Web Special Novel, haveli based Novel, saaiyaan

haveli based Novel, saaiyaan ,Epi #17

haveli based Novel, revenge based, urdu novels, online Urdu novels, saaiyaan novel is full of emotions, romance, suspense & thrill, Story of a girl who wants to follow the society style. Novel written by Bisma Bhatti.

Web Special Novel, haveli based Novel, saaiyaan
haveli based Novel, saaiyaan ,Epi #17

haveli based Novel, saaiyaan ,Epi #17

#سائیاں

#از_قلم_بسما_بھٹی

#قسط_17

موسم کافی خراب تھا ۔ جولائی کا مہینہ چل رہا تھا جب پاکستان میں زوروشور سے بارشوں کا موسم ہوتا تھا ۔ اب بھی بادل گہرے کالے تھے جو بتا رہے تھے کہ جلد بارش ہو گی ۔ اور میٹھی میٹھی ہوا چل رہی تھی ۔

گاڑی ائیرپورٹ پر رکی ۔ زامل باہر نکلا اور سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا یعنی اسے جلد دل شیر کو لے کر حویلی جانا تھا بارش سے پہلے کیونکہ وہ جس گاڑی میں آیا تھا اس کی چھٹ نہیں تھی ۔اور حویلی تک کا راستہ ایک گھنٹے کا تھا وہ یقیناً جاتے جاتے بھیگ جاتے اور زامل شاہ کو بارش میں بھیگنا بلکل پسند نہیں تھا آخر کو شاہوں کا بیٹا تھا ۔ اس کی تمیز کہتی تھی کہ کپڑے جتنے صاف اور سلوٹ سے پاک ہوں اتنی ہی بندے کی قدر رہتی ہے کجا بارش میں وہ بھگو دیتا ۔

وہ بارش کی فکر سے تیزی سے اندر گیا تو سامنے ہی اسے دل شیر اپنا سامان کے ساتھ باہر آتا نظر آیا ۔

وہ مسکراتا اس کی طرف بڑھا ۔

” ارے زامل ۔۔۔۔ شاہ جی کیا حال یے ! ” دل شیر زامل کو ائیرپورٹ پر دیکھ کر خوشی سے اس کی طرف بڑھا اور گلے لگا لیا ۔

” میں ٹھیک تم سناؤ ” زامل شاہ بھی بڑے جوش سے ملا ۔

” ایک دم فٹ ۔۔ پاکستان کی ہوا ہی جادو کر دیتی ہے ۔ ” ایک گہرا سانس میٹھی میٹھی ہوا میں لیتے کہا ۔

” ہاں ۔۔ اور اصل میں جادو ہو جائے گا اگر ہم حویلی کے لیے نا نکلے ” زامل نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا مگر چہرہ سنجیدہ تها ۔

” زامل ” دل شیر نے اس کا بازو پکڑ کر روکا ۔

زامل نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا ۔



” شاہ حویلی رہتے ہو ۔۔۔ اپنے دل اور سکون کے پاس ۔۔۔۔ اور جو کوئی بھی اپنے دل اور سکون کو اپنے پاس پاتا ہے وہ سنجیدہ نہیں ہوتا ” اس کی کھوجتی آنکھیں زامل ہر ٹکیں تھیں ۔

زامل کی آنکھوں میں ملیحہ کا چہرہ لہرایا ۔

” چلیں ؟ ” یک حرفی بات کر کے وہ بات کو گھما گیا ۔

دل شیر نےسر ہلایا لیکن کوئی مزید بات نہیں کی ۔

ابھی انہیں دس منٹس ہوئے تھے کہ زورو شور سے بارش شروع ہو گئ ۔

زامل نے کوفت سے سٹیرنگ پر مکا مارا ۔ جس پر زامل ہنس دیا ۔ وہ کئی سالوں بعد پاکستان کی بارش محسوس کر رہا تھا ۔

بارش کی بوچھاڑ بہت تیز تھی ۔ وہ دونوں بری طرح بھیگ چکے تھے ۔ زامل نے گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی ۔

جو سفر ایک گھنٹے میں طے ہونا تھا وہ چالیس منٹس میں طے ہوا تھا ۔ اور دل شیر تو زامل کی ڈرائیونگ پر عش عش کر اٹھا ۔

