Web Special Novel, QAID JUNOON Best Novels 2022

QAID JUNOON | Best Novels 2022 | Ep_13 | Faiza Sheikh Novel

QAID JUNOON | Best Novels 2022 | Ep_13 | Faiza Sheikh Novel

 

Novelsnagri.com is a platform for social media writers. We have started a journey for all social media writers to publish their content. Welcome all Writers to our platform with your writing skills you can test your writing skills.

 

QAID JUNOON, Best Novels 2022, from romance to tragedy, from suspense to action, from funny to horror and many more free Urdu stories.

قید جنون 

#از قلم فائزہ شیخ 

قسط نمبر تیرہ 

__________________

ہوسپٹل آتے ہی اسے ایمرجنسی میں لے جایا گیا اور وه ایمرجنسی کے سامنے ہی کھڑا تھا ایک انچ بھی وہاں سے ہٹنے کو تیار نہیں تھا عمان عمر کے پاس ہی تھا جسے وه سمبھال رہا تھا اور گاہے بگاہے اس پر نظر بھی ڈال رہا تھا جو بہت ہی پریشان نظر آ رہا تھا عمر عمان کو لئے اس کی طرف بڑھا جو اب بنچ پر بیٹھا سر کو ہاتھوں میں گرائے ہوئے تھا

پاپا !! عمر اس کے پاس جیسے ہی آیا عمان اسے پکارنے لگ گیا تھا زرک اس کی آواز پر چونک پڑا تھا اور سر اٹھا کر اسے دیکھا جو اس کی طرف اب ہمکنے لگا تھا زرک نے اسے عمر سے لے کر اپنی گود میں بیٹھا لیا

پاپا !! ماما پاش !! عمان نے اسے اپنی پریشانی بتائی تو زرک نے اس کے گال بے ساختہ چومے اور اسے بہلانے لگا

ابھی جاتے ہیں ماما پاش سہی عمان جانو !!

عمر جانتا تھا وه اس وقت اندر سے ٹوٹ چکا ہے اسی لئے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اسے حوصلہ دیا

صبر سے کام لو زرک !! انشاءاللّه بھابھی خیریت سے ہوں گیں !! زرک کے اب ضبط کرتے ہوئے آنسو آنکھ سے بہہ نکلے تھے اس نے جلدی سے آنسو صاف کیے اور جب بولا تو عمر کا دل اس کی باتوں سے کٹ ہی گیا تھا

عمر !! میرے کیے کی سزا اسے کیوں ملی ؟؟ مجھے ملنی چاہیے تھی نا !! میں ہوں نہ گناہگار تو مجھے کیوں نہیں ملی سزا !! اسے کیوں ہر بار میں درد دیتا ہوں کیوں !! کیوں ہوا ایسا ؟؟ عمر میں مر جاؤں گا اس کے بغیر میری سانسیں اس کے ہونے سے چلتی ہیں میں اس کے بنا کچھ نہیں ہوں عمر !!

زرک سنجیده ہوتے ھوئے اب رو پڑا تھا مرد کبھی نہیں روتا لیکن جب اس کی برداشت جواب دے دیتی ہے تو وہی مظبوط مرد ہچکیوں سے رونے پر مجبور ہو جاتا ہے ایسا ہی کچھ اب زرک کے ساتھ بھی ہو رہا تھا جسے ٹوٹ کر چاہتا تھا اسے ہی انجانے میں توڑ کے رکھ دیا تھا اب اس کی محبّت اس کا عشق اس کے پاس ہوتے ہوئے بھی دور تھا نہ جانے کتنا وقت درکار تھا دونوں کو کہ وه سب بھول سکے لیکن بھولنا اتنا آسان بھی نہیں ہوتا

زرک بس کر ہمت کر مضبوط بن !! ایسے ہمت ہار دو گے تو عمان کو کون سمبھالے گا اپنے بیٹے کو دیکھو وه ابھی بہت چھوٹا ہے اسے تم دونوں کی ضرورت ہے کیسے رہ پائے گا یہ تم دونوں کے بغیر ؟؟ اس لئے اب برداشت کرو !! عمر نے اسے دلاسا دیا تو وه عمان کو دیکھنے لگا جو اس کے ہاتھ پر بندھی گھڑی سے کھیل رہا تھا

یہ تو میرا جگر ہے !! وه اسے چومتے ہوئے بولا

تو اب اس کے لئے صبر سے کام لو اور مضبوط بن جاؤ جیسے پہلے تھے عمر نے بھی مسکرا کر کہا

اتنے میں ہی ڈاکٹر انہیں ایمرجنسی سے نکلتا دکھائی دیا تو وه فٹ اٹھ کر اس کی طرف بڑھے زرک بے چینی سے آگے ہوا

ڈاکٹر !! میری وائف کیسی ہے !!

