Web Special Novel, haveli based novel, online urdu novels,saaiyaan,

haveli based romantic novel, saaiyaan Epi #6

haveli based romantic novel, saaiyaan novel based on Forced marriage & novel is full of emotions, romance, suspense & thrill, Story of a girl who wants to follow the society style.

Web Special Novel, haveli based romantic novel, saaiyan novel,

Category: Web special novel 

Novel name : Saaiyaan Episode 6

Written by: Bisma Bhatti

haveli based romantic novel, saaiyan novel based on Forced marriage & novel is full of emotions, romance, suspense & thrill, Story of a girl who wants to follow the society style.

 

” چلو تم سو جاؤ ۔۔۔ میرے ساتھ کوئی مووی نا دیکھنا “ملیحہ نے عنابیہ کے بازو پر چٹکی کاٹتے کہا: عنابیہ نے سی کرتے اسے خونخوار نظروں سے گھورا۔
ملیحہ منہ بنا کر بیٹھ گئ۔ اس کا بےحد من کر رہا تھا پنجابی فلم دیکھنے کا۔ پوری شاہ حویلی میں علم نہیں تھا کہ ملیحہ شاہ جی کتنی بڑی شیدائی ہیں فلمز ڈراماز اور سونگز کی۔ چھپ چھپ کر سنتی اور دیکھتی تھی۔ لیکن اسے اپنے اصول اور حدود کا علم تها۔
اس کے ان شغل کی رازداں زمر اور عنابیہ تھیں بس۔ اور اب وہ اسکے کمرے میں یو ایس بی لے کر ائی تهی تا کہ لیپٹاپ میں لگا کر دیکھے مگر عنابیہ کو نیند آ رہی تھی ۔اور وہ اب منہ بنا چکی تھی۔ فلم دیکھنے کا بھی تبھی مزا آتا ہے جب کوئی آپ کے ساتھ بیٹھا ہو ۔ہنسی دوبالا ہو جاتی ہے ۔
” کل دیکھیں گے یار پکا “عنابیہ نے اسے بیڈ سے دھکا دیتے کہا:ملیحہ کا حیرت سے منہ کھل گیا جو اسکے منہ بنے کی بھی فکر نہیں کر رہی تھی اور اسے باقاعدہ دھکا دے رہی تھی ۔
“شاباش اے۔۔۔ دیکھو زرا کتنی بد تمیز ہو۔۔ اب تم میرے پاس صبح آنا زرا۔۔ نا دیکھو۔۔ میں ماہم کے پاس چلی جاؤں گی۔ “اسکے بازو پر پھر سے چٹکی کاٹ کر منہ چڑھا کر دروازے کی طرف تیزی سے بڑھی
لیکن رکی دوپٹہ جو کندھوں پر تھا اسے اچھے سے سر پر لیا اور ایک ہاتھ سے سائیڈ پکڑ کر چہرے کے پاس کیا اور باہر نکل گئ۔ پیچھے عنابیہ اسے غصے سے گھورتی اپنا بازو مسل رہی تھی.
وہ کمرے سے باہر نکلی تو کوریڈور میں اندھیرا تها۔
وہ دبے قدم اٹھا رہی تھی ۔ماہم کا کمرہ نیچے تھا ۔
وہ آرام سے چلتی سیڑھیوں تک آئی۔ اور دبے قدموں سے سیڑھیاں اتری۔ کیونکہ اسے ڈر تھا کہ کوئی جاگ نا رہا ہو تو ڈانٹ پڑ جائے گی۔
سیڑھیاں اتر کر وہ ماہم کے کمرے کی طرف جانے لگی تھی کہ اسنے سوچا کیوں نا ساتھ کچھ کھانے پینے کی چیزیں لے لی جائیں۔ اسی سوچ پر لبیک کہتے وہ اسی چال سے کچن کی طرف بڑھی۔ لائٹ جلانے کی زحمت نہیں کی کیونکہ اسے چپا چپا تو پتہ تھا اس حویلی کا۔
“یہ آواز کہاں سے آ رہی ہے؟” زامل جو ابھی ڈیڑے سے واپس آیا تھا ۔ اپنے کمرے میں جانے لگا تھا کہ اسے کھڑاک کی آواز سنائی دی وہ وہیں ٹھٹھک کر رکا۔ اتنی بڑی حویلی تھی کوئی بھی چور آ سکتا تھا ۔
