Web Special Novel, revenge based, urdu novels,

New Haweli based novel, saaiyaan Episode 5

Web Special Novel, New Haweli based novel,

Category: Web special novel 

Novel name : Saaiyaan episode 5

Written by: Bisma Bhatti

New Haweli based novel, Forced marriage & Novel is full of emotions, romance, suspense & thrill, Story of a girl who wants to follow the society style.

 

#سائیاں

#از_قلم_بسما_بھٹی

#قسط_۵

🤗🤗🤗🤗🤗
“مجھے آواز نہیں آ رہی ۔۔تمہاری آ رہی ہے۔۔۔۔ایک سیکنڈ سگنل ایشو ہے میں ۔۔اوپر جا کر بات کرتا ہوں”سگنلز کی وجہ سے وہ فون پر رابطہ نا ہونے کی وجہ سے بول رہا تھا ۔
پھر فوراً کمرے سے نکلا اور تیسری منزل کی سیڑھیوں کی طرف تیزی سے بڑھا۔
اتنی اہم کال تھی اسکے دوست کی۔اور سگنلز کا مسئلہ۔
جیسے ہی وہ چھت پر پہنچا اسے کسی کی ہلکی سی چیخ کی آواز سنائی دی ۔
بے اختیار قدم اس طرف کو ہوئے جہاں سے چیخ کی آواز آئی تھی ۔
جیسے ہی اس طرف گیا تو قدم رک سے گئے۔اسکی آنکھیں جو دیکھ رہی تھیں وہ ایک فلم سے کم نا تھا۔
عنابیہ تھی جس نے اپنے لیے ہوئے دوپٹے کو جھاڑنے کیلئے ایک ادا سے لہرایا ( سیف کو تو یہی لگا کہ لہرایا گیا ہے) مگر اس نے پیچھے سے آگے کی طرف لہرا کر تیزی سے دوپٹہ کیا تھا ۔
اس کا چہرہ عیاں تھا ۔سیف کی نظروں کی سیدھ میں وہ بنا نقاب کے، دوپٹے کے جھنجھٹ سے آزاد ہاتھوں میں تھامے اسے جھاڑ رہی تھی ۔جیسے کچھ اتارنا چاہ رہی ہو
لیکن سیف کی نظر پلٹنا بھول گئ تھی ۔اتنا حسن!
اتنے سرخ گلابی گال! اتنے شربتی سرخ ہونٹ!۔بنا میک اپ کے یہ حال تھا
جب وہ سجے سنورے گی ! تو کیا قہر نازل کرے گی!۔
آنکھیں تو جھپکنا بھول گئیں تھیں۔ اسکے سراپے سے ایک سیکنڈ میں سیف نے اندازا لگایا تھا کہ یہ عنابیہ ہے ۔
“وف ہو بی بی۔۔مزاق کیا تھا میں نے”زرینہ نے ہنسی دباتے کہا: عنابیہ نے اسے پلٹ کر دیکھا جو کھی کھی کرتی اپنی ہنسی دبا رہی تھی۔
دونوں ہی اس طرح کھڑی تھیں کہ سیف کی طرف دھیان نہیں تھا۔یا یہ کہہ لیں کہ سیف شاہ گھنے میسنے کی طرح اس طرف آیا تھا ۔
“تمہارا دماغ ٹھیک ہے ۔۔ پتہ کتنا برا ڈری تھی میں ۔۔ مجھے لگا سچ میں وہ پیلا کیڑا میرے دوپٹے پر ہے۔۔ خبردار ایسا مزاق کیا تو”وہ اسے جھڑک رہی تھی۔ جس نے عنابیہ کو ڈرا دیا تھا ۔
اور سیف کی مسکراہٹ اس پیلے کیڑے کے لفظ پر لبوں پر رینگ گئ۔
“ہاں تو عنو بی بی شاہ حویلی کی سب سے حسین لڑکی ہیں ۔۔ کیڑے بھی دیوانے نکلیں گے”زرینہ نے مست فلمی انداز میں کہا
“اہہ۔۔ چھی۔۔۔ میں تو کبھی نا کیڑوں کو دیوانہ ہونے دوں۔۔۔سات پردوں میں رہ لوں گی۔ مگر کیڑے نا آنے دوں پاس۔۔۔ کام کرو دھیان سے۔۔۔ آئیندہ سے بلکل مدد نہیں کروں گی میں”وہ اس کی بات پر منہ بسورتی بولی۔ بھلا کیڑے بھی دیوانے ہوتے ہیں !
سیف کو اسکے لب بہت تنگ کر رہے تھے۔ اتنے سرخ گلابی ہونٹ وہ بھی کسی ایشین لڑکی کے بہت کم دیکھے تھے۔اور حیرت کی بات۔۔اسکی اپنے حویلی کی اسکی اپنی منگ تھی۔اس نے سچ میں بی جان کو داد دی کہ ان کی کہی بات سچ ثابت ہوئی۔
🔥میرےہونٹوں پہ کسی لمس کی خواہش ہےشدید 🔥
🔥ایسا کچھ کر مجھے سگریٹ کو جلانا نہ پڑے🔥
“مان لے۔۔سیف۔۔۔وہ شاہ حویلی کی سب سے حسین لڑکی ہے”ابھی پر سو ہی بی جان اسے بٹھا کر سمجھا رہی تھیں ۔
“اسکے لمبے بال ہیں ۔۔کمر تک۔۔۔ ہیرا ہے وہ شاہ حویلی کا۔۔ نا انصافی نہیں ہونے دوں گی اس کے ساتھ”پھر سے کانوں میں بی جان کے الفاظ گونجے تھے۔
“بچپن سے تیرے نام پر رہی ہے۔۔۔ اسکے جزبات کی لاج رکھ۔۔۔۔ اصل مرد کبھی اپنی منگ کو نہیں چھوڑتے”بی جان کی آواز مسلسل گونج رہی تھی۔