معمولی سا شاک لگا تھا جس کی بنا پر آپ کی وائف ہوش کھو بیٹھی اب خطرے کی کوئی بات نہیں آپ لوگ مل سکتے ہیں ان سے لیکن اگر ایسے ہی ان کو شاک پہ شاک لگتے رہے تو ان کی طبیعت بگڑ سکتی ہے لہٰذا آپ اپنی وائف کو جتنا ہو سکے خوش رکھے !! ڈاکٹر مسكرا کر یہ کہتے ہوئے آگے بڑھ گیا

زرک خوشی سے عمر کے گلے لگ گیا ڈاکٹر کے الفاظ اس کے جسم میں زندگی بن کر دوڑنے لگے تھے اس کی خوشی کی کوئی انتہا ہی نہیں تھی

اچھا اب اسے پکڑو میں ذرا ڈاکٹر سے میڈیسن کا پوچھ لوں !! زرک نے عمان کو عمر کے حوالے کیا اور خود ڈاکٹر کی جانب چل پڑا

اتنے میں سمیر گھبراتے ہوئے آیا جسے عمر نے ہوسپٹل آتے ہوئے کال کر دی تھی

عمر !! بھابھی کیسی ہیں اب ؟؟ اور کیسے پتا لگا بھابھی کو ؟؟

ابھی ٹھیک ہے شکر ہے اللّه پاک کا اس نے کرم کیا ہے!! عمر نے عمان کو مسکرا کر دیکھا جو اب سمیر کو گھور رہا تھا

 

اس کا باپ کہاں ہے ؟؟ سمیر نے عمان کے گال پر چٹکی بھر کے بولا

وه ڈاکٹر کے پاس ہے کچھ ڈسکس کرنا تھا اس لئے گیا وہاں

اچھا تو ہوا کیا تھا یہ بتا مجھے کیسے پتا لگا بھابھی کو ؟؟ سمیر نے حیرانگی سے دوبارہ سوال دہرایا تو عمر نے سب کچھ ہی اسے بتا تھا

تو اس شہزادے کا کمال ہے !! واہ شہزادے تو نے تو کمال ہی کر دیا ہے !! وه عمان کے گال چوم کر بولا تو عمر بھی مسکرا پڑا لیکن عمان سمیر کو گھورے ہی جا رہا تھا سمیر اسے چڑا رہا تھا اور وه اس سے چڑ بھی رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

 

_______________________

 

کیا نکاح ؟؟ پر نانو بات تو منگنی کی ہوئی تھی نہ !! وه بہت ہی گھبرا گئی تھی اور بہت ہی خوف زدہ بھی تھی نکاح کا سن کر پر وه ہارون کی طبیعت سے واقف تھی کہ وه اب پیچھے ہٹنے والا نہیں تھا اس لئے اس سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہ تھا

تو اچھا ہے نہ بیٹا !! بس ہاں کر دینا مظبوط رشتے میں بندھ جاؤ گے تم دونوں اور تو اور تمہاری ممانی کچھ کر بھی نہیں پائی گی !! سب سے بڑی بات کہ ہارون تجھے بہت چاہتا ہے تبھی تو وه پاگل ہوئے جا رہا !! نانو نے اسے اچھے سے سمجھایا تو وه سر ہلا کر رہ گئی

پر نانو نکاح ٹھیک لیکن پلیز رخصتی ابھی نہیں چاہتی میں !! میرب نے منہ بنایا تو نانو کو اس پہ ترس آ گیا

ہاں صرف نکاح ہی ہو گا میں ہوں نا تمہارے ساتھ گھبرانے کی کوئی بات نہیں !! اسے ماتھے پر بوسہ دیتی نانو وہاں سے باہر جانے لگیں تا کہ باہر اس کی رضا مندی بتا سکے

