Web Special Novel, Revenge novel , Tania Tahir Novels ,

romantic revenge story, یہ عشق کی تلاش ہے by Tania Tahir Epi#1

Here you find all types of interesting New Urdu Novel romantic revenge story, from rude hero category to forced marriage, childhood marriage, politics based, cousin based and funny novels multiple categories & complete PDF novels.

Web Special Novel, Urdu Novel, romantic revenge story,
romantic revenge story,

یہ عشق کی تلاش ہے

ایپسوڈ نمبر 1#

از قلم تانیہ طاہر

romantic revenge story

کانچ  کے گلاس کی آواز دیوار سے ٹکرا کر چھناکے کی صورت اس کمرے میں پھیلی اس خاموش محل میں اسکی سرخ آنکھوں نے آواز کی شدت اور دیوار پر نشان چھوڑ دینے والے مشروب کو غور سے دیکھا تھا سرد ٹھنڈ ی سانس ایکدم کھینچ کر اسنے صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر لیں

صوفہ نرم و ملائم تھا کہ وہ دھنسا ہوا تھا بڑی بے زاری سے بالوں میں ہاتھ پھیر کر اسنے اپنی آنکھوں کو بند کر لیا اور آنکھیں بند ہوتے ہی ایک عکس آنکھوں میں اتر آیا اسکی سرخ نظروں پر پردہ تھا جبکہ نرم ملائم صوفے کے روئیں کو اسکی مٹھیوں نے بے دردی سے جکڑ لیا مسکراتا عکس نازک جسم لہراتے بال ملائم سی رنگت گالوں میں خم جن میں اکثر دل ڈوب کے ابھرا تھا گداز پاؤں جس میں چھنچھناتے گھنگھور لبوں کی گہرائی میں چمچماتا تل کھلکھلاہٹ ایسی کے تتلیاں بھی جھوم اٹھیں انداز گفتگو کی نرمی پر دل ہار ہار جائے پلکوں کی چلمن

میں چھپی حیا اور محبوب کو زیر کر دینے والے چہرے کے نقوش اور اسپر ستم ایسا کہ پور پور سجایا جائے ہاتھوں کی ہتھیلیوں میں چھپی حنا ناک میں گول دو مسرور چاندنی کی طرح چمکتے موتیوں سے بنی نتھ جس نے سرخ ہونٹوں پر نازاکت سے گر کر اسکے وجود میں طوفان سا اٹھا دیا ہلکے براؤن کھلے بال جن کی لمبائی اور گہرائی میں وہ خود کو بے بس محسوس کرتا رہا اور اوپر سجا جھومر مانگ میں جھلملاتی بندی جبکہ کانوں میں بڑے بڑے اویزے صراحی دار گردن میں سجا سرخ موتیوں کا سیٹ اور اوپر نازک تراشیدہ جسم پر سرخ موتیوں سے لیس بھاری کام دار لہنگا پاؤں میں چھنچھناتے گھنگرو سر سے پاؤں تک قابل تعریف ناقابل بیان حسن کا جیتا جاگتا مجسمہ اسکی تنہائ دل کی گہرائ میں اترا وجود کسی اور کا تھا ۔

چار دن سے وہ اس عکس کو بھولنا چاہ رہا تھا مگر ایک پل کو بھی فراموش نہ کر سکا محبت و حبت تو سب ہی کرتے ہوں گے محبوب بھی جگہ جگہ مل جائیں گے اسے محبت نہیں تھی  اروش اسکی رگوں میں اترا اور روانی سے بہتا عشق تھا

وہ عشق جس کے خیال میں وہ دن کو رات سمھجہ لیتا جس کے احساس کو اپنے پاس محسوس کر کے وہ کھانا پینا چھوڑ دیتا جس کے ایک حکم پر وہ دنیا اسکے قدموں میں بکھیر دیتا

افسوس سد افسوس وہ اسکا نہ تھا ۔

اسکے وجود پر کسی اور کا اختیار تھا ۔وہ جو گھنٹوں بیٹھ کرا سکی مسکراہٹ دیکھتے اور کھلکھلاہٹ سننے کا شوق رکھتا تھا اب وہ سب کسی اور کے لیے تھی

وہ مسکراہٹ وہ کھلکھلاہٹ کا جلترنگ

تیمور شاہ یہ وہ نام وہ شخص تھا جو دنیا میں آخری بھی ہوتا تو وہ کبھی اسکو دیکھنا نہیں چاہتا تھا ظلم کیا تھا دادا  نے سب جان کر بھی عالم کے بجائے اروش کو تیمور کا کر دیا ۔

