haveli based romantic novel,haveli based romantic novel,Best romance novel ,saaiyan,

haveli based romantic novel | saiyaan Epi#19

haveli based romantic novel SAAIYAAN  by Bisma Bhatti .Novelsnagri.com We have prepared the list of all famous and mature novelists for your convenience .All you have to do is if you like the topic ,click on it and the novel itself will open infront of you.Dont forget to give feedback after reading the novel.Here you will get to read urdu novels.

 

haveli based romantic novel,

haveli based romantic novel, SAAIYAAN by Bisma Bhatti MOST ROMANTIC NOVEL

haveli based romantic novel

NOVEL: SAAIYAAN 

EPISODE: 19

WRITER:BISMA BHATTI

 

 

لاؤنج میں بی جان (فرحین شاہ) صوفے پر بیٹھی چائے پی رہی تھیں ۔ اور ماہم ان کے پاس بیٹھی کوئ بات بتا رہی تھی ۔

ارم سبکتگین کی نظر سامنے فرحین شاہ کے چہرے پر ٹک گئی ۔

کسی کی موجودگی کو محسوس کرتے فرحین شاہ نے سر اٹھایا تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔

ہاتھوں سے چائے کا مگ چھوٹ کر لڑھک گیا ۔

ماہم بدک کر اٹھی ۔ اور حیرت سے دونوں کو دیکھا ۔

فرحین شاہ کانپتے جسم سے اپنی جگی سے اٹھیں ۔

 ارم سبکتگین سائیڈ طرف سے ہنسی ۔

” میرا آنا ۔۔۔ اتنا وحشت ناک نہیں تھا ۔۔۔ جتنا تمہیں محسوس ہوا. ۔۔۔۔ فرحی ۔۔۔۔ میری بہن ” اپنی شال کو ایک طرز سے بازو پر ٹھیک کرتے طنزیہ کہا ۔

شاہ حویلی کے در و دیوار جیسے چوکنا ہو گئے تھے اس ہستی کے قدم رکھنے سے ۔

فرحین شاہ بے یقینی سے اپنے سامنے اپنی بہن کو دیکھ رہی تھیں ۔ اتنے سالوں بعد وہ اسے دیکھ رہی تھیں ۔

” ا۔۔۔ ر ۔۔ رم ” ان کی زبان لڑکھڑا کر ان کا نام لے سکی ۔

” ہاں میں ۔۔۔ فرحین ۔۔۔ شاہ ۔۔۔ تمہاری بہن ” ارم سبکتگین نے استہزائیہ ہنستے جتایا ۔

” بیگم کہاں ہیں آپ ۔۔۔ مجھے ڈیرے کے لیے نکلنا ہے ” ربھی لاؤنج میں یوسف شاہ کی بھاری آواز نے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا ۔

وہ اپنے دھیان کف کا لنک صحیح کرتے ہوئے کمرے سے باہر آئے تھے اور اب سیڑھیوں کے کونر پر کھڑے تھے ۔

ہمیشہ کی طرح آج بھی ارم سبکتگین ان کی آواز پر لرز سی گئ تھی . دل اسی تیزی سے دھڑکا تھا جیسے کبھی اپنی جوانی میں دھڑکتا محسوس کرتی تھیں ۔ یوسف شاہ کا جلال رعب ایسا تھا کہ ارم سبکتگین سیڑھیوں کی سیدھ میں کھڑی تھیں لیکن نگاہیں ان کی آواز پر فرحین شاہ پر ہی جمی ہوئی تھیں ۔ ہمت ہی نہیں ہوئی تھی کہ سر زرا سا گھما کر سیڑھیوں پر کھڑے یوسف شاہ کو دیکھ لیں ۔

فرحین شاہ نے ارم کو دیکھا پھر گردن گھما کر یوسف شاہ کو دیکھا جو کف لگا رہے تھے ۔ پھر سے گردن گھما کر ارم کو دیکھا جس کی منتشر نگاہیں اب اٹھنے کو تیار تھیں ۔ فرحین شاہ نے بے شک بہت مشکل سے خود کا دل یوسف شاہ کے لیے آمادہ کیا تھا لیکن اب ان کا دل پسیچ رہا تھا ارم کی منتشر نگاہوں پر جو یوسف شاہ کو دیکھنے کے لیے بے قرار تھیں ۔

ارم نے ساکت نم آنکھیں گھما کر یوسف شاہ کی طرف اٹھائیں جو دونوں کفس لگا چکے تھے لیکن نیچے لاؤنج کی خاموشی پر دھیان ابھی تک نہیں دیا تھا ۔