نانو !! یاد سے میری بات بھولنا نہیں !! میرب نے پیچھے سے چیخ کر آواز دی تھی نانو نے ہنس کر سر ہلایا تھا کہ اب سب ٹھیک ہو جائے گا

وه بہت ہی گھبرا گئی تھی ہارون سے تو ویسے بھی جان جاتی تھی اس کی اور اب یوں نکاح کا جو اس نے سوشا چھوڑا تھا وہی اس کے دل کو تیزی سے دھڑکانے کے لئے کافی تھا اسی لئے اس نے پہلے ہی بتا دیا کہ وه رخصتی نہیں چاہتی ہارون کا کوئی بھروسہ نہیں تھا اسے اسی لئے اس نے نانو کا مضبوط سہارا لیا تھا کیوں کہ ہارون اپنی دادو کی کوئی بات نہیں ٹالتا تھا اور اب میرب نے اس کی کمزوری ہی پکڑ لی تھی جس سے اسے ہی کافی نقصان ہونے والا تھا وه نہیں جانتی تھی کہ کس طوفان کو اپنی طرف بلا رہی تھی

کچھ ہی دیر میں وه میرب زمان سے میرب ہارون بن چکی تھی نکاح کے وقت نانو نے میرب کی بات ہارون تک پہنچا دی تھی جسے سن کر وه لب بھینچ گیا تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا اندر جا کر اس لڑکی کی طبیعت منٹوں میں ہی ٹھیک کر دیتا بس صرف دادو کی وجہ سے وه چپ بیٹھا ان کی بات مانتا نکاح کر چکا تھا لیکن اب وه ارادہ کر چکا تھا کہ کیسے میرب سے اظہار محبّت کروائے گا ۔۔۔۔۔۔

___________________________

زرک ڈاکٹر سے مل کر بھاگ کر واپس آیا تھا اور فورا بولا

وه کیسی ہے ؟؟؟

اب بہتر ہے نرس بتا رہی تھی کہ اسے انجکشن دیا گیا ہے تبھی وه سو رہی رہی !! عمر نے تفصیل سے بتایا

شکر ہے !! ورنہ میری جان ہی نکل جاتی !! زرک اب بنچ پر ڈھے سا گیا تھا

اؤ ہو !! واہ !! عمر اور سمیر نے ایک ساتھ شرارت سے کہا تو وه مسکرا پڑا اب وه کافی تھک چکا تھا کل سے وه جاگ ہی رہا تھا اور مسلسل جاگنے کی وجہ سے اس کے سر میں ٹھیس سی اٹھ رہی تھی جسے وه مکمل اگنور کر کے مہلب کے لئے ہوسپٹل میں خوار ہو رہا تھا

عمان اب باپ کو دیکھتے ہی رونے لگا اور اس کی طرف ہمکنے لگا زرک نے اسے تھام لیا تھا اور اسے سینے سے لگائے چپ کروا رہا تھا وہاں سے گزرتی فیملی گزری ان کے بچے کے ہاتھ میں چاکلیٹ تھی جسے دیکھ کر اب عمان بھی ضد کرنے لگ گیا

پاپا !! چیز مان چیز !! عمان اس کے گال پر اپنا چھوٹا سا ہاتھ رکھتا اسے اپنی طرف متوجہ کر رہا تھا عمر اور سمیر مسکرا کر یہ سب دیکھ رہے تھے زرک کو اب اس کی معصومانہ حرکت پر بے انتہا پیار آیا جسے وه اس کے پھولے گال چوم کر ظاھر کر رہا تھا

اوکے !! ابھی لا دیتے ہیں اپنے بیٹے کو چیز ٹھیک !! عمان اب یہ سنتتے ہی خوشی سے تالیاں بجانے لگا تھا جس پر وه سب ہی ہنس پڑے تھے اور عمان باپ کے گلے لگا ہوا پتا نہیں کیا کچھ اپنی زبان میں بول رہا تھا وه اس کی باتیں توجہ سے سنتا مسکرا رہا تھا اور اسے چیز دلانے لے گیا

اب وه اپنی پسندیدہ چاکلیٹ کھا رہا تھا اور خوشی بیچ میں تالی بھی بجاتا تھا اور ہنس پڑتا تھا جس سے اس کے کپڑے گندے ہو گئے تھے زرک نے اسے چاکلیٹ سے کشتی کرتے دیکھا تو اپنا ماتھا پیٹ کے رہ گیا

