haveli based novel, Web special novel

haveli based Urdu Novels | saaiyaan Epi #18

haveli based Urdu Novels, saaiyaan ,Epi #18

Sneak Peak

Shahji!!! Should we meet today then?” He said to himself with a moist smile.

Then the face was spotted and turned outside.

“Listen, man. I don’t have any shalwar kameez at all. So sad.” Dil Sher opened his closet and said sadly.

“So what’s in it? Everyone knows you came from Canada. They wear more pants there,” Saif said in a normal tone.

 “Yes, but man” he sat on the sofa next to him.

“I saw the men of this mansion. Do you have a personality? I mean Zamil Kaif Bhai. You and him. Hero Ahsam Shah. You look amazing in shalwar kameez. I should have one too. It should.”  Dil Sher looked at him and said.

“Well, you are idolizing the men of Shah Haveli,” Saif laughed.

“Yes, no. So far, I have not found anyone who is excited to see.” Dil Zir said shrugging his shoulders.

 

Web Special Novel, haveli based Urdu Novels, saaiyaan

#سائیاں

#از_قلم_بسما_بھٹی

#قسط_18

” آپ کہیں جا رہی ہیں ؟ ” قمر جو عنابیہ کے ساتھ شاپنگ پر جانے لگا تها نیچے سیڑھیاں اترتے ہوئے اس نے ارم سبکتگین کو دیکھا جو تیار تھی کہیں جانے کے لیے ۔

ارم نے اپنی شال درست کی ۔

” ہمم ۔۔۔ اک اہم کام ہے ” سنجیدگی سے جواب دیا ۔

” ہم چھوڑ دیتے ہیں آپ کو ” قمر ان کے پاس آتا بولا۔

” نہیں ۔۔۔ میں اپنی گاڑی میں جاؤں گی ۔۔ تم لوگ جاؤ ” پیار سے قمر کے گال کو چھوتے کہا ۔

” اوکے ٹھیک ۔۔ اللّٰه حافظ ” مسکرا کر جواب دیا اور عنابیہ کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا ۔

عنابیہ نے اک نظر ارم کو دیکھا اور گہرا سانس لیتی قمر کے پیچھے چل دی ۔

” تو شاہ جی ۔۔۔۔۔ آج ملاقات ہو جائے پھر ؟ ” نم ہوتی مسکراہٹ سے خود سے کہا ۔

پھر چہرہ سپاٹ ہوا اور باہر کا رخ کیا ۔

🌹🌹🌹

” یار سن ۔۔۔ میرے پاس بلکل بھی شلوار قمیض نہیں ہیں ۔۔۔ سو سیڈ ۔۔۔ ” دل شیر اپنی الماری کھولے افسوس سے بولا ۔

” تو اس میں کیا ہے ۔۔۔ سب کو پتہ تم کینیڈا سے آئے ہو ۔۔۔ وہاں زیادہ پینٹس ہی پہنی جاتی ہیں ” سیف نے عام سے لہحے میں کہا ۔

” ہاں لیکن یار ” وہ اس کے پاس صوفے پر بیٹھا ۔

“دیکھا میں نے اس حویلی کے مردوں کو ۔۔۔ کیا تم لوگوں کی پرسنلٹی ہے ۔۔ آئی مین زامل کیف بھائی تم اور وہ ۔۔۔ ہیرو احسام شاہ ۔۔ کیا کمال لگتے ہو شلوار قمیض میں ۔۔۔ میرے پاس بھی ہونی چاہیے ۔۔ ” دل شیر نے اسے دیکھتے کہا ۔

” اچھا تو تم شاہ حویلی کے مردوں کو آئیڈیلائز کر رہے ہو ” سیف کو ہنسی آئی ۔

” ہاں نا ۔۔۔ اب تک کوئی اچھا ملا ہی نہیں جسے دیکھ کر جوش چڑھتا ۔۔۔ ” دل زیر نے کندھے اچکاتے کہا ۔

” اچھا چل مال چلتے ہیں ۔۔۔ وہاں سے خرید لینا ” سیف نے اس سے کہا تو دل شیر فوراً مان گیا ۔

دونوں مال کے لیے نکلے ۔

🌹🌹🌹

گاڑی مال کے باہر رکی تو اس نے حیرت سے اتنی بلند عمارت کو دیکھا ۔

” کیا ہوا کیا دیکھ رہی ہیں ؟ “قمر اس کی آنکھوں میں حیرت دیکھ کر بولا ۔

” یہی کہ شہر میں کتنی کنتی بڑی بڑی عمارتیں ہوٹیلز ہیں ۔۔۔۔ ہمارے گاؤں میں تو سب سے بڑی ہماری حویلی اور اس کے بعد کوئ اس جیسی بڑی حویلی یا گھر نہیں ہے ” مال کو گھورتے ہوئے وہ انہماک سے بولی ۔

” مجھے بھولا نہیں کہ مسز عنابیہ یونیورسٹی جاتی تھیں ” وہ اس کی بات پر ہلکی سی شرارت سے طنز کر گیا ۔

عنابیہ نے اسے دیکھا جو آنکھوں میں نرم شرارت لیے اسے دیکھ رہا تھا.