ایک جھٹکے سے اس نے گاڑی حویلی کے اندر لے جاتے داخلی دروازے کے سامنے روکی ۔

” واہ کیا حویلی ہے ۔۔۔ تصویروں سے کئ زیادہ حسین ” گاڑی سے نکلتے دل شیر نے کہا ۔

🌹🌹🌹

احسام اسے ترچھی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا جس کے ہر عمل میں تیزی تھی ۔ اسے بھی علم تھا کہ دل شیر آ رہا ہے اور احسام کو اس کا نام سن سن کر ہی پارا ہائی ہو رہا تھا ۔ صبح سے وہ دل شیر نامہ سن رہا تھا سب سے کیونکہ اس کے لیے سب تیاریاں ہو رہی تھیں ۔ اب اس کو ماہم پر غصہ آ رہا تھا جو نک سک سی تیار ہوئی شیشے کے سامنے اپنے کانوں میں چھوٹے چھوٹے ٹاپس ڈال رہی تھی ۔ احسام کی ترچھی سرخ نگاہیں اس پر تھیں ۔ تبھی ماہم نے سرخ لپسٹک اٹھائی ۔

احسام کا میٹر گھوم گیا ۔ وہ جانتا تھا کہ ماہم جب تیار ہوتی تھی تو کیسا وار وہ احسام کے دل پر کرتی تھی ۔ بے شک ابھی شادی کو ایک ہفتہ ہوا تھا لیکن پھر بھی وہ اس کا بری طرح ایڈیکٹ ہو گیا تھا ۔ اسے یہ بھی علم تھا کہ ماہم کا فقط ایک لپسٹک لگانا کسی مشکل میں پہنچا سکتا تھا کیونکہ وہ خود کو ماہم پر بہکنے سے روک نہیں پاتا تھا اور اگر اس کی قربت کا کوئی اور خواہاں نکل آتا تو احسام شاہ اس کو کیسے برداشت کرے گا ۔ اس کا غصہ سوا نیزے پر تھا ۔ جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھا ۔

  اس سے پہلے وہ لگاتی وہ تن فن کرتا اس تک پہنچا اور اس کی کلائی پکڑ کر مڑوڑ دی ۔

وہ درد سے بلبلاتی چیخ اٹھی ۔ پہلی بار احسام نے اس کو تکلیف دی تھی ۔

” خبردار جو کسی نا محرم کے لیے بن سنور کر گئ ۔ ” اپنے دل کے حالت سے بے خبر وہ اس کی آنکھوں میں غصے سے دیکھتے بولا ۔

” نا محرم ؟ …. دماغ ٹھیک ہے ۔۔۔ کیا بول رہے ہو ؟ ” ماہم اپنی کلائ کو چھڑوانے کی غرض سے الٹی سیدھی ہوتی پھنکاری ۔ اسے نہیں علم تھا کہ احسام کے دماغ اور دل میں کیا جنگ چل رہی تھی ۔

” کون ہے یہ دل شیر ۔۔۔۔ جس کے لیے اتنا سج رہی ہو ؟ ” دوسرے ہاتھ سے اس کا جبڑا پکڑا ۔

ماہم نے مزاحمت روک کر اس کا عمل دیکھا جو اس کا جبڑا پکڑے کھڑا تھا ۔

” دوست ہے وہ میرا احسام ” دانتوں کو پیستے جواب دیا ۔

” دوستوں کے سامنے تیار شیار ہو کر جاتے ہیں ؟ ” اس نے بھی آگے سے آنکھیں نکالیں ۔

” تو کیا یہ ظاہر کروں کہ ماہم سعیر شاہ کسی ایسے شخص کے ساتھ شادی رچا گئ ہے جس کا دل اور دماغ میرے بجائے کسی اور دوشیزہ کے پاس ہیں ؟ ” وہ بھی اپنی کلائی کو پورے زور سے چھڑواتے کڑھ کر کڑوے لہجے میں بولی ۔

احسام کا تنا جبڑا نرم پڑا ۔ وہ تو اپنی گزاری زندگی کی کئی یادیں بھول گیا تھا اس کی قربت میں ۔ اس نے ماہم کا جبرا چھوڑا لیکن آنکھیں اس پر ٹکیں تھیں یہ بھی نہیں سوچا تھا کہ وہ ایسے الفاظ ادا کرے گی ۔