کیا کمی تھی اس میں کھڑا ہو تو دنیا دیکھے

چلے تو جوتے کی نوک پر پیسے کا غرور اور آنا دیکھے ٹھر جائے تو ایک دنیا کو آنکھوں کی گہرائ میں سما لے ۔۔

کیا نہیں تھا خوبصورتی دولت محبت عشق سب تھا

پھر اروش اسکی نہیں تیمور کی ہوئ اسکے جسم وجان کا حق دار وہ تھا یہ پہلا خیال تھا جو چار دن سے اسکے اندر سر توڑ رہا تھا اور وہ خیال تھا جہانزیب شاہ یعنی اپنے دادا  کو مار دینے کا عالم شاہ نے ہر ممکن کوشش کر لی تھی خود کو ان سے دور رکھنے کی مگر وہ چاہ کر بھی ایسا نہیں کر پا رہا تھا اسنے سرخ آنکھوں کو کھولا ارد گرد دیکھا چارو اطراف میں خاموشی تھی جیسے ہر چیز سہمی ہوئ اسکی طرف دیکھ رہی ہو کہ وہ اگلا قدم کیا لینے والا ہے اسنے سیدھے ہو کر ٹیبل پر رکھی ریوالور اٹھائ ۔۔۔

جہانزیب شاہ تمھیں ایسا تو نہیں کرنا چاہیے تھا “ریوالور کی ناب  دیکھتے ہوئے اسنے سرد ٹھنڈے لہجے میں کہا

اور ایکدم وہ کھڑا ہو گیا ۔۔ سفید لٹھے کے لباس  میں جتنی اکڑ تھی اس سے کہیں زیادہ اکڑ عالم شاہ میں تھی ۔۔۔

وہ سیاہ جوتے سے ریوالور یوں ہی ہاتھ میں تھامے نرم کالین پر قدم دھرتا  کمرے سے باہر آ گیا ۔۔۔

وہاں سب نوکر موجود تھے کام نہیں تھا کوئ مگر پھر بھی اسنے کسی نوکر کو اب تک نہ سونے کی اجازت دی تھی اور نہ ہی چھٹی دی تھی کہ وہ جا کر آرام کر لیتے وہ یوں ہی حرکت کر رہے تھے مسلسل کہ کہیں عالم شاہ کا سارا زلزلہ انپر نہ نکل جائے تبھی سب مگن تھے ۔۔۔ وہ نیچے آیا اور ادھر ادھر دیکھنے لگا ۔۔۔

کچھ دیر وہاں ٹھر کر سب کو دیکھ کر وہ باہر نکل آیا ۔۔۔

جو اسکا دماغ سوچ رہا تھا ۔۔۔ اور جو وہ کرنے جا رہا تھا

اسکے لیے اسے بلکل بھی فرق نہیں پڑتا تھا ۔۔۔ لون میں سے گزر کر وہ ۔۔۔ حویلی کی اگلی طرف آ گیا ۔۔۔

یہاں اسنے اروش کو دیکھا تھا پہلی بار  ۔۔۔۔ اور بس اسکو پا لینے کی چاہت کر لی تھی ۔۔۔

اور پیچھلے چار دن میں وہ ادھر سے ہی رخصت ہوئ تھی ۔۔اسکے قدموں میں تیزی آ گئ ۔۔ وہ حویلی میں داخل ہوا ۔۔

ارے عالم آپ ” ممتاز نے اسکی جانب دیکھا وہ ابھی تہجد کے لیے اٹھی ہی تھی ۔۔ عالم نے اسکی جانب دیکھا اور اگنور کر دیا ۔۔

دادا جان کمرے میں ہیں “اسنے سرد لہجے میں پوچھا ۔۔

جی کمرے میں ہیں” ممتاز کی نگاہ اسکی ریوالور پر نہیں گئ ۔۔ سب ہی اس سے عجیب سہمے ہوئے رہتے تھے تبھی وہ وہاں سے جلدی چلی گئیں ۔۔۔ کیونکہ وہ صرف دادا سے بات کرنے یہاں   آتا تھا ۔۔

وہ داد جان کے کمرے کی جانب ا گیا ۔۔۔

دروازہ بجائے بنا ہی اندر داخل ہوا۔

بے چین سے جہانزیب شاہ کو اسنے چئیر پر جھولتے دیکھاتو مسکرا کر دروازہ بند کر دیا ۔