ساری باتیں جو وہ کرتی آئی تھیں سیف کو منانے کیلیے عنابیہ کیلیے وہ اسکے کانوں میں گونج رہی تھیں۔
وہ مسکرا دیا۔ مگر ساتھ ہی شنیزہ کا عکس اس کی آنکھوں میں لہرایا۔ چہرہ سپاٹ ہو گیا۔ا اور انہیں دبے قدموں سے واپس نیچے چلا گیا ۔
“بی بی جی آپ کو بی جان بلا رہی ہیں”ملازمہ نے آ کر اوپر کہا: عنابیہ دوپٹہ سنبھالتی اچھے سے لیتی سیڑھیوں کی طرف بڑھی۔
خوشبو کا جھونکا اس کے نتھنوں سے ٹکڑایا۔ فوراً سے رکی۔
“سنو۔۔ یی خوشبو تم نے لگائی!”ملازمہ کو آواز دی جو سیڑھیاں اتر رہی تھی۔
“نا بی بی جی۔۔۔ بھلا میں کیوں لگاؤں گی”اس نے فوراً سے نفی کی۔
اس خوشبو نے اسے الجھا دیا تھا ۔ آخر اتنی فنا کر دینے والی خوشبو کون لگاتا ہے شاہ حویلی میں”کیا پتہ بی بی ۔۔۔ کسی پیلے کیڑے نے لگائی ہو اور خوشبو بن کر آپ کو دیکھ رہا ہو” پیچھے سے زرینہ نے کپڑے نچوڑتے ہوئے کہا: عنابیہ نے پلٹ کر اسے گھوریوں سے نوازا اور نیچے چلی گئی ۔
💜💜💜💜💜💜💜💜
“جی بی جان آپ نے بلایا مجھے”عنابیہ نے دروازہ ناک کرتے کہا۔
بی جان جو اپنے تخت پر بیٹھ کر کتاب پڑھ رہی تھیں، اسکی طرف دیکھا۔
“آواندر”سنجیدگی سے اندر بلایا۔عنابیہ اندر آئی اور ان کے ہاس کھڑی ہو گئی ۔
وہ منتظر تھی انکے کلام کی۔شکل سے جتنی سنجیدہ دکھ رہی تھیں یقیناً کوئی بات ہو گی۔
“تم آج سیف کے پاس جاؤ گی”بی جان نے سرد لہجے میں کہا ۔کہیں سے نہیں لگ رہا تھا کہ وہ مزاق کر رہی ہیں ۔
عنابیہ نے اچھنبے سے بی جان کو دیکھا۔یقیناً بی جان نے غلط بولا ہو گا یا اسکے کان بج رہے تھے جو اسے ایسی بات سنائی دی۔اسے تو یقین نہیں آ رہا تھا کہ بی جان نے جو ابهى کہا وہ کیا تھا !
“ج۔۔۔جی!۔۔ بی۔جان؟”عنابیہ نے حیرانی سے کہا
“اتنا شاکڈ ہونے کی کیا ضرورت ہے۔۔ میں کونسا شاہ حویلی میں فارسی بولتی ہوں جو سمجھ نا آئے”انہوں نے اسے جھڑک دیا ایک تو اتنی مشکل سے وہ یہ بات کہہ رہی تھی اور عنابیہ محترمہ کو پہلی باری میں سمجھ نہیں آ. رہی تھی۔
“ب۔۔بی جا۔۔۔جان۔۔۔ میں کیوں۔۔ ان سے ملوں؟۔۔ کیا بات کرنی میں نےے؟”عنابیہ بوکھلاتے بولی۔اسکے تو ابهى سے ہاتھ پاؤں پھول رہے تھے کونسی بات کہہ رہی تھیں بی جان
“تم سیف کے پاس جاؤ گی۔ اور شادی کی بات کرو گی۔۔۔ اس سے ڈائریکٹ بات کرو گی۔۔۔ پورے حق سے۔۔ حکم ہے میرا”بی جان کی کرخت حاکمانہ آواز کمرے میں گونجی۔
“بی جان۔۔۔ میں ۔۔۔ کیسے کر۔۔ کیسے کر سکتی ہوں ان سے شا۔۔۔۔ش۔۔ادی کی بات؟۔۔میں کبھی ا۔۔ ان کے سامنے تک نہیں گئ۔”عنابیہ کے پسینے چھوٹ چکے تھے ۔بی جان انوکھا حکم دے رہی تھیں
“میرا بیٹا ہے وہ۔۔۔ مجھے اچھے سے اسکا پتہ ہے۔۔۔ اپنے باپ کی طرح الٹے دماغ کا ہے۔۔ جب تک حق نا جتاؤ۔۔۔ سنتا ہی نہیں ہے۔۔۔ مجھے ہہ بھی علم ہے کہ ہمارے ہاں ۔۔رواج نہیں کہ کوئی شادی سے پہلے ملے۔۔۔ مگر میں اپنے بیٹے کو ایسے بکھرتے تباہ ہوتے نہیں دیکھ سکتی۔۔ نا ہی تمہیں تکلیف میں دیکھ سکتی ہوں۔۔ کیسے تمہارے ساتھ ناانصافی ہونے دوں؟”بی جان غصے اور دکھ کےملے جلے تاثرات میں بول رہی تھیں۔
عنابیہ نے سر جھکا لیا۔وہ اپنے لیے کیا کر سکتی تھی ۔
“حکم ہے میرا۔۔جا کر بات کر اس سے۔۔ “بی جان نے اسے دوبارہ کہا
“بی جان۔۔۔ آپ۔۔ تو جان نکلوائیں گی۔۔میری”عنابیہ نے منہ بناتے منمناتے کہا
“کیوں۔۔۔ شادی نہیں کرنی سیف سے؟۔۔۔ اس کے نام پر بچپن سے بیٹھی ہے۔۔۔ اس سے محبت نہیں کرتی کیا؟” بی جان نے ڈانٹے سوال کیا.عنابیہ نے بے بس نگاہوں سے انہیں دیکھا
