Web Special Novel, haveli based novel , saaiyaan

haveli based Urdu novel, saaiyaan ,Epi #16

haveli based Urdu novel, revenge based, urdu novels, online Urdu novels, saaiyaan , novel is full of emotions, romance, suspense & thrill, Story of a girl who wants to follow the society style. Novel written by Bisma Bhatti.

Web Special Novel, haveli based novel, saaiyaan

#سائیاں

#از_قلم_بسما_بھٹی

#قسط_16

” کیا حال ہے شیرا ؟ ” سیف داخلی دروازے سے اندر آتا فون پر بولا ۔

” میں ٹھیک تو سنا ۔۔۔ یار کی خبر ہی لے لیا کر ۔۔ وہاں جا کر تو بھول ہی گیا مجھے ” آگے سے دل شیر نے سیف جو شرم دلانا چاہی ۔

” ارے نہیں نہیں ۔۔۔ بس کام بہت بڑھ گیا ہے ۔ ایسا ہو سکتا ہے میں اپنے یار کو بھول جاؤں ؟ ” سیف نے مسکراتے کہا ۔ ساتھ ساتھ وہ چلتا اب لاؤنج میں آ گیا تھا ۔

” ایک گڈ نیوز ہے ۔۔۔ میں پاکستان آ رہا ” آگے سے دل شیر نے سیف کو خبر سنائی ۔

” ارےےےے واہ ۔۔۔۔ موسٹ ویلکم ۔۔۔ تو نے تو دل خوش کر دیا میرا ” سیف خوشی سے بولتا صوفے پر ہی بیٹھ گیا ۔ سامنے صوفے پر احسام بیٹھا تھا جو لیپٹاپ گود میں رکھے اپنا کام کر رہا تھا اسے کوئی دلچسپی نہیں تهی سیف کی باتوں میں ۔

” ماہو ” ماہم جو سیڑھیاں اتر کر کچن میں جانے لگی تھی کہ سیف نے اسے بلایا ۔ احسام کا سر بے ساختہ اٹھا اور اس طرف گھوما جہاں وہ تھی ۔

 اس کی نظروں میں میٹھا تاثر تھا اسے دیکھ کر جو گھٹنوں تک سفید فراک میں ملبوس تھی ۔ لیکن ہمیشہ کی طرح وہ اپنی عادت نا بدل سکی ۔دوپٹہ اب بھی لینے کی زحمت نہیں کی تھی ۔ باب کٹ گرے بال جو اب کندھے سے نیچے آتے تھے ۔ اس کا یہ قدرتی رنگ تھا بالوں کا جو احسام کو ہمیشہ مسمرائز کرتا تھا ۔ وہ الگ بات تھی کہ احسام اسے سراہنے میں اپنی توہین سمجھتا تھا ۔ کیسے جھک جائے بئی ۔

” جی ” انداز سپاٹ تھا ۔ سب کی طرح اس نے سیف سے بات کرنا تو نہیں چھوڑی تھی لیکن اب ویسے کھلکھلا کر بات بھی نہیں کرتی تھی ۔

” ملازمہ سے کہہ کر مہمان خانہ سیٹ کروا دو ” موبائل کان سے دور کرتے وہ اسے حکم دے گیا ۔

” کیوں ؟؟ ۔۔ کوئی آ رہا ہے ؟ “بے ساختہ سوال کیا ۔

احسام کی اب نظریں لیپ ٹاپ پر تھیں مگر ہما تن گوش وہ اس کی طرف ہی تھا ۔

” ہاں ۔۔۔ دل شیر آ رہا ہے پاکستان ۔۔ تو وہ یہیں رکے گا ” سیف نے مسکرا کر اسے بتایا ۔

” واٹ؟ ۔۔۔ او مائی گاڈ ۔۔ سچ میں بھائ ؟ ” وہ خوشی سے کھلکھلاتی اس کے صوف کے پاس آئی ۔

اس کی شوخ آواز پر سر اٹھا کر احسام نے اسے دیکھا جس کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا ۔

 ایک عجیب چبھن اسے اپنے دل میں محسوس ہوئی ۔ کیوں وہ کسی اور مرد کے نام پر مسکرائی تھی ۔

