love story, online urdu novels,

love story | saaiyaan | Ep#2 | Bisma Bhatti

love story, online urdu novels, saaiyaan based on forced marriage, revenge based & novel is full of emotions, romance, suspense & thrill, Story of a girl who wants to follow the society style.Novel written by Bisma Bhatti.

 

love story, online urdu novels,

#سیاں

#از_قلم_بسما_بھٹی

_قسط_02

 

💕💕💕💕💕💕

“آپ یہاں کیوں کھڑی ہیں میڈم۔۔ ساری یونیورسٹی خالی ہو گئ ہے” اس نے نہایت ادب سے پوچھا: عنابیہ نے مردانہ آواز پر پلٹ کر دیکھا.

دوپٹہ چہرے پر نقاب کے طرح لیا ہوا تھا صرف آنکھیں واضح ہو رہی تھیں۔

اسنے جیسے ہی آرمی یونیفارم میں ینگ سے لڑکے کو دیکھا تو آنکھیں حیران بھی ہوئیں اور ڈر بھی گئیں۔ پہلی بار کوئی ایسے آرمی آفیسر ایسے اتنے پاس سے دیکھا تھا۔

ہر لڑکی کی طرح اسے بھی خوشی ہوئی تھی مگر یہ اسے خوفزدہ کرنے کیلیے کافی تھا کہ وہ اس سے مخاطب بھی تھا کیونکہ لڑکیوں کے کرش میں کب آرمی آفیسر حقیقت میں بات کرنے آتے ہیں ۔

“وہ۔۔سر۔۔۔ میرے گھر۔۔۔سے۔۔۔۔ گاڑی آنی تھی۔۔ آج لیٹ ہو گئ” اس نے اپنے چہرے پر نقاب ٹھیک سے کرتےکہا: “آئیے میں چھوڑ دیتا ہوں آپکو آپ کے گھر۔۔۔ کافی دیر ہو گئ ہے اچھا نہیں لگتا ایسے کھڑے ہونا…

اس نے اپنے ازلی تمیزدار انداز میں کہا: “نہیں ۔۔ نہیں میں انتظار کر لوں گی۔۔۔۔ میں آپ کو زحمت نہیں دے سکتی” اس نے فوراً سے نفی کرتے کہا اسکا دل گھبرا گیا تھا جیسے سچ میں وہ اسے اپنے ساتھ اسکے گھر چھوڑنے چلا جائے گا۔ یہ روح فنا کرنے کے مقابل تھا کوئی مرد اسے ایسے گھر چھوڑنے آئے.

اور اگر حویلی کے کسی بندے نے دیکھ لیا تو ناجانے کیا قہر نازل ہو ۔کیونکہ وہ جانتی تھی کہ حویلی کے اصول کتنے سخت ہیں ۔حویلی کی بہو بیٹیاں ایسے نہیں نکلتی ہیں کسی بھی مرد کے ساتھ ۔

“میڈم اچھا نہیں لگ رہا۔۔۔ یونیورسٹی خالی ہو چکی یے تقریباً ۔۔ آپ سڑک پر کھڑے ہو۔۔۔ شام ہو رہی ہے اور سردی بھی بڑھ رہی ہے ۔۔۔اور ۔۔۔آپ اکیلی بھی ہیں ۔۔ میں کیپٹن ہوں۔۔۔ میرے یونیفارم سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا۔۔۔مجھ پر تو آپ یقین کر ہی سکتی ہیں” قمر نے مسکرا کر ٹھہر ٹھہر کر اپنی بات کہی۔اسے یہ لڑکی کافی پیاری لگی تھی وہ رکتا تو نہیں تھا کسی کیلیے مگر اس سرمئی آنکھوں والی لڑکی نے اسکی توجہ کہیں اور ہونے ہی نا دی۔

اے عشق کے ساقی سن زرا

کوئی مے ایسی پلا  زرا

مجھے ہوش رہے نا سجن کا

اسکی اکھیاں بھول جائیں زرا

“نہیں ۔۔۔ شکریہ۔۔ میری گاڑی آتی ہو گی” اپنی فائلز کو اچھے سے ایک ہاتھ سے سنبھالتی وہ تھوڑے قدم کے فاصلے پر کھڑی ہو گئی ۔

ایک ہاتھ سے نقاب پکڑا ہوا تھا ۔اسکے دودھیا ہاتھ اسکے حسین ہونے کا ثبوت دے رہے تھے ۔

قمر نے مسکرا کر اسکی گھبراہٹ نوٹ کی۔

“مس؟۔۔۔ نیم کیا ہے آپ کا؟” اس کی طرف دو قدم لیتے کہا: عنابیہ کی نظر اسکے شوز پر گئ۔ کتنی کمال کے ہوتے ہیں نا یہ آرمی والوں کے شوز بھی ۔

“ع۔۔عنابیہ۔۔ عنابیی سامر شاہ” ہچکچاتے جواب دیا۔انکار کرتی تو نجانے یہ آفیسر کیا کر دیتا اور بتا اس لیے دیا کہ کیپٹن ہے ان سے بچنا چاہیے۔

“نائس۔۔۔سو مس عنابیہ۔۔۔۔ آپ کو پاک آرمی پر یقین نہیں ؟”اس کے ساتھ دو قدم کے فاصلے پر کھڑے ہوتے پیچھے ہاتھ باندھ کر مسکراتے پوچھا…

