New best urdu afsanay, Web special afsanay ,

New best urdu afsanay, Web special afsanay ,

Read more urdu afsana aur afsana nigar ,Web special afsanay , New beest urdu afsanay & Online urdu Afsana at website Novelsnagri.com.

New best urdu afsanay, Web special afsanay ,
Read more urdu afsana aur afsana nigar , Web special afsanay , New best urdu afsanay.

افسانہ :وطن کا محافظ

رائٹر فائزہ شیخ

وطن کی محبت پر مبنی جنون خیز کہانی

میں ہانڈی بھون رہی تھی جب یوں لگا پیچھے سے شوہر نے آواز لگائی ہے میں بری طرح چونک گئی کیونکہ شوہر کا ایک ہفتہ پہلے ہی انتقال ہوا تھا۔ مرنے سے پہلے شوہر مجھ سے کہتے تھے کہ میں مرنے کے بعد بھی تمہار ساتھ رہونگا مجھے انکی یہ باتیں سمجھ نہیں آتی تھی ہانڈی بھون کر اپنا وہم سمجھتی میں روتے ہوئے کمرے میں چلی گئی لیکن اندر قدم رکھتے ہی جان نکل گئی کیونکہ شیشے پر لکھا تھا رو مت میں تمہارے ساتھ ہوں۔

اب ایسا روز ہونے لگا کہ مجھے ہر وقت محسوس ہوتا میرا شوہر میرے ساتھ ہے گھر کے باہر اک فقیر بیٹھا رہتا اک دن ڈر کے مارے اس فقیر کو گھر کے اندر بولا لیا اور اور جیسے ہی وہ گھر کے اندر داخل ہوا تو یہ دیکھ کر میری روح لرزگئی کہ اس فقیر کے پیچھے۔۔۔۔

میرا نام زارا ہے ہم لوگ اتنے امیر تو نہیں تھے مگر پھر بھی میرے بابا نے ہم سب بہن بھائیوں کو اچھی زندگی دی تھی انہوں نے محبت کر کے ہمارے سارے خواب پورے کئے تھے گھر میں زیادہ لوگ نہیں تھے ایک بھائی تھا اور ایک میں تھی اماں ابا تھے یہ تھی ہماری چھوٹی سی فیملی ہم ہر چھوٹی سی خوشی کو مناتے تھے..

بلکہ خوش ہونے کے لئے چھوٹی چھوٹی خوشیاں خود سے تلاش کرتے تھے اور یہ عادت ہمیں ابا سے ملی تھی ان کا کہنا تھا کہ زندگی اتنی بڑی نہیں ہے کہ اسے دکھوں کی نظر کر دیا جائے یہ تو اتنی چھوٹی ہے کہ ہم اپنی ساری خوشیاں بھی مشکل سے منا پائیں..

اس کے ختم ہونے تک اور یہی وہ بات تھی جس نے ہمارے ذہنوں میں کبھی منفی سوچ کو نہیں آنے دیا تھا اچھا ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اچھا سوچا جائے بہت سے لوگوں کی بہت ہی کم عمری میں انتہائی منفی ہوجاتی ہے….

قصور اس بچے کا نہیں ہوتا ماں باپ کا ہے جو اسے زندگی کا مقصد نہیں بتاتے اسے یہ نہیں بتاتے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے یہ نہیں بتاتے کہ خوشی ہمارے اندر ہوتی ہے اسے خود سے تلاش کرنا پڑتا ہے خوشی ان سب چھوٹے چھوٹے لمحوں میں موجود ہوتی ہے….

