Web Special Novel, haveli based novel, urdu novel,

haveli based novel, urdu novel, saaiyaan episode 4

haveli based urdu novel, urdu novels, saaiyaan based on forced marriage, revenge based & novel is full of emotions, romance, suspense & thrill, Story of a girl who wants to follow the society style.Novel written by Bisma Bhatti.

Web Special Novel, haveli based novel, urdu novel,

 

#سیاں

#از_قلم_بسما_بھٹی

#قسط_04

💛مجھے اک بات کہنے دو، مجھے تم سے محبت💛
 💛ہے ہمیشہ ساتھ رہنے دو، مجھے تم سے محبت ہے💛
وہ یک ٹک پھولوں کو دیکھ رہی تھی ۔دماغ میں صبح ہوئی احسام سے ملاقات تکلیف دے رہی تھی ۔اس کی ساری سوچوں پر اس نے پانی پھیڑ دیا تھا ۔کیا یہ غم کم تھا کہ اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ سامنے کھڑی لڑکی کون ہت !یعنی کبھی زحمت ہی نہیں کی اپنی منگیتر کی تصویر دیکھنے کی۔ ایک وہ تھی پاگل۔جو روز رات کو سونے سے پہلے اسے سوچتی کئی کئی دیر اسکی تصویر کو فیسبک سے نکال کر دیکھتی رہتی اور یہ سوچتی کہ احسام بھی ایسے ہی اس کے انتِار میں ہو گا اس سے محبت کرتا ہو گا۔
مگر یہاں توکایا ہی پلٹ گئ تھی ۔
🔥سنو جاناں ،کہتے ہیں🔥
🔥کسی کی عادت ہو جاتا🔥
🔥محبت ہونے سے ابتر ہے🔥
🔥کہ محبت ہو جائے تو🔥
🔥صبر آ ہی جاتا ہے🔥
🔥مگر عادت ہو جائے تو🔥
🔥یاد میں دن بھر ستاتی ہیں🔥
🔥روح میں پنجے گاڑھتی ہیں🔥
🔥راتوں کو روز رلاتی ہیں🔥
🔥سن اے مری جاں لوٹ آ🔥
🔥کہ مجھے تری عادت ہو گئی ہے🔥
“آپ کون؟”اس کی محویت کسی لڑکی کی آواز پر ٹوٹی
سر گھما کر پیچھے دیکھا تو ملیحا کھڑی تھی۔
ماہم نے بغور اسکا پہناوا دیکھا۔
بلیک فراک جو گھٹنوں تک تھا نیچے کھلی شلوار پاؤں میں عام گھر والی چپل اور سر پر لیا گیا دوپٹہ بال تک نظر نہیں آ رہے تھے یقیناً اسے جوڑے یا پونی میں قید کیا گیا تھا ۔اور دوپٹہ کم چادر زیادہ لگ رہی تھی جتنیآگے سے وہ پیٹتک آیا ہوا تھا اتنی ہی چوڑائی سے پیچھے کمر تک تھا۔
دوپٹے کا ایک حصہ چہرے کی طرف سے باتھ میں پکڑا تھا ۔یعنی اگر کوئی مرد آ جائے تو فوراً سے اس دوپٹے کے حصے کو چہرے پر کر لیا جاتا تھا ۔
“ماہمممم!؟”ملیحہ نے اسے پہچانتے خوشی سے پکارا اور اسکی طرف بڑھی۔
ماہم ہلکی سی مسکان سے اٹھ کر اسکےگلےلگی۔
“تم کب آئی؟مجھے بتایا بھی نہیں ! او مائی گاڈ میں کتنء خوش ہوں”وہ اسکے گلےلگی خوشی سے چہک رہی تھی۔
دونوں ہم عمر بھی تھیں اور بہت اچھی دوستیں بھی ۔کزنز کم تھیں۔عنابیہ اور زمر سے زیادہ ملیحہ سےماہم کی اچھی دوستی تھی۔
ماہم کا دل مرجھایا ہوا تھا وہ کیا چہک کر اس کا جواب دیتی اسے تو ملیحہ میں بھی احسام کی جھلک نظر آ رہی تھی ۔
“دوپہر میں آے ہم”ماہم نے مصنوعی مسکان سے کہا
“مجھے گھر ہونا چاہیے تھا ۔۔۔میں یونیورسٹی سے لیٹ آئی پھر سو گئ آ کر۔۔پتہ ہوتا تو لیکچر چھوڑ دیتی تمہارے لیے”ملیحہ اسکے گلے لگتے دوبارہ سے کہا اسکی خوشی دیدنی تھی ۔
