Web Special Novel, Haweli based urdu novel,

Haweli based urdu novel , saaiyaan episode 7

Web Special Novel, Haweli based urdu novel,

Category: Web special novel 

Novel name : Saaiyaan Episode 7

Written by: Bisma Bhatti

Haweli based urdu novel , saaiyan novel based on forced marriage, revenge based & novel is full of emotions, romance, suspense & thrill, Story of a girl who wants to follow the society style.

 

#سیاں
#از_قلم_بسما_بھٹی
راز الفت چھپا کے دیکھ لیا
دل بہت کچھ جلا کے دیکھ لیا
اور کیا دیکھنے کو باقی ہے
آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا
وہ اپنے دھیان اپنے کمرے سے نکلا ارادہ اس کا نیچے آغا جان کے ساتھ ڈیرے پر جانے کا تها۔
تیزی سے کمرے سے نکلا کے سامنے ہی عنابیہ کو دیکھا جو ٹیرس پر کھڑی تھی اور وہاں بی جان کے پاس بیٹھی ان کے لیے چائے بنا رہی تھی ۔اور بی جان کتاب پڑھ رہی تھیں ۔ وہ کھڑی اس طرح سے تهی کہ احسام کو صرف اس کا سائیڈ کا چہرہ نظر آ رہا تھا ۔
عنابیہ نظر آئے اور احسام شاہ دیکھے نا! ایسے کیسے ہو سکتا تھا!
وہ مسکراتا اس کو دیکھنے لگا۔
” حسین ہے بہت” اس کے پاس سے آواز آئی
وہ اتنا مگن تھا عنابیہ کو نہارنے میں کہ اسے پتہ ہی نا چلا لہ اس کے پاس کون آ کر کھڑا ہوا
“ہاں بہت” مسکراتے اسی ٹرانس میں جواب دیا
“کب سے؟” اب کچھ وقفے بعد آواز آئی تھی
“جب سے دیکھا ہے” پھر سے ٹھہراؤ سے چاشنی بھری آواز میں کہا
” ب۔۔۔ بہت حسین ہے کیا؟ ” اب کی بار آنے والی آواز لڑکھڑا گئی تھی۔ ۔
یہاں احسام شاہ کی محویت ٹوٹی ۔
ایک دم پریشان نظروں سے گردن موڑی تو چہرہ بلکل سفید ہو گیا
اس کے دائیں جانب ماہم کھڑی تھی جو عنابیہ کو دیکھ رہی تھی
احسام کے ماتھے پر شکنیں ابھریں تھیں لیکن اس بار شکنیں پریشانی کی تھیں ۔ وہ ایسے ماہم کے سامنے نہیں آنا چاہتا تھا ۔
ماہم نے اس کی خاموشی پر گردن موڑ کر اسے دیکھا چہرہ بلکل سپاٹ تھا ۔
” بتایا نہیں ۔۔۔۔ اتنی حسین ہے وہ! ” پھر سے پوچھا مگر احسام جواب نا دے سکا اس نے اپنی نظریں چرا لیں ۔
ماہم کی آنکھیں بھر آئیں اسے تو اب اصل وجہ معلوم ہوئی تھی ۔
” اتنی .۔۔۔ محبت کرتے ہیں اور ۔۔۔ کبھی بتایا ہی نہیں” استہزائیہ ہنستے ہوئے کہا ۔
احسام نے اسے دیکھا وہ کیا لڑکی تھی ! کیا وہ اس کا دل اور دماغ پڑھ رہی تھی ! !
” مسٹر احسام ۔۔۔ یہاں تو اب ماہم کا بھی ذکر نہیں اب تو اعتراف کر لیں” ماہم نے رندھی آواز سے کہا وہ چاہ کر بھی خود پر ضبط نہیں کر پا رہی تھی بری طرح ہرٹ ہوئی تھی ۔
“مجھے دیر ہو رہی ہے ” احسام نے جواب دیا
” احسام ” بے ساختہ اسکے لب ہلے تهے اور وہاں احسام کے قدم جمے تهے جو بھی تھا محبت نا سہی تھوڑا بہت انسانیت کا رشتہ تو ہے تھا نا ۔ وہ جانتا تھا کہ ماہم کو برا لگا ہو گا ۔
” آپ نے تو۔۔۔ ماہم کو جیتے جی۔۔۔ مار دیا ” اس کی لڑکھڑاتی آواز آئی ۔
احسام نے جھٹکے سے مڑ کر اسے دیکھا جو سپاٹ چہرے سے کھڑی ضرور تھی آنکھیں حیران تھیں مگر ان سے بہتے آنسو رک نہیں رہے تھے ۔ اور وہ کتنی کی مضبوط تھی کہ اب بھی پوری ہمت سے کھڑی تھی اس کے سامنے ۔
” میرے بس میں نہیں تها ” احسام نے آنکھیں نیچے کرتے کہا اس وقت اس کا اندر کا غصے والا احسام نہیں جاگا تھا ۔ اس وقت وہ اپنی بے بسی کے مقام پر تھا کہ جس سے محبت کر بیٹھا ہے وہ اس کی دسترس میں نہیں ۔
