Web Special Novel,Haweli Based Urdu Novel,

Haveli based urdu novel, تو_میرا_صنم #قسط_5

Web Special Novel,Haweli Based Urdu Novel,

Web Site: Novelsnagri.com

Category: Web special novel , Haveli based urdu novel,

Novel name :Tu Mera Sanam Episode 5

Written by: Areeba Afzal

 

 

تو_میرا_صنم

#از_اریبہ_افضل

#قسط_5

“تمھاری یہ جو ادا ہے کمال ہے تمھیں پتہ ہے تم دنیا میں موجود تمام رشتوں سے زیادہ اچھے ہو “
وہ آنکھوں میں وحشت اور چہرے پر مغروریت لیے بولا تھا اس کی آنکھوں سے عجیب وحشی پن چھلک رہا تھا۔۔۔۔۔۔
“پتا ہے کیوں ” وہ اس کی گردن پکڑے آنکھوں میں دیوانگی لیے بولا تھا
“کیوں کہ تمھارے اندر جو زہر ہے نا اسے کے بارے میں سب کو پتا ہیں مگر جو انسانوں کے اندر زہر ہے نا وہ صرف انہیں ہی پتا ہیں دوغلے لوگ “
وہ تبسم چہرے پر سجائے بولا پھر اس ہاتھ میں پکڑے زہریلے سانپ کو کھڑکی کے باہر پھینک دیا پاس کھڑا اس کا وفادار راحیم اس کے انداز اور تیور دیکھ ہی کانپ گیا تھا ۔۔۔۔
“بے زبان کو قید کر کہ کیا مزہ۔۔؟ مزہ تو انسانوں کو قید کرنے میں ہیں ” وہ ترچھی نظریں پاس کھڑے راحیم پر رکھتا بولا تھا
“کیا خبر ہے بوس” وہ راحیم کی جانب دیکھتے دھواں ہوا میں چھوڑے بولا تھا راحیم ہچکچا گیا تھا وہ ایسا ہی تھا وہ سب کو بوس ہی کہتا تھا اس نے منہ سے توتھ پک نکالتے راحیم کو دیکھا جو ہاتھ باندھے یوں کھڑا جیسے بس ایک موقع اور وہ اس پاگل انسان کے سامنے سے بھاگ جائے ۔۔۔
“سر اسے ایک انسان لے گیا “
راحیم کا وجود کپکپا اٹھا تھا مگر اسے ہمت رکھنی تھی ورنہ وہ کچھ بھی کر سکتا تھا
“ہمممم کون ہے وہ جس نے میری چیز پر آنکھ رکھی “
آہستہ آہستہ اس کی آنکھوں میں غصہ بھرنے لگا تھا جبکہ اس کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ تھی جس سے وہ کسی کو بھی مسمرائز کر سکتا تھا
“زمیل فاسق خان نام ہے اس کا “
رحیم واپس سے گویا ہوا تھا اس کا لہجہ مؤدبانہ تھا وہ دھیمے سے ہنسا تھا توتھ پک منہ کے اندر رکھ لی گئی تھی ۔۔۔۔۔
“ایک ایک پل اس پر نظر رکھو اب وقت آ گیا ہے کہ اسے احساس دلایا جائے کہ ایک مجنوں دیوانہ اس کی پل پل خبر رکھتا ہے اس کے لیے دیوانہ ہے پاگل ہے “
وہ ٹیبل ہر بیٹھتے پیچھے کی جانب گرتا بولا تھا وہ ہوا میں ہی تھم سا گیا تھا اس کے چہرے پر وہ مسمرائز کرنے والی مسکراہٹ جو کسی کا دل دھڑکا دے وہ بے حد دلکش مسکراہٹ کا مالک تھا جس کا استمعال وہ بہت خاص موقعوں پر کرتا تھا ۔۔۔۔
“جی خان صاحب جو آپ کا حکم ” راحیم دبے قدموں واپس چلا گیا وہ پوری کوشش میں تھا کہ ذرا سی بھی آواز پیدا کر کہ اس کے خیالات کو معطل نا کیا جائے ورنہ وہ کس حد تک جا سکتا تھا رحیم اچھے سے جانتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“یہ دل پاگل بنا بیٹھا اسے اب تو ہی سمجھا رے
دیکھے تجھ میں میری دنیا میری دنیا تو بن جا رے