” ہاں ابھی بھی وہی کال پر ہے ” سیف نے اس کے چکمتے چہرے پر نظر گاڑتے کہا ۔

” او مائی گاڈ ۔۔۔ مجھ سے بات کروائیں ” خوشی سے اس کی طرف ہاتھ کیا ۔

احسام خاموشی سے اس کی حرکتیں نوٹ کر رہا تھا ۔ اب کام کی طرف دھیان کیسے ہونا تھا ۔

“ہیلو ۔۔۔ شیرو ۔۔۔ وووووووہو ” وہ موبائل کان سے لگاتی اپنی جگہ بچوں کی طرح خوشی سے اچھلی ۔

احسام نے دانت پیسے ۔

” اوہوووو ۔۔۔ میری باربی ڈول ۔۔۔ کیسی ہے ! ” آگے سے دل شیر بھی کھل کر مسکرا اٹھا تھا ۔

” میں ٹھیک بلکل ۔۔۔ تم پاکستان آ رہے ہو ؟ بھائی نے بتایا ” ماہم نے کسائیٹد سا کہا ۔

” ہاں ۔۔۔ کینیڈا سے دل اٹھ گیا میرا ۔۔۔ تم جو پاکستان آ گئ ہو ” وہ مسکرا کر بولا ۔

” ہاں ۔۔۔ یہ تو ہے ۔۔۔ اب کرائم پاٹنرز تھے ۔۔ تو پاٹنر کے بنا تمہیں کینیڈا ادھورا ہی لگے گا ” چہکتے ہوئے اک ادا سے جواب دیا ۔

سیف مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا جو اس کے پاس آ کر بیٹھ گئ تھی ۔

” بلکل ۔۔۔ تمہارے لیے ایک سرپرائز ہے ۔۔۔ پاکستان آ کر دوں گا ” دل شیر اس کے تجسس میں مزید آگ پیدا کر گیا ۔

” کیا ۔۔ مجحے بتاؤ ” ماہم کی آنکھیں خوشی سے چمکیں ۔

” آ کر بتاؤں گا ۔۔۔ میرا انتظار کرنا ” وہ ہنس دیا تھا ۔

” اوکے مسٹر شیر ۔۔۔ مجھے بہتتتت زیادہ والا انتظار ہے ” ماہم نے مسکراتے کہا اور موبائل سیف کو دے دیا ۔

اور پھرتی سے اٹھی تا کہ مہمان خانہ سیٹ کروا سکیں ۔

حسام تو بس اس کی تیزیاں دیکھتا رہ گیا ۔ اس کے ماتھے پر شکنیں تھیں ۔

” کون ہے یہ ؟ ” سیف کی طرف دیکھتے سنجیدگی سے پوچھا ۔

سیف جو موبائل میں مصروف تھا سر اٹھا کر احسام کو دیکھا ۔ جو سپاٹ چہرے سے اسے دیکھ رہا تھا ۔

” کون ؟ ” نا سمجھی سے پوچھا.

” دل شیر ” دو حرفی نام لے کر سوال کیا ۔

” اوہ ۔۔۔ دوست ہے میرا ۔۔۔ کینیڈا میں جب سے گیا تھا تب سے میرے ساتھ ہے ” سیف نے سکون سے بتایا ۔

لیکن احسام شاہ کا سکون بیٹھے بیٹھے جیسے غارت ہو رہا تھا ۔ اور احسام شاہ اس تبدیلی کو محسوس کرنے سے قاصر تھا ۔ اس کا جبڑا تن گیا تھا ۔ آنکھوں میں کچھ دیر پہلے ماہم کے چمکتے تاثر یاد آ رہے تھے ۔

شاہ حویلی کے سارے لڑکے چاہے محبت جانتے ہوں یا نا لیکن اپنی عزت اپنی بیویوں کو کسی اور کے لیے مسکراتے نہیں دیکھ سکتے تھے ۔ یہ ان کی انا ان کی غیرت کا سوال بنا جاتا تھا ۔ اور شاہوں کے خون میں تھا کہ وہ اپنی انا نیچے نہیں ہونے دیتے تھے ۔

” اور یہ کیوں اتنا ۔۔۔ چہک رہی تھی ۔ ” سپاٹ نظروں سے ماہم کو دیکھا جو ابھی تیزی سے چلتی کچن میں گئ تھی ۔

سیف نے اس کی آنکھوں کے رخ میں دیکھا جو ماہم پر ٹکیں تھیں ۔ سیف نا محسوس انداز میں مسکرا دیا ۔