“ایک عورت تبھی ناکام ہوتی ہے ۔۔۔جب وہ اپنے لیے بولتی نہیں ہے۔۔ یہ تجھ پر ایک قسم کا جبڑ ظلم ہے پتر۔۔۔ کہ بچپن سے تجھے یہ بتایا جائے کہ تو۔۔ اس شخص کے نام کی نسبت ہے۔۔۔ اور بڑے ہو کر تجھے کسی اور کا بنا دیا جائے۔۔۔ یہ تکلیف کیوں سہنے دوں میں تجھے؟۔۔”انہوں نے اپنائیت سے تکلیف سے کہا۔دکھ اور فکر ان کے چہرے پر عیاں تھا ۔
“بی جان۔۔۔ وہ مجھے دیکھتے ہی۔۔ جان سے مار دیں گے”عنابیہ نے حلق تر کرتے کہا۔اسے سوچ سوش کر ہی ڈر لگ رہا تھا ۔
“یہ بتا۔۔۔ کیا تو سیف کو کسی بھی لڑکی کا ہونے دے گی !”بی جان نے اسکی آنکھوں کو پرکھنے کیلیے پوچھا: عنابیہ نے تڑپ کر بی جان کو دیکھا ۔قطعاً برداشت نہیں کر سکتی تھی وہ۔
“مجھے ۔۔ جواب ہاں میں ۔۔چاہیے”بی جان نے دوبارہ کتاب پکڑتے کہا:”مار۔۔ڈالیں گے ۔۔میرے حق۔۔ مانگنے پر”عنابیہ نے نم آواز سے کہا: “تو مر جانا۔۔۔۔ وہیں دفن ہو جانا۔۔۔ مگر خبردار اس۔۔حویلی سے تیری ڈولی کسی اور کے نام کی ہوئی۔۔۔ سمجھی”بی جان نے اسے ڈانٹے تیز آواز میں کہا: عنابیہ نے زور سے آنکھیں میچ لیں۔
گہرا سانس لیا اور انہیں دیکھا ۔
“جی۔۔ بی جان”ڈرتے خوفزدہ ہوتے کہا اور مریل قدموں سے باہر نکلی۔
بی جان تو آ ج کہیں سے شاہ حویلی کی بی جان نہیں لگ رہی تھیں۔جو اصول پسند تھیں۔اس وقت انہیں بس اپنے بچے بکھرتے نظر آ رہے تھے ۔
ایک پریشانی کیف کی ڈلی ہوئی تھی ۔دوسرا بیٹا سدھرنے کا سوچ نہیں رہا تھا ۔
مجبوراً انہیں یہ کرنا پڑا۔
“مجھے پتہ ہے۔۔ میرے بچے(عنابیہ اور سیف) بہت سمجھدار ہیں۔۔ اللّٰه اسے کہہ تو دیا ہے کہ سیف سے بات کرے۔۔ اب تو اپنا کرم کرنا۔۔۔ میرے اس سخت دل بیٹے کو نرم کر دینا۔۔ اس کے دل اور دماغ میں عنابیہ کے نام کا کونپل کھلا دینا”اپنے دل میں وہ اپنے رب سے مخاطب تھیں۔ جس نے ہر جگہ ہر پل ان کی لاج رکھی تھی۔
اور اللّٰه ہی تو ہے جو لاج نبھاتا ہے ۔لجپال ہے۔عزتیں اور محبتیں بھی سنبھالتا ہے۔
وہی تو ربِ کائنات ہے۔
وہی تو دلوں کے بھید جانتا ہے
اور وہ وہی نوازتا ہے جو اسکے بندے کیلیے بہترین ہو۔
🔥ھر شخص نھیں ھوتا ھر شخص کے قابل 🔥
🔥ھر شخص کو اپنے لئے سوچا نھیں کرتے🔥
💙💙💙💙💙💙💙💙
قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق
سچ تو یوں ہے بری بلا ہے عشق
اثر غم ذرا بتا دینا
وہ بہت پوچھتے ہیں کیا ہے عشق
آفت جاں ہے کوئی پردہ نشیں
کہ مرے دل میں آ چھپا ہے عشق
بوالہوس اور لاف جانبازی
کھیل کیسا سمجھ لیا ہے عشق
وصل میں احتمال شادی مرگ
چارہ گر درد بے دوا ہے عشق
سوجھے کیونکر فریب دل داری
دشمن آشنا نما ہے عشق
کس ملاحت سرشت کو چاہا
تلخ کامی پہ بامزا ہے عشق
ہم کو ترجیح تم پہ ہے یعنی
دل ربا حسن و جاں ربا ہے عشق
“پیاری تو ہے بہت۔۔ لیکن آنکھوں کا کیا کروں میں”ارم سبکتگین نے تصویر دیکھتے کہا۔ان کے سامنے صرف عنابیہ کی نقاب والی تصویر تھی۔تبھی وہ ایسے بولیں کہ کوئی رنگ روپ سامنے آئے تو سمجھ آئے لڑکی کے نین نقش پیارے ہیں کہ نہیں ۔
“ارے ماں جی۔۔ میں نے خود نہیں دیکھا اسے۔۔ وہ شاہ حویلی کی بیٹی ہے وہاں پردے کا خاص احتمام کیا جاتا ہے”قمر نے مسکراتے کہا۔
لیکن اس بات نے ارم سبکتگین کی مسکان ضبط کر لی۔
انہوں نے چونک کر قمر کو دیکھا ۔چہرے کا رنگ ایک دم سے پیلا پھٹک ہو گیا۔پسینے کے ننھے قطرے ماتھے پر نمودار ہوئے۔
ان کی حالت متغیر تھی ۔شاہ حویلی کا نام ہی ان کی سانسوں کو منتشر کرنے کیلیے کافی تھا ۔
“کیا۔۔ہوا ماں جی؟۔۔ آپ۔۔۔آپ کی طبیعت ٹھیک ہے!” قمر نے انکی بدلتی رنگت پر پوچھا۔ایسے کیسے اسکی ماں جی بوکھلا گئیں
“ہ۔۔ہاں۔۔ میں ٹھیک ہوں”انہوں نے حلق تر کرتے کہا خود کو کمپوز کیا اور قمر کے پاس سے اٹھ گئیں ۔اور کمرے سے باہر کی طرف بڑھیں۔قدم تو من من کے بھاری ہو گئے تھے ۔