” ہاں لیکن مجھے ڈرائیور لینے آتا تھا ۔۔۔ حویلی کے گیٹ سے گاڑی شروع ہوتی اور یونیورسٹی کے گیٹ کے بلکل سامنے رکتی ۔۔۔ میں نے کبھی گاڑی سے باہر نہیں دیکھا نا ہی کبھی اتری نا کبھی ایسا موقع آیا ” سادگی سے اس کی طرف دیکھتے جواب دیا ۔

اس کی اتنی معصومانہ لہجے پر قمر کو ٹوٹ کر پیار آیا ۔ آگے بڑھ کر اس کے ماتھے پر بوسہ دیا ۔

اس لمس میں ہمیشہ کی طرح سکون تھا ۔ لیکن اس کی نظریں بے اختیار جھک گئیں ۔

” پہلے آپ صرف عنابیہ شاہ تھیں اب ۔۔ آپ قمر کی بیوی اس کی عزت اس کی چاہت ہیں ۔۔۔ مسز قمر ہیں آپ ۔۔۔ جب تک میری زندگی ہے ۔۔۔ تب تک تو آپ ہر وہ لمحہ اپنی زندگی میں پائیں گی جس کی کبھی آپ نے چاہ کی ہو گی ” اس کی جھکی نظروں پر آنکھیں لگائے جزب سے کہا ۔

عنابیہ نے پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا ۔ اسے نہیں یقین تھا کہ کوئی ایسا اجنبی بھی مل جائے گا جو اس کی خواہش تک کا احترام کرے گا !.

” مسز ۔۔۔ ہوش میں آ جائیں ۔۔۔ میں اس سے بھی زیادہ محبت کر سکتا ہوں ” آنکھوں میں شرارت لیے وہ دوبارہ سے بولا تو وہ ہوش میں آتی مسکرا کر سر جھکا گئ۔

اور قمر جانتا تھا کہ وہ اس لمحے کو روک دے جس میں عنابیہ کی مسکان تھی ۔

وہ سائیڈ سے اترا اور اس کی طرف آیا اور دروازہ کھولا ۔

عنابیہ نے اس کا پھیلا ہاتھ دیکھا ۔ جھجھکتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیا ۔

اور وہ اس کی تقلید میں اندر کی طرف بڑھ گئ۔

دل پر ہلکی ہلکی سی دستکِ محبت ہوئی تھی ۔

ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے

میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے

وحدت میں تیری حرف دوئی کا نہ آ سکے

آئینہ کیا مجال تجھے منہ دکھا سکے

میں وہ فتادہ ہوں کہ بغیر از فنا مجھے

نقش قدم کی طرح نہ کوئی اٹھا سکے

قاصد نہیں یہ کام ترا اپنی راہ لے

اس کا پیام دل کے سوا کون لا سکے

غافل خدا کی یاد پہ مت بھول زینہار

اپنے تئیں بھلا دے اگر تو بھلا سکے

یارب یہ کیا طلسم ہے ادراک و فہم یاں

دوڑے ہزار آپ سے باہر نہ جا سکے

گو بحث کر کے بات بٹھائی بھی کیا حصول

دل سے اٹھا غلاف اگر تو اٹھا سکے

اطفائے نار عشق نہ ہو آب اشک سے

یہ آگ وہ نہیں جسے پانی بجھا سکے

🌹🌹🌹

 سیف نے گاڑی پارکنگ میں روکی ۔ تبھی ایک میٹھی ہوا جو کسی کی خوشبو کا پتہ اس تک لائی تھی سیف کو چوکنا کر گئ ۔

فوراً سے شیشے سے باہر اس سمت دیکھا جہقں سے خوشبو آئی تهی ۔ اس کا دل مچل اٹھا تھا ۔

موسم بھی بارش کے بعد ہوا سے بھرا ہوا تھا ۔

” یار واہ ۔۔۔ کمال یے ۔۔۔ پاکستان کے مال بھی کوئی کم نہیں ۔۔۔ کینیڈا جیسا ماحول یہاں بھی ہے ” دل شیر کی آواز گاڑی میں گونجی تو سیف کا سکتہ ٹوٹا.

