Web Special Novel, online urdu afsanay

online urdu afsanay, KAMIL YAQEEN,BY ZAINAB RAJPOOT

KAMIL YAQEEN, online urdu afsanay, 

Online urdu Afsanay, KAMIL YAQEEN,

online urdu afsanay

افسانہ :کامل یقین

از قلم زینب راجپوت

میرا نام لاریب ہے میں ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں، ہمارا گاؤں صرف چند ایک گھروں پر مشتمل ہے چاروں اطراف جنگلات ہونے کی وجہ سے اکثر لوگ بنا وجہ بیمار رہتے ہیں۔مجھے اس بات کی سمجھ نہیں تھی

مگر امی نے بتایا کہ ہمارے گھر کے پیچھے جو بڑا سا برگد کا درخت ہے اس پر جنات کا سایہ ہے اور یہ صرف اسی انسان کو نقصان پہنچاتی ہیں جو کسی کا برا چاہیں۔۔

میں اس وقت میٹرک کی طلباء ہوں چونکہ ہمارا گاؤں پسماندہ ہے یہاں پر تعلیم صرف میٹرک تک کی ہے سکول کا راستہ اس برگد کے درخت کے نیچے سے ہو کر آتا ہے میں جب بھی سکول جاتی اور آتی تو میں آیت الکرسی کا ورد لازمی کرتی کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ اس سے جنات انسان کے قریب نہیں بھٹکتے۔۔

ایک دن میں سکول سے آئی تو امی بے حد پریشان تھی میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگی کہ ہمارے گھر کے قریب جس رشید کا گھر ہے اسے اچانک کچھ ہو گیا ہے اسکے ہاتھ پاؤں الٹے پڑ جاتے ہیں اور منہ سے عجیب سا کچھ پانی سا نکلتا ہے،مجھے سن کر خوف آیا کہ ایسا کیوں ہے آخر اور سب سے بڑی بات کیا جنات سچ میں ہوتے ہیں..

رات کو میں یہی سب سوچتی سوئی۔،صبح راستے میں میری دوستوں نے پھر سے اس بات کو چھیڑا مجھے خوف آنے لگا کہیں ناں کہیں ڈر تھا

کہ جنات مجھ پر حملہ ناں کر دیں،میں نے ان سب کو خاموش کروا دیا،مگر واپسی پر اسی درخت کے نیچے میری چپل ٹوٹ گئی،۔مجھے خوف آنے لگا میں آیت الکرسی پڑھتی وہاں سے نکلی ,اچانک مجھے ایسا لگا کہ جیسے کوئی میرے کان کے قریب جھکا ہو،

میں تھر تھر کانپنے لگی اس کے بعد مجھے اپنے پیچھے سایہ سا۔محسوس ہونے لگا مگر میں نے مڑ کر نہیں دیکھا،گھر تک آیت الکرسی کا ورد کرتی رہی۔خوف اس قدر تھا کہ مجھے رات کو ڈر سے بخار ہو گیا امی نے کسی پیر بابا سے تعویز لے کر گلے میں ڈال دیا، کہ لڑکی پر سایہ ہو گیا ہے،

امی کو یقین ہو گیا کہ سچ میں مجھ پر جنات کا سایہ ہو گیا ہے امی پھر سے روتے اس پیر کے پاس گئی اور کہا کہ آپ نے ٹھیک کہا تھا میری بیٹی پر واقعی میں سایہ ہو گیا ہے

وہ پیر ہنسنے لگا اور نیا تعویذ دیا امی نے وہ تعویز بھی بدل دیا۔ بخار کا اثر ٹوٹتے ہی مجھے دو دن میں آرام آ گیا۔امی کا پیر بابا پر یقین اور پختہ ہو گیا وہ شکر گزار ہوتے ایک کثیر رقم جو کہ میری شادی کیلئے جوڑی تھی اسے لئے اس پیر بابا کے پاس گئی۔