ارم کی آنکھیں جیسے پتھرا گئی تھیں یوسف شاہ کو دیکھ کر ۔ وہی رعب وہی روپ وہی شخصیت میں جلال وہی سحر طاری کر دینے والی نظر اور وہی بھاری آواز ۔ کچھ بھی نہیں بدلہ تھا یوسف شاہ میں ۔ اگر بدلہ تھا تو صرف یہ کہ ان کے سر پر سیدوں کے سردار کی حیثیت سے بڑی پگڑی تھی کالے رنگ کی اور کندھوں پر مہرون رنگ کی شال تھی ۔ کنپٹی کے بالوں سے لگ رہا تھا کہ بالوں میں ہلکی سفیدی آ رہی تھی ۔ گھنی مونچھیں تھی جن کا تاؤ دیا گیا تھا اور ہلکی ہلکی دھاڑی تھی ۔

ارم تو اپنی آنکھیں پلٹنا بھول گئی تھی ۔

فرحین شاہ نے زور سے آنکھیں میچ لیں اور سر جھکا لیا ۔

ماہم عجیب نا سمجھی سے یہ سب دیکھ رہی تھی ۔ اسے نا یہ سامنے کھڑی عورت کا پتہ تھا نا ہی اپنی بی جان کی حالت کی سمجھ آ رہی تھی کہ اچانک ان کی بہن کہاں سے نمودار ہو گئ تھی ۔

” فرحی جی کہاں ہیں آ۔۔۔ ” یوسف شاہ نے خاموشی پر دوبارہ آواز دیتے سر اٹھایا تو سامنے کھڑی عورت کو دیکھ کر خاموش ہو گئے ۔

وہ نہیں پہچان سکے تھے جو سامنے کھڑی تھیں ۔

یوسف شاہ نے اپنی نگاہوں کا رخ بدلہ کیونکہ آنکھ بھر کر تو وہ صرف اپنی بیگم کو دیکھتے تھے دوسری عورتوں کو دیکھنے کی اب تک چاہ نہیں کی تهی ۔

نظروں کے پھر جانے پر ارم کا دل پھر سے دکھ گیا تھا ۔ وہ اپنا سر جھٹکتی ہنس دیں یعنی انہیں پہچانا ہی نہیں گیا ۔ یعنی آج بھی یوسف شاہ نے فرحین شاہ کے علاوہ کسی اور عورت کو نا دیکھنا چاہا نا پہچاننا.

” میں کب سے آواز دے رہا ہوں آپ کو جواب کیوں نہیں دے رہی ہیں آپ ۔۔۔ مجھے ڈیرے کے لیے نکلنا ہے آپ کہاں ہیں مجھے کمرے میں بھی نہیں نظر آ رہی تھیں ” یوسف شاہ سیڑھیاں اترتے فرحین شاہ کے پاس جا کر زرا غصے سے بولے لیکن آواز دھیمی تھی تا کہ لاؤنج میں کھڑی عورت کو ان کا پتہ نا لگے ۔

فرحین شاہ نے آنکھیں کھول کر سر اٹھا کر انہیں دیکھا ۔ آنکھوں میں واضح کرب واضح تکلیف تھی ۔

” آپ کو کیا ہوا ہے ۔۔۔ ! ” یوسف شاہ نے ان کی آنکھوں کی تکلیف پر پوچھا ۔ مگر فرحین شاہ تڑپتی نگاہوں سے یوسف شاہ کو دیکھنے لگیں جیسے اپنی نظریں ان کے چہرے سے وار رہی تھیں یہ فطری تھا ۔ وہ بھولی نہیں تھیں ابھی جو ارم کی وارفتہ نگاہیں یوسف شاہ پر تھیں ۔ ان کا دل خوف سے دھڑک اٹھا تھا ۔ شوہر تھے یوسف شاہ ان کے ۔ زندگی گزاری تهی ان کے ساتھ کیسے کسی اور کی وارفتہ نگاہوں کو برداشت کرتیں ۔

“ماہم بچے ” یوسف شاہ نے پریشان لہجے میں پاس کھڑی ماہم کو بلایا ۔

“جی آغا جان ” وہ فوراً سے دو قدم آگے ہوتی بولی ۔

” کیا ہوا تمہاری بی جان کو ؟ ” پریشانی سے ماہم سے پوچھا لیکن آنکھیں فرحین شاہ پر ٹکی تھیں ۔

” آغا جان وہ ۔۔۔ عورت جو ابھی آئیں ہیں ۔۔۔ ارم نام شائد ان کا ۔۔۔ تب سے بی جان ایسے ہی ہیں ” ماہم نے فٹافٹ جتنی سمجھ تھی بتا دیا وہ بھی اس سب صورتِ حال کو سمجھنے کی کوشش میں تھی ۔