آواز کی سمت کچن کی طرف تھی۔ کچن سیڑھیوں کے نیچے بنا ہوا تھا یعنی سیڑھیوں کے نیچے دروازہ تھا اور پھر اندر کھلا سا کچن بنایا گیا تھا ۔
وہ بھی رات کا خیال کرتے دبے قدموں سے کچن کی طرف بڑھا۔ تاکہ جو بھی ہو وہ کسی کے آنے پر کوئی ہوشیاری نا دکھائے ۔
کچن کے دروازے پر قدم روکے۔ اندر سے کھٹ پٹ کی آواز آ رہی تھی جیسے کوئی کچھ کر رہا ہو مگر بڑے آرام اور دھیان سے کہ کہیں شور نا ہو جائے۔
زامل نے اپنے کف کہنیوں تک موڑ لیے ۔ اور دبے قدموں سے اندر داخل ہوا۔
ملیحہ بڑے دھیان سے ہر چیز کیبنیٹ سے نکال رہی تھی ۔ چپس کے دو پیکٹ، کولڈ رنکس یعنی دو کوک کے کین اور بادام کا چھوٹا باکس ۔وہ ان چیزوں کو ایک تھال میں رکھ چکی تهی تا کہ اٹھانے میں آسانی ہو۔ سارا تھال اٹھا کر شلف پر رکھا۔
اس سے پہلے کہ وہ اپنا سامان لے کر باہر آتی۔ کسی نے اسکے منہ پر سختی سے ہاتھ رکھا اور دوسرے ہاتھ سے اسکے آگے سے گزار کر سختی سے اسے پکڑ لیا۔
وہ تو وہیں جم گئ۔ ایک دم خوف پورے جسم میں پھیل گیا ۔اس حات میں اسے وحشت سی ہوئی
زامل نے بڑی ہوشیاری سے اور پوری سخت پکڑ سے اسے اپنے شکنجے میں لیا تھا۔ کہ وہ نازک سی لڑکی اسکی گرفت میں تڑپ کر ساکت ہو گئ تھی ۔
دونوں ہی نہیں جانتے تھے کہ کون ہیں ۔
ملیحہ سے تو بولا بھی نہیں جا رہا تھا اتنی سختی سے اسکا منہ بند کیا ہوا تھا اوپر سے حواسوں پر چھاتی کلون کی خوشبو۔
“کون ہو تم!” سرد بھاری آواز میں اسکے کان میں پوچھا۔
وہ جو مزاحمت کرنے لگی تھی آواز پر جیسے رک گئی ۔ دل تو بری طرح سے دھڑک اٹھا تھا ۔ کانوں میں جیسے اسکی آواز نے عجیب بجلی سی ڈال دی تھی ۔ وہ ایک دم سن ہو گئ تھی ۔
” کون ہو تم۔۔۔ کس لیے آئے ہو؟ ہمت کیسے ہوئی شاہ حویلی میں قدم رکھنے کی ؟”  دوسرے ہاتھ سے اسکے آگے کمر تک دباؤ دیتے بولا آواز مدھم تھی مگر رعب وہی ازلی شاہوں والا تھا ۔
ملیحہ  شرم خوف سے کسمسائی۔ وہ جس کی گرفت میں اس وقت تهی اس کے تو وہ سامنے بھی نہیں جاتی تھی کجا اس کی اتنی قربت میں کھڑے ہونا اسکی تو روح فنا ہو رہی تھی ۔ اور شرم اپنی جگہ۔
ملیحہ نے لرزتے ہاتھوں سے اسکے ہاتھ پر زور دیا۔
اسکی گرفت سے زامل کو محسوس ہوا جیسے یہ کسی مرد کے ہاتھ نہیں اتنی پتلے اور نازک نازک سے!۔
” منہ سے ہاتھ ہٹا رہا ہوں شرافت سے جواب دو ” اسکی مزاحمت پر بھاری آواز سے کہا۔
ملیحہ کی سانسیں پھول چکی تھیں۔
زامل نے اسکے منہ سے ہاتھ ہٹایا۔
” ہہہ ۔۔۔۔ س ۔۔۔ ا ۔۔۔۔ ئی ۔۔۔ یں ” ملیحہ کی گہری سانس اسکے نام سے نکلی
زامل تو جیسے چونک سا گیا۔ یہ کیا تھا ۔
زامل نے اندھیرے میں ہی اس کے سر کو دیکھا کہ لڑکی؟ ہیں کیسے ؟
زامل تو پریشان اور عجیب کشمکش میں مبتلا ہو گیا تھا ۔
اس پر سے گرفت کمزور کی اور اسے گھما کر شلف سے لگایا۔
اپنی جیب سے موبائل نکالا اور اسکی ٹارچ نکالی۔
وہ تو پہلے ہی بری طرح ڈر گئ تھی اس طرح ٹارچ نکالنے پر وہ سمجھ گئ کہ اب یہ چہرہ دیکھے گا ۔
ملیحہ نے فورا سے چہرہ دائیں طرف موڑ لیا دوپٹے چہرے پر آ چکا تھا ایک طرح سے چہرہ چھپا لیا تھا ۔
زامل نے ٹارچ اس کی طرف کی تو اسے چہرہ دوسری طرف کیے پایا۔