” تم خودی پوچھ لینا ” کندھے اچکاتا وہ اپنی جگہ سے اٹھ چکا تھا ۔ اور اس وقت احسام کو سب سے زہر اگر کوئی لگا تها تو سیف یوسف شاہ تھا جس نے اس کا جواب نہیں دیا تھا ۔

غصے میں لیپ ٹاپ بند کیا ۔ اب وہ خود جا کر پوچھے ماہم سے تا کہ وہ دل میں یہ بات لائے کہ سید احسام شاہ اس کے لیے کوئی فیلنگ رکھتا ہے یا وہ یہ سوچے کہ اس نام نہاد دل شیر کے لیے جیلس ہو رہا ہے ؟؟؟ اب ہ دن دیکھنا پڑے گا ؟ کسی صورت نہیں ۔

” تمہیں بتانے میں کیا پرابلم ؟ ” اس کے پیچھے سے غصے سے کہا ۔

” وہی جو تمہیں پوچھنے میں ہو رہا ” بنا پلٹے وہ احسام کو اور سلگا گیا تھا ۔

اب وہ خود پوچھے جا کر ؟ اور نا پوچھے یہ برداشت بھی نہیں ہو رہا تھا ۔ مختصراً سید احسام شاہ اپنی جیلسی کو نہیں مان رہے تھے ۔

کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی

دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھیی

بات وہ آدھی رات کی رات وہ پورے چاند کی

چاند بھی عین چیت کا اس پہ ترا جمال بھی

سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتا

   ایک دفعہ تو رک گئی گردش ماہ و سال بھی

دل تو چمک سکے گا کیا پھر بھی تراش کے دیکھ لیں

شیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی

اس کو نہ پا سکے تھے جب دل کا عجیب حال تھا

اب جو پلٹ کے دیکھیے بات تھی کچھ محال بھی

میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر

   ہاتھ دعا سے یوں گرا بھول گیا سوال بھی

اس کی سخن طرازیاں میرے لیے بھی ڈھال تھیں

اس کی ہنسی میں چھپ گیا اپنے غموں کا حال بھی

گاہ قریب شاہ رگ گاہ بعید وہم و خواب

اس کی رفاقتوں میں رات ہجر بھی تھا وصال بھی

اس کے ہی بازوؤں میں اور اس کو ہی سوچتے رہے

جسم کی خواہشوں پہ تھے روح کے اور جال بھی

شام کی نا سمجھ ہوا پوچھ رہی ہے اک پتا

موج ہوائے کوئے یار کچھ تو مرا خیال بھی

 ” سائیں ۔۔۔ ایسے کب تک ستائیں گے ؟ ” وہ زامل کی خاموشی پر کڑھ کر بولی جس نے دو دن سے منہ پر قفل لگائے تھے جیسے شادی کر کے گناہ کر لیا ہو ۔

” میں تو تم سے بات بھی نہیں کرتا ۔۔۔ پھر کیسے ستایا تمہیں ؟ ” لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹا کر سپاٹ چہرے سے جواب دیا ۔

” کمال کی بات ہے ۔۔۔ آپ کو ہم سے محبت ہے کہ بھی نہیں ؟! ” اس کی طرف دیکھتے دبے دبے غصے سے کہا ۔

زامل نے کوئ جواب نہیں دیاا ۔

” میں آپ سے اتنی محبت کرتی ہوں اور آپ سے محبت کیے بنا رہا بھی نہیں جاتا مجھ سے ۔۔۔۔ ایک آپ ہیں ؟ جو اتنی تکلیف دے رہے ہیں ۔۔۔ جیسے آپ مجھ سے محبت کرتے ہی نہیں ” وہ ازیت کے دہانوں پر تھی ۔ ایسے جیسے کوئی ان چاہی لڑکی زندگی میں زبردستی گھسیر دی جائے ۔

زامل نے ٹھنڈی نظروں سے اسے دیکھا ۔

” آپ کے الفاظ نفرت حقارت سے بھرے ہوتے ہیں ۔۔ یہ سب تو تب ہوتا ہے جب محبت نا ہو ۔۔۔ یعنی آپ مجھ سے محبت ہی نہیں کرتے ؟ ” آنکھوں میں نمی لیے وہ سوال کر رہی تھی ۔

