Web Special Novel, Haveli Based Novel, Romantic Novel

Haveli Based Novel, Tu Mera Sanam, Epi 2

Haveli Based Novel Tu Mera Sanam By Areeba Afzal Haweli Based Novel, Episode 2

Web Site: Novelsnagri.com
Category: Web special novel 
Haveli Based Novel, Tu Mera Sanam ,

#قسط_نمبر_2

وہ مکمل تیار تھی اس کے حسن کو دیکھتے رانی بائی حیران تھی وہ نازک کلی کسی کا بھی دل موہ سکتی تھی مگر اس کی اداس آنکھوں نے جیسے ماحول کو اداس کر دیا تھا رانی بائی اسے باہر آنے کا بولتی خود باہر چلی گئی اس نے ایک نظر اپنے عکس ہو آئینے میں دیکھا آنکھوں میں کاجل مگر دکھ کی آمیزش ، لبوں پر ریڈ لپ اسٹک مگر سسکتے ہونٹ ، گالوں میں لالی تھی مگر آنسوؤں کی لکیریں چھپائی گئی تھی بالوں میں گجرے تھے مگر خوشبو کسی چیز کی بھی اس سے کوسوں دور تھی اذیت کا سمندر اس کے اندر آباد تھا

وہ پاؤں میں پائل باندھے باہر کی جانب گئی پائل کی چھن چھن آواز نے باہر بیٹھے جابر انسان کو سر اٹھانے پر مجبور کیا دل پھتر کا ہو گیا اس نے فوراً سر جھکایا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

وہ آہستہ سے باہر آئی سامنے کا منظر دیکھ حیرانی سے آنکھیں پٹپٹائی سامنے صرف ایک انسان تھا جس کی بدولت وہ یہاں موجود تھی ایسی جگہ جہاں کوئی لڑکی کبھی نا آنا چاہے جیسے سوچ کر بھی روح پر وار ہو وہ اپنی مرضی سے یہاں تھی مگر مرضی بھی کہاں اس کی تھی ۔۔۔۔ اس کی ہر شے کسی کی غلام تھی ۔۔۔۔۔!!

زمیل نے سر اٹھا لیا تھا جیسے باہر بارش کا موسم بنا آسمان پر بجلی سی چمکی اور تیز دھار جیسے روحی کے دل پر لگی ہو اس نے حیران چہرے سے سامنے بیٹھے شخص کو دیکھا وہ مرنا پسند کر سکتی تھی مگر اس کے سامنے

ایسی حالت میں اپنی توہین ہرگز نہیں ۔۔۔۔ کبھی بھی نہیں ۔۔۔۔۔!! آنسوؤں کا گولہ حلق میں اٹک گیا آہستہ سے زمیل فاسق خان نے چہرے پر مسکراہٹ کھینچی اس کی چمکتی آنکھیں روحی کو کسی بھیڑیے کی مانند لگی تھی ۔۔۔بارش زور پکڑ چکی تھی جبکہ اندر دو دلوں میں طوفان تھا سب کچھ بہا لینے والا طوفان 
“رقص شروع کیا جائے ۔۔۔۔!”وہ ڈھیٹ بنا ستم کی آخری حد پر پاؤں رکھتا بولا اس کی ذات کے پرخچے اڑاتے ہوئے بھی اس کی چہرے پر دلفریب مسکراہٹ تھی 

روحی نے رانی بائی کی جانب دیکھتے نفی میں سر ہلایا رانی بائی نے خان کی جانب دیکھا تھا ماحول اچانک بدل گیا تھا اس کے بس میں نہیں تھا اس انسان کا سامنا کر پانا جس سے بھاگ کر وہ یہاں آئی تھی رانی بائی کی گھوریوں پر اس نے خود کو مظبوط کیا تھا 

“ہیرا رقص شروع کرو” رانی بائی کی آواز گونجی تو ایک پل کو زمیل کو ساکت کر گئی وہ اس پر اٹک گیا تھا جیسے اسے بلایا گیا تھا “ہیرا” آہ ۔۔۔۔۔!!

