QAID JUNOON Best Novels 2022

QAID JUNOON Best Novels 2022 | Ep#15 | Faiza Sheikh Novel

QAID JUNOON Best Novels 2022 | Best Novels 2022 | Faiza sheikh Novel

 

     Novelsnagri is a platform for social media writers. We have started a journey for all social media writers to publish their content. Welcome all Writers to our platform with your writing skills you can test your writing skills.

QAID JUNOON, Best Novels 2022, from romance to tragedy, from suspense to action, from funny to horror and many more free Urdu stories

قید_جنون #

قسط_نمبر_15 #

از قلم_فائزہ_شیخ #

__________________

وه رات بھر سو نہ سکا تھا کبھی چائے بنا کر پیتا تو کبھی کافی اور سگریٹ پہ سگریٹ پھونکتا رہا اب اس کی آنکھیں بھی رت جگے کی وجہ سے بے تحاشہ سرخ ہو رہی تھیں اتنے میں ہی اذان کی آواز اسے سنائی دی تو وه اٹھا اور وضو کر کے فجر کی نماز پڑھی اور اللّه سے گڑ گڑا کر اپنے کیے کی معافی مانگنے لگا

اے اللّه مجھے معاف کر دے میرے گناہوں کی سزا ختم کر دے میرے مولا !! تو رحیم ہے کريم ہے ہر چیز پہ قادر ہے !! یا اللّه میرا دعا سن لے تجھے تیرے حبیب کا واسطہ مجھے میری مہلب لوٹا دے !! اس کے دل میں میری محبّت ڈال دے !! مجھے معاف کر دے مجھے ایک موقع دے کہ میں اپنی غلطی سدهار سکوں اس کے بنا نہیں رہ سکتا میں اسے میرا بنا دے اللّه !! میں اسے اپنی آغوش میں چھپانا چاہتا ہوں اسے غموں سے دور کرنا چاہتا ہوں !! یا اللّه میری مدد فرما مجھے معاف کر دے !! مجھے میری محبّت لوٹا دے میرے اللّه !! مجھے معاف کر دے بے شک تو گناہوں کو معاف کرنے والا ہے !! وه میری ہو کر بھی مجھ سے دور ہے یا اللّه یہ فاصلے مٹا دے اسے میرا بنا دے !! مجھے معاف کر دے میری توبہ قبول کر !!

  اب وه پھوٹ پھوٹ کر اللّه کے سامنے رونے لگا دعا مانگ کر اٹھا اور اپنا چہرہ بھی صاف کیا جو آنسو سے بھیگا ہوا تھا

وه اپنے روم میں آیا تو مہلب عمان کو لے کر کب کی جا چکی تھی اس نے صبح فجر کی نماز پڑھتے ہی ساجد کو بلا لیا تھا عمان کو اٹھا کر باہر نکلی تو اسے نماز میں مصروف دیکھا تو اس سے کچھ نہ کہہ سکی اور وہاں سے چلی گئی

 زرک پر ایک دم سے تھکن چھانے لگی آہستہ سے چلتے ہوئے وه بیڈ پر اسی جگہ بیٹھ گیا جہاں تھوڑی دیر پہلے وه موجود تھی اور اسی تکیے کو اپنے سینے سے لگا لیا اسے اس سے مہلب کی خوشبو آ رہی تھی اور اب وه یوں ہی اسی حالت میں غنودگی میں چلا گیا

_______________________________________

سب ڈائینگ ٹیبل پر ناشتہ کر رہے تھے ہارون کو مہلب کچھ دن سے نظر نہ آئی تو وه سمجھا شاید اپنی ماں کے گھر گئی ہوئی ہے اب بھی اسے نظر نہ آئی تو وه بولے بغیر نہ رہ سکا

کیا بات ہے ؟؟ مہلب کئی دن سے نظر نہیں آئی نہ مجھ سے ملی کیا ابھی تک اپنی موم کے گھر سے نہیں آئی ؟؟

اس کے اچانک اس طرح بولنے پر وہاں بیٹھے سب افراد کو سانپ سونگھ گیا تھا سب ہی ایک دوسرے سے نظریں چرانے لگے

کیا ہوا ؟؟ سب ایک دم خاموش کیوں ہو گئے ؟؟ جیسے کوئی انہونی بات پوچھ لی ہو !! وه اب حیران ہو کر سب کے چہرے دیکھ رہا تھا میرب خود پر قابو پانے کے چکر میں رو دینے والی ہو چکی تھی وہ اسی کو اب دیکھ رہا تھا

کوئی کچھ کہے گا بھی یا نہیں ؟؟ وه پھر سے جھنجھلا کر بولا تو سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگے کے کون اب جواب دے گا آخر کار احمد صاحب نے ہمت کی اور کہنے لگے

اس کی شادی ہو گئی !! یہ کہہ کر وه خاموش ہو گئے

کیا ؟؟ کیا کہا ؟؟ شادی ؟؟ وه بھی مہلب کی ؟؟ مجھے بتائے بغیر کیسے ہو گئی شادی اس کی ؟ کیا میں اس گھر کا فرد نہیں ہوں ؟ جو مجھ سے پوچھے بغیر اور علم میں لائے بغیر آپ لوگوں نے اس کی شادی کر دی ؟؟ وه اب بگڑ ہی گیا تھا تبھی چیخ کر بولا