جانتا تھا آپ سو نہیں سکتے “وہ پلٹا اور انکے نزدیک  انے لگا ۔۔۔

جو کہ اپنی جگہ سے ایکدم اٹھے ۔۔۔

عالم کے ہاتھ میں بندوق دیکھ چکے تھے ۔۔۔

کبھی جہانزیب شاہ نے کسی سے محبت کی ۔۔۔

چلو یہ چار لفظ تو کوئ بھی کسی کے منہ کو دیکھ کر کر لیتا ہے ۔۔۔ کبھی جہانزیب شاہ نے ان ہوائوں میں عشق کی تڑپ محسوس کی ” بولتے ہوئے اسنے کمرے کی کھڑکیاں بند کیں ۔۔سرد ہواؤں نے اسکو اسکے عمل سے روکنا چاہا تھا ۔۔۔۔

عالم ہم بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں” جہانزیب شاہ کی پیشانی پر پسینے کی بوندیں تھیں ۔۔

جان بوجھ کر کی جانے والی حرکت کو آپکی نظر میں کیا کہا جاتا ہے گناہ ۔۔۔ یہ غلطی”اسنے ریوالور سے ماتھا سہلایا اور انکی جانب دیکھ کر پوچھا ۔۔۔۔

عالم تیمور

کیا مجھ سے بہتر تھا ” اسنے جلدی سے اانکھوں کو جنبش دے کر پوچھا ۔۔۔

ن۔۔۔نہیں ایسا ہو سکتا ہے بھلا ” انھوں نے پھیکی سی مسکراہٹ سے اسکو دیکھا  گیا چاپلوسی کرنا چاہی جان بچانے کے لیے ۔۔۔ آنکھوں میں اسکا پاگل پن دیکھ کر خوف سا لہرارہا تھا ۔۔۔

تو پھر “اسنے سوال کیا ۔۔۔۔

اسکی آنکھوں میں سامنے والے کے لیے بے پنہا زہر تھا ۔۔۔

اروش تیمور کو پسند کرتی تھی”

جھوٹ”وہ دھاڑا ۔۔۔۔ کہ کمرے میں اسکی دھاڑ گونج گئ ۔۔۔

میں سچ کہہ رہا ہوں ۔۔۔

اسنے تو کبھی تیمور کو دیکھا نہیں تھا ” وہ چلایا اور انکی گردن پکڑ لی ۔۔ گویا اسے یہ ہی علم تھا کہ اروش نے تیمور کو بڑے ہونے کے بعد نہیں دیکھا ۔۔۔ کیونکہ وہ حویلی آتا ہی نہیں تھا ۔۔۔ اور جہانزیب شاہ اسے اتنا کاموں میں مصروف رکھتے کہ کبھی وہ ان سے اروش کے متعلق سولا کرتا تو وہ یہ ہی کہتے کہ تیمور تو یہاں ہوتا ہی نہیں ۔۔۔

عالم میں تمھارا دادا ہوں ” وہ اٹک اٹک کر پوچھنے لگے ۔ آج انکے سارے جھوٹ پکڑے گئے تھے ۔

یہ ہی تو میں سوچ رہا ہوں ۔۔۔ آپ تو میرے دادا ہیں دنیا میں میرا وہ رشتہ جس کے سوا کوئ اور رشتہ میں نے نہیں دیکھا ۔۔۔ پھر بھی پھر بھی میرے ساتھ زیادتی کی آپ نے اس تیمور کو مجھ پر فوکیت دی عالم شاہ پر ۔۔۔۔ “وہ انکی گردن کو سختی سے  دباتا بول رہا تھا

عالم م۔۔میرا سانس

سرخ آنکھیں  جھوریوں بھریں انکی باہر کو ابل آئیں تھیں

میری بھی سانسیں گھٹ رہیں ہیں دادا جان ” عالم نے مزید سختی سے جکڑ لیا یہاں تک کے وہ نیچے بیٹھتے چلے گئے ۔۔۔

م۔۔۔مجھے معاف کر دو ” اپنی جان بچانے کو وہ بولے ۔۔۔

کیسے کر دوں معاف ۔۔۔۔۔ میری جان ہیں آپ “ایکدم گردن چھوڑ کر اسنے انھیں سینے سے لگا لیا ۔۔۔۔