” چل اندر چلیں ” سیف نے اپنا وہم سمجھا ۔

بھلا مال میں عنابیہ کہاں سے آئی وہ تو نجانے کہیں چھپ گئ تھی ۔ جسے ڈھونڈنے کا ایک بھی ذریعہ نہیں معلوم تھا ۔

دل شیر اور وہ اندر کی طرف بڑھ گئے ۔

وہ دونوں اندر گئے ۔

سیف کی بے اختیار نظر پورے مال پر گھومی جیسے وہ اسے یہیں کہیں مل جائے گی ۔

کون کہتا ہے کہ عشق میں ملن ہوتا نہیں ؟

اسے بتاؤ جا کر ! معجزے اکثر ہو جاتے ہیں

وہ الیکٹرک سیڑھیوں سے اوپر کی جانب دوکانوں پر گئے جہاں جینٹس اور لیڈیز کرتے شلوار قمیض وغیرہ تھے ۔

ابهى وہ سامنے والے شاپ پر رکے تھے کہ ایف کا دل بری طرح دھڑکا ۔ اس کی آنکھوں کی پتلیاں تک ساکت اور چوکنا تھیں ۔

بے قرار نگاہیں پوری دکان میں گھمائی ۔ جیسے دل اس کا پتہ یہیں کہیں سے دے رہا تھا.

لیکن اسے تو پوری دکان میں کہیں بھی وہ نا دکھی ۔

اس نے گہرا سانس لیتے اپنے دل کے مقام کو مسلا ۔

” سیفی ۔۔۔ کہاں رہ گیا کیا ہو گیا ؟ ” تبھی دل شیر نے اس کا کندھا ہلاتے کہا ۔

” چل ” اہن سر جھٹکتا وہ اس کے ساتھ سٹول پر بیٹھ گیا ۔

_______

” یہ اچھا ہے ؟ ” اس کے سامنے پنک رنگ کا فراک پھیلاتے قمر نے پوچھا ۔

” یہ ۔۔۔ بہت کامدار ہے ” عنابیہ نے ہلکی آواز سے قمر کو کہا اس کے پاس ہی تو تھا .

دو انگلیوں سے نقاب ہمیشہ کی طرح چہرے پر کر رکھا تھا .

لیکن اصل قاتل تو آنکھیں ہوتی ہیں ۔ جو کھلی چھوڑ دی جاتی ہیں ۔

” تو کیا ہے ! ” قمر کو اس کی منطق عجیب لگی ۔

” میں نے گھر میں پہننے ہیں ۔۔۔ کوئی سیدھے سادھے لیں ۔۔۔۔ یہ نگوں نگینوں سے بھرے میں کیسے پہنوں گی ؟ ” اس کی طرف جھکتے ہوئے پھر سے ہلکی آواز میں کہا ۔

قمر نے اس کا پاس آنا پیار سے دیکھا ۔

” تو ایسے ڈریسز بھی ہونے چاہیے نا ۔۔۔ کہیں جانا پر سکتا ہے ۔۔۔ تب پہن لینا ” قمر نے اسی کی طرح جھک کر ہلکی آواز میں کہا ۔

عنابیہ نے آنکھیں چھوٹی کر کے اسے دیکھا جو اس کی نقل اتار رہا تھا ۔

قمر کا قہقہہ چھوٹ گیا ۔

” جو مرضی لیں آپ ” اس کے بازو پر ہلکی سی چٹکی کاٹتے کہا ۔

قمر نے ہنسی ضبط کرتے اپنا بازو دیکھا جہاں اس نے چٹکی کاٹی تھا ۔ یہ کافی خوش آئیند بات تھی ۔ وہ اس پر حق سمجھنے لگی تھی ۔

” اچھا ہم دونوں طرح کے لے لیتے ہیں ” اس کو بازوؤں کے ہالے میں لیتے قمر نے مسکرا کر کہا مگر بیچاری پبلک کا خیال کرتے شرم سے دوہری ہو گئ ۔ اس کی تو آنکھوں سمیت سر بھی جھک گیا ۔

قمر کو اس کا سرخ پن اچھا لگا مگر وہ اسے مزید تنگ نہیں کرنا چاہتا تھا ۔ تبھی دکان دار سے کپڑے نکلوانے لگا اور پیک کروانے لگا ۔

______

” چل دوسری شاپ پر چلتے ہیں ” دروازہ کھول کر باہر آتے سیف نے کہا ۔ لیکن اس کے قدم رک گئے ۔

دل شیر اس کے رکنے پر متوجہ ہوا ۔

” کیا ہوا ؟ ” دل شیر نے پوچھا ۔

سیف نے دائیں جانب دیکھا جہاں سے اسے تڑپا کر رکھ دینے والی خوشبو آ رہی تھی ۔ یہ دل بھی کتنا پاگل ہوتا ہے اس انسان کی آہٹ بھی جان لیتا ہے جس سے محبت ہو گئ ہو ۔

اس کے قدم دائیں جانب کی طرف بڑھے ۔

دل شیر نے اسے نا سمجھی سے دیکھا ۔

اس کا دل ہر بڑھتے قدم پر تیز سے تیز دھڑکنا شروع ہو رہا تھا ۔ اس کو خوشبو کی مہک بے حد تیز آنے لگ گئی تھی ۔