ہر اس پل میں جو ہم اپنے اپنوں کے ساتھ گزارتے ہیں بس سمجھنے کی بات ہے اگر سمجھ جائیں تو اصلی خوشی تک آسانی سے پہنچ سکتے ہیں اور اگر نہیں تو ساری زندگی اسی تلاش میں رہتے ہیں کہ اصلی مسکراہت کیسے لائی جاتی ہے چہرے پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بابا کوئی ایسا چھوٹا سا بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا کرتے تھے کہ جس سے گھر میں رونق ہو وہ میری اور بھائی کی سالگرہ ابھی تک بچپن کی طرح منایا کرتے تھے جبکہ اب ہم دونوں ہی بچے نہیں رہے تھے ہم بڑے ہوگئے تھے مگر ان کا کہنا تھا کہ….
ہم ابھی بھی ان کے لئے چھوٹے بچے ہی ہیں اولاد اپنے ماں باپ کے لئے ویسی ہی رہتی ہے پہلے دن جسیی معصوم اور ناسمجھ پھر چاہیے وہ کتنی ہی بڑی اور سمجھ دار بن جائے اس سے فرق نہیں پڑتا بھائی کی تعلیم پوری ہوگئی تھی….
اور اب تو ان کو ایک اچھی نوکری بھی مل گئی تھی میری پڑھائی ابھی جاری تھی ایک سال رہ گیا تھا امی کو اب بھائی کی شادی کا شوق ہوا تھا مگر بھائی کا کہنا تھا کہ پہلے میری شادی ہوگی پھر ہی وہ شادی کریں گے
یہ بھی ٹھیک تھا مگر مجھے ابھی ایسا کوئی شوق نہیں تھا اس لیے یہ بات ادھر ہی ختم ہوگئی تھی مگر امی نے اس بات کو یہاں ہی ختم نہی کیا تھا انہوں نے اپنا کام شروع کر دیا تھا اور رشتے دیکھنے لگی تھیں..
مجھے یاد تھا اس دن میری سالگرہ تھی جب بابا نے ہم سب کو گھر سے باہر لے کر جانے کا سوچا تھا انہوں نے پہلے ہی سب کچھ کر رکھا تھا میری سالگرہ کا سارا انتظام انہوں نے پہلے ہی کر لیا تھا
اور ہم لوگوں کو جانا تھا بابا نے سب کو جلدی جلدی تیار کیا تھا اور ہم سب اس جگہ پہنچ گئے تھے جہاں پر سارا انتظام ہوا تھا سب کچھ اچھا چل رہا تھا مگر کہیں نہ کہیں کچھ ایسا بھی تھا جو ٹھیک نہیں تھا مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی مسلسل مجھے ہی دیکھ رہا ہے مگر جب میں دیکھتی تو کوئی نہیں ہوتا تھا….
سب لوگ اپنے اپنے کاموں اور کھانے میں مصروف ہوتے تھے آج سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا تھا ہم بہت بار گھر سے اس طرح باہر نکلے تھے مگر کبھی ایسا نہیں ہوا تھا…
جیسا اج ہورہا تھا میں نے اپنا وہم سمجھ کر اسے نظر انداز کردیا تھا اور واپس سے اپنے کھانے پر دھیان دیا تھا مگر وہ احساس ابھی بھی بر قرار تھا کھانے سے فارغ ہوکر میں واش روم گئی تھی میں نے جیسے ہی وہاں جاکر دروازہ بند کیا تھا تو اچانک سے لائٹ بند ہوگئی تھی
ایسا کیسے ممکن تھا کہ اتنے بڑے ہوٹل میں ایسے اچانک سے لائٹ چلی جاتی مجھے ایسا لگا تھا جیسے میرے علاوہ بھی وہاں کوئی موجود تھا میں نے بنا سوچے سمجھے دروازہ کھولنا چاہا تھا مگر وہ کھل نہیں رہا تھا ایسا لگتا تھا جیسے کسی نے باہر سے بند کیا تھا مگر…..
