love story novel, urdu novels,

love story novel, urdu novels, saaiyaan Episode 3

love story novel, urdu novels, saaiyaan based on forced marriage, revenge based & novel is full of emotions, romance, suspense & thrill, Story of a girl who wants to follow the society style.Novel written by Bisma Bhatti.

Web Special Novel, love story novel, urdu novels,


 

#سیاں

#از_قلم_بسما_بھٹی

_قسط_03

“شاہ جی۔۔۔اب بچوں کی شادیاں کر دینی چاہیے ہمیں”بی جان نے پر سوچ انداز میں کہا: یوسف شاہ نے عینک نیچے کر کے انہیں دیکھا جو ان کے برابر بیٹھی تھی مگر ان کی سوچ کہیں اور جا لگی تھی ۔”کیا بات ہے شاہ بیگم یہ سوچ کیوں آئی آپ کو؟

“انہوں نے دوبارہ کتاب میں نظریں ٹکاتے کہا: “مجھے کسی انہونی کا ڈر ہے۔۔۔ مجھے فکر ہے بچیوں کی۔۔ بن باپ کی ہیں ۔۔۔ سیف بھی مان نہیں رہا۔۔۔ نجانے اس شہری لڑکی نے کیادم درود پڑھ کر پھونکا ہے میرے شیر جیسے بیٹے پر۔۔

اس لڑکی کے سوا نظر ہی کچھ نہیں آتا”بی جان نے سڑ بھن کر کہا۔”کیف راضی ہے تو اس کی کر دو۔۔۔ سیف نہیں مانتا تو نا مانے”یوسف شاہ نے سکون سے کہا ان کے لیے بڑی بات نا تھی۔

بی جان نے حیرت سے انہیں دیکھا جنہوں نے کتنے آرام سے کہہ دی اپنی بات۔

“ہوش میں ہیں آپ شاہ جی۔۔۔ آپ کو علم ہے کہ ہمارے یہاں شادیاں بچپن میں ہی طے ہوتی ہیں اور وہیں ہوتی ہیں جہاں والدین فکس کر دیتے ہیں ۔۔ ایسے کیسے کیف کی کر دوں اور سیف کی نا کروں؟۔۔۔ اس بچی عنابیہ کا یا کسور ہے جو اس کے نام پر بیٹھی ہے؟” بی جان نے کڑے تیوروں سے یوسف شاہ کو دیکھتے کہا انہیں ایک آنکھ نا بھائی تهی ان کی بات۔

“سامر نے بھی شادی کی تھی اپنی مرضی سے۔۔تب اسے خیال آیا کہ ہمارے والدین کس تکلیف سے گزریں گے جب وہ اسکے لیے فرخندہ کا رشتہ موڑ دیں گے۔۔۔ اسی سہیلہ کی وجہ سے اس نے فرخندہ سے شادی نہیں کی۔۔ اوور شہری لڑکی لے آیا۔۔ تو ٹھیک ہے۔۔ اب مکافاتِ عمل ہے ۔۔۔

اس کی بیٹی کے ساتھ اب یہ ہو رہا ہے”یوسف شاہ نے نفرت امیز لہجے میں کہا”شاہ جی۔۔۔ جو لوگ اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں ان کے خلاف نفرت سے بات نا کریں۔۔۔ یہاں بیٹی اگر سامر کی ہے۔۔۔ تو بیٹا ہمارا ہے ہماری تربیت ہے۔۔۔۔ بھول کر بھی غلط سوچ مت پالیے۔۔۔ میرے بیٹوں کے نام جن کو لگا دیا گیا ہے انہی سے شادی ہو گی سمجھ لیجیے…

آپ” یوسف شاہ کو بول کر وہ اپنی جگہ سے اٹھ گئ اور دروازے کی طرف بڑھی ان کا کوئی موڈ نہیں تھا اس وقت ان سے مزید بحث کا۔بہت مشکل سے خود پر ضبط کیا تھا کہ کوئی سنگین سخت لفظ منہ سے نکل آئے۔

دروازہ کھول کر جانے لگی کہ غصے سے پلٹی۔

یوسف شاہ انہی کو دیکھ رہے تھے ۔

“اور مجھے بڑے اچھے سے پتہ ہے۔۔ آپ کو کتنی فکر ہے کہ آپ کے والدین کی آپ کو کتنی فکر تھی اور کتنا آپ کو سامر کے عمل نے تکلیف دی”انہوں نے ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہا: یوسف شاہ کا رنگ متغیر ہوا

“پرانے گڑھے مردوں کو نا اکھاڑو نا اس بات سے جوڑو”یوسف شاہ نے اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے کہا: “معاف کیجیے گا۔۔ شاہ جی۔۔۔ حسد اور جلن کو تکلیف اور دکھ کا نام نا دیجیے گا میرے سامنے آئیندہ۔۔۔ ورنہ میری زبان کھل گئی نا۔۔۔ تو ادھیڑ عمر میں شرمندگی اٹھانی پر جائے گی آپ کو”انہوں نے سرد لہجے میں کہا اور فوراً کمرے سے باہر چلی گئیں ۔

