Web Special Novel, haveli based novel, saaiyaan

haveli based novel, saaiyaan ,Epi #15

haveli based novel, revenge based, urdu novels, online Urdu novels, saaiyaan novel is full of emotions, romance, suspense & thrill, Story of a girl who wants to follow the society style. Novel written by Bisma Bhatti.

ہماری کوشش ہے کہ بہترین سے بہترین ناولز کو سائیٹ پر شائع کیا جائے۔ اگرآپ کوئی اُردو ناول پڑھنا چاہتے ہیں تو برائے مہربانی نیچے دئیے اڈریس پر ہمیں میل کریں۔ شکریہ

Web Special Novel, haveli based novel, saaiyaan ,
haveli based novel, saaiyaan ,Epi #15

سائیاں

#از_قلم_بسما_بھٹی

#قسط_15

اسے نیند نہیں آ رہی تھی ۔ وہ مسلسل کروٹیں بدل رہا تھا ۔ اس کا چہرہ اسے بہت تنگ کر رہا تھا ۔ آج دوپہر میں پھر وہ بی جان کی بے رخی کو بہت مشکل سے برداشت کر پایا تھا ۔ اس کی دل عزیز پھوپھو بھی نہیں دیکھ رہی تھیں ۔ سب سیف کو نہیں بلا رہے تھے ۔ سب اس کے جواز کو کسی خاطر میں نہیں لا رہے تھے ۔ سب کو یہ نظر نہیں آ رہا تھا کہ کیف کی خاطر سیف نے یہ سب کیا لیکن سب کو یہ نظر آ رہا تھا کہ سیف نے کیسے سخت دل سے بے حسی سے عنابیہ کو پیش کرنے کی تجویز دی تھی ۔ اس کا دل ہی کانپا نہیں تھا کہ اس کی منگ ہے اور وہ کیسے اپنی عزت کو پیش کر رہا تھا ۔ اسے سب کو نا سمجھانا آ رہا تھا اور نا کوئی سمجھ رہا تھا ۔

اس کی آنکھوں میں رہ رہ کر عنابیہ کا چہرہ آ رہا تھا ۔

” میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں سائیں “

یہ جملہ رہ رہ کر اس کے کانوں میں گونج رہا تھا ۔

جب سے وہ گئ تھی اس کا چین ساتھ لے گئ تھی ۔ جب تک وہ یہاں شاہ حویلی میں تھی تو اس کی محبت کو محسوس کرنا سیف کا معمول تھا ۔ اسے علم ہی نا ہوا کہ کب سیف یوسف شاہ بری طرح سے عنابیہ کا عادی ہو چکا تھا ۔ اب وہ پاس نہیں تھی تو اس کا روتا چہرہ التجا کرتا چہرہ بار بار سیف کو تکلیف دے رہا تھا ۔

اپنی بے چینی سے تنگ آتے وہ اٹھ بیٹھا ۔

آنکھوں میں پھر اس کی کھلکھلاتی ہنسی آ گئیں ۔

” پلیزززززز ” اپنے بالوں کو اس نے ہاتھوں میں جکڑ لیا ۔ آنکھیں ضبط سے بند کر لیں ۔

” سیف یوسف شاہ کو ۔۔۔۔بس ایک بار محبت ہوئی تھی ۔۔ اور اب وہ بھی نہیں رہی ۔۔۔ تم سے صرف ہمدردی ہے ۔۔۔۔ عن ۔۔۔ ا ۔۔ب۔۔ ی ۔۔۔ ہ ” تعیش میں خود سے کہ رہا تھا کہ اس کے نام کو ادا کرتے جیسے دل دھڑک اٹھا تھا ۔

اس کی آنکھوں کی پتلیاں ساکت ہوئیں تھیں ۔

” میں آپ کو خود سے محبت کرنے پر مجبور کر دوں گی ” اس کی بات کہی ہوئی سیف یوسف شاہ کو ساکت کر گئ ۔

” ن ۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔ میں ۔۔۔ ن ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ نو۔۔۔ نو ۔۔۔ نو ۔۔۔ نو۔۔۔۔۔ نووووووووو ” پوری دھاڑ سے اپنا تکیہ اٹھا کر وہ زمین پر پھینک چکا تھا ۔

اس کی حالت قابلِ فکر تھی ۔ وہ اس دن سے نہیں سو پایا تھا جب سے وہ گئ تھی ۔

” سیفی ! ” تبھی دروازے پر کیف نے دستک دی ۔

سیف نے گہرے سانس لیے لیکن کیف کی طرف نہیں دیکھا ۔

وہ اس وقت پانی لینے کی غرض سے کچن کی طرف جا رہا تھا کہ سیف کے دروازے کے پاس سے گزرتے اس کی دھاڑ پر وہ دروازہ کھول کر اندر آ گیا تھا ۔ اور سامنے سیف کی حالت پر وہ شاکڈ تھا ۔