آپکے بیٹے کی سوتیلی اولاد ہوں ۔۔ میں اپکااصل پوتا ہوں ہی نہیں ۔۔تبھی آپ نے مجھ میں اور تیمور میں فرق رکھا ۔۔وہ آپکا اصل خون ہے۔۔۔۔ وہ ہی اصل پوتا ہے تبھی اروش میری نہیں اسکی ہے ۔۔۔۔ “سختی سے ۔۔ انکی کمزور کمر  کو اسنے اپنے بازؤں میں جکڑ لیا اور اتنی سختی سے  دبایا کہ انکا انس سا نکلنے لگا ۔۔۔

ای۔۔۔ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔ عالم “

آپ جانتے ہیں نہ مجھے جھوٹ نہیں پسند ۔۔۔۔” وہ ان سے دور ہوتا بولا ۔۔ انکے ماتھے پر سے پسینہ صاف کیا ۔۔۔

اب۔۔اب تم مجھ سے کیا چاہتے ہو “کچھ دیر سانس بھال کر کے وہ خوف زدہ نظروں سے اسکو دیکھ کر پوچھنے لگے ۔۔ عالم انھیں ہی غور سے دیکھ رہا تھا

۔ کچھ دیر دیکھتا رہا ۔۔ چہرے پر بلا کی سختی اور سنجیدگی تھی

میں چاہتا ہوں آپ کبھی بھی دوبارہ نہ بولیں جہانزیب شاہ ۔۔۔

ہمیشہ کے لیے ۔۔چچ چ چپپپ ہو جائیں ” آنکھیں نکال کر اسنے دھیمی آواز میں انھیں اصل مقصد بتایا ۔۔۔ اور لفظوں پر بے تحاشہ زور دیا ۔۔۔

انکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں جبکہ عالم نے مسکرا کر انکو دیکھا ۔۔۔ ریوالور کو دیکھا جن کو دیکھ کر ۔۔انکی سانس شاید اگلی خود ہی نہیں نکلتی

نہیں میں آپکو مارنے نہیں آیا ” وہ ہنسا ۔۔۔

اسکی ہنسی سے بھی خوف سا ا رہا تھا

وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور اسنے اپنی جیب سے دوائ نکالی ۔۔۔

جہانزیب شاہ سمھجہ نہ سکے وہ کیا کرنے جا رہا تھا ۔۔۔

انھوں نے ایسا کیوں  کیا  یہ تو  وہ سامنے  دیکھ سکتے تھے  وہ کیا تھا ۔۔۔ وہ اپنی نازک سی اروش کو اس جانور کے سپرد نہیں کر سکتے تھے  جسے جانور بھی انھوں نے خود ہی بنایا صرف اپنی نفرت میں وہ جانتے تھے  اسکا دماغ بھی اسکے بس میں نہیں ہوتا ۔۔۔

اسنے دوائ کو پانی میں ملایا اور پلٹا ۔۔۔

لیں پی لیں ” انکے آگے گلاس کیا ۔۔۔

کیا ہے یہ ” جہانزیب شاہ نے گھبراہ کر پوچھا ۔۔۔۔

کچھ نہیں ہے پی جائیں ۔۔۔۔ ” وہ ہنسا ۔۔۔۔

جہانزیب شاہ نے گلاس کو پھینکنا چاہا مگر عالم نے سنجیدگی سے انھیں دیکھا ۔۔۔

میں نے کہا ہے نہ پیے اسکو “وہ بے حد سنجیدگی اور نفرت سے انکو دیکھ رہ تھا ۔۔ جہانزیب شاہ کے پاس کوئی دوسرا اوپشن نہیں تھا ۔۔۔ انھوں نے کانپتے ہاتھوں سے ۔۔ وہ گلاس تھاما اور نہ چاہتے ہوئے بھی منہ سے لگا لیا ۔۔ انکی آنکھوں سے بے تحاشہ آنسو نکل رہے تھے عالم شاہ خاموشی سے یہ منظر دیکھ رہا تھا آہستہ آہستہ وہ سارا گلاس پی گئے ۔۔۔ جبکہ انھیں گزشتہ ایک ایک پل یاد ا رہا تھا ۔۔ وہ چیخنا چاہتے تھے مگر اسکے آگے آواز نہیں نکلی

عالم نے ان سے گلاس لیا اور دوسری طرف رکھ دیا ۔۔۔۔

مسکرا کر انکو دیکھا ۔۔۔

کچھ کہنا چاہیں گے ” انکے شانے پر ہاتھ رکھتا وہ پوچھ رہا تھا ۔۔

عالم”انھوں نے بس اتنا ہی کہا کہ عالم شاہ نے انکے بزرگ کانپتے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی ۔۔ محظوظیت سے ہنسا ۔۔۔