اسکا قد 6 فیٹ سے اونچا تھا عنابیہ نے بے ساختہ اپنی ہائٹ دیکھی۔ وہ بھی چھوٹی نہیں تھی۔ 7۔5 ہائٹ تھی۔ اسکے کندھے تک تو آ ہی رہی تھی ۔

عنابیہ نے خاموش رہنا مناسب سمجھا۔اس نے سر موڑ کر اسے دیکھا جو خود میں سمٹی نیچے زمین کو گھور رہی تھی پاؤں کی انگلیاں اپنے مقام پر نا تھیں یقیناً وہ کنفیوز ہو رہی تھی ۔

اس سے پہلے وہ اس سے مزید بات کرتا ایک کار کچھ فاصلے پر رکی۔

“میری گاڑی آ گئی” گاڑی کو دیکھتے وہ تیزی سے اسکے پاس سے گزرنے لگی کے بے ساختہ اسکا پاؤں مڑا اور وہ منہ کے بل گر جاتی اگر قمر اسکے بازو نا پکڑتا ۔

اتفاق یہ تھا کہ اسکی شال کندھوں سے نیچے ڈھال بن کر آ گئی اور دوپٹہ پورے چہرے کو احاطے میں لے گیا اس صورت میں قمر کی قسمت میں نہیں تھا کہ وہ اسکی صورت دیکھ لیتا۔ اب تو وہ سرمئی آنکھیں تک چھپ گئی تھیں۔

اس نے آرام سے اسے سیدھا کیا. عنابیہ کا دل تو بری طرح ڈر سے دھڑک اٹھا تھا ۔

کسی مرد نے پہلی بار ایسے چھوا تھا وہ تو کبھی کسی مرد کے لمس سے متعارف نہیں ہوئی تھی ۔

ایک جھٹکے خوف سے خود کو اسکی گرفت سے نکالا۔

“میں صرف۔۔ آپ کیلیے ہوں۔۔ سائیں”اسکے لبوں نے سرگوشی کی۔

وہ تیزی سے اپنی فائلز اٹھاتی بھاگنے کے انداز میں اپنی گاڑی کی طرف بڑھی۔

دروازہ کھولا اور بیٹھ گئ اسکی سانسیں منتشر ہو چکی تھیں۔

قمر نے نا سمجھی سے اسکی حرکتوں کوملاحظہ کیا جو بے حد ڈرتے ہوے بھاگی تھی اس سے”سچ آ کریزی گرل۔۔۔بٹ۔۔۔ کیوٹ” گاڑی کو دیکھتے ہوئے کہا اور مسکرا کر اپنے بالوں میں ہاتھ پھیڑا۔

“او مسٹر۔۔ ہیلو۔۔۔ قمر۔۔۔قمر۔۔۔ہوش میں آ بھائی”قمر کو جھنجھوڑا تو قمر ماضی کی قید سے نکلا

“بھائی۔۔۔ کیا ہو گیا ہے۔۔ تواب بھی وہیں ہے”وہاب نے اس کے سامنے بیٹھتے کہا “وہ بہت پیاری تھی” قمر نے اشتیاق سے کہا”تجھے کیسے پتہ؟ ابھی تو تو نے کہا کہ تیرے سامنے نقاب میں تھی وہ؟” وہاب نے چائے کا سپ لیتے کہا

*اس کی آنکھیں اور اسکے ہاتھ اس بات کی گواہی ہیں کہ پکا وہ حسین ہے” قمر نے کرسی کی بازو پر ہاتھ مارتے ہوئے جوش سے کہا جیسے یہی بات سچ ہے۔

“خوش فہمیاں چیک کر زرا۔۔۔ایسا بھی تو ہوتا ہے نا کہ رنگ گورا ہوتا ہے مگر نین نقش پیارے نہیں ہوتے” وہاب تو جیسے اس لڑکی کو برا بنانے کے پیچھے ہی پڑ گیا تھا

“اسکی آنکھیں بے حد پیاری ہیں یار۔۔۔۔۔ بس ۔۔۔ اسکا پتہ لگ جائے۔۔کہاں کی ہے۔۔ اسے ہی اپنا بنانا ہے” مزے سے انگڑائی لیتے کہا”بس ایک بار دیکھا اسے؟” وہاب نے چائے کا آخری سپ لیتے ہوے کہا

“نہیں 4 دن وہاں تھا اور 4 دن لگاتار اسے دور سے دیکھا ۔ پاس جانے کا کوئی حساب نہیں لگتا تھا اور جاتا بھی کیسے بات بھی کیسے کرتا۔وہ گیٹ سے نکلتی تھی گاڑی میں بیٹھ جاتی تھی اور چلی جاتی تھی”قمر سبکتگین اپنے دل کا دکھ اپنے دوست کے سامنے عیاں کر رہا تھا

“میں صدقے جاؤں واری جاؤن میرا معصوم دوست”اسکی معصوم صورت پر وہاب نے باہیں پھیل7ات اسکی طرف آتے کہا “دفعاں ہو جا”قمر نے اسکے بازو جھٹکے

“ڈونٹ وری دوست۔۔۔ مل جائے گی پتہ بھی دھونڈ لیں گے ہونے والی بھابھی کا”وہاب نے ہنستے کہا

قمر بھی مسکرا دیا۔

وہ چند پل کی بات اس کو دیکھنا جیسے زندگی کا حاصل ہو گیا تھا ۔

ہزار حسین لڑکیاں دیکھیں تھیں

مگر اس نقاب کی اوراس میں ان حسین آنکھوں کی بات ہی کچھ اور تهی۔

💕💕💕💕💕💕

“بی جان میں یونیورسٹی جا رہی ہوں” اپنی شال کو اچھے اپنے گرد لیتے وہ لاؤنج میں آتے بولی