” ک ۔۔کون!” اس کی اپنی آواز لڑکھڑا گئی اس کے دماغ میں عجیب جھکڑ چل رہے تھے ۔
ملیحہ نے نا سر اس طرف کیا اور نا بولی
اس نے آرام سے اس کا دوپٹہ اس کے چہرے سے ہٹایا۔
یہ کرنا تھا کہ دونوں ہی اپنی جگہ سٹل ہو گئے تھے ۔
ملیحہ کا سانس رک گیا تھا کہ زامل کے سامنے وہ اس طرح کھڑی ہے۔
زامل کا دل تو رک کر چلا تھا ۔ اس نے کونسا پہلے کبھی ملیحہ کو ایسے پاس سے دیکھا تھا ۔ اسے اچھے سے شاہ حویلی اور شاہ خاندان کے اصولوں کے بارے میں علم تھا وہ یہاں کے ریت رواجوں سے بھی بخوبی واقف تھا ۔
شاہ خاندان کے سب ہی لوگ حسین تھے۔ بچے تو بچے صحیح بڑے بزرگ بھی بزرگیت میں حسین تھے اور اس بات کا ثبوت تهے کہ اپنی جوانی میں وہ بلا کے حسین رہے ہوں گے۔
اور زامل نے بس ملیحہ کی ہمیشہ سائڈ لک دیکھی تهی کبھی ڈائریکٹ سامنے سے نہیں دیکھا تھا
اور جب اب اس کا چہرہ سامنے تھا تو اسے فوراً سے علم ہو گیا تھا کہ یہ ملیحہ ہی ہے۔
اس نے ٹارچ کو نیچے کر دیا۔ اور دو قدم کا فاصلہ بنا دیا۔ زیادہ دور جانے کو دل بھی نہیں چاہ رہا تھا کہ ایسے فاصلہ زیادہ بنا دے. بنا دیکھے اس نے ملیحہ سے محبت کی تھی اس کے علاوہ کسی اور کو اپنے دل میں نہیں بسایا تھا ۔اور آج اس کے سامنے تھی اپنے دو آتشہ روپ و حسن کے ساتھ اس کا دل تو رک رک کر دھڑک اٹھا تھا ۔
” بتایا ۔۔۔ کیوں نہیں ۔۔۔ کہ آپ ہیں !؟” ہلکی سی شرمندگی سے کہا۔ اب اس پر ایک قسم کا حملہ ہی کیا تھا منہ دبا کر اور دوسرے ہاتھ سے اس کو مکمل جکڑ کر۔ ڈھیڑوں شرم نے آن گھیرا تھا۔
” آ۔۔۔ پ ۔۔ نے ۔۔ بولنے ۔۔ ککب ۔۔۔ دیا ” ملیحہ نے بھی ہچکچاتے منمناتے کہا وہ تو کبھی اس کے سامنے نہیں آئی تھی اور اب کیسے اس کے سامنے کھڑی رہتی۔
” سوری ” ہلکی سی آواز سے کہا
ملیحہ نے ملجگے اندھیرے میں اس کی طرف چور نگاہوں سے دیکھا دوپٹہ اب چہرے پر ہاتھ سے کر رکھا تھا ۔
” آپ کا ہی ہوں ۔۔۔۔ دیکھ سکتی ہیں”شریر لہجے میں بولا تا کہ اس شرمندگی کو جلد ختم کیا جا سکے
” یا۔۔ اللّٰه ” ملیحہ نے زور سے آنکھیں میچتے دل میں کہا۔ جس نے اسکی چور آنکھیں بھی پکڑ لیں تھیں
 اس کو اندھیرے میں بھی اس کی چور نگاہوں نظر آ گئی تھیں یا یہ کہ لیں کہ اس کی ساری حسیات ہی ملیحہ کی طرف تھیں۔
زامل نے مسکرا کر اسے دیکھا جو شرم سے خود میں سمٹ رہی تھی ۔
” ایک بات پوچھوں !؟” مدھم آواز میں پوچھا: ملیحہ نے سر فقط ہلایا زبان تو ہلنے سے جواب دے گئ تھی ۔
“مجھ سے چھپ رہی تھیں نا ؟ ” بھاری بوجھل لہجے میں پوچھا:ملیحہ کو اپنے ہاتھ بھیگتے محسوس ہوئے
” ن۔۔۔ نہیں تو” لڑکھڑاتی زبان سے کہا:” اچھا ” اس کے دونوں اطراف میں ہاتھ رکھتے گھمبھیر لہجے میں کہا:ملیحہ خود میں مزید سمٹی” مجھے لکن چھپائی کا کوئی کھیل پسند نہیں ۔۔۔ دوبارہ مت چھپیے گا۔۔۔ ورنہ۔۔۔ اگر میں نے ڈھونڈا نا۔۔۔ تو آپ سے پھر۔۔ چھپنا مشکل ہو جانا” اندھیرے میں اس کے سفید ہاتھ پر نظریں ٹکائے خمار آلود آواز میں کہا:ملیحہ کا سانس تو سوکھنے کے برابر تھا اتنی بچی نہیں تھی کہ اس کی زو معنی بات نا سمجھے.