” تم ۔۔۔ ٹھیک ہو ؟ ” اس کی حالت کے پیشِ نظر الجھ کر پوچھا ۔

سیف نے سر اٹھا کر اسے دیکھا ۔

کیف چلتا ہوا اس تک آیا ۔

” کیا ہوا ” اس کی سرخ آنکھوں پر وہ حیرانی سے بولا ۔

” ایک کام کر دو گے ! ” آس امید سے کیف کو دیکھتے کہا ۔

” بول ۔۔ پوچھ کیوں رہا ہے ؟ ” بھائی تھا کیسے اس کی تکلیف کو نا سمجھتا تھا ۔

” اسے۔ ۔۔۔ کہو ۔۔۔ مجھے یاد نا آئے ۔۔۔۔ کہو گے ؟ ” اس کے ہاتھوں کو مان سے پکڑ تے کہا ۔

” کسے ؟ ” کیف کو سمجھ نہیں آئی ۔

” وہ جو میری نیندیں چین ساتھ لے گئ ہے ” اس کے ہاتھوں پر سر رکھ کر وہ ضبط کے مراحل سے گزر رہا تھا ۔

” ک کون سیفی ؟ ” اس کی جنونی حالت پر حیران تھا ۔ ایسی حالت تو اس وقت بھی نہیں تھی سیف کی جب اسے کسی لڑکی نے انکار کیا تھا بقول سیف کے وہ اس سے بے انتہاء محبت کرتا تھا ۔ اب یہ کون تھی جس نے سیف کا اندر باہر ہلا کر رکھ دیا تھا ۔

” عن ۔۔۔ ۔۔۔۔ کوئی نہیں ” نام لینے لگاا تھا کہ اس کے حواس زرا جاگے کہ وہ کیسے اس کا نام لے دے جس کی وجہ سے ساری شاہ حویلی اس سے منہ موڑے ہوئی تھی ۔

اس کے ہاتھوں سے ہاتھ نکالے اور بیڈ سےاٹھ گیا.

” بات بتا نا سیف ۔۔۔۔ کوئی مسئلہ ہے ؟ ” اس کے پیچھے آتے وہ بولا ۔

” نہیں ۔۔۔۔ بس کوئی خواب دیکھ لیا تھا ” سیف نے کھڑکی کو کھولتے کہا ۔

” اے سی لگا ہوا ہے ۔۔۔۔ تجھے گرمی لگ رہی ہے ۔۔۔ تو ٹھیک ہے ؟ ” کیف کو اس کی حالت صحیح نہیں لگ رہی تھی ۔

” ہاں ۔۔۔۔۔ بس ۔۔۔ عجیب خواب تھا ۔۔۔ گھبرا گیا تھا کوئ نہیں تو جا سو جا جا کر ۔۔۔ میں ٹھیک ہوں” اس کی طرف دیکھتے کہا ۔

” پکا ” کیف نے پوچھا تو سیف نے مسکرا کر سر ہاں میں ہلایا ۔

کیف اس کو فلحال مزید الجھا نہیں سکتا تھا خاموشی سے کمرے سے چلا گیا ۔

سیف نے گہرا سانس لیا اور باہر دیکھنے لگ گیا ۔

اسے اپنی ہی حالت نہیں سمجھ آ رہی تھی ۔

اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں

ڈھونڈنے اس کو چلا ہوں جسے پا بھی نہ سکوں

ڈال کے خاک میرے خون پہ قاتل نے کہا

کچھ یہ مہندی نہیں میری کہ چھپا بھی نہ سکوں

ضبط کمبخت نے یاں آ کے گلا گھونٹا ہے

کہ اسے حال سناؤں تو سنا بھی نہ سکوں

نقش پا دیکھ تو لوں لاکھ کروں گا سجدے

سر مرا عرش نہیں ہے جو جھکا بھی نہ سکوں

بے وفا لکھتے ہیں وہ اپنے قلم سے مجھ کو

یہ وہ قسمت کا لکھا ہے جو مٹا بھی نہ سکوں

اس طرح سوئے ہیں سر رکھ کے مرے زانو پر

اپنی سوئی ہوئی قسمت کو جگا بھی نہ سکوں

 صبح اس کی آنکھ کھلی تو دماغ نے ساتھ نہیں دیا کہ کہاں ہے ۔ تبھی سامنے شیشے میں اپنا عکس پاتے اس کا دماغ بھک سے جاگا ۔ بیڈ کے بلکل سامنے شیشہ تھا یعنی جس طرف ماہم لیٹی تھی اس کی سیدھ میں شیشہ تھا اور اس میں احسام شاہ کی مغرور تصویر واضح تھی جو دوسری طرف دیوار پر فریم میں لگی تھی ۔