اس کے قدم جہاں رکے وہاں سے کوریڈور مزید دائیں کی طرف مڑ جاتا تھا. اور اس کا دل اتنی قریب سے خوشبو پر ڈر بھی رہا تھا اور پریشان بھی ہو رہا تھا ۔ سیف یوسف شاہ کے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ ایک لڑکی اس کے حواسوں پر چھائے ، اس کا چین اس کی نیندیں اڑا کر لے جائے اور اب اس کے آس پاس ہونے کا شبہ ہو ۔

دھڑکتے دل سے اس نے دائیں طرف رخ موڑا تو جیسے سماع ٹھہر ہی گیا ہو ۔ جیسے اسی پہ کے لیے سیف کا دل بنایا گیا ہو ۔ جیسے اسی پل کے لیے دل کا سکون لکھا گیا ہو ۔

وہ سامنے تھی ۔ پندرہ بیس قدم دور ۔ اسی طرح چہرے پر نقاب لیے ۔ دکان کے باہر کھڑی اندر دکان میں جھانکتے ہوئے ۔

سیف کو جیسے ایک زندگی اور دے دی گئی تھی ۔حس لڑکی کو خود ونی کے لیے پیش کیا تھا وہ کب اس کے دل کی راجدھانی سنبھال گئ پتہ ہی نہیں چلا اور اب ۔۔۔ اس کے سامنے تھی بے حد نزدیک کیسے وہ اپنی حالت بیان کرتا ۔

اس کے قدم خود بخود اس کی طرف بڑھے ۔

🔥 ماہیہ ۔۔۔۔۔ کیا ہوا جو دل کھو گیا 🔥

اس کے قدم لڑکھڑا رہے تھے ۔ اتنا بھاری کیوں لگ رہ تھا اس کے پاس جانا اس کو چھونا ؟

🔥 بیلیا ۔۔۔ عشق میں خدا مل گیا 🔥

لڑکھڑاتے قدم اس کی طرف بڑھ رہے تھے ۔ آنکھوں میں نمی تهی ۔ سینے میں ملن کی آگ لگ گئی تھی ۔ وہ اسے یقیناً اب لیجانے کی نیت سے پاس جا رہا تھا ۔

لیکن وہ دیکھ نہیں رہی تھی اسے ۔ گردن تک نہیں موڑ رہی تھی کہ سیف پر نظر پڑتی ۔

تبھی کچھ قدم کی دوری پر اس نے ایک مرد کو دکان سے نکلتے دیکھا جو عنابیہ کے پاس آ رہا تھا.

اس کا دل مرچوں سے بڑھ گیا ۔ کون تھا جو اس کی طرف بڑھ رہا تھا ۔

” سوری بس پیمنٹ کیش میں چاہیے تھی انہیں. ۔۔ خیر چلیں ؟ ” دوسرے ہاتھ میں سارے بیگز پکڑتے ایک ہاتھ عنابیہ کے سامنے پھیلایا ۔

” عنابیہ ” اس سے پہلے کہ وہ قمر کا ہاتھ تھامتی سیف کے لب خودبخود اس کا نام اونچا کے اٹھے ۔

بیک وقت دونوں مڑے ۔

عنابیہ کی حیرت سے آنکھیں کھل گئیں ۔ اس کے سامنے سیف کھڑا تھا ؟ یہ مزاق نہیں تھا ! دل رک کر چلا تھا ۔

اس کو ایک دفعہ پھر پاس سے دیکھ کر جیسے آنکھیں بھیگنے لگی تھیں ۔

قمر نے اپنے ہاتھ کو دیکھا جس میں عنابیہ نے ہاتھ نہیں رکھا تھا ۔ وہ ایسے ہی اس کے ہاتھ سے دو انچ اونچا ہوا میں ٹھہر گیا تھا ۔ اس کی آنکھوں میں نمی آ گئ ۔ عنابیہ کو دیکھا جو نم آنکھوں سے سیف کو دیکھ رہی تھی ۔

” عنابیہ ” سیف کے لب پھر سے اس کا نام لے گئے ۔ اس کی اپنی آنکھیں بھیگ گئی تھیں ۔ گناہ کا احساس کس حال میں لے آیا تھا کہ اسے اپنا چین قرار سامنے نظر آ رہا تھا ۔

” سائیں ! ” اس کے ہونٹوں نے ہلکی سی جنبش کی ۔

قمر تو عنابیہ کو دیکھ رہا تھا ۔ ایک نظر جو سیف جو دیکھا تھا وہ جانتا تھا وہ حسن وجاہت دولت شہرت مقام میں اس سے زیادہ تھا ۔ لیکن قمر عنابیہ کے چہرے پر نظریں جمائے اس کے اگلے قدم کو منتظر تھا ۔ اسے لگ رہا تھا جیسے اس کے ہاتھ سے زندگی نکل جائے گی اگر اس نے عنابیہ سے نظریں ہٹائیں ۔ وہ اسے دیکھ نہیں پائے گا .