“کوئی بات ہے کیا ماہم!”ملیحہ نے اسکی چپ چپ صورت کو دیکھتے کہا
“سب ٹھیک ہے بابا”ماہم نے ہنستے کہا اور اسے لیے کرسی پر بیٹھ گئ۔
ملیحہ نے زیادہ نوٹس نہیں لیا اسکی خوشی کی انتہاء تھی کہ اسکی خاص دوست اسکے پاس ہے۔
“بھائی سے ملی!” ملیحہ. ے اسے چھیڑنے کیلیے کہا۔
اب اتنامزاق تو وہ کرتی ہی تھیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ شادی سے پہلے نہیں ملا جاتا پھر بھی تنگ کرتی ایک دوسرے کو۔
“میریچھوڑو۔۔ تم بتاؤ۔۔ زامل بھائی سے نہیں ملی کیا!؟” ماہم نے فوراً سے بات کو اس پر ڈال دیا۔کیونکہ ملیحہ دوپہر کے ہنگامے سے نا واقف تھی ۔اور حویلی میں اس سے بھلا کون بتاتا۔
زامل کے نام ہر سرخ اناری ہو گئی اور امٹ سی گئ اپنی جگہ۔
“و اللّٰه یہ سرخ سرخ گال یہ شرمیں۔۔ ہایے مار ڈالا ظالم اس ادا نے”ماہم نے اسکے گال ہر چٹکی کاٹتے ہنستے چھیڑا۔۔
“تم باز آؤ ۔۔ مجھے پتہ ہےوہ نہیں آئے ہیں تم بس مجھے تنگ کر رہی ہو”ملیحہ نے اسکے بازو پر تپھر مارتے کہا۔زامل کا نام ہی اسے سمٹ جانے پر مجبور کر رہا تھا ۔
“لو۔۔۔کس نے کہہ دیا نہیں آئے؟؟ وہ تو مجھسے بھی زیادہ شدائی ہوے تھے آنے کیلیے”ماہم نے اپنی طرف سے بہت ہیوی قسم کی چھوڑی۔
ملیحہ سرخ پڑتی حیرت سےماہم کو دیکھنے لگی۔جیسے یقین نا آ رہا ہو
“یقین نہیں آ رہا کیا!” ماہم نے آنکھیں پٹپٹاتے کہا۔
ملیحہ نے دھیمی مسکان سے انکار میں سر ہلایا
“چلو آؤ سامنے سے خودی پوچھ لینا”ماہم نے اسکا ابزو کھینچتے کیا۔۔
“ہائے۔۔ نا۔۔۔ بے شرم بدتمیز” فوراً سے ملیحہ نے اہنا بازو کھینچا اور دو القابات سے اسےنوازا۔
ماہم کا قہقہہ لگ گیا۔
۔”سیف بھائی” گاڑی جیسے ہی اندر داخل ہوئی تو ملیحہ نے فوراً سے چہرے کے آگے دوپٹہ کرتے ماہم کو تنبیہہ کی
ماہم نے گردن موڑ کر گاڑی کی طرف دیکھا
“ماہم منہ ڈھانپو”ملیحہ نے دانت پیسے۔
ماہم نے شکل دیکھنی چاہی کہ آخر کون ہے یہ حویلی کا ۔
“ملیحہ کون ہے یہ!”ماہم نے سیف کو دیکھتے کہا
“سیف بھائی ہیں ۔۔ منہ چھپاؤ اپنا “ملیحہ نے پھر سے دانت پیستے کہا
ماہم نے گردن موڑ کر ملیحہ کو دیکھا پھر پلٹ کر گاڑی کی طرف دیکھا جس میں سے اب سیف نکل رہا تھا ۔
اسےماننا پڑا کہ حویلی کے بیٹے سچ میں بڑے حسین اور خوبرو ہیں ۔احسام کے بعد اسے سیف کی پرسنلٹی بڑی کمال کی لگی۔
اس سے پہلے وہ گلے میں لیے دوپٹے کو سر پر لیتی اسے احسام آیا دکھائی دیا جو اندر سے آ رہا تھا یقیناً اسے باہر کہیں جانا تھا ۔
احسام کو دیکھ کر اسے دوپہر میں ہوئی ساری باتیں یاد آ گئیں۔حلق تک اسکا کڑوا ہو گیا۔
“چلو انٹرو کرتے ہیں”ماہم نے شاطرانی مسکراہٹ سے کہا۔
ملیحہ نے چونک کر اسے دیکھا جو دوپٹے کو گلے میں ڈالے سیف سے ملنے کیلیے اٹھ رہی تھی ۔
“ماہم۔۔ ماااہم۔۔ڈانٹ پڑ جانی ہے۔۔۔۔بھائی بھی آ رہے ہیں”ملیحہ مے دوپٹے کے نقاب کے اندر سے دانت پیستے اسے کہا
ماہم مسکراتی اٹھی اور ماہم سیف کی طرف بڑھی۔
