Web Special urdu afsanay, New best urdu afsanay,

New best urdu afsanay,

Web Special urdu afsanay, best urdu afsanay ,

Web Special urdu afsanay

New best online afsanay 

میرا ایک چھوٹا سا ہوٹل تھا وہاں روز ایک بوڑھا آدمی آتا اور کھانے کی ساری دیگیں خرید جاتا اور کہتا میرے گھر لڑکی پیدا ہوئی ہے۔ میں بھی خوش ہوگیا اور دعا دی کیونکہ میری خود چھے بیٹیاں تھیں۔ لیکن جیسے ہی گھر گیا تو میری بیٹی نہیں تھی میں اسے ڈھونڈتا رہ گیا۔ رو دھو کر جب واپس کام پر بیٹھا تو وہ بزرگ پھر آیا اور کہا بیٹی ہوئی ہے اور سارا کھانا خرید لے گیا جب میں کام سے گھر گیا تو میری ایک اور بیٹی نہیں تھی اب یہی ہوتا جب وہ بزرگ کھانا لے جاتا میری بیٹی موجود نہیں ہوتی اسی لیے جب اس بار بزرگ آئے تو کھانے کی دیگ میں خود بیٹھ کر چلا گیا اور جیسے ہی اس بزرگ کے گھر پہنچا اور باہر نکل کر دیکھا تو رونگٹے کھڑے ہوگئے کیونکہ وہاں تو میری۔۔۔

میرا نام دلشیر ابراہیم ہے ۔ میرا تعلق ایک بڑے شہر کے چھوٹے سے گھرانے سے ہے ۔ ایک لاہور شہر کا رہنے والا اپنے محلے کا مشہور شیف جسے اکثر لوگ نائی بھی کہتے ہیں ۔ میں صرف دس سال کا تھا جب میرے والد کی وفات ہو گئ ۔ میں چونکہ گھر کا بڑا بیٹا تھا تو میرے کندھوں پر ساری زمہ داری آ گئی ۔ ہم پانچ بہن بھائی تھے اور تین بہنیں اور دو بھائی ۔ مجھے اتنی سی عمر میں سکول چھوڑ کر کام وغیرہ کرنا پڑا تا کہ میرا گھر چل سکے ۔ مجھے اپنے گھر والوں کو سنبھالنا نہیں آ رہا تھا کیونکہ میں اپنی زمہ داریوں کے حساب سے بہت چھوٹا تھا میں تو ایک پسندیدہ اور ناز و لاڈ اٹھانے والا بیٹا تھا ۔ میرے ابا کے بعد مجھے زمانے نے بہت بڑا کر دیا ۔

ان سب حالات میں مجھے اللّٰه نے ایک خاص ہنر سے نوازا تھا ۔ مجھے کھانا بنانے میں بچپن سے شوق تھا میں اکثر امی کے ہاس بیٹھ جاتا اقر انہیں بڑے دھیان سے کھانا بناتے دیکھتا ۔ نجانے کیوں میرا دھیان اس طرف بہت رہتا ۔
ابا کے بعد میں نے اور امی نے سوچا کہ گھر کے باہر کھانے یا ناشتے کا چھوٹا سا سٹال لگا لیں تا کہ زیادہ نا سہی کچھ نا کچھ تو گھر کیلیے ہی سے بنے ۔ میں اور میری امی نے صبح کیلیے ناشتے کا سٹال لگایا اور دوپہر کیلیے کھانے کا ۔ اس دوران میں اپنی امی کی ہر حرکت دیکھتا کہ وہ کس طرح کس کھانے کو بنا رہی ہیں ۔
کس مصالحے کو پہلے ڈالنا ہے کس کو بعد میں اور قدرتی طور پر وہ میرے دماغ میں جیسے نقش ہونے لگ جاتا ۔ وقت گزرتا گیا اور زیادہ نا سہی ہمارے گھر کا خرچہ پانی چل پڑا ۔ ہم سب بڑے ہو رہے تھے ۔
میں نے ان خرچوں اور آمدنی سے اپنے بہن بھائیوں کو پڑھایا ۔ میری امی کے بڑھاپے کی عمر آ گئ تھی اور انہیں شوگر کی شکایت ہو گئی میں انہیں یہی کہتا کہ ٹینشن نا لیں مگر وہ بہت فکرمند رہتی تھیں اور اسی پریشانیوں نے انہیں اس بیماری میں الجھا دیا ۔
میرے پر ایک بار پھر بہت محنت والی زمہ داری پڑ گئی ۔ میں امی کے ساتھ ناشتہ اور کھانا بھی لگانے لگا اور ساتھ میں رات کے وقت ایک ہوٹل میں ویٹر کی نوکری کرنے لگ گیا ۔ بہن بھائیوں کا خرچہ اور امی کی دوائیوں کا خرچہ اسی دوہری مشقت سے کٹا ۔
یہ وقت بھی گزرا اور میری امی کا ساتھ ہمارے ساتھ نا رہا وہ اس تکلیف سے لڑتے لڑتے ایک دن دارِ فانی سے کوچ کر گئیں ۔ میں نے خود کو سنبھالا ۔ ایک بار پھر سے کمر باندھنے کا وقت آ گیا تھا ۔ میرے بہن بھائیوں کی شادیاں میرے سر پر تھیں ۔
میں نے ناشتہ اور کھانے کا سٹال بند نہیں کیا امی کے ساتھ رہتے اور انہیں دیکھتے ہوئے میں کافی ماہر ہو گیا تھا ۔ میں اب نئے نئے کھانے بنانے لگ گیا تھا ۔ میرا ہاتھ کھانے میں سیٹ ہو گیا تھا ۔ اور میرے سٹال سے ناشتہ اور کھانا بہت جلدی بک جاتا تھا ۔ مگر میرے سر پر میرے بہن بھائیوں کی زمہ داری تھی ۔
میں نے تنکہ تنکہ کر کے پیسے جوڑے ۔ یہ میرے خون پسینہ کی کمائی تھی جو میں جوڑ رہا تھا ۔ بخار ہو گرمی ہو سردی ہو میں ہمیشہ خود کو مضبوط رکھتا کیونکہ مجھے اپنے بہن بھائی اور اپنے گھر کی زمہ داری نظر آ رہی تھی ۔

 