وہ مدھم آواز میں گاتا مسرور تھا کمرے میں اس کے ہونٹوں سے نکلنے والا مدھم گیت چل رہا تھا بلاشبہ وہ ایک بہترین مسکراہٹ کے ساتھ ایک خوبصورت آواز کا بھی مالک انسان تھا ۔۔۔
_________________________!!
“ڈاکٹر میں پیسے جمع کروا دوں گی آپ پلیز آپریشن شروع کرے “
لیزا سامنے کھڑے ڈاکٹر کو دیکھتی تڑپ کر بولی تھی دل دھک دھک کر رہا تھا کسی خطرے کا احساس اسے شدت سے ہوا تھا اسے بس اپنی ماں اس کے ساتھ چاہیے تھی
“آپ پریشان نا ہو مس آپ کی مادر اب ٹھیک ہے اور ان کا آپریشن ہو چکا ہے “
ڈاکٹر مسکرا کر بولے تھے لیزا کی آنکھیں حیرت تھا پھیل گئی تھی ایسا کیسے ہو گیا کیا فہد نے پیسے دیے تھے اگر ہاں تو اسے بتایا کیوں نہیں
“کس نے دیے پیسے؟” وہ بھنویں سکیڑ کر بولی تھی اس کے لہجے میں واضع حیرت تھی
“آپ کے شوہر نے ” ڈاکٹر عجلت میں بولا مگر ان کی بات پر لیزا کے پیروں تلے زمین کھسکی اس کا شوہر یہ کیا بکواس تھی وہ حیرت کے مارے وہی کھڑی رہی تھی اس کے دل نے ایک پل کو کہا کہ شاید فہد نے وہ پیسے دیے تھے وہی تو اس سے محبت کرتا تھا کیا پتا ممانی جان سے بچنے کے لیے یہ جھوٹ بولا ہو لیزا کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا تھا ۔۔۔۔
وہ وہی بنچ پر بیٹھ گئی کیوں کہ ابھی اس کی ماں سے ملنے کی اجازت نہیں تھی اسے وہ فہد کے بارے میں سوچ رہی تھی جب اچانک کسی نے چٹکی بجاتے اسے خیالوں سے باہر نکالا لیزا نے بے دھیانی میں سر اٹھاتے سامنے دیکھا تھا
“تم ۔۔۔؟ تم یہاں کیا کر رہے ہو “
وہ سامنے کھڑے افان کو آنکھیں دیکھاتے بولی تو جیبوں میں ہاتھ ڈالے آس پاس سے گزرتی لڑکیوں کے دل پر بجلی گرا رہا تھا
“میری ایک پرانی عادت ہے میں دوستوں سے زیادہ دشمنوں کا خیال رکھتا ہوں دیکھنے آیا ہوں میرے قہر کے چلتے کہی مر تو نہیں گئی “
وہ لبوں پر تیکھی مسکراہٹ رکھتا بولا اس کی آنکھوں میں چمک تھی بال ماتھے پر بکھرے اسے مزید دلکش بنا رہے تھے وہ بولتے ہوئے خاصا پر کشش لگ رہا تھا
“تمھاری طرح تمھاری عادتیں بھی جاہلوں والی ہے “
وہ دانت پیس کر آنکھیں گھوماتی ہوئی بولی اس کی یہاں موجودگی ہی زہر کے مترادف تھی
“اففففف یہ گستاخی “
وہ آنکھیں بند کرتا مسکرا کر بولا کہ ایک پل کو۔لیزا اس کے چہرے سے نظر نا ہٹا سکی تھی پھر سر جھٹکا
“کن خیالوں میں کھوئی تھی ویسے “
وہ ابرو آچکا کر بولا تھا اس کا لہجہ نارمل سا تھا مگر لیزا کو پسند نہیں آیا تھا
“تمھیں کوئی مسلہ ہے تو بتا دو میں تمھارا یہاں علاج کروا دیتی ہوں کیوں میرے پیچھے پڑے ہو۔۔۔۔؟ درد ہو رہا ہے کہ کوئی ہے ایسی لڑکی دنیا میں جو تمھیں گھاس تک نہیں ڈالتی “
لیزا طنزیہ مسکرا کر بولتی اسے انگاروں پر گھسیٹ چکی تھی افان کا مسکراتا چہرہ پل میں سرخ ہوا تھا اس نے آنکھیں ترچھی کرتے اس کی جانب دیکھا دانت کچکاتے وہ اس کے مسکراہٹ سجائے چہرے کو دیکھ رہا تھا
“شٹ اپ تم جیسے دو ٹکے کی لڑکی کے پیچھے خوار ہوں گا میں اتنی گھٹیا چوائس نہیں ہے میری سمجھی تم “
