Web Special Novel, New romance novel,

New romantic novel, Tu Mera Sanam ,Epi 4

Web Site: Novelsnagri.com

Category: Web special novel ,New romantic novel, Tu Mera Sanam Haweli Based Novel Episode 4 Written by: Areeba Afzal.

Web Special Novel, New romantic novel,

تو_میرا_صنم

#از_اریبہ_افضل

#قسط_4

“ابے یہاں تالا کاہے کو لگا ہے ” وہ منہ سے سیگریٹ نکال کر دروازے کی جانب دیکھتا بولا تھا جہاں لگا بڑا سا تالا اس کو منہ چڑا رہا تھا
“پتہ نہیں بوس ” دوسرے آدمی نے عجلت میں ادھر ادھر دیکھتے جواب دیا تھا
“جا کسی سے پوچھ ” مہاویر پیشانی مسلتا بولا تھا تب اس کا آدمی وہاں سے چلا گیا اور اگلی خبر جو اسے ملی وہ اس کا دماغ گھوما گئی تھی
“بوس وہ تو کل رات ہی یہاں سے چلے گے ہے پاس والے ہمسایہ نے یہی بتایا “
آدمی نظریں جھکائے بولا تھا جب کہ اس کی بات سنتے مہاویر کی دماغ کی رگیں جیسے پھٹنے کو تھی غصہ اس کی آنکھوں میں ابھر گیا تھا اپنا سارا پلین اسے چوپٹ ہوتا نظر آیا تھا ۔۔۔۔
“دو گھنٹے ہے تم لوگوں کے پاس چاہے پورا شہر ڈھونڈ مارو یا شہر کے باہر جاؤ میرے کو وہ حسین بلا ہر قیمت پر چاہیے دفع ہو جاؤ اب “
وہ گن کو لوڈ کرتے قہر برساتی نظروں سے انہیں دیکھتے بولا تھا جس پر اس کے آدمی وہاں سے جا چکے تھے
“آخر کدھر تک بھاگے گی توں ہاں آنا تو اس شیر کی کچھار میں ہی ہے تجھے میری شیرنی “
وہ چہرے پر شیطانی مسکراہٹ رکھتے کچھ سوچتے ہوئے بولا اور پھر خود بھی وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔
____________________________!!
سورج کی کرنیں اس کی سرخ و سپید چہرے پر پڑ رہی تھی آہستہ سے آنکھیں کھولتے اسے کچھ پل کے لیے پتہ نا چلا کہ وہ کہاں موجود ہے مندی مندی آنکھیں کھولتے خود کو سنبھالنے کی ناکام سی کوشش کی تھی سر بھاری ہو رہا تھا ۔۔۔
آنکھیں سرخ ہو رہی تھی وہ سر پر ہاتھ رکھتا اٹھ کر بیٹھ گیا تھا آس پاس دیکھا ٹیبل ویسے ہی پڑا ہوا تھا فرش پر شیشے کے ٹکڑوں کے ساتھ خون بھی پڑا ہوا تھا جیسے دیکھ وہ حیران ہوا تھا ۔۔۔۔
وہ فورا سے پہلے نیچے بھاگا تھا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا تھا وہ سب سے پہلے اپنے کمرے میں تھا سیدھا واش روم میں بند ہوتے شاور چلا کر اس کے نیچے کھڑا ہو چکا تھا
کل رات کیا ہوا تھا وہ تو صنم کے ساتھ تھا اس کے قریب پھر یہ سب اور وہ خون اسے چوٹ نہیں آئی تھی کہی نہیں پھر کیا صنم کو ؟ صنم کا خیال آتے ہی وہ فوراً سے پہلے چینج کرتا نیچے اسے آوازیں لگاتا بھاگا تھا
“صنم ۔۔۔۔!! صنم۔۔۔۔۔! کہاں ہو “
اس کی آواز پہلے کی بانسبت بلند ہوئی تھی آواز میں بے چینی بڑھی تھی
“بی اماں صنم کہاں ہے ” وہ بے چینی اور عجلت میں بی اماں کے کمرے میں داخل ہوا تھا جب سامنے بی اماں کے ساتھ چپک کر بیٹھی صنم کو دیکھا تھا اس کی آنکھوں میں ڈر ، خوف تھا جو وجی کو دیکھ بڑھ گیا تھا