وہ ایک تخیلاتی دنیا کی لڑکی تھی فلمز ڈرامے سٹوریز ناولز افسانے یہ سب اس کے دلپسند کام تھے جو وہ سب سے چھپ کر کرتی تھی۔ اور اتنا تو اسے اچھے سے پتہ لگ جاتا تھا کہ کونسی بات کس لہجے میں کہی جا رہی ہے اور اس کا جواب کتنا گہرا ہے۔
وہ دوپٹے کی آڑ ميں شرم سے لال ہو گئ تھی
” یہ سرخ رخسار ان کے کہہ رہے ہیں داستان کوئی
جن سے ہے محبت بے پناہ شاید ۔۔۔ سامنے ہیں وہی ” وہ اس کی حالت سمجھتا بھاری فداوانہ انداز میں بولا
ٹارچ پکڑ کر پاس شلف پر پڑے تھال پر رکھ دی کچن میں روشنی ہو گئ تھی اتنی کہ چہرے کے تاثرات واضح ہو جائیں۔
ملیحہ اس کے شعر کہنے پر بے ساختہ مسکراتی چہرہ موڑ گئ ۔
“س۔۔ا۔۔۔ ئیں جانے دیں” اپنی حالت کے غیر ہونے سے بچاتے وہ ہکلا کر بولی: ” پتہ ہے کتنا انتظار تها آپ کا کہ میں جب آؤں تو کم سے کم آپ مجھسے ملنے آئیں یا کم سے کم مجھے ہی دیکھنے آئیں ” وہ اسسے شکایت کر رہا تھا جو ایک سیکنڈ کیلیے بھی اس سے ملنے نہیں آیی نا دیکھنے کی کوشش کی اور ایک یہ تھا جو موقع دھونڈ رہا تھا اسے دیکھنے کے جو کہ ہاتھ نہیں لگ رہا تھا ۔
“ہا۔۔۔ یہ جھوٹ ہے۔۔ میں آئی تھی”وہ اپنے پر لگے الزام پر ایک دم بولی
زامل نے آئیبروز اچکائے کہ اچھا جی آپ آئیں اور ہمیں علم نا ہو؟
“قسم لے لیں ۔میں آئ تھی جب آپ پھوپھو کے پاس ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے۔۔۔ میں نے دیکھا تھا ۔۔سچ میں ۔۔۔سالار سکندر کی قسم”ملیحہ نے اس کے تاثرات دیکھتے اپنی شہہ رگ کو پکڑتے قسم اٹھائی ۔بلکل بچی ہو گئ تھی اس بات پر ۔
” کیا؟۔۔۔ کون سالار سکندر !” زامل کے ایک سیکنڈ میں ماتھے پر بل پڑے کس لڑکے کا نام لے رہی تھی اور پھر قسم اٹھا رہی تھی
” ہائے۔۔۔ آپ کو سالار سکندر کا نہیں پتہ!؟ ہم دونوں کی پھر کیسے نبھے گی!؟” وہ تو صدمے سے بولی کہ جس سے شادی ہو گی وہ اس کے کرش کو نہیں جانتا کیسے گزارا کرے گی اپنا اس ادب کی زندگی سے دور شخص کے ساتھ !
“سچ سچ بتاؤ یہ کون ہے !؟” وہ ایک دم سے اسکے بازوؤں کو جکڑتا دانتوں کو پیس کر بولا
” توبہ ۔۔۔ ہےسائیں۔۔۔ میرا فیورٹ ناول کا ہیرو ہے۔۔ آپ اسے نہیں جانتے؟۔۔ اور چھوڑیں مجھے” وہ اس کی حالت سے بے خبر اپنے ناولی ہیرو کو نا جاننے کے غم میں تھی اور سونے پر سہاگہ اس نے اسکے بازو بھی سختی سے پکڑے تھے
“خبردار۔۔ خبردار دوبارہ میں ایسا کوئی مزاق سنوں” اس کے بازوؤں کو چھوڑتا وارن کرنے کے انداز میں بولا
” سائیں۔۔ ایک سے اتنے جیلس!؟” ملیحہ غمزدگی سے بولی اسوقت کوئی شرم کوئی ہچکچاہٹ اس کے آڑے نہیں آ رہی تھی ناول کا پٹارہ جو کھل گیا تھا اورملیحہ کے سامنے ایسی باتیں ہوں تو پھر تو کون تے میں کون والا حساب ہو جاتا۔
“کیا مطلب؟۔۔۔ اور بھی کوئی ہے؟” وہ اس کی طرف نا سمجھی سے بولا ایک منٹ کیلیے اسے ملیحہ ایک عجوبے سے زیادہ نہیں لگی تھی
” ابھی آپ اکیلے سالار سے جل گئے۔۔ جب آپ کو میں جہان سکندر عالیان کارل میجر عاص ایمان فارس غازی ھاشم کاردار سعدی مصحف صائم زیدی صمصما زیدی ساحل شاہ دریاب شاہ یارم صارم کے نام بتاؤں گی تو مجھے تو آپ مار ہی دیں گے ابهى بازو پکڑے تھے پھر گلہ پکڑ لیں گے”وہ انگلی کے پوروں پر نام گنواتی آخر میں روندھی شکل کے ساتھ بولی۔ بہت صدمہ تھا کہ اس کا منگیتر ناول کی دنیا سے بے خبر تھا
زامل ہونقوں کی طرح اس کی شکل دیکھ رہا تھا جو نجانے کس کس کے نام لے رہی تھی یقیناً یہ بھی ناول کے شاہکار ہی ہوں گے ۔
“ابھی۔۔ آپ نے مجھے یہ نام بتانے تھے؟ میرے خیال سے آپ بتا چکی ہیں”زامل نے دانت پیستے کہا برداشت سے باہر تھا اس کے ہونٹوں اور زبان سے کسی اور کا نام اور یہ تو ایک بھی نہیں تھا
“ابھی اتنے رہتے ہیں ۔۔۔اورآج کل کا میں نے کرش بتا دیا ۔۔۔ آپ نے تو میری روح فنا کرنے میں سیکنڈ بھی نہیں لگانا سائیں” کمر پر ہاتھ ٹکاتی دوسرے سے انگلیوں کے اشارے سے اسے بتا رہی تھی صحیح وہ لڑکی لگ رہی تھی جسے قطعاً نہیں پسند تھا کہ اس کے ہیروز کی توہین کی جائے