میرے اللّٰه نے عزت رکھی میری مزید وقت گزرا اور میں نے اپنے بہن بھائیوں کی شادی کی ۔ اور اچھے گھروں میں کی ۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب سیرتیں دیکھی جاتی تھیں سورتیں یا گھر بار نہیں دیکھا جاتا تھا ۔ یہی کرم تھا رب کا جس نے میری عزت رکھی اور میرے بہن بھائیوں کی شادی ہو گئیں ۔
اب پیچھے رہ گیا میں جس نے کبھی اپنے بارے میں سوچا ہی نہیں ۔
دوسروں کے بارے میں سوچا ۔ اب میری عمر 27 سال ہو گئی تھی ۔ ہر روز کی طرح میں صبح ناشتہ لگانے کیلیے اپنے گھر کے باہر آیا اور ناشتہ لگانے لگا ۔ سٹال لگایا ہر چیز سیٹ کی ۔ اس دن ایک لڑکی تقریباً بائیس تئیس سال کی میرے سٹال پر آئی اور مجھسے کچھ نا خریدا بلکہ مجھے بس دیکھنے لگی ۔
میں مے اا سے دو تین مرتبہ پوچھا کہ اسے کیا چاہیے کیا خریدنا ہے مگر اس مے میری ایک بھی سوال کا جواب نا دیا بس خاموشی سے مجھے دیکھتی رہی ۔ وہ حسین لڑکی تھی لیکن دوپٹے سے چہرہ چھپا رہی تھی ۔ میرے پاس اقر گاہک آنے لگ گئے میں ان کی طرف متوجہ ہو گیا ۔ وہ لڑکی مجھے مصروف پا کر واپس پلٹ گئی ۔ یہ کافی عجیب بات تھی میں حیران تو ہوا مگر فلحال مجھے اپنی روزی روٹی کی فکر تھی ۔ اور میری کمائی بھی بہت اچھی ہوئی معمول سے ہٹ کر میرے آج پیسے زیادہ جمع ہوئے ۔ مجھے بے حد خوشی ہوئی میں نے اپنے رب کا شکر ادا کیا ۔
اگلے دن جب میں نے سٹال باہر لگایا تو پھر وہی لڑکی میرے سٹال کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی اور اسی طرح خاموش تھی ۔ مجھے الجھن ہوئی اور تھوڑی پریشانی بھی کیونکہ اس کا ایسے کھڑا ہونا میرے متعلق کوئی بری بات پھیلا سکتا تھا ۔ میں نے اس بار بھی اس سے پوچھنا چاہا کہ وہ کیا لینے آئی ہے ۔
مگر وہ خاموش رہی بس سٹال کی سائیڈ پر کھڑی رہی ۔ اپنے چہرے کو اسی طرح چھپائے ۔ لیکن وہ گاہے بگاہے مجھے ترچھی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی ۔ میں نے اس سے اب سوال نا کیا اور اپنے آنے والے گاہکوں کی طرف دھیان دینا شروع کر دیا ۔ جس طرح کل وہ میے مصروف ہونے پر چلی گئی تھی آج بھی اسی طرح میرے مصروف ہونے پر وہ چلی گئی ۔ مجھے بہت عجیب لگا ۔ میرے دل میں وہم سے آنے لگ گئے جیسے کسی ایسے مقصد کیلیے نا آئی ہو میرے پاس جو مجھے کای مصیبت میں مبتلا کر دے ۔ میں نے سب گاہکوں کو دیکھا اور سٹال واپس اندر گھر لے گیا ۔
مہری آج کی کمائی بھی بہت اچھی ہوئی ۔ کل کی نسبت آج بھی میری کمائی میں بہت منافہ ہوا ۔ مجھے بے حد سکون اور خوشی ملی ۔ لیکن اس کے باوجود میرا دھیان اس لڑکی کی طرف رہا ۔ میرے دماغ میں اس کے بارے میں عجیب عجیب خیال آنے لگے ۔ میں الٹا سیدھا سوچنے لگا ۔ میں نے سوچا کہ اگر وہ کل آئے گی تو میں اس سے پوچھ کر رہوں گا کہ اس کے آنے کا مقصد کیا ہے ۔ میں نے دماغ میں سوچ لیا ۔
اگلے دن میں نے سٹال لگایا اور ہر چیز سیٹ کی ۔ اب میں انتظار میں تھا کہ وہ آئے اور میں پوچھوں اس سے ۔ وہ لڑکی آج تیسرے دن مہرے سٹال پر آئی ۔ اس بار اس کے چہرے پر سے نقاب ہلکا سا ہٹاا ہوا تھا اور اس کی خوبصورت آنکھیں واضح ہو رہی تھی ہاں یہ سچ ہے کہ میں زندگی میں پہلی بار کسی کی آنکھوں سے متاثر ہوا تھا ۔ جو ایک نہایت حیرت والی بات تھی میرے لیے ۔ میں نے خود کو سنبھالا تا کہ اس کی آنکھوں پر میرا دھیان نا جائے ۔ میرے گاہک آنا شروع ہو چکے تھے مجھے ان کی بھی فکر تھی اور ذہن میں یہ بات بھی گردش کر رہی تھی کہ مجھے اس سے آج اس کے آنے کے بارے میں سوال کرنا ہے ۔ میں نے اسے صاف کہا کہ وہ جائے نہیں بلکہ میرا انتظار کرے ۔
اس لڑکی نے کوئی ایسے تعجب یا ڈرنے والے تاثرات نہیں دیے جو میں سوچ رہا تھا کہ جب میں روکوں گا تو وہ میری بات سن کر پریشان ہو گی مگر ایسا تو ہوا ہی نہیں ۔ اس نے میرے دل میں اقر الٹے سیدھے خیال لانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ میں نے جلدی جلدی اپنے گاہکوں کو دیکھا پیسے سنبھالے۔ اا سب کے دوران میں اسے بھی دیکھتا رہا تھا کہ کہیں وہ چلی تو نہیں گئ لیکن وہ میری ہر نظر پر اپنی جگہ قائم کھڑی نظر آتی ۔ میرى کمائی آج کل سے بھی دوگنی ہوئی تھی ۔
