Web Special Novel, loved story novel,

loved story novel | wo rahat jaan hai iss darbadi mein | Ep#10

loved story novel 

Web Site: Novelsnagri.com

Category : Web special novel 

Novel name : Wo Rahat Jaan Hai Is Darbadi Mein Episode 10

Written by: Sara Urooj

Urdu Romance Based loved story novel includes romantic love story with interesting ups and downs in this novel. Hope all of you enjoyed it.

 

Web Special Novel, loved story novel,
Web Special Novel, loved story novel,

وہ راحتِ جاں ہے اس دربدری میں

loved story novel,

ازقلم سارہ عروج

قسط نمبر 10

“دن پر لگائے اڑ رہے تھے ، کسی طوفان کی ضد میں آئی ریت کی مانند۔ “. احمر کو حویلی میں موجود ایک مہینے کا وقت بیت چکا تھا مصروفیات کے باعث اس کو واپس شہر عمارہ کے پاس جانے کا وقت بھی نا ملا بیچ میں شہر صرف ایک دفع گیا تھا وہ بھی صرف چند گھنٹوں کے لئے ۔ اسکے بعد روازنہ فون پر ہی عمارہ سے اس کا رابطہ قائم تھا ۔

کالی شلوار قمیض پر نفاست سے بالوں کو سیٹ کیے ،کاندھے پر دائیں جانب سفید کھدر کی چادر اوڑھے وہ ہال میں موجود صوفے پر براجمان تھا نظریں اس کی سیڑھیوں پر پوچا لگاتی سحر پر ہی مرکوز تھی ۔

آج وہ اسے بغور دیکھ رہا تھا ” دودھیا رنگت ، گہری آنکھیں جن میں اب چمک نہ رہی تھی لمبے گھنے بال جو کہ چوٹیاء کی صورت میں قید تھے وہ کاٹن کے سادہ سے سوٹ میں ملبوس تھی ۔ سحر کے ہاتھوں کی لرزش صاف بتا رہی تھی کہ وہ احمر کی نظروں کی تپش اپنے وجود پر محسوس کر پا رہی تھی لیکن پھر بھی خود کو پر سکون رکھنے کی چھوٹی سی کوشش کر رہی تھی ۔

چوہدری احمر کے لب نا چاہتے ہوئے بھی مسکراہٹ میں ڈھلے تھے ۔

احمر کے فون کی چنگھاڑتی آواز نے اس کے تسلسل کو توڑا ۔ ایک نظر سحر پر ڈالے وہ فون اٹھا چکا تھا۔

“ہیلو جان “۔

کال کی دوسری جانب موجود وہ عمارہ سے مخاطب ہوا ۔

احمر تم تو بالکل بھول ہی چکے ہو ۔

نہیں مطلب تمہیں میری فکر ہی نہیں کہ بندہ کچھ لمحے ہی نکال آ جاتا ہے شادی کے بعد تو تم مجھے بھول ہی گئے ہو ۔

احمر کے فون اٹھاتے ہی وہ نان اسٹاپ شروع ہو چکی تھی جبکہ احمر چوہدری کا قہقہ گونجا تھا ۔

جان ! جان ! تھوڑا سانس لے لو ۔

یہاں کام میں اتنا مصروف ہوں کہ مجھے سانس لینے تک کا وقت نہیں ملتا۔ ان شاءاللہ جیسے ہی کام سے فارغ ہوتا ہوں سیدھا اپنی جان کے پاس ہی آؤں گا اور ایک بہت بڑے سرپرائز کے ساتھ “..

“احمر کی آنکھیں چمکی تھیں اپنی آخری بات کے ساتھ “

اور۔۔۔۔ ک

وہ مزید کچھ کہتا کہ نسوانی چیخ پر اسکے جملے منہ میں ہی رہ گئے ۔

“سحر جو سیڑھیوں پر سے پوچا لگا رہی پاؤں پھسلنے پر اپنے توازن کو برقرار نہ رکھ سکی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے سیڑھیوں سے گرتی چلی گئی “

پوری حویلی اس کی دلخراش چیخ سے گونج اٹھی تھی ۔

“فون پر بات کرتا احمر ساکت ہوا جبکہ کمرے میں تیار ہوتا شہیر سحر کی چیخ پر دوڑتا ہوا باہر آیا لیکن اسکو یوں زمین پر گرا دیکھ اس کی آنکھیں حیرت سے پھیلی تھیں اس پر ستم سر سے نکلتا خون ، اس کا دل لرزا تھا وہ لمحوں میں سیڑھیاں عبور کرتا نیچے آیا اسکے پاس جس کی آنکھوں سے آنسوں بہہ رہے تھے ۔