” عنا ” قمر نے اس کے ہاتھ کو خودی پکڑ لیا ۔

عنابیہ ہوش میں آئی اور رخ موڑ کر قمر کو دیکھا ۔

” آپ میری ہیں ۔۔۔ آپ سے نکاح کیا ہے میں نے ۔۔۔ چھوڑنے کے لیے نہیں ۔۔۔۔ نہیں چاہیے آپ کی محبت ۔۔۔۔ نہیں چاہیے کوئ حق آپ سے ۔۔۔ فقط ایک احسان کر دیں ۔۔۔ بس میری رہیں ۔۔۔۔ بسس ۔۔۔ میری صرف میری ۔۔۔ میرے سے دستبردار نہیں ہوں گی اپ ۔۔۔ ” اس کے ہاتھ پر دباؤ دیے وہ ہلکی ہلکی آواز میں اپنا خودشہ اپنا ڈر اپنی تڑپ اس کے سامنے کھول گیا تھا ۔ وہ کیسے بتائے عنابیہ کو کہ کتنا چاہتا ہے وہ اسے ۔

عنابیہ کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر بہا ۔

” میں گاڑی میں جا رہا ہوں ۔۔۔۔ میرا ہونے کا دل کے تو واپس آ جائے گا کچھ نہیں پوچھوں گا ۔ ” ہلکی مسکان سے کہا ۔

عنابیہ کا دل بہت بری طرح رونے کو کر رہا تھا ۔

” اگر تمہیں ان کے ساتھ ۔۔۔۔۔ واپس جانا ہو ۔۔۔۔ تو ۔۔۔ بتانے بھی ۔۔۔۔ مت آنا ۔۔۔ کیونکہ ۔۔۔۔ جنہیں جانا ہوتا ہے. ۔۔ وہ چلے جاتے ہیں ۔۔۔ پلٹ کر ۔۔۔ اپنے جانے کی خبریں نہیں دیتے ۔۔۔۔ آپ بھی ۔۔۔۔ مجھے بتانے مت آئیے گا ” اس کا لہجہ نم آلود تھا ۔ بے بس تھا دل ۔ روح لرز رہی تھی ۔ اتنا آسان نہیں تھا سب برداشت کرنا ۔ اور عنابیہ کو ایسے جانے کا کہنا ۔

” لیکن میں. ۔۔ انتظار کروں گا ۔۔۔ آپ کا ” اس کے ہاتھ پر دباؤ دیا اور چھوڑ دیا ۔ اور تیزی سے اس جگہ سے دور چلا گیا ۔ وہ نہیں دیکھ سکتا تھا عنابیہ کو کسی کے ساتھ ۔ چاہے آخری فیصلہ اس کا اپنا ہی تھا ۔

عنابیہ نے گردن موڑ کر اس کی پشت دیکھی جو تیزی سے اس جگہ سے جا رہا تھا ۔

” عنابیہ ۔۔۔ مجھے پتہ ہے ۔۔۔ میں نے بہت بڑی غلطی کی ہے ” سیف اس سے تین چار قدم کی دوری پر رک کر بولا ۔

عنابیہ نے سیف کو دیکھا ۔

” میں نے بہت بڑا. گناہ کیا تھا اس دن تمہیں ۔۔۔۔ ونی کر کے ۔۔۔ میں اس کے بعد سے کس کرب سے گزر رہا ہوں ۔۔۔ تم نہیں جانتی “

عنابیہ نے اسے گہری نظروں سے دیکھا ۔

اس کے چہرے کا رنگ زرد پڑ گیا تھا ۔ آنکھوں کے گرز سیاہ حلقے پڑ رہے تھے ۔ صحت بھی گھٹی ہوئی تھی جیسے خیال نا رکھا گیا ہو ۔

” یہ ۔۔۔۔ کیا حال بنا لیا ۔۔ آپ نے سائیں ؟ ” اس کی حالت پر اس نے حیرت سے پوچھا ۔

” ہاں ۔۔ دیکھو ۔۔۔ کیا حالت ہو گئ میری ۔۔۔۔ میں ۔۔۔ تمہیں کیسے بتاؤں ۔۔ چلو حویلی چلو میرے ساتھ ۔۔ خدا نے مجھے ایک موقع دیا ہے اپنی غلطی سدھارنے کا ۔۔۔ میں سب کو دیکھ لوں گا جو تمہیں مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے گا ۔۔۔ چلو تم ” وہ اس کی طرف بڑھا تا کہ ہاتھ پکڑ سکے لیکن عنابیہ نے ہاتھ کو پیچھے کر لیا ۔