کتنی حیرت کی بات تھی دن بدن کمائی میں اضافہ ہونا لیکن میں اسے فقط اللّٰه کا کرم سمجھ رہا تھا ۔ میں نے پیسوں کو سنبھالا اور اس کے سامنے کھرا ہوا ۔ میں نے اس سے پوچھا کہ آخر وہ کیوں میرے گھر کے باہر میرے سٹال پر ایسے تین دن سے کھڑی ہوتی ہے؟ اس کا مقصد کیا یے اور اس کے کیا ارادے ہیں ۔ میں منتظر تھا کہ وہ بولے ۔ لیکن وہ میرے سوال پر خاموش تھی ۔
اا کی آنکھیں جھک گئیں تھیں ۔ میں نے پھر سے سوال دوہرایہ میرے لیے یہ ایک خطرے والی بات تھی کہ محلے میں مہری عزت تھی اور اگر وہ ایسے ہی روز روز کھڑے ہوتی تو مجھ پر سوال ہو سکتا تھا کہ شائد یہ کسی لڑکی کے ساتھ بات چیت کرتا ہے اور ایسی باتیں میرے لیے نا قابلِ برداشت تھی ۔ آخر کون ایسا شخص چاہے گا کہ اس کی عزت اور اس کے کردار پر انگلی اٹھائی جائے میں تو نہیں کیونکہ ساری عمر میں نے عزت ہی تو کمائی تھی ۔
میں نے تیسری بار اس سے پوچھا اور اس بار کیعا لہجہ تیز تها سخت الجھن زدہ ۔ مجھے الجھن ہی ہو رہی تھی کہ وہ بول کیوں نہیں رہی ۔ میرے غصہ کرنے پر اس نے اپنی آنکھیں اٹھائیں اور جو الفاظ اس نے ادا کیے اس نے مجھے اپنی جگہ منجمد کر دیا ۔ اس نے مجھ سے محبت کا دعویٰ کیا ۔ اس نے کہا کہ وہ مجھسے محبت کرتی ہے اور شادی کرنا چاہتی ہے ۔ میرى حیرت سے آنکھیں کھل گئیں ۔
مجھے یہی سمجھ نا آیا کہ اس بات کا جواب کیا دوں ۔ میں تو اسے جانتا بھی نہیں تھا اور وہ میرے بارے میں کیا بول رہی تھی ۔ محبت ؟ مجھ سے ؟ کیسے ہو سکتا ہے ؟ میں نے اسے جواب نا دیا اور تیزی سے اپنے سٹال کر سمیٹا اور اپنے گھر کے اندر لے گیا ۔ گھر میں داخل ہو کر مجھے محسوس ہوا کہ میری سانس بہت تیز ہو گئی ہے اقر دل بھی بری طرح سے دھڑک رہا ہے ۔ یہ حالت زندگی میں پہلی بار ہوئی تھی ۔ عجیب سا خوف میرے اندر محسوس ہو رہا تھا میں تیزی سے کچن میں گیا اور میں نے دو گلاس بھر بھر کے پانی کے پیے حالانکہ یہ حالت میری نہیں ہونی چاہیے تھی لیکن یہ میرے ساتھ ہو رہا تھا ۔ میں نے اس دن کھانے کا سٹال نا لگایا ۔
مجھے خوف تھا کہ کہیں وہ پھر سے نا آ جائے اور مجھسے محبت کا دعویٰ نا کرے ۔ ایسی حالت آج کے دور میں کس کی ہوتی ہے ! کسی کی بھی نہیں بلکہ اب تو ہر پسند کو محبت کا نام دیا جاتا ہے اور پل پل میں محبتیں بدلی بھی جاتی ہیں ۔ خیر میں صبح سے لے کر اگلی صبح تک پریشان رہا ۔ نا ہی میرے گھر کوئی ایسا تھا جس سے یہ بات شئیر کرتا اقر کوئی اچھا مشورہ حاصل کرتا اور نا ہی یہ دماغ میں آ رہی تھی کہ میں کسی باہر کسی اعتماد والے محلہ دار سے بات کروں مجھے اس کی عزت کی اس پریشان کن صورتِ حال میں بھی تھی ۔ بیٹیاں کب کسی لڑکے سے محبت کا دعویٰ کرتی تھیں ۔
اگلی صبح میں نے نماز پڑھی اور اللّٰه اے ہمت مانگی اور اس لڑکی کی دوبارہ نا نظر آنے کی دعا کی ۔ میں نے معمول کے مطابق سٹال لگانے کیلیے باہر آیا تو کیرا جسم ٹھنڈا ہو گیا کیونکہ وہ اس جگہ درخت کے سائے میں گھٹنوں کے بل بیٹھی بازووں کو ارد گرد لپیٹے اس پر سر رکھے سو رہی تھی جہاں میں سٹال لگاتا تھا ۔ میرے جسم میں جیسے جان باقی نا رہی تھی یعنی کیا وہ سارا دن اقر ساری رات ادھر ہی رہی ؟ یا صبح صبح آئی ؟ لیلن کیا مقصد ہے اس کا ! میں نے بڑے دھیان سے سٹال کو سائیڈ پر لگایا اور اسے ڈرتے ڈرتے مخاطب کیا ۔
وہ سچ میں سو رہی تھی تبھی پہلی آواز میں اٹھی نہیں ۔ میں نے اس پھر سے پکارا میری آواز لرز رہی تھی ۔ وہ اس بار بھی نا اٹھی ۔ میں نے اب کی بار ہمت جمع کر کے اونچی آواز سے پکارا تو وہ ہربڑا کر اٹھی ۔ اس طرح سے اس کا دوپٹہ سر سے سرک گیا اور براؤن رنگ کے چمکتے بال نظروں کے سامنے آئے ۔ اور میری محویت کا سامان بن گئے اس سے بھی بڑی بات یہ ہو گئی کہ اس کے چہرے پر بھی نقاب نا رہا وہ حسین تھی مجھے ایسا لگتا تھا لیکن وہ سچ میں بے حد حسین تھی اس کا اندازا مجھے اب ہوا تھا ۔ میں نے خود کو سنبھالا اور کچھ فاصلے پر کھڑا ہو گیا ۔ مجھ پر جب اس کی نظر پڑی تو تیزی سے دوپٹہ لیا اور میرے سامنے چہرہ چھپا کر کھڑی ہو گئی ۔