وہ انگلی اٹھا کر قدم آگے لیتا بولا کہ لیزا قدم پیچھے کر گئی تھی جس کی وجہ سے وہ بنچ پر ڈھے سی گئی اسے خوف آیا کیوں اس سنکی انسان کو ہاسپیٹل میں چھیڑ دیا تھا اس نے اب کیا سوچ رہے ہو گے لوگ
“تمھارے جیسوں کو افان راجپوت جیب میں رکھتا ہے اور میں تمھیں پانے کی کوشش کروں کا ۔۔۔؟ ہنہہ تمھارا تو میں وہ حشر کروں گا کہ تم خود کو پہچان نہیں پاؤ گی”
وہ جھکتے ہوئے انگلی اٹھا کر بولا تھا اس کے منہ سے انگارے نکل رہے تھے جس کی زد میں لیزا کی چھوٹی سی جان پھنسی ہوئی تھی
“تو ثابت ہوا کہ تم ایسی ویسیوں کو منہ لگانے کو بنے ہو” گلابی لبوں سے نکلنے والے لفظوں نے سامنے کھڑے انسان کے دل پر کاری ضرب کی یہ لڑکی ……!
یہ لڑکی اس کی نفرت بنتی جا رہی تھی ہر چیز کا جواب دیتی جو اسے پسند نہیں وہ سب کرتی تھی وہ شدید نفرت کرتا تھا اسے لیزا اسے سخت زہر ہی لگتی تھی
“جسٹ شٹ اپ یو ڈیم اٹ ” وہ بنچ پر سختی سے ہاتھ مارتا غصے سے دھاڑا تھا اس کا ہاتھ سرخ ہوا پاس سے گزرتا وارڈ بوائے ان کے پاس رک گیا
“آپ دونوں اپنا جھگڑا گھر جا کر کرے یہ ہاسپیٹل ہے “
وارڈ بوائے ذرا غصے سے بولا جو کب سے یہ بکواس سن رہا تھا
“نجانے میاں بیوی کو ہاسپٹل میں ہی لڑائی کیوں سوجھتی ہے “
وہ بڑبڑاتا ہوا آگے کو بڑا افان اور لیزا دونوں نے اس کی بات سنی تھی وہ دونوں بالکل ساکت ہو گے تھے
“ایکسکیوز پلیز یہ میرے شوہر نہیں ہے سمجھے آپ “
لیزا افان کے سینے پر ہاتھ رکھتی تقریباً اسے دھکا دیتے پیچھے کی جانب ہوئی جو وارڈ بوائے کی باتوں میں اٹکا ہوا تھا اس کے کڑے تیور دیکھ تو وارڈ بوائے نے بھی دانتوں تلے لب دبائے
“یہ اس کی اتنی اوقات نہیں کی میری بیوی بنے “
افان بھی ترکی بہ ترکی بولا تھا لیزا کا چہرہ سرخ ہوا پہلے ہی وہ اسے اتنا سب سنا چکا تھا اور اب سب کے سامنے اس نے کس طرح اس کی ذات کی نفی کی تھی
“آپ کی اوقات تو ہے نا مسٹر افان راجپوت کہ آپ مجھ تک نا آئے بلکہ کسی اور کے ساتھ عیاشی مارے “
وہ دھیمے انداز میں بولی تھی اس کی آنکھوں میں سرخی تھی وہ کسی کی توہین نہیں کرنا چاہتی تھی نا اس کی ماں نے اسے یہ سیکھایا تھا وہ آہستہ سے وہاں سے نکلتی اپنی ماں کے پاس چلی گئی تھی
وہ بھول ہی بیٹھی تھی کہ افان بھلا یہاں کیوں آیا تھا اس نے موبائل نکال کر فہد کو کال ملائی تھی
__________________________!!
اس نے دھیرے سے اپنی آنکھیں کھولی تھی کچھ پل وہ ایسے ہی سوچوں میں گم رہی تھی پھر احساس ہوا کہ کوئی ہے جو اس کے قریب ہے اس نے دائیں جانب گردن موڑی تو وہ ہاتھ سر کے نیچے ٹکائے آنکھیں بند کیے لیٹا ہوا تھا وہ سو رہا تھا یا لیتا ہوا تھا کہنا مشکل تھا پیاس کی شدت سے ہیرا نے اٹھنے کی کوشش کی تھی
وہ دھیرے سے اٹھی تھی جب واپس بیڈ پر ہی ڈھے سی گئی اس ہل چل سے زمیل فورا اٹھا
“کیا چاہیے مجھے بولو ” وہ آنکھیں مسلتا ہوا بولا تھا ہیرا نے ایک کار دار نظر اس پر ڈالی وہ اس کے کمرے میں تھی پرانے کمرے میں جہاں وہ ایک ماہ گزار چکی تھی