“وجدان جاؤ تم یہاں سے ” بی اماں وجی کی جانب دیکھتی سنجیدہ آواز میں بولی تھی جس پر وجی نے آنکھیں سکیڑی
“صنم آؤ کمرے میں مجھے بات کرنی ہے تم سے ” وہ بی اماں کی بات سرے سے اگنور کرتا صنم کی جانب دیکھتا بولا تھا جس نے سہمی ہوئی نظروں سے بی اماں کی جانب دیکھا تھا
“صنم تمھیں سنائی نہیں دے رہا ” وہ اسے آنکھیں دیکھاتے بولا تھا جس پر صنم نے با مشکل نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
اس کا انکار سنتے غصہ عود کر آیا تھا اسے وہ دانت کچکاتے آگے بڑھا تھا بیڈ کے پاس جاتے اس نے صنم کو بازوؤں میں اٹھایا اور وہاں سے بی اماں کے کمرے سے نکل گیا صنم کی آنکھیں پل میں اس کی بے باکی پر متحیر ہوئی تھی ایک پل کو وہ سمجھ نا پائی کہ آخر کیا ہوا تھا ۔۔۔
کمرے میں لے جاتے وہ اسے بیڈ پر پٹخ چکا تھا شرٹ کے اوپری دو بٹن کھولے وہ بالوں میں ہاتھ چلا گیا تھا اس کے نم بال کم از کم اسے راحت پہنچا سکتے تھے اپنی بات کی انکاری کہاں گوارہ تھی اسے آنکھوں میں طیش بھرے اس نے صنم کی جانب دیکھا تھا جو اس کے نیچے دبکی ہوئی تھی ۔۔۔
“کیا تکلیف ہے انکار کیوں کر رہی تھی “
وہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھنسائے بولا تھا صنم سسک کر رہ گئی تھی کل رات اس کا روپ یاد کرتے اس کی آنکھوں میں نمی ابھری تھی ۔۔۔
“م۔مجھے ۔ڈ۔ڈر ل۔لگتا ہے آپ سے ” وہ اٹکتے لہجے میں روتے ہوئے بولی تھی جس پر وجی نے بھنوئیں آچکائی تھی نظر اس کے ماتھے کی جانب گئی تھی جہاں پٹی بندھی ہوئی تھی ۔۔۔
“اوو شٹ ” اسے پل میں سمجھ آیا تھا کہ کل رات کیا ہوا تھا کیوں صنم اس سے ڈر رہی ہے اس نے سختی سے آنکھیں میچی تھی کیوں اس کا کل اس کے آج پر حاوی ہو جاتا تھا کیوں آخر
“تمھیں ڈرنا بھی چاہیے” وہ اس کے کان کے قریب جھکتے کان کی لو کو دانتوں سے دباتا بولا تھا جس پر صنم خوف سے سہمی تھی
“تمھیں صرف وجی سے ڈرنا چاہیے صنم تمھاری یہ کپکپاہٹ مجھے اٹریکٹ کرتی ہے تمھاری ” وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا اس کا ذہن دوسری جانب مبذول کروانے کی پوری کوشش میں تھی صنم کی آنکھیں اس کی بات پر پھیل گئی تھی
“تمھیں پتہ ہے میری ایک اور بیوی تھی” اس کی گردن پر اپنا سلگتا لمس چھوڑے وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈالے اسے خود کے بے حد قریب کر گیا تھا مگر صنم تو اس کی بات میں ہی اٹک گئی تھی
“بولو پتا ہے کیا ” اس کے بالوں میں ہاتھ پھنساتے وہ اس کا چہرہ اوپر کرتے مخمور نظروں سے اسے دیکھتے اپنے جواب کا خواہشمند تھا صنم نے ڈرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھا تھا جو عجیب ہی منظر پیش کر رہی تھی
“۔نہ۔یں نہیں” اٹکتے لہجے میں اس کی قربت پر صنم کو ہوش نا تھا کہ وہ کیا بولے اس کی بات سنتے وجدان تلخ مسکراہٹ چہرے پر سجا گیا تھا
“صنم میں نے اپنے ان ہاتھوں سے اس کا قتل کر دیا پتا ہے کیوں ؟ کیوں کہ اس نے مجھ سے بے وفائی کی تھی “