ایسا کون کرے گا ایسا ممکن ہی نہیں تھا مجھے اپنے پیچھے کوئی محسوس ہورہا تھا مسلسل میں نے اپنی کوشش نہیں چھوڑی تھی دروازہ کھول لیا تھا اور وہ کھل گیا تھا میں نے نہیں دیکھا تھا کہ اندر کون تھا کون نہیں میں فورا سے باہر نکلی تھی ڈر اور پریشانی سے مجھے کافی پسینہ بھی آیا ہوا تھا باہر تو ہر جگہ لائٹ موجود تھی…
میں وہاں سے اپنا چہرہ صاف کر کے واپس اپنی جگہ پر آگئی تھی اب میرا اور یہاں پر روکنے کا کوئی دل نہیں تھا میں جلد از جلد یہاں سے جانا چاہتی تھی مگر سب لوگ خوش تھے ایسے اگر میں کچھ بھی کہتی تو وہ سب پریشان ہوجاتے اسی لئے میں خاموش رہی تھی اور کچھ نہیں کہا تھا کافی دیر ہوگئی تھی اور اب بابا کا کہنا تھا کہ واپس گھر چلنا چاہئے اس بات سے میری جان میں جان آئی تھی اور میں جو ذیادہ وقت باہر رہنے کا کہتی تھی…
آج سب سے ذیادہ خلدی مجھے ہی تھی گھر جانے کی ہم گھر آگئے تھے اور سب لوگ اپنے اپنے کمروں میں سونے کے لئے جاچکے تھے میں نے وہ بات کسی سے نہیں کہہ تھی گھر آکر بھی مجھے وہ بات بار بار یاد آرہی تھی کیا تھا تھا وہ اپنے کمرے میں چلی آئی تھی میں نے دروازہ بند کیا تھا باہر سے کوئی اندر نہیں آسکتا تھا اور جب میں اندر گئی تھی اس وقت پہلے سے کوئی اندر موجود بھی نہیں تھا….
تو وہ جو کوئی بھی تھا وہ کیسے اندر آیا تھا اور کون تھا سارے ہو ٹل ہی لائٹ تھی مگر وہاں کی کیسے چلی گئی تھی میں کافی دیر اسی بات کو سوچتی رہی تھی اور پھر اپنی سوچوں کا ایک طرف کرتی سونے کی کوشش کرنے لگی تھی….
جو بھی ہوا تھا ہوگیا تھا ہوسکتا تھا جیسا مجھے لگ رہا تھا ایسا کچھ نہ ہوتا میرا وہم بھی ہوسکتا ہے وہاں کون موجود ہوسکتا تھا ایسا کچھ نہیں تھا اس سارے واقعے کو اپنے وہم کا نام دے کر میں سوگئی تھی ساری حقیقت جانے بغیر ہی اور اس بات سے بھی انجان کے آگے کیا کیا ہوسکتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس سارے قصے کو ایک ہفتہ گزر گیا تھا اس کے بعد سے گھر میں کچھ نہ کچھ عجیب ہوتا تھا کسی چیز کا اس کی جگہ سے نہ ملنا مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی میرا نام پکار رہا ہو مگر گھر میں کوئی بھی مجھے……..
میرے اصل نام سے نہیں پکارتا تھا سب لوگ پیار سے مجھے کوئی گڑیا کہتا تھا تو کوئی کیا کہتا تھا میرا نام کم ہی لیا جاتا تھا تو پھر مجھے اپنا نام کیوں سنائی دیتا تھا کیا یہ بھی میرا وہم ہی تھا پتا نہیں کچھ دن گزرے تھے جب امی بابا کو کہیں جانا تھا کسی کی شادی تھی خاندان میں ہی اور وہ لوگ جانے کو تیار تھے مجھے بھی ساتھ چلنے کا کہا تھا مگر میرا جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا….
اس لیے میں نے ان کو جانے سے منع کردیا تھا پھر امی اور بابا کا دونوں کا ہی جانے کا ارادہ تھا بھائی تو اپنے کام سے گئے ہوئے تھے امی ابو بھی گھر سے چلے گئے تھے میں اس وقت گھر میں بلکل اکیلی تھی میں اپنے کمرے میں جاکر بیٹھ گئی تھی کچھ دیر وہیں بیٹھے رہنے کے بعد مجھے بھوک لگی تھی میں نے سوچا تھا کہ بھائی گھر آجائے تو اس کے ساتھ ہی کھانا کھا لوں گی…