ارم کے نام پر یوسف شاہ نے جھٹکے سے ماہم کو دیکھا پھر فرحین کو ۔

” کون ! ” بے یقینی سے پوچھا ۔ فرحین شاہ کی آنکھوں میں پانی آ گیا ۔

” شاہ جی ۔۔۔ آپ تو بلکل ہی بھول گئے ۔۔۔ اتنا بڑا تو جرم نہیں تھا ہمارا ” تبھی پیچھے سے ارم سبکتگین کی آواز ابھری ۔

یوسف شاہ نے پلٹ کر اس سمت دیکھا جہاں ارم تھی ۔ہاں وہی تھی اتنے سالوں بعد ان کے سامنے ۔

“ارم ۔۔۔تم یہاں ؟ ” یوسف شاہ کی حیرت سے ڈوبی آواز نکلی ۔

” ہاں ۔۔۔ میں یہاں ۔۔۔ ارم سبکتگین ۔۔۔ کچھ سوالوں کے ساتھ ۔۔۔ لیکن آپ تو پہچان بھی نہیں رہے مجھے ۔۔۔ آج بھی نظر اپنی فرحی جی پر ٹھہری آپ کی ” فرحی جی پر دباؤ دیتے وہ ہلکا پھلکا طنز کر گئں ۔

یوسف شاہ نے لب بھینچے ۔

” بیٹھنے کا بول دیں اب تو ۔۔۔ بوڑھی ہڈیاں ہیں اب اتنی دیر کھڑے رہنے کی ہمت نہیں رہی ” یوسف شاہ کو ماضی کی یاد کی طرف اشارہ کرتے کہا ۔

” ہم ڈیرے پر جا رہے ہیں ۔۔۔ کوشش کریں مہمان میرے آنے سے پہلے لوٹ جائیں ” فرحین شاہ کی طرف گردن موڑتے پورے رعب سے کہا اور جھٹکے سے اپنی شال کو کندھے پر ڈالا اور تن فن کرتے حویلی سے باہر چلے گئے ۔

” بیٹھو آ کر ارم ” فرحین نے خود کو سنبھالتے صوفے کی طرف اشارہ کیا ۔ اب وہ یوسف شاہ کی جگہ تھیں جنہوں نے ڈیل کرنا تھا ۔ تو اس صورت میں کمزور پڑنا یا رونا فرحین شاہ کے شایانِ شان نہیں تھا ۔

ارم چلتی ہوئ صوفے پر بیٹھ گئیں ۔

” مجھے نہیں پتہ تھا کہ تم سے ایسے سامنہ ہو گا کبھی ” فرحین شاہ نے سنجیدگی سے کہا ۔ ماہم بھی پاس ہی بیٹھ گئ تھی.

” میں نے بھی نہیں سوچا تھا کہ میں پلٹ جر کبھی شاہ حویلی آؤں گی ۔۔۔ مگر تمہاری حویلی کے ایک اصول نے میرے قدم اس طرف لانے پر مجبور کر دیے ” ٹانگ پر ٹانگ چڑھاتے کہا ۔

” کیا مطلب ! کیا بات کر رہی یو ؛ ” فرحین شاہ نے جانچتی نظروں سے دیکھتے کہا ۔

” مجھے لگا تھا میرے بعد بیٹیوں کو ونی کر دینے کا اصول بدل ڈال دیا ہو گا شاہ حویلی کے سردار نے ۔۔۔ مگر افسوس رہا اپنی خام خیالی پر ” فرحین شاہ کی طرف دیکھتے اچھا خاصہ طنز مارا تھا ۔

فرحین شاہ نے ضبط سے برداشت کیا ۔

” کھل کر بات کرو ” انہیں شک گزرا کہ شائد ارم جان گئ ہے عنابیہ کے ونی کے بارے میں ۔

” تمہیں علم نہیں فرحین کہ تمہاری حویلی کی بیٹی کس کے پاس گئ ہے ونی میں ! ” ارم سبکتگین کا لہجہ اب سپاٹ ہوا تھا ۔

فرحین شاہ کے ماتھے پر بل پڑے ۔

” میرے گھر آئی ہے میرے بیٹے کے نکاح میں ” آئی برو اچکاتے زہر خندا لہجے میں کہا ۔

“کیا ! “فرحین شاہ کو بری طرح سے جھٹکا لگا ۔

“وہ تو ۔۔ نیاز کھوکھر کے بیٹے کو دی ہم نے ۔۔۔ تمہارا بیٹا کون ہے ! ” وہ جتنی حیران ہوتی اتنا کم تھا ۔

” شرم نام کی چیز ہے تم لوگوں میں ۔۔۔ بیٹیوں کو کھلونہ سمجھنا کب چھوڑو گے ۔۔۔ کیوں نہیں اپنا بیٹا دیا انہیں خون بہا میں ۔۔۔۔ حویلی کی سب سے حسین بیٹی کیوں دی تم لوگوں نے ۔۔ دل نہیں کانپا وہی روایت دوہراتے ہوئے جو کئ سال پہلے مجھے پیش کرتے وقت نبھائی تھی ” ارم سبکتگین پورے جوش سے چلائی ۔