یوسف شاہ کی حالت مزہد متغیر ہو گئی تھی اور گھبراہٹ سے ماتھے پر پسینے نمودار ہو چکا تھا ۔

وہ چاہ کر بھی اپنی بیوی کے ذہن سے ماضی نہیں نکال سکتے تھے۔

مگر وہ اپنی بیوی کے شکر گزار بھی تھے جو آج تک انکے پورے کنبے کو سنبھالے ہوے تھیں اور زندگی کے اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی ساتھ کھڑ تھیں۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

 “سائیں وہ زمین پر ابھی نیاز اور ملک کے آدمی دیکھے گئے ہیں” داور نے ادب سے خبر دی۔کیف نے چونک کر اسے دیکھا۔

“وہی زمین جس کا سودا ہوا ہے جو آغا جان کے نام ہے؟” کیف نے پوچھا: داور  نے سر ہاں میں ہلایا۔کیف تیزی سے کرسی سے اٹھا اور اپنے دراز سے گن نکالی اس میں گولیاں بھریں اور اپنی پینٹ کی بیک پوکٹ میں رکھی۔

“چلو داور یہ ایسے نہیں سدھریں گے”کیف نے داور کو دیکھتے کہا: ہمیشہ کی طرح اب بھی داور نے اسے راستہ دیا۔

اسکا خاص ملازم جو تها۔

دونوں تن فن کرتے حویلی سے گاڑی لے گئے ۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

“آپ یہاں؟”قمر نے مسکرا کر کہا: جانی پہچانی سی آواز پر عنابیہ نے سر اٹھایا۔وہ اس وقت پبلک لائیبریری میں کتابیں لینے آئی تھی ۔آج اسکا نقاب بندھا ہوا تھا۔

عنابیہ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا ایک مکمل سال ہو چکا تھا اسے آواز پہچانی لگ رہی تھی مگر چہرہ یاد نہیں آ رہا تھا کہ کہاں دیکھا ۔”آپ دونوں جانتے ہیں ایک دوسرے کو؟”انوشہ نے حیرت سے پوچھا

“ہاں۔۔ دراصل پچھلے سال جب آیا تھا میں تب انہیں یونیورسٹی کے باہر دیکھا تھا یہ اکیلی کھڑی تھیں۔۔۔مجھے تو یہ یاد ہیں مگر۔۔شاید انہیں ہم یاد نہیں”اس کی سرمئی آنکھوں کو بنا ہلک جھپکتے دیکھتے کہا: عنابیہ کو دماغ پر زور ڈالنے پر بھی یاد نا آیا۔

“میں نہیں جانتی انہیں ۔۔۔ تم جانتی ہو میں لڑکوں سے بات نہیں کرتی۔۔ ایکسکیوزمی”عنابیہ نے سنجيدگی سے کہا۔ آج تک تو کسی غیر مرد سے بات نہیں کی اب کیسے شناسائی رکھ لیتی۔

“لسن ۔۔۔ آپ ناراض ہو گئی ہیں ۔۔۔ میں تو انوشہ کو لینے آیا ہوں “قمر نے جلدی سے اسکے آگے آتے کہا مبادا کہیں چلی ہی نا جائے۔ اتنی مشکل سے تو سامنے آئی تھی۔ اتنی دعاؤں کے بعد اس سے ملاقات کا بہانہ ملا تھا ۔

“کیپٹن قمر سبکتگین کزن ہیں میرے آرمی میں ہوتے ہیں”انوشہ نے مسکرا کر کہا: عنابیہ کا آرمی کے نام پر فوراً سے یاد آیا۔

“چلیں بی بی جی!رحیم بابا گاڑی لے آئے ہیں” تبھی اسکے ساتھ آئی ملازمہ نے آ کر کیا۔عنابیہ کو تو موقع چاہیے تھا نکلنے کا فوراً سے اپنی فائل اور کتابیں سنبھالنے لگی

“مس ۔۔۔ عناابیہ۔۔۔ ہمارے ساتھ لنچ پر چلیں گی!؟”قمر نے فوراً کہا اسکا دل نہیں کر رہا تھا کہ وہ جائے ابھی ۔

“آپ میرے لیے میرے محرم نہیں ۔۔۔۔ اپنی حدود میں رہیے”بنا اسکی طرف دیکھے کرخت لہجے میں کہا اور آگے بڑھ گئی ۔

“سوری قمر بھائی۔۔۔وہ۔۔ ایسے گھرانے سے تعلق نہیں رکھتی جہاں لڑکیاں باہر آ جا سکیں”انوشہ نے شرمندگی سے کہا کیونکہ وہ محسوس کر گئ تھی کہ عنابیہ نے برے طریقے سے انکار کیا ہے۔