میں نے جب اس اس بارے میں دریافت کیا کہ آخر قہ کیوں ایسے بیٹھی سو رہی تھی تو اس نے بتایا کہ میں اس کا جواب دیے بنا جو اندر چلا گیا تھا اور وہ میرے انتظار میں وہیں رہی تھی اور ایسے ہی رات گزر گئی ۔ مجھے کافی حیرانی ہوئی ۔ میرے ہاس تو الفاظ ہی جیسے نہیں تهے ۔ میں نے بڑے تحمل انداز سے کہا کہ میں تو تمہیں جانتا ہی نہیں ہوں نا پہچانتا ہوں میں کیسے تم سے محبت کر سکتا ہوں ۔ اور شادی کیسے ممکن ہے یہ نا ممکن بات ہے اور ویسے بھی میرا ایسا ارادہ نہیں ۔ میرے ایسے جواب دینے سے وہ مرجھائے چہرے سے مجھے دیکھتی رہی ۔ اقر خاموش رہی ایک بھی الفظ اپنے لیے نہیں کہا ۔
میں اس کے جواب کا منتظر تھا مگر اس نے کوئی بات کی ہی نہیں اور اس جگہ سے چلی گئی ۔ مجھے دکھ ہوا کہ شائد میں نے اس کا دل توڑا ہے اسے تکلیف دی یے لیکن میں ایسے کیسے اس سے شادی کر لیتا ۔ خیر وہ گئی مجھے لگا اب شائد نہیں لوٹے گی اور پلٹ کر نہیں دیکھے گی ۔ میں خود کو اس ک ٹینشن سے آزاد کرتا اپنے سٹال کی طرف آیا اپنے معمول پر کام کرنے لگا ۔ لیکن آج جب گاہک چلے گئے تو میری آمدنی اتنی زیادہ نا ہوئی جیسے پرسسو اقر کل ہوئی تھی ۔ کافی حیرت کی بات تھی لیکن میں نے اس پر بھی شکر کیا کہ اللّٰه کی مرضی جتنا چاہے عطا کرے ۔
تین چار دن میرے سکون سے گزرے کہ اب کوئی مسئلہ نہیں تھا ۔ نا وہ لڑکی تھی نا ہی اس کا ڈر ۔ لہکن فقط میری سوچ تک ۔ پانچویں دن میرے گھر پر دو تین لوگ آیے جو کیتے مجلے کے عزتدار لوگ تھے جن کی میں بے حد عزت کرتا تھا ۔ انہوں نے مجھے کہا کہ وہ میری شادی کرنا چاہتے ہیں م میں ہنس دیا کہ میرے لیے فکر مند ہیں ۔ میں انکار کرتا رہا لہکن انہوں نے میری نا سنی اور میری شادی کی ٹھان لی ۔ انہوں نے میری شادی کیلیے لڑکی تک ڈھونڈ رکھی تھی ۔ اور مجھے علم نہیں تها ۔ ان کے بار بار اصرار پر میں نے حامی بھر لی ۔ تق انہوں نے میرا نکاح سادگی سے کروا دیا ۔
نکاح کے وقت مجھے اس لڑکی کی یاد آئی جو میرے سٹال پر آتی تھی لیکن خیر یہی میرا اقر اس کا نصیب تھا میرا نکاح ہو گیا میں نے لڑکی نہیں دیکھی تھی کیونکہ یہ اس دور کی بات ہے جب بڑے بزرگ رشتہ کرتے تھے اور بچوں سے ان کی مرضی نہیں پوچھی جاتی تھی ۔ خیر میں اپنے کمرے میں جب گیا تو میری حیتے سے آنکھیں کھل گئیں کیونکہ وہی سٹال والی لڑکی میرے سامنے دلہن بنی بیٹھی تھی مجھے لگا کہ میری نظر کا دھوکہ ہے مگر ایسا نا تھا وہ سچ میں تھی ۔
میں نے اس اس سب بارے میں پوچھا تو فقط اس نے یہ کہا:
کہ محبت کے حادثوں کا مقصد انسان کو مزید مضبوط بنانا ہوتا ہے نہ کہ یہ کہ وہ مسکرانا ہی بھول جاۓ ۔ کبھی کبھی انسان کو مسکرا لیناچاہیے ۔ ورنہ مسکراہٹ اجنبی ہو جاتی ہے اور اس اجنبیت اور شناسائی کے کھیل میں انسان خود کو کھونے لگتا ہے۔ میں نے اس سے اصل وجہ جاننی چاہی مگر اس نے بس یہ کہا کہ ایسے ہی ملن لکھا تھا ۔ میں نے بھی یہ مان لیا کہ ہاں ایسے ہی میری قسمت میں لکھا تھا ۔
مجھے اللّٰه نے ایک نیک بیوی دی تھی جس سے مجھے بہت عزت ملی ۔ میری آمدنی اتنی بڑھ گئی کہ میں نے دنوں میں ایک چھوٹا سا ہوٹل بنا لیا ۔ میرے گھر اللّٰه نے چھے رحمتیں اتاریں یعنی مجھے چھے بیٹیوں کی رحمت سے نوازا ۔ دو میری جڑواں بیٹیاں تھیں اور باقی ایسے ہی ایک ایک ۔ مجھے اپنی بیٹیوں سے بے حد محبت تھی ۔ کیونکہ اللّٰه نے مجھے ان کا رکھوالا بنایا تھا اور ان کی خاطر ہی تو میری آمدنی کے ذریعے ان کی روزی لگا دی تھی بے شک اللّٰه بڑا بے نیاز ہے اور سب سے بڑا رازق ۔
ایک دن میرے ہوٹل پر ایک بزرگ آدمی آیا ۔ اور اس نے کہا کہ وہ میرے ہوٹل کی آج ساری دیگیں خرہد لے گا کیونکہ اس کے گھر اللّٰه نے بہت دیر بعد بیٹی دی ہے ۔ میں بے حد خوش ہوا اور اسے مبارکباد دی ۔ مجھے خوشی ہوی تهی کہ آخر میری بھی تو چھے بیٹیاں تھیں ۔ میں نے اسے دعا دی اور کچھ پیسے کم لیے اور دیگیں اسے سے دیں ۔ میں جب گھر شام کو لوٹا تو میری بیوی پریشان رقتی ہوئی میرے سامنے آئی ۔ جب میں نے وجہ دریافت کی تو علم ہوا کہ میری بیٹی جو سب سے بڑی ہے وہ گھر میں نہیں ہے ۔ میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ۔