فرحین شاہ کا چہرہ زرد پڑ گیا ۔ ماہم کا حیرت سے منہ اور آنکھیں دونوں کھل گئیں ۔

” میرا بیٹا اسے جتنی عزت دی جائے کم ہے فرحین شاہ ۔۔۔ جس نے تمہاری بیٹی کو عزت دی. ۔۔ نام دیا اپنا ۔۔۔ ان لوگوں کے پاس نہیں چھوڑا جن کے حوالے تم حویلی والوں نے کیا تھا ” ارم کی آواز پورے لاؤنج میں گونج رہی تھی ۔

فرحین شاہ پر جو انکشاف ہوا تھا وہ انہیں ڈھیروں زمین میں دھنسانے کے لیے کافی تھا.

” اس دن بھی شاہ حویلی کی سب سے حسین بیٹی کی کوئ غلطی نہیں تھی بس اسے اس حویلی کے گدی نشین کے خون بہا میں پیش کر دیا تھا اور آج بھی ۔۔۔۔۔۔ آج بھی تم لوگوں نے اس شاہ خاندان کے گدی نشین کی جان کی خاطر اس حویلی کی سب سے حسین بیٹی قربان کی ” ارم سبکتگین کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا. وہی یہی سب کہنے آئی تھیں اس حویلی میں ۔ تب خاموش تھیں کہ خاموش ہی رہنا تھا مگر اب انہیں کس نے روکنا تها ۔

” تمہارے۔۔ گھر ۔۔۔ عنابیہ ! ” فرحین شاہ کی آواز بھر آئی ۔

” یقین نہیں آتا ۔۔۔ تم لوگوں کے دل کیوں نہیں کانپتے ۔۔۔ فرحین شاہ ۔۔۔ مجھے ونی کیا تھا اس شخص سے جو تمہیں چاہتا تھا ” ارم غصے سے درد سے بولیں ۔

فرحین شاہ نے آنکھیں میچ لیں ۔

ماہم نے حیرت سے ارم کو دیکھا۔

” یہ پرانی بات ہے ” فرحین بہت مشکلوں سے یہ بات کہی ۔

” پرانی بات نہیں بات ۔۔۔۔ آج بھی اتنی تروتازہ ہے ۔۔۔ جتنی پہلے تھی اس وقت تهی ۔۔۔۔ آج بھی سبکتگین ۔۔۔۔ تم سے محبت کرتے ہیں ” ارم کی آواز میں درد تھی ۔

فرحین نے جھٹکے سے سر اٹھایا ۔

” ا۔۔ ایسا نہیں ۔۔۔ ہو سکتا ” فرحین شاہ کے حلق سے الفاظ ٹوٹ رہے تھے ۔

” اگر ایسا نا ہوتا نا ۔۔۔۔ تو آج جسے میں اپنا بیٹا کہہ رہی ہوں ۔۔۔۔ وہ سچ میں میری کوک سے ہوتا ۔۔۔۔ مجھے اڈوپٹ نا کرنا پڑتا. ۔۔۔ “

ارم کے الفاظ پوری حویلی کی در و دیوار ہلا گئے تھے ۔

فرحین شاہ مسلسل نفی میں سر ہلا رہی تھیں ۔

ماہم تیزی سے اوپر بھاگی تا کہ بی جان کے کمرے سے انہیلر لا سکے کیونکہ اسے لگ رہا تھا کہ شائد جو باتیں ہو رہی ہیں اس سے استھماا کا اٹیک آ سکتا ہے ۔ بہت کم اٹیک ہوتا تھا ۔ لیکن اب اسے لگ رہا تھا کہ ایسا کچھ ہو گا ۔

” تم نے مجھے ہر جگہ مات دے دی فرحین ۔۔۔۔ سبکتگین نے تمہارے ساتھ اولاد کا خواب دیکھا تھا ۔۔۔۔ مجھے کیسے یہ حق دیتے ! …. نہیں دے سکے ۔۔۔ اتنے کھڑے اپنی محبت میں کہ ۔۔۔ دو مہینے بعد آتے ہیں گھر ۔۔ صرف ایک رات اپنے بیٹے کے ساتھ بیٹھنے کے لیے ۔۔۔۔ ایسا کیا ہے تم میں ۔۔۔ جو نا یوسف شاہ کو دور ہونے دے رہا ہے نا ہی سبکتگین کا پیچھا چھوڑ رہا ہے ! ” ارم اپنی جگہ سے اٹھ کر درد سے پھنکاری تھیں .