“ماں جی۔۔بتایا نہیں ۔۔۔کب جائیں گے ہم ادھر!”قمر نے خوشی سے چہکتے پوچھا۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ابھی اپنی ماں جی کو لے کر چلا جائے۔
ارم سبکتگین کے قدم رکے۔دل کی دھڑکن مدھم تھی جیسے فکر پریشانی کے وقت ہو جاتی ہو۔
آنکھیں نم تھیں۔
“قمر۔۔۔ میں زرا سونے لگی ہوں۔۔ مجھے کوئی ڈسٹرب نا کرے”انہوں نے بنا پلٹے کہا اور گہرے سانس لیتی کمرے سے باہر نکل گئیں۔
قمر نے حیرت سے دروازے کو دیکھا جہاں سے اسکی ماں جی گئی تھیں۔بنا اسے جواب دیے۔
مگر وہ اپنی اس خوشی میں اتنا خوش تھا کہ اسے انکی بدلتی حالت اور جواب نا دینا محسوس نا ہوا۔
اس نے کندھے اچکا دیے اور سوچا کہ جب اٹھ جائیں گی تو پوچھ لوں گا۔
وہ کیا بتائے اپنی ماں جی کو کہ اسکی حالت کیا ہے۔اسے کتنا انتظار ہے عنابیہ کا اسے اپنا بنانے کا۔اسکے ملک کے بعد اسکا دوسرا عشق عنابیہ بن گئ تھی اس کے دل کا قرار تھی وہ۔صرف آنکھوں سے عشق ہوا تھا اور جب وہ پردے کے بغیر اسکے حق میں ہوتے ہوئے اسکے روبرو آئے گی۔تب اسکا دل اصل سکون پائےگا۔
🔥باندھ لیں ہاتھ پہ سینے پہ سجا لیں تم کو 🔥
🔥جی میں آتا ہے کہ تعویذ بنا لیں تم کو 🔥
🔥پھر تمہیں روز سنواریں تمہیں بڑھتا دیکھیں 🔥
🔥کیوں نہ آنگن میں چنبیلی سا لگا لیں تم کو 🔥
🔥جیسے بالوں میں کوئی پھول چنا کرتا ہے 🔥
🔥گھر کے گلدان میں پھولوں سا سجا لیں تم کو 🔥
💜💜💜💜💜💜💜💜💜
وہ لرزتی ٹانگوں سے مریل قدم سے سیڑھیاں چڑھرہی تھی۔سانس سوکھے ہوئے تھے ۔
اپنا حق بھی نظر آ رہا تھا ۔اور بی جان کا حکم بھی ۔اور سیف کی رعب دار شخصیت اور اسکی غصے سے بھری آنکھیں بھی عنابیہ کے سامنے تھیں۔
بیچاری ان سب میں پس رہی تھی ۔
یہ محبتیں کیا کیا کرواتی ہیں ۔
“میرے محبوب قیامت ہو گی آج۔رس۔۔۔۔کیا ہوا تمہیں ایسے مر مر کے کیوں سیڑھیاں چڑھ رہی ہو تم؟”ماہم جو گنگناتی نیچے اتر رہی تھی سامنے عنابیہ کو پیلی رنگت میں دیکھ کر بولی۔
عنابیہ نے آنکھیں بند کیں اور ریلنگ کے ساتھ کمر لگا کر کھڑی ہو گئ۔وہ اب کیا بتاتی بی جان نے کونسا پہاڑ سر کرنے کو بولا یے۔
“ہے بولو بھی ۔۔۔وٹ ہیپنڈ!”۔ماہم نے اپنے باب کٹ بالوں میں ہاتھ پھیڑتے کہا۔اور سٹیپس اترتے اس کے سامنے آئی۔
“بی جان۔۔ چاہتی ہیں ۔۔دیکھو کسی کو بتانا نہیں۔۔۔۔کہ میں ان سے بات کروں۔۔۔انہیں مناؤں۔۔۔شادی۔۔۔کیلیے”انگلیوں کو مڑورتے ہچکچاتے ماہم سے کہا۔
ماہم کی حیرت سے آنکھیں کھل گئیں
“واہ۔۔۔ بی جان۔۔۔ کیا موڈرن موڈ میں آئی ہیں ۔۔۔اچھا یہ تو بتاؤ۔۔۔ کس سے کرنی ہے بات!؟”ماہم نے مسکراتے پوچھا۔کافی انٹرسٹنگ سٹوری لگ رہی تھی ویسے اسے عنابیہ نے آنکھیں نکالیں جو مزاق میں لے رہی تھی اسکی بات کو ۔
“سچ میں یارا مجھے نہیں علم۔۔ تم کس سے منسوب ہو!”ماہم نے اسکی سنجیدہ شکل دیکھ کر یقینا دلانا چاہا
“کیوں۔۔ تمہارے ۔۔بھائی نے کبھی یہاں کی بات نہیں کی!؟”عنابیہ نے دانت پیس کر کہا
ماہم کو اسکی بات سمجھ نا آئی۔بھلا زامل بھائی کیوں کوئی یہاں کی بات کرنے لگے۔لیکن تمہارے بھائی پر اسےسیف کی سمجھ آئی
“تم۔۔ سیف بھائی کی بات کر رہی ہو !”ماہم نے اونچی آواز میں پوچھا جیسے شاک لگا ہو
“آہستہ۔۔ چپ کرو۔۔۔کیوں تم تماشہ بنا رہی ہو !”عنابیہ نے دبی آواز میں گراتے کہا۔
ماہم کو تو بے حد حیرانی تهی کہ سیف نے کبھی بتایا ہی نہیں ۔
“بھائی نے تو کبھی زکر نہیں کیا”ماہم نے بے یقینی سے کہا
“اب تمہیں صدمہ نا لگے۔۔ مجھے حل بتاؤ۔۔ بی جان نے حکم دیا ہے میں کیا کروں۔۔۔ ان کے سامنے میری بولتی بند ہو جاتی ہے ۔۔سانس اٹک جاتا یے۔۔ میں کیا کروں اب!؟”وہ بے چینی پریشانی سے بول رہی تھی ۔اسکے چہرے سے عیاں تھا کہ وہ کتنی ڈری ہوئی ہے۔