“ملیحہ ۔۔۔ یو نیڈ ٹو ریسٹ۔۔ یہ فضول چیزیں نا پڑھا کرو”  خود کو مزید کنٹرول کرتے کہا کیونکہ اس کی بس ہو رہی تھی اس کے منہ سے کسی اور کے نام سن کر کوئی پتہ نہیں تھا کہ وہ خود پر کنٹرول کھو دیتا اور وہ خوفزدہ ہو جاتی
“سائیں۔۔ ایک بات سن لیں۔۔۔ اگر میرے ناولز اور ہیروز کو فضول کہا نا۔۔۔ تو بہت برا ہو گا” اس کی طرف انگلی کرتے کہا ساتھ ہی دوپٹہ اپنے چہرے پر غصے سے کر لیا
زامل اسکے پھولے سرخ گالوں پر مسکرایا دونوں اطراف پر ہاتھ رکھے
“کیا کر لیں گی آپ؟” گھمگھیر آواز سے کہا
” یہ زیادہ سوفٹ وائس میں بات نا کریں مجھسے ۔۔۔ میں بلکل بھی شرمانے والی نہیں ہوں نا ہی میرا دل اایک سو بیس کی سپیڈ پکڑنے والا ہے نا ہی میری ڑیڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہو گی نا ہی میری ہتھیلیاں بھیگیں گی نا ہی میری روح فنا ہونےو الے ہو گی سمجھے آپ !” وہ اس کی طرف دیکھتی ترخ کر بولی جتنے بھی رومانوی سین پڑھے تهے آج تک ناولز میں ان میں سے ٹاپ موسٹ فیلنگز پر ہیروئن کی یہی پڑھی تھیں جب کوئی ہیرو اس کے پاس آتا ہے۔  اور وہ زامل کو بھی بتا رہی تھی کہ مجھسے ایسی امید نا رکھے
” کیا؟” زامل چونک کر بولا اس کی ساری باتیں اس کے سر سے گزری تھیں مطلب کیا بول رہی تھی وہ ۔یہ سب ہے کیا تھا ؟
“یہی ۔۔ میں بات کروں گی نہیں آپ سے۔۔ رخصتی لیٹ کروا دوں گی” اس کے سینے پر زرا سا زور دے کر خود سے دور کرتے کہا
” اچھا۔۔۔ آپ سے پوچھے گا کون اس سب میں !؟” زامل ہنس دیا اس کی کریزینس دیکھ کر جو ناولز کیلیے کیا بول رہی تھی ۔ جھلی نا ہو تو۔
“ہم لڑکیاں جو ہوتی ہیں نا۔۔۔ جن کو ناولز سے بڑا پیار ہوتا ہے ۔۔یاد رکھیے جب مردوں کو انگلی پر نچا سکتی ہیں تو۔۔۔ رخصتی لیٹ کروانے کیلیے کونسے ہمیں مہنگے پاپڑ بیلنے پڑنے ۔۔۔۔ ہمم!؟” اس کی خوبرو شکل پر نظریں گھارتے وہ اسے چیلنجنگ انداز میں بولتے نظر آئی
زامل کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ سامنے کھڑی لڑکی ایک پل میں کتنے رنگ بدل رہی تھی ۔ پہلے شرمیلی پھر شرم کا اتا پتہ نہیں پھر عجیب چیلنجنگ۔
“یو آر کریزی” زامل نے ہنستے کہا:” م۔۔۔۔ ایک منٹ۔۔ سائیں۔۔کوئی آ رہا ہے” اس پہلے وہ اپنی تعریف کرتی کسی کے پیروں کی تھاپ پر اس کے کان کھڑے ہوے ہراساں نگاہوں سے اس نے زامل کو دیکھا۔
زامل بھی پریشان ہو گیا یہ عشق و عاشقی میں پہلی باری ہی ہوا تھا کہ بیچاہ پہلی ملاقات میں ہی پھنس رہا تھا اسے تو نا بہانے بناے آتے تھے ناہی جھؤٹ بولنا اور چھپنا تو بلکل نہیں ۔
“میں چلتا ہوں” زامل کو جو سمجھ آیی وہ کہہ دیا
“ہااااا۔  کتنے آپ وہ ہیں۔۔ مجھے پھسا کر جا رہے ہیں ۔۔ ناول پڑھا کریں تا کہ پتہ چلے ہیرو کو کیا کرنا چاہیے ایسے موقعوں پر” وہ اس کا بازو پکڑتی نیچی آواز میں دانت پیس کر بولی اسے ایک دم سے غصہ آ گیا تھا زامل پر جو اسے چھوڑ کر جا رہا تھا کتنے ناولز کے ایسے سین اس کے زہن میں گھومے تھے اور ان سارے سین میں ہیرو بھاگا نہیں تھا اور ایک اس کی اصل دنیا کا ہیرو تها جو بھاگ رہا تھا ۔
“ناول نامہ بند کرو۔۔۔ کیا کریں بتاؤ” اپنے بازو پر موجود اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیتے کہا: قدموں کی چاپ کی آواز تیز تر ہو رہی تھی ۔
“ادھر آئیں” اس کے ہاتھ میں گرفت کرتے اس تیزی سے فرج کی سائیڈ پر لے گئ۔ فرج کی سائیڈ پر دونوں کھڑے ہو گئے۔
منظر زرا اس طرح تھا زامل دیوار کے ساتھ کھڑا تھا اور وہ اس کے سامنے ۔ فرج دو تھیں تبھی و دونوں چھپ گئے تھے ان کے پیچھے۔
دروازہ کھلا۔ملیحہ نے اس کے بازو پر گرفت کی اور آنکھیں زور سے بند کر لیں زامل کی ہنسی مشکل سے رکی
“یہ تھال کس کا ہے!؟۔۔ میں لے جاتی ہوں” ماہم جو پانی کا جگ بھرنے آئی تھی شلف ہر تھال دیکھ کر رکی
“لیکن۔۔۔ یہ موبائیل ۔۔۔بھائی کا لگ رہا ہے” تھال پر پڑے موبائل پر ماہم نے آنکھیں چھوٹی کرتے کہا:”یار۔۔شٹ” زامل نے لب دانتوں میں دبائے.