وہ اس کے کان کے قریب جھکتے جیسے اس کی سماعتوں میں خوف انڈیل رہا تھا صنم نے آنکھیں زور سے میچی اس کی سرد گھمبیر آواز پر اس کے رونگھٹے کھڑے ہوئے تھے ۔۔۔
“تمھیں ڈرنا چاہیے مجھ سے اس لیے نہیں کہ میں برا ہوں بلکہ اس لیے کہ میں بہت اچھا ہوں “
وہ ہولے سے اپنے لبوں سے اس کے نازک ہونٹوں کو چھوتا ہوا بولا تھا صنم کے لب کپکپا اٹھے تھے اس کا چہرہ خوف کی وجہ سے سفید پڑنے لگا تھا..
“جو لوگ حد سے زیادہ اچھے ہو نا وہ حد سے گزرے ہوئے ہوتے ہیں بری حدوں سے گزرے ہوئے”
اس کی کندھے پر اپنا لمس چھوڑے وہ طنزیہ مسکراتے ہوئے بولا تھا…”آئندہ میرے بلانے پر تم میرے پاس فوراً آؤ گی میری ہر بات مانو گئی از دیٹ کلئیر “وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں وارننگ دیتا بولا تھا جس پر صنم نے ہولے سے اثبات میں سر ہلایا…
“گڈ گرل ” اس کی چوٹ پر اپنے لب رکھتا وہ اسے کھینچ کر اپنے اوپر کرتا خود بیڈ پر لیٹ گیا تھا
“زیادہ نا سوچوں میری بیوی کے بارے میں چاہے یہ مذاق ہو مگر میں ایسا کر سکتا ہوں “وہ ہولے سے ہنستے ہوئے بولا تھا آخر میں اس کا لہجہ سنجیدہ ہو گیا تھا صنم نے آنکھیں سکیڑی اسے کیسے پتا وہ اس کی بیوی کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی کتنا برا تھا وہ بلکہ نہیں کتنا اچھا تھا وہ جو مذاق بھی ڈرانے والا کرتا تھا مونسٹر نا ہو تووہ دل ہی دل میں بولی تھی ۔۔۔۔۔!!
“سوری کل رات کے لیے ” وہ اس کی کمر پر گرفت مظبوط کرتا اس کے ہونٹوں پر جھکتا بولا تھا آہستہ آہستہ اس کی سانسیں خود میں اتارتے وہ کسی اور ہی دنیا میں صنم کو لے گیا تھا سانس رکنے پر صنم نے اس کی شرٹ کو جھٹکا دیا جو آہستہ سے اس سے الگ ہوا
“تیکھی ہو تم ” وہ آنکھوں میں شرارت بھرے بولا تھا صنم کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا اس نے فوراً سر اس کے سینے پر چھپایا تھا اس انسان کا بدلتا مزاج صنم کی سمجھ سے باہر تھا ۔۔
_______________________!!
“کیا سمجھتا ہے وہ خود کو پوری یونیورسٹی جیسے خرید رکھی ہو اس نے “
وہ غصے سے منہ پھلائے گھر میں داخل ہوتی بڑبڑا رہی تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ افان کا گلہ دبا دے جو کتنے رعب سے اس پر حکم چلا رہا تھا
کمرے میں بیگ رکھتے وہ جونہی باہر نکلی اس کا ٹکراؤ ممانی سے ہوا تھا جو اسے دیکھتی نخوت سے رخ موڑ گئی تھی انہوں نے آنکھوں میں چمک لیے ایک لڈو لیزا کی جانب بڑھایا جیسے دیکھ وہ چونک گئی تھی ۔۔۔
“لو کھاؤ لیزا تمھارے بھائی کا رشتہ طے ہو گیا ہے لڑکی بہت اچھی اور امیر گھر کی ہے “
ممانی اس کے منہ میں لڈو ڈالتی بولی تھی انہوں نے خاصا زور بھائی لفظ پر دیا تھا لیزا حیرانی کا پتلا بنے کھڑی رہی تھی ۔۔۔