مگر پھر سوچا کہ جانے وہ کس وقت گھر ائیں اور مجھے اس وقت کافی بھوک لگ رہی تھی اسی لئے میں نے کھانا کھانے کا سوچا اور کیچن میں چلی آئی تھی ابھی میں نے فریج سے کھانا نکال کر باہر رکھا تھا اور گرم کرنے لگی تھی..
جب مجھے ایسا لگا تھا جیسے کوئی میرے پیچھے سے گزارا تھا کون تھا کیا بھائی اگئے تھے میں نے فورا سے پیچھے مڑ کر دیکھا تھا مگر وہاں کوئی نہیں تھا اور پھر مجھے کیچن کی سائیڈ پر جو دروازہ تھا وہ چھت کی سیڑھیوں کا تھا اس کے کھلنے اور بند ہونے کی آواز بھی آئی تھی مطلب کوئی سچ میں یہاں سے گزرا تھا میں نے جاکر دیکھا تھا تو وہ دروازہ کھلا ہوا تھا چھت پر جانے کی میری ہمت نہیں ہورہی تھی کہ جاکر دیکھوں کہ کون تھا اسی لئے نیچے ہی کھڑی رہی تھی کوئی تو تھا اسی وقت بھائی گھر میں داخل ہوتے تھے میں نے ساری بات ان کو بتائی تھی…
انہوں نے فورا سے جاکر چھت پر دیکھا تھا تو وہاں دور دور تک کوئی نہیں تھا وہ نیچے آگئے تھے ان کا کہنا تھا کہ کوئی نہیں تھا اور ایسے کوئی گھر کے اندر نہیں اسکتا میرا وہم ہوگا یہ کیسا وہم تھا جو مجھے اس دن ہوٹل سے آنے کے بعد سے ہونے لگا تھا..
میری سمجھ سے باہر تھی یہ بات ان سب باتوں نے مجھے کافی پریشان کر دیا تھا میں کہاں جاتی کیا کرتی خیر جو ہوا میں اسے وہیں چھوڑ کر بھائی کے لیے کھانا گرم کرنے لگی تھی کیونکہ وہ ابھی آئے تھے گھر اور ان کو کھانا بھی تو کھانا ہی تھا میری بھوک تو اب بلکل مر چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میری پڑھائی پوری ہوچکی تھی اور اب اماں میری شادی کرنا چاہتی تھیں انہوں نے بہت سارے رشتے دیکھ رکھے تھے مگر میرا کوئی ارادہ نہیں تھا شادی کا مجھے ابھی اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارنی تھی مگر امی کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہوتا لڑکی کی شادی جتنی جلدی ہوجائے اچھا ہوتا ہے اور ایسا ان کی اماں یعنی کہ میری نانی کہا کرتی تھیں ایک رشتہ اماں کو پسند آگیا تھا لڑکا اچھا تھا دیکھنے میں بھی خوبصورت تھا اور اس کی نوکری بھی اچھی تھی اماں کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ میری جوڑی اچھی لگے گی…
اماں نے ہا کردی تھی وہ اکیلا رہتا تھا اس کے ماں باپ کا کچھ وقت پہلے ہی انتقال ہوا تھا اور یہ رشتہ اس کے تایا تائی نے کیا تھا امی کی مرضی تھی تو میں نے بھی ہاں کردی تھی انکار کی کوئی وجہ بنتی ہی نہیں تھی تو پھر کیا کرتی اور نہ ہی مجھے کوئی اور پسند تھا اس لئے میرا انکار کرنا بنتا نہیں تھا اس لئے امی کی مرضی پر میں بھی راضی تھی اور بابا بھی بھائی کو بھی لڑکا اچھا لگا تھا اور ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ میری شادی کردیں….
