Web Special Novel, New Most Romantic Novel, Rude Heroine,

New Most romantic novel Qaid-e-Junoon Episode 1

Web Special Novel, New Most Romantic Novel,

#Qaid_e_Junoon 

#Writer Faiza Sheikh 

New Most romantic novel ,

 

قید جنون

#قسط نمبر ١

ازقلم فائزہ شیخ 

میں نے کیا کہا تھا تم سے “تراب خان “اس کی سرد آواز کمرے کی دیواروں سے ٹکراتی اس کی آواز کسی شیر کی مانند تھی جو سب کچھ چیر پھاڑ کے رکھ دینا چاہتا تھا ۔۔۔۔

سرررر ۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔ لڑکی ہاتھ سے نکل گئی پررر ۔۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں آپ کو ہر حال میں وہ لڑکی لاکر دونگا ۔۔۔ پلیز ڈائمن ااااس باررر معاف کردیں ۔۔۔۔

تراب کی ہچکچاہٹ مقابل کو مزید غصہ دلا گئی ڈائمن اچانک ہی رخ موڑتا اس کی گردن اپنے ہاتھوں میں دبوچ گیا

ڈائمن کی گرفت سخت سے سخت ہو تی جارہی تھی ۔۔۔

“تراب خان “ڈائمن کے دھندے میں کوئی معافی نہیں ۔۔۔۔۔ کوئی نہیں کہتے ہی ڈائمن نے اپنی پسٹل سے اس کے سر کا نشانہ لیا ۔۔۔

تراب خان اس کے اس قدر ری ایکشن پرششدر سا تھا ڈائمن کا ایک معمولی سی لڑکی کے لیے اس قدر دلچسپی تراب خان کو کچھ ہضم نہیں ہو رہی تھِی

اس سے پہلے کے ڈائمن تراب خان کا بھیجا اڑاتا اسے ایک کال آنے لگی تراب خان فورا جان بچا کر بھاگا وہ ڈائمن کا خاص آدمی تھا ڈائمن نے نمبر دیکھتے ہی فورا کال پک کی اس کے چہرے کے تعصرات پل بھر میں بدلے تھے ۔۔۔۔ ایک خوبصورت سی مسکراہٹ نے اس کے چہرے کا احاطہ کیا تھا ۔۔۔۔ اگر کوئی ڈائمن کو اس حالت میں دیکھتا تو پکا بیہوش ہو جاتا

اس کا یہ روپ تو صرف کسی خاص کے لیے تھا ۔۔۔ وہ ڈائمن تھا جس کی دہشت پورے لندن پر چھائی ہوئی تھی لوگ ڈائمن کا نام سن کر کانپ جاتے تھے

آج تک ڈائمن کو کسی نے نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔اس کی یہی خاصیت تھی ۔۔۔ وہ سب میں رہ کر بھی سب کی نظروں سے اوجھل تھا ۔۔۔۔

__________

ماما آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتیں سنا آپ نے ۔۔۔۔۔!!!میں کسی طور بھی اس شخص سے شادی نہیں کرونگی ۔۔۔۔

“آپ کے بابا فیصلہ کر چکے ہیں شمائل آپ کی شادی ہوگی اور صرف ازراق خانزادہ سے ہوگی اور آپ کو ان کے فیصلے کی عزت کرنی ہوگی ہر صورت “

میں ۔۔۔ مامما میں نہیں کر سکتی اس سے شادی آپ سمجھ کیوں نہیں رہی ماما۔۔۔۔ میں مر جاونگی ۔۔۔

شمائل ہاشم خان “۔۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کے شمائل مزید ایک لفظ اپنی زبان سے نکالتی جب سرد آواز کانوں میں پڑی ۔۔۔ ہاشم خان عین اس کے سامنے آکھڑے ہوئے

کیا کہا زرا دوبارہ بولیں اپنی زبان ۔۔۔۔۔۔ سے کیا چاہتی ہیں آپ ۔۔۔۔ باپ کو رسوا کرنا کیا یہی ہم نے آپ کی تربیت کی ہے کہ آپ اب ہمارے فیصلوں سے انکار کرو ۔۔۔۔۔۔

شماِئل کی سانس تک سوکھ گئی ۔۔۔ وہ ڈرتی کسی سے نہیں تھی مگر باپ کے سامنے اس کی ایک نہیں چلتی تھی ۔۔۔