“آپ لڑکے کتنی غلطیاں کرتے ہیں نا”ملیحہ نے دبی آواز میں اسے آنکھیں دکھائیں زامل نے آئی برو اچکا کر اسے دیکھا جو پٹر پٹر اس کی بےعزتی کر رہی تھی کب سے”چلیں میں دے دوں گی” ماہم نے خود سے کہا پانی بھرا اور کچن سے باہر چلی گئی اور ٹارچ بھی لے گئ اب تو بلکل اندھیرا ہو گیا تھا.
“اوف۔۔۔ اب تو نظر بھی کچھ نہیں آ رہا”زامل نے کہا:ملیحہ نے اندھیرے میں اپنی پوزیشن کو محسوس کیا
اس کے بے حد قریب اسکے بازو کو سختی سے جکڑے کھڑی تھی بس فاصلے کے لحاظ سے سینے سےلگنا رہ گیا تھا ۔ اسے ایک دم ڈھیروں شرم نے آن گھیرا تیزی سے اسکا بازو چھوڑتی اس سے فاصلہ بناتی سائیڈ سے نکل آئی
“ملیحہ۔۔۔ آپ کہاں؟” وہ اس کے فاصلہ بنانے پر بولا کچھ پل ہی صحیح مگر دونوں کی اچھی فطرت نے دونوں میں کوئی ڈر خوف نہیں آنے دیا ۔ دوست جیسی فیلنگز سے وہ اس وقت بات کر رہے تھے ۔ یا کہہ لینا صحیح کہ ملیحہ نے کچھ اور فیل کرنے ہی نہیں دیا.
“سائیں۔۔ مجھے کچن میں نہیں رہنا ساری رات” دروازے کے پاس جاتے  ہلکی آواز میں کہا
ہلکی آواز تهی مگر اس تک پہنچ گئ ۔
“اب کب ملو گی” اس کی اب بھاری گھمگھیر آواز پاس سے آئی اتنا بے آواز دبے قدموں سے کوئ کیسے چل سکتا تھا ؟
اس نے جواب نا دیا اور اپنے ڈولتے دل کو سنبھالتی تیزی سے کچن سے باہر نکل گئ۔
زامل نے کچن کے دروازے میں کھڑے ہو کر اسے دیکھا جو دوپٹے کو صحیح کرتی تیزی سے اپنے کمرے میں جا رہی تھی ۔ اس کی حالت وہ جان گیا تھا ۔ اس کے دل کی حالت جاننے کیلیے زامل سعید شاہ کو کسی ناول کی ضرورت نہیں تھی۔
اسکی باتوں کے حصار کو اپنے ارد گرد محسوس کرتے وہ ہنس دیا۔
🔥تیری مسکان نے دیوانہ بنا رکھا تھا مجھے🔥
🔥لیکن تیری باتیں تو قیامت نکلیں غضب نکلیں🔥
” شاہ سائیں ۔۔ ۔۔ خبر لایا ہوں آپ کیلئے ” داور نے ادب سے کیف کے سامنے کھڑے ہوتے کہا
کیف جو ابھی ڈیرے پر آیا تھا زمینوں کا حساب دیکھنے اس کی آمد پر فائلوں سے سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا۔
“بولو”یک حرفی بات کی۔
“سائیں۔۔۔۔ کھوکھر کا بیٹا مر گیا ہے”داور نے رک کر الفاظ ادا کیے۔
کیف نے چونک کر اسے دیکھا ۔
“کیا۔۔۔ کب؟”کیف کے ایک دم سے پریشانی اور خوف سے پسینے چھوٹ گیے۔آخر وہ ہو ہی گیا جس کا ڈر تھا ۔
“سائیں ابهى آدھا گھنٹہ پہلے”داور نے نے اسی ادب میں جواب دیا
کیف کا جسم ایک دم سے ٹھنڈا سن ہو گیا۔
یہ کوئی عام خبر نہیں تھی یہ بہت بڑی اور بری خبر تھی شاہ حویلی کیلیے۔
“مجھے ۔۔ آغا جان سے ملنا ہے ابھی۔۔ گاڑی نکالو”کیف نے تیزی سے فائل بند کرتے کہا۔
داور بھی اسکی بات پر سر ہلاتا باہر گاڑی نکالنے کی طرف چلا گیا۔
کیف نے بے چینی سے اپنے ماتھے کا پسینہ صاف کیا۔
“میں ۔۔ اپنی زمر کو کچھ ۔۔ بھی ہونے نہیں ۔۔۔دوں گا۔۔۔کبھی نہیں ۔۔میں۔۔شاہ۔۔حویلی کی کسی بیٹی کو۔۔کچھ نہیں ہونے دوں گا”کیف کا دل بری طرح سے خوف سے لرز رہا تھا ۔ آج تک دوسروں کے پنچایت میں فیصلے سنے تهے اور انصاف کی بنیاد پر سب فیصلے ہوتے تھے ۔
اب زندگی نے کیسا موڑ دکھا دیا تھا کہ اب اسکی زندگی کے فیصلے ہونے تھے۔ نجانے اب کیا مطالبہ کیا جانا تھا ۔نجانے اب کس نے خون کی یا پھر جان کی یا پھر خوشیوں کی بلی چڑھنی تھی ۔
💜💜💜💜💜💜