ان کو بھی کوئی جلدی نہیں لگ رہی تھی ان کا کہنا تھا جو ہورہا ہے اچھا ہے میں ان کو کہتی تھی کہ وہ اس لیے میری شادی کرونا چاہتے تھے تاکہ میرے بعد ان کی بھی شادی ہوجائے اسی لئے وہ ایسا کر رہے تھے وہ میری اس بات پر مسکرا دیتے اور ہاں کہہ دیتے تھے میں ان سے کہتی تھی کہ وہ فکر نہ کریں ان کی شادی میں ویسے ہی امی کو کہہ کر کرو دیتی ہوں میری آزادی کو ختم کروانا چاہتے ہیں جس پر وہ ہنستے تھے..
ان کا کہنا تھا کہ ایک لڑکی کا اصل گھر اس کا سسرال ہوتا ہے اور بہنیں اور بیٹیاں جتنی جلدی اپنے گھر کی ہوجایئں اتنا اچھا ہوتا ہے اسی لیے وہ میری شادی کرنا چاہتے تھے انہوں نے مجھے بہت پیار سے سمجایا تھا مجھے ان کی ساری باتیں مجھ آگئی تھیں اور میں خوش تھی اس رشتے اور اس شادی سے میرے گھر والوں نے جو بھی سوچا تھا اچھا ہی سوچا ہوگا…
یہی بات مجھے مطمئن رکھتی تھی شادی کی تاریخ رکھی دی گئی تھی اور امی کا کہنا تھا کہ اب میں گھر میں ہی رہوں وہ خود ہی بازار جایا کرتی تھیں اور سامان خرید کر لے آیا کرتی تھیں مجھے وہ اپنے ساتھ لے کر نہیں جایا کرتی تھی ان کا کہنا تھا کہ ان کے بزرگ کہا کرتے تھے…..
کہ جب شادی کی تاریخ رکھ دی جائے تو لڑکیاں گھر سے باہر نہیں جایا کرتیں مگر مجھے ایسا کچھ نہیں لگتا تھا کیونکہ میری سہیلیاں جایا کرتی تھی اور کبھی کچھ نہیں ہوا تھا میں نے ان سے کہا تھا کہ میں ان کے ساتھ چلوں گی مگر وہ میری بات نہیں سنتی تھیں کچھ سامان مجھے اپنی مرضی سے لینا تھا مگر ان کا کہنا تھا تھا….
کہ وہ شادی کے بعد مجھے دلا دیں گی مگر ابھی وہ مجھے اپنے ساتھ نہیں لے کر جارہی تھیں اسی لئے مجھے بابا کی مدد لینی پڑی تھی اور میں نے اس سے کہا تھا مجھے یقین تھا وہ ان سب باتوں کو نہیں مانتے ہونگے اور امی سے میری سفارش ایک وہی کرسکتے تھے اور ایسا ہی ہوا تھا..
میں نے بابا سے بات کی تھی اور انہوں نے مجھے جانے کی اجازت دے دی تھی امی کو اچھا تو نہیں لگا تھا مگر اب جب بابا نے اجازت دے دی تھی جانے کی تو ان کو مجھے ساتھ کے کر جانا ہی تھا اب وہ انکار نہیں کرسکتی تھیں ان کا کہنا تھا کہ میں نے ان کی بات نہیں مانی یہ غلط بات تھی مگر وہ مجھ سے کبھی ناراض نہیں ہوئی تھیں..
بس تھوڑی دیر کا ان کا غصہ ہوتا تھا اور پھر سب سہی ہوجاتا تھا ابھی بھی ایسا ہی ہوا تھا کچھ دیر ان کو برا لگا تھا اور پھر وہ ٹھیک ہوگئی تھیں اور مجھے سے ویسے ہی باتیں کرنے لگی تھیں جیسے پہلے وہ مجھے میری مرضی کی چیزیں دلانے اپنے ساتھ لے گئی تھیں مگر ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلی اور آخری بار تھا اس کے بعد وہ مجھے دوبارہ کہیں لے کر نہیں جائیں گی مجھے جو بھی لینا ہے اپنی مرضی کا آج کا ایک ہی دن تھا میرے پاس اور……