“تم۔۔ بھائی سے ۔۔۔محبت کرتی ہو !”ماہم نے اس سے آہستہ سے پوچھا:عنابیہ نے اسے دیکھا اور آنکھیں جھکا لیں۔اسکے گال دہک اٹھے تھے ۔
ماہم مسکرا دی۔یہ لڑکی جو اس کے سامنے کھڑی تھی سراپا سیف کی محبت بنی ہوئی تھی جس کا اندر آتشِ عشق سے منور ہو اور باہر سے لگے کہ شائد کوئی ہلکا پھلکا جزبہ بھی نہیں
“بھائی انکار۔۔ کر رہے ہیں !”ماہم کو دل سے دکھ ہوا تھا اس کے لیے۔کیونکہ وہ بھی جانتی تھی کہ شنیزہ سے سیف نے کتنی سنجیدگی سے محبت کی تھی۔
“ان کو۔۔ تو میرا نام سننا بھی پسند نہیں”عنابیہ نے چہرہ جھکاتے اداسی سے کہا
“آج سے ۔۔نام کیا۔۔۔ تم پوری کی پوری چاہیے ہو گی۔”ماہم نے چمکتی آنکھوں سے کہا
عنابیہ نے فوراً سر اٹھا کر اسے دیکھا وہ تو اسکی بات نہیں سمجھی تھی۔ایسے کرشمے شاہ حویلی میں کہاں سے ہونے والے ۔؟
“مطلب!؟”اس نے نا سمجھی سے پوچھا
“بہت اچھا کیا ہے بی جان نے تمہیں یہ حکم سنا کر۔۔۔ چلو”چمکتی آنکھوں سے کہا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اوپر سیڑھیاں چڑنے لگی۔
عنابیہ تو بس اسکے ساتھ کھچتی چلی گئی ۔
۔اہم تیز تیز قدموں سے چلتی اسے لے کر اب کوریڈور میں چلنے لگی
“تم۔۔کہاں لے کر جا رہی مجھے !؟” چند قدم دور سیف کا کمرہ دیکھتے ہی اسے ساری بات سمجھ آئ تبھی پاؤں کو بریک لگاتے ہڑبڑاتے پوچھا
“آپ کے سیاں کے پاس”ماہم نے اسکا بازو کھینچتے کہا
“ن۔۔ن۔۔نان۔۔نان۔۔۔نا۔۔نہیں۔۔ میں ۔۔نہیں جا سکتی”عنابیہ نے پھولی سانسوں سے خود کو چھراونے کی جدوجہد کے درمیان کہا
“جائیں گے تو تمہارے اچھے بھی”ماہم نے دانت پیس کر اس کا ڈر دیکھا اور کہا
“ماہم۔۔ مجھے وہ مار ۔۔۔ڈالیں گے۔۔۔نا”عنابیہ نے منت کی اسکے سامنے
“تو مر جانا۔۔۔ مگر پلٹنا نہیں”ماہم نے سنجیدگی سے سرد لہجے میں کہا کہ عنابیہ بلکل ٹھہر سی گئ۔ مزاحمت بھی رک گئی
“جس سے محبت کی جائے۔۔ اور بچپن سے کی جائے۔۔۔ ان کیلیے ایک کوشش تو لازمی ہے۔۔ ایک لڑائی تو بنتی ہے ۔۔۔ ساری عمر پچھتاوا نہیں رہتا۔۔ کہ کبھی پانے کے لیے محنت نہیں کی”ساکت آنکھوں اور پتھریلے لہجے سے وہ عنابیہ کو لاجواب کر گئ تھی ۔
اسکی اپنی آنکھ کے کونے بھیگ گئے تھے ۔اسکا ماجرا بھی تو یہی تھا ۔جسے چاہتی آئی تھی ابهى تک وہ تو بنا مطلب کے آنسو دے رہا تھا ۔نا دیکھتا تھا ۔نا محبت کرتا تھا ۔محبت تو اسے تھی ہی نہیں ۔ورنہ ماہم سعید شاہ اپنے منگیتر احسام فرید شاہ کی آنکھوں کو جانچ لیتی۔
“چلو”اسکا بازو کھینچا اور سیف کے دروازے کے پاس لائی۔
وہ اندر ہی تھا ۔شام میں ہی آیا تھا ۔
ماہم نے دروازہ کھولا اور عنابیہ کو اندر دھکیلا اور دروازہ بند کر دیا۔
اسے یقین تھا اپنے بھائی پر بھی اور عنابیہ پر بھی ۔شاہ حویلی کی تربیت انکے اخلاق سے واضح تھی۔
مسکراتے دروازے کو دیکھا اور پلٹ گئی ۔
 سیڑھیوں کے پاس آئی تو سامنے سے احسام تھکی تھکی حالت میں سیڑھیاں چڑھ رہا تھا ۔بازو پر گرین کورٹ ڈالا ہوا تھا ۔بلیک شرٹ کے بازو کہنیوں تک فولڈ کیے ہوئے تھے. اور اس شرٹ میں پھنسے ہوئے اسکے کسرتی بازو ۔ بکھرے براؤن بال۔ڈھیلی ٹائی۔گوری رنگت۔ایک حسین مغرور شہزادہ بنا وہ تھکے ہوے انداز میں اوپر چڑھ رہا تھا ۔
احسام کو تکے جانا اس کی بے خودی تهی۔ وہ اتنا حسین تها۔ بے پناہ خوبرو پیارا۔
اسکی محویت تب ٹوٹی جب اسکے قدم قریب آنے لگے۔
احسام نے سر اٹھا کر سامنے دیکھا تو ماہم کو کھڑے پایا جس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا ۔