“ممانی اسے دیکھتی وہاں سے چلی گئی جبکہ ایک پل میں وہ جو تھوڑی بہت امیدیں تھی وہ چکنا چور ہو گئی تھی زیادہ امیدیں تو اس نے اس دن ہی کسی سے لگانی چھوڑ دی تھی جب اس کے والد مرے تھے اور انہیں سہارا دینے والا کوئی نہیں تھا مگر فہد کے لفظوں نے جو تھوڑا بہت محبت کا احساس کروایا تھا وہ بھی اب ٹوٹ چکا تھا
وہ خاموشی سے جا رہی تھی جب پیچھے سے فہد کی آواز نے اس کے قدم جکڑے تھے
“لیزا کیا تم کورٹ میرج کرو گی مجھ سے”
اس کے الفاظ سن لیزا کی سماعتوں پر جیسے بم پھٹا تھا لیزا نے حیرانگی سے اس کی جانب دیکھا
“فہد پلیز بس کرو مجھے اور جھوٹی امیدیں نہیں پالنی بہتر ہے تم اپنی منگیتر کے بارے میں سوچوں میں نہیں چاہتی میری وجہ سے گھر میں انتشار پیدا ہو پلیز جتنا ہو سکے دور رہوں مجھ سے “وہ ہاتھ کھڑا کرتی آنسو پیتے بولی تھی اس کی بات پر فہد نے تڑپ کر اس کی جانب دیکھا تھا
“لیزا یہ سب میری خواہش نہیں ہے میری چاہت تم ہو میں مر جاؤں گا تمھارے بغیر “وہ ایک قدم اس کی جانب بڑھائے بولا تھا جس پر لیزا نے زخمی نظروں سے اس کی جانب دیکھا
“جو بھی ہے وقت پر چھوڑ دو میں کچھ سننا نہیں چاہتی پلیز فہد ” وہ لب بھینچ کر بولی تھی فہد نے ستے چہرے سمیت اسے دیکھا تھا
“صیح ہی تو کہہ رہی ہے یہ اگر تو نے اس شادی کرنے کا سوچا بھی تو میرا مرا ہوا منہ دیکھے گا “
ممانی کی فرخ آواز پر لیزا نے پیچھے کو مڑ کر دیکھا تھا اس کے چہرے پر سنجیدگی در آئی تھی
“ایک ان لوگوں کو کھلاؤ اور دوسرا یہ ہمارے ہی پیچھے پڑ جاتے ہیں “
ممانی طعنہ دیتے ہوئے نخوت سے کہتی فہد کو وہاں سے لے گئی تھی اسے جاب پر جانا تھا وہ بغیر کچھ بولے اپنی ماں کے کمرے میں گئی تھی
جو گھر کے کام کرتی تھک ہار کر اس وقت کمرے میں گئی ہو گی
“ماں میں جاب پر جا رہی ہو “
وہ اپنا بیگ اٹھاتی بول رہی تھی جب اس کی نظر میمونہ بیگم پر پڑی وہ زمین پر پڑی ہوئی تھی اس کی چینخ فضا میں بلند ہوئی تھی
فوراً سے پہلے انہیں ہاسپیٹل شفٹ کیا گیا تھا ضبط کے باوجود اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے تھے اس کی ماں ہی تو اس کا سہارا تھی اب
“چلو جی اب ایک نیا خرچ ہمارے سر آ گیا ہے نجانے کب جان چھوٹے گی ان لوگوں “
ممانی الگ پریشان تھی جبکہ ماموں کام پر تھے فہد ہاتھ سینے پر باندھے ایک سائیڈ پر کھڑا تھا
“ڈاکٹر میری مما ” وہ آنسو صاف کرتی ڈاکٹر کے باہر آنے پر فوراً اس کی جانب لپکی تھی
“پیشنٹ کو ہارٹ اٹیک آیا تھا وقت پر آپ لوگ لے آئے ہے مگر سرجری کرنی ہو گی اگر اب ایسا کچھ بھی ہوا تو ان کی جان بھی جا سکتی ہے “
ڈاکٹر انہیں دیکھتے بولا تھا لیزا کے ہوش اڑے تھے وہ کیسے اپنی ماں کو کھو سکتی تھی
“ڈاکٹر پلیز آپ سرجری شروع کر دے ” وہ روتے ہوئے بولی تھی
“آپ کیش جمع کروا دے پندرہ لاکھ پھر ہم شروع کرتے ہے اگلے چوبیس گھنٹے میں سرجری ہو جانی چاہیے اس لیے ذرا جلدی کرے “ڈاکٹر کہتے وہاں سے چلا گیا تھا جبکہ اتنے پیسوں کا سن لیزا کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھی اس کی جاب بھی ابھی لگی تھی اتنے پیسے تو کبھی سوچیں بھی نہیں تھے