اوہ عمان جانو !! یہ کیا کر دیا !! اسے وہیں بنچ پہ بیٹھا کر رومال سے اس کا چہرہ صاف کرنے لگا

لو ہو گئی اب زرک خان عرف زیڈ کے کی بچہ سمبھالنے کی ڈیوٹی شروع !! سمیر نے شرارت کرتے ہوئے اسے چھیڑا تو وه قہقہہ لگا کر ہنسنے لگا اب اس کے قہقہے میں زندگی کی رمق موجود تھی جسے عمر اور سمیر دونوں نے ہی محسوس کیا تھا

وه تینوں کب سے ایک ساتھ ہی تھے خوشی غم ہو وه ایک دوسرے کا ساتھ نہیں چھوڑتے تھے کیوں وه تینوں ہی ایک دوسرے کا سہارا تھے اسی لئے ان کی دوستی کوئی بھی آج تک توڑ نہیں سکا تھا ۔۔۔۔۔

وه نکاح کے بعد تھکی ہوئی روم میں ماہی کی مدد سے آئی اور تھکن سے چور وہیں بیڈ پر ڈھے گئی اس نے کھانا بھی نہیں کھایا تھا اور اب چینج کیے بغیر ہی سونے لگی تھی

کچھ ہی دیر ہوئی تھی

اسے نیند میں جاتے اب اسے بالوں میں حرکت محسوس ہوئی تھی جیسے کوئی سہلا رہا ہو اسے اس طرح سکون سا مل رہا تھا اس کی نیند اور بھی گہری ہونے ہی لگی تھی کہ چہرے پر پڑنے والی گرم سانسوں نے اسے کسمسانے پر مجبور کر دیا تھا نیند میں بھی اسے یہ حرکت پسند نہیں آئی تھی

جب اس کے ہونٹوں پر کسی کی انگلی کا لمس اسے محسوس ہوا تو وه جھٹکے سے اٹھ بیٹھی نظر اپنے قریب بیٹھے شخص پر گئی تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں

آپ !! اس وقت یہاں ؟؟ وه حیرانگی سے بولتی ہوئی اپنا حلیہ درست کرنے لگی

ہاں میں !! ظاہر ہے اپنی بیوی کے پاس ہی ہونا چاہیے تھا نہ ؟؟ بھولے پن سے بولتا ہوا وه اب اسے مسکراتی آنکھوں سے دیکھنے لگا جو اس کی بات سنتے ہی بوکھلا گئی تھی

زبردست مسکراہٹ نے اس کے لبوں کا احاطہ کیا تھا جسے وه ضبط کرتا روک گیا تھا اب سنجیده سی شکل بنا کر اسے گھور رہا تھا

وه اب اس کے یوں دیکھنے پر کنفیوز ہوتی پیچھے کو آہستہ سے کھسکی جو اب اس کی یہ حرکت ہارون کی نظر میں آ چکی تھی ایک ہی جھٹکے میں اس کا دور جانا کینسل کر چکا تھا اب اس کی گهبراہٹ نوٹ کر رہا تھا جو اس کے سینے پر ہاتھ رکھے سختی سے آنکھیں بند کیے کپکپانے لگی تھی

ریلیکس یار !! کچھ نہیں کر رہا میں !! اس کی کمر سہلاتا اس نے اس کے کان میں سرگوشی کی تھی جسے سن کر وه ایک دم ٹھہر سی گئی تھی ہارون بے ساختہ مسکرا پڑا تھا آہستگی سے اسے اپنے سے الگ کیا اور اس کے ماتھے پر اپنے پیار کی پہلی مہر ثبت کی اور جھٹکے سے اٹھتا روم سے نکلتا چلا گیا تھوڑی دیر اور ہوتی تو شاید وه اپنا ضبط کھو بیٹھتا اس کا شدت بھرا لمس اسے کپکپانے کو کافی تھا اور جس کو وه محسوس کرنے میں ہی گم تھی آنکھیں کھولی تو وه حیران ہوئی وه کب کا جا چکا تھا گہرا سانس لیتی وه اپنے آپ کو نارمل کرنے لگی اور اب مسکراہٹ خود بہ خود اس کے لبوں پر چھو گئی تھی ۔۔۔۔۔

 وه تینوں خوش گپیوں میں مشغول تھے اور ایک دوسرے سے چھیڑ چھاڑ بھی جاری تھی کہ اتنے میں نرس نے آ کر اسے اطلاع دی

سر آپ کی وائف اب جاگ چکی ہیں !!

