loved story novels, wo rahat jaan hai iss darbadi mein Epi 11

loved story novels

Web Site: Novelsnagri.com

Category : Web special novel 

Novel name : Wo Rahat Jaan Hai Is Darbadi Mein Episode 11

Written by: Sara Urooj

Urdu Romance Based loved story novels includes romantic love story with interesting ups and downs in this novel. Hope all of you enjoyed it.

 

Web Special Novel, love story novels,

loved story novels, Urdu Novel

وہ راحتِ جاں ہے اس دربدری میں

ازقلم سارہ عروج

قسط نمبر 11

عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی

اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی

“چادر اوڑھو اور  فوراً باہر آؤ میں گاڑی میں ویٹ کر رہا ہوں تمہارا “

چوہدری احمر اپنے ازلی غرور و جلال سمیت کہتا باہر جانے کو تھا کہ سحر کی آواز نے اسکے قدم جکڑے ۔

“کہاں ۔۔؟؟

اپنی بھنونے اچکائے  پلٹا تھا وہ ،  جیسے جتانا چا رہا ہو کہ تم سوال کرنے کی اہل نہیں ۔

“ویسے تمہاری اتنی حیثیت تو نہیں کہ تمہیں بتایا جائے مگر خیر پھر بھی بتا دیتا ہوں ، شہر جا رہے ہیں۔

وہ دراصل کیا ہے نا تم نے ایک مصیبت کھڑی کر دی ہے تو اس  ہی کا خاتما کرنا ہے  ۔چلو اب بنا وقت ضائع کیے نیچے پہنچو ورنہ تمہیں اوپر پہنچانے میں لمحہ نہیں لگاؤں گا ۔

“احمر کی بات سن سحر کو صحیح معنوں میں جھٹکا لگا  وہ حیران تھی احمر کی بات سن اسے گویا اپنے کانوں پر شک ہوا کہ جیسے اس نے کچھ غلط سنا ہے مگر وہ بہری تو نہ تھی “

“یہ آپ ک۔۔کیا ک۔۔کہہ رہے ہیں “..؟؟

“میں ۔۔۔میں ک۔۔کہیں ن۔۔نہیں جاؤں گی” ۔۔؟؟

احمر نے قہر آلود نظریں اپنے سامنے کھڑی سحر پر گاڑھی تھیں جو  سر اور ہاتھ پر بندھی پٹی ، کھلے بالوں سمیت ہلکے سفید رنگ کے سوٹ  میں ملبوس اس کے سامنے کھڑی خود کو  مضبوط ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔

لیکن وہ یہ جانتا تھا کہ یہ مضبوط نظر آنے والی لڑکی اس کے سامنے بے بس ہو جاتی تھی یا وہ اسے بے بس کر دیا کرتا تھا ۔

“یہ سوچتے ہی اس کے لب شاطرانہ مسکراہٹ میں ڈھلے “

لیکن کہنے کو تو وہ اب بھی مضبوط ہی تھی کیونکہ ان جابروں کے ظلم و ستم کا شکار جو تھی ۔

“تم مجھے انکار کر رہی ہو ..”؟؟

سیریسلی ۔۔۔؟؟ چوہدری احمر کو جس کے سامنے تمہاری اوقات اس جوتی برابر بھی نہیں ۔ ہاؤ ڈئیر یو”  ؟

اپنے دونوں بازو سینے پر باندھے وہ  طنزیہ لہجے میں بولا اور ساتھ ہی اسکی حیثیت بتانا نہ بھولا ۔

“احمر ! خدا کا واسطہ ہے  ایسا ظلم نہ کریں میری سزا اس ننی جان کو نہ دیں یہ۔۔۔ یہ آپ کا بھی تو خو۔۔خون ہے آ۔۔ آپ کی بھی تو اولاد ہے

پلیز ا۔۔۔ایسا نہ کریں آپ کی۔۔کیسے اپنی اولاد کا ق۔۔قتل کر سکتے ہیں “

وہ اپنا آپ بھلائے اسکے قدموں میں گری ، اسکے پیر پکڑے اس ننی جان کی زندگی کے لئے بھیک مانگ رہی تھی ۔

وہ ماں تھی کیسے اپنے بچے کا قتل ہوتے دیکھ سکتی تھی تب ہی تو ایک بچے کی زندگی اسی کے باپ سے مانگ رہی تھی ۔

کیسی عجیب بات تھی نا “ایک ماں ، اپنے ہی بچے کے باپ کے قدموں میں گری ہوئی تھی ، اور وہ باپ جس کا وہ خون تھا اسے زرہ بھی پرواہ نہ تھی ۔