میں نے سارے گھر کو دیکھا مگر مجھے وہ نا ملی میں باہر گیا اور پورا محلہ دیکھا مگر مجھے میری بیٹی نا ملی ۔ میں روتا ہوا گھر واپس آ گیا ۔ میری بیوی اور میں بے حد پریشان تھے ۔ میں نے اپنے رب سے دعا کی کہ وہ میری بیٹی کو سلامت رکھے ۔ کیونکہ بیٹیاں تو رحمت ہوتی ہیں اور میں کیاے سکھی رہتا اگر میری بیٹی موجود نا ہوتی ۔ میں نے بہت صبح تک ڈھونڈا مگر نا ملی ۔ میں آخر رو دھو کر واپس اپنے کام پر گیا ہوٹل گیا یہ بھی ضروری تھا میری بیٹیاں باقی موجود تھیِ ان کیلیے کرنا تھا ۔ میں ہوٹل کے کاموں میں خود کو مصروف کرنے لگا۔
کچھ دنوں بعد پھر سے وہی بزرگ آیا اور مجھسے ساری دیگیں خریدنے کا مطالبہ کیا ۔ اقر یہ کہا کہ میری بیٹی ہوئ ہے ۔ مجھے عجیب تو لگا کہ کچھ دن پہلے بھی ایک بیٹی ہوئی تھی ۔ خیر میں نے سوال نا کیا اور اسے دیگیں دے دیں اور پیسے لے لیے ۔ وہ دیگیں اور کھانا خرید کر چلا گیا ۔ میں پیسوں کا حساب لگایا تو میری آمدنی زیادہ تھی ۔ مجھے اس پل اپنی کھوئی ہوئی بیٹی یاد آئی اور میں رنجیدہ ہو گیا ۔ میں نے پھر خود کو سنبھالا اور گھر کیلیے روانہ ہوا ۔ گھر جب پہنچا تو میری بیوی بری طرح رو رہی تھی وہ بے حد پریشان تھی ۔
اس سے جب رونے کی وجہ دریافت کی تو علم ہوا کہ میری ایک اور بیٹی گھر میں نہیں ہے ۔ مجھے یوں لگا جیسے کسی نے پہاڑ میرے سر پر گرا دیا ہو ۔ میری یعنی ایک اور بیٹی گھر میں موجود نہیں ۔ میں نے پھر سے گھر کا کونہ کونہ چھان مارا مگر کوئی بھی جگہ ایسی نا ملی جہاں میری بیٹی ہو ۔ میں روتا ہوا صحن کے وسط میں آ گیا میری دوسری بیٹیاں پریشان ہو گئیں ۔
میری بیوی نے مجھے سہارا دیا کہ ہم دونوں کے ایسے پریشان ہونے سے ہماری دواری بیٹیاں پریشان ہو گئیں تھیں. میں نے محلے کا چکر لگایا اور خوب ڈھونڈا ۔ اس بار میرے پاؤں دکھنے لگ گئے تھے مگر مجھے اپنی بیٹی دھونڈنی تھی ۔ کہیں سے خبر نا ملی تو میں تھک کر گھر واپس آ گیا ۔ میں نے اپنی بیوی کو سنبھالا اقر اسے صبر کی تلقین کی اور اپنے رب پر یقین رکھنے کا کہا ۔
مجھے اس بات پر بے حد یقین تھا کہ اللّٰه بہترین نگہبان ہے جباس پر کای کی زمہ داری ڈال دی جائے تو وہ اپنے بندوں کی حفاظت فرماتا ہے ۔ میں نے بھی حوصلہ کیا ۔ میں اپنی بیٹی کی گمشدگی کی خبر باہر بھی نہیں پھیلا سکتا تھا کیونکہ لوگ وقت کی نزاکت کو نہیں سمجھتے اور کوئی بھی غلط بات اخز کر دیتے ہیں ۔
خیر میں نے جیسے تیاے رات گزاری اقر صبح ہمت کی ہوٹل جانے کی ۔ میں ایک عام سا انسان کر بھی کیا سکتا تھا ۔ کچھ دن گزرے وہ آدمی پھر آیا اور مجھسے پھر سے وہی بات کی کہ دیگوں کا سارا کھانا خریدنا چاہتا ہے کیونکہ اس کے گھر بیٹی ہوئی ہے ۔ میں اس بار بری چوکنا ہوا کیونکہ یہ بات میری سمجھ سے بالاتر تھی کہ دو ہفتوں میں تین بیٹیاں کیسے ؟! میں اس سے سوال تو نا کیا مگر اسے سارا کھانا دے دیا اور پیسے لے لیے ۔ اس بار میری پھر آمدنی دگنی تھی ۔ وہ آدمی چل گیا ۔ میں شام کق گھر لوٹا تو مجھے علم ہوا کہ میری تیاری بیٹی گھر میں موجود نہیں. یہ تیسری بار تھا کہ میری بیٹی گھر سے جا رہی تھیں موجود نہیں تھیں ۔
اا وقت دھونڈنے سے پہلے میرے دماغ میں اللّٰه کی طرف سے خیال آیا کہ جب بھی یہ بزرگ آتا یے شام کو میرے گھر بیٹی نہیں موجود ہوتی. کیا اس کا کوئی تعلق ہے میری بیٹی کے گھر میں موجود نا ہونے سے ؟ میں پریشان ہو گیا ۔ میں پریشانی سے اپنے دروازے پر بیٹھ گیا ۔ میری بیوی نے جب پوچھا کہ میں دھونڈنے کیوں نہیں جا رہا تو میں نے اپنے دماغ میں چکتے مسئلے کو بیان کیا ۔ میری بیوی نے مجھے ایسے دیکھا جیسے میں کوئی عجیب بات کر رہا ہوں ۔
لیکن اس نے مجھے کہا کہ میں انتظار کروں اس وقت تک کا جب وہ بزرگ واپس آیے گا ۔ اور اگر اس بار وہ اگر آیا اور ایسے ہی کھانا لے کر گیا اور اس کے جانے کے بعد گھر میں بیٹی نا ہوئی تو پھر میں اس بزرگ کا پتہ لگواؤں کہ آخر اس بوڑھے آدمی کا تعلق اس سے ہے کہ بھی نہیں ۔ مجھے اپنی بیوی کی بات درست لگی ۔ میری بیوی کو اللّٰه نے بہت ہمت دی تھی جو اس صورت میں بھی مجھے ہمت دے رہی تھی خود کو سنبھال رہی تھی میری بیٹیوں کو دیکھ رہی تھیں ۔