اس اونچی آوازوں پر ملیحہ اور زمر تیسری منزل سے نیچے بھاگنے کے انداز میں آئی تھیں ۔

سہیلہ فضیلت اور زوبیہ فرید شاہ اور احسام کے ساتھ درگاہ پر چادر چڑھانے گئ تھیں ان کی منت جو تھی کہ ان کے بچے شادی کر لیں تو چادر چڑھانے آئیں گی ۔

” چپ ۔۔۔ کر جاؤ ۔۔ ارم ۔۔۔ خدارا چپ کر جاؤ ” فرحین شاہ ان کے سامنے ہاتھ جوڑتی رو دیں ۔ یہ ان کی زات کی تزلیل تھی کہ اس عمر میں بھی ماضی نے پیچھا نا چھوڑا تھا ۔

وہ بے دم سی صوفے پر بیٹھیں ۔

“بی جان ” تبھی ملیحہ اور زمر ان کی طرف بھاگی ۔

” تم تو سن کر بس بے بس ہو گئ ہو ۔۔۔۔ میں نے تو سہا ہے فرحین ۔۔۔ دیکھو میرا حال ۔۔۔ مجھ پر تو ظلم کیے تم سب نے مل کر ” ارم سبکتگین فرحین شاہ کے سامنے آ رکی.

فرحین نے نفی کرتے اسے دیکھا ۔

” میری زندگی کا تماشہ لگا تھا جب میر پور گاؤں پورا آیا تھا فیصلہ سننے ۔۔۔ جن میں نوے فیصد یہ دیکھنے آئے تھے. ۔۔۔۔ کہ شاہوں کی سب سے حسین بیٹی کیسی ہے ” ارم سبکتگین کی آنکھیں پانی سے بھر گئی تھیں اس وقت کو دوبارہ یاد کر کے ۔

” میرا تماشہ ایسا لگا ۔۔۔ کہ میرے حصے وہ انسان آیا ہی نہیں جو میری محبت تھی اور وہ تمہارے پاس تھا ” ارم سبکتگین کا لہجہ بھیگ گیا .

” اور میرے پاس وہ شخص آیا جو تمہاری محبت تھا ” ارم نے دانتوں کو پیستے فرحین کی طرف انگلی کی ۔

فرحین شاہ اپنے ماضی کو یاد نہیں کرنا چاہتی تھیں مگر یاد آ رہا تھا ۔

” سب نے مل کر توڑا ہے مجھے ۔۔۔۔ سب نے ۔۔۔ بس گناہ یہ ہوا تھا کہ شاہوں کی بیٹی کو ایک شاہ زادہ پسند آ گیا تھا ۔۔۔ اور اس کا گناہ شاہ خاندان کے سردار کے سامنے آ گیا ۔۔۔۔۔ اور سردار لڑ پڑا ۔۔۔ اپنے بیٹے کی پسند کے لیے ۔۔۔۔ ایسا لڑا کہ شاہ حویلی کی در و دیوار پر محبت پر خنجر چلاتے ہوئی یادیں چسپا کر دیں ” ارم سبکتگین اب باقاعدہ رو پڑی تھیں ۔

” ارم ۔۔۔۔۔ مجھے ۔۔۔۔معاف کر دو ۔۔۔۔ میں ایسا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔ ایسا کچھ بھی نہیں چاہتی تھی ” فرحین شاہ اٹھ کر ان کے سامنے آتی بے بسی سے روتے بولیں ۔

” نہیں کر سکتی معاف ۔۔۔۔۔ اس دن بھی یوسف شاہ سے قتل ہوا تھا ۔۔۔۔ تو ونی میں اس کی نسبت کو اس کی منگ کو بھیجنے کی بجائے ۔۔۔۔ مجھے بھیجا گیا ۔۔۔ کیونکہ شاہ جی میں اتنی غیرت تھی کہ اپنی منگ نہیں دے سکتے تھے ” فرحین کے ہاتھوں کو جھٹک دیا تھا جو ارم کے ہاتھوں کی طرف بڑھے تھے ۔

” آج بھی تم لوگوں نے یہی کیا ۔۔۔۔ قتل یوسف شاہ کے بیٹے سے ہوا اور ۔۔۔۔ اس کی منگ کی بجائے ۔۔۔ تم نے ایک ۔۔۔ حسین لڑکی کو ونی کر دیا ۔۔۔ تاریخ دوہرا دی شاہ حویلی کے باسیوں نے ۔۔۔واہ ” ارم سبکتگین تالی بجاتے ہوئے کہا ۔

زمر کی آنکھیں بھیگ گئیں اس بات پر اور سر جھک گیا ۔

یہ جو باتیں اب کھلی تھیں اس نے سب کو حیران کر دیا تها ۔

اس وقت حویلی کے مرد حویلی میں نہیں تھے ورنہ یہ راز وہ اپنی اونچی گنگرج میں دبا دیتے ۔ کبھی باہر نا آنے دیتے.