احسام نے نظروں کا رخ موڑ لیا۔ اس کے دل میں کوئی چاہ نہیں تھی ماہم کو دیکھنے کی حسین ہے تو کیا کرے وہ۔سر چڑھا لے؟ جب شادی ہی نہیں کرنی تو دیکھنا بھی کیوں!
“شاہ حویلی کی لڑکیاں بڑی پسند ہیں آپ کو”اسکے پاس سے گزر کر. جانے پر ماہم نے کہا
وہ رکا مگر پلٹا نہیں ۔
احسام شاہ کو کوئی بات لگا جائے اور وہ جواب نا دے ایسا تو ہو نہیں سکتا۔
“بہت”زرا سی گردن موڑ کر بھاری آواز سے کہا
“اچھا۔۔۔ ! مجھے دیکھ کر تو آپ کا غصےسے براحال ہو جاتا کیوں!” اس کی رخ کرتے بڑے مزے سے پوچھا
“بات شاہ حویلی کی بیٹی کی ہو رہی ہے۔۔ تمہارا زکر کہاں سے آ گیا!؟”اس نے بھی آگے سے جواب چن کر دیا تھا جس سے ماہم سلگ جائے اور کچھ فیصد یہ کام ہو ہی گیا تھا۔
“میرا زکر۔۔تو شروع سے ہے ۔۔ جب تمہاری اس حویلی میں ۔۔ شاہ حویلی کی بیٹیاں بھی پیدا نہیں ہوئ تھیں”ماہم نے دانت پیس کر کہا ایک ایک سال بڑی جو تھی سب شاہ حویلی کی لڑکیوں سے۔
احسام کا جبڑا بھینچ گیا۔لاجواب جو کر دیا تھا
“بڑوں سے بھی غلطیاں ہو ہی جاتی ہیں”اس کی طرف رخ موڑتے سنجیدگی سے کہا ۔
“بڑوں کی غلطیاں اور صحیح فیصلوں کا مجھے علم نہیں مسٹر احسام۔۔۔ بس اتنا علم ہے ۔۔ کہ ماہم سعید شاہ کو کسی زمانے میں اس گھر کے بیٹے احسام فرید شاہ سے جوڑا گیا تھا۔۔۔ اور ماہم اکیلی ہی کافی ہے ۔۔۔۔ اپنے حق کیلیے “غصے سے اسے دیکھتے کہا۔
“اچھا۔۔ کیسا حق۔۔۔ جو میں دینا ہی نا چاہوں۔۔۔ہاں۔۔پھر!”احسام نے پینٹ کی پوکٹس میں ہاتھ ڈالتے مضحکہ خیز لہجے میں کہا ۔اس بار پر ہلکا سا مسکرایا تها۔
“پوچھا کس نے ہے!۔۔ کہ حق دو گے۔۔ یا نہیں ؟۔۔۔ میں نے بتایا ہے”آنکھوں کو مٹکاتی احسام شاہ کو لاجواب کر گئ تھی ۔کسی طور احسام کے ڈر کے قابو نہیں آ رہی تھی ۔
کہہ کر پلٹی۔
احسام کا دل کیا اسکا منہ نوچ لے جس میں اتنی گز بھر کی زبان ہے
۔وہ نیچے اترنے سے پہلے رکی اور پلٹی۔
احسام اسے ہی دیکھ رہا تھا گھوریاں ڈال کر۔
“مسکراتے پیارا ہو۔۔۔ پر سوری۔۔ ماہم شاہ اتنی جلدی امپریس نہیں ہوتی۔۔۔آج رسوا تیری گلیوں ۔۔۔۔ میں۔۔۔ محبت ہو گی”اسکی طرف طنزیہ لہجے میں کہا مسکرائی گنگنائی اور تن فن کرتی نیچے اتر گئ۔
احسام شاہ کی حالت بری ہو چکی تھی۔اتنی بے عزتی۔سمجھتی کیا تھی خود کو۔آج تک احسام شاہ کو کسی لڑکی نے ایسے بات نہیں کہہ تھی نا ہی اسے لاجواب کیا تھا۔
“میں تمہاری اکڑ توڑ کر رکھ دوں گا۔۔۔ احسام شاہ کے سامنے کسی کی زبان نہیں کھلتی ۔۔۔ اور تم مجھے نیچا دکھاؤ!۔۔۔احسام شاہ ہوں میں ۔۔ دیکھ لوں گا تمہیں بھی”اس کے ہیولے سے مخاب ہوا۔دانت کے چرچرانے کی آواز کافی اونچی تهی۔
اگر احسام شاہ میں پاور تهی سامنے بندے کو سلگا کر رکھ دینے کی۔
تو اب اس حویلی میں احسام شاہ کو سلگانے کیلیے ماہم سعید شاہ کے قدم پڑ چکے تھے۔اور وہ تو کرتی بھی محبت تھی۔ ایسے کیسے دب جائے۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
اس نے کانپتے دل سے بن دروازے کو دیکھا اور پھر گردن مور کر اندھیرے کمرے کو۔
اسے علم تھا کہ وہ یہاں ہے۔
اسکی ٹانگوں میں عجیب درد سا اٹھ رہا تھا
آنے والا وقت کیسا ہو گا اسے نہیں علم تها۔لیکن اسکی جان نکل رہی تھی ۔
“کیا ضرورت تھی۔۔ بی جان اور ماہم کی جزباتی باتوں میں آنے کی” وہ منہ میں بڑبڑائی ۔اسے ڈر جو لگ رہا تھا۔
“مر جانا۔۔۔ مگر کسی اور کی نا ہونا”بی جان کی بات اسکے دل میں لگی تھی ۔کوئی تو بات تھی و بی جان نے پہلی بار اصول توڑا تھا ۔
پھر سے خود کو حوصلہ دیا ۔
حلق تر کرتے قدم آگے بڑھایے ۔ اندھیرے میں کیا علم کیا چیز کہاں پڑی ہے ۔گر اسے جانا تھا ۔
“س۔۔ا۔۔”ابھی وہ ہچکچاتے سیف کو پکارنے لگی تھی کہ کمرے میں کھڑاک ہوئی۔وہ فوراً سے اپنی جگہ ساکت ہو گئ۔ اسکے ڈر میں اور اضافہ ہو گیا۔