“یہی الفاظ میری طرف سے ہیں احسام ” وہ اس کے سامنے آتی دانت پیس کر بولی ۔ آنسو لڑھک کر رخسار پر بہا ۔
احسام نے پیچھے دیکھا اب عنابیہ شاید واپس آنے لگی تھی ۔
احسام نے ماہم کا بازو پکڑا اور پاس ہی اپنے کمرے میں لے گیا دروازہ بند کیا اور اس کے سامنے آیا ۔
“اب کرو بات” سپاٹ لہجے میں کہا ۔
“عنابیہ کو پسند کرتے ہیں !” بھاری سانسوں سے پوچھا ۔ کان اس کے انکار سننے کو بیقرار تھے اور آنکهىں تھیں کہ اتنے قریب سے اسے پا کر آبدیدہ تھیں ۔
” تمہیں پتہ لگ تو گیا ہے” گہرا سانس لیتے کہا
“مجھے آپ کے منہ سے سننا ہے؟” اس کے کالرز پکڑتی گراتے کہا آنکھیں تعیش میں آ رہی تھیں اپنی ریجیکشن کسے قبول ہوتی ہے؟ وہ بھی اس سے! جس کو بچپن سے چاہتی آئی تھی ۔
احسام نے اسکے ہاتھوں کو دیکھا جو اسکے کالرز کو پکڑے ہوے تھے ۔ زندگی میں پہلی بار کسی نے اس کے کالرز پکڑے تھے اور حیرت کی بات تھی پکڑنے والا احسام سے ڈر نہیں رہا تھا ۔
 ” ہاں۔۔۔ پسند ہے مجھے عنابیہ ” اس کے بازووں پر سخت گرفت کرتے ٹھنڈے ٹھار لہجے میں کہا ۔ آنکھیں اس کی آنکھوں میں گاڑ دیں ایک دم سے غصہ آ رہا تھا ایک دم سے نرمی آ رہی تھی ۔
احسام کو اس وقت غصہ ہی آ رہا تھا ۔ اور یقیناً یہ غصہ اس سے کچھ برا کروا دیتا اگر وہ اس وقت ماہم کی بدلتی حالت نا دیکھتا ۔
اس کی آنکھوں کے سامنے سیکنڈز میں ماہم کی آنکھوں میں آنسو جمع ہوئے تھے ۔ پہلی بار احسام نے کسی لڑکی کو وہ بھی اتنے پاس سے دیکھا تھا اور اس کی آنکھوں میں پانی بھرنا یہ تو جیسے احسام کو جامد کر گیا ۔ ہونٹ لرز رپے تھے ماہم کے کہ جیسے اپنے آنسووں کو روکنے کی کوشش میں ہو۔
کالرز پر گرفت ہلکی ہوئی تھی ۔ جسم پر چیونٹیاں سی چلنے لگ گئی تھیں ۔ آرام سے ہونٹوں کو بھینچتے قدم پیچھے لیے اور فاصلہ بنا لیا۔
احسام کو برا لگ رہا تھا لیکن کیا کرتا اس کے دل میں کہیں بھی ماہم کیلیے جزبات نہیں تھے اب اس کی ایسی حالت پر بھی اس کے دل میں کوئی جزبات نہیں تھے
” اس ۔۔۔ معاملے میں ۔۔۔ آپ ۔۔مرد ۔۔۔تو۔۔ کچھ زیادہ ہی ۔۔۔ بے بس ہو جاتے ہیں ” آنسووں کو الٹے ہاتھ سے صاف کرتی سپاٹ لہجے میں بولی
احسام نے جواب نہیں دیا اسے
“اب کیا کریں گے؟” سینے پر ہاتھ باندھتے پوچھا خود وہ سنبھال چکی تھی فقط چند سیکنڈز میں اپنے جزبات پر قابو کیا تھا ۔ جھکنا کبھی نہیں سیکھا تھا اور اب تو کبھی نہیں محبت کی تھی اس نے اور اپنی عزت اسے بے حد عزیز تھی۔ جہاں قدر نا ہو وہاں سے پیچھے ہو جانا ہی بہتر ہے وہ بھی یہ دماغ میں سوچ گئ تھی ۔ اپنی محبت کی تکمیل کیلیے وہ احسام کے ترلے منتیں نہیں کرے گی ۔
“کیا مطلب!” احسام کو تو اس کی سمجھ نہیں آ رہی تھی ایک پل کو اس کی آنکھیں بے انتہاء محبت کی گواہی دے رہی تھیں تو دوسرے پل آنکھوں میں بے پناہ اجنبیت جیسے محبت لفظ تک سے آشنا نہیں
“یہی ۔۔۔ کہ اب کیا کریں گے؟ عنابیہ سے شادی کریں گے! یہ جانتے ہوئے کہ وہ سیف بھائی کی منگیتر ہے ! ” اس کے سوال سے کہیں نہیں لگ رہا تھا کہ وہ ہرٹ ہوئی ہے بری طرح ۔
” تم کیسے مجھسے سوال کر سکتی ہو!” احسام نے عجیب لہجے میں پوچھا اسے کم سے کم ماہم سے اس سوال کی امید نہیں تهی اسے تو لگا تھا رو دے گی اپنی محبت کا اظہار کرے گی یا کچھ اور مگر یہاں الٹی گنگا بہہ رہی تھی ۔
” کیوں ! جب محبت کر بیٹھے ہیں تو اسے پانے کی ہمت نہیں ! یا سمجھ لیں کہ ڈرتے ہیں آپ !” ماہم نے ہنوز اسی سپاٹ لہجے میں پوچھا ۔