“زہر چاہیے دے سکتے ہے ” وہ تڑخ کر بولی تھی اس کی بات پر زمیل نے لب بھینچے اسے دیکھا جس کی آنکھیں شدت گریہ سے سرخ تھی
وہ پانی اٹھا کر گلاس میں ڈالتا اس کے آگے کر گیا تھا جس پر ہیرا نے غصے سے اس کے ہاتھ کی جانب دیکھا اسے اس حالت میں پہنچا کر وہ اسے زندہ رہنے کا جواز دے رہا تھا
ہیرا نے اس کا ہاتھ جھٹکے سے دور کیا تھا جس سے پانی کا گلاس فرش پر گرا اور کرچیوں میں بکھر گیا بالکل اس کے وجود کی مانند
اندر بے دھیان سے داخل ہوتی عنایت کی پاؤں پھسلا تھا اور وہ جھٹ سے زمین پر گری اس کے ہاتھ میں شیشے کے کئی ٹکڑے چبے تھے
“آہہہہہہ ۔۔۔۔۔! ہاتھ سے خون بہہ رہا تھا زمیل فورآ اس کی جانب لپکا تھا جس کی آنکھوں سے آنسو بھی بہنے لگے تھے ۔۔
“عنایت تم ٹھیک ہو ” وہ اس کے ہاتھ کو اپنے مظبوط ہاتھ میں پکڑے پریشانی سے بولا تھا اس کے ماتھے غصے سے لکیریں ابھری جو ہیرا کو دیکھ کر تھی ہیرا بھی دل میں کہی نا کہی پریشان ہوئی تھی
“وہ آرام سے عنایت کو گود میں اٹھائے اس کمرے سے چلا گیا جبکہ ہیرا ان دونوں کو جاتا دیکھ رہی تھی کتنا بے رحم سفاک تھا وہ انسان ایک ہفتے سے اس کی حالت بد تر تھی مگر اسے اس کی پرواہ نا تھی ہاں مگر اسے اپنی دوسری بیوی کی بہت فکر تھی ہیرا کو برا محسوس ہوا تھا وہ واپس بیڈ پر آنکھیں موندے لیٹ گئی تھی
“اگر تکلیف کو ماپنے کا کوئی پیمانہ ہوتا تو زمیل فاسق خان کے دیے گے زخموں کے آگے وہ بھی چھوٹا پڑ جاتا اس نے ہیرا کو انگاروں پر گھسیٹنے میں کوئی کمی نہیں رکھی تھی
“بد ذات تمھاری ہمت کیسے ہوئی میری بیوی کو چوٹ پہنچانے کی “
وہ بجلی کی سی تیزی سے کمرے میں آتے ہی ہیرا کا گلہ دبوچے بولا تھا ڈاکٹر کو بلوا کر عنایت کے پٹی کر دی گئی تھی مگر زمیل کا غصہ حد سے زیادہ تھا اسے نہیں پتا تھا کہ وہ غصہ کس پر ہے کیا وہ واقعی ہیرا کے لیے تھا
“م۔مت بھولے کہ میں بھی آپ کی بیوی ہوں جیسے لاوارثوں کی طرح آپ نے خود اس گندگی کے سپرد کیا تھا مت ۔ب۔بھولے آپ یہ “
اتنے درد کے باوجود بھی ہیرا کا لہجہ تیز تھا اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں نفرت تھی فاسق خان کے لیے بے پناہ نفرت اس کی بات پر وہ منجمند ہو گیا تھا اس کا گلہ چھوڑے وہ پیچھے کو ہوا لب بھینچ گیا تھا
ہیرا تلخ مسکرائی تھی اس کی حالت دیکھنے والی تھی
“کیا اب کی اس نئی نویلی بیوی کو پتا ہے کہ کیا حثیت ہے آپ کی نظر میں عورت کی کیا سلوک کرتے ہے آپ ان کے ساتھ “
وہ زمیل کی آنکھوں میں جھانکتی بولی جو اس کی بات پر سرخ ہو گئی تھی
“شٹ اپ روحی میں تمھارے جسم سے روح نکال لوں گا تمھاری اگر تم نے عنایت کو کچھ بھی بتانے کی کوشش کی سمجھی تم تمھیں یہاں رہنے دے رہا ہوں کیوں کہ بیوی ہو تم میری آپ حلیہ درست کروں سمجھی اور عنایت سے دور رہنا میں نہیں چاہتا میری محبت پر ایک طوائف کی بری نظر پڑے “
وہ انگلی اٹھا کر اسے وارن کرتے بولا وہ جتنی تیزی سے آیا تھا اتنی ہی تیزی سے واپس چلا گیا تھا