یہ ایک دن بھی میرے لئے کافی تھا کیونکہ مجھے ذیادہ کچھ لینا بھی نہیں تھا اس لئے مجھے ان کی بات سے کوئی اعتراض نہیں تھا سارا سامان میں نے خرید لیا تھا مجھے جو جو چاہئے تھا وہ میں نے ایک دن میں لے لیا تھا اور گھر واپس آگئی تھی…
شادی میں کچھ ہی دن باقی تھے امی نے ساری تیاری مکمل کر لی تھی جب میں سے میں گھر میں تھی تو وہ سب ٹھیک تھا مگر جس دن سے میں باہر سے ہوکر آئی تھی وہی سب کچھ دوبارہ ہورہا تھا نیند میں مجھے ایسا لگتا تھا کہ کوئی میرے کمرے میں موجود ہے مگر جاگنے پر کوئی بھی نہیں ہوتا تھا..
مجھے اب باقاعدہ ڈر لگنے لگا تھا اسی لئے میں اپنی امی کے پاس جاکر سونے لگی تھی تو کیا امی کی بات سچ تھی واقعی جنات پیچھے لگ جاتے ہیں مجھے ان کی بات ماننی چاہئے تھی اور گھر سے باہر نہیں جانا چاہئے تھا لیکن وہ سب کچھ تو میرے ساتھ میری شادی طے ہونے سے بھی پہلے کا ہورہا تھا…
میں نے سوچا تھا کہ اس گھر سے رخصت ہوجاوں گئ تو سب ٹھیک ہوجائے گا نئی زندگی نئی مصروفیت میں پرانی ساری باتیں بھول جاوں گی یہی سوچ کر میں خود کو تسلی دیتی تھی اور ان سب باتوں کو بھول جایا کرتی تھی شادی کا دن آگیا تھا
ساری رسمیں اچھے سے ہوگئی تھی اور میں اپنے گھر سے رخصت ہو کر دوسرے گھر آگئی تھی سسرال تھا میرا مگر سسرال جیسا یہاں کچھ نہیں تھا نہ کوئی نند تھی نہ کوئی ساس نہ سسر بس میں اور میرا شوہر ہی تھے
ان کے رشتے دار اور تایا تائی شادی کے آگے دن واپس اپنے گھر چلے گئے تھے وی دوسرے شہر میں رہتے تھے اور شادی کی وجہ سے یہاں آتے تھے میرا شوہر اپنی نوکری کی وجہ سے یہاں رہتا تھا اور اب مجھے اس کے ساتھ ہی رہنا تھا وہ جہاں بھی رہتا مجھے بھی اس کے ساتھ وہیں رہنا تھا..
میرا شوہر ایک پرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا تھا وہ لوگ کافی کام لیتے تھے اسی لئے وہ گھر دیر سے آتا تھا اس کے گھر سے جانے کے بعد میں باہر کا دروازہ اچھے سے بند کر کے بیٹھ جایا کرتی تھی میرا اس گھر میں دل نہیں لگتا تھا کیونکہ سارا دن میں اکیلی ہی گزارتی تھی امی کبھی کبھار آجایا کرتے تھیں مجھ سے ملنے وہ مجھے اپنے ساتھ چلنے کا بھی کہا کرتی تھیں مگر پھر اپنے شوہر کا خیال کرتے میں جانے کا ارادہ ختم کر دیتی تھی
کیونکہ میرے جانے سے وہ اکیلے رہ جاتے ان کو کھانا وغیرہ کھانے میں بھی پریشانی ہوتی کیونکہ گھر میں کوئی اور بھی موجود نہیں تھا جو کہ ان کے کام کر دیتا ایسے میں میرا جانا ٹھیک نہیں لگتا تھا اسی لیے میں امی کے ساتھ نہیں جاتی تھی…
اگر ملنے جاتی بھی تو شام تک گھر واپس آجایا کرتی تھی میرے شوہر بہت اچھے انسان تھے انہوں نے کبھی مجھے میرے گھر جانے سے نہیں روکا تھا…
بلکہ وہ تو مجھے جانے کا کہتے مگر میں ان کا خیال کرتے ہوئے انکار کر دیا کرتی تھی اور شاید یہی وجہ تھی کہ میں ان کو ذیادہ اچھی لگنے لگی تھی وہ ویسے بھی میرا کافی خیال رکھتے تھے مگر جب میں ان کا اتنا خیال کرتی….