“میرے صبر کو مت آزماؤ ۔۔۔ خاموش ہوں ۔۔۔ تو ۔۔۔ خاموش رہنے دو ” اس کی سرد نگاہوں سے دیکھتے وہ برف سے بھی سرد انداز میں بولا ۔ اور دوبارہ دھیان لیپ ٹاپ پر دے دیا ۔

ملیحہ کی آنکھیں پانی سے بھر گئیں ۔ وہ ضبط کرتی تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی تا کہ جا سکے ۔

جیسے ہی دروازہ کھول کر باہر نکلی تو ماہم سے تصادم ہوا ۔

“دھیان سے ” ماہم کی کھنکھتی آواز نے اسے ہوش دلائی ۔

” تم رو رہی تھی ؟ ” ماہم اس کے ار خ رقئ روئ سی آنکھیں دیکھ کر بولی ۔

” ن ۔۔ نہیں ۔۔۔ آنکھوں میں کچھ ۔۔چلا گیا تھا ۔۔ تو ابھی پانی مارا ہے آنکھوں میں ” ملیحہ ہلکی مسکان سے بڑے آرام سے جھوٹ بول گئ تھی ۔

” میں ماہم ہوں ۔۔۔ جو آنکھوں کے اصل اور مصنوعی پانی کی پہچان رکھتی ہے ۔۔ بھائی اندر ہیں ؟ ” ماہم نے سنجیدگی سے کہا ۔ اس سے پہلے ملیحہ مزید پزل ہوتی اس نے زامل کا پوچھا ۔ ملیحہ نے سر ہلایا تو وہ اندر چلی گئی ۔

” آپ نے کچھ کہا ہے اس کو ؟ ” ماہم نے سپاٹ انداز سے پوچھا ۔

” ایسا کچھ بھی نہیں جو کہا جائے ۔۔۔ ہمم ؟ ” روکھے انداز میں جواب دے کر اسے دیکھا کہ تمہیں سمجھ آئی کہ نہیں ۔

” اس سے تمیز سے بات کیا کریں ۔۔۔ کبھی کبھی کچھ غلطیاں کرنے کے بعد ۔۔۔ پچھتانے کا وقت بھی میسر نہیں ہوتا ” صاف طنز تھا زامل کہ طرف جسے وہ جان گیا تھا ۔

زامل نے ایک گھوری سے ماہم کو نوازا ۔

” دل شیر آ رہا ہے ۔۔۔ سیف بھائی کہہ رہے ہیں کہ ۔۔۔ آپ پک کرنے جائیں اسے ائیرپورٹ سے ” زامل کے کسی لیکچر سے پہلے وہ مدعے پر آئی ۔

” اچھا ۔۔ ! … میں لے آؤں گا ” واپس اپنے لیپ ٹاپ کی طرف دیکھتے کہا ۔

” سنو ۔۔۔یہ احسام کا۔۔ رویہ کیسا تمہارے ساتھ ؟ ” وہ جانے لگی تهی کہ زامل کی آواز نے روک دیا ۔

” وہ اتنا تو مرد ہے کہ ابھی تک اس نے مجھے رلایا نہیں ہے ۔۔۔ سمجھے آپ ” کڑے تیوروں سے زامل کو گھورتی دانتوں کو چبا کر طنز کیا ۔

اشارہ ملیحہ کی طرف تھا جس کی آنکھوں میں پانی تھا ۔

زامل نے اسے دیکھا جو نفی میں سر ہلاتی کمرے سے چلی گئی ۔

” اس احسام سے اتنی نرمی کی میں کبھی امید نہیں کر سکتا ۔۔۔ دھوکہ باز ہے ۔۔۔ نجانے کب پینترا بدل دے ” زامل نے دانت کچکچائے ۔ یہ یقین سے بالا تر تھا کہ جو شخص کسی اور کو چاہتا ہے وہ کیسے دو دن میں ایدھا ہو جائے ؟

وہ اس وقت واشروم سے نہا کر نکلا تھا کہ دروازہ کھول کر عنابیہ اندر آئی ۔ قمر نے شیشے کے سامنے جاتے اسے دیکھا ۔

” کیا کہا امی نے ؟ ” شیشے میں اس کے عکس کو دیکھتے پوچھا ۔

” کچھ نہیں ۔۔۔ کچھ خاص نہیں ” مرجھائے ہوئے انداز سے کہتی وہ بیڈ پر بیٹھ گئ اور سر جھکا لیا ۔