“اس۔۔۔گڈ مارننگ ایوریون”ماہم جیسے ہی ڈائننگ ہال میں آئ تو سلام کرنے لگی تھی مگر احسام کو ٹیبل پر بیٹھے دیکھا تو ساتھ ہی اسے جلانے کیلیے غصہ دلانے کیلیے ایسے کہا۔
ٹیبل پر اس وقت بی جان، سہیلہ سامر، فضیلت فرید، احسام اور زوبیہ بیٹھے ہوئے تھے ۔زمر عنابیہ ملیحہ کچن میں ناشتے کی طرف تھیں۔ ناشتے کے برتن ابهى سیٹ ہو رہے تھے ۔زامل ابهى نہیں آیا تھا ۔
احسام کے اسکی آواز سنتے ہی ماتھے پر بل پڑ گئے اور جبڑا بھینچ گیا۔ بی جان نے بڑے دھیان سے احسام کی حالت کو نوٹ کیا۔ اور ماہم  کی دل جلا دینے والی مسکراہٹ لبوں پر آ گئی
“یہ تم کب سے گڈ ایوریون کرنے لگ گئی !؟” زوبیہ نے اس کی طرف حیرانی سے پوچھا
ماہم کی مسکان غائب ہو گئی اس نے اپنی مام کو دیکھا جنہوں نے اسکے ناٹک کا پردہ فاش کیا تھا
بی جان کو اس معاملے کی فلحال سمجھ نا آئی کہ آخر ماہم کیوں احسام کے سامنے اسے تنگ کرنا چاہتی تھی اور احسام کا غصہ ہونا؟ بھلا اسے ماہم میں دلچسپی نہیں ؟ اس سے آگے انہوں نے نہیں سوچا
“مام کچھ لوگوں پر سلامتی بھیجنے کو دل نہیں کر رہا۔۔۔ کیونکہ زندگی لمبی ہو گی تو ۔۔۔ منہ سے زہر بھی اتنا ہی لمبا اگلیں گے” ماہم نے ان کے پاس بیٹھتے کہا سنا وہ احسام کو رہی تھی جو اس کی سوچ کے مطابق لال پیلا ہو گیا تھا
“تائی جان۔۔۔ آپ نے مہمانوں کو بتایا نہیں کہ شاہ حویلی کے اصولوں میں سے ایک اصول یہ ہےکہ لڑکیاں کھانے کی میز پر مردوں کے ساتھ نہیں بیٹھتیں!” احسام نے چبا چبا کر کہا اس کے لہجے کی گرمی اور تپش صاف واضح تھی
“بی جان نے یہ بتایا تھا کہ شاہ حویلی کے بڑے ہی کٹھن اصول ہیں ۔۔۔ اور ماہم شاہ کو اپنے اصولوں کے علاوہ ان اصولوں میں دلچسپی نہیں” بی جان کی آواز سے پہلے ہی ماہم نے گلاس میں جوس ڈامتے کہا اسکا بھی لہجہ توہین سے کرخت ہو گیا تھا
“پری” سیف کی رعبدار آواز پر اس کا جوس منہ کی طرف لےجاتا ہاتھ رکا
“جاؤ کمرے میں”سیف کی تلخ آواز اس کی سماعتوں سے ٹکڑائی
ماہم بنا کچھ بولے اپنی جگہ کھڑی ہوئی
“بی جان” سامنے بیٹھیں بی جان کو مخاطب کیا
انہوں نے اسے دیکھا
” اس حویلی کے مرد خدا نہیں ہیں یاد رکھیے اور ماہم کسی کو مانے گی بھی نہیں ۔۔۔ یہ بھی یاد رکھیے” ان کی طرف نرم لہجے میں بولتی وہ سب نفوس کو  اپنی جگہ منجمد کر چکی تھی
احسام نے قہر برداری نگاہوں سے اسے دیکھا
“آنکھیں ٹھیک کر لو پوری زندگی پڑی ہے ایسے آنکھیں دکھانے کو” احسام کی سخٹ نگاہوں پر اس نے کہا اور اس کے جواب کا انتظار کیے بنا تن فن کرتی چلی گئی ایک پل کیلیے بھی سیف کی بات نہیں سنی نا اس کی طرف دیکھا
“یہ بد تمیزی تهی زوبیہ” فضیلت نے افسوس سے کہا
“فضیلت ۔۔ میری بیٹی لائیر ہے۔۔۔ شاہوں کا خون ہے اس میں ۔۔ وہ بد تمیزی نہیں کر سکتی۔۔ کچھ دھیان اب شاہ حویلی کے لوگوں پر بھی دے دینا چاہیے” ان کی طرف دیکھتیں ٹھہرے ہوئے لہجے میں زوبیہ شاہ نے جواب دیا اور اپنی جگہ سے اٹھ گئیں
لائیر کے نام پر احسام نے چنکتے زوبیہ کو  دیکھا ۔ اسے اب سمجھ آئی اتنی لمبی زبان اور حاضر جوابی کیوں تھی ماہم میں ۔
“ناشتہ تو کر لو زوبیہ” سہیلہ نے اس سے کہا: “مہمانوں کو میز پر بیٹھنے کی اجازت نہیں ۔۔۔ شاہ حویلی کے مردوں کے ساتھ” زوبیہ نے مسکرا کر طنزیہ لہجے میں کہا اور اپنے کمرے میں چلی گئیں۔