ٹوٹے دل کے ٹکڑوں کو سمیٹ اس نے رقص شروع کیا تھا جبکہ زمیل فاسق کی نظریں اس سے ہٹ ہی نہیں رہی تھی وہ ایک پل کے لیے وہی کھو گیا تھا ۔۔۔۔

“تم اگر یو نہی نظریں ملاتے رہےمہکشی میرے در سے کہاں جائے گی ۔۔۔تم اگر یوں ہی نظریں ملاتے رہے ۔۔۔

مہکشی میرے در سے کہاں جائے گی اور یہ سلسلہ مستقل ہو تو پھر بے خودی میرے در سے کہاں جائے گی ۔۔۔

فقروں کے ساتھ ساتھ اس کا جسم بہت اچھے انداز میں محو رقص تھا وہ واقعی اس پر نظریں ٹکائے بیٹھا تھا ہاتھ میں پکڑا شیشے کا گلاس اور آنکھوں میں آئی سرخی نے زور پکڑا تھا وہ تصور کر کہ رہ گیا اگر یوں ہی آج وہ سب کے سامنے اس طرح رقص کرتی تو ۔۔۔۔ سوچ کر ہی اس کا دماغ ماؤف ہو گیا تھا دانت پیسے وہ یہ تک بھول گیا تھا کہ وہ جو آج یہاں تھی تو محض اس کی وجہ سے اگر اس کے اندر لاوا پھٹ رہا تھا تو سامنے رقص کرتی نازک لڑکی اس کی شکل تک نا دیکھنے سے انکاری تھی ۔۔

ایک زمانے کے بعد آئی ہے شامِ غم شام غم ِ میرے در سے کہاں جائے گی ۔۔میری قسمت میں ہے جو تمھاری کمی وہ کمی میرے در سے کہاں جائے گی ۔۔۔
ساز کی تال پر ناچتے اس کے قدم اب گھومنے لگے تھے جو طوفان کی طرح تیز رفتار پکڑ چکے تھے وہ گھومتے ہوئے سامنے بیٹھے بے حس انسان کے قدموں میں آ کر گری تھی رقص رک گیا تیز ہوا کے جھونکے کی بھر مار نے بھی سلگتی آنکھوں کو ٹھنڈا نہیں کیا تھا ہیرا نے سر اٹھا کر سامنے بیٹھے شخص کو دیکھا چھناک کی آواز سے گلاس ٹوٹتا زمین پر کئی ٹکڑے بکھیر گیا مگر خون کی لکیریں زمیل کے ہاتھوں کو بھگو گئی تھی  

رانی بائی جانے کا انتظام کرو ” وہ رانی بائی کی جانب خون آشام نظریں اٹھا کر بولا تھا رانی بائی نے جلدی سے ہامی بھری اور ہیرا کو اٹھا کر وہاں سے لے گئی جبکہ وہ پیچھے جیسے ہر چیز کو آگ لگانے کو تیار تھا ۔۔۔

“کہاں جانا ہے رانی بائی ” ہیرا جلدی سے بولی تھی اس کے ذہن میں عجیب سی چیزیں چل رہی تھی خطرے کی گھنٹی بجتی محسوس ہوئی تھی ۔۔۔

“زمیل فاسق کے ساتھ جاتا ہے تجھے “رانی بائی اسے ایک سادہ سا کپڑوں کا جوڑا تھما کر نارمل انداز میں بولی جبکہ اس کی بات سن ہیرا کے قدم وہی رک گے سر پر جیسے چھت آن گری ہو وہ اس انسان کے ساتھ جائے گی کیسے ۔۔۔؟  “میں نہیں جاؤں گی رانی بائی “وہ اٹکتے ہوئے لہجے میں بولی تھی اس کی آنکھوں سے ایک آنسو ٹوٹ کر زمین پر بے مول ہو گیا جیسے اس نے اپنی پاؤں میں پہنی جوتی رکھ کر توہین زدہ کر دیا تھا ۔۔۔۔۔۔

“کیا مطلب ہے تیرا ہاں کیوں نہیں جائے گی توں اب صرف تو میرا حکم مانے گی سمجھی پتہ کتنے پیسے مل رہے ہے تیرے چل خاموشی سے تیار ہو اگر تو اس کے ساتھ نا گئی تو کل آنے والے مردوں کے ساتھ کمرے میں چلی جانا خان فاسق کے ساتھ جائے گی تو صرف فاسق خان پی تیرے اوپر حکومت کرے گا اور اگر یہاں رہی تو ہر مرد تجھ پر حکومت کرے گا “رانی بائی کو پاسا الٹا ہوتا معلوم ہوا تو فوراً منہ سے آگ نکالتی ہیرا کو جانے کے لیے تیار کرنے لگی وہ خاموشی سے جا کر کپڑے تبدیل کر آئی واٹ فراک چوڑی دار پاجامہ پہنے اس نے وائٹ دوپٹہ کیا تھا