احسام کا پارا ایک سیکنڈ میں ہائی ہوا ۔
“زبان کو لگام دو اور نکلو یہاں سے پتہ لگ گیا ہے نا کہ مجھے تم میں کوئی انٹرسٹ نہیں ! اب بحث نا کرنا ” اس کی طرف سخت نظروں سے دیکھتے کہا ایک دم تو میٹر گھوم جاتا تھا ۔
ماہم نے اپنے لب دانتوں میں دبائے ۔
 ” رائٹ ۔۔۔ مسٹر احسام شاہ ۔۔۔۔ میں بھی کوئی مری نہیں جا رہی تمہارے لیے سمجھے ۔۔۔۔ میں کیا۔۔۔ اس عنابیہ کو تو تم سے کونسا محبت ہو گی ۔۔ مرتی ہے وہ سیف بھائی پر ۔۔۔ مجھے تمہارا ساتھ چاہیے بھی نہیں احسام شاہ ۔۔۔۔ اپنی فکر کرو ۔۔۔
جس کے لیے تم نے مجھے چیٹ کیا ہے” دانتوں کو پیستے ہر لفظ کو چبا چبا کر کہا اس کہ باتوں نے ہرٹ کیا تھا اسی لیے غصے میں بولی
اور اس سے پہلے کہ احسام اس کی بدتمیزی کا جواب دیتا وہ تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی ۔
دروازہ کھولا تھا جب تو سامنے ہی فضیلت شاہ کو پایا جو اپنے دھیان دروازے پر دستک دینے لگی تھیں وہ ماہم کو ایسے دیکھ کر چونکی بھلا احسام کے کمرے میں کیا کر رہی ہے یہ!
ماہم نے ایک نظر انہیں دیکھا اور سائیڈ سے گزر کر چلی گئیں ۔
” یہ کیا تھا ۔۔ کیا کر رہی تھی اندر؟ رو رہی تھی وہ احسام !” فضیلت الجھتے دماغ کے ساتھ اس کے سامنے آتے بولیں
“دماغ خراب ہو گیا ہے بس۔۔۔۔ اور کچھ نہیں ” دانتوں کو پیستے کہا اور دروازے کی طرف بڑھا۔
“سامی” فضیلت شاہ نے اسے آواز دی
ان کی آواز میں ایک ایسا ٹھہراؤ تھا کہ وہ رکا اور پلٹ کر انہیں دیکھا جو پر سوچ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھیں۔
وہ چلتے اس کےسامنے آئیں ۔
“لڑکیوں کے دل نہیں توڑتے احسام ۔۔۔ اگر یہ ایک بار ٹوٹ جائیں نا۔۔۔ تو دنیا کی کوئی طاقت ان کو بکھرنے سے روک نہیں پاتی ۔۔۔ اور اگر بکھرے نا۔۔۔ تو اندر سے ایسا ٹوٹتی ہیں ۔۔۔۔۔ کہ پھر محبت نہیں کرتی نا کسی کو علم ہوتا ہے ان کے ٹوٹنے کا” فضیلت بہت گہری بات کر رہی تھیں شائد وہ کچھ کچھ سمجھ گئی تھیں کہ ماہم کیوں رو رہی تھی اور رو بھی ایسے رہی تھی جیسے ضبط کرنے کے باوجود آنسو نکل آئے ۔ اتنی مضبوطی کیسے آ جاتی ہے عورت میں ! حیرت ہے!
احسام کو سمجھ تو آئی تهی لیکن اسکو سمجھنے میں بلکل دلچسپی نہیں تھی ۔
” تم سے بہت محبت کرتی ہے سامی ۔۔۔۔ اس کو توڑنا مت ۔۔۔ ماہم منت کرنے والوں میں سے نہیں ہے ۔۔۔ وہ زوبیہ اور سعید کی بیٹی ہے۔۔۔ اور دونوں نے جھکنا نہیں سیکھا ۔۔۔ اور ماہم سعید کے جیسے فطرت رکھتی ہے ۔۔۔۔ ” وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں اسے دیکھتے بولیں۔
احسام نے انہیں دیکھا اتنی سنجیدگی سے بات کر رہی تھیں اس کو سمجھنا پڑا ۔
” تمہاری بیزاری پر تم سے بہت دور چلی جائے گی پلٹ دیکھے گی بھی نہیں کہ تم کہاں ہو!۔۔۔۔ اور اگر اس کے اندر کا حال جاننا ہو ۔۔۔ تو اسے ۔۔ ہنسنے پر مجبور کرنا ۔۔۔ اور اگر وہ ہنس پڑی ۔۔ تو سمجھ لینا وہ تمہاری محبت کی منتظر ہے” مسکرا کر اپنے بیٹے کے گال پر ہاتھ رکھا ۔
احسام نے سر جھکا لیا وہ کیا بتاتا کہ اس کے دل میں عنابیہ بسی ہے.
“بیٹیوں کے قہقہوں میں ماں باپ کی جان ہوتی ہے احسام ۔۔۔ اور زوبیہ پریشان ۔۔۔ اس حویلی میں ماہم کے قہقہے نہیں گونجے” اس کے ہاتھوں پر دباؤ دیتے کہا احسام نے انہیں عجیب نظروں سے دیکھا کہ کیا اس میں اسکا کسور ہے کہ وہ نہیں ہنستی!