” تیار نا ہوں میں ! ۔۔۔ تا کہ اسے پتہ چلے ۔۔۔ کہ ہم صرف نام کے میاں بیوی ہیں ؟ …. اور وہ میرے چہرے پر کوئی گلابی نا پا کر شک میں مبتلا ہو اور کوئی ایسا قدم اٹھائے جو شاہ حویلی کی در و دیوار کو ہلا دے ؟ ” احسام کے سینے پر غصے سے ہاتھ مارا ۔

” ماہم ” احسام نے دانت پیسے ۔

” بس کرو احسام ۔۔۔ تم جیسا جلاد میں نے شاہ حویلی میں نہیں دیکھا ۔۔۔ دوست ہے وہ میرا ۔۔۔ مجھے اس سے ویسے ہی ملنا ہے جیسے میں ملتی ہوں ۔۔۔ اسی میں بھلائی ہے ۔۔۔ ہم دونوں کے ساتھ ساتھ شاہ حویلی کی عزت بچی رہے گی ” سنجیدگی سے بولتی وہ احسام شاہ کی زبان پر قفل لگا گئ تھی ۔

اور وہ منتظر تھی کہ وہ جواب دے جو ٹکر ٹکر اسے دیکھ رہا تھا ۔

” بٹ نو لپسٹک ” اس کی سوئی وہیں پر تھی ۔

ماہم نے ماتھا مسلا ۔

” تمہیں فرق نا پڑے سمجھے ۔۔ ہم دونوں ہی اس رشتے سے راضی نہیں تھے ” اس کے بازو سے پکڑ کر سائیڈ پر کرتے کہا ۔

اس سے پہلے احسام جواب دیتا ۔ ہارن کی آواز سنائی دی ۔

ماہم کا چہرہ کھل گیا ۔

وہ تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی ۔

احسام اب کیسے کمرے میں رہ سکتا تھا جب وہ باہر چلی گئ تھی اس دل شیر کی آمد پر ۔ اب اسے بھی دیکھنا تھا کہ کون ہے دل شیر جس نے اس کی بیوی کی کل سے بانچھیں کھلائی ہوئیں ہیں ۔

اس نے اپنی شال صوفے سے اٹھائی اور بڑی نفاست سے اسے کندھوں پر لیا ۔ مونچھوں کو تاؤ دیا اور شانے چوڑے کیے ۔ وہ دل شیر کو دکھا دینا چاہتا تھا کہ وہ سید احسام شاہ ہے ماہم کا شوہر اس کی چاہت اس کی محبت ۔ اور وہ سو فیٹ دور رہے اس کی بیوی سے ۔

🌹🌹

وہ داور سے گاؤں کی زمینوں کے بارے میں بات کر رہا تھا ۔ دونوں سنجیدگی سے اس پر ڈسکس کر رہے تھے ۔ تبھی زمر چہرہ ڈھانپے کمرے میں داخل ہوئی ۔

داور نے چہرہ اور نظریں دونوں جھکا لیے اور آواز بند کر دی ۔ اس کے صاحب کی بیوی تھی اس کے لہے بے حد قابلِ عزت ۔ کیف نے زمر کو دیکھا جو اندر آئی تھی ۔ داور کی موجودگی زمر کو محسوس ہو گئ تھی ۔ ان کو تنگ کیے بنا وہ سیدھا ٹیرس پر چلی گئی ۔

” تم ایسا کرو یہ فائلز آغا جان کے پاس لے جاؤ میں ادھر ہی آتا ہوں ” داور کو حکم دیا اور خود صوفے سے اٹھا ۔

” جی صاحب ” وہ ویسے ہی مؤدب سا ان کے سامنے جھکا اور تیزی سے کمرے سے چلا گیا ۔

کیف کا رخ ٹیرس کی طرف تھا ۔

وہ ٹیرس پر گیا اور اسے ریلنگ کے پاس کھڑ پایا ۔

مسکرا کر وہ بھی ساتھ کھڑا ہو گیا ۔

بارش زور و شور سے برس رہی تھی ۔ اس کی ٹھنڈی پھوار دونوں کے چہرے سے مس ہو رہی تھی ۔

زمر نے اسے دیکھا جو مرجھائے چہرے سے بارش میں نجانے کیا دیکھ رہی تھی ۔

” اتنا چہرہ کیوں مرجھایا ہوا ہے ؟ “اس کا ہاتھ پکڑ کر نرمی سے پوچھا ۔

” سائیں ۔۔۔۔ کیا ہم عنابیہ کو کسی طرح بچا نہیں سکتے ؟ کوئی تو راستہ ہو گا ” وہ امید بھری نظروں سے کیف کو دیکھتے بولی ۔

کیف نے گہرا سانس لیا ۔

” تمہارے زہن میں کیا ہے ؟ ” کیف نے اس سے پوچھا .

