۔۔ ایسے ے رخی نا دکھائیں ۔۔۔ میں کیا کرتا میرے پاس اور کوئی حل نہیں تھا ” قمر بے بسی سے بولا ۔

ارم سبکتگین نے اسے دیکھا جو چہرے پر افسردگی بے بسی لیے انہیں ہی دیکھ رہا تھا .

” یہ بات تکلیف سے خالی نہیں کہ کوئی لڑکی ۔۔۔ ونی کے طور پر میرے گھر کی دہلیز پر قدم رکھ چکی ہے ” ان کے لہجے میں بھی تکلیف تهی ۔

” ایسا کسی نے بھی نہیں چاہا تھا ” ان کے ہاتھوں پر سر رکھتے وہ تھکے ہوئے انداز میں بولا .

” شاہ حویلی کی بیٹی ہے ” ارد نگاہوں سے پوچھا ۔

” ہمم ” بنا سر اٹھائے جواب دیا.

” تو ان کی روائت نہیں بدلی ۔۔۔۔ بیٹیوں کو بلی چڑھانے کی ؟ ” ماضی کے چہروں کو نفرت سے سوچتے دانے پیستے کہا ۔

قمر نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اپنی ماں کو دیکھا ۔ جن کے چہرے پر سنجیدگی تهی ۔

” کیا مطلب ؟ ” قمر کے لیے ساری بات نا سمجھی تھی ۔

” کچھ نہیں ۔۔۔ گاؤں کے لوگوں میں ایسے ہی بیٹیوں کو ۔۔۔۔۔ بیٹوں کے گناہوں میں قربانی پر چڑھا دیا جاتا ہے ۔۔۔ اور افف بھی نہیں کرتے ” لہجہ برفیلہ تها ۔ آنکھوں کے کونے بھیگ چکے تھے ۔

قمر کی سمجھ سے باہر تھا اپنی کا ماں کا لہجہ ۔

” تم اس لڑکی سے کہو ۔۔۔ ملے آ کر مجھ سے ” اپنے ہاتھوں کو قمر کے ہاتھوں سے نکالتے سنجیدگی سے لہا ۔

قمر نے فقط سر ہلایا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا.

کمرے میں آیا تو عنابیہ کو کاؤچ پر بیٹھے پایا جو ہاتھوں میں قرآن پاک لیے بیٹھی تھی ۔ نظریں قرآن پاک پر تھیں ۔

وہ مسکرایا اور چل کر اس کے پاس بیٹھا.

 ” کیا ہوا ۔۔۔ پڑھ کیوں نہیں رہی !” سوال کیا۔

” ایک سوال کا جواب دیں ” اس کے سوال کے جواب پر وہ سوال ہی داغ گئ۔

” ہمم ۔۔۔ پوچھو ” وہ ٹھہرا ہوا لہجہ ۔

” کیا ہوتا ہے جب ہم قرآن پڑھتے ہیں کیوں ۔۔ وجہ ؟ کا ہوتا ہے ؟” ایک افسردہ سی نگاہ اور لہجے سے پوچھا.

” قرآن انسان کے اندر کی افسردگی ختم کرتا ہے ، جو اندر ایک ہلچل مچی ہوتی ہے اسے سکون دیتا ہے اور پتہ ہے جو جتنا قرآن پڑھتا جاتا ہے اللّٰه اسے اس کے لیے اتنا ہی آسان کرتا جاتا ہے ۔ اللّٰه کہتا ہے کہ اسے سمجھانا اللّٰه ہی کے ذمے ہے پڑھتے جاؤ یہاں تک کہ شیطان بھاگ جاۓ اسے بتادو کہ اس کی ساری کوششیں خاک میں ملنے والی ہیں۔ اسے بتادو کہ خاک آگ کو بجھانے کا ہنر جانتی ہے ! پھر کیسی پر یشانی؟ کیسے وسوسے ؟

تم بس قرآن پڑھو، بار بار پڑھو ۔ ” ٹھہہرے ہوئے لہجے میں وہ حسین بات سمجھا گیا تھا ۔

وہ بنا آنکھوں کو جھپکائے اسے دیکھ رہی تھی ۔

“لیکن کیا آپ کو پتہ ہے سنت آدم کیا ہے؟ ” پھر سے سوال کیا ۔ اپنے دل کی افسردگی وہ اسے سن کر ختم ہوتا محسوس کر رہی تھی ۔

” ہاں ۔۔۔ شائد میرا جواب تمہیں تسلی دے ۔۔۔ جب تم سے شیطان کی باتوں میں آکر نافرمانی ہو جاۓ تو تم نادم ہو جاؤ ، تم سجدے میں گر جاؤ ، تم اتنا پشیمان ہو جاؤ کہ اللہ سے دور ہونے کا ڈر تمہیں چین نہ لینے دے ، اور پھر پتہ ہے کیا ہو گا ؟ ” زرا رک کر اس کی آنکھوں میں دیکھا ۔