“بلکل ہر وقت لڑتے ہو اس سے ۔۔۔۔ اب کچھ مت بگاڑو پہلے ہی پوری حویلی میں پریشانی پھیلی ہے نیچے جاؤ ۔۔۔ بھائی جان بلا رہے ہیں ۔۔ ڈیرے پر جانا ہے ۔۔ جرگا بیٹھ رہا ہے جاؤ ” فضیلت نے اسے زرا رعبدار انداز سے کہا اور کمرے سے باہر چلی گئیں ۔
احسام نے گہرا سانس لیا ۔وہ یقیناً ان بچپن کی ہوئی منگنی میں بری طرح پھنسنے والا تھا ۔
یا صرف اس کا خیال تھا کہو ہ پھسے گا! کیا پتہ تقدیر ایسا کھیل کھیل دے کہ احسام شاہ ۔۔۔ خود اس چنگل میں خود کو پھسنے دے ۔!!!
کسے خبر۔۔۔۔ !
“حوصلہ کریں آپی کیا ہو گیا ہے؟؟” عنابیہ نے اس کے ہاتھ ملتے کہا
زمر کی حالت بے حد بری تھی وہ اس وقت بخار سے تپ رہی تھی اور آنکھیں پریشان سوجھی ہوئی تھیں ۔ دل تھا کہ قابو نہیں آ رہا تھا ۔ آنے والے وقت کو سوچ سوچ کر اس کی جان جا رہی تھی ۔ اس کے دل میں ایک ہی بات آ رہی تھی کہ اگر پنچائت میں کیف کی موت مانگی گئ تو ؟ کیا کرے گی وہ ؟ کیسے جیے گی اس کے بنا ؟
“بی بریو زمر کچھ نہیں ہو گا اللّٰه پر یقین رکھو” ماہم اس کے سامنے بیٹھتے بولی ۔
زمر نے لب بھینچ لیے ان حوصلوں سے بھی اندر کی تڑپ نہیں تھم رہی تهی۔
” عنو ” دروازے پر ناک ہوئی اور کیف کی آواز آئی
زمر نے بے قرار نگاہوں سے دروازے کو دیکھا دل تو جیسے رک گیا تھا ۔
“بھائی سے بات کر لیں۔۔۔ بیٹر فیل کریں گی آپ” ملیحہ نے اس کے کندھے پر ہلکا سا دباؤ دیتے کہا
اور تینوں آگے پیچھے کمرے سے نکل گئیں
ملیحہ اور عنابیہ چہرے پر دوپٹہ رکھتی نکل گئیں ۔ لیکن ماہم دروازے پر رکی اور کیف کو دیکھا جو دیوار سے ٹیک لگائے سنجیدہ چہرے سے کھڑا تھا نظریں زمین پر مرکوز تھیں ۔
ماہم کونسا سب لڑکیوں کی طرح منہ پر پردا کرتی تھی جو اب کرتی ۔ اس نے کیف کی طرف رخ کیا۔
” کیف بھائی اتنی پیار کرنے والی ملی ہے آپ کو ۔۔۔ان کی خاطر اپنی جان کی حفاظت کیجیے گا” ماہم نے اس کی طرف دیکھتے کہا
کیف نے اسے دیکھا جو اس کی طرف ہمدردی سے دیکھ رہی تھی ۔
“نصیب اور لیکھ کس کے ہاتھ میں ہوتے ہیں !”کیف نے گہرا سانس لے کر کہا
“اگر اپنی زندگی کیلیے لڑا جائے تو زندگی مل جاتی ہے۔۔ کوشش کرنے میں کیا ہرج!” ہلکی سی مسکان سے کہا اس وقت ہمت بندھانی ہی تو تھی
کیف نے سر اثبات میں ہلایا اور اندر چلا گیا۔
اندر آیا تو زمر کو بیڈ پر بیٹھے پایا جو سامنے کسی نقطے پر آنکھیں ٹکائے ہوئی تھی ۔
وہ چھوٹے قدم لیتا اس کے ساتھ کچھ فاصلے پر بیٹھ گیا اور سر جھکا لیا
دونوں کے درمیان خاموشی تھی ۔
کمرے میں سکوت تھا ۔نا اس میں ہمت تھی بات کرنے کی نا زمر کی زبان ہل پا رہی تھی ۔
.”زمر”
“بس۔۔۔۔ چپ کر جائیں۔۔۔ ایک لفظ نہیں”اس کے بات کے آغاز کرتے ہی زمر کی سنجدہ پر سوچ آواز ابھری
کیف نے گردن موڑ کر اسے دیکھا جس کی آنکھیں پانی سے بھری ہوئی تھیں جیسے ابهى سیلاب. آنسووں کا بار توڑ کر نکل آئے گا
“بہت سنا لیا آپ نے مجھے ۔۔ میں نے بہت سن لیا۔۔۔ اب نا آپ کی بات سے سکون ملے گا سائیں۔۔۔ نا ہی اب کوئی تسلی چاہیے ۔۔۔ میری محبت نے مجھے زندہ درگور کرنے کی ٹھانی ہے ۔۔ تو ایسے ہی سہی” لڑکھڑاتی آواز ڈوبتے لہجے میں وہ بولتی کیف کو بری طرح سے تڑپا گئ
کیف کا دل کیا کہ اسے زور سے سینے میں بھینچ لے کم سے کم اس کی تکلیف تو کم ہو پاگل اس سے بے حد محبت کر بیٹھی تھی ۔