اس نے”تم فکر نا کرو لیزا ہو جائے گا سب سیٹ “فہد اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے اسے تسلی دیتے ہوئے بولا مگر وہ خود نہیں جانتا تھا کہ سب کیسے ہو گا
“کیسے ہو جائے گا اتنے پیسے کہاں سے آئے گے اب کیا اپنا گھر بیچ دے اس کے لیے جب سے آئی ہے ہمارے پیسے ہی اڑا رہی ہے کتنے سالوں سے بوجھ اڑایا ہوا ہے اچھا ہے مر جانے دو “
ممانی طنز کے تیر برساتی بولی ان کی بات پر لیزا نے غصے سے ان کی جانب دیکھا تھا
“ممانی خبردار میں آج تک آپ کی ہر بات سہتی آئی ہوں ہر الزام صرف اپنی مما کے لیے اگر آپ نے میری مما کے خلاف کچھ بھی بولنے کی کوشش کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا مت دے آپ لوگ پیسے میں خود ہی انتظام کر لوں گی “
وہ آنکھوں میں آنسو لیے غصے سے بولی تو ممانی نے منہ بنایا تھا
وہ وہاں سے فہد کو لے کر چلی گئی تھی لیزا نے اسے کی جانب دیکھا جیسے کہہ رہی ہو “یہی تمھاری سو کولڈ محبت تھی “
وہ وہاں اکیلی رہ گئی تھی اور اگر اس وقت اس کی ماں کو کچھ ہو جاتا تو وہ پوری دنیا میں اکیلی رہ جاتی
___________________________!!
“آپ جاب پر نہیں آئی ” آفس سے فون تھا اس نے لب بھینچے خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کی
“سر میں ہاسپیٹل میں ہوں میری مما کی طبیعت نا ساز ہے میں پرسوں تک جوائن کروں گی “
وہ لبوں پر زبان پھیرتی بولی تھی جس پر اگلی جانب سے صد شکر اچھی خبر تھی کہ اسے جاب سے نہیں نکالا گیا تھا ۔۔۔
وہ وہاں سے سیدھا یونیورسٹی گئی تھی بارے گھنٹے گزر چکے تھے اب بس بارہ گھنٹے تھے اس درمیان اس کے پاس کوئی نہیں آیا تھا نا کسی نے اس کا حال پوچھا تھا
“لیزا یہ کیا حال بنا رکھا ہے تم نے اپنا “
افرا اسے دیکھتی حیرت سے بولی تھی جس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی ناک بھی لال تھی بجھا ہوا چہرہ بال الجھے ہوئے تھے افرا کو فکر ہوئی تھی
“افرا مما ” وہ اس کے گلے لگے ضبط کھوتی رونے لگی تھی۔۔۔۔
“کیا ہوا آنٹی کو ” افرا اسے تسلی دیتی خود سے الگ کرتے پوچھنے لگی جس پر لیزا نے تمام بات اسے بتا دی تھی افرا بھی پریشان ہوئی تھی افرا کوئی بہت امیر گھرانے سے نہیں تھی جو اتنے پیسے ارینج کر دیتی مگر وہ اسے تسلی دے رہی تھی جو ایک اچھی دوست ہمیشہ دیتی ہے
“تم فکر نا کرو میں کچھ کرتی ہوں ” افرا کچھ سوچتے ہوئے لیزا کو وہاں سے چلی گئی تھی جبکہ وہ گھم صم اپنی ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھ رہی تھی
“افان بھائی پلیز میری مدد کر دے ” افرا سیدھا افان کے پاس پہنچی تھی افان اکڑو تھا مگر افرا جانتی تھی اس وقت وہی اس کی مدد کر سکتا ہے
“اوئے ایم نوٹ یور بھائی وائی ” وہ سن گلاسز کے پار اسے دیکھتا چڑ کر بولا تھا اس کی حرکت پر مہروز ہولے سے مسکرایا تھا