“اٹس اوکے انوشہ۔۔۔ آو۔۔ چلیں۔۔۔ آپ کی اس مس کو پھر دیکھ لیں گے”قمر نے مسکرا کر کہا اور باہر چلا گیا۔

دماغ میں سو الجھنے تھیں۔ ہر بار کی طرح وہ اب بھی اسے بے قرار کر گئ تھی۔ اسکی آنکھیں مزید خوبصورت ہو گئ تھیں۔

“ہاں اکرام۔۔۔یار یہ ایک پکچر بھیج رہا ہوں ۔۔ اسکا بائیو ڈیٹا مجھے آدھے گھنٹے تک چاہیے۔۔۔اوکے”انوشہ کے گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے قمر نے اپنے پارٹنر کو فوم کیا اور عنابیہ کی تصویر بھیجی۔

عنابیہ کی تصویر اسنے انوشے کے موبائیل سے لی تھی۔ آخر آرمی کا بندہ تھا اتنا مشکل بھی نا تھا انوشہ کا ڈیٹا چیک کرنا۔ اور اس کی گیلری میں مشکل سے 2 تصویریں تھیں عنابیہ کی اور وہ بھی نقاب میں ۔۔ان تصویروں میں بھی اس نے اپنے دودھیا سفید ہاتھ سے دوپٹے کو چہرے پر کیا ہوا تھا ۔لیکن وہ تصویریں پھر بھی حسین تھیں کیونکہ اس میں اسکی آنکھیں مسکرا رہی تھیں۔ یقیناً نقاب کے اس پار اسکے چہرے پر مسکان تھی۔

بے خود سا وہ اسکی آنکھوں کو زوم کر کے دیکھ رہا تھا ۔

انوشہ نے گاڑی کا دروازہ کھولا تو قمر نے جلدی سے موبائیل بند کر دیا۔

فلحال اسے سب سے چھپا کر رکھنا تھا ۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

“ویلکم ٹو پاکستان”فرید شاہ نے باہیں پھیلا کر کہا: وہ اس وقت ائیرپورٹ پر زوبیہ اور اسکے بچوں کو پک کرنے آیا تھا ۔

“مامو جان” ماہم سب سے پہلے بھاگ کر ملی ۔فرید شاہ نے مسکرا کر اسکے ماتھے پر بوسہ دیا۔

زامل اپنی سلجھی سنجیدہ طبیعت کی وجہ سے احترام سے ملا۔زوبیہ بھی اتنے سال بعد اپنے بھائی سے مل کر رو دیں۔فرید شاہ انہیں لے کر حویلی کی طرف روانہ ہوئے ۔

“بسم اللّٰه بسم اللّٰه”بی جان دروازے پر کھڑی انہی کے انتظار میں تھی ۔انکی گاڑی رکتے ہی زوبیہ کو دیکھ کر کہا۔

اور اس بار بھی ماہم سب سے پہلے گاڑی سے نکلتی ان کہ طرف بھاگی۔ زوبیہ بس دانت پیس کر رہ گئیں کہ کہیں سے نہیں لگتا تھا کہ اس نے لاء کی ڈگری حاصل کہ ہے۔

“میری جان”بی جان نے اسے سینے سے لگایا…..”کیسی ہیں بی جان”ماہم نے جوش سے پوچھا۔

“تیرے سامنے چنگی بھلی”وہ ہنستے ہوے بولی: “اسلام علیکم بھابھی” زوبیہ بھی مسکرا کر ان سے ملی۔

“و علیکم اسلام۔۔۔ تم نے پاؤں ڈال ہی لیے شاہ حویلی میں ۔۔ اب دیکھنا کیسی بیڑیاں ڈالتی نکل نہیں سکو گے” بی جان نے ہنستے مزاق کیا

سب ہی ہنس دیے

“اسلام علیکم بی جان”زامل نے مسکرا کر سر جھکایا

“و علیکم اسلام۔۔۔ یہ زامل ہے۔۔ یہ تو دوسرا سعید ہے۔۔ ایسے لگ رہا یے سعید کی جوانی دیکھ رہے ہم۔۔ انگوری آنکھوں والا بلا”بی جان نے نے ہستے اسے پیار دیا اسکے ماتھے پر بوسہ دیا۔ تو وہ ہنس دیا۔اسکی آنکھیں سب کو ہی بہت پسند تھیں۔

سب سے ملتی وہ انہیں اندر لے گئیں۔

_____

“اسلام علیکم پھوپھو”ایک ساتھ زمر عنابیہ اور نے سلام کیا ۔وہ اس وقت بھی ایسے کھڑی تھیں کہ زامل کو چہرہ نا دکھائی دے۔

“وعلیکم۔ اسلام۔۔یہ سہیلہ کی بیٹیاں ہیں نا؟”زوبیہ نے انکے سر پر پیار دیتے کہا۔

بی جان نے مسکرا کر سر ہاں میں ہلایا

زامل نے طائرانہ نظر لاؤنچ میں ڈالی کہ کہیں اسکی شہزادی بھی نظر آ جائے۔مگر وہ موجود نہیں تھی