کچھ دن گھر میں رہنے کے بعد پتہ چلا کہ ایک لڑکی اس درخت کے نیچے سے بے ہوش ملی ہے لوگوں نے درخت کے پاس سے گزرنا بند کر دیا مگر جو چیز مجھے الجھا رہی تھی وہ یہ تھی کہ اگر جنات ہیں تو صرف چند لوگوں پر ہی کیوں حملہ کرتے ہیں۔

سب کو کیوں کچھ نہیں کہتے ہم سب اسی گاوں میں رہتے ہیں۔میری سوچ گہری ہوتی گئی رات کو عشاء ادا کرنے کے بعد میں واپس اپنی چارپائی پر آئے آیت الکرسی پڑھنے لگی۔۔۔جانے کب نیند آئی کچھ خبر نہیں۔اسکے بعد اگلی صبح میں سکول کیلئے تیار ہوئی میری دوست جو کہ میرے ساتھ ہی جاتی تھی سکول اسنے مجھے اس لڑکی شکیلہ کا بتایا کہ وہ لڑکی کتنی بری تھی..

اکثر اس درخت کے نیچے آ کر ہنستی کہ اگر سچ میں کوئی جن ہے تو مجھے چمٹ جاو۔میں جانتی ہوں کہ یہ سب جھوٹ ہے۔۔۔مجھے سن کر خوف آیا،مگر ساتھ ہی میرا عقیدہ بھی مضبوط ہوا کہ واقعی میں کچھ ہے

ایسا جس سے میں لاعلم ہوں۔ایسا نہیں کہ مجھے ڈر نہیں لگتا مجھے بے حد خوف آتا تھا مگر اس خوف سے کہیں زیادہ مجھے اللہ پر یقین ہے کہ جب تک وہ ہمارے ساتھ ہے یہ جنات تو کیا کوئی بھی کچھ نہیں کر سکتا۔

میں سکول سے آئی دماغ ابھی تک الجھا تھا سکول میں بھی ٹھیک سے پڑھ ناں سکی،میں نے جھوٹ بول کر دوست سے ملنے کا کہا اور پھر ان سب لوگوں کے گھر گئی جو کہ بیمار تھے ۔اور کسی ناں کسی وجہ سے یاں تو انکی بیماری ایک جیسی تھی ۔

یا پھر وہ سبھی اسی درخت کے نیچے سے بے ہوش ملتے آئے تھے، سب سے ملنے کے بعد میں ایک نتیجے پر پہنچی اور رات کو سب کو اکٹھا کیا۔سب حیران تھے وجہ دریافت کرنے لگے تو میں نے بتایا کہ آج تک جتنے بھی لوگ متاثر ہوئے ہیں ان سب میں سے ی تو وہ لوگ شرابئ تھے یا پھر وہ جو اس درخت کا مذاق بناتے تھ

آج تک کوئی بھی ایسا شخص بیمار نہیں ہوا۔ جو نماز پڑھتا ہو سب خاموش ہو گئے اور میری بات کو تسلیم بھی کیا پھر میں نے سب سے نماز کی پابندی کا کہا ۔جس پر سب نے عمل بھی کیا..

اور اس کے بعد سے اب تک ہمارے گاؤں میں ابھی تک اس درخت پر جنات ہیں مگر وہ کسی سے بے ضرر تنگ نہیں کرتے،اس پیر بابا کا سچ بھی سامنے آ گیا کہ وہ جھوٹا تھا پولیس نے اسے حراست میں لے کر اب اگلوا لیا تھا،اب میری امی بنا کسی وجہ سے ایسے پیر فقیروں کے در پر نہیں جاتے بلکہ اللہ سے مانگتے ہیں۔

 

Read more Online urdu Afsana at this website Novelsnagri.com for more Online Urdu Novels and  Afsanay that are based on different kind of content and stories. you can also visit our facebook page for more content Novelsnagri ebooks

1 thought on “online urdu afsanay, KAMIL YAQEEN,BY ZAINAB RAJPOOT”

Leave a Comment

Your email address will not be published.