” پیسے دے دیے جائیں جتنے وہ مانگے پھر ؟ ” کیف نے دوبارہ آس سے دیکھا ۔

” زمر ۔۔۔۔ دیکھو ۔۔۔ ایسے معاملوں میں بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ مقابل پیسے لے لیں ۔۔۔۔۔ اور زیادہ یہی ہوتا ہے کہ بیٹی واپس نہیں آتی جو ونی کر دی جائے ایک دفعہ ” اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتے وہ حقیقت سے روشناس کرا رہا تھا ۔

زمر نے دل گرفتہ ہو کر سر جھکا لیا ۔ یہ خیال ہی سوہانِ روح تھا کہ وہ اب نہیں مل سکے گی اپنی بہن سے ۔

” لسن لسن. ۔۔ میں آغا جان سے بات کرتا ہوں ۔۔۔ یاے رو نا ” وہ اس کو سینے سے لگاتا افسردگی سے بولا ۔

” کچھ ۔۔۔ کریں سائیں ۔۔۔ کچھ کریں ۔۔۔۔ وہ بنا جرم کے سزا کاٹ رہی ہے ۔۔۔ کچھ کریں ” اس کی شرٹ کو مٹھیوں میں جکڑے وہ ہچکیوں کے درمیان بولی ۔

” ہاں بسس ۔۔۔ چپ کرو ” اس کے سر پر بوسہ دیتے خود میں مزید سما لیا ۔

حویلی میں ہارن کی آواز آئی تو دونوں نے ٹیرس سے نیچے کی طرف دیکھا ۔

بڑے گیٹ سے اب گاڑی داخلی دروازے پر رک گئی تھی ۔

” لگتا ہے دل شیر آ گیا ۔۔۔ میں اس کے استقبال کے لیے جاتا ہوں ” اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے وہ واپس اندر کی جانب گیا ۔

زمر نے اوپر سے ہی اسے دیکھنا چاہا لیکن اس کا سر زیادہ نظر آ رہا تھا شکل کی نسبت ۔ لیکن اتنا ضرور لگ رہا تھا کہ وہ خوش شکل سانولی رنگت کا مالک تها ۔ وہی سانولی رنگت جو کسی بھی لڑکی کو اپنی طرف متوجہ کرے ۔

سر جھٹکتی وہ اندر چلی گئی ۔

🌹🌹🌹

” او مائیی گاڈڈڈڈڈڈ ۔۔۔۔۔ شیرررر ” وہ اس کو گاڑی سے نکلتے دیکھ کر سامنے سیڑھیوں سے جیسے بھاگتے ہوئے چیختے ہوئے اس کی طرف دوڑی ۔

احسام جو سیڑھیوں کے جانے پر تھا اس کی حرکت پر دانت پیسے ۔

ایک انجانی چیخ پر وہ اندر کی طرف بڑھا ۔ اور سامنے ہی وہ چمکتی ہوئی اس کی طرف بھاگتے آ رہی تھی ۔

دل شیر کی آنکھیں چمک اٹھیں ۔

” او مائی گاڈ ” وہ اس کی طرف آتے اس کے گلے لگ گئ ۔ ابھی زامل اندر نہیں آیا تھا ۔

احسام کا خون کھول اٹھا ۔ یہ وہ جانتا تھا کہ اس نے یہ منظر کیسے دیکھا تھا ۔ چال میں اور سختی آ گئ تھی ۔

دل شیر جو اس میں کوئی مسئلہ نہیں تھا وہ ایسے ہی ملتا تھا ۔ اس کے گرد باہیں پھیلائیں ۔