“چوہدری احمر کو ساکت کر دیا تھا سحر کے جملوں نے ، ہاں واقعی وہ اس کی بھی تو اولاد تھی وہ ک۔۔کیسے خود اپنی اولاد کا قتل کر سکتا تھا ۔کچھ لمحوں کے لئے اسکا دل موم ہوا ۔ لیکن نہیں وہ احمر تھا ، چوہدری احمر ، چوہدری وقاص کا بیٹا جس نے صرف جبر کرنا ہی سیکھا تھا ۔وہ جو ساکن ہوا تھا بہت جلد ہی باہر نکلا اس حصار سے اور سحر کو  کھینچ کر دور کیا اپنے پاس سے ۔

“شٹ اپ “

“بکواس بند رکھو اپنی “

“اچھے سے جانتا ہوں تم اس بچے کو مہرا بنا کر حویلی میں اپنا مقام بنانا چاہتی ہو لیکن میں ایسا کبھی نہیں ہونے دوں گا یہ صرف میرا نہیں بلکہ میرے بھائی کے قاتل خاندان کا بھی گندہ خون ہے میں اس وجود کو ہی مٹا دوں گا جس رگوں اس خاندان کا خون دوڑے ۔

“اسکے بالوں کو اپنی آہنی گرفت میں لئے وہ غراتے بول رہا تھا جبکہ احمر  کی سختی و بال کی کھنچے جانے پر وہ تکلیف سے چلا اٹھی۔

سر میں پہلے ہی چوٹ تھی اوپر سے اس ستمگر کی سخت ترین گرفت اسکو مزید اذیتوں کے کنویں میں لے ڈوبی ۔

“تو پھر مجھے بھی مار دیں نہ کیوں زندہ رکھا ہے مجھے ۔ میں بھی اسی خاندان سے ہوں میری رگوں میں بھی وہی خون ہے ، مار ڈالیں مجھے بھی ، ختم کر دیں قصہ “

بہتے آنسوں ، کانپتے لبوں سمیت وہ تکلیف و اذیت سہتے ہوئے بولی ۔

“ڈارلنگ ! اتنی بھی کیا جلدی ہے ، تمہیں یوں اتنی آسان موت تھوڑی دینی ہے تم تو گھٹ گھٹ کر مرو گی ، ایسی اذیتیں تمہارے نام کروں گا  کہ اِس کا خوف تمہیں اُس جہاں میں بھی رہے گا “

کدورت بھری نگاہوں سے اسکے وجود کو تکتے وہ قہقہ لگائے بولا ۔

“اس کی بات سن سحر نے اپنی روئی روئی آنکھوں میں شکوہ و شکایت لئے اسکی جانب دیکھا لیکن مقابل کو خاص فرق نہیں پڑا بلکہ بنا اسکو سمجھنے کا موقع دیئے اسکو کھینچتے ہوئے باہر پورچ میں لے کر گیا ، وہ چلاتی رہی ، منتیں کرتی رہی تھی لیکن احمر جیسے اپنے کان ہی بند کر چکا تھا ، تمام حویلی والے خاموش تماشا ملحفضہ فرما رہے تھے کوئی بھی آگے نہ بڑا اور دیکھتے ہی دیکھتے اسے گاڑی میں زبردستی ڈالے وہ لے جا چکا تھا “..

کیسے موڑ پہ نجانے لائی ہے یہ زندگی

روٹھا روٹھا ہے نصیبا روٹھی روٹھی پر خوشی

©©©

سکینہ بیگم کام  سے باہر گئی تھیں تب ہی انہیں حویلی میں ہوئی کاروائی کی خبر نہ تھی ۔ابھی کچھ دیر پہلے ہی لوٹی تھیں وہ تب ہی ملازمہ نے انہیں احمر کا سحر کے ساتھ سلوک ، نورے بیگم کی گفتگو تمام بات ان  کے گوشے گزار دی ۔اسلئے اب ان کا رخ نورے کے کمرے کی جانب تھا ۔

“نورے تمہاری زندگی میں سکون نہیں ہے نا ۔۔؟؟

“کیوں تم خود بھی سکون سے نہیں رہتی اور نا ہمیں رہنے دیتی ہو “..؟؟

سکینہ بیگم غصے سے برہم ہوتی نورے بیگم سے استفسار کر رہی تھیں۔

“میں نے کیا کیا ہے “..؟

“بالکل عام سے لہجے میں کہا تھا ان نے کہ سکینہ بیگم نے نہایت ہی افسوس سے ان کی جانب دیکھا ۔