اس بات سے بے خبر کے بی جان کے پاس اس وقت سیف اور کیف دونوں بیٹھے تھے

اس نے نقاب نہیں کیا تھا ۔

“سن عنو۔۔۔ تیری پڑھائی کب ختم ہونی؟” بی جان نے پوچھا: سیف کو معلوم ہو گیا تھا مگر اس نے ایک دفعہ بھی کوشش نہیں کی تھی کہ سر اٹھا کر ایک دفعہ اسے دیکھ لے جو اسکے نام پر بیٹھی ہے اب تو بہانہ بھی تھا کہ وہ خود لاؤنج میں آئی تھی تو دیکھ لیا۔

کیف کے سامنے تووہ پلی بڑھی تھی کبھی نقاب کر لیتی تھی کبھی نہیں چھوٹی بہنوں جیسی تو تھی اس کیلیے ۔

“بی جان وہ” بے اختیار سر اٹھایا تو زبان جیسے تالو سے لگ گئ۔

سامنے ہی وہ سر جھکائے اپنے موبائل میں گم تھا سر اٹھا کر دیکھنے کی زحمت نہیں کی تھی

دل میں ہوک سی اٹھی اتنی بے قدری اسکی زات کی!

“بول بھی ۔۔۔چپ کیوں ہو گئ ہے؟”بی جان نے جان کر اکسایا تا کہ سیف اسی بہانے اسے دیکھ لے شاید اسکا ارادہ بدل جائے

“بی۔۔۔جان۔۔ وہ۔۔۔آخری سیمیسٹر چل.. رہا ہے”ہچکچاتے نم آواز سے کہا ۔نروس ہو رہی تھی اسکی موجودگی سے ۔ڈرتی بھی تو بہت تھی اس سیف یوسف سے۔

“چل صحیح “بی جان نے کہا تو وہ جلدی سے راہداری کی طرف بڑھی۔

“”سیفی۔۔ تو نے اسے ایک دفعہ بھی نظر اٹھا کر نہیں دیکھا ؟؟ لوگ اپنی مانگ کو تو دیکھنے کا موقع ڈھونڈتے ہیں ۔۔۔اور تو ایسے کیوں برتاؤ کر رہا ہے !” کیف نے اسکے عدم توجہی دیکھی تھی تبھی کہا

“جو ایسےاپنی منگیتروں کو دیکھنے کے موقعے ڈھونڈتے ہیں وہ اپنی منگ میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔۔ اور مجھے اس میں زرا بھی دلچسپی نہیں”سیف نے سنجیدگی سے جواب دیا۔ اسکے چہرے پر کہیں بھی شرمندگی کے آثار نہیں تھے۔

“کیا بول رہا ہے تو!تیرے نام پر بیٹھی ہے وہ ۔۔ بچپن سے بیٹھی ہے۔۔۔ تیرے علاوہ کسی اور کوسوچاا نہیں اسنے “کیف کو تو غصہ ہی چڑھ گیا تھا۔

“بھائی اس پر مجھے بات نہیں کرنی”سیف نے روک ٹوک بات کی اور اٹھ کر چلا گیا

“بی جان!”_ کیف نے انہیں دیکھا

“کیف میری عنابیہ بہت وفادار ہے۔۔۔ اس کے ساتھ میں ناانصافی نہیں ہونے دوں گی یاد رکھنا”بی جان نے نم آواز سے کہا ۔

“میں بھی نہیں ہونے دوں گا” کیف نے انکو اپنے ساتھ لگایا اسے بھی برا لگا تھا سیف کا انداز۔

💕💕💕💕💕💕💕💕💕

تیرے انتظار میں بیٹھے ہیں کب سے دلبرم

اک تو ہے جو ہمیں ستاتا بہت ہے ترپاتا بہت ہے

“شیریں آ ؤگی نیچے؟ وہاب آیا ہے” سندس دروازے سے منہ اندر کرتے کہا

وہ جو وہاب کے آنے کا سن چکی تھی اور اب چھپی ہوی تھی اپنے کمرے میں ۔اپنی بھابھی کی آواز پر مزید گلنار ہو گئ اور چہرہ جھکا لیا

“ہائےےے شرمیںںں آ رہی ہیں” وہ اسکو چھیڑنے لگی

“نا کریں نا بھابھی”وہ اس کے نام پر سرخ پڑتی چہرہ دوسری طرف کر گئ۔

“ارے”وہ مزید بولنے لگی تھیں کہ پیچھے سے وہاب نے چپ رہنے کا اشارہ کیا

وہ بنا آواز کے ہنس دی اور چلی گئیں

وہاب چلتا اسکے پیچھے کھڑا ہو گیا۔اب اسے انتظار تھا کہ یہ پلٹے اور اسے سرپرائز کر دے۔

“بھابھی آپ مجھے تنگ نا کریں میں ان سے بہت ناراض ہوں۔۔ ایک تو اتنی دیر لگا کر آئے ہیں ۔۔ آرمی تو جوائن کر لی لیکن مجھے بھول گئے ہیں ۔۔۔بھول گئے ہیں وہ” کھڑکی کے پاس کھڑی وہ اپ ی بھابھی کو شکوہ کر رہی تھی مگر اسکی بھابھی کی آواز نہیں آ رہی تھی