” پلیز ۔۔۔۔ ارم ۔۔۔ بس ۔۔۔ کر دو” فرحین نے اس کے ہاتھوں کو زبردستی پکڑا ۔

” تیس سال ۔۔۔۔ تیس سال گزر گئے ہیں فرحین ۔۔۔ میں نے صبر کیا ہے ۔۔۔۔ بہت ۔۔۔ بے حد ۔۔۔۔ بے انتہاء ۔۔۔۔ کیوں ؟؟؟؟؟ ۔۔۔ مجھے سکون کب ملے گا ؟ ہاں ۔۔۔ نا محبت دی اس حویلی نے مجھے ۔۔۔۔ اور نا کسی کی محبت بننے دیا ؟ ۔۔۔ کب مجھے سکون ملے گا ۔۔۔ ؟ ” وہ فرحین کے ہاتھوں سے اپنے ہاتھ نکالتے ہزیاتی انداز میں چیخیں ۔

ملیحہ اور زمر کی آنکھیں بھیگ چکی تھیں . ماہم جو کب سے سیڑھیوں پر کھڑی تھی وہ ان باتوں کے بعد نیچے آنے کی ہمت نا محسوس کر سکی ۔ جیسے ان رازوں نے ٹانگوں سے جان نکال دی تھی ۔

” دنیا کو دکھانے کے لیے ۔۔۔ میں نے قمر کو اڈوپٹ کیا ۔۔۔۔۔ لوگ مجھے ۔۔۔۔ بھانچ کہنے لگ تھے فرحین !۔۔۔۔ میں بھانچ تھی کیا ؟؟؟؟ کیسے سب کو بتاتی کی میں بھانچ نہیں یوں ۔۔۔ بلکہ بد قسمت ہوں ! جو ان چھوئی ہے ! … جسے چھونے کے لیے اس کا شوہر راضی نہیں ہے ؟ ” وہ بے بسی سے چیخ رہی تھیں ۔

تیس سالوں کا دکھ کرب صبر اب چیخوں میں نکل رہا تھا ۔

” خدا قسم ۔۔۔۔ اگر قمر نا ہوتا ۔۔۔توآج ارم زندہ نا ہوتی ۔۔۔۔۔ اس کی میں نے تربیت کی ہے ۔۔۔ میں نے ۔۔۔ عورت کی عزت کرنا سکھائی ہے۔۔۔ اور اسے بتایا ہے ۔۔۔ عورت صرف ۔۔۔۔ محبت کی بھوکی ہے ۔۔۔اسے عزت اور محبت کی بھوک ہوتی ہے ۔۔۔ اور وہ سمجھا بھی ہے ۔۔۔ ” ارم نے خود کو سنبھالتے اپنے چہرے سے آنسو صاف کیے ۔

” لیکن تم لوگوں نے ۔۔۔ ایک اور ارم اور ایک اور سبکتگین میرے گھر میں کھڑا دیا ۔۔۔۔ پر شکر مناؤ ۔۔۔۔ میرا بیٹا قمر ہے ۔۔۔ سبکتگین نہیں ۔۔۔۔ وہ تمہاری عنابیہ سے بے لوث محبت کرتا ہے ” ارم نے طنزاً مسکراتے کہا ۔

” پلیز ارم ۔۔۔ معاف کر دو مجھے “فرحین نے ایک بار پھر اس کی طرف بڑھنا چاہا ۔ ان کی بہن تھی اتنے سالوں بعد ملن ہوا تھا سینے سے لگانا چاہتی تھیں اسے ۔

“بس ۔۔۔۔ اب مجھ سے یہاں ۔۔ مزید رکا نہیں جائے گا ” اپنے قدم پیچھے جو لیتے کہا ۔۔

” مجھ سے ۔۔۔۔ مل تو لو ” فرحین شاہ نے درد بھری آواز سے کہا ۔

” ارم سبکتگین نہیں چاہتی کہ وہ جب اس بار سبکتگین آئیں ۔۔۔۔ تو مجھسے تمہاری مہک محسوس کریں ۔۔۔۔ میرے لیے اس عمر میں ۔۔۔ مزید کوئی تکلیف سہنا مشکل ہے ۔۔۔ اللّٰه حافظ” اپنیچادر کو کندھوں پر درست کرتے تیزی سے مڑ گئیں اور تیز قدموں سے باہر کا راستہ لیا ۔

فرحین شاہ بے دم سی صوفے پر گر گئیں ۔

“بی جان ۔۔۔۔۔ بی جان ۔۔۔۔۔ بی جان ” اور لاؤنج میں تینوں کی آوازیں بلند ہوئیں اور فرحین شاہ کی طرف بڑھیں ۔