چہرہ دھل کر صاف ہو گیا مگر اس کا حسن کہی سے بھی ماند نا پڑا تھا رانی بائی نے سکون کا سانس لیا کہ چلو کم از کم وہ مان گئی ۔۔۔۔
“رانی بائی بھلے ہی لاکھوں لوگ میرے جسم پر حکومت کرے مگر اس ایک شخص کی نظریں مجھے میرے وجود پر نہیں چاہیے میں اس کے ساتھ نہیں جاؤں گی “وہ اٹل لہجے میں بولی اس کی نظروں میں جنون دیکھ رانی بائی نے لب بھینچے وہ باہر کی جانب چلی گئی تھی جہاں زمیل فاسق اس کا انتظار بے صبری سے کر رہا تھا مگر اسے رانی بائی کے ساتھ نا پا کر اس نے میٹھیاں بھینچی تھی ۔۔۔۔

“وہ بولتی ہے وہ دونوں کے ہر مرد کے ساتھ جانے کو تیار ہے مگر وہ تیرے ساتھ نہیں جائے گی ” رانی بائی نے اس کی وحشی لال انگارہ ہوتی نظروں سے کتراتے ہوئے کہا تھا جس پر وہ آنکھیں سختی سے میچ گیا تھا ۔۔۔

“رانی بائی یہ لاسٹ وارننگ ہے کسی بھی طرح پانچ منٹ میں اسے یہاں میرے سامنے حاضر کو میرے ساتھ چلنے کو بولو ورنہ یہاں موجود ہر لڑکی اس کی ضد کی بھینٹ چڑھے گی اور یہ زمیل فاسق خان کا وعدہ ہے “وہ غراتے ہوئے بولا کہ رانی بائی کو سانپ سونگھ گیا تھا وہ جلدی سے اندر گئی تھی 

“دیکھ ہیرا تیری وجہ سے وہ سب کو مار دے گا خان فاسق بہت خطرناک ہے تو اسے نہیں جانتی ہماری زندگی کیوں خطرے میں ڈالتی ہے چلی جا اس کے ساتھ “رانی بائی پہلی بار اتنی ہربڑاہٹ کا شکار تھی ہیرا تلخ سا مسکرائی تھی “پرانی عادت ہے اس کی رانی بائی جب کوئی اس کی بات نا مانے تو وہ یوں ہی ذلیل و رسواء کرتا ہے اور آپ کہتی ہے کہ میں اسے نہیں جانتی ؟ ہنہہہہ میں چلی جاتی ہوں مگر ہاں رانی بائی آپ جاننا

چاہتی تھی نا کہ میں یہاں اپنی مرضی سے کیوں آئی تو سنے زمیل فاسق خان کی نفرت ہے وہ وجہ “
وہ ٹھہر ٹھہر کر بولی تھی اس کے لفظوں میں الگ ہی تپش تھی وہ وہاں سے باہر کی جانب چلی گئی وہ جانتی تھی اگلا سفر اس کے لیے بے حد کٹھن ہو گا اسے باہر آتا دیکھ وہ طنزیہ مسکراتا آگے کی جانب چل پڑا جبکہ وہ اس کے پیچھے پیچھے ایک بار پھر سے چل پڑی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
______________________!!

وہ سیدھا آ کر گاڑی میں بیٹھا تھا ہیرا چلتی ہوئی آرام سے برابر والی سیٹ پر بیٹھ گئی مگر اس کے اندر جو پیش سامانیاں چل رہی تھی وہ چاہ کر بیان نہیں کر سکتی تھی اس وقت وہ دنیا کے مشکل ترین مرحلے میں تھی گاڑی سٹارٹ ہوئی اور اپنے سفر پر نکل گئی مگر وہ تو جیسے کہی تھم ہی گئی تھی ۔۔۔۔

“تو آخر تم ایک بار پھر میری دسترس میں ہو ” وہ گاڑی چلاتے ہوئے ایک گہری نظر ہیرا کے وجود پر ڈالتا نخوت سے بولا کہ ہیرا کا دل دو حصوں میں جیسے کٹ گیا تھا ۔۔۔”کیوں آئے تھے یہاں اور کیوں لے کر جا رہے ہو مجھے ” ہیرا سختی سے بولی تھی اسے ہرگز برداشت نا تھا اس کے ساتھ جانا ۔۔۔”قیمت لگی ہے تمھاری اب تم بھی میری خریدیں گئی چیزوں کے برابر ہو سمجھی تم سو یوں سوال جواب مت کروں مجھ سے جتنا پوچھوں گا اتنا جواب دو گی یہ بات یاد رکھنا ” 