“ہیرا نے گھٹنوں میں سر دیا تھا ایسے کتنی بار وہ اپنی قسمت پر رو چکی تھی مگر صرف اپنے اللہ کے سامنے وہ اس انسان کے سامنے رو کر اسے یہ احساس نہیں دلوانا چاہتی کہ وہ طاقت ور ہے ویسے بھی جو انسان بے بسوں پر حکومت کرے وہ بزدل ہوتا ہے کیوں کہ اپنی حثیت کے لوگوں سے لڑنے کی اس کی ہمت نہیں ہوتی “
______________________!!
    ” تیرا چپ رہنا میرے ذہن میں کیا بیٹھ گیا
                اتنی آوازیں دی کہ میرا گلا بیٹھ گیا “
وہ تاریک اندھیرے میں ڈوبے ہوئے گھر میں داخل ہوتا گنگنا رہا تھا اس کی آواز اندھیرے وہ وحشت ناک خاموشی میں ساز سا بکھیر رہی تھی
ایک کمرے میں رسیوں سے جکڑا وہ وجود جس کی ہاتھوں پر پٹی تھی اس کے لب کپکپا رہے تھے سر نفی میں ہل رہا تھا آواز سنتے ہی وہ وجود تھم گیا تھا اپنی تمام حرکت و سکنات بند کیں ۔
            “اتنا میٹھا تھا وہ غصے بھرا لہجہ مت پوچھ
                 اس نے جس کو بھی جانے کا کہا بیٹھ گیا “
 اس کے قدم اب اندر کی جانب گے تھے وہ گنگنا رہا تھا اس کی آواز سنتے ہی مقابل کو لگا جیسے دل دھڑکنا بھول گیا ہو
      “اپنا لڑنا ہی محبت ہے تمھیں علم نہیں
              چینختی تم رہی اور میرا گلا بیٹھ گیا “
رسی سے باندھے اس وجود کو لگا جیسے وہ قدم اس کی جانب ہی آ رہے تھے وہ آواز اس کے کانوں پر نجانے کیسا اثر کر رہی تھی سمجھ سے باہر تھا عجیب بے چین سی آواز تھی وہ
        “اس کی مرضی وہ جیسے پاس بیٹھا لے اپنے
       اس پہ کیا لڑنا کہ فلاں میری جگہ بیٹھ گیا “
چڑچڑاہٹ سے دروازہ کھلنے کی آواز اس کے کانوں میں گئی تھی اور اب وہ آواز بہت نزدیک سے آتی محسوس ہوئی تھی اس نے دائیں بائیں سر گھومایا وہ وجود دیکھنا چاہتا تھا شدت سے خواہش جاگی کہ کوئی اس اندھیرے کو کم کر دے
اچانک انکھوں سے پٹی اتری تھی اس کا سانس تقریبا رک گیا تھا کیوں کہ انے والا انسان اس کے بے حد قریب تھا اس کے کان کے قریب جھکے وہ ہولے سے مسکرایا تھا
        “بزم جاناں میں نشستیں نہیں ہوتی مخصوص
        جو بھی ایک بار جہاں بیٹھ گیا بیٹھ گیا “
وہ دھیمے لفظوں میں بولا تھا اس نے اپنے فقرات مکمل کیے کہ چھن کی سی تیز روشنی بھی کمرے میں پھیل گئی تھی جو نین کو اپنی آنکھوں میں چبھتی محسوس ہوئی اس نے آہستہ سے آنکھیں کھولی تو سامنے سٹول پر بیٹھے مہاویر کو دیکھ اس کی آنکھیں پھٹنے کی حد تک پھیل گئی تھی جو وائٹ شرٹ کے بٹن کھولے بلیک پینٹ اور ٹائی کو گلے میں ڈالے موالی ہی لگ رہا تھا
“یہ کیا بہودگی ہے ؟”
نین تڑخ کر بولتی خود کو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی ایک وہ انسان کتنی بے باکی سے اس کے سامنے بیٹھا تھا نین نے نظریں پھیری تھی
“اچھا یہ بے ہودگی ہے تو پھر یہ کیا ہے ذرا میرے کو بتا”