ملیحہ نے تھوک نگلا کیونکہ اسے علم تھا کہ اگر احسام سیر تھا تو سیف یوسف شاہ سوا سیر تھا ۔غصے میں ہی تو سیف سب سے آگے تھا ۔
ماہم مسکراتی اس کی طرف گئی۔
سیف جیسے ہی اندر جانے لگا تو سامنے سے گرے بالوں والی پیاری سی لڑکی کو اپنی طرف آتے دیکھا ۔بے ساختہ وہ رک گیا۔
“ہے برو۔۔۔سرپرائز”ماہم نے فلمی انداز میں کہا۔
سیف مسکرایا اور اس کیلیے باہیں پھیلائیں۔
احسام جو اندر سے باہر آ رہا تھا سامنے کا منظر دیکھ کر بے ساختہ اپنی جگہ رکا۔
ماہم تیزی سے سیف کی باہوں کے حصار میں آئی۔
ملیحہ کی تو آنکھیں منہ دونوں کھل گئے تھیں۔اتنی بے تکلفی! وہ بھی شاہ حویلی میں ! ۔
احسام کی آنکھوں میں مرچیں بھر گئیں۔کتنی جرأت اور بے حیائی سے دونوں مل رہے تھے ۔کیونکہ احسام بھول گیا تھا کہ سیف کا بچپن سے لے کر جوانی تک کا سفر اپنی پھوپھو کی طرف ہی گزرا تھا ۔
“میری پری کیسی ہے”سیف نے پیار سے اسکے ماتھے پر بوسہ دیا اس کیلیے اسکی سب سے لاڈلی بہن تھی۔
زامل کے بعد سیف نے اسکے جی بھر کر لاڈ اٹھائے تھے۔اور یہی تو تھا جس نے اسے اتنا تیار کیا تھا کہ وہ ہائی ریکمنڈ سٹوڈینٹ پر کینیڈا کے سب سے اعلیٰ لاء کے سکول میں داخلہ کروایا تھا اور ماہم نے اپنے بھائی کا مان بھی رکھا تھا ۔فائنل ریزلٹ ابھی آنا تھا ۔مگر ماہم بے فکر تھی۔کیونکہ ہر طلبہ کو اپنی کارکردگی سب سے اچھے سے پتہ ہوتی ہے۔
“آپ کی پری بلکل ٹھیک۔۔مگر آپ تو مجھے بھول ہی گئے تھے مجبوراً مجھے ہی آنا پڑا پاکستان”ماہم نے منہ بناتے اس سے شکوہ کیا
اب وہ آہستہ آہستہ اندر کی جانب بڑھ رہے تھے ۔
احسام نے دانت پیسے اسے دور سے فلحال سمجھ کچھ نہیں آ رہا تھا ۔کیونکہ داخلی دروازے سے پورچ تک کافی فاصلہ تھا ۔دور سے ایسے لگتا تھا کہ منہ ہلایا جا رہاتھا مگر علم نہیں تھا کہ بولا کیا جا رہا ہے ۔
احسام آنکھوں میں سن گلاسز لگائی اور اپنی گاڑی کی طرف بڑھا۔
“اسلام علیکم سام”احسام کے پاس آتے ہی سیف نے سنجیدگی سے کہا
ماہم کے چہرے پر بھی سنجیدگی آ گئی ۔سیف نے چہرہ موڑ کر ماہم کو دیکھا تو وہ الجھا ضرور تھا ماہم کے تاثرات پر ۔کینیڈا میں اس نے ماہم کو روز ہی تقریبا ت گ کرنا ہوتا تھا احسام کے نام پر۔۔اور وہ ہمیشہ ہی سرخ ہوتی رو دینے کو ہوتی تھی مگر اب وہ بلکل انجان بنی لگ رہی تھی جیسے کسی بات کا غصہ ہو یا جانتی ہی نا ہو کہ سامنے والے شخص سے کوئی رابطہ بھی ہے۔
“و علیکم اسلام۔۔۔ کیا آپ بھول گئے ہیں کہ آپ شاہ حویلی کھڑے ہیں !”احسام نے سنجیدگی سے کیااور نظروں کا رخ ماہم اور اسکے درمیان فاصلے پر کیا۔جو تھا ہی نہیں کیونکہ ماہم اب بھی اسکے بازو کے حصار میں تھی۔
“میرے لیے تو یہ چھوٹی بہن پیاری سی بیٹی جیسی ہے”سیف اسکی بات کو سمجھ گیا تھا تبھی ہلکی مسکان سے کہا۔ویسے مسکان اسکا اب شیوہ نہیں تھا مگر ماہم کیلیے وہ مسکرا ہی لیتا تھا
“اور اہم بات یہ کہ انہوں نے میرے لیے کسی اصول کا پابند نہیں بنایا۔۔۔۔نا پہناوے کا۔۔۔ نا اداب کا۔۔۔ نا ہی۔۔۔ آواز کا۔۔۔ ان کیلیے میں جیسی ہوں ویسیہی پسند ہوں اہم ہوں”نا چاہتے ہوئے بھی اسکا لہجہ سرد اور زبان پر کڑوا گلہ آ ہی گیا تھا