“کیا ہوا ہے پوری بات بتاؤ” وہ افرا کی جانب دیکھتا بولا تھا افرا نے پوری بات جب افان کو بتائی تو اس کی آنکھیں چمک اٹھی تھی پھر ان میں غصہ بھر گیا
“اوو تو مس فٹیچر کو مدد چاہیے باتیں تو بہت بڑی بڑی کر رہی تھی وہ اب کیوں بھیجا ہے اس نے تمھیں “
وہ طنزیہ مسکراہٹ لیے بولا تھا جب پر افرا نے کب کچلے۔۔۔۔۔۔
“وہ اس نے مجھے نہیں بھیجا میں خود آئی ہوں ” افرا ٹھہر ٹھہر کر بولی تھی افان کے ماتھے پر بلوں کا آضافہ ہوا تھا…
“ذرا ڈیٹیل دینا اپنی اس غریبوں ماسی کی “
افان آگے کی جانب جھکتے بولا تو افرا نے لیزا کی تمام ڈیٹیل اسے دے دی کہ وہ کہاں رہتی ہے کس حالات میں ہے وغیرہ وغیرہ “
“اووو تم جاؤ میں دیکھ لو گا سب ” اس کے شیطانی دماغ میں بہت کچھ ترتیب دیا گیا تھا لبوں پر جان لیوا مسکراہٹ تھی
“میری تربیت پر انگلی اٹھائی تھی نا اس نے مجھے بولا تھا کہ وہ میری جاگیر نہیں ہے اب دیکھنا میں کیا کرتا ہوں اس کے ساتھ “
وہ شیطانی ارادے لیے یونیورسٹی سے نکلتا گیا تھا
_________________________!!
“کون ہے آپ میں نے پہچانا نہیں آپ کو ” نسرین بیگم تو اس کی بڑی ساری گاڑی دیکھ ہی حیران رہ گئی تھی افان کو دیکھ ان کی بانچھیں کھل گئی تھی…”پہچان جائے گی اب تو رشتہ جڑنے والا ہے آپ کے ساتھ “وہ ایک ادا سے ٹانگ پر ٹانگ رکھتے بولا تھا کہ نسرین بیگم نے نا سمجھی سے اس کی جانب دیکھا
“کیا مطلب میں سمجھی نہیں آپ میری بیٹی رانی کو پسند کرتے ہے “نسرین بیگم پہلے تو کچھ نا سمجھی مگر بعد میں افان کی بات کا انہوں نے یہی رخ لیا تھا
“واٹ” وہ چہرے پر بے زارے لاتے ابرو آچکا کر بولا تھا
“مجھے آپ کی وہ بھانجھی چاہیے جسے آپ ذرا برابر پسند نہیں کرتی اس کے لیے آپ کو منہ مانگی قیمت دی جائے گی بس کسی طرح اسے مجھ سے نکاح پر راضی کرنا ہو گا میں آپ کو ایک کڑوڑ دوں گا “
وہ آنکھوں پر سے چشمہ اتارتا بولا تھا پھر اس کا سرا منہ میں دبائے وہ ان کے تاثرات جانچنے لگا تھا…نسرین بیگم اتنے زیادہ پیسوں کا سن لالچ میں تھی مگر ان کا دماغ کئی اور جا نکلا تھا اگر وہ اپنی بیٹی رانی کا رشتہ کر دے اس کے ساتھ تو ایک کڑوڑ جو دے سکتا ہے وہ کتنی دولت دے گا ان کی بیٹی کو
“رانی مہمانی کے لیے چائے لاؤ” وہ افان کی جانب دیکھتے مسکرا کے کہتی دروازے کی جانب دیکھنے لگی تھی جہاں سے رانی چائے کی ٹرے پکڑے سج سنور کر اندر داخل ہوئی تھی
“یہ میری بیٹی رانی ہے آپ اس کے لیے بھی کوئی رشتہ بتائے نا جو بالکل آپ جیسا شریف لڑکا ہو “
نسرین بیگم نے ذرا دیر نہیں لگائی تھی اپنی چال چلنے میں افان نے سائیڈ سمائل پاس کی تو رانی ایک پل کو اس کے اس انداز میں کھو سی گئی تھی
“میرے ساتھ چالاکی کرنے کی کوشش نا کرے ورنہ پیسوں اور جان دونوں سے جائے گی اب انتظام رکھو “
وہ آگے کی جانب جھکتا آہستہ آواز میں دانت پیستے بولا تھا