قمر نے مڑ کر اسے دیکھا ۔ کنگھی جو بالوں میں کر رہا تھا وہ ڈریسر پر رکھی اور اس کی طرف آیا اور ساتھ بیٹھ گیا ۔

” کیا ہوا ؟ ” نرمی سے پوچھا ۔ عنابیہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا ۔ آنکھیں نم تھیں ۔ قمر نے ہلکی مسکان سے ان نمی کو سمیٹ لیا ۔

” ان کی ۔۔ بہت خواہشات تھیں ۔۔۔ آپ کی شادی کے حوالے سے ۔۔۔۔ میں نے ۔۔۔۔ سب ختم کر دیا ۔۔۔ سب خواہشیں مار دیں ۔ ” افسردہ لہجے میں بولی ۔ نا چاہتے ہوئے بھی آواز رندھ گئی تھی ۔

قمر نے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے ۔

” نصیب خدا لکھتا ہے ۔۔۔ انسان نہیں ۔۔۔ اگر انسان لکھتا تو شائد ۔۔۔ سب نا انصافی کے مارے ہوتے ۔۔ خود کو کسوروار نا ٹھہراؤ ۔۔۔ ماں ہیں میری ۔۔۔ ہر ماں لی طرح ان کے بھی اپنے بیٹے کو لے کر سو خواہشیں ۔۔ سو جزبات تھے ۔۔ لیکن جو ہوا وہ نا ۔۔۔ تم نے کبھی سوچا تھا ۔۔۔ نہ میں نے ۔۔۔ نا ہی امی نے ” اس کے ہاتھوں پر دباؤ دیتے وہ سمجھا رہا تھا ۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ اور تکلیف سہے ۔ اس کے گھر والوں نے تو تکلیف میں جھونک دیا تھا ۔ لیکن وہ اسے تکلیف نہیں دے سکتا تھا ۔ یہ ساری زندگی کا معاملہ تھا ۔ اور ہے بھی اس کی محبت ۔

” پتہ ہے ۔۔۔۔ آپ کو ۔۔۔۔ بچپن سے میں نے یہی سنا ۔۔۔۔ کہ تمہاری شادی بڑے ہو کر ۔۔۔سی ۔۔۔۔ آغا جان کے چھوٹے ۔۔۔ بیٹے سے ہو گی ” اس کا نام لہنا چاہا تھا لیکن آج بھی وقت بدلنے کے باوجود اس کی زبان اور اس کے دل نے قبول نہیں کیا تھا کہ سیف کا نام لیتے ۔

قمر اسے سن رہا تھا ۔ وہ جب بات کرتی تھی تو قمر سبکتگین اپنی محبت کے لیے سراپا ہما تن گوش ہو جاتا تھا ۔

” مجھے کہا جاتا ۔۔۔ دعاؤں میں اس کی ۔۔۔ لمبی زندگی مانگو ۔۔۔ اس ک ساتھ مانگو ۔۔۔ اس کی خواہش کی قدر کرنا مانگو ۔۔۔ اس کے لیے ڈھیڑوں دعائیں کیا کرو ۔۔۔ کسی اور کی طرف آنکھ اٹھا کر نا دیکھنا ۔۔۔ اپنے حسن کو چھپانا ۔۔۔۔ سب تو کر دیا ۔۔۔ سب ۔۔۔ سب صرف عنابیہ شاہ کے لیے تھا ؟ ” ساری باتیں رنجیدگی سے کہتے سوالاً قمر کو دیکھا ۔

قمر نے نفی میں سر ہلایا اور اس کے ماتھے پر بوسہ دیا ۔ اس کے لمس میں سکون تھا جو عنابیہ کو سر جھکانے پر مجبور کر گیا تھا ۔

” اور ؟ ” پھر سے سوال کیا تا کہ وہ بولے جو اس کے دماغ میں چل رہا ۔

” میری دعائیں رنگ کیوں نہیں لائیں ؟؟؟ ۔۔۔ ہم ایک دوسرے کے نام کیوں نا بنے ؟؟؟ میں کیسے آ گئ ْپ کی زندگی میں بن بلائے مہمان کی طرح ؟ آپ کی امی کی ساری خواہشیں ساری دعائیں کیسے تباہ کر دی میں نے ؟ ۔۔۔۔ کیوں دعائیں قبول نہیں ہوئیں ؟ ” وہ سوال پر سوال کر رہی تھی جو انہیں بے سکون کر رہے تھے ۔ ارم سبکتگین کی باتیں اسے دل پر لگتی محسوس ہوئ تھیں ۔