سیف نے الجھ کر اسے دیکھا لیکن اس کی آنکھوں میں بھی عجیب تاثر تها ۔

” میں حویلی کیوں جاؤں ؟؟؟ ۔۔۔ آپ کی اسی حویلی نے مجھے ۔۔۔ خون بہا میں دیا تھا نا ؟؟ ۔۔۔ مجھے بھیجنے کا غالباً آپ کا ہی ارادہ تھا اور مشورہ بھی بھائی کی محبت اہم تهی نا ۔۔۔ آپ ہی تھے جنہوں نے مجھے میری بہن کی عزت محبت جان کے نام پر بلیک میل کیا تھا ۔۔۔ کچھ غلط تو نہیں کہا میں نے ؟ ” سینے پر ہاتھ باندھتے وہ سنجیدگی سے بول رہی تھی ۔

اس کے الفاظ نے ایک دفعہ پھر سیف کو شرمندگی میں مبتلا کر دیا ۔

” میں ۔۔ جانتا ہوں ۔۔۔ میرا بہت بڑا کسور ہے ۔۔۔ میں ے بہت بڑی غلطی کی ہے ۔۔۔ لیکن میں ۔۔ سب کچھ صحیح کر دوں گا ۔۔۔ سب ٹھیک کر دوں گا ۔۔۔ میرا یقین کرو ” سیف نے اس کو یقین دلانا چاہا ۔

” ایک بات کہوں سائیں ۔۔۔ مرد کی طرف سے ۔۔۔ عورت کے لیے سب سے حسین تحفہ ۔۔۔ جانتے ہیں کیا ہے ؟؟؟ ” آنکھوں میں اجنبیت لیے وہ سہاٹ چہرے سے بولی ۔

اتنی ہمت کیسے آ گئ تھی اس میں ؟

سیف اس کو دیکھ رہا تھا ۔ اس کے پاس جواب نہیں تھا .

” عزت ۔۔۔۔۔ عزت بے حد خوبصورت اور مہنگا تحفہ ہے ۔۔۔ جو مرد دیتا ہے ۔۔۔۔ لیکن آپ نے کیا کیا ؟ ۔۔۔ مجھے عزت دینے کی بجائے ۔۔۔ الٹا عزت ہی لے لی ؟ ” اس کے لہجے میں کاٹ تھی ۔

سیف نے پشیمانی سے سر جھکا لیا ۔ کاڑھی وار کیا تھا عنابیہ نے.

” آپ کی نظر غلطی ہو گی یہ ۔۔ کہنا تو گناہ چاہیے ۔۔۔۔ لیکن اس غلطی کے بدلے اللّٰه نے مجھے نیلام نہیں ہونے دیا ۔۔۔ اس نے مجھے آپ جیسے مردوں کے حوالے نہیں کیا ۔۔۔۔ اس نے میری عزت کی رکھوالی کے لیے ۔۔۔ بھائی ۔۔۔۔ اور شوہر دیا ” ونابیہ کی آواز رندھ گئی تھی ۔ وہ پل اس کی آنکھوں میں گھوم رہے تھے جب اسے پیش کیا گیا تھا پنچائت میں ۔

سیف نے جھٹکے سے سر اٹھایا ۔

” شوہر ؟ ” سیف نے حیرت سے پوچھا ۔

” ہاں ۔۔۔ عنابیہ قمر نام ہے میرا ۔۔۔ میری عزت میری چاہت میرے نام میرے وجود کی حفاظت کا زمہ دار ہے ۔۔۔ رکھوالا ہے ۔۔ ” اس کے لفظوں میں بس قمر کے لیے مان ہی مان تھا ۔ اس کو ایسے الفاظ نہیں مل ریے تھے حس سے وہ سیف کو مزید قمر کی اچھائیاں بتاتی ۔

” میں ۔۔۔ تمہیں بہت چاہتا ہوں عنابیہ ۔۔۔۔ پلیز ” سیف نے تڑپ کر کہا. اس بات کا اعتراف کیا تھا جس کا وہ اپنے بھائی کے سامنے بھی نہیں کر رہا تھا.

” بعض محبتیں ایسی ہوتی ہیں سائیں ۔۔۔ جو تب ملتی ہیں جب ان کی ضرورت نہیں ہوتی ۔۔۔۔ اب آپ کی چاہت کی ضرورت نہیں ۔۔۔ جب چاہت چاہیے تھی ۔۔۔ تب آپ کسی اور کے تھے ۔۔۔۔ اب نہیں آپ کی محبت چاہیے ” استہزائیہ ہنسی کے ساتھ بولی ۔

” عنابیہ ” اس کے رخ موڑنے پر سیف نے پھر سے آواز دی ۔

” تم مجھے چاہتی تھی ۔۔۔ مجھے تم کیسے بھول سکتی ہو ۔۔۔ کیسے چھوڑ سکتی ہو ۔۔۔ پلیز ایک موقع دو مجھے ۔۔۔ ایک موقع دے دو ۔۔۔ تمہیں تمہاری محبت سمیت نکھار دوں گا ۔۔۔ مجھے اءی موقع دو ” اس کے سامنے آتے مبت کے سے انداز میں کہا ۔

” محبت کی تھی ۔۔۔ جب میں کسی کے نام نہیں تھی ۔۔۔ اب عنابیہ کسی کے نکاح میں ہے اس کی وفادار ہے ۔۔۔ اب آپ کی چاہت نہیں دل میں ” اس کی طرف سنجیدگی سے دیکھتے کیا اقر سائڈ سے گزری.