زرک نے ایک دم ہی عمر کو دیکھا تھا جو اب اسے اندر جانے کا اشارہ کر رہا تھا

چلو زرک اندر !! حوصلہ رکھو چلو اب !! سمیر بھی اس کی تائید میں بولا تو وه گہرا سانس لیتا عمان کو اٹھاتا روم میں انٹر ہوا وه دونوں بھی اس کے پیچھے ہی روم میں آئے

وه جو یوں ہی لیٹی چھت کو گھوررے جا رہی تھی آہٹ پر موڑ کر دیکھا تو اس نے منہ ہی پھیر لیا تھا زرک اس کا رویہ دیکھتا ہوا اب ان دونوں کو دیکھ رہا تھا اور جھجھک رہا تھا عمر اور سمیر نے ایک دوسرے کو دیکھا اور اشارہ کیا اور اسے دھکا دے کر بولے

چل اب جا بھی کیا یہاں سٹیچو بنے ہوئے ہو !! زرک ہمت کرتے ہوئے عمان کو لیے بیڈ کی طرف آیا اور عمان کو مہلب کے پاس ہی بیٹھا دیا اب عمان ماں کو دیکھتے ہی رونے لگا اور اس کی طرف ہمکنے لگا مہلب نے اسے چوم کر اپنے پاس بیٹھایا پر وه پھر سے کھڑا ہو کر اسے بھی اٹھا رہا تھا

عمر نے زرک کو گھورا تو گھبرا گیا پر اس کی آگے جانے کی ہمت نہیں ہوئی عمان ماں کو سکون سے رہنے نہیں دے رہا تھا تبھی زرک نے عمان کل وہاں سے اٹھا لیا اور اپنی بانہوں میں بھر لیا اب عمر اور سمیر آگے آئے اور اس کی طبیعت معلوم کرنے لگے

بھابھی اب آپ کی طبیعت کیسی ہے ؟؟ مہلب نے چونک کر عمر کو دیکھا کہ وه کیا بول رہا ہے اور جو اسے شک تھا اب یقین میں بدل گیا تھا مہلب اب اٹھ بیٹھی تھی اور بولی

ٹھیک ہوں بھائی !!

بھابھی آپ کا بیٹا ماشاءالله بہت پیارا ہے !! سمیر فٹ بولا تو مہلب نے مسكرا کر عمان کو دیکھا تو نظر عمان سے هوتی ہوئی زرک پر پڑی تو وه مسکرانا ہی بھول گئی اور زبردستی ہونٹ بھینچ لئے اور ایک دم ہی نظریں وہاں سے ہٹا لی تھیں

عمر نے اس کی سرد مہری نوٹ کر لی تھی تبھی آگے بڑھ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا

میری بہنا اگر آپ حقیقت جان ہی گئی ہو تو اب قبول کرنا بھی سیکھو !! ساتھ ہی زرک کو باہر جانے کا اشارہ کیا وه جو خاموشی سے مہلب کو دیکھنے میں مصروف تھا ہوش میں آتے ہی وه عمان کے ساتھ روم سے چلا گیا

مہلب اب سر بیک کراؤن سے لگا کر بولی

بھائی یہ ایسی حقیقت ہے جو بہت تلخ اور کڑوی ہے !!

تو سمیر بولا

بہنا یہ تو زندگی کا حصہ ہے یہ تو ہونا تھا ہی نصیب کا لکھا کوئی نہیں ٹال سکتا !! اب آپ کو ہی اپنے بیٹے کے لیے بھی قبول کرنا ہو گا

ہاں مہلب بہنا !! سمیر ٹھیک کہہ رہا ہے !! اگر زرک عمان کے سر پر نہ ہو تو وه مار دیں گے عمان کو اور زرک کے ہوتے ہوئے زرک کی اولاد پر کوئی بری نظر نہیں رکھ سکتا یہ تم بھی جانتی ہو کہ زرک ایک حثیت رکھتا ہے

اور چلو تمہاری بات مان بھی لیتے ہیں کہ تم الگ ہو جاتی ہو تو سب لوگوں کو کیا جواب دیتی رہو گی ساری عمر ؟؟ کہ عمان کا باپ مر گیا ہے یا اس نے چھوڑ دیا ہے ؟؟ مہلب نے بے ساختہ بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھا جیسے شکوہ کر رہی ہو لیکن عمر نے اپنی بات جاری ہی رکھی

لوگ لاکھ ترس کھائیں تمہارے بیٹے کو باپ کا سایہ کوئی اور نہیں دے سکتا سمجھ رہی ہو نہ !!