بس یہ آخری لفظ سن کر مجھے اچھا لگا اسکے علاؤہ کچھ مت بولنا ۔۔۔ مگر یاد سب رکھنا ” مسکرا کر گال تھپتھپا کر وہ وہاں سے اٹھا اور جیسے آیا تھا ویسے ہی باہر نکل گیا

۔ جبکہ اسکے نکلتے ہی جہانزیب شاہ کو ایک جھٹکا لگا تھا اور اسکے بعد انکا وجود زور زور سے جھٹکے کھانے لگا ۔۔۔۔ جبکہ انکے منہ سے سفید جھاگ نکلنے لگے اور انکی آنکھیں ابل سی گئیں سرخ ہو کر ۔۔۔

اور انکے وجود کا ایک حصہ بے جان سا ہو گیا ۔۔۔

عالم نے جاتے جاتے اروش کے کمرے کو دیکھا ۔۔۔

مگر وہ وہاں نہیں گیا ۔۔۔ وہاں سے نکل کر وہ اپنے پورشن میں آ گیا بندوق وہیں پھینک کر وہ لاونج میں ہی صوفے پر لیٹ گیا ۔۔ سیگریٹ ملازم نے پیش کی اور اسنے سیگریٹ پینا شروع کر دیا ۔۔۔ کافی دیر وہ سیگریٹ پیتا رہا ۔۔۔۔ دماغ کی گرمی کو کم کرنے کے بجائے اسنے اور بڑھا لیا تھا ۔۔ایک آگ سی جل اٹھی تھی چارو جانب جو بھجنے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔۔۔

اسے اروش چاہیے تھی ہر حال میں ہر قیمت پر ۔۔۔

اور اس کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتا تھا ۔۔۔

اسنے سیگریٹ منہ میں لے کر آنکھیں بند کر لیں ۔۔ وہ بنا ہاتھ کا استعمال کیے اب سیگریٹ کا دھواں اڑا رہا تھا ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چھوٹے سے عالم کو بری طرح مار کر حویلی کے پیچھلی طرف پھینک کر وہ ہاتھ جھاڑتے  آگے آئے ۔۔ تو اپنے بچوں کو دیکھ کر دل خوش ہو گیا وہاں سب تھے انکے  اپنے بچے اور پورا خاندان دراصل عالم انکے بیٹے کا آگ گناہ تھا جو طوائف کے کوٹھے کا بوجھ تھا ۔۔۔ جس کو چھپانے کے لیے ۔۔ طوائف سے نکاح کروا دیا ۔۔۔ اسفند شاہ کا ۔۔۔۔

مگر جلد ہی اسفند شاہ کو ۔۔۔ اس عورت سے جو اس لیے خوش تھی کہ وہ اس جھنم سے نکل آئ ۔۔ گھن آنے لگی

اور انھوں نے ایک دن باپ سے اپنی اندرونی کیفیت کا اظہار کر دیا ۔۔ باپ جو انسے  ناراض تھا بیٹے کے اندرونی جزبات جان کر خوش ہوئے جب اسفند شاہ نے انھیں عالم شاہ کی خبر دی ۔۔۔۔

تو جہانزیب شاہ نے انھیں مشورہ دیا کہ وہ ۔۔۔ ان دونوں ماں بیٹے کو جلا کر راخ کر دیں ۔۔۔

موسمی کیفیت کے ایوز اکثر اس گاؤں میں بجلی گیرنے سے گھر راخ ہو جاتے تھے ۔۔ یہ بھانا سمجھا کر انھوں نے اسفند شاہ کو قائل کیا اور وہ جو ۔۔۔ اب اس طوائف سے من راضی کر چکے تھے مان گئے ۔۔

مگر جب اس فیل پر عمل پیرا ہونے لگے تبھی عالم شاہ نے دنیا میں قدم رکھ دیا ۔۔جس کی وجہ سے اسفند شاہ ایسی حرکت نہیں کر سکے ۔۔۔۔

نازنین یہ سب جان گئ تو ۔۔۔۔ عالم جو ابھی بس ہفتے بھر کا ہی تھا ۔۔۔ اسے ۔۔۔ اس بھیانک رات میں ۔۔ اس کمرے سے باہر پھینک دیا ۔۔ جہاں وہ رہتی تھیں ۔۔۔۔ یہ یہ کہا جائے جہاں انھیں قید رکھا تھا ۔۔۔