” مجھے ایک موقع دے دو عنابیہ ” سیف کا لہجہ رندھ گیا.

وہ رکی اور پلٹ کر اسے دیکھا.

” جس دن خدا شرک معاف کر دے گا نا ! ۔۔۔۔۔ اس دن آپ سے ۔۔۔ دوبارہ محبت کروں گی ” سپاٹ انداز سے کہتے وہ سیف کو اپنی جگی جامد کر گئ ۔

وہ اس کی دسترس میں نا آ سکی . اب بھی وہ اس سے دور چلی گئی تھی ۔

اس کے الفاظ اس کے وجود کے گرد گردش کر رہے تھے ۔

” سیفی ۔۔۔۔ یہ کیا تھا ؟ ” دل شیر جو کب سے کچھ دور کھڑا دیکھ رہا تھا اب حیرت میں مبتلا سیف کا کندھا ہلاتے بولا ۔

سیف نے اسے دیکھا.

دل شیر کا دل جیسے پسیچ گیا اس کی حالت پر ۔ آنکھوں میں پانی تھا سرخ ڈوڑے لیے ۔

* سیف ! ” دل شیر نے تڑپ کر اسے سینے سے لگا لیا.

” یہ کیا حالت تیری ؟ ” اس کو سینے میں بھینچے وہ خود رو دینے کو تھا ۔

” سیف شاہ. ۔۔ عزت نا سنبھال سکا ۔۔۔۔ بےغیرت نکلا ” اس کے سینے سے لگے وہ تقریبا بنا آواز کیے رو دیا تھا.

لیکن دل شیر بری طرح پریشان ہو گیا تھا.

🌹🌹🌹

وہ سیٹ کے ساتھ سر لگائے آنکھیں بند کر کے بیٹھا تھا جیسے. امید تھی کہ وہ آئے گی ۔

بے شک وقت بہت ہو گیا تھا لیکن وہ اپنی بات ہر قائم اس کے انتظار میں تها ۔

کچھ پل ہی گزرا تھے کہ دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ چونکا مگر سر نہیں اٹھایا نا آنکھیں کھولیں ۔

جن سے محبت کی جائے ان کی آہٹ کا پتہ نا لگے تو فٹے مونھ ایسے محبت پر ۔

وہ جان گیا تھا کون ہے لیکن پہل اس سے چاہتا تھا ۔

وہ اندر بیٹھی دروازہ بند کیا ۔ اور گردن موڑ کر اسے دیکھا ۔ اسے بھی علم تھا کہ وہ سویا ہوا نہیں ۔ ایسی صورتِ حال میں سوتا کون ہے ۔ وہ اس کے انتظار میں تها اور اس کی موجودگی کو محسوس کر گیا تھا ۔

وہ مسکرا کر نم آنکھوں سے اس کے شفاف چہرے کو دیکھنے لگی ۔

پھر مسکراتے آگے بڑھی اور اس کے ماتھے پر بوسہ دیا.

ویسا ہی بوسہ جس میں مان سکون تسلی عزت چاہت محبت سب کچھ سمویا تھا ۔ وہی بوسہ جو قمر اسے دیتا تھا اس کے ماتھے پر اس کی آنکھوں پر اور اس کی ساری تھکن ساری پریشانی چن لیتا تها ۔ وہ کوئی اتنی ماہر نہیں تھی جزبات جو بیان کرنے میں لیکن اس ایک ہفتے نے قمر نے عنابیہ کے دل اس کے وجود پر اپنے نم اپنے جادو کا نا دکھنے والا کھول چڑھا دیا تھا.

قمر کے لب مسکرا دیے. سکون سے ۔

دھیمے اے آنکھیں کھولیں تو آنکھوں کے سامنے اسے پایا جو اس کے ماتھے پر بوسہ دینے کے بعد پیچھے نہیں ہوی تھی ۔

” مجھے پتہ تھا آپ آ جائیں گی ” اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لیے کہا ۔

” اتنی محبت کرتے ہیں ؟ کہ کوئی آپ سے دور جا ہی نا پائے ؟ ” اس کی آنکھوں پر بوسہ دیتے وہ دل جمی سے بولی .