وہ فون کی سکرین اس کے آگے کرتا بولا نین نے ایک نظر فون کی سکرین پر ڈالی تھی وہ وہی منجمد ہو گئی تھی مبہوت سی وہ ویڈو کو دیکھ رہی تھی جہاں اس کے معذور بابا کرسی پر بندھے ہوئے تھے بالکل کسی بے جان وجود کی مانند نین نے تڑپ کر مہاویر کی جانب دیکھا تھا ۔۔۔۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے میرے بابا کو کیوں پکڑا ہے چھوڑو انہیں ان کی میڈیسن کا ٹائم ہے پلیز اگر انہوں نے وہ میڈیسن نا لی تو ان کی ہارٹ بیٹ بڑھ جائے گی جس سے ان کی موت بھی ہو سکتی ہے پلیز چھوڑو انہیں “
وہ چینخ کر بولی تھی اس کے لہجے میں منت سماجت واضع تھی
“ہائے اب کیا ہو گا تیرے بابا کا کتنی شرافت سے شریف بن کر آیا تھا اپن تیرے سے بیاہ رچانے اور تو نے اپن کو ٹھکرا دیا اب بول کرے گی میرے سے شادی کے یہی مرتا چھوڑ دوں تیرے باپ کو “
وہ ویڈیو اس کی جانب کرتا بولا جہاں اس کے بابا ہانپ رہے تھے ان کی ہارٹ بیٹ بڑھ رہی تھی آنکھیں سرخ ہو گئی جیسے ابل کر ابھی باہر آ جائے گی
“میں تم سے شادی ہرگز نہیں کروں گی خود کو دیکھا ہے کبھی تم نے پاگل انسان “
وہ دانت پیس کر بولی ایک تو یہ انسان نجانے کہاں سے اس کی زندگی میں آ گیا اور اب اسے بلیک میل کر رہا تھا نین کو حد سے زیادہ غصہ آیا تھا اس پر
“ٹھیک ہے مرنے دے پھر تیرے باپ کو اپن کا کیا ہے اپن انتظار کرے گا “
وہ اس کی جانب دیکھتا بولا تھا نین کی آنکھوں سے ایک آنسو گرا اس کے بابا اس کے سامنے تڑپ رہے تھے کہاں وہ اس زندگی میں شادی کرتی نہیں فلحال اس کا مقصد کچھ اور تھا جیسے ہر حال میں اسے پورا کرنا تھا
“تیرا باپ تو گیا ” وہ سیٹی بجاتا بولا تھا نین نے نفی میں سر ہلایا اس کی سانسیں خود کو چھڑوانے کی کوشش میں پھول گئ تھی
“ٹ۔ٹھیک ہے میں کروں گی شادی پلیز ان کی میڈیسن سے انہیں ایک گلابی اور ایک سفید گولی نکال کر کھلاؤ پلیز” وہ نیچے کو سر جھکا گئی تھی اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے
اس لمحے ، اس وقت میں اسے اس انسان سے نفرت ہوئی تھی شدید نفرت جس کی کوئی حد نہیں تھی اس کی وجہ سے وہ اس چیز سے محروم ہو گئی تھی جس کی وجہ سے آج اس کے بابا اس حالت میں تھے اور وہ حال میں یہاں بیٹھی تھی
____________________________!!
“صنم۔۔۔۔! وہ شیشے کے سامنے تیار ہوتا بولا تھا بلیو پینٹ کوٹ پہنے بالوں کو سیٹ کیے عنابی لبوں پر مسکراہٹ لیے وہ اسے بلا رہا تھا جو کب سے اس کی بڑھتی گستاخیوں کے چلتے چینجنگ روم میں خود کو بند کیے بیٹھی تھی انگلیاں مڑوڑتے اس کی آواز سنتے اس نے سر اٹھایا
“صنم اگر دو منٹ میں تم باہر نہیں آئی نا تو میں اندر آ جاؤ گا “
اس مرتبہ اس کا لہجہ وارننگ دیتا تھا صنم نے آنکھیں میچی تھی ساری رات اس کی شدت جذبات سے وہ شرماتی رہی تھی اور کیسا انسان تھا اسے کیوں بلا رہا تھا وہ ۔۔
“م۔م۔یں ن۔نہیں آؤں گی آپ جائے آفس”
وہ دروازے کے پار سے ہی ہانک لگا کر بولی تھی اسے تھوڑا ڈر بھی محسوس ہوا تھا مگر وہ اب دوبارہ اس جنونی کے پاس ہرگز جا کر خود کی جان پر عذاب نہیں لانا چاہتی تھی سو غصے کی پرواہ کیے بغیر منع کر دیا تھا جانتے ہوئے بھی کہ اس کا انکار وجدان کو غصہ دلا دے گا