شہیر کو سحر کے پاس دیکھ احمر کے ماتھے پر انگت بلوں کا جال بچھا تھا وہ فون کو وہیں صوفے پر غصے سے پٹختے اس تک آیا اور زمین بوس ہوئی سحر کے پاس سے ہٹایا تھا شہیر کو ۔

“دور ہٹو اس کے پاس سے “

وہ تقریباً غراتے ہوئے بولا جبکہ شہیر کے ماتھے پر ان گنت بلوں کا اضافہ ہوا تھا۔

“احمر اس کی حالت دیکھو اسے ” ۔۔۔۔

“تمہیں زیادہ احساس جتانے کی ضرورت نہیں میں خود دیکھ سکتا ہوں “

“سحر کی حالت کو نظر انداز کیے وہ اپنی انا و غرور سمیت بولا تھا جبکہ شہیر اپنی مٹھیاں بھینچ گیا تھا احمر کی بات سن ، وہ اس وقت بے بس تھا کچھ کر نہیں سکتا تھا ورنہ دل تو چا رہا تھا کہ کوئی چیز اٹھا کر احمر کے سر میں دے مارے لیکن وہ خاموشی اختیار کر گیا ۔

میری آنکھوں میں جدائی کی کمی ہے سائیاں

میرے زخموں کی دوا تیرے سوا کوئی نہیں

©©©

ڈارک بلو کوٹ سوٹ میں ملبوس وہ شیشے کے سامنے کھڑا خود پر برانڈڈ پرفیوم جھڑک رہا تھا ۔ اس پرفیوم کی مہک سے کمرا پورا مہتبر ہو گیا تھا الماری کے پاس کھڑی پشمینہ نے کچھ لمحوں کے لئے آنکھیں بند کیے گہری سانسوں کے ذریعے اس خوشبو کو محسوس کیا جبکہ شیشے میں سے نظر آتے اس کے عکس کو دیکھ فاتح مسکرا اٹھا تھا۔

پشمینہ کی بند آنکھوں کو دیکھ اسے ایک شرارت سوجی تھی جس پر عمل کیے بہت ہی آرام سے وہ اس کے قریب گیا ۔

جبکہ پشمینہ وہ انوکھی سی خوشبو اپنے قریب محسوس کیے اپنی دونوں آنکھیں کھول گئی تھی ، وہیں سانس جس سے وہ پرفیوم کی مہک خود میں اتار رہی تھی اب اٹک سی گئی تھی فاتح کو قریب دیکھ ۔

“جانِ جاں” ۔

“کیا بات ہے آج تو ہماری پسندیدہ مہک کو یوں محسوس کیا جا رہا ہے جیسے کوئی اپنے محبوب کی خوشبو محسوس کرتا ہے ۔

بیگم ! خیر تو ہے نا ؟ کہیں ہم پر اپنا یہ دل تو نہیں ہار بیٹھیں “..؟؟

اپنے لب اسکے نرم گرم کان پر رکھے وہ گھمبیر سے لہجے میں بولا تھا .

پشمینہ فاتح کی تپش و لو دیتا لہجہ محسوس کیے گھبرائی تھی اور ساتھ ہی اس کی باتوں سے مزید سرخ پڑی تھی جب ہی پیچھے کی جانب کھسکتی فاصلہ بنانا چاہا۔ لیکن شائد اس کی یہ کاوش فاتح کو پسند نہ آئی تھی تب ہی وہ ان کے درمیان میں موجود باقی کا فاصلہ بھی مٹا گیا۔

“یوں فاصلے بڑھا کر ادائیں نہ دیکھاؤ کہیں تمہاری یہی ادا تم پر ہی بھاری نہ پڑ جائے “..

لو دیتے لب و لہجے کے ساتھ کہتا وہ محبت سے بھرپور گستاخی کیے باہر کی جانب بڑھا تھا جبکہ پشمینہ پیچھے ساکت رہ گئی تھی .