اسے رات کا منظر یاد آیا جب وہ اسے اپنے حصار میں لیے کمر پر منمانیاں کر رہا تھا اور اس میں زرا ہمت نہیں رہی تھی کہ منع کرتی ۔ پھر جب سونا تھا تو آرڈر دیا تھا کہ بیڈ پر لیٹو ۔ بیشک بعد میں تنگ نہیں کیا لیکن اس کی سانس ضرور تنگ ہو گئ تھی ۔ خود تو وہ فٹافٹ سو گیا تھا لیٹتے ہی ۔ اور وہ کتنی دیر جاگتی آنکھوں سے چھت کو گھورتی رہی تھی ۔ اتنا آسان بھی نہیں تھا احسام کے کمرے میں رہنا ۔ صد شکر کے اس نے ساری رات تنگ نہیں کیا تھا ۔

 اٹھتے اس پر گھوری ڈالی ۔ اور پھر واشروم چلی گئی تیار ہو نے کے لیے ۔

وہ تیار ہو رہی تھی جب وہ اٹھ کر واشروم گیا تھا ۔ اس دوران ان کی کوئی گفتگو نہیں ہوئ تھی ۔

کچھ دیر بعد واشروم سے نکل کر وہ ڈریسر کے سامنے آیا اور کف بند کرنے لگا ۔ اس کی نظر ایسے ہی شیشے میں گئ جہاں ماہم کا عکس نظر آ رہا تھا ۔ وہ بیڈ پر بیٹھی چوڑیاں پہن رہی تھی اور آنکھوں میں تعیش لیے اسے دیکھ رہی تھی ۔

” کیا ہوا ۔۔ ایسے کیا دیکھ رہی ہو ؟ ” اس کی گھوری پر سنجیدگی سے پوچھا ۔

” تم نے جو رات حرکت کی تهی نا ۔۔۔ بھولی نہیں ہوں میں ” دانتوں کو پیستے کہا ۔

وہ جو اس وقت سنجیدگی لیے ہوئے تھا رات کے اس حسین منظر کو دوبارہ یاد کرتے مسکرایا ۔

یہ ماہم کو آگ لگانے کے لیے کافی تھا جان جو گئ تھی کہ مسکراہٹیں کیوں ہیں ۔

” ابھی تک اس اثر سے باہر نہیں آ سکی کیا ؟ ” اس پر ایک مسکراہٹ اچھالتا ماہم کو سلگا گیا تھا ۔

” ایکسکیوز می ۔۔۔ مسٹر احسام شاہ ۔۔۔ بھول ہے آپ کی ۔۔۔ ماہم شاہ کمزور اعصاب کی مالک نہیں ۔۔۔ یہ تو تم تھے جو زرا پاس آ گئے ۔۔۔ آئیندہ سے خیال کرنا ” اس کی طرف تیکھے چتونوں سے دیکھ کر کہا ۔

احسام کا دل کیا کہ دل کھول کر ہنسے ۔ کافی دلچسپ بیوی ملی تھی اسے ۔

” لیکن میں سوچ رہا ہوں کہ ۔۔۔۔ کوئی ٹریلر بھی دکھا دوں ” اپنے بالوں کو جیل سے سیٹ کرتا وہ ماہم کو مزید زچ کرنے لگا ۔ بہت مزا آ رہا تھا اسے آگ لگانے میں.

” واٹ ۔۔۔ تم باز آ جاؤ احسام شاہ ” اس کے پیچھے کھڑے ہو کر دانت پیسے ۔

” ایسے کسیے مسز احسام شاہ ” شیشے میں اس کے تپے ہوئے چہرے کو دیکھ کر مزید گہری نظروں سے دیکھا ۔

” احسام ” ماہم نے دانت کچکچائے ۔

وہ پلٹا اس کی طرف جو کھا جانے والی نظروں سے اسے گھور رہی تھی ۔

احسام سائیڈ ہنسی سے ہنسا اور اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر جھٹکے سے خود کے قریب کیا ۔