ہاشم خان ملک کے جانے مانے بزنس مین تھے ۔۔۔ ان کا ایک نام تھا وہ۔ایل اصول پرست انسان تھے ساری زندگی انہوں نے اپنے وقار کی حفاظت کی تھی ۔۔۔ اور اب شمائل سے بھی یہی امید کرتے تھے شمائل ان کی اکلوتی بیٹی تھی ہاشم خان کو بیٹے کی بڑی چاہت تھی پر ایک بیٹی کے بعد ۔۔۔۔ تبسم بیگم کبھی ماں نا بن سکیں ۔۔۔۔

ہاشم خان نے بہت محبت سے شمائل کو پالا تھا دنیا کی ہر شے اس کے قدموں میں ڈھیر تھی پر وہ لبھہ اپنے وقار سے سمجھوتا نہیں کرتے تھے

شمائل بے حد خوبصورت تھی کمر سے نیچے جاتے سیاہ بال،سرخ و سفید رنگت ،سبز نین کٹورے ،دراز پلکیں ،گلابی دل نشین لب تیکھی ناک نیز وہ قدرت کا بنایا انمول معجزہ تھا جس کے لیے کسی بھی شے کو مات دی جاسکتی تھی

پر اس کی ایک عادت بے حد بری تھی وہ غلط بات برداشت نہیں کر پاتی تھی اور خود کو صحیح ثابت کرکے دکھاتی تھی ۔۔۔

بابا آپ چاہتے ہیں جیسا بلکل ویسا ہی ہوگا ۔۔۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں “شمائل ہاشم خان “ہی آپ کو وارث دے گی

اب بات میری انا سے بہت آگے نکل چکی ہے ۔۔۔ ابھی تک ہاشم خان نے صرف محتشم سید کی دوستی دیکھی ہے پر وہ ابھی میرے جنون سے نا واقف ہے وہ آپ تھے جو ہاشم خان کو معاف کر گئے پر میری زندگی میں معافی لفظ کی کوئی جگہ نہیں ۔۔۔ خون کے بدلے خون پر یقین رکھتا ہوں ۔۔۔۔۔ اور میری سیج تو شمائل ہی سجائے گی چاہے کچھ بھی ہو جائے کسی بھی صورت اسے میرا ہونا ہو گا بائے ہک یا بائے کرک ۔۔۔۔

وہ سرد تاثرات چہرے پر سجائے اپنے بابا سے مخاطب تھا جو پچھلے دوسال سے صرف ایک ہی حسرت لیے تھے ان کی اس خواہش کو پورا کرنا اب “براق “پر فرض کر دیا گیا تھا ہے شمائل ہاشم خان کی زندگی میں آنے والے ہر لمحے پر جیسے وہ گرفت حاصل کرنا چاہتا تھا

پر یہ تو وقت نے طے کرنا ہے کہ زندگی کس کو ملتی ہے سزا وار کون ثابت ہوتا ہے ۔۔۔۔پر یہ تو طے تھا شمائل ہاشم خان نے اپنے لیے کانٹے خود خرید لیے تھے

جس شخص کی جنونیت کی روداد ا سکا باپ نا برداشت کر سکا تھا اس نازک سے وجود پر تو قہر بر ہا ہونا تھا ۔۔۔۔۔ براق کے اندر دہکتی آگ کو جیسے بھڑکنے کی وجہ مل گٙئی تھی ا سکا ایک ہی مقصد تھا خاک میں ملانا یا خاک ہونا اب یہ وقت نے طے کرنا تھا کون خاک میں ملتا لے اور کون ملاتا ہے

تم جارہی ہو ؟

ہاں جناب ۔۔۔ کیا یہیں بٹھانے کا ارادہ ہے وہ چہرے پر ہاتھ رکھے مسکراتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔

ہاں میں تو چاہتا ہوں تم یہیں رہو ہمیشہ میری باہوں میں قید ۔۔۔۔۔اس کی بات سنتی وہ شرماتی ہوئی دور جا کھڑی ہوئی ۔۔۔۔۔

تم پورے پاگل ہو ۔۔۔۔۔

ہاں تمہارے عشق میں تمہارے خمار میں ۔۔۔۔۔ ا سکا انداز شدید بہکانے والا تھا

وہ مغرور سی اس کی چاہت پر صدقے جارہی تھی بنا یہ جانے کہ کونسی قیامت اس کے انتظارمیں ہے آج اس کی زندگی کی سب سے بھیانک رات تھی جسے وہ مرتے دم تک یاد رکھنے والی تھی ۔۔۔ شکاری گھات لگائے بیٹھاتھا وہ تو خود ہی جال میں پھنسنے چلی آئی تھی