فاتح تو جا چکا تھا لیکن اس کی مہک و لمس وہ اب بھی اپنے گرد محسوس کر رہی تھی ۔

©©©

“فکر کی کوئی بات نہیں ہے بس سر پر چوٹ آئی ہے وہ میں نے اسٹیچز لگا کر کوور کر دی ہے باقی شکر کریں بچے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا یہ ایک معجزہ ہی ہے ورنہ جس طرح وہ گری ہیں یقین جانے بچے کی جان کو خطرہ ہو سکتا تھا ، بس آپ ان کا خیال رکھیے گا یہ ساری پریسکیپشن ہے اس پر عمل کیجئے گا “

ڈاکٹر اپنے پروفیشنل انداز میں بول اپنی فیس لیے چل دی تھیں لیکن ان کو معلوم نہ تھا کہ اپنی باتوں سے وہ حویلی والوں کے سر پر پوری کی پوری چھت گرا چکی ہیں نورے بیگم کا تو صدمے سے برا حال تھا جبکہ بے چین شہیر کو اور بے چینی میں مبتلہ کر دیا تھا ڈاکٹر نے ۔

“احمر یہ سب کیا تماشہ ہے “..؟؟

“وہ لڑکی تمہارے بچے کی ماں بننے والی ہے ، جانتے بھی ہو تم ایک ونی کی اولاد کے باپ ۔۔۔ ؟ اس کی حیثیت پتہ ہے تمہیں ۔۔؟؟

“تمہارے بھائی کے قاتل خاندان کا خون ہے وہ لڑکی اور تم اس خاندان کے بچے کے باپ بننے والے ہو “..؟؟؟

نورے بیگم کا غصے سے برا حال ہو رہا تھا جب سے انہیں معلوم ہوا کہ سحر ماں بننے والی ہے وہ احمر پر برس رہی تھیں ۔

“ماں پلیز دو منٹ کے لئے خاموش ہو جائیں میرا سر خود درد سے پھٹ رہا تھا “

وہ اپنا سر تھامتے ہوئے بولا اسکی حالت بھی نورے بیگم جیسی ہی تھی ۔

“میں کچھ نہیں جانتی احمر کل ہی شہر جاؤ اور اس منحوسیت کو ختم کراو “

نخوت سے کہتی وہ یہ تک بھلا چکی تھیں کہ یہ اولاد خدا کی جانب سے ایک تحفہ ہے کسی ننی جان کو قربان کرنے کی بات کر رہی تھیں وہ ۔

ان کی بات کا بنا کوئی جواب دیے وہ حویلی سے نکل کر سیدھا میدان میں آیا جہاں اس وقت ہاتھوں میں جلتا سگار اس کے دماغ میں چلتے اشتحال کا پتہ دے رہا تھا وہ نورے بیگم کی باتوں کو سوچ رہا ہے ۔

” کیا اسے واقعی اس بچے کو ختم کر دینا چاہیے “..؟؟

“وہ سحر کے ساتھ اس کی بھی تو اولاد تھی “.

“اس کا ذہن اس وقت کئی سوچیں مرتب کرنے میں مشغول تھا اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کرے “

بل آخر اس کے سوال کا جواب مل چکا تھا اسے ، ہاتھوں میں جلائی اس تیسری سیگریٹ کو زمین پر پیروں سے کچلے ایک شاطر مسکان اس کے لبوں پر در آئی ۔

رات گئے جب وہ حویلی میں آیا تو سحر انجیکشن و دوائیوں کے زیرِ اثر نیند میں گم اسی کے بستر پر براجمان تھی ایک نظر اس کے وجود کو دیکھے وہ فریش ہونے کے بعد وہیں سائڈ پر کروٹ بدل کر لیٹ گیا کچھ ہی دیر میں نیند نے اسے بھی اپنے پنجوں میں جکڑ لیا ۔

©©©©

“صاحب ، صاحب یہ گجرے لے لیں “

روڈ پر جلتی سگنل لائٹ کے باعث فاتح کی گاڑی جیسے ہی رکی تھی ایک چھوٹی عمر کا بچہ ہاتھوں میں گجرے تھامے اس کی گاڑی کے قریب آیا اور ساتھ ہی اس کو اکسایا کہ وہ یہ گجرے خرید لے ۔

پہلے پہل تو وہ انکار کرنے لگا تھا مگر ان گجروں کو دیکھ پشمینہ کا شرم سے جھکتا وہ معصوم چہرا اس کی نظروں کے سامنے گھومنے لگا جسے سوچتے اس کے ہونٹ بھی بھرپور مسکراہٹ میں ڈھلے تھے تب ہی بنا دیر کیے اس نے وہ گجرے خرید لیے ۔