“اور ہمارے بچے کہاں ہیں فرید”زوبیہ نے صوفے پر بیٹھتے کہا: “احسام تو یوسف بھائی کے ساتھ آفیس گیا ہے اور ملیحہ یونیورسٹی گئی ہوئی ہے آنے والے ہوں گے اب تو 3 تو بج رہے ہیں”فرید شاہ نے جواب دیا اور ان کے ساتھ بیٹھ گئے

“میرے سے بھی پردہ ہے کیا لڑکیوں ؟” ماہم نے عنابیہ اور زمر کے سامنے آ کر کہا: عنابیہ نے مسکرا کر اس باب کٹ بالوں والی لڑکی کو دیکھا۔زمر ہنس دی مگر اس کی ہنسی کی آواز نا آئی۔

ماہم بھی ہنستی انکے گلے لگی اوروہ تینوں اوپر کمرے میں چلی گئیں۔

سکائپ پر تو بات ہوتی ہی رہتی تھی ان تینوں کی۔

احسام بھی فرید کے ساتھ اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔ اب اسکی دل کی رانی تو گھر تھی نہیں چلو تھوڑا آرام ہی کر لیا جائے۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

“یوسف شاہ کو کہا تھا کہ اس زمین کو چھوڑ دے پھر بھی وہ باز نہیں آیا”نیاز کھوکھر کے خاص آدمی نے اپنی بھاری آواز میں کہا

“زبان سنبھال کر۔۔میرے آغا جان ہے نام بھی مت لینا ان کا”کیف نے طیش سے کہا۔

اسکا بس نہیں چل رہا تھا ان مسٹنڈوں کو گولیوں سے بھون دے۔

“اس زمین کو شرافت سے چھوڑ دو ورنہ تمہارا اور تمہارے آغا جان کا بڑا نقصان ہو جائے گا!” اب کی بار اکبر ملک کے آدمی نے کہا

“تم کیا کر لو گے؟۔۔ یہ زمین ہماری تھی ہےاور رہے گی۔۔۔ کیا کر لو گے تم لوگ۔۔۔۔ تم جیسے بیکار لوگ بس گرجنا جانتے ہیں “کیف اس کے مقابلے آ کر بولا۔

ملک اور کھوکھر کے چند ہی آدمی تھے۔اور ان کا مقصد یہی تھا کہ پہلے یوسف شاہ کا بیٹا یہاں آئے ور اسے وارن کیا جائے۔

“ارے۔۔شاہ جی۔۔۔ سنا ہے۔۔۔ بڑی حسین پریاں پال رکھیں ہیں حویلی میں ؟۔۔۔ وہ بھی ۔۔۔تین۔۔ تین!۔۔ایسے ہی۔۔ اپنی لڑائی میں ۔۔۔نقصان نا ہو جائے۔۔ پریاوں کو تکلیف دینا پسند نہیں ہمیں” کھوکھر کے بیٹے نے خباثت سے کہا اور قہقہہ لگا کر ہنسا اسکے آدمی بھی ہنس دیے

کیف نے غضبناک انداز میں اسکا کالر پکڑا

“زبان سنبھال کر بات کر پہلے بھی کہا ہے۔۔ خبردار میرے گھر تک بات کی!” کیف نے وارننگ دینے والے انداز میں کہا

“ارے اس میں غصہ کس بات کا شاہ کی۔۔۔ ہم نے تو یہ بھی سنا ہے کہ۔۔۔ آپ کے والی۔۔ زیادہ ہی پٹاخہ اور نری آگ ہے” اس نے مکروح انداز سے آنکھ دبا کر کہا

“اےےےےے۔۔۔ میں تیرا قتل کر دوں گا” کیف نے رکھ کر اسکے منہ پر مکا مارا۔

ایک دم سے ماحول بے تحاشہ گرم ہو گیا۔

کیف کے آدمی ملک اور کھوکھر کے آدمیوں سے الجھ گئے۔

کیف پر تو خون سار ہو گیا تھا ۔

وہ بری طرح سے کھوکھر کے بیٹے کو مار رہا تھا

کیسے برداشت کرتا اسکی باتیں جس نے اسکے گھر کی عورت پر غلیظ الفاظ جو کہے تھے

مار مار کر لہو لہان کر دیا تھا ۔

غصہ تھا کہ ختم ہی نہیں ہو رہا تھا ۔

مار کھانے کے باوجود وہ مکروح ہنسی ہنس رہا تھا جو کیف کو اور غصہ دلا رہی تھی ۔

اسی غصے میں اسے یاد آیا کہ بیک پوکٹ میں گن پڑی ہے۔

تیزی سے گن نکالی

داور نے تیزی سے کیف کو دیکھا جو گن لوڈ کر رہا تھا ۔

“نہیں سائیں”اس نے بلند آواز سے کہا

مگر کیف کو سنائی نہیں دے رہا تھا ۔

اسکی برداشت سے باہر تھا کہ اسکی زمر کو کسی غیر مرد نے غلط الفاظ کیلیے استعمال کیا۔