جب انسان حالات اور غموں کا ڈسا ہوا ہو تو اسے ایک ہلکی سی ٹیڑھی نظر بھی تیر کی طرح لگتی ہے یہ تو پھر باتیں تھیں جو اسے سننی تھیں ۔جن کا وار عنابیہ کی روح پر ہونا تھا ۔

قمر نے اس کے ہاتھوں پر بوسہ دیا ۔ عنابیہ نے حیرت سے اسے دیکھا جو اس کی ساری باتیں سنتا تھا اور بدلیں میں بے لوث محبت دیتا تھا ۔ اتنا بڑا دل کیسے ہو سکتا تھا یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ کسی کہ منگیتر تھی ۔ کسی سے بچپن سے محبت کرتی تھی ۔

قمر نے مسکرا کر اسے دیکھا ۔

” ہماری جو دعائیں اب تک قبول نہیں ہوئیں ۔ جو خواہشات ، خواب ، من پسند چیزیں ابھی تک نہیں ملیں وہ اللہ نے اپنے پاس امانت رکھی ہوئی ہے ۔ وہ جانتا ہے دل کی حالت کو اور دل کی تڑپ کو۔ ۔ وہ رب کبھی بھی جذبات ضائع نہیں ہونے دیتا ۔ میرا رب کبھی بھی کسی کی دعا کا قرض نہیں رکھتا وہ سنبھال کر رکھتا ہے ساری دعائیں ۔ کسی نا کسی صورت میں ان دعاؤں کا اجر دیتا رہتا ہے لیکن ہم سمجھ نہیں پاتے ۔ میرا یقین ہے اس بات پر جو خواہشات ، دعائیں ، خواب ہم نے بچے دل سے مانگے ہیں وہ ہمیں دنیا میں بھی نوازے گا اور آخرت میں بھی حصہ رکھے گا ۔ ہم بہتر مانگتے ہیں وہ بہترین سے نوازتا ہے لیکن اپنے مقرر کیے گئے وقت پر اور میرا رب فرماتا ہے * تمہارا مستقبل تمہارے ماضی سے بہتر ہوگا * ” اپنے دلفریب لہجے میں سحر طاری کرتے الفاظ میں وہ عنابیہ کو اپنی جگہ منجمد کر چکا تھا ۔

” کیسے ۔۔۔ کر لیتے ہیں ۔۔۔ اتنی اچھی باتیں ۔۔۔ کیوں ہیں اتنے اچھے ؟ ” عنابیہ حیرانی سے مسمرائز انداز سے بولی ۔

” اچھی باتیں اس لیے کرتا ہوں کہ تم میری بیوی ہو مہرے ایمان کا حصہ ۔۔۔ اور تمہیں اچھا اس لیے لگا ہوں کہ ۔۔۔۔ قمر سبکتگین ۔۔۔ عنابیہ قمر سے بے انتہاء محبت کرتا تھا ۔۔۔ کرتا ہے ۔۔۔۔ اور کرتا رہے گا ” اس کے ہاتھوں پر دباؤ دیتے جزبات سے چور لہجے میں کہا ۔

عنابیہ کی آنکھیں جھک گئیں ۔ وہ شخص اسے ہر بار اتنا معتبر کر دیتا تھا جتنا وہ خود کو سمجھتی تھیں ۔

” میں اتنی ۔۔۔ محبت کے قابل نہیں ۔۔۔ آپ نا کیا کریں ۔۔ ” سر جھکائے بس اتنا ہی بول سکی ۔ ہاتھوں کو اس نے کھینچا نہیں تھا ۔ سکون اسے بھی تھا کہ ان ہاتھوں میں مجھے حفاظت ملے گی ۔

” مسز عنابیہ قمر ۔۔۔ یہ آپ مجھے نا بتائیں کہ کتنی محبت دینی چاہیے آپ کو اور کتنی نہیں ۔۔۔ اوکے ” اس کے ہاتھوں پر ہلکا سا بوسہ دیتے پیار سے کہا ۔