اسفند شاہ نے باپ کے کہنے پر درندگی دیکھائی اور

نازنین کو جلا کر راخ کر دیا۔۔

گاؤں والوں میں یہ  پھیلا دیا کے رات برسات کی وجہ سے۔۔۔ بجلی ٹوٹ کر گیری ۔۔

عالم شاہ پورےدن جب وہاں روتا رہا تھا ۔۔ ملازم آواز سن کر بچہ اٹھا لائے ۔۔۔۔

جسے جہانزیب شاہ نے نفرت اور حقارت سے دیکھا۔۔۔

بیٹے کے وجود میں اولاد کو دیکھ کر کوئ جزبات نہ بھڑکیں ۔۔ تبھی عالم کو چھپا دیا ۔۔۔

ایک ملازمہ کو وہ بچہ دے دیا۔۔۔ملازمہ  عالم کو کواٹر میں لے گئ ۔۔۔

جبکہ اسفند شاہ کی شادی کرا کر جہانزیب شاہ نے انھیں دوسرے ملک بھیج دیا ۔پیچھے سے عالم شاہ بڑا ہونے لگا ۔۔

حویلی والوں سے وہ بچہ سہما ہی رہتا جبکہ اسکے ماں باپ جنھیں وہ اپنا ماں باپ سمجھتا تھا ۔۔۔ اس سے لا تعلق ہی رہتے جیسے وہ انپر بوجھ ہو ۔۔۔

وہ بچپن سے ہی حساس طبعیت کا مالک تھا اور ایک رات ۔۔اسے نشے میں اسکے باپ ۔۔۔ یعنی اختر جو کہ ملازم تھا اسنے بتایا کہ وہ کس کا بیٹا ہے اس حویلی کا وارث ہے اور اسکی ماں کے ساتھ کیا کیا گیا ۔۔

جبکہ اس وقت عالم آٹھ سال کا تھا ۔۔ عالم جہانزیب شاہ کے پاس پھینچ گیا ۔۔۔

جب وہ جہانزیب شاہ کے پاس جانے لگا بیچ میں ہی روئ کے گالے کی مانند ایک بچی پر نگاہ گئ ۔۔۔اور وہ وہیں کھڑا ہو گیا ۔۔۔ وہ بچی لون میں کھیل رہی تھی

وہ دو سال کی بچی اپنے ہاتھوں کو منہ میں لے رہی تھی عالم اسکے نزدیک بڑھا ۔۔ تبھی تیمور شاہ  وہاں ا گیا  جو اسفند شاہ کا دوسرا بیٹا تھا ۔۔ جسے تین سال پہلے ہی گاؤں بلا لیا گیا تھا اسفند شاہ کو یہ جیتا کر ۔۔ کہ اگر وہ باہر رہنا چاہتا ہے تو اسکے بچے ادھر ہی رہیں گے ۔

دوسری طرف انکی بیوی جس کی ایک بچی بھی تھی سارہ اس سمیت اسفند شاہ باہر کے ملک رہتے تھے ۔۔تیمور نے  اس بچی کو اٹھا لیا ۔۔

عالم شاہ نے غصے سے تیمور کو دیکھا اور اس بچی کو اس سے چھین لیا وہ بچی اور تیمور دونوں رونے لگے جبکہ تیمور چھ سال کا تھا ۔۔۔۔

عالم نے بچی کو چپ کرانا چاہا ۔۔ کہ اسکی گردن کسی سخت گرفت میں آ گئ

بچی کو اسکے ہاتھ سے لے کر ۔۔۔۔ تیمور کے ہاتھ میں تھما کر ۔۔۔ جہانزیب شاہ نے عالم کو بری طرح پیٹ ڈالا ۔۔۔

اور اسے دوبارہ کاٹیج میں بھیج دیا ۔۔

اسی طرح روزوں شب گزرتے رہے ۔۔۔

اور اروش شاہ  جو کہ سبحان شاہ کی بیٹی تھی ۔یعنی اسفند شاہ کے چھوٹے بھائی کی ۔۔۔

عالم شاہ کے ہر گزرتے دن کے ساتھ رگوں میں عشق بن کر دوڑنے لگی ۔۔

جہانزیب شاہ یہ بات بھانپ گئے ۔۔

اور عالم شاہ بھی بنا ڈرے انکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے ڈٹ گیا ۔۔۔