*ٹھاہ”ایکدم فضا میں گولی کی گونج اٹھی۔

سب اپنی جگہ ساکت ہو گئے

جو زخمی تھے وہ درد کے باوجود اپنی جگہ جم گئے تھے ۔

اور جو ابهى لڑ رہے تھے وہ حیرانی سے شاکڈ سے کبھی کیف تو کبھی نیچے بے جان پڑے کھوکھر کے بیٹے کو دیکھ رہے تھے۔

“سائیں یہ کیا کیا آپ نے ! گولی مار دی۔۔ چلیے یہاں سے چلیے”داور نے کیف کا ہاتھ پکڑا اور تیزی سے گاڑی کی طرف کھینچ کر لے گیا

کیف کا غصہ ابهى بھی کم نہیں ہو رہا تھا ۔

“میرا بس نا چلتا میں اسکے سینے میں ساری گولیاں اتار دیتا”کیف نے ڈیش بورڈ پر گن مارتے کہا

“سائیں۔۔۔ کھوکھر کا بیٹا جان سے گیا ہے۔۔۔ اور اب پنچایت بیٹھے گی”داور نے پریشانی سے کہا

کیف کی عقل فلحال بند تھی اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا بات کر رہا ہے داور۔

“کیف سائیں۔۔۔ خون پر بیٹھنے والی پنچایت کا مطلب جانتے ہی ہی آپ۔۔آپ کو گولی نہیں چلانی چاہیے تھی”داور نے گاڑی کی سپیڈ بڑھاتے آنے والے وقت سے آگاہ کیا

“ک۔۔کیا مطلب۔۔ صاف صاف ۔۔ کہو” کیف کے حواس اب زرا ٹھکانے آ رہے تھے تبھی الفاظ توڑ کر بولا

“سائیں۔۔۔ یا تو خون کا بدلہ خون ہو گا۔۔ یا پھر۔۔”وہ خاموش ہو گیا آخر میں ۔ہمت نہیں تھی کہ بولتا

“کیا؟۔۔ یا پھر کیا؟” سیف نے غصے سے کہا

“یا پھر۔۔ حویلی کی۔۔ کوئی بیٹی ۔۔ ونی کی جائے گی ۔۔۔”داور نے کہہ کر مزید گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی۔

کیف کی سماعتوں پر جیسے لاوا انڈیلا گیا تھا غصے میں اتنا پاگل ہو گیا تھا کہ آگے کا سوچا ہی نہیں ۔

نہیں علم تها کہ اب کیا ہونے والا تھا ۔

گاڑی گاؤں کی حدود میں داخل ہو گئ تھی۔

اور کیف کی پریشانی بڑھ گئی تھی ۔

وہ اپنی زمر کیا اپنی حویلی کی کوئ بھی بیٹی ونی نہیں ہونے دے سکتا تھا ۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

“اس۔۔لام علیکم پھوپھو”احسام جیسے ہی اندر داخل ہوا سامنے بی جان کے ساتھ زوبیہ کو دیکھ کر اسکا دل جیسے بند ہو کر چلا۔وہ تو بھول ہی بیٹھا تھا ماہم کو جو اسکی منگ تھی۔محبت وہ عنابیہ سے کرتا تھا ۔

تبھی سنجیدگی سے سلام کیا۔

زوبیہ اٹھی اور اسکا ماتھا چوما اسے کی شکل کو محبت سے نہارا آخر یہ ان کی بیٹی کا نصیب تھا کیسے پیارا نا ہوتا۔

“ہے برو۔۔ کیسے ہو!” تبھی زامل مسکراتا سیڑھیاں اترتا بولا

احسام مصنوعی مسکان کے ساتھ اس سے بغلگیر ہوا ۔

زامل تو بہت خوشی سے ملا۔

اسنے سچ میں مان لیا کہ حویلی کے تینوں بیٹے اپنی خوبرو شخصیت میں اعلیٰ تھے کوئی کسی سے کم نہیں تھا۔

اور ایک مثال سامنے کسرتی جسم کے ساتھ براؤن بال اور بیرڈ کے ساتھ کھڑا احسام شاہ تھا ۔

“کب سے انتظار تھا آپ کا”زامل نے مسکرا کر کہا

“ہمم۔۔ بی جان میں ۔۔زرا فریش ہو لوں۔۔ ایکسکیوز می”نیم مسکراہٹ سے کہتے وہ سیڑھیوں کی طرف ہوا۔

زامل بھی باہر کی طرف چلا گیا اسکا ارادہ مردان خانے میں موجود ابھی آئے آغا جان سے ملنے کا تھا ۔