قمر تو سرشار ہو گیا تھا ۔ اس نے خود پہل کی تھی ۔ آگے بڑھ کر حق سے بوسہ لیا تھا ۔

” کیا کروں ۔۔۔ آپ کے معاملے میں دل پر اختیار نہیں رہتا ” اس کے ماتھے پر بوسہ دیا تو وہ مسکراتی اس کے سینے پر سر رکھ گئ۔

تبھی پاس میں لگے گانے نے دونوں کو متوجہ کیا ۔ دو منچلے اپنے موبائل میں سنتے ہوئے پاس آ کر رکے تھے ۔

” مینوں سپنے آندے نے ۔۔۔۔۔

وے تو چڑھیا پھردا کوئی ۔۔

تیری میری اڑیا وے ۔۔۔

لگو ٹچ بٹناں دی جوری … “

یہ بے شک گانا تھا لیکن قمر اس کے لیرکس پر ہنستے عنابیہ کو دیکھنے لگا .

” کیا ؟ پنجابی آتی آپ کو ؟ ” اپنی جگہ بیٹھتے چادر اچھے سے لیتے پوچھا ۔

” ہاں ۔۔۔ اس گانے کا مطلب ہے ۔۔ جس طرح ٹث بٹن ہوتے ہیں ۔ دو لیکن ایک جوڑی ۔۔۔ ایک کے بغیر دوسرا ادھورا اور فالتو ناکارہ ۔۔۔۔ اسی طرح آپ اور میں ہیں ۔۔۔ آپ کا پتہ نہیں ۔۔۔ لیکن آپ کے بغیر میں تو ناکارہ ہوں ” گاڑی سٹارٹ کرتے محبت سے کہا.

” میرے ساتھ رہنے کی آج سے دعائیں شروع کر دیں آپ ۔۔۔ بغیر والا معاملہ اب نہیں چلے گا ” شیشے کی طرف دیکھتے سرخ چہرے سے کہا ۔

قمر نے اس کی بات پر محبت سے دیکھا ۔

” یہ دعائیں ہی ہیں جو آج آپ میرے پاس ہیں ۔۔۔ میری ہیں ” اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیتے کہا تو وہ مسکرا کر سر جھکا گئ۔

قسمت سے تم ہم کو ملے ہو ۔۔ کیسے چھوڑ دیں گے ۔۔

یہ ہاتھ ہم نا چھوڑیں گے ۔۔۔

پھر سے بناتی تقدیروں کو ۔۔۔

ارمانوں کی زنجیروں کو ۔۔۔

جانم اب نا توڑیں گے ۔۔۔۔

یہ ہاتھ ہم نا چھوڑیں گے ۔۔۔

🌹🌹🌹

بلیک سیویک شاہ حویلی کے سامنے رکی ۔

ارم سبکتگین نے شیشے کو نیچے کرتے حویلی کو دیکھا ۔ انہیں نہیں پتہ تھا کہ وہ دوبارہ کبھی اس حویلی میں آئیں گی ۔

دروازہ ڈرائیور نے کھولا تو وہ بڑے ٹھاٹ سے اتریں ۔

اور سر اٹھا کر حویلی کو دیکھا جو سرخ رنگ کی بڑے شان سے کھڑی تھی ۔ ویسی ہی شان ویسا ہی روعب تھا جو کبھی ان کے وقت میں ہوتا تھا ۔

وہ ہنس دی ۔ وقت بہت بڑا دشمن تھا ان کا ۔ سب لے گیا ۔۔

اور قدم اندر کی طرف لے گئیں ۔

پہلا قمر رکھا تو نظر آپنے سامنے بنے زنان اور مردان خانے کی طرف گئ۔

زندگی جو یہاں گزری تھی وہ پھر سے آنکھوں کے سامنے آ گئ ۔

سر جھٹک کر وہ اندر بڑھ گئیں ۔

لاؤنج میں بی جان (فرحین شاہ) صوفے پر بیٹھی چائے پی رہی تھیں ۔ اور ماہم ان کے پاس بیٹھی کوئ بات بتا رہی تھی ۔

ارم سبکتگین کی نظر سامنے فرحین شاہ کے چہرے پر ٹک گئی ۔

کسی کی موجودگی کو محسوس کرتے فرحین شاہ نے سر اٹھایا تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔

ہاتھوں سے چائے کا مگ چھوٹ کر لڑھک گیا ۔

ماہم بدک کر اٹھی ۔ اور حیرت سے دونوں کو دیکھا ۔

فرحین شاہ کانپتے جسم سے اپنی جگی سے اٹھیں ۔

 ارم سبکتگین سائیڈ طرف سے ہنسی ۔

” میرا آنا ۔۔۔ اتنا وحشت ناک نہیں تھا ۔۔۔ جتنا تمہیں محسوس ہوا. ۔۔۔۔ فرحی ۔۔۔۔ میری بہن ” اپنی شال کو ایک طرز سے بازو پر ٹھیک کرتے طنزیہ کہا ۔

شاہ حویلی کے در و دیوار جیسے چوکنا ہو گئے تھے اس ہستی کے قدم رکھنے سے ۔

 

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Read haveli based Urdu Novelssaaiyaan , Urdu novel at this website Novelsnagri.com for more Online Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit this website and give your reviews on this Website. you can also visit our facebook page for more content Novelsnagri ebook

Leave a Comment

Your email address will not be published.