تب جہانزیب شاہ کو اسکو زندہ رکھنے  پر اپنی سنگین غلطی کا احساس ہوا مگر اب عالم شاہ اتنا بڑا ہو چکا تھا کہ وہ اپنی حفاظت کر سکتا اسنے سیدھا اروش کے بارے میں جہانزیب شاہ سے بات کی ۔۔اب اسکی عمر ایسی نہیں تھی کہ جہانزیب شاہ اسے پیٹ ڈالتے۔۔۔

جہانزیب شاہ نے یہاں بھی جال بنا اور عالم کو اپنے  نزدیک کر لیا ۔۔۔

عالم اس محبت پر حیران ہوا ۔۔۔

اکڑ اس میں اسفند شاہ جیسی ہی تھی جبکہ تیمور میں ایسی کوئ بات نہیں تھی ۔

جہانزیب شاہ نےعالم کو زمینوں میں پھنسادیا مگر اروش عالم

کےدماغ سے نہ نکلی نہ کبھی اسنے نکلنا تھا ۔۔

اسکے پورے دن کی تھکاوٹ بس ایک نظر دیکھ کر اتر جاتی دوسری طرف جہانزیب شاہ نے تیمور اور اروش کو ایک دوسرے کی منگ بنا دیا جان بوجھ کر اسفند شاہ کوکبھی جہانزیب شاہ نے واپس آنے نہیں دیا ۔۔۔

اسی طرح اروش اور تیمور ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے اور عالم شاہ دوسرے معملات میں پھنسا

رہا کبھی جہانزیب شاہ نےا سے اروش کے نزدیک بھی پھٹکنے نہیں دیا بس اس لارے میں کہ وہ اروش کے بیس سال کے ہوتے ہی عالم کی شادی اس سے کر ا دیں گے۔۔۔

اور عالم اسی شوق میں انکی ہر بات مانتا گیا ۔۔۔

اور پھر جہانزیب شاہ نے عالم کو گاؤں سے باہر بھیج دیا ۔۔۔ کام کے سلسلے میں ۔۔ جبکہ پیچھے سے جس دن کا شدت سے انتظار عالم کر رہا تھا ۔

تیمور اور اروش کی شادی کر دی ۔۔۔۔

وہ دونوں اپنی زندگی میں بے حد خوش تھے جبکہ کسی کے ارمانوں کا خون ہو گیا وہ واپس لوٹا اختر نے ہی اس

سے بتایا ۔۔ کہ اروش اور تیمور کی شادی کر دی گئ ہے

۔ اور اروش کی تصویر بھی دیکھائی ۔۔وہاں عالم نے اروش کی تصویر چھین کر اختر کا حشر بھاڑ دیا اور

عالم بھاگ کر جہانزیب شاہ کے پاس گیا ۔۔۔ مگر طبعیت خرابی کا بھانا کر کے ۔۔۔ وہ چار دن اس سے بچتے رہے ۔۔

اور پھر وہ دن بھی ا گیا ۔۔۔ جب عالم شاہ کے اندر کے جانور کو جگا دیا جہانزیب شاہ نے ۔۔ کہ سب سے پہلا شکار ہی وہ ہوئے اور عالم شاہ نے ۔۔

انکو جو دوا کھلائ تھی ۔۔۔۔ اس نے انکا انجام کیا کیا تھا یہ تو اگلے روز ہی پتہ چلنا تھا ۔۔

یہ تو جہانزیب شاہ ہی جانتے تھے اس عرصے میں انھوں نے اسکے اندر کیا کیا دیکھا تھا جس سے اکثر وہ پریشان ہو جاتے ۔۔ مگر اپنے خوف کو دبا کر ۔۔۔ وہ اسے اروش کا لارا دیتے رہے ۔۔

اکثر انھوں نے اسے بے رحم پایا تھا ۔۔

وہ ہمیشہ شکار ایسے کرتا کہ سامنے والا  خوف سے زرد پڑ جاتا ۔۔۔

اور اب اسکا شکار سب تھے وہ سب جو اسے بیوقوف بناتے رہے جنھوں نے اسکی ماں کو مار دیا ۔۔۔۔

حالانکہ اسکے اندر اپنی ماں کے لیے کوئ جزبات نہیں تھے مگر تب تب جب جب جہانزیب شاہ اسے مارتے تب تب اسنے ماں کو یاد کیا  تھا وہ ان کے سامنے انکی اولاد  کو تباہ کر کے ۔۔ اس ازیت سے روشناس کرانا چاہتا تھا ۔۔