“میں کوئی ایسا فیصلہ نہیں ہونے دوں گا جو۔۔ ہمارے درمیان آئے”کیف نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا ایک شدت اسکے الفاظ میں تھی۔
“سائیں۔۔ آپ کی قسم۔۔۔ اگر اس زمانے کے دستور نے ۔۔۔ مجھے آپ سے جداا کیا نا۔۔۔۔ تو دیکھیے گا۔۔۔ زمر خود کو کیسے زندہ مارے گی۔۔۔ کیونکہ آپ کے بنا زندگی کبھی تصور نہیں کی میں نے۔۔ نا کبھی کروں گی۔۔۔ نا کرنی ہے ۔۔۔۔ سمجھ رہے آپ !” زمر نے اس کی طرف دیکھتے کہا اس کی آنکھیں شدتِ ضبط سے سرخ ہو گئی تھیں اور ہاتھ پاؤں ٹھنڈے
کیف کے پاس تو جیسے الفاظ ختم ہو گئے تھے ۔
“جائیے یہاں سے۔۔ اور مجھسے تب ملیے گا۔۔۔ جب میری خاطر خود کو بچا کر لائیں گے۔۔ ورنہ صرف اشارہ کر دیجیے گا۔۔ زمر اپنی جان خودی لے لے گی”اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ سے نکالتے وہ بہت بڑے الفاظ کہہ گئ تھی جس نے کیف کے دل پر وار کیا تھا وہ بھی بری طرح سے پریشان تھا ۔
اس سے پہلے وہ اپنا ضبط کھو دیتا تیزی سے اٹھا اور کمرے سے باہر چلا گیا۔
پیچھے زمر کی ہچکی بندھ گئ۔ یہ عشق کے پاٹ پڑھانے والے عقل سے غافل کیوں ہو جاتے ہیں یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ عشق کو جینے کیلیے عشق والے سلامت ہونے ضروری ہیں ۔
 کرتے ہیں جس پہ طعن کوئی جرم تو نہیں
 شوق فضول و الفت ناکام ہی تو ہے
 دل مدعی کے حرف ملامت سے شاد ہے
 اے جان جاں بہ حرف ترا نام ہی تو ہے
 دل نا امید تو نہیں، ناکام ہی تو ہے
  لبمی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
 دست فلک میں گردش تقدیر تو نہیں
 دست فلک میں گردش ایام ہی تو ہے
 آخر تو ایک روز کرے گی نظر وفا
 وہ یار خوش خصال سر بام ہی تو ہے
 بیھیگی ہے رات فیض غزل ابتدا کرو
 وقت سرود، درد کا ہنگام ہی تو ہے
جرگہ بیٹا ہوا تھا بہت بڑی پنچائت تھی ۔ چاروں سردار اپنی اپنی کرسی پر بڑے ٹھاٹ سے بیٹھے تھے لیکن ان میں سے پانچواں سردار تو یوسف شاہ تھا جو آج اپنے بیٹے کے فیصلے پر بیٹھا تھا آج بھی شملہ نیچا نہیں تھا مگر کندھے جھکے ہوے تھے ۔ بیٹے کی غصے میں کی گئ غلطی نے کس مقام پر لا دیا تھا ۔ دوسروں کے فیصلے آج تک کیے تھے آج اپنی باری تھی ۔
“شاہ جی ۔۔ آج آپ اس طرح فیصلے کیلیے بیٹھیں گے ۔۔۔ کبھی نہیں سوچا تھا” سرپنچ نے دکھ سے کہا ان کیلیے یوسف شاہ بہت عزیز تھا اور آج ان کے گھر کا فیصلہ کافی کٹھن تھا ۔
یوسف شاہ نے کچھ نا کہا ۔
کیف سیف احسام زامل اور فرید شاہ بھی نشستوں پر بیٹھے تھے ۔ سب کے چہرے سنجیدہ تھے جبکہ کیف کا جبڑا بھینچا ہوا تھا ۔
“آؤ کھوکھر تمہارا ہی انتظار تھا ” کھوکھر کے ڈیڑے میں آتے ہی سرپنج نے کہا ۔
کھوکھر آگ برساتی نظروں سے اندر داخل ہوا ساتھ وہاب کھوکھر اور نیاز کا چھوٹا بھائی رجب کھوکھر تھا ۔ تینوں کو نشستوں پر بٹھایا گیا ۔ کھوکھر نے خون آشام نگاہوں سے یوسف شاہ کو دیکھا
سیف کا خون کھول اٹھا اس کی آنکھیں دیکھ کر یقیناً وہ اس کو چھوڑتا نا اگر احسام اس کا بازو زور سے دباتا نفی میں سر نا ہلاتا ۔
“کنٹرول سیفی ۔۔۔ کنٹرول” اس کی طرف دیکھتے سرگوشی سے کہا ۔
“بولو کھوکھر” سرپنج نے اسے کہا
“یوسف شاہ کے بیٹے نے میرے بیٹے پر حملہ کیا ۔۔۔ اور اس کا نتیجہ میرے بیٹے کی موت تھی ۔۔۔ مجھے انصاف چاہیے” نیاز کھوکھو بپھرے ہوےشیر کی طرح بولا اس کا بس نا چلتا تو اٹھ کر یہیں لڑائی شروع کر دیتا ۔