” کیسی ہو ” اس کا چہرہ سامنے کرتے پوچھا ۔

” میں بلکل ٹھیک ۔۔۔ تم نے اتنا بڑا سرپرائز دے دیا ” اس سے نا محسوس انداز میں الگ ہوتے چیک کر کہا ۔ اسے بھولا نہیں تھا کہ وہ ماہم احسام شاہ ہے ۔

” تم تو اور پیاری ہو گئ ہو یا مجھے لگ رہا. ۔۔ کون سی کریم لگانے لگ گئ اب ؟ ” دل شیر نے اسے چھیڑا ۔

” بس کرو میں اس سے بھی زیادہ حسین ہوں شکر کرو میں نے اپنا حسن سات پردوں میں رکھا یے ورنہ تم نے یہیں دفن ہو جانا تھا ” ایک ادا سے بالوں کو جھٹکتی بولی ۔

” تم نے بال بڑے کر لیے ؟ ” دل شیر نے حیرت سے اس کے بال دیکھے جو کندھے سے نیچے تھے ۔

 کیونکہ کینیڈا میں ماہم نے کبھی بال کندھے تک جانے نہیں دیے تھے ۔ یا حد وہاں تک ہی رکھتی تھی. بقول اس کے کہ وہ سنبھال نہیں سکتی ۔

” ہاں بلکل ۔۔۔ پاکستان میں ایسے بال ہی ہوتے ہیں. ۔۔ تن اندر چلو ” بے تکا سا جوب دے کر وہ اسے اندر کی طرف بڑھنے کو بولی ۔

تبھی زامل گاڑی پارک کر کے اندر آیا ۔ اس کی نظر ماہم پر پڑی لیکن وہ اسے اگنور کر گئ ۔ اسے اور احسام پر تپ چڑھی جس کی وجہ سے ماہم نے زامل کو اگنور کیا تھا ۔

” وہہہوو ۔۔۔۔ یہ کون ہیں بئی ؟ کیا پرسنلٹی ہے ! ” سامنے سے آتے احسام شاہ پر نظر پڑتے دل شیر متاثر ہوتے بولا ۔

” اسی سے پوچھ لو ۔۔۔ اس کا زکر فکر مجھ سے شروع اور مجھ پر ہی ختم ہوتا ہے ” وہ تب تک ان کے سامنے آتا بڑے غرور سے بولا ۔

جبکہ اس کی بات پر ماہم کا چہرہ خفت سے سرخ ہو گیا ۔

” کون ہے یہ ؟ ” اس نے سوالیہ نظروں سے ماہم کو دیکھا ۔

” یہ ” اس نے ایک نظر احسام کو دیکھا جو آنکھوں میں والہانہ پن لیے اسے دیکھ رہا تھا ۔

 اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی احسام شاہ کی ۔ لیکن اس کی آنکھیں شرمانے پر مجبور کر دیتی تھیں ۔

” احسام شاہ ” بس دو حرفوں میں تعارف دیا ۔

 ابھی ہمت نہیں تھی کہ دل شیر کو شادی کا بتاتی ورنہ اس نے بہت جھگڑنا تھا ۔

” یہ نام سنا ہے میں نے ۔۔۔۔ تمہارے یا ۔۔۔ سیف کے منہ سے ؟ ” دل شیر زہن پر زور ڈالتے بولا.

” ان سے ہی سنا ہو گا ” اس کی کمر سے کھینچتے اپنے ساتھ لگاتے دل جلا دینے والی مسکان سے دل شیر کو دیکھا ۔ اس وقت وہ کتنا جل رہا تھا ماہم کو کسی کے ساتھ ہنستے دیکھ کر یہ اسے خود نہیں پتہ تھا ۔

دل شیر کی بے اختیار نظر اس کے ہاتھ پر گئ جو ماہم کی کمر پر تھا ۔ اس نے جھٹکے سے ماہم کو دیکھا جو سرخ ہو چکی تھی ۔ بچہ نہیں تھا جو اس سرخی کو محسوس نہیں کر پا رہا تھا ۔

” کون یہ ؟ ” سنجیدگی سے ماہم سے پوچھا ۔

” کون ایسے حق سے اس کو ساتھ لگا سکتا ہے ؟ کتنی توپ چیز ہے یہ تو تمہیں پتہ ہی ہو گا مسٹر دل شیر ” احسام نے مونچھوں کو تاؤ دیتے کہا ۔ وہ اسے بتا دینا چاہتا تھا کہ ماہم صرف اور صرف احسام کی ہے ۔