“صنم تم یہ واپس کر رہی ہو اور اس بار میرے عشق کی شدت پہلے سے زیادہ ہو گی یاد رکھنا دو منٹ میں فوراً باہر آؤ”
وہ دانت کچکاتے ٹائی گلے میں ڈالے بند دروازے کی جانب دیکھتا بولا جو اسے منہ چڑا رہا تھا
“۔ن۔نہیں میں نہیں آؤں گی آپ جائے نا آفس مجھ سے کیا آپ نے بکریاں چروانی ہے “
وہ معصومیت سے بولی تھی اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس پاگل انسان کو کیسے وہاں سے باہر بھیجے
“صنم باہر آؤں ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا “
اس کے صبر کی بس یہی برداشت تھی وہ بار بار اسے انکار کر کہ اس کے تڑپتے دل کو مزید انگاروں پر گھسیٹ رہی تھی وہ دروازے کے سامنے جاتا دروازہ بجا کر بولا تھا
“پلیز وجدان آپ جائے نا آفس میں بعد میں آ جاؤ گی باہر”وہ اندر سے ہی منمنائئ کہ اس کی ایک ہی رٹ سن اس کا دماغ پل میں گھوما تھا
“ٹھیک ہے مت آؤ باہر ابھی تو میں جا رہا ہوں مگر یاد رکھنا رات کو تمھیں مجھ سے کوئی نہیں بچا سکے گا نا تمھارا یہ سولڈ دروازہ اور نا ہی بی اماں جان یہ یاد رکھنا تمھارے ہوش میں رات کو بے حد قریب سے ٹھکانے لگاؤں گا “
وہ دروازے کو گھورتا ہوا ٹائی وہی پھینکتے ہوئے بولا تھا جبکہ اس کی بات اور انداز دیکھ صنم کا دل کانپ اٹھا تھا صنم جانتی تھی وہ جو کہتا تھا وہ کر دیتا تھا صنم نے لب دبائے
پانچ منٹ بعد اس نے دروازہ کھولا تھا کمرے میں خاموشی تھی وہ آہستہ سے کسی ننھی چڑیا کی مانند آنکھیں گھوماتی باہر آئی تھی ٹائی زمین پر پڑی ہوئی تھی اور کمرا خالی تھا
“اففف اللہ جی کیا وہ واقعی چلے گے اب ؟ اب کیا کروں گی میں “
وہ ماتھے پر ہاتھ مارتی کمر پر ہاتھ ٹکائے بولی تھی وہ اسی پریشانی میں انگلیاں چٹخاتی تیار ہوئی تھی سوچ سوچ کر برا حال تھا اور پھر وہ باہر نکل گئی تھی
“کیا بیٹا بڑی پریشان لگ رہی ہو وجدان نے کچھ کہا “
بی اماں اس کا پریشان چہرہ دیکھتی بولی تھی
“وہ۔۔۔! نہیں بی اماں دراصل مجھے آپی کی یاد آ رہی ہے کیا میں ان سے ملنے چلی جاؤں”
وہ معصومیت سے چہرے پر اداسی سجائے بولی تھی یہ واحد طریقہ تھا وجدان سے بچنے کا ورنہ وہ اسے چھوڑتا ہی نا اس نے بڑی غور سے بی اماں کو دیکھا جن کے تاثرات سوچ میں ڈوبے تھے
“ہممم پر وجدان سے پوچھ لو رکو میں پوچھ لیتی ہوں”
بی اماں پاس پڑا موبائل اٹھاتی بولی تو صنم نے تھوک نگلا اگر بی اماں پوچھ لیتی تو وجی کبھی نا جانے دیتا ۔۔۔۔۔۔
“بی اماں آپ کو تکلیف کر رہی ہے میں پوچھ لیتی ہوں نا ویسے بھی وہ مجھے انکار نہیں کرے گے “
وہ مسکرا کر جلدی سے بی اماں کے ہاتھوں سے فون لیتی بولی تھی اس کی ہربڑاہٹ اور تیزی پر بی اماں اسے دیکھ کر رہ گئی جو مسکرا گئی تھی
“السلام علیکم وجدان “
وہ فون کان کو لگائے مسکرا کر بولی تھی
“ہممم وعلیکم السلام “
روٹھا روٹھا سا اس کا انداز صنم نے لب دبائے تھے
“وہ وجی مجھے حرا آپی کی یاد آ رہی ہے کیا میں۔۔ ان کی طرف چلی جاؤں”
صنم ٹھہر ٹھہر کر بولی تھی پہلے ہی وہ غصے میں تھا اس کی بات دوسری جانب وجی کا غصے سے دماغ گھوما تھا اس نے دانت پیسے