“ہاں یوسف شاہ ۔۔۔ تم مانتے ہو اس کی بات! کیا یہ سچ کہہ رہا ہے؟” پنج سرداروں میں سے ایک نے پوچھا
“یہ سچ کہہ رہا ہے ۔۔۔ لیکن لڑائی اس کے بیٹے نے شروع کی ۔۔۔ میرى زمینوں پر اپنے آدمی لے کر آیا اور میرے گھر کی بیٹیوں پر غلیظ الفاظ استعمال کیے ۔۔۔۔ مجھے بھی اس کا انصاف چاہیے کہ میری بیٹیوں کیلیے یعنی یوسف شاہ کے گھرانے پر کیسے غلط الفاظ استعمال ہوئے جرأت کیسے ہوئی!” یوسف شاہ بھی اپنے رعبدار لہجے میں بولے ۔
نیاز کھوکھر پیچ وتاب کھا کر رہ گیا
“بھائی نے ایسا ویسا کچھ کیا تھا ! آپ نے تو مجھے نہیں بتایا!” وہاب نے پریشانی سے دھیمی آواز سے اپنے باپ سے پوچھا
“چپ رہو” نیاز کھوکھر نے اسے خاموش کروا دیا ۔
“یہ تو غلط ہوا یوسف شاہ جھوٹ نہیں بولتا سب جانتے ہیں نا ہی اس کی حویلی کے لوگ جھوٹے ہیں ۔۔۔لیکن یوسف شاہ ۔۔ تمہارے بیٹے نے گولی ماری تھی قتل کیا ہے ۔۔۔اب انصاف دینا ہمارا فرض ہے ۔۔ جیسے سب کا فیصلہ کرتے ہیں اسی طرح یہ فیصلہ بھی ہم پنج سردار کی رضامندی سے ہو گا”سرپنج نے کہا
یوسف شاہ نے سر ہاں میں ہلایا پریشان تو وہ تھے ۔ ہر فیصلہ ہی تکلیف دہ تھا ۔
“بولو نیاز کھوکھر ۔۔۔ کیا انصاف مانگتے ہو! ” ایک سردار نے نیاز کھوکھر سے کہا
“مجھے انصاف چاہیے ۔۔۔ خون کے بدلے خون ” نیاز کھوکھر سے پہلے ہی رجب کھوکھر غصے سے بولا
 یوسف شاہ نے اسے گھور کر دیکھا جس نے اتنی بڑی بات کہنے کی جرأت کی تھی ۔
” بولو یوسف شاہ!” دوبارہ سرپنج نے کہا
” نا ممکن ہے ۔۔۔ کچھ اور بات کرو” یوسف شاہ نے بڑے ضبط سے کہا ۔
“اپنی حویلی کی سب سے خوبصورت بیٹی ۔۔۔ ونی کرو یا ۔۔۔ غلامی میں دو۔۔ ” نیاز کھوکھر نے اپنی منحوس زبان سے کہا
 وہاب نے چونک کر اپنے باپ کو دیکھا ۔ کیونکہ ان کے خاندان میں وہی تو ایک رہ گیا تھا ۔
احسام اپنی جگہ تڑپ گیا سیف اور کیف کی رگیں تن گئیں ۔ فرید شاہ اور یوسف شاہ نے بڑے ضبط سے اس کی بات سنی
“اپنی زبان کو لگام دو” یہ گرجتی آواز احسام کی تھی کیونکہ اسے پتہ تھا کہ حویلی کی سب سے حسین لڑکی عنابیہ ہی تھی ۔ اور وہ کیسے برداشت کرتا ۔
کیف اور سیف بھی جبڑے بھینچے اپنی جگہ کھڑے ہو چکے تھے ۔ زامل کے ماتھے پر بھی شکنیں نمودار ہوئیں ۔
“احسااام۔۔۔ خاموش” یوسف شاہ نے اس کی گرج پر اپنی رعبدار آواز میں کہا ۔
خود کو کنٹرول کرتا وہ بہت مشکل سے واپس اپنی جگہ بیٹھا ۔
“نیاز کھوکھر تم میری حویلی کی بیٹی کی بات کر رہے ہو ۔۔۔ سوچ سمجھ کر الفاظ ادا کرو ” یوسف شاہ نے کہا
“یوسف شاہ ۔۔۔ اور کیا چاہتے ہو تم !۔۔ یہی فیصلہ ہوتا ہے کہ جو مظلوم ہوں ان کی مطلب کے مطابق سزا دی جائے ۔۔ تمہیں انہی میں سے کوئی سزا منتخب کرنی ہو گی” ایک سردار نے کہا ۔
جو پنچائت کے فیصلے تھے انہیں اسی کے مطابق چلنا تھا ۔
“ہمیں وقت دیں کچھ دیر۔۔۔ ہمیں فیصلہ کرنے دیں” یوسف شاہ نے دھیمے لہجے میں کہا
“تمہارا بیٹا کسوروار ہے ۔۔۔ اور یہاں فیصلہ ہو گا ابهى اور اسی وقت ۔۔۔ تمہیں کسی صورت وقت نہیں ملے گا ” نیاز کھوکھر نے اونچی آواز سے منع کیا ۔
“نیاز ۔۔ ہماری پنچائت کا اصول ہے ۔۔ کہ وقت دیا جاتا ہے ۔۔۔ یہ پنچائت شام کو پھر لگے گی ۔۔۔ ٹھیک 7 بجے ۔۔۔تب تک یوسف شاہ کے پاس وقت ہے ۔۔ وہ سوچ لے ۔۔ اسے کیا کرنا ہے۔۔خون کے بدلے خون یعنی کیف شاہ کی موت یا پھر کسی ایک بیٹی کو یا تو ونی کرے ۔۔۔ یا نیاز کھوکھر کو غلامی میں دے ” سرپنج نے نیاز کھوکھر کے جواب میں کہا