احسام کا منہ پھول گیا اسکی بات پر اس نے قہر برساتی نگاہوں سے ماہم کو دیکھا
بدلے میں ماہم نے بھی کھا جانے والے تاثرات سے دیکھا
سیف نے ناسمجھی سے دونوں کو دیکھا ۔کہیں سے بھی پہچان ظاہر نہیں ہو رہی تھی بس اجنبیت اور کٹر دشمن زیادہ لگ ریے تھے ۔
“کوئی بات ہوئی ہے”سیف نے دونوں کو دیکھ کر کہا۔
“لیکن سیفی یہاں کے رولز اہم ہیں سب کیلیے۔۔۔ یہاں کی بیٹیاں سر اور چہرے سے دوپٹہ گرنے نہیں دیتی”احسام نے سامنے سےوار کیا ماہم کی حالت پر چوٹ جو کی۔ایساا ہی تو تھا منہ پر وار کرنے والا
ماہم کا چہرہ سرخ ہو گیا سوسو طرح کے القابات اسکے زہن میں آ رہے تھے اگر کچھ کہہ دیتی تو احسام نےپکا اسکا قتل کر دینا تھا
“میری بہن ہے یہ۔۔ مجھسے کوئی پردہ نہیں اسکا”سیف کا لہجہ اب باقاعدہ سنجیدہ ہو گیا تھا سمجھ گیا تھا کہ دونوں ایک دوسرے پر اٹیک کر رہے ہیں ۔
“بہم جیسی ہے۔۔ کم سے کم۔۔ میرے سامنے سے ہٹ جایا کرے۔۔۔ میری فطرت میں نہیں ایسے کسی بھی حویلی کی بیٹی پر نظریں ٹکانا”احسام نےجلتے بھنتے کہا اور بنا جواب سنے آگے کی طرف بڑھا۔
“یہی بات آپ کے لیے ہےمسٹر احسام۔۔۔ میرے سامنے سے آپ گریز کریں۔۔۔ آپ کی خاطر میں حویلی میں گھومنے پھرنے سے رک نہیں سکتی”فوراً سے جوابی کاروائی کی اور بنا سیف کا انتظار کیے آگے بڑھ گئ۔
احسام نے جبڑا بھینچا مگر جواب نہیں دیا۔
پہلی بار کوئی لڑکی اسکے سامنے بولی تھی اور منہ بند کروا گئ تھی ۔
غصے سے تن فن کرت اپنی گاڑی میں بیٹھا اور شووووں کر کے حویلی سے نکالتا لے گیا۔
سیف تو ان دونوں میں الجھ گیا۔ اس نے ایک نظر گیٹ ہر ڈالی اوردوسرے سامنے جاتی ماہم پر
وہ سر جھٹکتا اندر کی طرف بڑھا۔اسے یہی لگا کہ احسام ایسے سامنے آنے پر غصہ ہو رہا ہے۔
مگر اندر کی بات سے وہ ناواقف تھا۔
اس بات سے وہ واقف تھا کہ ماہم دل میں احسام کیلیے گہرے جزبات رکھتی ہے ۔
💙دل گمشده! کبھی مل ذرا💙
💙مجھے وقت دے میری بات سن ! 💙
💙مری حالتوں کو تو دیکھ لے💙
💙 مجھے اپنا حال بتا کبھی میرا حال پوچھ !💙
💙 بتا مجھے میرے کس گناہ کی سزا ہے دیں۔؟💙
💙 ملا یار بھی تو تیرے سبب دل گمشدہ ۔ ۔ ؟ ؟💙
💙 یہ وفا ہے کیا ۔ ۔ ؟ ؟💙
💙 یالکھوں میں اس کو دغا ؟ سزا۔ ۔ ؟؟💙
💙 دل گمشده! دل گمشده !!💙
💙کبھی پاس آ ، کبھی مل سی💙
💙وہ گیا تو، تو بھی چلا گیا ۔ ۔ ؟ ؟💙
“واہ بی ماننا پڑے گا جو نقاب میں اتنا حسین لگ رہا ہے وہ بنا نقاب کے کتنا حسین ہو گا”وہاب نے ستائشی انداز سے تصویر کو دیکھتے کہا
قمر مسکرا دیا۔
“ہاں۔۔۔ بے حد حسین لگتی ہے مجھے ۔ میں تو شکر ادا کر رہا ہوں کہ ابهى2 ماہ کی چھٹیاں ہیں مجھے ۔۔۔اس دوران ہی سب کر کے جانا یے۔۔۔”قمر نے اسکے ہاتھ سے تصویر لیتے کہا۔
“ویسے پتہ کروایا کچھ بھابھی کے بارے میں !”وہاب نے سامنے پلیٹ سے بسکٹ اٹھاتے پوچھا۔
“تو اور کیا۔۔ تجھے کیا لگتا یے۔۔۔ ایسے ہی خوش ہوتا پھر رہا ہوں میں !”قمر نے دانتوں کی نمائش کرتے کہا