میں پھر ہوٹل جانے لگا اقر روز اس انتظار میں ہوتا کہ مجھے وہ بوڑھا آدمی ملے ۔ وہ بوڑھا آدمی نا آیا ۔ مجھے فکر لگ گئی ۔ لیکن کچھ دن گزرے کہ وہ آدمی دوبارہ آیا اوع اسی طرح کھانے کا کہا اور ساری دیگیں لے جانے کا بولا ۔ میں نے اسے ااعی دیگیں دیں پیسے لیے ۔ اس بار آمدنی زیادہ تھی ۔ یعنی جب وی بزرگ بوڑھا آدمی آتا میری آمدنی اس دن زیادہ ہوتی ۔ میں وہ پیسے لے کر جلد از جلد گھر پہنچا اور وہی ہوا جس کا ہمیں ڈر تها ۔ میری ایک اور بیٹی گھر میں موجود نا تھی ۔ میں نے اپنی بیوی کو بتایا کہ آج وہ آدمی آیا تھا. تو میری بیوی پریشان ہو گئی کیونکہ ہمیں اس سب کی سمجھ نہیں لگ رہی تھی ۔ نا یہ سمجھ آ رہا تھا کہ کیا کریں ۔ میں نے اپنی بیوی کو سہارا دیا اور آبر کرنے کا کہا جیسے ہر بار کہتا تھا ۔ مجھے اس سخت پریشانی میں بھی اللّٰه سے ناامیدی نہیں تھی ۔
پھر ایسا دو دفعہ مزید ہوا جب وہ مرد آتا وہ بوڑھا آتا میرے گھر میں میری اگلی بیٹی موجود نا ہوتی ۔ یہ کوئی کھیل ہی تھا جق کھیلا جا رہا تھا ۔ اور اس کا حل کسی طور سمجھ نہیں آ رہا تھا. میں نے دعا کی کہ مجھے راستہ دکھا میری بیٹیاں مجھے مل جائیں ۔
میں نے ہمت اور صبر کا دامن ہاتھ سے جانے نا دیا. کیونکہ مجھے اپنی ماں کی بچپن اے لے کر جوانی تک جو آبر کے متعلق صورت کا ترجمہ سمجھاتی تھیں وہ یاد تھا کہ وہ بتایا کرتی تھیں کہ ” اور انہیں ان کے صبر کے بدلے جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے گا ۔ یہ وہاں تختوں پر تکیے لگاۓ ہوۓ بیٹھیں گے۔ نہ وہاں آفتاب کی گرمی دیکھیں گے نہ جاڑے کی تختی ۔ ان جنتوں کے ساۓ ان پر جھکے ہوۓ ہوں گے اور اس کے پھل ان کے بالکل قریب کر دیے جائیں گے ۔ اور ان پر چاندی کے برتنوں اور ان جاموں کا دور کرایا جاۓ گا جو شیشے کے ہوں گے۔ شیشے بھی چاندی کے جن کو ساقی نے اندازے سے ناپ رکھا ہوگا ۔
اور انہیں وہاں وہ جام پلائے جائیں گے جن کی آمیزش جیل کی ہوگی ، جنت کی ایک نہر سے جس کا نام سلسبیل ہے، اور ان کے اردگرد گھومتے پھرتے ہوں گے وہ کم سن بچے جو ہمیشہ رہنے والے ہیں جب تو انہیں دیکھے تو سمجھے کہ وہ بکھرے ہوئے سچے موتی ہیں ۔ تو وہاں جہاں کہیں بھی نظر ڈالے گا سراسرنوتیں اور عظیم الشان سلطنت ہی دیکھے گا۔ ان کے جسموں پر سبز مبین اور موٹے ریشمی کپڑے ہوں گے اور انہیں چاندی کے آنگن کا زیور پہنا یا جائے گا ۔ اور انہیں ان کا رب پاک صاف شراب پلاۓ گا ۔
( کہا جاۓ گا ) کہ یہ ہے تمہارے اعمال کا بدلہ اور تمہاری کوششوں کی قدردانی ‘‘ (الدهر: ۱۲ تا ۲۲) ۔ اقع یہ آیت مجھے حوصلہ دیتی کہ اللّٰه سے مایوس نا ہونا وہ ہی تمہاری بیٹیوں کا محافظ ہے ۔
اگلے بار جب وہ بوڑھا شخص آیا تو میں سوچنے لگا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے ۔ میرے دماغ نے جھٹ پلان بنایا اور میں اس کمرے میں گیا جہاں دیگیں تھیں میں نے ملازم سے کہا کہ یہ دیگیں باہر گاڑی میں رکھوا دے ۔ اور میں جلدی سے بڑی ہوشیاری سے ایک دیگ کے اندر بیٹھ گیا ۔ اور اس کا ڈھکن اہاے رکھا کہ کسی کو شک ہی نا ہوا کہ اس کے اندر کوئی انسان ہو گا ۔ مازموں نے وہ دیگیں گاڑی میں رکھوا دیں اور میری والی دیگ بھی ایسے ہی رکھ دی گئی اور کای کو علم نا ہو سکا کہ سچ میں اس کے اندر کھانا ہے یا کچھ اور حالانکہ میں چھپ گیا تھا ۔
اس بوڑھے آدمی نے گاڑی شروع کی اور اپنے گھر کی طرف لے گیا ۔ سارے راستے میرے دل میں بے حد خوف تھا لیکن مجھے اپنی بیٹیوں کا پتہ لگانا تها اور یہ تو کرنا ہی تھا ۔ میں دل ہی دل میں دعائیں کرتا جا رہا تھا کہ میرا اللّٰه میری حفاظت فرمائے ۔
جب گاڑی ایک گھر کے باہر رکی تو میں چوکنا ہو گیا ۔ ساری دیگوں کو اس بزرگ کے گھر کے اندر لے جایا گیا اسی طرح میری والی دیگ بھے جائے گئی ۔ میں نے جب باہر نکل کر دیکھا تو میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔ کیونکہ جو میں دیکھ رہا تھا اس پر میری آنکھیں اور دل یقین نہیں کر پا رہا تھا ۔ یہاں میری بیٹیاں اس بزرگ کے صحن میں کھیل رہی تھیں ۔