یوسف شاہ نے اپنے لب بھنچے ۔ ان کے لیے سب سے مشکل فیصلہ تھا یہ ۔
شاہوں کے لڑکے بس غصے سے نیاز کو گھور رے تھے ۔
*سب رضا مند ہیں ؟ “سر پنج نے پنچائت میں آئے لوگوں سے پوچھا
” شاہ جی کو وقت دینا چاہیے سرپنج صاحب ۔۔۔ ہم راضی ہیں ۔۔ راضی ہیں ہم” سب لوگوں نے کہا ۔
وہ رنجیدہ تو تھے مگر یہی ہونا تھا ۔
یوسف شاہ نے سر پنج کو دیکھا جو خود پریشان تھے اور انہیں دیکھ رہے تھے ۔
احسام تیزی سے اٹھا اور نکلتا چلا گیا ۔ اسکا غصہ سب سے برا تھا جو قابو نہیں آ رہا تھا ۔
 یوسف شاہ اپنی جگہ سے کھڑے ہونے ان کی تقلید میں سیف زامل کیف اور فرید بھی ان کے پیچھے کھرے ہوئے ۔
یوسف شاہ نے سلام کیا اور اور ڈیرے سے نکل گئے پیچھے ہی دوسرے بھی نکل گئے
❤❤❤❤❤❤❤
“کسی صورت نہیں ..” کیف اونچی آواز سے بولا
پورے لاؤنج میں سناٹا تھا ۔ ۔سب مرد صوفوں پر بیٹھے تھے.
یوسف شاہ کے ساتھ فرحین شاہ(بی جان) بیٹھیں تھیں جو بے حد پریشان تھیں ساری صورتِ حال کا انہیں پتہ لگ گیا تھا ۔
ملیحہ زمر اور عنابیہ چہرے پر دوپٹہ رکھے اوپر کوریڈور کے جنگلے کے ساتھ کھڑی تھیں ۔زمر کے تو سانس سوکھے ہوئے تھے اور یہی حال دونوں کا تھا ۔ البتہ ماہم نیچے زوبیہ کے صوفے کے پیچھے سینے پر ہاتھ باندھے کھڑی تھی ۔ اسے تو یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہے یہ اسے پنچائت اور اسکے فیصلوں کا علم نہیں تھا ۔ تبھی الجھی ہوئی تھی ۔
” ہماری حویلی کی کوئی بیٹی نا ونی ہو گی ۔ نا غلامی میں جائے گی” اس بار احسام نے کہا
” ہمیں ان میں سے ہی فیصلہ کرنا ہے” یوسف شاہ نے الفاظ پر زور دیا کہ یہی ہونا ہے یہی ضروری ہے ۔
” تو کیا کریں گے شاہ جی ۔۔ میرے کیف کو موت کے منہ میں ڈال دیں گے؟” بی جان نے نم آواز سے رعبدار لہجے میں کہا
” میں اپنا بیٹا کیوں دوں گا انہیں ؟” یوسف شاہ نے غصے سے کہا ۔
یوسف شاہ کی غصیلی آواز پر عنابیہ نے جھرجھری لی
“تو کیا کریں گے بھائی صاحب ؟” فرید شاہ نے پریشانی سے پوچھا ۔
“اپنی ۔۔۔ کوئی ۔۔۔ بیٹی ۔۔۔ ہی دینی ۔۔۔ پڑے گی” یوسف شاہ نے بے حد مشکل سے یہ الفاظ ادا کیے ۔
سب لوگوں نے جھٹکے سے یوسف شاہ کو دیکھا ۔
“یوسف بھائی ہوش میں تو ہو !” زوبیہ نے غصے سے کہا
احسام جبڑا بھینچے دیکھ رہا تھا کسی طور اسے یہ فیصلہ قبول نہیں تھا ۔
زامل بھی پریشان ہو گیا تھا
“کرنا پڑے گا زوبیہ ۔۔۔ کیف کے حصے کی تکلیف سہنی پڑے گی” یوسف شاہ نے سر جھکاتے کہا
“بیٹی ۔۔۔ میرے حوالے سے ۔۔۔ آپ زمر دیں گے ان کو!” کیف نے حیرانی سے پوچھا
* کرنا پڑے گا ” یوسف شاہ نے پھر سے کہا
” کسی صورت نہیں ۔۔۔ میں زمر کو کسی صورت نہیں ہونے دوں گا کسی کا” وہ تعیش میں اٹھتا اپنی جگہ گنگرج سے بولا
“تو کیا کرو گے؟ ہاں؟” یوسف شاہ بھی اسی تیز آواز میں بولتے اس کے سامنے کھڑے ہوئے ۔
باقی سب بھی اپنی جگہ سے کھڑے ہو گئے باپ اور بیٹا آمنے سامنے تھے
زمر نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا اس کی تو روح فنا ہو رہی تھی اسکا شک صحیح نکلا جان کے بدلے یہ ہونا تها۔
“زمر میری ہے آغا جان ” کیف نے غصیلی سرخ نگاہوں سے کہا
“تو پھر اپنی جان کی قربانی دے دو” یوسف شاہ نے کہا ان کا لہجہ نہایت گرم تھا
بی جان نے تڑپ کر اپنے شوہر کو دیکھا
کیف نے دوسری طرف رخ کیا