وہ بوکھلاتی اس کے کندھے تھام گئ ۔ آنکھوں میں حیرانی تهی ۔

” تمہیں تنگ کرنے کا تو مجھے پرمٹ ملا ہے ” اس کی آنکھوں میں دیکھتے گھمگھیر آواز میں کہا ۔

ماہم کا دل دھڑک اٹھا تھا ۔

اس کے دل کی سپیڈ وہ محسوس کر چکا تھا ۔ مسکراتا اس کی گردن میں منہ دے گیا ۔

ماہم کے پسینے چھوٹ گئے ۔ احسام شاہ کی قربت جان لیوا تهی ۔ غصے میں سنانے کی بجائے وہ سوئے ہوئے شیر کو جگا گئ تھی ۔

اس کی گرن میں اس نے گہرا سانس لیا ۔ اس کے بالوں کی بھینی بھینی خوشبو اقر اس کے جسم سے اٹھتی دلفریب خوشبو احسام شاہ کے اعصاب پر حاوی ہو گئ تھی ۔

مقیم نے اس کے گردن کو سختی سے پکڑا ۔

اس کے گردن پر بوسہ دیتے اس نے وہاں اپنے دانتوں سے دباؤ دیا کہ وہ سی کرتی مزید اس میں سمٹ سی گئ ۔

” سوچا تھا کہ احسام شاہ کبھی ماہم کی قربت میں نہیں بہکے گا ۔۔۔ لیکن تمہاری خوشبو نے میری تشنگی بڑھا دی ہے ” اس کے کان میں سرگوشی کرتے وہ ماہم کو شرم سے لال ہونے پر مجبور کر دیا ۔

” شادی سے پہلے کوئ بہت دبنگ بنتا تھا ” اس کہ سمٹی سی حالت اس کا لال ہونا احسام کو تقویت دے رہا تبھی اس پر چوٹ کی ۔ اب تنگ کیے بنا مزا نہیں آ رہا تھا ۔

ماہم نے خونخوار نظروں سے اسے دیکھا ۔

” تمہارے نکاح میں ہوں ۔۔ اسی لیے تم پاس آ جاتے یو ۔۔۔ ورنہ ماہم سعیر شاہ نے ۔۔۔ کسی کی آنکھ کی چمک بننا بھی گوارا نہیں کیا ” اس کی آنکھوں میں دیکھتے وہ اپنی ٹون میں واپس ْ چکی تھی ۔

” امپرسو ” اس کی ناک سے ناک جوڑتے دلفریب آواز میں کہا ۔

” مجھے عنابیہ پسند ہے ” پھر سے ماہم کے کانوں میں وہ جملہ بازگشت کیا جس نے ماہم شاہ کو تباہ کر دیا تھا ۔

” مجھ میں کہیں عنابیہ تو نظر نہیں آ رہی ؟ ” اب تنگ کرنے کا موڈ ماہم کا تھا ۔

احسام شاہ نے اسے چونک کر دیکھا ۔

” ماہم ” اس کا لہجہ سخت تھا ماتھے پر شکنیں نمودار تھیں ۔

” کیا ماہم ۔۔۔ حسن پرست ہو کیا ؟ ” اس کی آنکھوں میں دیکھتے وہ احسام شاہ کو آگ لگا گئ تھی ۔

” یہ کیا بکواس ہے ۔ جانتی بھی ہو کیا بول رہی ہو ؟ ” اس کی آنکھوں میں غصے سے دیکھتے غرایا ۔

” میں صحیح کہہ رہی ہوں ۔۔۔ کیوں کہ مجھے نہیں لگتا کہ ایک رات میں کوئی کسی سے محبت کر لیتا ہے ۔۔۔۔ میرے اتنے پاس کیسے آ گئے ۔۔۔ کیونکہ بقول احسام شاہ ۔۔ ماہم شاہ تو شاہ حویلی کی بیٹیوں جیسی نہیں ہے ” اس کے کالر پر انگلیاں چلاتے بڑے مزے سے وہ طنز کر رہی تھی ۔

احسام شاہ کو اپنے جملے یاد آئے جب اس نے ماہم سے یہ کہا تھا ۔

” تو سیدھی طرح کہہ دو ۔۔۔ کہ احسام تمہارے ہر بول سے مجھے فرق پڑتا ہے ” اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے اس کہ بات کا رخ دوسری طرف لے گیا ۔وہ بھی احسام شاہ تھا آگ لگانے میں زیادہ ماہر تھا ۔

” انتہائی بدتمیز ہو تم ” اس کو دور کرتے و ہ جل بھن کر بولی ۔

” نیچے چلو ۔۔۔ یہ نا ہو دیر ہو جائے ۔۔۔ اور حویلی والے ہماری دیری کو کچھ اور ہی سمجھے ” دروازے کی طرف قدم لیتے وہ اسے مزید سلگا گیا تھا .