“نورے آج سے کئی سال پہلے تم جو میرے ساتھ کر چکی ہو اسے تو میں فراموش کر چکی ہوں مگر اب تم کسی معصوم کے ساتھ یہ نا انصافی کرو گی تو یہ بات میں ہر گز برداشت نہیں کروں گی ۔

“بہن تم جا کر اپنا کام کرو ، یوں دوپہر گئے میری جان نہ کھاو ، جاو یہاں سے “

نہایت کدورت و بدتمیزی سے کہتیں وہ اپنے بیڈ پر براجمان ہوئی تھیں ۔

“نورے وقت ہے اب بھی سدھر جاؤ ، یہ نا ہو وقت نکل جائے اور تم روتی بلکتی رہ جاؤ۔کسی معصوم کی ہائے نہ لو ۔

یہ بات تم بھی جانتی ہو سحر بے گناہ ہے کیوں اس کی زندگی میں زہر گھول رہی ہو”۔

“یہ دیکھ لو میرے جڑے ہوئے ہاتھ بخش دو بچی کو”

کہتے وہ کمرے سے جا چکی تھیں جب کہ نورے نے نخوت سے دروازے کو دیکھا جہاں سے وہ گئی تھیں پھر سر جھٹکے واپس لیٹ گئیں۔

©©©

کچھ گھنٹوں کے سفر کے بعد گاڑی ہسپتال کے گیٹ کے سامنے رکی تھی احمر نے رونے کا شغل فرماتی سحر کا ہاتھ تھام زبردستی گاڑی سے باہر نکالا ۔

“ا۔۔۔احمر ن۔۔نہ کریں پ۔۔پلیز خدا کا خوف کر لیں “

ایک آخری امید کے تحت وہ گڑگڑائی تھی کہ شائد اس کے دل میں کوئی نرم گوشہء پیدا ہو جائے لیکن وہ غلط تھی ایسا نا ممکن تھا البتہ احمر کے ہاتھ کا کرارا سا تھپڑ اس کے نازک گال کی زینت بنا تھا  ۔

ہسپتال کی پارکنگ میں موجود لوگ ،گارڈز سب ہی کی نظریں ان کی جانب مرکوز ہوئیں ، سحر کا سر اہانت و شرمندگی کی وجہ سے جھک سا گیا اس کا دل چاہا احمر کے ہاتھ میں موجود اپنا وہ ہاتھ نکال کہیں دور چلی جائے ۔جہاں کبھی اس ستمگر کا سایہ بھی اس تک نہ پہنچے ۔

“ڈاکٹر شاہین ہیں “..؟

ریسیپشنسٹ سے استفسار کیا تھا اپنے ازلی غرور و وجاہت سمیت

” سر ! ابھی میڈم کیبن میں نہیں ہیں وہ چھٹی پر گئی ہیں آپ کل رات میں آ جائیے گا “

وہ لڑکی ایک نظر احمر کے ساتھ سر جھکائے کھڑی سحر پر ڈالے بولی جس کے چہرے پر ایک اطمینان سا اترا تھا ۔

“ہنہہ”۔۔ وہ ہنکار بھرتے باہر کی جانب بڑھا۔

“ذیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ورنہ یہیں تمہاری چلتی سانسیں کھینچ لوں گا “

سحر کے چہرے پر چھایا وہ سکون اسکو غصہ دلا رہا تھا۔

“آ۔۔آپ آخر چاہتے کیا ہیں مجھ سے ، یہیں چلتی ٹریفک میں دھکا دے دیں اور کر دیں قصہ تمام اور۔۔۔۔”

اسکا ضبط بھی جواب دے گیا وہ  چلا اٹھی تھی لیکن اس کے لبوں کو قفل لگا جیسے ہی احمر نے اسکو روڈ کے بیچ دھکیلا ..