احسام دو دو سٹیپ چھوڑتا چڑھ رہا تھا ۔

“میں دکھاتی ہوں۔۔ کیا لائی اتنی پیاری چیزیں”تبھی ماہم بھاگتی ہوئی سیڑھیوں کی طرف آئی۔

اور زوردار تصادم دونوں کا ہوا۔احسام نے بے ساختہ اسکی کمر سے تھام کر پکڑ لیا ورنہ وہ یقیناً برا ہی گرتی۔

ایک تو حویلی کی سیڑھیاں اور اوپر سے گھر والوں کو سکون سے چلنا نہیں آتا….ماہم خوفزدہ سی اسکے شانے تھام گئ۔ آنکھیں زور سے بند کر لیں تھیں۔دل دھک دھک دھک کر رہا تھا ۔

وہ نازک سی ہولی وڈ کی ہیروئن لگنے والی لڑکی اپنی ہی چاہت کے حصار میں تھی۔اور اسکی چاہت ماتھے پر شکنیں ڈالے اس بنا نقاب والی لڑکی کو دیکھ رہا تھا ۔ حسن کا وہ اچار ڈالے ۔جب حیا کا پاس نہیں تها اسے۔

ماہم نے اپنی ایک آنکھ کھول کر دیکھا اسکے سامنے زمین تھی مگر وہ گری نہیں تھی۔

پھر پوری آنکھیں کھول کر سامنے دیکھا۔

اور دیکھنا کیا تھا آنکھیں پلٹانا بھول گئ۔

اسے اس وقت ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کسی فیری ٹیل کے خواب میں کھڑی ہے اور اسکا شہزادہ اسکے خوابوں کا شہزادہ اسے تھامے محبت سے نہار رہا ہے۔ جیسے وہ اسکی طلب االی چاہ کی شدت رکھتی تھی ویسے ہی اسکا شہزادہ اس کے لیے اس سے بھی زیادہ طلب چاہ شدت رکھے اسے دیکھ رہا تھا ۔”احسام!”اس کے دل میں ہل چل سی مچ گئی.

وہ موٹی موٹی براؤن آنکھوں سے اسے پٹر پٹر دیکھ رہی تھی ۔ گلابی باریک ہونٹ حیرت سے ہلکے سے واں تھے۔گالوں پر سرخی آ رہی تھی ۔یہ اسکی قربت کا اثر تھا کہ وہ ہوش میں نا ہو کر بھی سرخ پر رہی تھی ۔

احسام نے بےزاریت سے اسکے گالوں کی سرخی دیکھی۔

اسے تو علم بھی نہیں تھا کہ جسے وہ سنبھالے کھڑا ہے وہ کون ہے اس نے کونسا کبھی زحمت کی تھی ماہم کو دیکھنے کی ۔اور اب وہ اسکے سامنے تھی کیسے پہچانتا۔

احسام نے جھٹکے سے اسے سامنے کھڑا کیا۔

ماہم بھی ہوش میں لوٹی۔اور شرم سے پانی پانی ہوتی تھوڑے فاصلے پر کھڑی ہو گئ ۔

احسام نے اسکا بغور جائزہ لیا۔ شارٹ کرتا ساتھ کھلے سے ٹراؤزر۔ پیروں میں کھسّہ۔دوپٹے سے بے نیاز باب کٹ گرے بالوں کے ساتھ وہ کوئی احسام کو عجیب مخلوق لگ رہی تھی ۔

“کون ہو تم؟”احسام نے گرجدار آواز میں پوچھا

وہ جو اسکی موجودگی سے برے حالوں میں تھی اسکی گرجدار آواز پر اپنی جگہ اچھل کر رہ گئی۔

“کون ہو تم۔۔اور کیسے گھوم رہی ہو تم؟؟”احسام کو الجھن ہو رہی تھی اسکی حالت سے “میں۔۔۔ماہم”دھیمی سی آواز میں اپنا تعارف کروایا۔

اسے حیرت ہو رہی تھی کہ سامنے کھڑا شخص کوئی اپنائیت کا تاثر کیوں نہیں دے رہا۔ ظاہر ہے اسے علم تو ہو گا احسام اور ماہم کی منگنی کا اسنے کبھی تو ماہم سعید شاہ کو دیکھا ہی ہو گا۔

وہ ایسے کیوں پوچھ رہا ہے جیسے جانتا ہی نا ہو کہ سام ے کھڑی کون ہے! اسے تو حفظ ہوا تھا احسام کا ایک ایک نقش۔اسے کیا علم نہیں کہ ماہم کون ہے ؟وہ الجھی اسے کبھی دیکھ رہی تھی کبھی نظریں جھکا رہی تھی ۔

“اونچا بولو”اس نے پھر سے اسی لہجے میں کہا۔اسے تو کوئی باہر والی لگ رہی تھی ۔اتنا تو وہ جانتا تھا کہ عنابیہ زمر یا ملیحہ کی دوست نہیں ہو سکتی کیونکہ حویلی میں دوستوں کے آنے کی اجازت نہیں تھی