اس سے پہلے وہ پلٹتی مردانہ کلون کی خوشبو نے اسے اپنی جگہ ساکت کر دیا۔

اسکی سانس بھی رک چکی تھی ۔دل نے سپیڈ پکڑ لی تھی وہ پہچان گئ تھی اسکی موجودگی۔

“کون کافر بھول گیا آپ کو؟” بھاری گھمگھیر آواز اسکے کانوں کے پاس آئی۔

اسنے دھڑکتے دل سے آنکھیں میچ لیں

وہاب اسکی حالت بخوبی جانتا تھا اور محظوظ بھی ہو رہا تھا ۔

اس نے دونوں ہاتھ اسکے اطراف میں کھڑکی کی دیوار پر رکھے۔

شیریں خود میں سمٹی

اک قسم کا وہ اسکے حصار میں آ گئی تھی۔

“کس کافر کو آپ بھول گئی؟” اس کے کان میں سرگوشی کی

“آ۔۔پ کو”گلہ تر کرتے معصوم انداز میں شکوہ کیا

“ایسا کیسے ہو سکتا یے؟ میں تو تم سے کسی پل بھی جدا نہیں ہوا۔۔۔ پھول سے کبھی خوشبو کو جدا ہوتے دیکھا ہے؟ “ہنوز بھاری آواز میں اسکے جسم میں کپکپی سی لگا دی

شیریں نے سر جھکا لیا۔گال تو سرخ ٹماٹر ہوے پڑے تھے۔

“اتنی دیر بعد آیا ہوں! ملو گی نہیں ؟” سکون سح پوچھ کر اسکا سکون غارت کر دیا

وہ جانتی تھی اس کی بے باکیاں۔ اگے سچ میں ملنے لگ گیا تو؟

یہ سوچ کر ہی اسکی حالت بری ہو رہی تھی ۔۔وہ تیزی سے اسکا بازو ہٹاتی سائیڈ سے نکلی

مگر افسوس اسکی کلائی وہاب کے ہاتھ میں آ گئی ۔

اسکا سانس وہیں جم گیا جہاں تھا ۔دل تو پسلیاں توڑ کر نکلنا چاہ رہا تھا ۔ ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی سی محسوس ہویی

اس سے پہلے وہ کچھ کرتی وہاب نے جھٹکے سے اسکا بازو کھینچا

وہ کٹی پتنگ کی طرح اسکے سینے سے آ لگی

وہاب نے سکون سے اسکے گرد باہیں کر دیں

اسکی تو مارے شرم کا سانس اب تک اٹکا ہوا تھا سچ میں بے باک تھا وہ ۔

“سانس لے لو جانم۔۔۔ منکوحہ ہو میری تم” اسکے سر پر ہلکا سا بوسہ دیتے کہا.

“چھ۔۔وڑیں و۔۔وہاب”وہ اسکی پکڑ میں کسمسائی

شرم سے جان جا رہی تھی ۔

“اچھا سنو۔۔۔ اس بار میں نےرخصتی کروا کے جانا ہے تیار رہنا!” اسکو سامنے کرتے کہا

“پھر چلے جائیں گے؟” نم آنکھوں سے پوچھا ایک سیکنڈ لگا تھا آنکھوں میں پانی آنے میں ۔

“خبردار روئی تو۔۔۔ ڈیڈ سے بات کروں گا۔۔ ویسے بھی وہ چاہتے ہیں کہ میں اس بار شادی کر لوں” وہ اسکی نم آنکھوں کو دیکھتے بولا

“پلیز۔۔۔ ابھی آئیں ہیں ۔۔ جانے کی بات نا کریں فلحال” اس کے بازووکو اپنے گرد سے ہٹاتے کہا

“وہاب نیچے ڈیڈ بلا رہے ہیں”تبھی سندس نے آ کر کہا

“آیا بھابھی”مسکرا کر جواب دیا

اسکے ماتھے پر پیار سے بوسہ دیا اور سندس کے ساتھ ہی نیچے چلا گیا

“کیوں۔۔۔ وہاب۔۔۔ پہلی بار۔۔ آپ کے جانے پر۔۔۔دل کیوں ۔۔۔ڈوب رہا ہے! ۔۔۔سچ میں ۔۔ مجھسے شادی کرو گے نا؟” اسکے دل میں انجانہ خوف بیٹھ گیا تھا ۔جیسے وہاب کی بات کھوکھلی ہو یا وقت ملنے نا دے۔

🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥

“ماما آپ دونوں چلے جاؤ نا۔۔ میں ڈیڈ کے ساتھ رہوں گا آفس کس نے دیکھنا اگر میں ساتھ چلا گیا”زامل نےمصروف سے انداز میں کہا وہ اس وقت لیپٹاپ پر کیز دبا کر ای میل ٹائپ کر رہا تھا ۔

“نہیں بیٹا جی آپ کے ڈیڈ بھی جا رہے ہیں پاکستان”زوبیہ نے ہنس کر اسکے بال بگاڑے اور ساتھ بیٹھ گئیں

“ماما۔۔پر جانا کیوں ہے!” گردن موڑ کر اپنی مام سے پوچھا

“ہوو شادی نی کرنی!”زوبیہ نے آنکھیں دکھاتےکہا

“اچھا۔۔۔ماما پلیز۔۔ ماہم کا سوچیں ۔۔۔ میرا موڈ نہیں ابھی”یہ تو شاہوں کے خون میں تھا کہ انہیں شادی کے نام پر غشی طاری ہو جاتی تھی چاہے پسند ہی کی کیوں نا ہو۔یا کوشش ہوتی کہ ان کی شادی کیلیے منت ترلہ کیے جائیں