وہ سرخ چہرہ لیے اس کی پشت کو غصے سے دیکھنا نا بھولی اور تن فن کرتی اس سے پہلے دروازے سے باہر نکلی ۔

احسام شاہ کے ہونٹو پر دلفریب مسکان تھی ۔ اسے نہیں علم تھا کہ ماہم شاہ کو سلگانے میں اتنا لطف آیے گا ۔

” اسلام ۔۔۔ علیکم ” کمرے میں داخل ہوتے اس نے سلام کیا ۔ اس کا دل گھبرا رہا تھا نہیں علم تھا کہ ارم سبکتگین کیسا برتاؤ کریں گی اس کے ساتھ ۔

وہ اس وقت بیڈ پر بیٹھیں ہاتھوں میں ایک ڈائری لیے بیٹھی تھیں ۔

اس کی آواز پر جھٹکے سے ڈائری بند کی اور دروازے کی طرف دیکھا جہاں عنابیہ سہمی سہمی سی کھڑی تھی ۔

عنابیہ نے ارم کی آنکھوں میں نمی دیکھی تهی ۔ لیکن ارم سبکتگین اس عمر میں اپنے جزبات نا چھپا پائیں تو ان کے صبر ان کی تڑپ رائیگاں جانی تھی ۔ بڑی مہارت سے وہ خود کو کمپوز کر گئ تھیں ۔ڈائری کو اپنے دراز میں رکھی ۔

” آو ” سنجیدگی سے کہا ۔

ان کی آواز پر وہ ڈرتے گھبراتے قدم اٹھاتی ان کی طرف بڑھی ۔

” تو تم ہو عنابیہ شاہ ۔۔۔۔ شاہ حویلی کی سب سے حسین لڑکی ! ” ان کی آواز میں طنز بھی تھا اور ٹھہراؤ بھی ۔

 ” ج ۔۔۔ ججی ” آواز کانپ گئ تھی ۔ یہ طنز تو اسے سہنا تھا اب ۔

” میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میرا بیٹا ایسے شادی کرے گا ” نفی میں سر ہلاتے افسوس سے کہا ۔

عنابیہ کا سر اور جھک گیا ۔

” میری بہت خواہشیں تھیں قمر کو لے کر ۔۔۔ اور اب تو جیسے ختم ہو گئیں ” پھر سے افسوس یا پھر وہ عنابیہ کو جانچ رہی تھیں ۔

” پلیز ۔۔ ایسے نا کہیں ۔۔۔ آپ ۔۔ اپنی ہر خواہش پوری کریں ” عنابیہ نے سر اٹھا کر کہا ۔ آنکھوں میں نمی تھی اس کی زات کسی کی تکلیف کا باعث بنی تهی ۔

” تم میرے قمر کی محبت ہو ۔۔۔۔ جانتی ہو ؟ ” جانچتی نظروں سے اس سے پوچھا ۔

عنابیہ نے سر جھکا لیا وہ کیا بولتی کہ قمر نے اس سے کچھ نہیں چھپایا ۔

” کاش تم حسین نا ہوتی تو آج ۔۔۔۔ تم یہاں ایسے ونی کے نام پر نا ہوتی ” لہجے میں کاٹ تھی ۔

عنابیہ نے ضبط سے آنکھیں بند کر لیں ۔

” یہی تمہارا کسور ہے عنابیہ ۔۔۔ ہر لڑکی جو حسین ہے اس کا حسن اس کے لیے وبالِ جان ہے ” اب ان کی آواز کسی کھائی سے آتے محسوس ہوئی تھی ۔ ان کی آواز میں تکلیف تھی ۔

عنابیہ نے سر اٹھا کر انہیں دیکھا ۔ وہ پینتالیس پچاس سال کے لگ بھگ خاتون تھیں لیکن وجاہت اور حسن اب بھی قائم تھا ۔

” میں ۔۔۔ نے کبھی نہیں سوچا تھا ۔۔۔ کہ شاہ حویلی کو چھوڑوں گی کبھی ” اس کو پھر سے سیف یاد آ گیا اور اس کی خودغرضی ۔

” کیا مطلب ؟ ۔۔۔۔ حویلی نہیں چھوڑو گی ؟؟ ۔۔۔ کبھی نا کبھی تو تمہاری شادی ہوتی اور تمہیں حویلی چھوڑنی پڑتی ” ارم سبکتگین اس بات سے ڈر رہی تھیں جو انہیں محسوس ہو رہی تھی ۔