“کوئی ضرورت نہیں ہے جانے کی صنم “
وہ لفظوں پر دباؤ دیتا بولا وہ جانتا تھا کہ صنم کیوں جانا چاہتی تھی وہاں
“اچھا بہت شکریہ آپ کا وجی آپ بہت اچھے ہے آپ فکر نا کریں میں ڈرائیور کے ساتھ چلی جاؤں گی “
صنم بی اماں کی جانب دیکھتی خوشی چہرے پر سجائے بولی بی اماں اسے بڑے غور سے دیکھ رہی تھی اس کی بات پر وہ مسکرا گئی تھی
“صنم تمھارے کان لگتا بکریاں چرانے گے ہے خبردار میرے آنے تک تم گھر سے باہر نکلی تو ٹانگیں توڑ دوں گا تمھاری میں “
وہ لفظوں پر چبا چبا کر ادا کرتا بولا تھا اسے صنم کی دماغی حالت پر شبہ ہوا سامنے رکھی فائل غصے سے بند کی تھی
“جی جی میں ایک ہفتے تک واپس آ جاؤں گی اوکے آپ کام کر لے خدا حافظ “
بڑی چالاکی سے اس نے معاملہ سمبھالا تھا اور کھٹاک سے فون رکھ دیا جبکہ دوسری جانب وہ اس کا نام ہی پکار رہا تھا ۔۔۔۔
“بی اماں اب میں تیار ہو جاؤں آپ ڈرائیو کو بول دے”
وہ تیزی سے سیڑھیاں چڑھتی پیکنگ کرنے لگی تھی سب کچھ بہت پھرتی سے کیا تھا اس نے کہ کہی وہ خونخوار انسان نا آ جائے آدھے گھنٹے وہ خود کو چادر میں چھپائے نیچے آ گئی تھی
“اوکے بی اماں خدا حافظ ” وہ بی اماں کے گلے ملتی بولی تھی بی اماں دھیما سا مسکرائی تھی وہ اس کی تمام کروائی نوٹ کر رہی تھی
“بیٹا دھیان سے جانا “
وہ کچھ قدم آگے بڑھی جب بی اماں بولی تھی
“بیٹا یہ جو تم مجھ بوڑھی کہ ساتھ کھیل کھیل کر جا رہی ہو دھیان رکھنا تمھارا شوہر کیسا ہے کہی بعد میں تم اسی طرح اس سے چھپتی نا پھیروں “
بی اماں لب دبا کر بولی کہ صنم وہی رک گئی اس نے دونوں لب دبائے تھے ایک آنکھ بند کی اور بی اماں کی جانب دیکھ کر شرمندگی سے مسکرائی تھی
“جاؤ اب ” وہ مسکراتی نظروں سے اسے دیکھتی اجازت دے گئی تھی جس پر وہ واپس بھاگ کر آتی ان کے گلے لگ گئی اور پھر اتنی ہی جلدی سے ڈرائیور کے ساتھ گھر سے نکل گئی تھی
“بی اماں وجدان کو اچھے سے جانتی تھی وہ اپنی قیمتی چیزوں اور رشتوں کو کم ہی اپنی نظروں سے اوجھل دیکھ سکتا تھا اور یہاں تو پھر معاملہ اس کی روح میں بسنے والی بیوی کا تھا پھر وہ کیسے اجازت دے دیتا.
__________________________!!!

جاری ہے ۔۔۔۔۔!

کومنٹس کر کے جائے شاباش.

ناول نگری میں ہر نئے پرانے لکھاری کی پہچان، ان کی اپنی تحریر کردہ ناول ہیں۔ ناول نگری ادب والوں کی پہچان ہے۔ ناول نگری ہمہ قسم کے ناول پر مشتمل ویب سائٹ ہے جو عمدہ اور دل کو خوش کردینے والے ناول مہیا کرتی ہے۔
ناول کا ریوئیو دینے کیلئے نیچے کمنٹ کریں یا پھر ہماری ویب سائیٹ پر میل کریں۔شکریہ

novelsnagri786@gmail.com

 

Read Haweli Based Urdu Novel based on romantic love story. At this website Novelsnagri.com  Also Give your comments on the novels and also visit our Facebook page for Ebooks . Hope all of you enjoy it.

Leave a Comment

Your email address will not be published.