“تم جانتے ہو ملیحہ تمہاری منگیتر ہے تم دونوں سے کچھ بھی نہیں چھپایا میں نے۔۔۔۔ بیٹا فرید مجھسے بار بار پوچھ رہا ہے کہ ہم کب آ رہے ہیں اچھا نہیں لگتا میں بار بار ٹالوں ۔۔پچھلے سال سے ٹال رہی ہوں انہیں شادی کیلیے اب زیادتی ہے ان کے ساتھ”زوبیہ نے پیار سے کہا انہیں اپنے بچے منانے تھے جو جانتے بوجھتے ہوئے بھی سنتے نہیں تھے۔

“ماہم سے پوچھا ہے آپ نے !” زامل نے لیپٹاپ بند کر کے اپنی مام کو دیکھتے پوچھا

“کس بارے میں ؟” تبھی ماہم تن فن کرتی کمرے میں آئی۔

باب کٹ گرے بالوں میں وہ کوئی ہولیووڈ کی ہیروؤئن لگ رہی تھی ۔بلیک لیدر کی جیکٹ لانگ شوز بلیک جینز ہاتھوں میں معمول کے مطابق انگوٹھیاں۔ وہ یقیناً باہر سے آئی تهی ابهى ابھی ۔

“یہ تم کیا بنی ہوئی ہو؟” زوبیہ نے دانت پیس کر کہا

“مام وہ۔۔۔آج چھوٹا سا لاء(law)کا فنکشن تھا سکول میں بسس اسی لیے ایسے گئ۔”ماہم نے لاپرواہ انداز میں کہا

“پتہ ہی احسام کو سگھر سیدھی لڑکیاں پسند ہیں اور ایک یہ ہے جس سے کپڑے نہیں سواد کے پہنے جاتے”زوبیہ نے اسکے سر پر چپٹ لگائ۔

“اوہو مام۔۔۔ اس احسام شسام کے قصیدے مت پڑھیے گا آپ کی باتوں سے لگتاا ہے نہایت ٹیپیکل مرد ہے اور. شادی کے بعد ٹیپیکل شوہر ہو گا” ماہم نے آنکھیں گھما کر کہا۔

 اسے کبھی کبھی لگتا تھا زوبیہ اسکی ماں کم اور احسام کی زیادہ ہیں ۔

“شرم کرو۔۔۔ جا رہے ہیں پاکستان ہم اس ہفتے تمہرا لاء کا سکول بھی ختم ہو چکا ہے۔۔۔اب تم دونوں مائننڈ بنا لو شادی کا”زوبیہ نے اٹل فیصلہ سنایا اور اٹھ کر کممرے سے چلی گئں۔

“سیریسلی بھائی؟!!! مطلب شادی؟؟ اتنی جلدی؟” ماہم نے صدمے سے زامل کو دیکھتے کہا

زامل کی نا چاہتے ہوئے بھی ہنسی نکل آئی اسکی بہن کیوٹ ہی اتنی تھی

“کوئی بات نہیں میرا بچہ” اس نے ہنس کر اسکے بال بگاڑے

“آپ نے تو کہنا ہے آپ کی تو من کی مراد پوری ہو رہی”ماہم نے منہ بناتے کہا

“ہاں بلکل۔۔۔۔ اور تمہارا بھی ۔۔۔ سب جانتا ہوں۔۔ رات کو کوں احسام شاہ کی پروفائل چیک کر کے سوتا ہے” زامل نے ہنستے اسکی ٹانگ کھینچی اوراسے بت بنا چھوڑے کمرے سے نکل گیا۔

“یا اللّٰه ۔۔۔  بھائی کو کیسے پتہ؟!”ماہم نے آنکھیں میچتے کہا۔اسکی چوری پکڑی گئی تھی ۔

۔🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥

وہ اپنے دھیان اوپر جا رہی تھی ۔ ساتھ ساتھ دوپٹے سے بھی الجھ رہی تھی ۔

“میں نے کہا بھی تھا آپی سے کہ ایسا سلک کا دوپٹہ نا لے کر آئیں سر پر نہیں ٹکتا مگر سنتی کہاں ہیں میری۔۔۔وخت ڈالا ہوا اس اکیلے نے۔۔ مجھے  آغا جان نے دیکھ لیا تو جان نکال دیں گے۔۔۔آہ ہ ہ ہ”وہ اپنے دھیان بولتے الجھتے جا رہی تھی کہ جیسے ہی آخری سیڑھی سے دائیں طرف مڑی تو کسی سے زوردار تسادم ہوا۔ بے ساختہ اسکی چیخ نکل گئ۔

مقابل نے تیزی سے اسکا ہاتھ پکڑا ورنہ وہ سیڑھیوں سے نیچے گر جاتی

دوپٹہ ہوا میں لہراتا اس کے چہرے پر آ گرا اور وہ خود حواس باختہ سی خود کو ہوا میں معلق پا رہی تھی ۔اسکی سانس اوپر کی اوپر نیچے کی نیچے تهی۔ابھی تو صحیح جا رہی تھی ۔ اور کون ہو سکتا ہے اس کےسامنے ۔اسکی تو کسی غیر کاسوچتے ہی جان نکل رہی تھی ۔