وہ اس کی جانب پلٹتے سخت لہجے میں بولا تھا اس کی بات سن ہیرا کا چہرہ دھواں دھواں ہوا یعنی وہ ایک بار پھر سے رسوا ہو چکی تھی ۔۔۔”سچائی بیان کیوں نہیں کرتے خان فاسق کہ یہ دل نہیں لگ رہا تھا ہیرا کے بغیر یہاں طوفان برپا ہوا تھا میرے جانے کے بعد سب کیوں نہیں بولتے کاش خان فاسق کاش تم مجھے نا ڈھونڈ پاتے اور کل میں کسی درندے کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی پن جاتی “

وہ نفرت سے اسے دیکھتی بولی اس کا لہجہ زہر اگل رہا تھا زمیل نے جھٹکے سے گاڑی روکتے اپنا رک اس کی جانب کیا اور اس کے گھنے لمبے بالوں کو میٹھی میں جکڑا اس کی آنکھوں میں خون سوار تھا  “خبردار اگر تمھاری اس زبان سے اس قسم کی بکواس سنی تو کاٹ کر پھینک دوں گا اسے میں ۔

دل نہیں ہے میرے سینے میں پتھر ہے سمجھی تم اور ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ میں جو چاہو اسے حاصل نا کر سکوں سمجھی تم” وہ اس کا چہرہ خود کے قریب کرتے بولا تھا ہیرا کے منہ سے سسکی نکلی اور پھر آنسو اس کے حسین چہرے کو بھگو گے جبکہ اس کی گرم سانسوں کی لو دیتی تپش پر رہ اسے دیکھنے لگی تھی اس کی آنکھوں میں شکوہ تھا۔۔۔۔۔۔۔

وہ اسے جھٹکتا پھر سے گاڑی چلانے لگا تھا غصہ حد سے زیادہ تھا اس لیے سٹیرنگ پر گرفت مظبوط ہو گئی جبکہ ہیرا شیشے کے ساتھ لگی باہر ہوتی بارش کو دیکھ رہی تھی شاید آج موسم اس کے ساتھ غمگین تھا پانی کی بوندیں اسے اپنے غم کی ساتھی لگی تھیں ۔۔۔۔
_______________________!!
“بی اماں ایک بات پوچھوں ؟” وہ بالوں میں تیل لگاتی بی اماں کی جانب جاتے ہوئے سوچوں میں گم بولی “ہاں پوچھوں ” بی اماں نے کن انکھیوں سے اسے دیکھتے اثبات میں سر ہلاتے ساتھ اجازت دی تھی ۔۔۔

 

“یہ وجدان کی مما نے کیا کھا کر اسے پیدا کیا تھا “بی اماں جو دھیان سے اس کی بات سن رہی تھی اس کی اگلی بات سن کر بی اماں کے ہاتھ سے تیل نیچے زمین پر گر گیا انہوں نے گھور کر صنم کو دیکھا تھا جس پر وہ دانت دیکھانے لگی ۔۔۔

“حالانکہ میرا اس وقت دنیا میں نام و نشان نا تھا مگر میں بتا سکتی ہوں کیا کھایا ہو گا انہوں نے یقیناً کریلے کی سزی ، نیم کا شربت اور دنیا میں موجود ہر کڑوی چیز “وہ منہ بناتے ہوئے بولی تھی اس بات سے انجان کے وہ پیچھے پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے بڑی دلچسپی سے اس کی گوہر افشانیاں سن رہا تھا ۔۔۔۔

“اچھا اور کیا جانتی ہے تو وجدان کے بارے میں “بی اماں جو اسے ڈانٹنے والی تھی وجدان کو دیکھ کر لب دبا کر بولی تھی جس پر صنم آنکھیں گھوما گئی تھی 