” نہیں ۔۔۔۔ اگر کیف بھائی نے غصے میں قتل نا کیا ہوتا تو ۔۔۔۔ میری شادی شاہ حویلی میں ہی ہوتی ۔۔۔ جس کا خواب مجھے دکھایا گیا تھا ” ایک ٹرانس کی کیفیت میں وہ ان پلوں کو یاد کرتے بولی جب جب اسے یہ بتایا جاتا تھا کہ وہ سیف کی منگیتر ہے ۔

” تم ۔۔۔۔ کسی ۔۔۔۔ کی منگ ۔۔۔ تھی ؟ ” انہوں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا ۔

عنابیہ نے انہیں دیکھا ۔ اس کی آنکھوں میں درد تھا جو ارم سبکتگین سے چھپا نہیں رہ سکا ۔

” جی. ۔۔۔ کسی کی نہیں ۔۔۔۔ اپنے آغا جان ۔۔۔ کے چھوٹے ۔۔۔ بیٹے کی منگیتر تھی ۔۔۔ جس نے خود مجھے ۔۔۔ بلی چڑھا دیا ” اس کی بتاتے بتاتے آواز رندھ گئ ۔

” یوسف شاہ ۔۔۔ کا بیٹا ؟ ” ان کی آواز بے دم تھی ۔

” آپ ۔۔۔ کو کیسے علم ؟ ” عنابیہ نے نا سمجھی سے پوچھا ۔

” شاہ حویلی سے ۔۔۔ ہو ۔۔۔ کیا مشکل پہچاننے میں ؟ ” ارم سبکتگین نے خود کو نارمل رکھتے کہا ۔

عنابیہ خاموش ہو گئ ۔

“قمر سے کہو ۔۔۔۔ تمہیں شوپنگ کروا سے ۔۔۔۔ کپڑے نئے لے آؤ ” سنجیدگی سے حکم دیا ۔

عنابیہ نے ایک نظر انہیں دیکھا پھر سر ہلاتے وہ باہر چلی گئی ۔

ارم سبکتگین کی آنکھیں بھیگ گئیں ۔ بے دم سی وہ بیڈ کراؤن سے لگی ۔ ان کا ڈر سچ ثابت ہوا ۔

وہ ایک اور ارم تھی جو ان کے سامنے کھڑی تھی ۔ بس فرق یہ تھا کہ سامنے کھڑی لڑکی کسی کی منگ تھی اور اس نے ہی یہ نوبت لائی تهی جبکہ ارم سبکتگین وہ تھیں جو جس کی منگ بنن چاہتی تھی اس کی غلطی پر آج یہاں موجود تھیں ۔

” تمہاری فطرت بدلی نہیں یوسف شاہ ۔۔۔۔ تمہارا بیٹا بھی ویسا ہی ہے” ان کی آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر نکلا۔

” سر آپ سے کوئی ملنے آیا ہے ” دروازہ کھٹکھٹاتے ملازم نے کہا ۔

” کون ؟ ” سیف نے مصروف سے انداز میں کہا ۔

” کوئی لڑکی ہے سر ۔۔۔ نام نہیں بتایا کہہ رہی ہیں کہ آپ جانتے انہیں ” ملازم نے مؤدب لہجے میں جواب دیا ۔

” اچھا ۔۔۔ چلیں بھیج دیں ” سیف نے مصروف سے انداز سے کہا ۔ اسے نہیں یاد آ رہا تھا کہ کون ہو سکتی ہے وہ ۔

دروازہ کھلا اور جوتے کی ٹک ٹک نے سیف کو متوجہ کیا ۔ اس نے سر اٹھا کر سامنے دیکھا تو شنیزہ کق کھڑے پایا جو چہرے پر مسکان سجائے اسے دیکھ رہی تھی ۔

سیف کا چہرہ سپاٹ ہو گیا ۔

” تم ! ” اس کی طرف دیکھتے پوچھا ۔

” تم تو مجھ سے بیگانہ ہو جاؤ گے سیف ۔۔۔ لیکن یہ فطرت میں چاہ کر بھی نہیں اپنا سکتی ” اس کے سامنے کھڑی وہ دل لگی سے بولی ۔