سہمتے پلٹنے لگی کہ کسی سخت چیز سے زوردار قسم کا تصادم ہوا۔
“آہ”اس کی چیخ نکل جاتی اگر اسکے منہ پر بروقت ہاتھ نا آتا۔
وہ سہمتی ڈرتی آنکھیں میچ گئ۔
مقابل کو اسکی یہ ادا بھی حسین لگی۔
وہ تو لائٹ اوف کر کے سونے لگا تھا مگر اسکے کمرے میں کوئی آیا تھا اور دروازہ بند ہوا تھا ۔
وہ محتاط انداز میں دروازے کی دوسری سائیڈ پر چلا گیا ۔اسکا کمرہ تھا اسے تو علم تھا کہ کونسی چیز کہاں پڑی ہے ۔
اسے حیرانی تو تب ہوئی جب اندر آنے والے کی بڑبڑاہٹ سنی صاف واضح تھا کہ وہ لڑکی ہے۔ وہ محتاط انداز میں اسکے پیچھے ہوا تا کہ اس کا ارادہ جان سکے۔لیکن جیسے ہی اس نے سائیں کا سا کہا تو سیف کو فوراً سے علم ہوا کہ یہ عنابیہ ہے۔اسکا پاؤں پاس پڑی کرسی سے لگا تھا جس سے کھڑاک ہویی تھی۔وہ کرسی کو درمیان میں رکھ کر بیٹھا تھا اور اٹھایی نہیں تھی۔
لیکن اسکی حیرت فوراً سے ختم ہوئی کیونکہ وہ پلٹ کر چیخنے والی تھی مگر اس نے فوراً اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ورنہ اس نے پوری حویلی کو اس کمرے میں جمع کرنے میں دیر نہیں لگانی تھی ۔
“تم یہاں کیا کر رہی ہو !” اس کے چہرے کے پاس آہستہ سے بھاری آواز میں پوچھا
عنابیہ جو بہت بری طرح سے ڈر گئ تھی اسکی آواز پر اپنی جگہ جیسے ساکت ہی ہو گئ ہو۔ وہ تو دیکھتا نہیں تھا کجا اسکے اتنے نزدیک!
دھیرے سے آنکھیں کھولیں اور اسے دیکھا
سیف نے آرام سے اسکے منہ سے ہاتھ ہٹایا۔
عنابیہ کا سانس پھولا ہوا تھا ۔فوراً سے چند قدم کا فاصلہ بنایا۔
سیف نے مدھم لال بتی جلا دی جس سے دونوں کے چہرے کافی حد تک واضح تھے بس فرق یہ تھا کہ عنابیہ نے دوپٹے کو ہاتھ سے پکڑ کر چہرے پر کیا ہوا تھا جیسے کہ وہ کرتی تھی ۔خود کو چھپاتی تهی۔
“کیا کر رہی تھی !”پھر سے پوچھا
“و۔۔وہ۔۔ بی ۔۔جان۔۔ نے بھیجا۔۔ تها”ڈرتے ہوئے جواب دیا۔
“کیوں!” ہاتھوں کو پیچھے باندھتے رعب سے پوچھا اسے مزا آ رہا تھا اسکے ڈرنےسے
“وہ۔۔۔ک۔۔کہہ۔۔۔رہی تھیں۔۔۔ ک۔۔کہ میں آپ۔۔سے بات ۔۔۔کروں”گہرے سانس میں ہمت سے بولی۔ بی جان کا حکم سر آنکھوں پر تھا ۔ مرنا پڑے تو مر جائے گی مگر ایک کوشش تو بنتی تھی اپنے لیے
“کس بارے میں !”ایک قدم اسکی طرف لیتے کہا
“ش۔شادی۔۔ کے۔۔ بارے میں ۔۔ وہ۔۔ چاہتی ہیں ۔۔ کہ آپ ۔۔۔ میں ۔۔شادی کر لیں”شرم سے لال ہوتی قدم پیچھے لیتی بول رہی تھی اسکی موجودگی بھی ڈرا دیتی تهی۔ اور آج وہ پہاڑ ہی سر کر رہی تھی
سیف کے لب مسکرائے اسکے اتنے معصوم انداز پر۔
اور تم !”اس کی طرف قدم مزید لیتے پوچھا
“م۔۔آہ”قدم پیچھے لیا کہ دیوار آ گئی کہ بے ساختہ وہ ڈر گئ کہ جیسے پیچھے پھر سے کوئی ہو گا مگر دیوار تھی۔
کانپتے لرزتے وجود اے اسے دیکھا جو اب 2 قدم کے فاصلے پر کھڑا تھا
“بولو !”ایک اور قدم لیا
“سچ میں”اسکے بازووں کو اپنی گرفت میں لیتے پوچھا ۔جان کر زرا سا دباؤ دیا کہ وہ سی کر گئ ۔
بس بیہوش ہونا باقی رہ گیا تھا ۔جتنی بڑی ہمت سیف نے کی تھی۔ اسے تولگا اب تو مار ہی دے گا۔
 “تم میں ایسا کیا ہے جو سب تمہیں میرے پلے باندھنے کی ضد لگائے بیٹھیں ہیں !” اسکے دونوں اطراف پر ہاتھ رکھتے پوچھا۔
عنابیہ خود میں سمٹی۔سہم کر اسکی طرف دیکھا۔
آنکھیں تو اسکی سرمئ آنکھوں پر ٹکی ہوئی تھیں۔
“مجھے ۔۔۔ج۔۔جانے دی۔۔دیں۔۔۔ سائیں” وہ اس کی قربت سے حواس باختہ ہوتے بولی۔
“اور اگر نا۔۔جانے دوں تو؟” اسکے چہرے کے پاس اپنا چہرہ کر کے کہا
اسکی تو روح فنا ہونے کے مقابل تھی
“سائیں۔۔۔ جان ۔۔۔لیں گے ۔۔۔کیا؟؟؟” وہ تیز دھڑکنوں کے ارتعاش میں بولی۔ ابھی دل جیسے باہر نکل آیے گا دھک دھک دھک دھک رفتار بے حد تیز تھی۔۔