“ہیں ؟ اکرام سے تو کام نہیں نکلوایا!”وہاب نے ہنستے پوچھا ۔اسے نہیں یقین تھا کہ قمر اتنی فاسٹ سروسز لے گا
“ہاں اسے سے کروایا۔۔۔فاسٹ سروز ہے بئی دوست ہمارا۔۔آدھے گھنٹے کا کہا تھا ۔۔ 25 منٹس میں کام کر دیا تھا میرا”قمر نے مسکراتے کہا
“کہاں کی ہے کیا پتہ ہے؟ کب جانا ہے !” وہاب نے اشتیاق سے پوچھا : “سب بتاؤں گا پہلے مجھے امی کو بتا لینے دے”قمر نے جواب دیا
“لے۔۔ چلا بتا کے آتے ہیں”وہاب نے فٹافٹ اٹھتے کہا
“دیکھ زرا مجھسے بھی زیادہ اسے جلدی ہے”قمر نے اسے پکڑ کر واپس بٹھاتے کہا۔
“تو اور کیا۔۔۔ اس سے پہلے ہماری پوسٹنگ ہو۔۔ ہم دونوں کا ویاہ ہو جانا چاہیے ۔۔ یاار بنگڑا ڈالنا یے ۔۔۔ڈول بجوانے ہیں ۔۔ شہنائیاں بجئں گی۔۔۔ اتنا کچھ کرنا تیری شادی پر میں نے”وہاب مستی سے خوشی سے بول رہا تھا ۔اس کے تو قمر کی شادی کو لے کرسو طرح کے ارمان تھے ۔
“ہاں سب کریں گے”قمر نے ہنستے جواب دیا
تبھی وہاب کا موبائیل رنگ ہوا۔
“اسلام علیکم بھابھی۔۔۔ کیا ہوا۔۔ رو کیوں رہی ہیں !۔۔۔شہاب بھائی کو؟؟ کب؟۔۔اب کہاں ہیں ؟..کس ہوسپٹل میں ؟۔۔ میں آ رہا ہوں”وہاب کو اسکی بھابھی کا فون آیا تھا جس میں اسے شہاب کھوکھر کی گولی لگنے کی خبر دی گئی تھی ۔
“سب خیریت ؟”قمر بھی اسکے ساتھ کھڑا ہوتے بولا
“یار بھایی کو گولی لگی ہے مجھے نکلنا ہو گا”وہاب مے پریشانی سے بتایا
“چل میں بھی چلتا تیرے ساتھ”قمر نے کہا
اور وہ دونوں گھر سے چلے گئے ۔
کیسا سنجوگ تها۔جس کو ڈھونڈتے پھر رہا تھے۔قسمت کس طرح ملوا رہی تھی ۔
کیسے تعلقات تھے جو قسمت سے مل رہے تھے ۔
دوستی نا سہی۔۔۔
مگر دشمنی محبت کے آرے آ رہی تھی ۔
نہیں جانتا تھا کوئی بھی کہ جیت کس کی ہو گی۔
کسی مح ت کرنے والے کو دشمنی میں محبت مل جائے گی یا!۔۔۔۔
محبت میں دشمنی کرنی پڑے گی۔
                    💛💛💛💛💛💛💛
“تمہارا دماغ خراب ہو گیا تھا جو الیلیے چلے گئے لڑنے کیلیے ہو کیا چیز تم؟ کونسے پھنے خان ہو تم؟ لڑنے چلے گئے! گولی مارنے کی کیا ضرورت تھی” آغا جان کی آواز پورے مردان خانے میں گونج رہی تھی ۔کیف پریشان سا سر جھکائے ان کی سن رہا تھا ۔
پاس ہی سیف سنجیدہ سا سر جھکائے بیٹھا تھا
فرید شاہ بھی پریشانی سے سب سن رہے تھے ۔
گولی کے نام پر سب کے ہی حواس بوکھالئے ہوے تهے اوپر سے کھوکھر کے بیٹے کی حالت بلکل بری تھی
ہوسپٹل میں ایڈمٹ تھا ۔اسکی موقعے پر موت نہیں ہوئی تھی مگر اب بچنے کے کچھ ہی چانسز تھے۔
“آغا جان۔۔ اس نے ہماری حویلی کی بیٹیوں کیلیے غلیظ الفاظ استعمال کیے تهے۔۔ کیسے برداشت کرتا”کیف نے کہا……”تو اس کا مطلب اسپر گولی چلا دو؟
مار مار کر. دل نہیں بھرا تھا ؟” آغاا جان پھر سے دھاڑے وہ خود بھی اب پریشان یو گئے تھے ۔انہیں علم تھا کہ ایسے خون بہاکے جرگے پنچایت کے فیصلے کیسے ہوتے ہیں۔”آغا جان۔۔۔بس غصے میں سمجھ نہیں آئی”کیف نے پریشانی سے کہا۔اسکا دل بھی آنے والے وقت سے خوفزدہ تھا ۔