“مجھے مار دیں ۔۔۔ مگر زمر نہیں” کیف نے ٹھوس لہجے میں کہا
“تو تمہارے بعد بھی ۔۔ ہم اسے کسی نا کسی کے نام کریں ۔۔ کیا فرق تمہاری اس قربانی کا۔۔۔ وہ اب بھی ادھر بدلے پر جائے یا تمہاری موت کے بعد کسی کہ دلہن بن کر جائے ۔۔۔ تمہیں کیا ملے گا؟” یوسف شاہ نے تکلیف غم اور غصے کے ملے جلے جزبات میں کہا
ان کے لیے کونسا آسان تھا فیصلہ کرنا ۔
کیف نے بے بسی سے آغا جان کو دیکھا
نفی میں سر ہلاتا وہ تیزی سے داخلی دروازے کی طرف بڑھا اور حویلی سے نکل گیا ۔
یوسف شاہ اپنی جگہ پر ڈھنے کے انداز میں بیٹھے ۔
“آغا جان کوئی اور حل؟” زامل نے کہا
“یہی ہے بس ” انہوں نے ٹوٹے ہوے لہجے میں کہا
“یہ ونی کیا ہوتا ہے؟” ماہم نے بلآخر پوچھ ہی لیا جو سوال اسکے دماغ میں تھا
احسام نے خون برساتی نگاہوں سے اسے دیکھا اور رخ پھیڑ لیا اسکی آواز اسے زہر لگی تهی۔
“ماہم ۔۔۔ چپ رہو”زوبیہ نے اسے ڈانٹا ۔
“نہیں ماما۔۔ زمر کے ساتھ کیوں ۔۔۔ اگر یہ سزا ہے تو حویلی کی کوئی بھی لڑکی چلے گی ۔۔۔ خوبصورت چاہیے نا۔۔ شاہ حویلی کی ساری لڑکیاں خوبصورت ہیں ۔۔۔ تو اکیلی زمر ہی کیوں !” ماہم اپنی سمجھ کے مطابق بولی ااب اسے پتہ ہی نہیں تھا کہ یہ ونی کیا ہوتا یے تو وہ کیا صحیح بولتی
“تمہیں کچھ نہیں پتہ ان معاملات کا ماہو ۔۔۔ تم نا بولو” سیف نے تحمل انداز سے اسے کہا
“نو پرابلم برو۔۔۔ میں چلی جاتی ہوں زمر کی جگہ۔۔۔ ونی ۔۔۔ مجھے دے دو ونی کے طور پر اسے کیوں تکلیف دے رہے ہو” ماہم نے اپنی طرف سے بڑی اہم بات کی
سب نے جھٹکے سے اسے دیکھا جو کیا بول گئ تھی ۔
احسام کا تو خون ہی کھول اٹھا
تن فن کرتا صوفے کے گرد سے گھومتا اس کی طرف آیا
ماہم نے نا سمجھی سے اسے دیکھا
“چٹاخ ” ایک زور دار تھپڑ ماہم کے منہ پر پڑا
اور ماہم لہتراکر زمین پر گری ۔ماہم کے تو کیسے کان سن ہو گئے تھے
“احسام !” سب نے اس کی حرکت پر کہا ہر کوئی اپنی جگی پر دہل گیا تھا ۔
زامل کی تو آنکھیں سرخ ہو گئیں اسلی بہن پر ہاتھ اٹھایا تھا
“اس سے بھی گری ہوئی اوقت کو کہتے ہیں ونی ۔۔۔ اور اپنے لیے ایسا لفظ کیسے ادا کیا؟” احسام اس کے سر پر گرجا تها ۔ پوری شاہ حویلی اس کی گنگرج سے گونج اٹھی تھی ۔
اس کے دل کا کسی نے جیسے جکڑ لیا ہو ماہم کے الفاظ پر. محبت ناا سہی لیکن وہ اس کی منگیتر تھی اور اس وقت احسام نے اسے تھپڑ اپنی عزت کیلیے مارا تھا. اوع اس کیفیت سے انجان تھا کہ وہ جانے انجانے میں ماہم کو اپنی عزت مان گیا تھا ۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ناول نگری میں ہر نئے پرانے لکھاری کی پہچان، ان کی اپنی تحریر کردہ ناول ہیں۔ ناول نگری ادب والوں کی پہچان ہے۔ ناول نگری ہمہ قسم کے ناول پر مشتمل ویب سائٹ ہے جو عمدہ اور دل کو خوش کردینے والے ناول مہیا کرتی ہے۔
ناول کا ریوئیو دینے کیلئے نیچے کمنٹ کریں یا پھر ہماری ویب سائیٹ پر میل کریں۔شکریہ

novelsnagri786@gmail.com

Read Haweli based urdu novel, saaiyaan novel at this website Novelsnagri.com for more Online Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit this website and give your reviews.You can also visit our Facebook page for more content

2 thoughts on “Haweli based urdu novel , saaiyaan episode 7”

Leave a Comment

Your email address will not be published.