“کیوں آپ کو نہیں علم میں کون ہوں !”ماہم نے حیرت سے پوچھا ۔

“تم میری کیا شناسائی ؟ سیدھی طرح بتاؤ کون ہو ورنہ دھکے دے کر حویلی سے نکال دوں گا”اسکی طرف انگلی سے وارن کرتے کہا۔وہ یہ بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا کہ کوئی لڑکی بنا جان پہچان کے اسے سے شناسائی ظاہر کرے۔جتنی پردہ دار اس حویلی کی بیٹیاں تھیں اتنے ہی اصول پسند اور حیادار تھے۔ا

نکی تربیت اور خون میں یہ بات شامل تھی کہ کسی بھی غیر لڑکی سے کسی بھی قسم کے مراسم نہیں پالنے یہ گناہ کے برابر یے ۔اور اسی ڈر سے ہی تو بچوں کی بچپن نے منگنیاں کر دی جاتی تھیں تا کہ یہ ادھر ادھر نا دیکھیں۔

ماہم کو بہت برا لگا اسکا ایسے بات کرنا۔اسنے کبھی ایسا تو نہیں سوچا تھا کہ احسام کے سامنے جب جائے گی تو وی ایسے پیش آئے گا۔اتنا تو وہ جان گئ تھی کہ احسام اس سے بے خبر تھا۔لیکن منگنی کا تو علم ہو گا ہی

“ہاتھ تو لگا کر دکھائے زرا۔۔۔میں بھی تو دیکھوں کتنا کا آپ مجھے نہیں جانتے”اسکے سامنے ہاتھ سینے پر باندھتے وہ اپنے اکڑ والے روپ میں آ چکی تھی۔ جھکنا اس نے سیکھا نہیں تھا۔اور اگر سامنے والے کو کوئی اپنائیت نہیں تھی تو وہ بھی کیوں اس کی منت ترلہ کرے اپنی پہچان کیلیے۔

“زبان کو لگام دو۔۔۔ بی جان بی جان۔۔ کون ہے یہ بدتمیز لڑکی!” احسام کو تو تپ ہی چڑھ گئی تھی کتنی بے باکی سے کتنی جرت سے وہ احسام شاہ سے بات کر رہی تھی ۔

“بیوقوف۔۔ ماہم ہے یہ۔۔۔ زوبیہ کی بیٹی”بی جان نے اسکی دھاڑ پر سیڑھیوں کے پاس آتے کہا۔اور زوبیہ نے اپنا ماتھا پکڑ لیا احسام کے منہ سے بدتمیز کا لفظ سن کر۔یہاں اسے اپنی بیٹی ہی افلاطون لگ رہی تھی ۔

احسام نے چونک کر بی جان کو دیکھا جو کمر پر ہاتھ رکھے دونوں کو ملاحظہ کر رہی تھیں۔ماہم سخت تیوروں سے احسام کو گھور رہی تھی اور دوپٹہ تک نہیں تھا۔بی جان کو سمجھ آ گئ تھی کہ احسام کیوں بھڑک رہا ہے ظاہر ہے حویلی کی لڑکیاں کب ایسے گھر کے مردوں کے سامنے آتی تھیں۔

احسام نے نرم تاثرات سے اسے دوبارہ دیکھا وہ اب بھی سے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔

احسام نے اپنی نظروں کو دوسری طرف کیا اور اپنے کمرے کی طرف جانے کیلیے مڑا۔

“اب کہیے کہ دھکے مار کے نکال دیں گے حویلی سے آپ مسٹر احسام”دانتوں کو پیستے ہوئے پیچھے سے کہا

احسام کے قدم رکے مگر وہ پلٹا نہیں

۔”عنو۔۔۔ زمر”احسام نے زرا بلند مگر نرم آواز سے انہیں بلایا۔

وہ دونوں نقاب کے ساتھ کمرے سے نکلیں۔

“آپ دونوں کی زمہ داری میں شامل ہے۔۔کہ نئے آنے والوں کو۔۔ آواز۔۔۔ پہناوے اور آداب کے اصول بتائے جائیں۔۔ میں اب یہاں کسی لڑکی کی اونچی آواز نا سنوں۔۔ اور کوشش کر کے ان اصولوں میں حیا کے اصول بھی بتا دیجیے گا”بنا پلٹے بنا مخاطب ہوے وہ اسکی اچھی خاصی بے عزتی کر گیا تھا ۔

سامنے دیکھتا وہ بات زمر اور عنابیہ سے کر رہا تھا مگر سنا وہ ماہم کو گیا تھا ۔اسکی آواز اور جواب سنے بنا تیزی سے لمبے لمبے ڈانگ بھرتا وہ دو قدم کی دوری پر اپنے کمرے میں چلا گیا۔

زمر اور عنابیہ نے تاسف سے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر ہمدردی سے ماہم کو