“اب کیا کرنا ہے بھائی جان!”فرید شاہ نے پوچھا۔
“ہمیں انتظار کرنا ہو گا اطلاع کا۔دعا کرو کھوکھر کا بیٹا بچ جائے۔۔۔ ورنہ اس پنچائت کا فیصلہ بہت کٹھن ہو جائے گا”آغا جان نے پریشانی سے کہا اور اپنے تخت پر بیٹھ گئے ۔”آغا جان۔۔۔ اگر اسکی موت ہو گئی تو”سیف نے
سنجیدگی سے سوال کیا
انہوں نے سر موڑ کر اسے دیکھا جو انہیں ہی دیکھ رہا تھا ۔
“تو پنچائت بیٹھے گی اور پنچایت کا فیصلہ ماننا دوشی کیلیے اتنا بھی آسان نہیں ہوتا جتنا پنچایت میں فیصلہ سننا ہوتا ہے”آغا جان نے کہا۔
“ایسے لڑائیوں کا کیا فیصلہ ہوتا ہے!”سیف نے پھر پوچھا اس کیلیے نئی بات تھی۔وہ شروع سے ہی تو باہر کے ملک رہا تھا اسے کیا پتہ کہ گاؤں کے جرگے اور پنچایت کیا ہوتی ہے اور ان کے فیصلے کیسے کیے جاتے ہیں ۔
“خون کا بدلہ خون ۔۔۔یا پھر نقد جتنا معافی کیلیے مانگا جائے۔۔ کبھی کبھی دل بڑا کر معاف بھی کر دیا جاتا یے جن کے ساتھ ظلم ہوا ہوتا ہے۔۔۔ یا پھر”داور کی طرح آغا جان کی بھی زبان یہاں آ کر رک گئی ان کی بھی ہمت نا ہوئی کہ وہ اپنی بات پورا کر سکیں۔
“یا پھر کیا آغا جان؟”سیف نے پوچھا اسے انتظار تھا پوری بات کا
“یا ان کے مطالبے پر۔۔۔ سزاوار ۔۔۔کے گھر ۔۔۔ کی بیٹی ونی۔۔ کی جاتی ہے۔۔”آغا جان نے بڑی تکلیف سے یہ الفاظ ادا کیے کیونکہ ایسا ہوتا آیا تھا اور ایسا ہی ہوتا تھا ۔کون اپنا خون بدلے میں دیتا یے! بیٹیاں ہی قربان کی جاتی ہیں ۔عزت کے نام پر ۔
“ونی!۔۔۔ اتنا بڑا ظلم !یہ غلط ہے آغا جان بیٹیوں کو کس بات کی سزا !”سیف کو تو غصہ چڑھ گیا تھا اسے یہ پنچایت بے حد زہر لگی تھی جس میں گناہ کوئی کرتا ہے اور اسکا فیصلہ کسے بے گناہ کو سہنا پڑتا ہے ۔
“سزا کہتے کسے ہی پھر”آغا جان نے تاسف سے کہا:
“آغا جان۔۔۔ونی نہیں ۔۔ایسا نہیں ہونے دیں گے ہم”کیف نے بوکھلا کر کہا۔ اسکی آنکھوں میں زمر کا مسکراتا چہرہ آ رہا تھا ۔عنابیہ کی میٹھی فرمائش کرتی آنکھیں آ رہی تھیں ۔ملیحہ کی کھلکھلاتی باتیں یاد آ رہی تھیں۔وہ کیسے اپنی غلطی کی سزا ان بے گناہوں کو بھرنے دے سکتا تھا
“دعا کرو کہ وہ کھوکھر کا بیٹا زندہ بچ جائے۔۔۔ تم نے حماقت کی ہے گولی مار کر”آغا جان نے پھر سے جھڑکا۔
“اچھا دیکھی جائے گی آپ فکرمند نا ہوں”سیف نے کہا: اپنی اپنی جگہ سب ہی پریشان ہو گئے تھے۔نجانے اب کیا بننا تھا ۔کیف اکیلا مردان خانے میں صوفے پر ار ٹکائے آنکھیں موندے بیٹھا تھا ۔سب جا چکے تھے ۔
زمر کو اڑتی اڑتی خبرملی تھی کہ کیف نے کھوکھر کے بیٹے کو گولی مار دی ہے وہ تو پریشان ہو گئے تھی۔تبھی مردان خانے پر چھپ چھپ کر آئی تا کہ اس سے اصل بات پوچھ سکے۔
جیسے ہی دروازےسے اندر جھانکا توکیف کو تھکا ہوا صوفے کے ساتھ ٹیک لگائے دیکھا ۔
اپنا دوپٹہ منہ سے ہٹاتی وہ دھیمے قدموں سے اندرداخل ہوئی۔”زمر تم یہاں کیوں آئی ہو!” کیف کی گنودگی سے بھری بھاری آواز آئی۔
وہ اسکی آہٹ سے پہچان گیا تھا کہ آنے والا شخص کون ہے ۔زمر اس کے پاس چند قدم کے فاصلے پر کھڑی ہو گئی ۔