“ہر وقت کسی فریزر میں رکھے باسی کھانے کی طرح سڑے ہی رہتے یہ نہیں ہے کہ انسان اچھے سے بات کر لے حکم چلانا آتا ہے بس کیوں مجھ پر حکم چلاتے رہے ہے اللہ کر کہ انہیں ایسی بیوی ملے جو روز پانچ چھڑیاں صبح اور پانچ شام کو لگائے ” صنم ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہنس کر بولی تھی بی اماں نے سر پر ہاتھ مارا اور اس کی قسمت پر افسوس کیا اس سے زیادہ تو انہیں وجی کی قسمت پر افسوس ہو رہا تھا ۔۔

“اور کیا آنا چاہیے میری بیوی کو “وہ سنجیدہ آواز میں بولا تھا صنم کی ہنسی کو بریک لگ گیا اس نے آہستہ سے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وجدان اس کے سامنے ہی کھڑا تھا آنکھوں میں جھٹ سے معصومیت لائی تھی اس نے ۔۔۔۔
“کافی دے کر جاؤ میرے کمرے میں ” وہ حکم صادر کرتا اندر چلا گیا جبکہ اس کے بالوں کی آواز صنم کو اپنے کانوں میں سنائی دی تھی ساتھ ہی دل نے رفتار پکڑی تھی ۔۔۔۔۔

وہ بی اماں کی جانب دیکھنے لگی جن کی ہنسی ہی مرالی تھی پیر پٹختی وہ کچن میں چلی گئی تھی کچھ دیر بعد وہ ڈرتے ہوئے کافی دینے گئی اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے دروازہ نوک کرتے ہے اندر سے کم آن کی آواز پر وہ تھوک نگلتی اندر چلی گئی تھی ۔۔۔۔

ٹیبل ہر کافی رکھی اور آہستہ سے قدم باہر کی جانب بڑھائے دل تیری سے دھڑک رہا تھا کہ کہی عزت افزائی نا ہو جائے ۔۔۔
“رکو۔۔۔” وہ چئیر پر بیٹھا سنجیدہ آواز میں بولا تھا اس کی آواز میں چھپے سرد پن سے صنم سہمتی ہوئی وہی رک گئی تھی ۔۔۔
“واپس آؤ” اسے وہی کھڑا دیکھ وہ ذرا سختی سے بولا تھا جس پر صنم کی دھڑکنیں بے قابو ہوئی وہ کشمکش کا شکار ہوتی پیچھے کی جانب پلٹی تھی پھر اس کی چئیر کے سامنے کھڑی ہو گئی جب وجدان نے ہاتھ بڑھا کر اس کے نازک وجود کو خود پر گراتے حصار قائم کیا تھا ۔۔۔
“کیا میں نے اجازت دی تھی تمھیں جانے کی ” وہ اس کے بالوں کی لٹ کو کان کے پیچھے ذرا بے رحمی سے اڑھستے بولا کہ صنم سسک کر رہ گئی وجدان کہ چہرے پر دلفریب مسکراہٹ ابھری تھی ۔۔۔
“آپ۔ی۔یہ ۔ک۔کیسی ۔ب۔باتیں کر رہے ہے ” وہ آنکھوں میں معصومیت بھرے بولی اس کا رواں رواں کانپ اٹھا تھا وجدان کے سرد ہاتھوں کا لمس اسی اپنی کمر پر محسوس ہوا وہی اس کی گرم سانسیں اپنے چہرے پر پڑھتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔
“جیسے باتیں مجھے تم سے کرنی چاہیے کم از کم ویسی تو نہیں کر رہا ” وہ آنکھوں میں خمار بھرے بولا تھا اس کی نظریں صنم کے چہرے پر ٹکی ہوئی تھی جبکہ اس کی بات پر صنم ششدر رہ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
“ویسے تم جانتی ہو صنم ہمارے درمیان کیسی باتیں ہونی چاہیے۔” وہ آہستہ سے جھکتے ہوئے اس کے گال کو آہستہ سے اپنے لبوں سے چھو کر بولا کہ اس کی اس حرکت پر صنم کی آنکھیں پھیل گئی تھی وہ اس کی بے باکی پر حیران رہ گئی ۔۔۔
“بالکل ویسی جیسی ایک بیگم اور شوہر میں ہونی چاہیے” وہ اس کے کان کے قریب جھکتے پر تپش لمس چھوڑتا بولا تھا اس کی بات پر صنم کے جسم میں سرسراہٹ سی دوڑ گئی تھی اس نے وجدان کی جانب اچھنبے سے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔
“ی۔یہ۔ک۔کیا کہہ رہے ہے آپ “وہ حیرت سے اس کی جانب دیکھتی ہوئی بولی تھی نازک لب اس کی بات پر کپکپا اٹھے تھے جبکہ وہ بالوں میں ہاتھ دیے اس کا چہرہ خود کے مزید قریب کر گیا تھا 
“درست کہہ رہا ہوں مسز وجدان راجپوت” وہ ہولے سے اپنے لبوں سے اس کے نازک ہونٹوں کو چھوتا بولا تھا جس پر کانپ اٹھی تھی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی کچھ سمجھ ہی نہیں آیا تھا ۔۔۔
“آئی لائک اٹ تمھاری آنکھوں میں جو میرے لیے خوف ہے نا مجھے پسند ہے ” وہ لفظوں میں خمار بھرے بولا اس کے لب صنم کی گال ہر ثبت ہوئے تھے وہ کچھ لمحے ایسے ہی ٹھہرا رہا تھا کمرے میں معنی خیز خاموشی تھی جبکہ صنم کی سانسیں تیز تر ہو گئی تھی ۔۔۔
“جاؤ بی اماں سے تفصیل حاصل کرو ” وہ اسے خود کے شکنجے سے رہائی دیتا بولا تھا صنم سہمتے ہوئے وہاں سے فورآ غائب ہوئی تو وہ بالوں میں انگلیاں پھنسا کر رہ گیا تھا ۔۔۔
_______________________!!
“کل والی جھانسے کی رانی “مہروز نے طنزیہ کہتے افان کا دھیان اس جانب مبذول کیا وہ جو پہلے ہی بیزار ب بیٹھا تھا مہروز نے جلتی پر تیل کا کام کیا تھا ۔۔۔