🌹🌹🌹🌹🌹

_______ماضی______

“شکر ہے تم آج آئی ۔۔۔ تمہیں میں نے بڑی اہم خبر دینی ہے ” ارم جو کب سے ویٹنگ ایریا میں کھڑی سہیلہ کا انتظار کر رہی تھی کہ اس کے آتے ہی وہ تیز تیز بولی ۔

” اوہووو ۔۔۔۔ کیوں میرا انتظار ؟ خیریت ۔۔۔ پکا تم نے کام نکلوانا ہو گا ” سہیلہ اپنی شال کو کندھوں سے اترتی ہوئی بولی ۔

” کتنی بد تمیز ہو ۔۔۔ ” ارم نے اس کے کندھے پر تھپڑ مارا جس پر سہیلہ نے اسے آنکھیں دکھائیں ۔

” تمہیں میں نے یہ بتانا تھا کہ آج شاہ حویلی میں بڑی ہلچل ہے ۔۔۔۔ اور مجھے کوئی بتا نہیں رہا ” اداس سی شکل بناتی وہ پاس بینچ پر بیٹھ گئ ۔ چہرے پر دو انگلیوں سے نقاب پکڑا ہوا تھا بس آنکھیں ہی واضح تھیں جو ہلکے بھورے رنگ کی تھیں ۔

” کیوں ! ” سہیلہ نے نا سمجھی سے پوچھا ۔

” ارے یار یہ بڑوں کے درمیان سب جو کشمش پکتی ہے نا بچوں تک کہاں آنے دیتے ہیں ۔۔۔۔ بس اتنا پتہ لگا ہے کہ شاہ حویلی میں کوئی آ رہا ہے ” آنکھوں کو چھوٹی کرتے وہ پر سوچ نگاہوں سے بولی ۔

” ارے واہ ۔۔۔ میں نے سنا ہے کہ حویلیوں میں حب کوئی آتا ہے تو تب احتمام اور سجاوٹ دیکھنے والی ہوتی ہے ۔۔۔۔ بہن مجھے بھی لے جا نا اپنی حویلی میں ” سہیلہ نے پر جوش سے ہو کر اس کا بازو پکڑا ۔

” او بہن چھوڑو میرا بازو ۔۔۔ حلیہ دیکھو تم اپنا ۔۔ دوپٹہ گلے میں ہوتا ہے بال تمہارے مشکل سے کندھے تک ہیں اوپر سے میک اپ کرتی ہو تمہیں میں حویلی لے گئ تو میرا کالج آنا بند کر دیں گے اور کسی بھی شاہ زادے سے اٹھا کر شادی کر دیں گے ” ارم اس کی گرفت سے اپنا بازو نکالتے جھرجھری لیتے بولی اور اس پر سہیلہ کا جاندار قہقہہ لگا ۔

” مجھے کبھی کبھی لگتا ہے تم قید خانے سے نکل کر آئی ہو ۔۔۔ اتنے اصول ۔۔۔ اتنی پابندیاں ۔۔۔ اففف ۔۔۔ میرے گھر ہوں تو میں تو گھر سے بھاگ جاؤں یا ایک دن میں ہی اللّٰه کے پاس سیدھا ” سہیلہ نے آنکھیں مٹکاتے ہوئے کہا ۔

” چلو فرحین تو لیکچر لینے چلی گئی ہے ہمیں بھی چلنا چاہیے ” ارم نے وقت دیکھتے اس کا ہات پکڑا اور کلاس کی طرف بڑھ گئی ۔

________

” آپ جانتے ہیں نا شاہ جی کہ فرحین کی بات ہمارے بیٹے یوسف سے جڑی ہے اور ارم کا نام ہمارے سامر سے جڑا ہے ۔۔۔۔ تو زکیہ نے ابھی تک کیوں نہیں اپنی بچیوں کو بتایا کہ ان کی شادی یہاں ہو گی ! ” بی جان پریشانی سے بول رہی تھیں ۔

” کیوں پریشان ہوتی ہو ۔۔۔ وہ یہیں کریں گے بھلا آج سے پہلے کبھی شاہ خاندان میں سید خاندان میں شادی بھی کسی اور خاندان یا ذات میں ہوئی ہے ! جب بچپن میں جوڑ دیے جائیں نام تو وہیں ہوتے ہیں ہر صورت ۔۔۔ اب بھی ایسا ہی ہو گا ” شاہ جی نے مونچھوں کو تقؤ دیا اور کمرے سے باہر چلے گئے ۔

Web Special Novel,haveli based romantic novel,

لیکن بی جان پریشان تھیں ۔ کیونکہ ان کا سامر اس بات سے انجان تھا کہ اس کا نام ارم سے جڑا ہے کیونکہ وہ بچپن سے اپنی خالہ کے پاس پنڈی رہتا تھا اپنے گھر کی نسبت پھر یوسف اور سامر اکھٹے پڑھائی کے لیے امریکا چلے گئے ۔ لیکن یوسف شاہ کو بی جان یاد کرواتی رہتی تھیں کہ اس کا نام فرحین سے جڑ چکا ہے جسے کبھی یوسف شاہ نے دیکھا نہیں تھا ایک حویلی میں رہتے ہوئے کیونکہ اس کا زیادہ وقت حویلی سے باہر گزرتا تھا .