مگر اروش کے سپنے اسے اندھیرے اور اجالوں میں آنے لگے تھے ۔۔

وہ اسکے ہر سوال اور جواب میں شامل تھے ۔۔۔

اسکی آنکھوں میں جو نشہ تھا ۔۔اس سے عالم شاہ محظوظ ہونا چاہتا تھا کسی بھی قیمت پر ۔۔۔

یہ تلاش تھی عشق کی ۔۔ نہ جانے یہ عشق کس کو تباہ کرتا اور کس کو آباد کرتا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تیمور داداجان نے ہمیں اسفند بابا کے پاس کیوں بھیجا ہم حویلی میں خوش رہتے انکے پاس۔۔ مما کے پاس بابا کے پاس ” اروش بال سنوارتے ہوئے بولی ۔۔۔

اسکی بھیگی بھیگی آنکھوں میں تیمور دیکھنے لگا ۔۔اور اٹھ کے اسکے پاس ایا۔۔اسکا پور پوراسکی محبت سے بھیگا ہوا تھا ۔۔ تیمور نے اسے اپنی بانہوں کے گھیرے میں لے لیا ۔۔۔

کیوں کہ میں بھی اپنے بابا کو مس کر رہا تھا۔۔۔

دیکھو اروش ۔۔۔ بابا ہمارے آنے سے کتنا خوش ہیں مما بھی ۔۔

اور وہاج اور سارہ بھی ” وہ پیار سے اسکو سمجھانے لگا۔۔

اروش ہنس دی ۔۔۔

تو یہ بات آپ مجھے دور سے بھی سمجھا سکتے تھے” وہ کسمسا کر  اسکی بانہوں سے نکلی مگر تیمور نے دوبارہ اسے جکڑ لیا ۔۔۔

اور تم اسکو ہمارا ہنی مون بھی سمھجہ سکتی ہو ” تیمور نےا سکے گال پر اپنا لمس بکھیرا ۔۔

وہ تو مجھے سمھجہ ا رہا ہے آپکی حرکتوں سے “وہ کھلکھلا کر اس سے دور ہوئ ۔۔۔۔

اور ایکدم سرخ آنکھیں کھلیں ۔۔۔۔

بے چینی سے ادھر ادھر دیکھا ۔۔

یہ کیسا خواب تھا اس قدر جان لیوا ۔۔۔ اسنے ٹیبل پر رکھا واس اٹھا کر زمین پر پھینکا ۔۔۔

کیسے ہنس سکتی ہو تم اسکے ساتھ ” وہ دھاڑا ۔۔ لاونج میں اسکی آواز کی گرج تھی ۔۔۔

ملازم سہم سے گئے ۔۔۔

سفید سوٹ میں وہ بے پناہ وجاہت  کا مجسمہ شخص اس قدر بے چین بے حال کیوں دیکھ رہا تھا ۔۔۔

سائیں ۔۔۔ جہانزیب شاہ کو فالج ا گیا ہے” اسکا خاص ملازم اسکے پاس دوڑ کر آیا ۔۔اسنے اپنے ملازم کو دیکھا ۔۔۔

اور دیکھتا رہا ۔۔۔۔

سائیں سبحان شاہ انھیں ہسپتال لے کر دوڑا ہے ممتاز بیبی اکیلا ہے کیا حکم ہے سائیں “

اس سالی کی بھی گردن دبا دو ۔۔۔ مکرم ” وہ مسکرا کر بولا تو مقابل کو سب سمھجہ ا گیا کہ ۔۔ ماجرہ کیا ہے ۔۔۔

وہ ایکدم ٹھنڈا ہو کر اسکے پاس ہی بیٹھ گیا

اور اسکے گٹھنے دبانے لگا ۔۔۔۔

عالم نے سر کو صوفے کی پشت پر ڈال دیا ۔۔۔

مکرم ” وہ پھنکارہ ۔۔

جی سائیں حکم سائیں ۔۔۔۔

تم زرا یہ ہسپتال وغیرہ کو سبحان شاہ سےدور رکھنا ۔۔۔ بہت دور سمجھا کہ نہیں ” عالم نے ایک آئ برو اٹھا کر دیکھا ۔۔

 

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Read online urdu novels, New Urdu Novel, romantic revenge story, at this website Novelsnagri.com for more Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit website and give your reviews. you can also visit our facebook page for more content Novelsnagri ebook

7 thoughts on “romantic revenge story, یہ عشق کی تلاش ہے by Tania Tahir Epi#1”

Leave a Comment

Your email address will not be published.