اسکی آنکھیں بند جب کہ سانسیں منجمد ہوئیں ۔۔۔

“ہاہاہاہا “…

احمر کا طنزیہ مزاق اڑاتا قہقہ جیسے ہی اسے اپنے کان کے پردوں سے ٹکراتا محسوس ہوا لرزتے ہوئے اپنی آنکھوں کو کھولا تھا سحر نے ،

خود کو یوں ہوا میں محلق پایا …

“کیا ہوا اب چلاؤ ، کہو نا کیا کہہ رہی تھیں “

سحر کا خوف سے زرد پڑتا چہرا دیکھ وہ نظریں ترچھی کیے پیچھے موجود ٹریفک کی جانب اشارہ کیے بولا ۔

“ڈارلنگ ! مجھے چیلنج  نہ کیا کرو ، محبت تو تم میری ہو نہیں اسلئے تمہیں اذیت دیتے ہوئے مجھے زرہ برابر بھی افسوس نہیں ہو گا “

کھینچ کر اسے سیدھا کیا تھا جس سے وہ سیدھا اس کے سینے سے آن ٹکرائی ، اور بے اختیار ہی اس کے لب سحر کے گال سے ٹکرائے وہ خوف سے ہولے ہولے لرز رہی تھی اس پر مقابل کے مسکراتے لہجے میں چھپا وہ سرد پن  سحر کو مزید وحشت میں مبتلا  کر رہا تھا ۔

©©©

“فاتح آج آفس سے جلدی گھر آیا  کیونکہ اسے میٹنگز کے سلسلے میں  پاکستان سے باہر جانا تھا تب ہی پشمینہ سے کہہ کر اپنا و اس کا ضروری سامان پیک کروایا ۔ وہ پشمینہ کو کچھ دن اس کے میکے چھوڑنے کا ارادہ رکھتا تھا ۔ اس کا دل تو نہیں تھا اس کو یوں تنہاہ چھوڑنے کا مگر ڈاکومنٹ مکمل نہ ہونے کی صورت میں اسے مجبوراً پشمینہ کو اس کے والد کی طرف چھوڑنے کا فیصلہ کرنا پڑا ۔

“بیگ پیک کر لیا ہے ، آپ ایک دفع چیک کر لیں کچھ اور تو نہیں رکھنا “

وہ نہایت نرمی سے کہتی فاتح سے مخاطب ہوئی جو کہ اپنے شو کی لیس باندھ رہا تھا “

“نہیں ! اٹس اوکے اب تم بھی آ جاؤ میں باہر انتظار کر رہا ہوں “

کہتے اپنا فون ، گاڑی کی چابی اور بیگ اٹھائے باہر کی سمت چل دیا۔

تھوڑی ہی دیر میں ان کی گاڑی بنگلے سے نکل کر ہواؤں سے باتیں کرنے لگی ۔ فاتح نے سفر کو خوبصورت بنانے کے لئے  ارمان ملک کا روح کو چھو لینے والا گانا لگا دیا تھا ۔

“ہوا ہے آج پہلی بار جو ایسے مسکرایا ہوں

تمہیں دیکھا تو جانا یہ کہ کیوں دنیا میں آیا ہوں “

“یہ جان لے کر کہ جاں میری تمہیں جینے میں آیا ہوں

میں تم سے عشق کرنے کی اجازت رب سے لایا ہوں “

فاتح نے پشمینہ کی جانب دیکھا  جو کہ اپنے ہاتھوں سے کھیلنے میں مصروف تھی وہ مسکرا دیا تھا بے اختیار اور ہاتھ بڑھائے اسکے دودھیا کلائی کو اپنی نرم گرفت میں لیا ، کچھ لمحوں کے لئے ان چوڑیوں کی جھنکار گاڑی کے خوبصورت ماحول میں گونجی تھی ۔

“جان دل تو نہیں کر رہا تمہیں یوں چھوڑ کر جانے کا مگر مجبوری ہے ۔

اچھا یہ بتاؤ مس کرو گی مجھے “..؟؟

دل میں ناجانے کیا سوجھی کہ وہ بے اختیار پوچھ بیٹھا تھا ۔

“پتہ نہیں “

بس یک لفظی جواب دیا گیا ۔

پشمینہ کے  یک لفظی جواب پر ایک نظر اس کی جانب دیکھ ، بے اختیار ہی اس کے ہاتھ پر ہلکی سی بائیٹ کر گیا جس پر وہ سسک اٹھی تھی ۔

“سسی”..

“یہ کیا حرکت ہے فاتح “…؟؟

اپنے ہاتھ پر بنے اس کے دانتوں کے نشان کو دیکھ وہ شکوہ کناں نظروں سے اسکی جانب دیکھتے بولی تھی اور ساتھ ہی اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے نکالنا چاہا ۔

“اب تو یاد رکھو گی “۔۔!!