عنابیہ نے نم آلود نگاہوں سے دیکھا ۔

” یہ آنکھیں ۔۔۔ میری ٹھنڈک ہیں ۔۔۔ ان میں دوبارہ سیلاب نا آئیں ” اس کی آنکھوں پر بوسہ دیتے کہا تو وہ اس کی بات پر سرخ ہو گئ ۔

اس کی حیا اس کا روپ قمر کے لیے باعث راحت تھا ۔ وہ یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا چاہتا تھا ۔

” کل میں تمہیں مال لے جاؤں گا ۔۔۔ شوپنک کر لینا اپنی ۔۔۔ ٹھیک ہے ” اس کے ہاتھوں پر دوبارہ دباؤ دہتے کہا ۔ عنابیہ نے سر ہاں میں ہلایا ۔

قمر نے مسکرا کر دیکھا اور اٹھ کر کمرے سے باہر چلا گیا ۔

عنابیہ نے بیٹھے بیٹھے سیف اور قمر میں موازنہ کرنا چاہا ۔ ہر لحاظ سے ۔ ایک وہ تھا جس سے محبت کرتی تھی اور ایک یہ تھا جو اس سے محبت کرتا تھا ۔ اور ہر لحاظ سے قمر سبکتگین اسے بے انتہاء معتنر لگا ۔ قابلِ عزت اقر قابلِ وفا لگا ۔

وہ آسودگی سے مسکرا دی ۔

تجھے پانے کا حوصلہ بھی تو مجھ میں نہیں تھا ۔

 تجھے کھونے کا منظر بھی قیامت سے کم نہیں تھا ۔

چھن اور درد دل کے دروازے پر بس کہتا یہی تھا ۔

کسی اور کو آنے دیتے ہم وہ دل تھا ڈیرہ تو نہیں تھا ۔

روشنی کی طرح چمکتا تھا میں اندھیرا تو نہیں تھا ۔

 مجبور دل سمجھتا ہر بات تھا کوئی بحرا تو نہیں تھا ۔

مان کرتے تو کیسے کرتے محبت بھی مانگتا نہیں تھا ۔

میرا تو دل تجھے پانے کی ہر وقت جستجو کر تا تھا ۔

مانگتا تو کیسے مانگتا محبت اصل مسلہ تو یہی تھا ۔

 شروع سے ہی کسی اور کا تھا وہ میرا ہی تو نہیں تھا ۔

      🙂🙂🙂

” وہاب ۔۔۔ آپ کہاں تھے ۔۔۔ فون نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔ آپ نے فون نہیں کیا ۔۔۔ گھر سے کوئی خیر خبر نہیں ۔۔۔ کہاں تھے آپ ؟ ” سامنے وہاب کو ایک ہفتے بعد دیکھ کر وہ آبدیدہ ہو گئ تھی ۔ اس کے سو سوال تھے جو امنڈ رہے تھے ۔ اس ہفتے میں وہ ایک منٹ کے لیے بھی رابطہ نہیں رکھ سکا تھا ۔

اب وہ آیا تھا تو سب کے سوال تھے جنہیں وہ مختلف انداز میں ٹال گیا ۔ لیکن اب سامنے شیریں تھی جو بے تاب تھی اس سے سچ سننے کو ۔ اا کی تھکی تھکی حالت کچھ بھی صحیح کا پتہ نہیں دے رہی تھی .

” بس شیریں ۔۔ یہ سمجھ لو کہ ۔۔۔ میں ایک بہت عجیب صورتِحال سے گزرا ہوں ” اپنے سر کو دو انگلیوں ہلکا ہلکا مسلتے وہ بولا ۔ لہجے میں تھکاوٹ تھی ۔

وہ اس کی حالت دیکھتی اس کے پاس آ کر بیٹھ گئ ۔

” سب ۔۔۔ ٹھیک ہے ؟ ” اس کے کندھے ہر ہاتھ رکھتے پوچھا ۔

وہاب نے گردن موڑ کر اسے دیکھا جو پریشان اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔

” کیا کچھ پل میں ۔۔۔۔ تمہاری گود میں سر رکھ سکتا ہوں ۔۔۔۔بہت بی سکونی ہے ” اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتے وہ بےچارگی سے بولا ۔