“بولو منظور ہے “واپس کرسی سے ٹیک لگائے اس نے ایک آبرو آچکایا تھا نسرین بیگم نے کچھ سوچتے اسے ہامی بھر دی تھی افان نے جیب سے چیک نکال کر اس کی ٹیبل ہر رکھا جتنا افرا نے بتایا تھا وہ عورت اس سے زیادہ لالچی تھی
“وہ فقط لیزا کو نیچا دیکھانے کے لیے یہ سب کر رہا تھا لیزا نے اس کی تربیت پر انگلی اٹھائی تھی تو کیا یہی تھی اس کی تربیت کیا واقعی لیزا نے کوئی غلط بات کہی تھی شاید نہیں وہ بہت پاگل تھا
____________________________!!
بکھرے بال آنکھوں کے گرد حلقے ستا مرجھایا ہوا چہرہ سرخ آنکھیں وہ پیاس کی شدت کی وجہ سے کمرے سے باہر نکلی تھی آہستہ سے چلتے وہ سڑھیاں اتر رہی تھی اس کا سر چکرا رہا تھا ۔۔۔۔
ہیرا نے ریلنک کرو تھاما ہوا تھا مگر پھر بھی سر بھاری ہو رہا تھا وہ ہانپتی ہوئی نیچے آئی تھی جب سامنے دیکھا تھا”زمیل کسی لڑکی کے کندھے پر ہاتھ رکھے اس کی جانب دیکھتا مسکرا رہا تھا ایک وقت تھا جب اس کی تمام محبت اور توجہ کی حقدار روحی زمیل فاسق خان تھی….
صرف وہ مگر آج اس کی آنکھوں سے آنسو نکلتے بے مول ہو گے وہ چار دن سے اس کمرے میں بند تھی بھوک کی شدت کی وجہ سے وہ نڈھال ہو چکی تھی پانی تو مل جاتا تھا مگر واقعی زمیل فاسق نے اسے کھانے کا نوالہ نا دیا تھا وہ کتنا بے رحم تھا
اچانک زمیل کی اس پر نظر پڑی تھی جو سر پر ہاتھ رکھتی فرش پر دھڑام کی آواز کے ساتھ گر چکی تھی کچھ محبوب کی بے وفائی کا غم اور کچھ بھوک پیاس کا اثر تھا…
“روحی ” وہ ایک پل کی دیر کیے بغیر اس کی جانب لپکا تھا اس کے ساتھ کھڑی ہستی نے حیرت سے یہ سب دیکھا تھا…..”روحی کیا ہوا اٹھو روحی ” وہ اس کا چہرہ تھپتھپا رہا تھا اس کی نبض چیک کی جو بہت آہستہ چل رہی تھی
اس کا دل اس سے سوال کر رہا تھا ” کیا ہوا زمیل فاسق بہت باتیں کر رہے تھے تم کہ تمھارے بغیر مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا….
 میں مر نہیں جاؤ گا فاسق خان تمھیں تو نفرت تھی نا اس نازک جان سے پھر کیوں تمھاری آنکھوں میں اس کی ذرا سی طبیعت خرابی ہر تڑپ نظر آ رہی ہے کیوں ایسا لگ رہا تھا کہ اگر اس کی سانسیں مدھم پڑ رہی ہے تو فاسق خان تمھاری بھی سانسیں مدھم پڑ جائے گی
اس کے دل نے چینخ کر سوال کیے تھے جن سے وہ نظریں چرا رہا تھا
           “تڑپ اے دل تڑپنے سے ذرا تسکین ہوتی ہے
              جدائی ہم نشینوں کی بڑی غمگین ہوتی ہے “
وہ اس کے وجود کو باہوں میں بھرتا اوپر اپنے کمرے میں کے گیا تھا کیوں کیا تھا اس نے اتنا ظلم اس کے ساتھ ڈاکٹر کو فون کرتے وہ غصے سے بالوں میں ہاتھ چلاتا ٹہل رہا تھا جب عنایت اس کے پاس آئی تھی..
اس نے ہولے سے قدم اس کے کمرے میں رکھے اور اس کے پاس پہنچتی اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا زمیل نے چونک کر اس کی جانب دیکھا”و۔وہ مر نا جائے کہی یہاں اس وجہ سے لے آیا ” ڈاکٹر کو آتا دیکھ وہ خاموش ہو گیا تھا اس کی بات پر عنایت خان نے عجیب سی مسکراہٹ چہرے پر سجائی جیسے وہ سب جانتی ہو