مقابل نے اسکا ہاتھ کھینچا۔ وہ لہراتی اس کی طرف کھچی چلی آئی۔

جیسے ہی اس نے سامنے کھڑا کیا۔ دوپٹہ چہرے سے سرکہ۔

اور یہاں عنابیہ کے ہوش و حواس واپس آئیے۔

اسے نہیں علم تھا کون ہے سامنے ۔اس ڈر سے تیزی سے گھوم کر پشت اسکے سامنے کر دیا۔

دوپٹہ سرک چکا تھا زمین بوس ہو گیا تھا ۔

اور اسکے لمبے براؤن بال جو کمر سے نیچے کسی آبشار کی طرح جھول رہے تھے مقابل کو چونکنے پر مجبور کر گئے۔

عنابیہ کو ڈھیڑوں شرم نے آن گھیرا۔ نجانے ون تھا اسکے پیچھے اور وہ بنا دوپٹے کے ایسے کھڑی تھی۔ اس کی سانسیںمنتشر تھیں۔ بنا دوپٹہ اٹھائے نیچے جا نہیں سکتی تھی اور دوپٹے کے بنا اسکے سامنے کھڑے ہونے کی ہمت نا تھی اوردماغ کام نہیں کر رہا تھا کہ جھک کر دوپٹہ ہی اٹھا لے۔

مقابل نے دوپٹہ اٹھایا۔

سرخ رنگ کا سلک کا دوپٹہ تها۔جو ہاتھوں میں بھی ٹھہر نہیں رہا تھا ۔

“اگر دوپٹہ سنبھالا نہیں جاتا تو لیتی کیوں ہو؟” رعبدار آواز میں کہا

وہ جو پریشانی شرم سے کھڑی تھی آواز پہچانتے تو جیسے سانپ سونگھ گیا۔حلق میں ہر بار کی طرح سانس اٹک سی گئ۔”سائیں”اسکے لب پھرپھرائے۔

۔

“پکڑو اسے”غصے سے دوپٹہ اس کی سائیڈ سے آگے کی طرف کیا۔

اس میں توہمت ہی نہیں بچی تهی کہ وہ دوپٹہ اسکے ہاتھوں سے لے لیتی ۔

“پکڑو اب جم کیوں گئ ہو؟” اسے غصہ آ رہا تھا اسکے ڈھیٹ بنے رہنے پر ۔

وہ اسکی آواز پر اپنی جگہ اچھل ہی گئ۔

مرتے ہاتھ سےجیسے ہی دوپٹہ پکڑنا چاہا تو سیف نے زرا پیچھے ہاتھ کر دیا۔

بے ساختہ ااسکا چہرہ زرا مڑ گیا اس حرکت پر۔

اسکا تھوڑا سا دودھیا گال اور گلابی ہونٹوں کے کنارے سیف کی نظر میں آ گئے ۔سیف نے بے خودی میں کیا تھا نا ارادہ تھا نا سوچ نجانے کیوں اس سے ہو گیا ۔اسکے لب مسکرائے اسکی ڈری سہمی حالت پر

پھر واپس اپنے خول میں آتے دوپٹہ آگے کیا۔عنابیہ نے جلدی سے پکڑ لیا اور فوراً سے لہرا کر اپنے ارد گرد کیا سر پر لیا اورچہرے کے آگے اسکا پلو کر دیا۔

سیف نےنفی میں سر ہلایا اور اسکے بازووں سے پکڑ کر سائیڈ پر کیا اورتیزی سے سیڑھیاں اتر گیا۔

وہ تو اسکی پکڑ پر مزید خود میں سمٹ سی گئ۔

اس زرا سی قربت نے اسکے گال سرخ کندھاری کر دیے تھے ۔

چور نظروں سے سیڑھیوں کو دیکھا جہاں سے وہ ابهى گزرا تھا ۔

اپنے بازووں کو دیکھا

آنکھیں تو اسکے لمس سے چمک اٹھیں تھیں ۔

اپنے دوپٹے کو دیکھا جو ابهى ابھی اسکے ہاتھوں میں تھا ۔

سرشار سی دوپٹے کے پلو کو لبوں سے لگا لیا۔

“آپ۔۔۔ کیا جان لیں گے ایسے ہماری؟” اس کے تصور سے مخاطب ہو کر کہا

خود ہی اپنی بات پر ہنس دی۔اور اب اسے یاد بھی نہیں آ رہا تھا کہ وہ اوپر کیا لینے آئی تهی ۔”عنابیہ تم یہاں!” تبھی احسام کی آواز نے اسکا طلسم توڑا

وہ جو نیچے سیڑھیوں کی طرف متوجہ تھی یہ دیکھ ہی نا سکی کہ کب احسام اسکے سامنے آ کھڑا ہوا

اسکے یوں سامنے آ جانے پر اسے اپنی بے خودی پر ڈھیڑوں شرمندگی ہوئی کیونکہ وہ بنا چہرے پر دوپٹہ کیے اپنے ہی دھیان کھڑی تھی اور یقیناً احسام کی نظر پڑ گئی ہو گی

اس نے تیزی سے اپنے چہرے کے آگے دوپٹہ کیا

“سوری بھائی وہ۔۔۔ بی جان کہہ رہی تھیں۔۔ کہ آپ۔۔۔ بات سن لیں۔۔ ان کی۔۔۔ ” اپنا کام یاد آتے جلدی سے کہا اور پاس سے گزرنے لگی۔”عنابیہ”احسام نے اسے آواز دی اسکے تیز قدم ایک  دم رک گیے۔