یوسف شاہ کو بورڈنگ سکول میں ڈالا تھا ۔ جس کی وجہ سے وہ مہینہ میں ایک بار ملنے آتا جس پر کوئی بھی لڑکی سامنے نا آنے پاتی ۔

جب بڑے ہو کر وہ امریکہ جانے لگا تو دلی خواہش تھی کہ وہ فرحین کو دیکھ لیں لیکن ایسا ممکن نا. ہو سکا ۔ ان وقتوں میں بڑوں کا ڈر اور خوف بہت ہوتا تھا ۔ اور یوسف شاہ تو کسی صورت ان مردوں میں سے نہیں تھے جو شاہ حویلی کے اصول توڑے جن میں صاف تھا کہ شادی سے پہلے ایک دوسرے کو دیکھنا بے شرمی ہے ۔ اور یوسف شاہ بے شرم نہیں تھے ۔

امریکا جاتے وقت بی جان نے سختی سے دونوں بھائیوں کو کہا کہ کہیں باہر دل نا لگا لینا جس پر دونوں نے مطمئن کیا کہ وہ ایسے نہیں اور ایسا. ہی تھا دونوں کے اندر فلرٹ کرنے والا کیڑا نہیں تھا ۔

اب حویلی کو سجایا جا رہا تھا کیونکہ حویلی میں ان دونوں کی واپسی تھی ۔

_______

 فرحاد اور مدثر دو ہی بھائی تھے ۔

فرحاد کے چار بچے تھے اور مدثر کی بس دو بیٹیاں ۔

دونوں بیٹیاں یعنی فرحین اور ارم کا نام فرحاد شاہ کے بیٹے یوسف اور سامر کے ساتھ بچپن میں طے ہو گیا تھا ۔

لیکن مدثر نے صاف کہا تھا کہ وہ بچوں کو بتا کر ان کا دماغ اس طرف نہیں لگانا چاہتے ۔جب بڑی ہوں گی ان کی بیٹیاں تو بتا دیں گے ۔ ویسے بھی کون سا سید خاندان میں باہر شادی کی اجازت تھی تو اس بات پر مسئلہ نا ہوا ۔

ادھر سامر کیونکہ اپنی خالہ کے پاس ہوتا تھا تو اسے بھی لا علم رکھا گیا ۔ بڑوں کے مطابق بچوں کی کیا مجال کے منع کریں ان کے فیصلے کو ۔

ادھر مدثر کی دونوں بیٹیاں بے حد حسین تھیں ۔ فرحین بڑی تهی اور ارم چھوٹی ۔ دونوں کا حسن ہاتھ لگانے سے میلا ہوتا تھا لیکن اگر مقابلہ کیا جاتا تو ارم زیادہ حسین تھی ۔ دونوں ہی شاہ حویلی کے اصولوں کے زیرِ سایہ پلی بڑھی تھیں ۔ پردہ نقاب اس وقت بہت سخت تھا. اور یہ دونوں ہی کرتی تھیں ۔ فرحین کا مزاج زرا سمجھدار والا تھا ۔بہت شوخ نہیں تھا لیکن ہلکی پھلکی شوخی اپنے مزاج میں رکھتی تھی ۔ جبکہ ارم وہ ایک قسم کا پٹاخہ تھی ۔بہت چنچل بہت نٹکھٹ بہت چلبلی سی ۔ اپنے والدین اور بہن کی لاڈلی لیکن جب خاندان کے سامنے ہوتی تو ان دونوں بہنوں سے زیادہ سنجیدگی کوئی نہیں لے سکا تها ۔

نا فرحین جانتی تهی کہ اس کا نام کس سے جڑا ہے نا اس کے دل میں ابھی تک کسی مرد کا پہرا تھا. نا ارم جانتی تهی لیکن وہ خوابوں کو پورا کرنا پسند کرتی تھی ۔ اسے کہانیوں کی طرح کا راج کمار چاہیے تھا جو اس سے بے پناہ محبت کرے ۔

دونوں کی قسمت میں کیا تھا یہ تو کسی کو بھی علم نہیں تھا ۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Read haveli based romantic novelsaaiyaan , Urdu novel at this website Novelsnagri.com for more Online Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit this website and give your reviews on this Website. you can also visit our facebook page for more content Novelsnagri ebook

2 thoughts on “haveli based romantic novel | saiyaan Epi#19”

Leave a Comment

Your email address will not be published.