مہلب آنسو ضبط کرتے کرتے رو پڑی اور روتے روتے ہی سر ہلایا

اب ساتھ جاؤ گی اس کے ؟؟ عمر نے پوچھا تو وه سر ہلاتی ان دونوں کو مسکرانے پر مجبور کر چکی تھی

اب اگر زرک نے کوئی بدتمیزی کی تو تم بلا جھجھک ہم کو بتا سکتی ہو کیوں کہ ہم تمہارے بھائی ہیں اور بھائیوں کو سب بتا سکتی ہو ٹھیک اب مسكراؤ !! مہلب اس کے انداز پر ہنس پڑی تو عمر اور سمیر نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور اسے دعا دی

خوش رہو مسكراتی رہو اور ہم کو ہم کو اچھے اچھے کھانے بنا کر کھلاتی رہو !! سمیر کے مسخرے پن پر اس کی بے ساختہ ہنسی نکل گئی تھی اب وه کھلکھلا کر ہنس رہی تھی ۔۔۔۔۔

احمد صاحب نے جب سے ان سے نکاح کی بات کی تھی تب سے وه تڑپ رہی تھیں وه تو منصوبہ بنا چکیں تھیں کہ منگنی اتنی بڑی بات نہیں کہ وه توڑوا نہ سکے اب جب سے نکاح ہوا تھا ان کی ساری کی ساری منصوبہ بندی الٹ چکی تھی وه کیا سے کیا سوچے ھوئے تھیں

لیکن ان کی ساس اور احمد صاحب نے ان کی ایک نہ چلنے دی اب وه انگاروں پر لوٹ رہی تھیں وه میرب کو کسی صورت پر بھی قبول نہیں کرنا چاہتی تھیں اب وه اگلا کوئی قدم ایسا اٹھانا چاہتی تھیں کہ جس سے سانپ بھی مار جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے

کیا سوچ رہی ہو ؟؟ احمد صاحب روم میں انٹر ہوتے ہوئے بولے وه جو اپنی ہی سوچوں میں مگن تھیں ان کے آنے کا نوٹس نہ کر سکیں

کک کچھ نہیں !! بس ایسے ہی بیٹھی ہوئی تھی تھک چکی ہوں!! اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے وه بات ہی پلٹ چکیں تھیں

ہاں تھک تو میں بھی گیا ہوں !! لیکن بچوں کی خوشی میں یہ تھکاوٹ کچھ بھی نہیں !! وه اب بیڈ پر دراز ہو چکے تھے ان کی بات پر وه منہ بنائے بغیر نہ رہ سکیں

کاش مہلب بھی ہوتی تو آج خوشی کچھ اور ہی رنگ کی ہوتی لیکن بس قسمت کے کھیل کو کون جان سکتا ہے !!! ارے یہ کہاں گئی !! بات کرتے کرتے انھوں نے موڑ کر دیکھا تو حیران ہوئے اور افسوس سے سر ہلا گئے اور وه ان کا مہلب نامہ شروع ہوتا دیکھ کر وه چپ چاپ اٹھ کر واشروم چلی گئیں ۔۔۔۔۔۔

 

اپنی رائے کا اظہار لازمی کریں۔۔۔۔آج تک آپ سب نے بہت سی ونی بیسڈ سٹوری پڑھیں ہوگی۔۔۔۔لیکن اس کو پڑھنے کے بعد آپ سب کو یہ کہانی منفرد لگے گی۔۔۔۔

continued…….

 

Urdu http://Novelsnagri.com is a website where you can find all genres, Rude heroine romantic novel, QAID JUNOON, Best Novels 2022, from romance to tragedy, from suspense to action, from funny to horror and many more free Urdu stories.

Also Give your comments on the novels and also visit our Facebook page for E-books . Hope all of you enjoy it. And also visit our channel for more novels

 

Leave a Comment

Your email address will not be published.