“خود کو چھپا کر رکھا کرو”اسے جملے میں بات واضح کی۔عنابیہ کو لگا کہ احسام نے اس لیے کہا ہے کہ اسکی نظر جو پڑ گئی تھی وہ سر ہاں میں ہلاتی نیچے چلی گئی

مگر وہ اس بات سے بے خبر تھی کہ احسام نے سیف کو نیچے اترتے دیکھا تھا اور سیڑھیوں سے اوپر عنابیہ کو سیف کی طرف دیکھتے پایا تھا

کتنی جلن ہوئی تھی اسے اپنے سینے میں وہ بتا نہیں سکتا تھا اسے سب سے زیادہ برا اس وقت سیف لگا تھا

اور احسام کو خدشہ لا حق ہو گیا تھا کہ اگر سیف نے کہیں عنابیہ کو دیکھ لیا اور اسکے حسن سے متاثر ہو گیا تو اسکا خود کا کیا بنے گا؟ وہ خود اتنی محبت کرتا ہے عنابیہ سے۔ وہ کیسے برداشت کرے گا عنابیہ کو سیف کو ہوتے دیکھ کر۔

اس وقتاسے کسی ماہم کا خیال نہیں آیا تھا ۔عنابءہ کے سامنے کسی کا بھی نہیں آتا تھا ۔

“تم میری ہو صرف عنو۔۔۔ صرف احسام شاہ کی” سرخ مرچیں جلتی آنکھوں سے عنابیہ کے ہیولے سے کہا۔

سیف سے تو دلی اور روح کی دشمنی ہو گئ تھی

کچھ بھی ہو جائے اب وہ سیف کو کسی طور عنابیہ کے پاس نہیں آنے دے سکتا تھا ۔

🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥

“زمر”کیف نے اسے آواز دی جو کچن میں کھانا بنا رہی تھی

اسکی آواز پر وہ چونکی ضرور مگر پلٹی نہیں ۔

اس دن سے اس نے نا کیف کو بلایا تھا نا سامنے آئی تهی آغا جان کی ڈانٹ نے اسے بری طرح ڈرا دیا تھا اور اب وہ کسی طور کیف کے سامنے نہیں آ رہی تھی

اور وہ جانتی تهی کہ پکا باولا بنا پھر رہا ہو گا

کیف نے اسکے بے رخی کو بہت مشکل سے برداشت کیا۔”زمر”کیف نے دروازے میں کھڑے ہو کرپھر سے اسے آواز دی مگر اس بار بھی زمر نے ان سنی کر دی اور کھانا بنانے کی طرف متوجہ رہی کیف یوسف شاہ میں اتنی ہمت نا تھی کہ وہ ایسے اپنی محبوب محبت کو ایسے بے رخی برتتے دیکھے

دانت پیستا اندر آیا اور ٹھک سے دروازہ بند کیا اس کے دروذہ بند کرنے پر وہ فوراً سے پلٹی اور سامنے ہی کیف کو غصے سے بھرا کھڑا پایا۔

“درواذہ کیوں بند کیا آپ نے !” حتی الامکان خود کو سنجیدہ رکھتے کہا اندر سے ڈر بھی رہی تھی کیف کی آنکھوں سے کیف اسکی طرف تیزی سے بڑھا اور اسےکندھوں سے پکڑ کر ساتھ دیوار سے پن کیا

“اوف۔۔۔ سائیں”وہ اتنی سختی پر کراہ کر رہ گئی

“بات کیوں نہیں سن رہی؟ جواب کیوں نہیں دے رہی مجھے ؟” کیف نے غصے سے کہا۔اس وقت وہ کہیں سے بھی محبت لٹاتا کیف نہیں لگ رہا تھا ۔

۔

“سائیں۔۔ درد۔۔ہورہا ہے” وہ تکلیفسے بولی اس کے ہاتھوں کی گرچت سخت تھی۔

“مجھے اگنور کیوں کر رہی ہو ؟ مجھسے دور کیوں بھاگ رہی ہو؟ مجھسے چھپ کیوں رہی ہو؟” کیف نے دانت پیستے غراتے سوال کیے….زمر نے تکلیف سے اسے دیکھا جو اسکے کندھے پر اپنی انگلیاں گھسا رہا تھا جیسے بس نا چلے تو انگلیوں سے کندھے میں سوراخ کر دے

“جانتی ہو نا۔۔۔ کتنی شدید محبت کرتا ہوں تم سے۔۔جانتی ہو نا  کہ تمہارا اگنور کرنا مجھے ترپا دیتا یے!۔۔ جانتی ہو نا کہ میں نہیں رہ سکتا تمہیں دیکھے بنا؟” وہ سرخ اس کی آنکھوں میں گاڑے بے رحم سیاں بنا ہو تھا..”سائیں ۔۔۔ آغا جان کا آپ ک۔۔۔۔۔کو۔۔پتہ توہے۔۔۔ پھر۔۔ مجھسے کیوں سوال کر رہے ہیں !” نم آنکھوں سے کہا تکلیف کافی تھی

“اورجو میں تم سے بات نہیں کر پا رہا دیکھ نہیں پا رہا اس کا کیا! میری تکلیف نہیں دکھائی دیتی؟”کیف نے جھٹکے سے اسکے کندھے چھوڑے۔