عمابیہ کا سر نفی میں ہلا ۔

” پھر یہ ہو گا کہ اللّٰه تمہیں اللّٰه کو راضی کرنے کا طریقہ بتاۓ گا ۔ تمہیں ہدایت کا راستہ سمجھا دے گا ۔ اور پتہ ہے اس نے حضرت آدم کو کیا سکھایا تھا ! ” اب سوال قمر کی جانب سے تھا ۔

عنابیہ گم صم بمی حیرت سے اسے تک رہی تھی ۔ اس کےس وال پر پھر سے نفی کی ۔ اس کی آواز کتنی سکون دہ رہی تھی ۔

” کہ تم اللّٰه کا کہا نا ٹالنا ۔۔۔ اس کی طرف رجوع کرنا ۔۔۔ اس کے کلام کو تھامنا ۔۔۔ لیکن ان سے ایک غلطی ہوئ کہ وہ بھی شیطان کے بہکاوے میں آ گئے ۔۔۔ بی بی حوا گمراہ ہوئ تو بابا آدم بھی ہو گئے لیکن جب انہوں نے معافی مانگی تو اللّٰه نے انہیں راستہ ہدایت کا دکھایا ” اس کے چہرے سے پر حجاب سے نکلیں دو لٹوں کو حجاب کے اندر کیا ۔

” پھر شیطان انسان کو ورغلاتا ہے کہ اگر قرآن تھام لیا تم نے تو اس کے ہاتھ کون لگے گا؟

تم ہدایت لے لو گے تو پھر وہ گمراہ کیسے کرے گا؟ تم اللہ کے قریب ہوگئے اگر پھر وہ دور کیسے کرے گا؟ تم جنت میں چلے گئے اگر پھر اسے چین کیسے آۓ گا ؟ کیا وہ تمہیں بار بار اس درخت کاراستہ نہیں دکھائے گا جس کار استہ اس نے آدم و حوا کو دکھا یا تھا ؟ وہ تمہیں صرف اور صرف گمراہ کر نا چاہتا ہے۔ وہ تمہیں اللہ سے مایوس کر نا چاہتا ہے ۔

شیطان کیوں یہ سوچ تمہارے دل میں ڈال رہا ہے ؟ کیوں وہ تمہیں قرآن کے قریب ہی نہیں جانے دے رہا؟ کیوں وہ تمہیں قرآن کھول کر دیکھنے نہیں دے رہا؟ کیوں وہ تمہیں قرآن پڑھنے نہیں دے رہا؟ کیو نکہ وہ جانتا ہے کہ یہ اس کی شکست ہے !

کیونکہ تم سوچتے ہو کہ قرآن پڑھا گر تو اس پر عمل بھی کر نا ہو گا ! اور اگر تم سے عمل نہ ہو سکاتو؟ تم جانے انجانے میں عمل نہ کر سکے تو ؟ تم مزید گنہ گار ہو گئے تو ؟ لیکن۔۔۔ان سب بے وقعت قیاس آرائیوں کو کیوں جنم دے رہے ہو ؟ کیو نکہ در حقیقت یہ تم نہیں سوچ رہے بلکہ یہ تو وہ شیطانی وسوسے ہیں جو تمہیں اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں ۔ ” اس کی آنکھوں کو ہاتھ سے بند کرتے مسکراتے کہا ۔

” لیکن کبھی کبھی ہمارا بہت دل چاہتا ہے کہ ہم قرآن پڑھیں، اسے سمجھنے کی کوشش کر یں۔ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ہمارے دل اور ہماری روح کو سکون چاہیے ہوتا ہے، ہماری روح کو اپنے کل سے کلام کی پیاس ستار ہی ہوتی ہے ۔ جب ہم اس کلام سے ہمکلام ہوتے ہیں ۔۔۔ تو اللّٰه بے تاب روح کو چین دیتا یے ” اس کے ماتھے پر مہر ثبت کی ۔

عنابیہ نے گہرا سانس لیا ۔ وہ باتوں سے اپنی حصار میں جکڑنے کا ہنر رکھتا تھا ۔

” امی بلا رہی ہیں ۔۔۔ آ جاؤ ” اس کے سن چہرے پر مسکراتی نظر ڈالتے وہ اٹھ گیا ۔

 

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Read haveli based novel , urdu novels, saaiyaan at this website Novelsnagri.com for more Online Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit this website and give your reviews. you can also visit our facebook page for more content Novelsnagri ebook

Leave a Comment

Your email address will not be published.