” کیا بات ہے وہاب ” وہ اس کے لہجے کی تھکان پر تٹپ کر بولی ۔

وہاب نے اس کے ہاتھوں پر بوسہ دیا اور سر اس کی گود میں رکھ دیا ۔

” کچھ پل خاموش ۔۔۔۔ مجھے سکون دو ” اس کے ہاتھوں کو اپنے سر پر رکھتے وہ آنکھیں بند کرتے بولا ۔

شیریں نے گہرا سانس لیا اور اس کے بالوں میں اپنی انگلیوں کو پھیرنے لگی ۔ جو وہاب کو سکون دے رہی تھیں ۔

” میں آپ کے ساتھ ہوں ہر قدم ہر جگہ ہر پل ” اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے کہا ۔

وہاب نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا ۔

” مجھے علم یے ۔۔۔ اسی لیے سب چھوڑ کر تمہارے پاس ہوں ” اس کی طرف وارفتگی سے دیکھا ۔

شیریں مسکرا کر سر جھکا گئ ۔

” اسی لیے ایک مکمل بندوبست کیا ہے ” اس کے سرخ چہرے کو دیکھتے کہا ۔

شیریں نے نا سمجھی سے اسے دیکھا ۔

” ہاں ۔۔۔رخصتی کی بات کر لی میں نے ۔۔۔ اس جمعے کو رخصتی ہے * وہاب نے گویا بمب گرا دیا تھا ۔

” کیاااا ۔۔۔۔ مزاق کر رہے ہیں نا ؟ ” وہ بوکھلاتے چیخ اٹھی .

” تمہیں میں نے سکون پہچانے کو کہا ہے اقر تم مجھے بے سکون کر رہی ہو ” لہٹے لیٹے ہی وہ اسے گھوریوں سے نوازتے بولا ۔

” ایک دو تین ۔۔۔۔ وہاب صرف تین دن بچے ہیں جمعے کو ” وہ انگلیوں کے پوروں پر دن گنتی دوبارہ چیخی ۔

” شیریں ۔۔۔۔ چپ کر جاؤ ” اس نے آگے سے ڈپٹا جو کان کے پاس چیخ رہی تھی ۔

” آپ ایسا نہیں کر سکتے ہیں ” وہ صدمے سے بولی ۔

” میں کر چکا اب چپ ” اس کے ہاتھوں کو دوبارہ اپنے سر میں رکھتے حکم سنایا ۔

” وہاب ” اس کی آواز صدمے سے چور تھی ۔

” جی جان وہاب ” اس کے ہاتھوں کو لبوں پر لیجاتے کہا ۔

” میری سٹڈیز ” ایک اور جواز پیش کیا ۔

” میں نے روکنا تھوڑہ ہے ” اس کے ہاتھوں کی ہتھیلیوں میں بوسہ دیا ۔

” وہاب ایسے کون کرتا یے ” وہ منمنائی ۔

” میں ۔۔ اب چپ کر رہی وہ یا نہیں ” آنکھوں سے اسے گھوری دی ۔

وہ روٹھے انداز سے دیکھ رہی تھی ۔

صبح صبح وہ اٹھیں اور شیشے کے سامنے آئیں ۔ دوپٹے کو ہمیشہ کی طرح نفاست سے لیا اور پاس ہینگ ہوئی شال کو اتار کر اپنے کندھوں پر پھیلا دیا ۔

پورے پچیس سال بعد وہ شاہ حویلی میں قدم رکھنے والی تھیں ۔ جہاں کبھی ان کے عشق کی داستان رقم ہوئی تھی ۔

،

 گر چھپایا لاکھ ہم نے پر عیاں ہونے لگا

درد خود ہی میری آنکھوں سے بیاں ہونے لگا

سرحد میں جب سے بنی ہیں یارراہ عشق میں

 مسلہ تب سے دلوں کے درمیاں ہونے لگا

واہ رے اتنی جہالت ؟حب اہلوں کی راہ پر

 باپ بوڑھا ہو پلا، بیٹا جواں ہونے لگا

پاند سے چھپ چھپ کے کر لیتی ہیں باتیں

بام سے اب تو عاشو” کا مخالف آسماں ہونے لگا

 

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Read haveli based Urdu novelsaaiyaan , Urdu novel at this website Novelsnagri.com for more Online Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit this website and give your reviews on this Website. you can also visit our facebook page for more content Novelsnagri ebook

Leave a Comment

Your email address will not be published.