“اب آپ ناراض ہونے لگے ہیں ؟” زمر نے اپنے کندھوں کو ہاتھوں سے دباتے منہ بناتے کہا

اس کی معصوم آواز پر کیف کا غصہ کم ہوا

“اور پیار کروں تمہیں !؟” دانت پیس کر کہا: “شرم کریں۔۔۔ اور کچن سے نکلے کوئی آ جائے گا”اسکی بات سے وہ سرخ پڑ گئی تھی ساتھ ہی نظریں جھکاا لیں

کیف کا تھوڑا بہت غصہ جو رہ گیا تھا اسکے شرم سے پڑتی سرخ گالوں اور پلکوں کی بار گرانے سے وہ بھی ختم ہو گیا….مسکرا کر لب دانتوں تلے دبایا..اسے مزید تنگ کرنے کیلیے اسکے اطراف میں ہاتھ رکھے۔اور فرصت سے اسکا سمٹا شرمایا روپ دیکھنے لگا۔

“مجھسے دور نا ہوا کرو تمہارا سائیں مشکل میں پڑ جاتا ہے”گھمگھیر آواز میں وہ اسے مزید گلنار کر گیا..”زمر۔۔۔دروازہ کیوں بند یے؟”تبھی بی جان کی رعبدار آواز گونجی….زمر کے اوسان خطا ہو گئے جبکہ کیف بے خود ہو ریا تها

“سائیں”

“ششششش”کیف نے اسکے لبوں پر انگلی رکھ دی

“نازکی ان کے لب کی کیا کہیے…..پنکھڑی اک گلاب کی سی یے…..”اس کے کان کے پاس سرگوشی کی ساتھ ہی لبوں پر انگلی کا دباؤ دیا….زمر کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی وہ شرم سے برےحالوں میں تھی۔

اسکی ہمت جواب دے رہی تھی ۔ کیف کی زرا سی قربت اور مدہوش کردینےوالی آواز میں کہے گئے اسکے الفاظ اسکی جان نکالنے کے در پر تھے۔وہ زمین بوس ہونے کو تھی اگر وہ سامنے نا کھڑا ہوتا..”زمر!”پھر سے بی جان نے دروازہ بجایا

“س۔۔سائیں۔۔۔۔ ب۔۔بی۔۔جان”اس نے ڈرتے سمٹتے کیا”مجھسے دور نا ہوا کرو جانِ سائیں۔۔۔ ورنہ کھا جاؤں گا۔۔۔ تمہاری قسم” اسکے کان میں سرگوشی کی اور دھیرے سے اسکے رخسار پر بوسہ دیا اور پیچھے ہٹ گیا

“بی جان کو سنبھال لینا” اسکی سرخ گال پر انگل رکھتے کہا: زمر نے جھٹکے سے اسے دیکھا جو اسے مصیبت میں ڈال رہا تھا

کیف نے اسی انگلی کو لبوں سے لگایا اور  آنکھ دبائی اور پچھلی کھڑکی سے کود گیا۔

“سائیں۔۔۔ و اللّٰه” اپنی حرکتوں سے اسے پریشان کر ے کا بیڑا اٹھا لیا تھا کیف نے۔

“زمررررر”بی جان نے اب طیش میں آواز دی………زمر تیزی سے گئ اور دروازہ کھولا..”دروازہ کیوں بند تھا ” بی جان نے غصے سے کہا

“وہ۔۔وہ۔۔وہ۔۔ بی جان ان۔۔۔اندر چوہا۔۔ آ گیا تھا ۔۔ میں نکال رہی تھی ۔۔ دروازہ کھولتی یا آپ کو جواب دیتی تو بھاگ سکتا تھا وہ” ہڑبڑاتے جو بات سمجھ آیی کہہ دی

“ہیں !!! حویلی میں چوہا اب کہاں ہے؟”بی جان کا ڈر بھی عود ہی آیا انکے ڈر پر ہی تو زمر نے اٹیک کیا تھا

۔”وہ پچھلی کھڑکی سے بھاگ گیا تبھی دروازہ کھولا”زمر نے زراسنانس لے کر کہا بی جان اب انڈر کنٹرول تھیں

۔

“اچھا۔۔ چلو شکر۔۔ میں کہتی ہوں فرید سے کہ ملازموں سے کہہ کر اچھے سے لان کی صفائی کروائے نجانے کہاں سے آ جاتے ہیں” وہ تسلی کرتے چلی گئی….زمر نے گہرا سانس لیا۔

کیسی قسمت تھی ہر دفعہ جب بھی کیف ملتا تھا کوئی گھر کا برا آ جاتا تھا ۔

ایک تو یہ محبتیں زلیل بہت کرواتی ہیں ۔

Novel Continued……

ناول نگری میں ہر نئے پرانے لکھاری کی پہچان، ان کی اپنی تحریر کردہ ناول ہیں۔ ناول نگری ادب والوں کی پہچان ہے۔ ناول نگری ہمہ قسم کے ناول پر مشتمل ویب سائٹ ہے جو عمدہ اور دل کو خوش کردینے والے ناول مہیا کرتی ہے۔ناول کا ریوئیو دینے کیلئے نیچے کمنٹ کریں یا پھر ہماری ویب سائیٹ پر میل کریں۔شکریہ

novelsnagri786@gmail.com

 

Read love story, online urdu novels, saaiyaan novel at this website Novelsnagri.com for more Online Urdu Novels and  Afsanay that are based on different kind of content and stories visit this website and give your reviews. you can also visit our facebook page for more content Novelsnagri ebook

Leave a Comment

Your email address will not be published.