میری ساری بیٹیاں اس بزرگ کے گھر کے صحن میں تھیں ۔ میں جھٹکے سے دیگوں کی اوٹ سے نکل آیا کیونکہ مجھے میری بیٹیاں نظر آ رہی تھیں انہیں بچانے کا عظم دل میں آ گیا تھا اب کوئی ڈر نہیں تھا کہ کوئی مجھے نقصان نا پہنچا دے ۔ میں تیزی سے صحن کی طرف بڑھا ۔
وہ بزرگ اپنے کمرے میں اندر گیا تھا ۔ میں اپنی بیٹیوں کی طرف بڑھا اور ایک ایک کر کے سب کو سینے سے لگایا ۔ میرے دل کی ٹھنڈک تو میری بیٹیاں تھیں ۔ میں ان کے کبھی ماتھے چومتا تو کبھی رخسار ۔ کبھی زور سے سینے سے لگاتا ۔ مہری بیٹیاں صحیح سلامت تھیں ۔ کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا ۔ میں ایسے ہی ان میں خود کو محو کر گیا تھا کہ بھول گیا تھا کہ میں نے اس بزرگ سے پوچھنا ہے کہ آخر میری بیٹیاں تمہارے گھر کر کیا رہی ہیں ۔
میری محویت تب ٹوٹی جب مجھے اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا یعنی کسی کے قدم میرے پیچھے آ کر رکے تھے ۔ میں نے اپنی بیٹیوں کو ایک سائیڈ پر کیا اقع رخ موڑ کر پیچھے دیکھا ۔
وہی بزرگ مسکراتا میرے پیچھے کھڑا تھا ۔ اور مجھے ماکرا کر دیکھ رہا تھا ۔ اصولاً یا تو اسء ڈرا ہوا ہونا چاہیے تھا کہ میں اس کے جائے مقام پر پینچ گیا تھا یا پھر اسے پریشان نظر آنا چاہیے تھا یا پھر وہ مجھ ہر حملہ کرتا کیونکہ اس کے گھر میں میری بیٹیاں تھیں یقیناً وہ کسی مقصد کیلیے ہی لایا تھا اور لایا بھی بس میری ہی بیٹیوں کو ۔
میں نے غصے سے اسے دیکھا اور اونچی آواز سے پوچھا کہ اس نے میری بیٹیوں کو ایسے کیوں اٹھایا میرے گھر سے ؟ کیوں میری بیٹیوں کو ایک ایک کر کے میرے گھر سے غائب کیا ۔ میری تعیش زدہ آواز پر اس نے کوئی جواب نا دیا بلکہ مسکرا دیا ۔ مجھے اور غصہ آنے لگا کہ آخر وہ مسکرا کویں رہا ہے ۔
میرا غصہ اتنا بڑھ رہا تھا کہ میرا دل کر رہا تھا کہ میں اس کی بزرگیت کا خیال کیے بنا اس کا گریبان پکڑوں اور اتنا ماروں کہ اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا اسے مزہ چکھاؤں کہ اس نے میری بیٹیوں کو اپنے گھر قید کیا ہوا تھا ۔ مگر میں مار نہیں سکا کیونکہ میری تربیت اس بات کی طرف مائل نہیں ہونے دے رہی تھی کہ میں کای بزرگ ہر ہاتھ اٹھاؤں ۔ میں نے زور اے مٹھیاں بھینچ لیں اور دل میں اپنے رب کو پکارنے لگا ۔
اس سے پہلے کہ میں کچھ کر دیتا یا میرا ضبط جواب دیتا یا جو میں اللّٰه کو ہی منصف مانتے ہوے صبر کر رہا تھا اس صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا اور میں اس پر کوئی وار کرتا ، وہ بزرگ دیکھتے دیکھتے اپنے روپ سے ہٹنے لگے ۔
میری آنکھیں جو شعلہ ابل رہی تھیں وہ حیرت میں مبتلا ہوتی گئیں ۔ کیونکہ وہ بزرگ ایک انتہائی خوش زکل نوجوان صورت میں میرے سامنے آ گئے ۔ مجھے لگا کہ میں کوئی خواب دیکھ رہی ہوں ۔ ان کا روپ بدلنا اور صحن میں روشنی کا پھیل جانا ایک موجزے جیسا ہی تھا ۔
میری مٹھیاں ڈھیلی پر گئیں ۔ میں نے قدم پیچھے لیے اور اپنی بیٹیوں کے سامنے ڈھال بن گیا ۔ مجھے لگا کہ شائد کوئی جادوگر یے جس نے ابهى جادو سے روپ بدلہ ہے ۔ اسی خیال کے تحت کہ وہ میری بیٹیوں کو تکلیف نا پہنچا دے ۔
اس نوجوان نے جب کلام کیلیے منہ کھولا اور جو الفاظ اسا کیے اس نے مجھے اپنی جگہ منجمد کر دیا ۔ اس نے کہا کہ وہ ایک فرشتہ ہے اور وہ اس کام پر معمور کیا گیا تھا کہ وہ میری بیٹیوں کو ایسے لے کر آئے ۔ اس نے کہا کہ وہ میرے ہی انتظار میں تھا کہ میں اپنی بیٹیوں کو جب نہیں پاؤں گا تو کیا کروں گا اور کیا میں اس بزرگ کی حقیقت کو جان پاؤں گا ! کیا میں صبر و ہمت سے کام لوں گا ؟
میں صبر کے لفظ پر رکا اور حیرت سے اسے دیکھا ۔ اسا نے کہا کہ جب اللّٰه نے تمہیں بیٹیوں جیسی رحنت سے نوازا تو اسی وقت سے تمہیں آزمائش میں مبتلا کیا تا کہ وہ دیکھے کہ میں کیسے ان بیٹیوں کی حفاظت کروں گا ۔ مجھے زمانے بھر نے بیٹیوں کے طعنے دیے تھے ۔ کہ ایک بھی بیٹا نہیں بس بیٹیوں کا رش لگا دیا ہے لیکن اسس وقت بھی میں نے بڑے حوصلے اور صبر سے ہمت سے یہ باتیں سہی تھیں اور اپنی بیٹیوں کو سینے سے لگا کر رکھ تھا ۔
میری زبان تو ہل ہی نا پا رہی تھی.