“سائیں۔۔۔ میں یہ کیا سن رہی ہوں!”دھیمے نرم لہجے میں پوچھا۔آواز میں خوف پریشانی تهی۔کیف نے آنکھیں کھولیں اور سر اٹھا کر اسے دیکھا جو پریشان سی اسے دیکھ رہی تھی ۔
“کیا؟”ایک حرفی بات پوچھی دل میں تو خوف بھی تھا کہ زمر کا ری ایکشن کیا ہو گا۔
“یہی کہ۔۔۔آپ۔۔ نے کسی۔۔۔کھوکھر کے۔۔بیٹے کو گولی ماری ہے!” حلق تر کرتے ڈرتے ڈرتے پوچھا اس امید سے کہ کیف کہے گا کہ یہ جھوٹ ہے کیونکہ وہ بچی نہیں تھی جو اس طرح کے لڑائیوں کی پنچایت کے فیصلے نا جانتی ہو ۔کیف کی آنکھیں سرخ تھیں۔
“صحیح سنا ہے”اسی لہجے میں کہا: زمر کی حیرت خوف سے آنکھیں کھل گئیں۔اسے ایسے لگا جیسے ٹانگوں سے جان نکل گئے ہو۔
ڈھے جانے کے انداز میں وہ نیچے کارپٹ پر بیٹھ گئ۔ اور بے یقینی سے کیف کو دیکھا ۔
“ی۔۔۔یہ۔۔۔ کیا ۔۔۔کیا۔۔آپ نے سائیں”اسکے حقل سے پھنسی پھنسی سی آواز نکلی۔
کیف نے ضبط سے آنکھیں میچیں۔پھر اٹھا اور اس کے مقابل بیٹھا
زمر کی آنکھیں نم تھیں اسے آنے والا وقت ڈرا رہا تھا ۔کیف نے اسکے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے۔
“مجھ پر یقین ہے !”اس سے یقین چاہا
زمر نے سر ہاں میں ہلایا”میں تمہیں کھو نہیں سکتا۔۔۔ تم سے بہت مح ت کرتا ہوں زمر۔۔ تم میری عزت ہو۔۔ میری زندگی ہو ۔۔ تمہیں میں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔۔چاہے مجھے اپنی جان دینی پڑے”اس کے ہاتھوں پر دباؤ ڈالے بولا
“نا سائیں”مرنے کے نام پر زمر نے تڑپ کر اسے کہا
آنکھیںجل تھل ہو گئی تھیں وہ یہی تو سننا نہیں چا رہی تھی ۔
“یہ سب کرتے ہوئے ۔۔۔۔ میں آ پ کو یاد نہیں آئی؟”وہ روفی دھیمی آواز سے بولی۔ڈر بھی تھا کہ ایسے چھپ کرمل رہی ہے کیف سے کوئی بڑامسئلہ نا ہو جائے۔
“تمہارے لیے ہی تو ہوا سب۔۔۔ میں کیسے سن لہتا اسکی بکواس!” کیف نے اسکے آنسو صاف کرتے کہا
“مجھے کوئی نقصان تو نہیں پہنچایا تھا نا!۔۔ کیوں اتنے غصہ ہو جاتے ہیں ۔۔۔اب کیا ہو گا”اسکی آواز بیٹھ رہی تھی ۔خوف کیف کی زندگی کا اسکے دل پر دماغ پر چھا رہا تھا ۔
“چپ کر جاؤ۔۔۔ مجھے اور پریشان نا کرو۔۔ سب ٹھیک ہو گا”کیف نے اسکے آنسو صاف کیے
زمر نے چہرہ جھکا لیا۔اسکا جسم بھی ہچکولے لے رہا تھا ۔وہ بنا. اواز کے رو رہی تھی اور کیف یہ نہیں دیکھ پا رہا تھا ۔
“زمر کو بھیجو میرے پاس “بی جن کی زنان خانے سے آواز گونجی یقیناً وہ ملازمہ کو کہہ رہی تھیں۔زمر آواز کی سمت گردن موڑی پھر کیف کو دیکھا حو صرف اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔”کیف۔۔قسم کھائیں۔۔ وعدہ کریں”زمر نے آنسو پیتے اسکا ہاتھ اپنے سر پر رکھا۔
“کیسا وعدہ!”کیف نے نا سمجھی سے پوچھا
“ووعدہ کریں۔۔ آپ کو کچھ نہیں ہو گا۔۔کچھ بھی نہیں ہو گا۔۔پنچائت کا فیصلہ آپ ۔۔۔۔آپ۔۔۔کی ج۔۔۔جان۔۔۔ لینے۔۔ کا نہیں ۔۔ہو۔گا۔۔وعدہ کریں”اپنے دل میں امنڈتے خوف کو وہ زبان پر لے آئی تھی۔کیسا وعدہ مانگ رہی تھی جس کی گارنٹی نہیں تهی۔
کیف کو تو خود علم نہیں تھا کہ کیا ہو گا!