سیف نے ضبط سے اس کی بات سہی ۔

” سب ختم ہو گیا ہے شنیزہ ۔۔۔ اب میرے دل میں ایسا کچھ نہیں کہ تمہاری طرف پلٹوں ۔۔۔ یہ بات میں نے اس دن بھی کہی تھی ” سنجیدگی سے اسے کہا ۔ اپنی طرف سے اس کے دل میں کوئی خوش فہمی نہیں ڈالنا چاہتا تھا ۔ لیکن حیرت تھی وہ کیوں چاہ رہا تھا کہ شنیزہ اس کی طرف نا آئے ۔

” اور میں ایسی بات تمہارے منہ سے سننا پسند نہیں کرتی ” اس کی آواز میں صرف سیف کی طلب تھی ۔ جسے سیف جان گیا تھا لیکن پھر بھی نہیں مان رہا تھا. کیونکہ وہ ماننا ہی نہیں چاہتا تھا ۔

” بیٹھنے کو بھی نہیں کہہ رہے ۔۔۔۔ بڑے بے مروت ہو ” اس سے پہلے سیف کچھ کہتا وہ نروٹھے پن سے بولی ۔

” سوری ۔۔۔ بیٹھو ” سیف نے ماتھا مسلہ ۔

وہ ہلکی مسکا سے اس کے سامنے کرسی پر بیٹھ گئ ۔

” کچھ لو گی ؟ ” گہرا سانس لیتے پوچھا ۔

” ہاں صرف تم ۔۔۔ دو گے ؟ ” تھوڑی کے نیچے ہاتھوں کو رکھتے آنچ دیتے لہجے میں کہا ۔

” شنیزہ ۔۔۔۔ بی سیریس ۔ ” اس کی بات سیف کو پسند نہیں آئی تھی اگر یہی بات وہ دو سال پہلے کہتی تو سیف اس کے سامنے سر خم کر دیتا تھا ۔

” پلیز سیف ۔۔۔۔۔ مجھے اتنا نا آزماؤ ۔۔۔۔۔ تم جیسا ظرف نہیں مجھ میں ۔۔۔۔ مر رہی ہوں تمہارے بنا ” آنکھوں میں نمی لیے وہ التجائیہ انداز میں بولی ۔

سیف اس کی حالت سمجھتا اپنی جگہ سے اٹھا اور اس کے ساتھ والی کرسی پر آ بیٹھا.

وہ دیوانگی سے اسے دیکھ رہی تھی ۔

” دیکھو شنیزہ “

” تم دیکھو ۔۔۔ میں ۔۔۔ مر جاؤں گی تمہارے بنا سیف ۔۔۔۔ مجھے مت آزماؤ ! ۔۔۔ آئی بیگ یو ” اس کے سمانے ہاتھ جوڑتے وہ اس وقت سیف کو وہ مغرقر شنیزہ نہیں لگی تھی جو کبھی یونیورسٹی میں ہوا کرتی تھی ۔

” تم ایسے ۔۔ کیوں کر رہی ہو ” اس کے ہاتھوں کو تھاما تھا ۔

 اسے اس وقت شنیزہ میں عنابیہ نظر آئی تھی جس نے جانے سے پہلے سیف کے آگے ہاتھ جوڑے تھے ۔دل تڑپ اٹھا تھا ۔

اتفاق دیکھو ہر گفتگو میں اب عنابیہ کا زکر رہنے لگا تھا جو سیف کو محسوس نہیں ہو رہا تھا ۔

” تمہیں انکار کیا تھا ۔۔۔ تمہاری محبت میں تمہیں بچانے کے لیے ۔۔۔۔ تم ڈیڈی کو جانتے ہو وہ ۔۔۔۔ اس وقت تمہیں ایک عام سا لڑکا سمجھتے تھے ۔۔۔۔ تمہیں مار ڈالتے وہ ” اس کے ہاتھوں پر ہاتھ رکھے وہ رو دینے کو تھی ۔

سیف نے کوئی جواب نا دیا ۔

” پلیز ۔۔۔ مجھے ایسے چھوڑا نا ۔۔۔ تمہارے لیے پاک آئی ہوں ۔۔۔ یہاں کون سا رشتہ دار دیکھا تم نے میرا ؟؟؟ ۔۔۔ مجھ میں اتنا ظرف نہیں کہ ۔۔۔۔ تمہارے ساتھ کے لیے تمہارے مان جانے کے لیے میں ۔۔۔ کئی سال انتظار کروں ۔۔۔۔ تم سے داری مجھے ۔۔۔ مار رہی ہے ۔۔۔ اندر ہی اندر کھا رہی ہے سیف ” اس کے ہاتھوں پر سر رکھے وہ رو دی تھی ۔