وہ اٹھا اور چلتا ہوا ان کی چئیر کے سامنے چئیر گھسیٹ کر بیٹھ گیا تھا ۔۔۔گردن ایک سائیڈ پر کیے وہ اس کے ہر نقش کا جائزہ لے رہا تھا لیزا اور افرا نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا ۔۔۔لیزا بغیر کچھ بولے گہرا سانس ہوا کے سپرد کرتی وہاں سے جانے لگی جب اس کی کڑکتی آواز نے انہیں وہی روک لیا ۔۔۔”اب بھاگنے کا کیا فائدہ لڑکی اب تو افان کی نظروں میں آ گئی ہو تم ہنسی آتی ہے مجھے تم پر کیسے بچو گی تم افان راجپوت کے تاب سے

“وہ طنزیہ ہنستے ٹانگ پر ٹانگ چڑھاتے ہوئے بولا تھا لیزا کا چہرہ آخر ہوا وہی افرا نے فکر مندی سے اسے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
“یہی ہنسی تمھیں نہیں لگتا تمھیں خود پر آنی چاہیے دوسروں پر نظر رکھتے ہو کہی پہرے دار تو نہیں “وہ کس طرح خود کی توہین برداشت کر سکتی تھی تبھی سینے پر ہاتھ باندھی اگلے انسان کی بنیادیں ہلاتی بولی تھی افان نے دانت کچکائے دوسری بار لیزا نے اس کی انا پر وار کیا تھا ۔۔۔۔

“لڑکی زبان سمبھال کر بات کرو ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا یہ نا ہو تمھاری چلتی زبان تمھیں اس یونیورسٹی سے باہر دھکیل دے “وہ انگلی اٹھا کر طیش کے عالم میں گرجدار آواز کے ساتھ بولا کہ ایک پل کو لیزا یونیورسٹی سے نکالے جانے پر سناٹوں کی زد میں آ گئی پہلے ہی ممانی مشکل سے پڑھنے دیتی تھی ایسے میں اگر کوئی شکایت گھر جاتی تو نجانے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ۔۔۔۔

“تمھاری اتنی اوقات نہیں ہے کہ تم افان سے لڑ سکوں یہ نا ہو اسی چکر میں کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نا رہوں”وہ شدید غصے میں غرایا تھا اپنی انا پر وار کہاں برداشت تھا اسے کنٹین میں بیٹھے لوگ بڑی دلچسپی سے یہ منظر دیکھ رہے تھے لیزا کا چہرہ سرخ ہوا تھا ۔۔۔۔۔

وہ بغیر کچھ بولے ایک نظر افان کو دیکھتی وہاں سے چلی گئی اگر وہ کسی امیر گھرانے میں پیدا ہوئی ہوتی تو افان کا وہ حال کرتی کہ ساری یونیورسٹی دیکھتی مگر غریبی کبھی کبھی ہماری زبان پر بھی قفل لگا دیا کرتی ہے ۔۔۔
_______________________!!