دل شیر نے سنجیدگی سے اسے پھر پیچھے آتے زامل کو دیکھا ۔

” احسام شاہ ۔۔۔۔ کزن بھی ہے ۔۔۔ اور ماہم کی شادی اس سے ہوئ ہے ” زامل نے سنجیدگی سے بتایا ۔

دل شیر نے جھٹکے سے ماہم کو دیکھا جو سپاٹ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔

” کب کی شادی ؟ ” اس کی حیران پریشان صدمے زدہ آواز نکلی ۔

” ایک ہفتہ پہلے یہ میری ہو چکی ہے ” دوبارہ سے ماہم کو اپنے ساتھ سختی سے لگاتے مسکراتے جواب دیا.

ماہم نے ترچھی نگاہوں سے اسے دیکھا ۔ اسے بیک وقت غصہ آ رہا تھا اور پیار بھی ۔ اس کی مسکراہٹ جان لیوا تھی . لیکن وہ اس کو سمجھ نہیں پ رہی تھی ۔

” او مائی گاڈ ۔۔۔۔ یہ تو تم نے مجھے سرپرائز کر دیا ہے ” وہ شاکڈ نظروں سے بولا ۔

” فرصت میں کرتے بات تم بھیگ گئے ہو ۔۔ آؤ چینج کر لو ” زامل نے اسے کہا ۔ اور اسے لے کر مہمان خانے کی طرف بڑھا ۔

” یہ کیا حرکت تھی ” وہ اس کی طرف دیکھتی دبے دحے غصے سے بولی ۔

” تم میری ہو ۔۔۔ اسے بتا رہا تھا ” اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے وہ ماہم کو شاکڈ کر گیا تھا ۔

” ایک سیکنڈ میں کپڑے بدلو ۔۔۔ اور انتہائی گندا ڈریس پہنو جیسے کسی فقیرنی نے پہنا ہو ۔۔۔ اگر نہیں ہے تو اپنا کوئی دریس خود ہی گندا کر لو اور وہ پہن کر نیچے آؤ سمجھی ” اس کی آنکھوں میں محبت سے دیکھتے پیار سے وارن دے کر سمجھایا ۔

” کیوںنن ؟ ” اس کی صدمے زدہ آواز نکلی ۔

” خبرداار جو ۔۔۔ اس کی نظر تم پر پڑی اور تم اسے حسین لگی ۔۔۔ ” آنکھوں پر بوسہ دیتے دوبارہ وارن کیا ۔

” احسام ؟ ” ماہم نے اسے دیکھا جو اسے جکڑے بھی کھڑا تھا چھوڑ بھی نہیں رہا تھا اور حکم بھی دے رہا تھا ۔

” پتہ تھا پیار کی بات سمجھ نہیں آتی تمہیں ” اسے اپنی بازووں میں جھٹکے سے اٹھایا ۔

ماہم نے اس کی گردن کے گرد باہیں کر کے پکڑا ۔ آنکھیں اب بھی حیران تھی ۔

اس کی شاکڈ نظروں کی پرواہ کیے وہ اسے واپس سیڑھیوں کی طرف لے کر بڑھ گیا ۔

🌹🌹🌹🌹

وہ ٹیرس پر کھڑی بارش دیکھ رہی تھی ۔ اسے بے حد پسند تھی بارش بے حد ۔ اب اس کے سامنے برس رہی تھی کہ اسے بھیگنے کا من نہیں کر رہا تھا ۔

ٹھنڈی پھوار چہرے پر پڑی تو آنکھیں راحت سے بند کر لیں ۔ یہ ٹھنڈک راحت بخش تهی ۔

تبھی اسے اپنے اردگرد کسی کی موجودگی کا احساس ہوا ۔

وہ اس سے پہلے پلٹتی کسی کے ہاتھوں کو اپنی کمرے سے پیٹ کی طرف آتے پایا ۔ اس کی سانس اٹک گئ ۔ ہراساں نگاہوں سے ہاتھوں کے دیکھا ۔

ان ہاتھوں نے زور لگایا ۔ عنابیی کی کمر کسی کے سینے سے جا لگی ۔

” اتنی حسین بارش میں آپ یہاں ہیں ؟ بھیگنا پسند نہیں ؟ ” اس کی آواز ٹھیک کان کے پاس ابھری ۔