سیف نے لب بھینچے ۔ اس کے ہاس تو جیسے الفاظ ختم ہو گئے تھے ۔

اسے وہ ہر ہر پل یاد آ رہا تھا جب اس نے عنابیہ کو تڑپایا تھا. بات نہیں کرتا تھا. اس کے سامنے آنے پر روڈ ہونا ۔ اسے دیکھنا ہی نا ۔ اس اے شادی سے انکار کرنا ۔ اس کی آنکھوں میں نمی دیکھنے کے باوجود اسے تڑپانا ۔

پھر سے عنابیہ تھی ۔ اور سیف یوسف شاہ کق لگتا تھا کہ وہ عنابیہ سے محبت نہیں کرتے جس سے محبت کرتے تھے وہ سامنے تهی لیکن سیف یوسف کا دل اور دماغ عنابیہ کو کیوں سوچ رہا تھا.

حیرت کی بات تھی نا !

” پلیزذزز ۔۔۔ سیف ” اس کی طرف دیکھتے اس نے منت کی ۔

“چپ کر جاؤ ” اس کی آنکھوں سے آنسو صاف کیے ۔

” کیا لو گے میرا ہونے کے لیے سیف یوسف شاہ ؟ ” وہ اس کے سنجیدہ چہرے کو دیکھتی بولی ۔

” شنیزہ ” سیف نے گہرا سانس لیا ۔

” میری جان لو گے کیا ؟ ۔۔۔ یہ جانتے بھی کہ میں تمہارے ساتھ جینا چاہتی ہوں ؟ ” پھر سے وہی تڑپ.

” میں تمہیں اس نظر سے سوچ نہیں پا رہا شنیزہ ۔۔۔ پلیز. ۔۔ سمجھو ۔۔۔ مجھے وقت دو ” اس کے ہاتھوں سے ہاتھ نکالتے وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا ۔

وہ اس کی سورت دیکھتی رہ گئی ۔

” دیکھ نہیں پا رہے ہو ؟؟؟ ۔۔۔۔۔ تو کس کو دیکھا یے ایسے ؟ ” اس کی آنکھوں پر آنکھیں جمائے وہ سنجیدگی سے بولی. آنکھیں جھپک نہیں پا رہی تھی ۔

سیف کو ایسا لگا کہ وہ اس کی چوری پکڑ لے گی ۔ اسے ڈر لگا کہ کہیں اس کی آنکھوں میں عنابیہ کا چہرہ تو نہیں ؟

عنابیہ ؟ اس کے دماغ نے کلک کیا ۔ وہ اپنی ہی سوچ پر حیران تھا ۔

” سیف ” اس نے پھر پکارا۔

” کوئی ۔۔۔ بھی نہیں ہے ۔۔۔ لیکن اب ۔۔۔ وہی مقام تمہیں دینا مجھے مشکل لگ رہا ” خود کو کمپوز کرتا وہ سیٹ سے اٹھا اور کھڑکی کے پاس کھڑا ہو گیا.

وہ اس کی پشت کو دیکھ رہی تھی ۔

” مجھے تمہارے ساتھ جینا ہے سیف ۔۔۔ ترس کھا لو ۔۔۔ یا احسان کر لو ۔۔۔ لیکن مجھے چھوڑنا مت ” اپنی جگہ سے اٹھتی وہ بلکل ٹوٹی ہوئی محسوس ہوئی ۔

سیف نہیں پلٹا ۔

وہ خاموشی سے آفس سے چلی گئی۔

سیف نے گہرا سانس لیا ۔ پھر سے اس کی آنکھوں میں عنابیہ کا چہرہ رقص کر رہا تھا ۔

دن کی طرح تم سر پر آنا ۔۔۔

شام کے جیسے ڈھلنا تم ۔۔۔

خواب بچھا رکھیں ہیں راہ میں ۔۔۔۔

سوچ سمجھ کر چلنا تم ۔۔۔۔

تیرے لیے چاند بھی رکتا ۔۔۔۔

تیرے لیے اوس ٹھہرتی ہے۔۔۔

یاد نہیں تھا یاد آیا ۔۔۔

دبی دبی سانسوں میں سنا تھا میں نے ۔۔۔۔

بولے بنا میرا نام آیا ۔۔۔

پلکیں جھکی اور اٹھنے لگیں تو ۔۔

ہولے سے اس کا سلام آیا ۔۔۔

                       🔥🔥🔥🔥🔥🔥

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Read haveli based novel, saaiyaan , Urdu novel at this website Novelsnagri.com for more Online Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit this website and give your reviews on this Website. you can also visit our facebook page for more content Novelsnagri ebook

Leave a Comment

Your email address will not be published.