جس کی آنکھیں پانیوں سے بھر گئیں تھیں ۔

اتنی تذلیل اسکی زات کی ۔

جو محبت کرتے ہیں وہ ایسے تو نہیں ہوتے

“مام کیا۔۔احسام راضی ہے اس رشتے سے؟”کبھی کینیڈا میں اس نے پوچھا تھا اپنی مام سے

“ہاں۔۔ بلکل۔۔ بلکہ حویلی کے سارے بیٹے اپنی منگ سے بے حد انسیت رکھتے ہیں”اسکی مام نے مسکرا کر یقین دلایا تھا ۔

اسکی ہونٹ لرز گئے تھے ۔دل بری طرح دکھا گیا تھا وہ۔

“جو انسیت رکھتے ہوں۔۔۔ وہ ایسے تزلیل نہیں کرتے مام”اس کے لبوں نے سرگوشی کی تھی۔

“ماہم”عنابیہ نے دکھ سے اسے بلایا وہ اس تکلیف کو سمجھتی تھی جب آپ کی محبت آپ کو دیکھے بھی نا اور دھتکار بھی دے۔

“مجھسے ہمدردی کرنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔ ماہم شاہ جیسی ہے۔۔ ویسے ہی رہے گی۔۔بھاڑ میں گئے یہاں کی حیا اور پہناوے کے اصول”ترخ کر وہ بولی آنسو لڑھک کر گال پر بہا۔

بی جان کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا کہ چند منٹوں میں ماحول کتنا عجیب ہو گیا تھا ۔

احسام کا بےعزتی کرنا اور ماہم کا ایسے بولنا۔زوبیہ تک اس جنگ کی صحیح سے آواز نہیں پہنچی تھی اس لیے اس نے زیادہ نوٹس بھی نہیں لیا۔

ماہم نے اپنا آنسو لب بھینچ کر صاف کیا اور سیڑھیاں اترتی اپنے سیٹ کیے کمرے کی طرف چل دی۔

“احسام۔۔ اتنا غصے میں ؟”زمر نے حیرت سے عنابیہ کو دیکھتے کہا : “کیا سچ میں انہوں نے کبھی ماہم کو نہیں دیکھا؟”عنابیہ نے کھوئی ہوئی آواز میں پوچھا۔اسکی ساکت نظریں اسے پرسوچ ظاہر کر رہی تھیں۔

“ایسا کیسے ہو سکتا ہے بھلا”زمر نے اس حقیقت کا نہیں مانا۔”ایسا ہی آپی۔۔۔ سائیں کی طرح۔۔۔ احسام بھائی نے بھی کبھی۔۔ اپنی نسبت کو نہیں دیکھا۔۔ مگر ماہم کو تو کسی بہانے پھر بھی دیکھ لیا انہوں نے”عنابیہ نے نم آنکھوں سے کہا: زمر تو الجھ گئی تھی۔

“ہم ہی کیوں؟۔۔۔ اتنی بے مول ہیں کیا شاہ حویلی کی بیٹیاں ؟”عنابیہ نے دکھ کے ساتھ پوچھا : زمر کے لب سل گئے تھے ۔اسے نہیں علم تھا کہ اسکی بہن اتنی شدت سے کی سے بات کر رہی ہے کیونکہ وہ ناواقف تھی سیف کی بات سے کہ اس نے اسکی بہن کو دھتکار دیا ہے ۔

عنابیہ فوراً سے کمرے میں چلی گئی اس سے پہلے آنسو بند توڑ کر بہہ جاتے۔

🖤بیچ خوشیاں خرید لائے غم🖤

🖤چھوڑ کے بھی نا یاد آئے ہم🖤

🖤کیا میں دنیا کا کروں!🖤

🖤تو جو میرا نا رہا🖤

🖤پل میں یہ فیصلہ کر لیا🖤

🖤جا محبت تجھے🖤

🖤الویدا کہہ دیا🖤

🖤الویدا کہ دیا🖤

 

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناول نگری میں ہر نئے پرانے لکھاری کی پہچان، ان کی اپنی تحریر کردہ ناول ہیں۔ ناول نگری ادب والوں کی پہچان ہے۔ ناول نگری ہمہ قسم کے ناول پر مشتمل ویب سائٹ ہے جو عمدہ اور دل کو خوش کردینے والے ناول مہیا کرتی ہے۔ناول کا ریوئیو دینے کیلئے نیچے کمنٹ کریں یا پھر ہماری ویب سائیٹ پر میل کریں۔شکریہ

novelsnagri786@gmail.com

 

Read love story novel, urdu novels, saaiyaan novel at this website Novelsnagri.com for more Online Urdu Novels  based on different kind of content and stories visit this website and give your reviews. you can also visit our facebook page for more content Novelsnagri ebook

1 thought on “love story novel, urdu novels, saaiyaan Episode 3”

  1. Pingback: New English short moral story,Never lose hope, Article 05 - Novelsnagri

Leave a Comment

Your email address will not be published.