کیا فیصلہ ہو گا! کیا سزا دی جائے گی! اور وہ کیا کرے گا!
وہ بھی تو اپنی زمر کے ساتھ جینا چاہتا تھا ۔”زمر”کیف کے لب بس اسکا نام لے سکے اس سے آگے وہ کوئی بات نا کہہ سکا۔
بے دلی افسردگی سے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ سے کھینچ لیا.زمر نے بے یقینی سے کیف کو دیکھا جو اپنا ہاتھ واہس لے رہا تھا وہ وعدہ نہیں کر رہا تھا ۔
“میری بات یاد رکھیے سائیں۔۔۔۔۔۔زمر صرف آپ کی یے۔۔۔ اپنا لے ۔۔۔یا زندہ گاڑ دیں۔۔۔ زمر کو کسی اور کے پلے مت ڈالنا”اس کو وارن کرنے کے انداز میں کہا اسکے لہجے میں تڑپ بھی تهی درد بھی اور خوف بھی
کیف نے تڑپ کر اسکا ہاتھ پکڑنا چاہا مگر وہ فوراً سے دور ہوتی کھڑی ہو گئی ۔
اپ ے آنسو الٹے ہاتھ سے صاف کیے
“میں بچی نہیں ہوں کیف جو یہ نا جانتی ہو کہ پنچایت کیسے فیصلے کرتی ہے! ۔۔۔ آپ کو کچھ ہوا نا۔۔۔ تو یاد رکھیے گا۔۔ زمر خود کو زندہ جلا دے گی ۔۔۔سمجھ گئے آپ !”الٹے قدم کیتی وہ آتشی لہجے میں کیف کو مزید پریشان کر گئ تھی۔
💜وفا کے قید خانوں میں سزائیں کب بدلتی ہیں
 💜بدلتا دل کا موسم ہے ہوائیں کب بدلتی ہیں💜
💜 میری ساری دعائیں تم سے ہی منسوب ہیں💜
 💜جاناں محبت ہو اگر سچی دعائیں کب بدلتی ہیں💜
💜 کوئی پا کر نبھاتا ہے، کوئی کھو کر نبھاتا ہے💜
💜 نئے انداز ہوتے ہیں وفائیں کب بدلتی ہیں💜
 💜گناہوں کو ہمارے ایک ہی مالک بخشتا ہے💜
💜 عطا اس کی پرانی ہے خطائیں کب بدلتی ہیں💜
             🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
کیا ہو گا اگلی قسط میں ؟؟؟
ٹوسٹ آئے گا کیا؟؟؟
ہوگا زمر اور کیف کا کیا؟
کیا پنچایت ونی کا فیصلہ کرے گی؟
یا پھر خون کے بدلے خون؟
کیاہونے والا ہے آگے۔۔۔۔۔

کمنٹس میں ضرور بتائیں۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناول نگری میں ہر نئے پرانے لکھاری کی پہچان، ان کی اپنی تحریر کردہ ناول ہیں۔ ناول نگری ادب والوں کی پہچان ہے۔ ناول نگری ہمہ قسم کے ناول پر مشتمل ویب سائٹ ہے جو عمدہ اور دل کو خوش کردینے والے ناول مہیا کرتی ہے۔ناول کا ریوئیو دینے کیلئے نیچے کمنٹ کریں یا پھر ہماری ویب سائیٹ پر میل کریں۔شکریہ

novelsnagri786@gmail.com

Read haveli based novel, urdu novel, saaiyaan novel at this website Novelsnagri.com for more Online Urdu Novels and  Afsanay that are based on different kind of content and stories visit this website and give your reviews. you can also visit our facebook page for more content Novelsnagri ebook

1 thought on “haveli based novel, urdu novel, saaiyaan episode 4”

Leave a Comment

Your email address will not be published.