یعنی قمر اس کو حصار میں لیے ہوئے تھا ۔

” م ۔۔ مجھے چھوڑیں ” اس کے لب با مشکل حرکت کر پائے ۔ اس کی قربت ساہانِ روح تهی ۔ ایف کے علاوہ کب کسی کو ایسے پاس تصور کیا تھا ۔

قمر اس کے الفاظ نا سن پایا ۔ اسے لگا وہ بولی ہی نہیں ۔ جھک کر اس کے کندھے پر بوسہ دیا ۔

” پلیز ” وہ تڑپ کر اس کا حصار کھولتی اندر کی طرف تیزی سے بڑھی لیکن قمر نے اس کی کلائی پکڑ لی ۔

عنابیہ کا تنفس پھول چکا تھا ۔ اس کا دل اپنے مقام پر نہیں تھا ۔ وہ یہ سب قبول نہیں کر رہی تھی ۔

” کیا مسئلہ ہے عنا ” اس کے پاس ہوتے نرمی سے پوچھا ۔

عنابیہ نے گلہ تر کیا ۔

قمر اس کے سامنے آیا ۔

” مجھ سے دور کیوں ہو رہی ہیں ؟ ” اس کے ہاتھوں کو تھامتے ہوئے ان پر بوسہ دیا ۔

عنابیہ بدک کر ہاس دیوار سے جا لگی ۔

قمر نے نا سمجھی سے اسے دیکھا ۔

وہ اسے اس کی شرم سمجھ گیا ۔

مسکراتے ہوئے اس کے پاس آیا اور دونوں اطراف ہاتھوں کو رکھا ۔

عنابیہ خود میں سمٹی ۔ وہ قمر کو دیکھنے سے گریز کر رہی تھی ۔

” اتنے حسین موسم میں بچ رہی ہیں مجھ سے ؟ ” ہلکے سے قہقہے سے پوچھا ۔

عنابیہ کو اس کی سانسیں خود پر محسوس ہو رہی تھیں ۔ اس کی ہتھیلیاں بھیگ رہی تھیں ۔

” میری قربت میرا حق ہے عنا ۔۔۔۔ جیسے آپ کا مجھ پر ” اس کی تھوڑی سے چہرہ اونچا کیا ۔

“پلیز ۔۔۔ ا۔۔۔ ایسے پاس نا آئیں ” اس کے ہاتھوں کو با مشکل خود سے دور کیا ۔ آنکھوں کے کونے بھیگ گئے تھے

” کیوں ؟ ۔۔۔ میں آپ سے محبت کرتا ہوں ۔۔۔۔ “

” لیکن میں نہیں کرتی ” اس کی بات درمیان سے اچکتی بولی ۔

قمر گم صم اسے دیکھنے لگا جو نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔

” نہیں برداشت ہوتا آپ کا ایسے پاس آنا ” چہرہ موڑتے سنجیدگی سے کہا ۔

قمر نے اس کا چہرہ اپنی جانب کیا ۔

” آپ کو مجھسے محبت نہیں ہو سکتی کیا ؟ ” اسکے چہرے کے گرد ہاتھوں کا پیالہ بنا کر منت سے پوچھا ۔ کتنا مان تھا کتنی چاہت تهی اس کی آنکھوں میں ۔

” نہیں ” صاف انکار ہوا ۔ کیسے جھوٹا دلاسہ دیتی ۔

” میری قربت پر دل میں کچھ بھی نہیں ہو رہا کیا ؟ ” پھر سے گھمگھیر آواز سے پوچھا ۔

عنابیہ نے زور سے آنکھیں میچ لیں ۔ اس کا تنفس اس کا نہیں رہا تھا کیسے بتا دیتی اس کو ۔

” اس دل میں سائیں کے علاوہ کسی کا اثر نہیں ہوا۔۔قمر۔۔۔ چھوڑ دیجیے ہمیں ” اس ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھ کر کہا ۔ آنکھوں میں درد تھا ۔ ایک یاد فلم کی طرح آنکھوں میں گھوم گئ تھی ۔