اس نے کہا کہ تمہاری اس آیت کے حوالے سے بھی آزمائش تھی جو تم روز سونے سے پہلے پڑھا کرتے تھے جو تمہاری ماں سمجھایا کرتی تھی کہ ” اور انہیں ان کے صبر کے بدلے جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے گا ۔ یہ وہاں تختوں پر تکیے لگاۓ ہوۓ بیٹھیں گے۔
نہ وہاں آفتاب کی گرمی دیکھیں گے نہ جاڑے کی تختی ۔ ان جنتوں کے ساۓ ان پر جھکے ہوۓ ہوں گے اور اس کے پھل ان کے بالکل قریب کر دیے جائیں گے ۔ اور ان پر چاندی کے برتنوں اور ان جاموں کا دور کرایا جاۓ گا جو شیشے کے ہوں گے۔ شیشے بھی چاندی کے جن کو ساقی نے اندازے سے ناپ رکھا ہوگا ۔
اور انہیں وہاں وہ جام پلائے جائیں گے جن کی آمیزش جیل کی ہوگی ، جنت کی ایک نہر سے جس کا نام سلسبیل ہے، اور ان کے اردگرد گھومتے پھرتے ہوں گے وہ کم سن بچے جو ہمیشہ رہنے والے ہیں جب تو انہیں دیکھے تو سمجھے کہ وہ بکھرے ہوئے سچے موتی ہیں ۔ تو وہاں جہاں کہیں بھی نظر ڈالے گا سراسرنوتیں اور عظیم الشان سلطنت ہی دیکھے گا۔ ان کے جسموں پر سبز مبین اور موٹے ریشمی کپڑے ہوں گے اور انہیں چاندی کے آنگن کا زیور پہنا یا جائے گا ۔ اور انہیں ان کا رب پاک صاف شراب پلاۓ گا ۔ ( کہا جاۓ گا ) کہ یہ ہے تمہارے اعمال کا بدلہ اور تمہاری کوششوں کی قدردانی ‘‘ (الدهر: ۱۲ تا ۲۲) ” اور تم اس پر مستقیم رہے ۔
اللّٰه نے تمہیں ایک بیوی دی جس نے تمہیں نکاح سے پہلے اپنے حسن اور گفتگو سے مشکل میں ڈالا وہ لڑکی انسان کے روپ میں فرشتہ تھی یعنی میری بیوی بھی میری طرح اللّٰه پر گہرا یقین رکھتی تھی ۔ اس کی طرف سے پہلے میرا امتحان لیا گیا. اور میں اس امتحان میں پورا اترا میں نے اا کی خامیوں کو رد کیا تھا اور اس کی چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو اہمیت دی تھی. مجھے اللّٰه نے پھیر اولاد سے نوازا اور بیٹیاں دے کر آزمائش میں مبتلا کیا ۔
کہتے ہیں کہ ایک کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہوتا ہے میرے لیے بھی یہی تھا میری بیوی میرے لیے ایسی ہی ثابت ہوئی تھی اس کے آنے سے میں ایک سٹال سے ایک ہوٹل پر پہنچ گیا تھا ۔ میرے ہر وقت کے صبر و شکر نے مجھے پل پل آزمایا اور اللّٰه نے اس آزمائش میں مجھے گرنے بھی نہیں دیا اور آزماتا بھی رہا ۔
یہ اچھی بیوی اور نیک اولاد اس صلے میں مجھے ملی کہ میں نے ساری زندگی اپنے گھر والوں کی رکھوالی کی اور اس انوام میں اللّٰه نے مجھے نیک بیوی اور نیک بچے دیے ۔ اور مجھے محافظ بنایا ۔
میں جب گھر لوٹا تو میرے ساتھ میری بیٹیاں بھی تھیں ۔ میری بیوی انہیں سینے سے لگا کر کتنی دیر روتی رہی ۔ پھر جب میں نے اسے سنبھالا اور سہارا دیا تو اس نے مجھسے اس سب واقعے کے بارے میں دریافت کیا ۔ میں نے ساری بات بتا دی ۔وہ بھی سن کع حیران تھی ۔
اس واقعے کو کوئی سچ نہیں مانتا ہے لیکن اللّٰه جسے چاہے جیسے چاہے نواز دے ۔ اس نے مجھے بھی نوازا اقع اتنا نوازا کہ میری بیٹیاں بڑی ہوتی گئیں اور میرا کاروبار بڑھتا گیا ۔ وہ لوگ جو یہ سوچتے ہیں کہ بیٹیاں عزاب ہیں وہ یہ جان لیں کہ یہ اللّٰه کی طرف سے بھیجا گیا تحفہ ہوتی ہیں اور اب سے بڑی آزمائش بھی ۔ بیٹیوں کی حفاظت کرنے والا شخص اللّٰه کی حفاظت میں آ جاتا ہے ۔ وہ اپنے پیارے بندوں کو آزماتا ہے مگر اکیلا نہیں چھوڑتا ۔ ویسے بھی بیٹیاں تو رحمت ہوتی ہیں
ختم شد۔۔۔

Read New best urdu afsanay at this website Novelsnagri.com for more Online Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories.

you can also visit our facebook page for more content Novelsnagri ebooks

Leave a Comment

Your email address will not be published.