وہ پراصرار سا مسکرایا
“تم۔۔ حسین ہو عنابیہ” وہ اسکے سرخ گال دیکھ کر بولا۔ وہ مزید خود میں سمٹی۔
اپنی تعریف پر اس نے پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا جو مسکرا رہا تھا مگر آنکھوں میں اپنائیت نہیں تھی۔
“آپ ۔۔سے بہت۔۔۔ محبت کرتے ہیں ہم”وہ اسکے خوبرو چہرے پر نظریں ٹکا کر بولی۔ اسکے نرم لہجے سے ہی اسے تھوڑی ہمت ملی تھی بات کرنے کی۔
“اور تمہیں اس بات کی اجازت کس نے دی؟” اس کی لمبی دراز پلکوں کو انگلی کے پوروں سے چھوا۔دل تو بے اختیار ہو رہا تھا اسکی طلب کیلیے۔
“میرے۔۔۔ دل نے” ہلکی سی مسکان سے نظریں جھکائے بولی
“تمہارا دل کھا جاؤں؟” معنی خیزی سے سوال کیا
“آپ کی قسم۔۔۔ حکم کریں” اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا
“تم مجھے چیلنج کر رہی ہو؟” اسکی محبت برساتی نگاہوں کو دیکھتے کہا۔ اسے اچھی لگی وہ معصوم سی عنابیہ
“مانے۔۔ یا نا۔۔۔ آپ۔۔کے دل۔۔۔ میں ۔۔۔ عنابیہ سامر کا نام۔۔ضرور نقش ہو گا” اسکے دل پر اپنی نرم گداز انگلیاں پھیڑتے کہا۔
سیف نے متاثرانہ انداز میں اسکے ہاتھ کو دیکھا ۔
یعنی محترمہ حق جتا رہی تھیں ۔
“آزما لوں تمہیں !” اسکی تھوڑی سے چہرہ اوپر کیا۔
وہ سرخ ہو گئ۔ اتنا سا لمس بھی پاگل کر رہا تھا ۔
“قبول ہے” مسکرا کر اسکی بات پر لبیک کہا
“دغا۔۔ تو نہیں دو گی!” اسکے اطراف میں دوبارہ ہاتھ رکھتے پوچھا ۔
“عنابیہ کا خون خاندانی ہے ۔۔۔ اسکی وفا بھی ۔۔ اور اسکی محبت بھی”مدھم آواز میں دھیمی مسکان سے وہ اسکو سرشار کر گئ ۔
ایک نرم ناز و ادا والی لڑکی سیف نے دیکھی تھی۔
اور ہاں وہ اسکا دل لوٹنے میں کامیاب ٹھہری۔
“کیا کہو گی بی جان سے!” اب ڑا فاصلہ بناتے سوال کیا۔
عنابیہ نےبتڑپ کر دیکھا جیسے وہ اسکا یقین نہیں کر رہا اور انکار کرے گا۔
“یہی۔۔ کہ عنابیہ کو مار دینا۔۔۔ پر سائیں ۔۔ کے سوا۔۔ کسی کے نام مت کرنا”چہرہ جھکاتے دھیمی نم آواز سے کہا اتنی بڑی ہمت کی تھی اس سے بات کرنے کی۔ اب تو اسے مان جانا چاہیے تھا ۔
“جاؤ۔۔۔ اور انہیں کہو۔۔ تمہیں اتنا حسین سجائے۔۔۔ کہ پورے شاہ خاندان کو پتہ لگے۔۔۔ کہ تم سیف یوسف شاہ کی بیوی ہو”اپنے رعبدار آواز میں اسے محبت کی جیت کا انعام دیا تھا
اس نے بے یقینی سے اسے دیکھا ۔وہ ہلکی مسکان سے اسے دیکھ رہا تھا ۔
اب اسکا رکنا محال تھا ۔
تیزی سے اسکے اطراف سے نکلی اور تقریباً بھاگتے ہوے کمرے کا دروازہ کھول کر نکل گئ۔ ۔
وہ اسکی ادا پر پھر سے مسکرا دیا۔
احسام کو حس بات کا ڈر تھا وہ تو ہو گیا۔
سیف کی نظر عنابیہ پر چکی تھی اور وہ اسکا اسیر ہو چکا تھا ۔
اب تو حق بنتا تھا ۔
کیا ہونا تھا اب شاہ حویلی کے مکینوں کی قسمت کے ساتھ ۔

کمنٹس میں ضرور بتائیں۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناول نگری میں ہر نئے پرانے لکھاری کی پہچان، ان کی اپنی تحریر کردہ ناول ہیں۔ ناول نگری ادب والوں کی پہچان ہے۔ ناول نگری ہمہ قسم کے ناول پر مشتمل ویب سائٹ ہے جو عمدہ اور دل کو خوش کردینے والے ناول مہیا کرتی ہے۔
ناول کا ریوئیو دینے کیلئے نیچے کمنٹ کریں یا پھر ہماری ویب سائیٹ پر میل کریں۔شکریہ

novelsnagri786@gmail.com

Read New Haweli based novel at this website Novelsnagri.com for more Online Urdu Novels and  Afsanay that are based on different kind of content and stories visit this  website and give your reviews. you can also visit our Facebook

Leave a Comment

Your email address will not be published.