” آپ اس دل میں بس گئ ہیں ۔ زندگی میں شامل کیا ہے آپ کو ۔ نا ممکن ہے جو آپ نے کہا ” اس کی آنکھوں میں سرخی آ گئ تھی ۔ وہ انجان نہیں تھا اس کے ماضی سے لیکن یہ بھی برداشت نہیں تھا کہ وہ کسی اور کے کیے اس سے دور جائے ۔

“یہ جان کر بھی ۔۔ کہ میں آپ سے محبت نہیں کرتی؟”اس نے چڑ کر کہا ۔ اس کا پاس رہنا سانس لینے نہیں دے رہا تھا ۔

“عشق میں بدلے کی خواہش نہیں ہوتی ۔۔۔ یہ بس کیا جاتا ہے ۔۔ بدلے میں ویسا مل جائے ۔۔۔ تو نعمتِ خداوندی ہے” اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا اور ماتھے پر بوسہ دیا ۔

اس کے لمس میں ہمیشہ کی طرح مان تھا اور سکون بھی ۔

” عنابیہ ۔۔۔ آپ میری محبت ہیں ۔۔۔ میرا غرور ہیں ۔۔ میں آپ کو آپ کی مرضی کے بنا کچھ نہیں کروں گا ۔۔۔۔ لیکن مجھ پر بھروسہ کریں ۔۔۔ اس بات پر یقین کر لیں کہ آپ میری ہیں کیونکہ آپ کو دور کرنا میرے بس میں نہیں ۔۔۔ اور شکر ادا کریں کہ اللّٰه نے آپ جو مجھے سونپا ۔۔۔۔ اگر کوئی اور ہوتا میری جگہ تو ؟ …. تو شائد ۔۔۔ آپ کی اجازت کے انتظار میں نا ہوتا ” اس ے چہرے کو والہانہ نظروں سے دیکھ کر وہ آئینہ دکھا گیا تھا ۔

عنابیہ نے اسے دیکھا جس نے سچ کہا تھا ۔ یہ حقیقت تصور کرتے ہی اسے خوف محسوس ہوا ۔ اگر ابھی وہ قمر کے نکاح میں نا ہوتی اور وہاب کوئی درندہ صفت انسان ہوتا تو اب تک اس کی آبرو نہیں محفؤط ہونی تھی ۔ بلکہ نکاح کی بھی شائد وہ ضرورت نا محسوس کرتے ۔ اس کا دل خوف سے لرز گیا ۔

وہ مسکرا کر دور ہوا اور پلٹا لیکن عنابیہ نے کانپتے ہاتھوں سے اس کی کلائی پکڑی ۔

وہ اس کے ہاتھ کو دیکھتا اس کی طرف مڑا ۔

عنابیہ نے آگے ہو کر اس کے سینے پر سر رکھ دیا ۔

قمع کے لب مسکرائے ۔ دھیرے سے اس کے گرد باہیں کر دیں ۔

” مجھے بس ۔۔۔ تھوڑا سا وقت دے دیں ۔۔۔۔ میرے لیے ۔۔۔ عام روٹین میں سب سنبھالنا مشکل ہے ” اس کے کمر کے گرد حصار باندھے نم لہجے سے کہا ۔



” عنابیہ آپ کی خواہشیں ۔۔۔ آپ کی فکر ۔۔۔ آپ کی اجازت ۔۔۔ سب سر آنکھوں پر ۔۔۔ اس کی فکر نا کریں ” آسودگی سے اس کے سر پر بوسہ دیتے کہا ۔

” بارش رکتی ہے تو ہم چلیں گے مال ۔۔۔ شوپنگ کرنے ۔۔ اوکے ₹ اس کے چہرے کو سامنے کرتے کہا ۔

عنابیہ نے نظریں جھکائے سر ہلایا ۔

” آپ کا مجھ پر حق ہے ۔۔۔ ایسے شرمندہ کیوں ہو رہی ہیں ” اس کی جھکی نظروں پر پیار کرتے کہا تو وہ اور شرم سے سرخ ہو گئ ۔

اسے پزل کر گیا تھا قمر کے سینے سے لگنا ۔

 

 

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Read haveli based Novelsaaiyaan , Urdu novel at this website Novelsnagri.com for more Online Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit this website and give your reviews on this Website. you can also visit our facebook page for more content Novelsnagri ebook

Leave a Comment

Your email address will not be published.