“دیکھے ان کا بی پی بہت لو تھا نبض بھی آہستہ چل رہی تھی کچھ میڈیسن لکھ کے دے رہی ہوں انہیں دے اور ان کی غذا کا پورا خیال رکھے “ڈاکٹر ہدایات دیتی جا چکی تھی جبکہ زمیل نے ایک نظر اس کے بے جان وجود پر ڈالی تھی جس کی آنکھیں بند تھی ۔۔۔۔
“عنایت ہم دوسرے کمرے میں سو جائے گے آج “وہ عنایت سے نظریں چراتا بولا تھا عنایت نے اس کا رخ اپنی جانب کرتے اس کے گلے میں باہیں ڈالی تھی وہ مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
“فاسق خان عنایت زمیل فاسق خان ہوں میں زیادہ نہیں مگر ہاں لوگوں کی آنکھیں وہ چھپے جذبات کو پڑھ ضرور لیتی ہوں “وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی مسکرا کر بولی تھی زمیل کو کچھ سمجھ نا آیا کہ وہ اس سے کیا کہے
“روحی کو ضرور ہے تمھاری تم ادھر رک جاؤ میں اپنے کمرے میں چلی جاتی ہوں صبح ملاقات ہو گی “
وہ مدھم مسکراہٹ کے ساتھ بولتی ایک نظر ہیرا پر ڈالتی جانے لگی تھی جب زمیل نے اسے روکا
“تھینکس عنایت ” وہ محبت سے اس کے سر پر لب رکھتا بولا تھا عنایت نے بھرپور مسکراہٹ اس کی جانب اچھالی تھی.
وہ وہاں سے چلی گئی تو زمیل آہستہ قدم لیتا بیڈ کی جانب آیا تھا اس کے سرہانے بیٹھتے وہ غور سے اسے دیکھ رہا تھا کچھ ہی دنوں میں اس کا روپ کیسے ماند پڑ گیا تھا
“کیوں تم سے نفرت نہیں ہوتی؟ کیوں تمھاری تکلیف پر میری دل درد سے پھٹنے لگتا ہے مجھے تم سے محبت نہیں ہے ہو ہی نہیں سکتی نہیں مجھے صرف عنایت سے محبت ہے جانتی ہو وہ تمھاری طرح نہیں ہے نا اس نے مجھ سے کوئی جھوٹ بولا ہے وہ ہر قدم پر میرا ساتھ دیتی ہے اور تم ؟ تم نے کیا کیا روحی کیوں کیا میرے ساتھ جانتی ہو نا عشق تھا تم سے زبان سے جھٹلا سکتا ہوں پر دل اسے نکال کر رکھ نہیں سکتا “
اس کے چہرے پر کرب کی لکیریں واضع ہوئی تھی وہ اسے دیکھتا بے بسی سے بولا تھا عنایت نے اسے سمبھال لیا تھا پھر کیوں وہ ہر پل اس پر نظر رکھتا تھا کیوں اسے واپس لے آیا تھا اپنی زندگی میں وہ جانتا تھا اس کیوں ؟ کا جواب مگر وہ اس جواب کو جاننا نہیں چاہتا تھا.
___________________________!!

جاری ہے

کومنٹس کر کے جائے شاباش.

ناول نگری میں ہر نئے پرانے لکھاری کی پہچان، ان کی اپنی تحریر کردہ ناول ہیں۔ ناول نگری ادب والوں کی پہچان ہے۔ ناول نگری ہمہ قسم کے ناول پر مشتمل ویب سائٹ ہے جو عمدہ اور دل کو خوش کردینے والے ناول مہیا کرتی ہے۔ناول کا ریوئیو دینے کیلئے نیچے کمنٹ کریں یا پھر ہماری ویب سائیٹ پر میل کریں۔شکریہ

novelsnagri786@gmail.com

 

Read New romantic novel, online urdu novels, saaiyaan novel at this website Novelsnagri.com for more Online Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit this website and give your reviews. you can also visit our facebook page for more content Novelsnagri ebook

Leave a Comment

Your email address will not be published.