محبت کی ہے کسی سے “سرد ٹھٹھراتاہوا لہجہ تھا شمائل کی سانسیں دھونکنی کی مانند چلنے لگیں

وہ شمائل کے چہرے پر اپنی شہادت کی انگلی پھیرتا عجیب سے لہجے میں بولا انداز ایسا تھا جیسے کسی وحشی نے پری کو قید کیا ہو

شمائل کے جواب نا دینے پر جیسے اس کے اندر کا حیوان انگڑائی لیکر بیدار ہوا تھا

اس نے ایک ہی جھٹکے سے اپنے دوسرے ہاتھ میں پکڑی سگریٹ کا گہرا کش لگایا اور دھوئیں سے اس کا چہرہ بھر دیا شمائل بری طرح سے کھانسنے لگی پر دوسری جانب پرواہ کسے تھی اس سے پہلے کہ شمائل اپنا سانس بحال کرتی وہ اس کی سانسیں خود میں الجھا چکا تھا بڑی توجہ سے اس کے نازک اندام لبوں کے جام سے خود کو سیراب کر رہا تھا پر بلکل اچانک ہی اس نے شمائل کو کسی اچھوت کی طرح خود سے دور دھکیلا اور ٹشو سے اپنے ہونٹ صاف کرنے لگا۔۔۔۔

شمائل اپنی حالت کی پرواہ کیے بنا اس بے رحم سفاک شخص کو دیکھ رہی تھی کتنی نفرت سے اس نے جھٹکا تھا

پر وہ اتنی گری پڑی تو نا تھی

شمائل اک دم سے اپنے درد کو بھلائے اس کے مقابل آئی اور کھینچ کر اس کا گریبان اپنے ہاتھوں میں دبوچا ۔۔۔۔

“ڈونٹ یو ڈئیر ٹو ٹچ می لائک دس ۔۔۔ تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میں” شمائل ہاشم خان “تمہیں جواب دونگی تمہارے کسی بھی بیہودہ سوال کا کیا ہوا۔۔۔ ڈرتے ہو کہ میرے قریب آنے سے تمہاری انا پر کاری وار ہوتا ہے تم خود کو کمزور محسوس کرتے ہو ۔۔۔ ہاہاہا ارے لارڈ صاحب میں وہ لڑکی نہیں ہوں جسے تم توڑوگے تو وہ ٹوٹ جائے گی ۔۔۔۔

میں وہ ہوں وفا کرو گے وفا کرونگی دغا کرو گے دغا کرونگی ۔۔۔ مجھے کمزور سمجھنے کی بھول مت کرنا ورنہ جس ٹشو سے منہ صاف کیا ہے نا اسی ٹشو کی طرح کسی ڈسٹبن کی زینت بنی ہو گی تمہاری یہ دو ٹکے کی صورت ۔۔۔۔ بڑا زعم ہے نا اپنی مردانگی کا تو حاصل کرکے دکھاو “شمائل ہاشم خان “کو تمہیں خاک چھاننے پر مجبور نا کر دیا تو میرا نام بھی “شمائل ہاشم خان نہیں ۔۔۔۔”

شمائل نے بھی اسی کے انداز میں اسے للکارا تھا.

کومنٹس کر کے جائے شاباش.

ناول نگری میں ہر نئے پرانے لکھاری کی پہچان، ان کی اپنی تحریر کردہ ناول ہیں۔ ناول نگری ادب والوں کی پہچان ہے۔ ناول نگری ہمہ قسم کے ناول پر مشتمل ویب سائٹ ہے جو عمدہ اور دل کو خوش کردینے والے ناول مہیا کرتی ہے۔
ناول کا ریوئیو دینے کیلئے نیچے کمنٹ کریں یا پھر ہماری ویب سائیٹ پر میل کریں۔شکریہ
novelsnagri786@gmail.com

Read New Most romantic novel , with romantic Ups and Downs. At this website Novelsnagri.com  Also Give your comments on the novels and also visit our Facebook page for hope all of you enjoy it.

3 thoughts on “New Most romantic novel Qaid-e-Junoon Episode 1”

Leave a Comment

Your email address will not be published.