“شکریہ صاحب “

وہ بچہ شکریہ ادا کیے چلا گیا ۔

بلکہ سگنل کھلنے کے باعث فاتح کی گاڑی نے بھی زور پکڑتے ہوئے گھر کی راہ لی ۔

وہ گھر میں داخل ہوا تو پشمینہ کو معمول سے ہٹ کر لان میں بیٹھے پایا ہاتھ میں اسکے موبائل تھا شائد وہ کسی سے فون پر بات کرنے میں مصروف تھی تب ہی اس کو فاتح کے آنے کا علم نہ ہوا تھا ۔

وہ ایک نظر فون میں مگن اپنی بیوی پر ڈال خاموشی سے اندر چل دیا ۔

©©©©

“آپ کب آئے “..؟؟

پشمینہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی تو فاتح کو بیڈ پر بیٹھے دیکھ حیران ہوتے ہوئے بولی ۔

“بیگم اگر آپ کو فون سے فرست ملے تو آپ کا دھیان مجھ پر جائے نا “

وہ طنزیہ انداز میں بولا کہ وہ شرمندہ سی ہو گئی ۔

“سوری وہ دراصل آج کافی دونوں بعد مشل کی کال آئی تھی تو” ۔۔۔

“اٹس اوکے جا کر کھانا لگاؤ میں آ رہا ہوں “۔

“وہ جو اپنی شرمندگی مٹانے کے لئے خفقت سے بول رہی تھی لیکن فاتح اس کی بات درمیان میں کاٹ گیا اور تنے ہوئے اعصاب کے ساتھ کھانا لگانے کا حکم دیا۔

©©©

کھانا کھانے کے بعد وہ دونوں ہی خاموشی سے اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے فاتح فون میں مصروف جبکہ پشمینہ خاموش نظریں اس پر ٹکائے اسے تکنے میں مصروف تھی ۔ لیکن پھر خاموشی سے اٹھ کر وہ بالکونی میں آ گئی جہاں پر چلتی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا طبعیت کو خوشگوار بنانے کے لئے کافی تھی ڈھیلے جوڑے میں مقید اس کے بالوں میں سے کچھ شریر زلفیں نکل کر اس کے چہرے پر بکھری ہوئی تھیں گلے میں پہنا وہ لال رنگ کا ڈوپٹہ تیز ہوا کے باعث اڑ رہا تھا ۔

“کیا فاتح اب بھی مشل سے محبت کرتے ہیں “..؟؟

آسمان کی جانب دیکھتے ناجانے کیوں یہ سوال اس کے دل میں اٹھا ۔

“ہاں ! ظاہر ہے کچھ بھی ہو جائے مرد اپنی پہلی محبت بھلا ہی نہیں سکتا ، مشل ان کی پہلی محبت ہے اور میری وجہ سے ۔۔۔

سوچتے ایک ظالم آنسوں اس کی آنکھ سے پھسلا تھا ۔

اس سے پہلے کہ وہ اپنی سوچوں کے محور کو مزید مزید گھماتے ہوئے کچھ اور اخذ کرتی اپنے گرد کسی کا مضبوط حصار پا کر وہ ساکن ہوئی “.

“ف۔۔فا۔۔فاتح ۔۔

“کیا ہوا وائفی نیا پاکستان بنانے کا ارادہ ہے “

ٹھوڑی اس کے کندھے پر ٹکائے اس کی خوشبو خود میں اتارتے ہوئے بولا۔

“ن۔۔نہیں آ۔۔آپ پیچھے تو ہٹیں۔۔

“حصار کو توڑتے باہر نکلنے کی کوشش کی تھی مگر مخالفت میں مقابل نے گرفت مزید سخت کی جس کے باعث وہ اسکے مزید قریب ہو گئی ۔

“یہ دیکھو یہ گجرے تمہارے لئے لایا ہوں “

“کتنے خوبصورت ہیں نا “…

گجرے نکال اسکے چہرے کے قریب کیے البتہ کھڑے اب بھی وہ سابقہ پوزیشن میں تھے ۔ بہت ہی آرام سے ایک موتیے و گلاب کا گجرا نکال آرام سے اس کی کلائی تھام پہنایا تھا “

“پشمینہ کی سانسیں منتشر سی ہو رہی اس دشمنِ جاں کی قربت پر “

وہ پگھلنا نہیں چاہتی تھی ، وہ خود کو اس سے دور رکھنا چاہتی تھی مگر فاتح کا برتاؤ اس کو خود سے بغاوت کرنے پر مجبور کر رہا تھا “..

جاری ہے…….

 

 

Read loved story novel at this website Novelsnagri.com for more Online Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit this website and give your reviews. you can also visit our Facebook page.

Leave a Comment

Your email address will not be published.