“ڈاکٹر نین کہاں ہے ؟” وہ ایک نرس سے پوچھ رہا تھا نظریں بے چینی سے اس کے چہرے کے دیدار کے لیے تڑپ رہی تھی ۔۔
“ڈاکٹر تو چھٹی پر ہے وہ دو دن سے ہاسپٹل نہیں آئی “نرس اسے دیکھتی ڈرتے ہوئے بولی تھی اس دن نین اور اس میں ہونے والی گفتگو وہ اچھے سے سن چکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔

“ہمممم ایڈریس کیا ہے ان کا ” وہ دھیمی آواز میں بولا مگر اس کے لفظوں میں کچھ تو تھا کہ نرس سے بولا ہی نا گیا وہ کیسے بتاتی کہ نین نے منع کیا تھا کہ اس کا ایڈریس کسی کو نا دیا جائے ۔۔۔
“سنا نہیں تم نے کچھ پوچھ رہا ہوں میں ” مہاویر دانت پیستے ہوئے بولا تو نرس نے جلدی سے اسے ایڈریس بتا دیا جس پر وہ ہلکا سا مسکرایا ۔۔۔
وہ وہاں سے سیدھا ایک محلے کی جانب گیا تھا چھوٹے گھروں میں وہ گھر اسے نظر آ گیا جس کی اسے تلاش تھی

اس کے ساتھ اس وقت راجو تھا جو خاموشی سے چل رہا تھا اس کی حفاظت کے لیے ۔۔۔۔
اس نے سنجیدگی سے دروازہ کھٹکھٹایا تھا کچھ دیر بعد ہی دروازہ کھل گیا ۔۔۔نین سامنے اسے دیکھ حیران رہ گئی اس نے سوچا نا تھا کہ وہ یہاں بھی آن پہنچے گا چہرہ سچی پڑنے لگا تھا جبکہ وہ اندر داخل ہو گیا ۔۔۔

“یہاں کیا کر رہے ہو تم ” وہ تقریباً چینختی ہوئی بولی تھی ۔۔۔۔”مرہم لگوانے آیا ہوں ” جتنی بلند آواز نین کی تھی اتنی ہی دھیمی اور سکون آمیز آواز میں مہاویر نے اسے جواب دیا تھا ۔۔۔۔

“مجھے نہیں لگانا سمجھے تم جاؤ باہر نکلوں یہاں سے میں یہاں کوئی ڈاکٹر نہیں ہوں ” پہلے ہی وہ خوف کی وجہ سے اس گھر میں مقیم تھی ہر پل اسے خوف ستائے رکھتا تھا اور اب یہ ایک نئی مصیبت اس نے باہر کی جانب انگلی کیے اشارہ کیا تھا ۔۔۔

“دیکھ میرے کو کچھ نہیں سننا چل سیدھی بات پہ آتا ہے مجھ کو تیرے سے محبت ہو گئی ہے وہ کیا بولتے ہے اسے ہاں لو مجھے تیرے سے لو ہو گیا ہے زیادہ بھاؤ نا کھا اور شادی رچا لے مجھ سے “مہاویر اسے دیکھتے بولا مہاویر کے چہرے پر خوشی جھلک گئی جبکہ نین اس کی ایسی باتیں سن صدمے میں تھی وہ تو اس کی زبان سن کر بھی شاک میں تھی کس طرح وہ بات کر رہا تھا وہ غنڈا ہی لگا تھا ۔۔۔

“شٹ اپ جسٹ شٹ اپ سمجھتے کیا ہو خود کو یوں روز روز میرے پاس اپنے زخم کے کر آؤ گے تو مجھے تم سے پیار ہو جائے گا وہ میرا فرض ہے سمجھے تم ۔ تم جیسے موالی سے میں ہرگز شادی نہیں کروں گی اب نکلوں یہاں سے ورنہ پولیس کو فون کر دوں گی “

نین چینخ کر بولی تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا پاس پڑی اینٹ اٹھا کر اس کے سر دے مارے سفید چہرہ پل میں سرخ ہوا تھا ۔۔۔
“ابے مجھ کو سمجھتی کیا ہے کب سے تیری ہی چپڑ چپڑ سنے جا رہا ہے میں ایسے کیسے شادی نہیں کرے گی اور غنڈا کس کو بولی ڈان ہے میں ایک اشارہ اور سارے موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں “

وہ اسے انگلی دیکھاتا ہوا بولا کب سے وہ نازک لڑکی اس کی بے عزتی ہی کیے جا رہی تھی جس سے ہر دشمن خیر کھاتا تھا 

“ڈان ہنہہہہ۔ شیر کی کھال اوڑھ لینے سے کتا شیر نہیں بن جاتا بالکل ایسی طرح مہنگے کپڑے پہن لینے سے تم ہائی کلاس نہیں بن جاؤں گے سمجھے تم رہوں گے تم سڑک چھاپ ہی اپنی زبان دیکھو ڈرتے ہو گے بڑے بڑے لوگ تم سے مگر افسوس میں نہیں ڈرتی اب نکلو یہاں سے “وہ اسے نازک ہاتھوں سے دھکا دیتے ہوئے بولی تھی مہاویر کے صبر کی انتہا ہوئی تھی اس نے غصے سے میٹھیاں

بھینچی تھی ۔۔۔
“دیکھ تین دن کا وقت دیتا ہے تجھ کو میں آرام سے مان جا ورنہ برا تو میں پہلے ہی بہت ہوں “وہ آنکھوں میں طیش لیے بولا تھا نین کی ریڈھ کی ہڈی میں سنساہٹ سی دوڑ گئی تھی وہ وہاں سے چلا گیا تھا جبکہ نین

فورا اندر کی جانب بھاگی تھی ۔۔۔
“بابا کچھ نہیں ہوا وہ باہر ایک فقیر تھا خوامخواہ ہی اندر گھسا آ رہا تگا میں نے بھی خوب باتیں سنا کہ اسے باہر بھیج دیا “وہ بیڈ پر لیٹے اپنے باپ کو سمجھتے ہوئے بولی جو آنکھوں کے اشارے سے اس سے پوچھ رہے تھے ان کی حالت دیکھ کر نین کا دل پھٹنے لگتا تھا نا وہ بول سکتے تھے نا چل سکتے تھے اس درد بھری دنیا میں وہ

اکیلے ہی ایسے تھے جو نین کا سہارا تھا اور وہ بھی ایسی حالت کو پہنچ گے تھے ۔۔۔
“بابا میں قسم کھاتی ہوں جس کی وجہ سے یہ سب ہوا ہے چھوڑوں گی نہیں میں اسے جس راز کے لیے آپ نے اپنی یہ حالت کر لی وہ ہمیشہ میرے سینے میں دفن رہے گا جب تک کہ کوئی قابلِ بھروسہ انسان نا مل جائے “
وہ اپنے بابا کے ہاتوں میں اپنا ہاتوں لیتی بولی تھی اس کے آنکھوں سے آنسو گر کر ان کے ہاتھ پر گرے تھے وہ ان کے سامنے کمزور نہیں بننا چاہتی تھی نا ہی رونا چاہتی تھی مگر وہ کیا کرتی ان زخموں کا جو اس کے وجود پر لگے تھے جو ابھی تک چھبن کا شکار تھے جن کی مرہم وہ خود نہیں کر پا رہی تھی ۔۔۔۔

___________________!!
جاری ہے ۔۔۔

ناول نگری میں ہر نئے پرانے لکھاری کی پہچان، ان کی اپنی تحریر کردہ ناول ہیں۔ ناول نگری ادب والوں کی پہچان ہے۔ ناول نگری ہمہ قسم کے ناول پر مشتمل ویب سائٹ ہے جو عمدہ اور دل کو خوش کردینے والے ناول مہیا کرتی ہے۔ناول کا ریوئیو دینے کیلئے نیچے کمنٹ کریں یا پھر ہماری ویب سائیٹ پر میل کریں۔

novelsnagri786@gmail.com

Read Haveli Based Novel at  Novelsnagri.com for more Online Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit this website and give your reviews. you can also visit our Facebook page for more content Novelsnagri ebooks.

3 thoughts on “Haveli Based Novel, Tu Mera Sanam, Epi 2”

  1. #Zawish Sahir Sain 😎😎
    Zaberdast API g 👌👌 super 💖💖 ap nay is novel ko complete karna hai or phr hi is ki ap nay jan chorni hai keep it up 🥰🥰🥰🥰 and best of luck 🤞🤞🤞

Leave a Comment

Your email address will not be published.