تو وہ میرا اور بھی خیال کرتے تھے وقت نکال کر مجھے باہر بھی لے کر جایا کرتے تھے مگر گھر سے باہر ہم کم ہی جاتے تھے اس کی وجہ مجھے سمجھ نہیں آتی تھی گھر کے اندر ہی سب سامان لا کر ہم باہر جیسا ماحول بنا لیا کرتے تھے….
پوچھنے پر کہتے کہ باہر وہ مجھے اس لیے کم لے کر جاتے ہیں کہ کہیں مجھے کسی کی نظر نہ لگ جائے ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کے علاوہ کوئی اور بھی مجھے دیکھے یہی وجہ ہے کہ وہ مجھے باہر کہیں ذیادہ لے کر جانا پسند نہیں کرتے تھے مجھے کبھی کبھی لگتا تھا وہ مذاق کرتے ہیں…
مگر وہ سچ میں مجھے گھر سے باہر ذیادہ لے کر نہیں جاتے تھے مجھے شروع شروع عجیب لگتا تھا مگر پھر آہستہ آہستہ مجھے عادت ہوگئی تھی…
اور میں ان سے اب کوئی سوال نہیں کرتی تھی وہ آوازیں مجھے اب سنائی نہ دیتی تھیں میں بھی ان سب باتوں کو اب بھول چکی تھی میں اپنے شوہر کے ساتھ خوش تھی ہم ایک اچھی اور ہر سکون زندگی گزار رہے تھے ہماری شادی کوئی محبت کی شادی نہیں تھی مگر ساتھ رہنے سے اور جو ہمارا رشتہ تھا…
ہمیں ایک دوسرے سے محبت ہوگئی تھی یہ رشتہ ہوتا ہی ایسا ہے محبت نہ بھی ہو تو ہوجاتی ہے اور ایسا ہی ہوا تھا مجھے آج اندازہ ہوا تھا کہ ماں باپ اپنی اولاد کے لیے کبھی کوئی غلط فیصلہ نہیں کرتے میرے امی ابو نے بھی میرے لئے ایک اچھا فیصلہ کیا تھا اور اب مجھے ان کے فیصلے کی اور اس رشتے کی قدر اچھے سے معلوم ہوگئی تھی….
ہماری شادی کو دس ماہ گزر گئے تھے ہم دونوں ایک ساتھ بہت خوش تھے کہ جب ہماری ساری خوشیاں ختم ہوگئی تھیں جیسے ہماری خوشیوں کی کسی کی بری نظر لگ گئی تھی میرے شوہر اپنا کام ختم کر کے دفتر سے گھر آرہے تھے…
جب ان کا ایک خطرناک حادثہ ہوا تھا اور وہ اپنی جان سے چلے گئے تھے حادثہ ایسا تھا کہ ان کو پہچانا بھی مشکل تھا مگر کپڑوں اور باقی سامان سے ان کی شناخت ہوگئی تھی وہ میرے شوہر ہی تھے جو مجھے اکیلا چھوڑ کر جاچکے تھے…
یہ میرے لئے بہت بڑا صدمہ تھا مجھے اس سے نکلنے میں وقت لگنا تھا کتنا وقت یہ مجھے خود بھی معلوم نہیں تھا امی اور ابا مجھے اپنے ساتھ لے کر جانا چاہتے تھے مگر میں نے جانے سے انکار کر دیا تھا مجھے اسی گھر میں رہنا تھا…
جو میرے شوہر کا تھا امی کچھ دن میرے پاس رہی تھیں اور پھر وہ گھر واپس چلی گئی تھیں وہ کبھی آجایا کرتی تھی کبھی چلی جایا کرتی تھیں ان کے ہونے سے مجھے حوصلہ رہتا تھا کہ وہ میرے پاس ہی ہیں میرے شوہر کے انتقال کو ایک ہفتہ ہوچکا تھا…..

Read more urdu afsana aur afsana nigar , Web special afsanay ,best urdu afsanay & Online urdu Afsana at this website Novelsnagri.com for more Online Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit our facebook page kindly.

Leave a Comment

Your email address will not be published.