سہیلہ نے احسام کو دیکھا جو بنا تاثر کے اب ناشتہ کر رہا تھا جو ابھی زمر رکھ کر گئ تھی ۔
“جب بڑے بیٹھے ہوں تو زبان کو لگام دیا کرو تم دونوں ۔۔۔ شاہوں کی سات نسلوں کا غصہ تم دونوں میں آ گیا ہے” بی جان نے دونوں کو دیکھتے ڈانٹا
احسام نے سیف کو دیکھا جو لب بھینچ چکا تھا پھر اپنی تائی جان کو
“ہمارے یہاں آج تک کتنی دفعہ لڑکیاں ایسے بیٹھ کر کھاتی ہیں ؟!” احسام نے ان سے پوچھا
“اور بڑوں کے ہوتے ہوئے آج تک کس کی ہمت ہوئ ہے جواب دینے کی اپنی آواز اونچی اور لہجہ تلخ کرنے کی؟؟ ” بی جان نے اس سے زیادہ تیز لہجے میں پوچھا
احسام نے سر جھکا لیا
” وہ خالی ماہم کی ماں نہیں ۔۔۔ زامل کی بھی ماں ہے۔۔۔یاد رکھنا۔۔۔ مجھے زامل بہت عزیز ہے” فضیلت نے سنجیدگی سے کہا
احسام نے ان کو دیکھا جو کتنا کچھ ان چند  جملوں میں باور کرا گئی تھیں۔
 اس کے بعد میز پر خاموشی ہو گئ ۔
“اسلام علیم آغا جان” میز کی طرف آتے یوسف شاہ کو دیکھ کر سیف نے کہا باقی سب نے بھی سلام کیا
یوسف شاہ ڈھنے کے انداز میں کرسی پر بیٹھ گئے
“کیا بات ہے شاہ جی؟” بی جان نے ان کی پریشان صورت ہر پوچھا
سب ان کی طرف متوجہ ہو گئے
کچن کی کھڑکی سے زمر عنابیہ اور ملیحہ چوکنی ہوئیں کہ خیرہو
“کھوکھر کا بیٹا مر گیا ہے” آغا جان نے تھکے ہوے لہجے میں کہا
سب ہر جیسے سنپ لوٹ گیا ہو
بی جا کا چہرہ ایک دم سفید پڑ گیا
” نا کریں شاہ جی آپ ۔۔نے ۔۔کہا تھا ۔۔۔ کہ ۔۔ ا۔۔ایسا نہیں ۔۔ ہو گا”بی جا. کی سانس سیکنڈ میں پھولی ان کو ایک دم سے اپنے کیف کی فکر لاحق ہوئی
زمر کے تو جیسے ہاتھ پاؤں پھول گئے وہ اپنی جگہ لڑکھڑائی ک ملیحہ اور عنابیہ نے اسے سنبھالا اور پاس کرسی پر بٹھا دیا۔
“حوصلہ کریں بھابھی جان”فضیلت نے ان کا ہاتھ دباتے کہا
“میرا۔۔۔ کیف۔۔۔شاہ جی میرا۔۔۔کیف” وہ ہزیاتی انداز میں بولیں احسام اٹھ کر ان کے پاس آیا اور ان کے چہرے کر اپنے سینے سے لگا دیا وہ سمجھتا تھا کہ بی جان کیا سوچ کر ایسے گھبرا گئی ہیں
“اب!۔۔۔ کیا پنچائت بیٹھے گی۔ ؟” سیف نے پریشانی سے پوچھا
سہیلہ اور فضیلت نے پریشانی سے ایک دوسرے کو دیکھا
“ہمم۔۔۔ یہی ہو گا” آغا جان کے پاس بولنے کو الفاظ نہیں تھے۔ ان کے جوان بیٹے کی غصے میں کی گئ غلطی نے کس موڑ پر کھڑا کر دیا تھا ۔ اب یا تو جان لا فیصلہ ہونا تھا یا پھر شاہ حویلی کی کسی حیٹی کا مقدر دوبارہ سے لکھا جانا تھا ۔

کمنٹس میں ضرور بتائیں۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناول نگری میں ہر نئے پرانے لکھاری کی پہچان، ان کی اپنی تحریر کردہ ناول ہیں۔ ناول نگری ادب والوں کی پہچان ہے۔ ناول نگری ہمہ قسم کے ناول پر مشتمل ویب سائٹ ہے جو عمدہ اور دل کو خوش کردینے والے ناول مہیا کرتی ہے۔
ناول کا ریوئیو دینے کیلئے نیچے کمنٹ کریں یا پھر ہماری ویب سائیٹ پر میل کریں۔شکریہ

novelsnagri786@gmail.com

Read haveli based romantic novel, saaiyan novel at this website Novelsnagri.com for more Online Urdu Novels and  Afsanay that are based on different kind of content and stories visit this website and give your reviews. you can also visit our facebook page for more content Novelsnagri ebooks.

Leave a Comment

Your email address will not be published.