اس کی نظروں میں دیکھ وہ مخمور سے لہجے میں گویا ہوا۔

“لوگ محبتوں کو یاد رکھتے ہیں ، احساس کو یاد رکھتے ، نفرت و درد میں دئیے گئے نشانات کو نہیں”۔

وہ نروٹھے پن سے بولتی فاتح کو بہت کیوٹ لگی ۔

“اس نے گاڑی سائڈ پر پارک کی اور جھٹکے سے اسکا رخ اپنی جانب کیا تھا اور بنا اسکو کچھ سمجھنے کا موقع دئیے اس کے لفظوں کو تالا لگا گیا تھا ۔ پشمینہ کی آنکھیں حیرت کی ذیاتی سے پوری کی پوری کھل چکی تھیں۔وہ گاڑی کے شیشے میں سے اپنا گھر دیکھ رہی تھی کیونکہ ان کی اسی نوک جھوک میں سفر طے پایا ۔ساتھ ہی اپنا آپ اس نے فاتح کی گرفت سے نکالنا چاہا تھا  لیکن وہ اس کے دونوں ہاتھوں کو بھی لاک لگا گیا۔

“آ۔۔۔آپ بالکل ب۔۔بے شرم ہیں “

اس سے آزاد ہوتے ہی وہ اپنی سانسوں و دھڑکنوں کو ہموار کئے بولی۔

“سوچا ویسے نہ صحیح ایسے تو یاد رکھو گی ہی تو ۔۔۔”

وہ آنکھ ونک کیے شرارت سے بولا تھا کہ وہ نظریں چرانے پر مجبور گئی۔جلدی سے اپنا بیگ تھام اندر کی جانب  بڑی وہ اتنی اسپیڈ سے اندر گئی تھی کہ فاتح کو خدا حافظ کہنا بھی یاد نہ رہا جبکہ اسکی بجلی کی سی رفتار دیکھ وہ پیچھے قہقہ لگاتا رہ گیا ۔

©©©

“کچھ  کھاؤ گی “..؟؟

گاڑی کو ریسٹورنٹ کے سامنے روکے احمر نے سحر سے استفسار کیا ۔

“ن۔۔نہیں !

کانپتی آواز میں انکار کیا تھا اس نے اپنا رخ باہر کی جانب کیا ۔

“جتنا پوچھا ہے اتنا جواب دو ذیادہ اوور اسمارٹ نہ بنو ، بتاؤ جلدی “

تنے ہوئے اعصاب  کے ساتھ اس نے سحر کے بازوؤں پر گرفت بڑھائے اس کو متوجہ کیا ۔

“م۔۔مجھے بھوک نہیں “

نظریں جھکائے وہ منمنائی۔

“بھاڑ میں جاؤ ، تم اس قابل ہی نہیں کہ تمہارے ساتھ رحم سے پیش آیا جائے “

کدورت بھرے لہجے میں کہتا وہ  اندر ریسٹورنٹ کی جانب بڑھا ،لیکن جاتے جاتے گاڑی کو لاک کرنا نہیں بھولا۔

“یا اللہ ! ایسی ذلت کی زندگی کیا صرف میری قسمت میں ہے یا میرے علاوہ  کوئی اور بھی ہے جو زندگی کے  ایسے کٹھن سفر پر ہے ۔

آسمان کی جانب دیکھے وہ خدا سے گویا ہوئی ساتھ ہی اپنی زندگی پر شکوہ کرنے میں مشغول تھی ۔

“پندرہ بیس منٹ کے وقفے کے  بعد وہ واپس لوٹا تھا ، اسکے ہاتھ میں کچھ باکس تھے جن میں شائد کچھ کھانے پینے کا سامان تھا جسے اس نے گاڑی کی بیک سیٹس پر رکھا اور گاڑی اسٹارٹ کی ، ساتھ ہی جیب سے سیگریٹ نکال کر جلائی جس کے گہرے گہرے کش لیتا شائد اپنی طلب مٹانے کی کوشش میں تھا۔

جاری ہے ⁦

ڈئیر ریڈرز اس ناول کے لئے میں نے بہت کچھ سوچ رکھا ہے اس کے ہر کردار کے ساتھ ایک الگ ہی تعلق ہے ۔ آپ کو سحر کے ظلم و ستم پر ناپسندیدگی ظاہر کر ہے ہیں ۔ تو میں یہ بتاتی چلوں اس کا اینڈ جو میں نے کرنا ہے آگے جا کر سحر کا جو روپ آپ لوگوں نے دیکھنا ہے اس کے لئے یہ سب بہت ضروری ہے ۔۔۔

 

 

Read loved story novels at this website Novelsnagri.com for more Online Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit this website and give your reviews. you can also visit our Facebook page.

1 thought on “loved story novels, wo rahat jaan hai iss darbadi mein Epi 11”

Leave a Comment

Your email address will not be published.