ہم نے نہیں کی شادی اس کی !! ماموں نے سمجھاتے ہوئے کہا

کیا مطلب ؟ اس کی شادی بھی ہو گئی اور آپ لوگوں نے نہیں کروائی ؟؟ میں پاگل ہو جاؤں گا اب !! وه سر پکڑ کر بیٹھ گیا تب ہی احمد صاحب بول پڑے

ہارون بیٹا کول ڈاؤن !! میں سب بتاتا ہوں کیا ہوا تھا وه انہیں سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا جو اب اسے بتانا شروع ہو چکے تھے جیسے جیسے وه سن رہا تھا اس غصّہ اور عروج پر پہنچ رہا تھا سخت غصّے کے عالم میں اس نے اپنی مٹھیاں بھینچ لی تھیں یہ اس کے غصّے کی نشانی تھی جس کو دیکھ کر ممانی کے چہرے پر بھی ہوائیاں اڑنے لگی

افف خدا !! اتنا سب کچھ ہو گیا کسی نے مجھے خبر تک نہ دی سب سے شکوہ کر کے اس نے سرد نظروں سے میرب کو دیکھا جو اب نظریں چرا رہی تھی ماہی بھی سر جھکائے سب سن رہی تھی کسی کی بولنے کی ہمت ہی نہ ہوئی

وه کچھ دیر یوں ہی میرب کو غصّے سے گھورتا رہا اور جھٹکے سے اٹھتا وہاں سے نکل پڑا اس کی برداشت یہاں تک ہی تھی تھوڑی دیر اور وہاں رہتا تو پتا نہیں کیا کر بیٹھتا ۔۔۔

سب اسے یوں غصّے سے جاتا دیکھ کر اپنی جگہ سن سے بیٹھے رہ گئے ۔۔۔۔۔۔

_________________________________________

آپی ذرا بات سنو !!

وه جو واشروم سے منہ دھو کر باہر آئی تو ماہی کی آواز پر وه اسے دیکھنے لگی

ہاں بولو !!

آپی آپ سے ماموں نے رشتے کی بات کی ؟؟ وه اب سنجیده سی لگ رہی تھی میرب نے اسے حیرانگی سے دیکھا

ہاں کی تھی بات !! میرب نے گہرا سانس بھرا اور کہا تو آپ نے کیا جواب دیا ؟؟ ماہی اسے جانچتی نظروں سے دیکھنے لگی جو اب اس سے نظریں چرا رہی تھی

بتاؤ نہ اب !! ماہی نے جھنجھلا کر کہا

میں نے کہا کہ ممانی مسئلہ ہے !! میرب نے اب اصل بات بتائی

تو ؟؟ ماہی نے آگے پوچھا

تو بس ماموں نے بات سمبھال لی کہ وه سب دیکھ لیں گے لیکن میں ڈر رہی ہوں ممانی ایسے چپ بیٹھنے والی نہیں ہے !! اور ہارون بھائی وه الگ جلد باز ہیں !! میرب نے پریشانی ظاھر کی

ارے آپی اب آپ کے بھائی نہیں ہیں وہ بلکہ آپ کے تو وه ہیں !! ماہی شرارتی انداز میں بولی تو میرب نے اسے تکیہ کھینچ مارا

تم بھی نا ماہی !! وہ جھینپ گئی تھی جس پر ماہی ہنس پڑی اور ایک دم ہی میرب کے گلے لگ گئی تھی میرب اس کی حرکت پر مسکرا دی

کاش مہلب آپی یہاں ہوتی میں بہت مس کرتی ہوں ان کو بہت زیادہ !! ماہی اب بھیگی آواز میں بولی تو میرب بھی لب کاٹتی رو دینے والی تھی وه بھی اسے بہت یاد کرتی تھی لیکن ظاھر نہیں کرتی تھی روز رات وه اپنی غلطی پر روتی تھی کہ وه ضد نہ کرتی تو وه سب کچھ نہ ہوتا ۔۔۔۔۔

_______________________________________

عمر صبح اس کے پاس آیا تو مہلب وہاں موجود نہیں تھی وہ سیدھا روم میں گیا تو زرک خان کو دیکھا وه اسے باہوں میں تکیہ بھینچے دیکھ کر حیران ہو کر آگے بڑھا اور اس کے پاس جا کر رک گیا

زرک !! زرک !!

وہ بے سدھ سویا ہوا تھا اس تک آواز کیسے پہنچتی عمر نے تکیہ اس کی بانہوں سے نکال کر اس کے سر کے نیچے احتیاط سے رکھا اور اسے كمبل اوڑھایا سردی کی وجہ سے اس کا پورا جسم ٹھنڈا پڑ چکا تھا عمر نے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھا تو وه بخار سے تپ رہا تھا عمر اب پریشان ہو گیا

اور اسے اٹھانے لگا اس کا چہرہ تھپتھپایا اور کہنے لگا

زرک اٹھو یار کیا ہوا ہے تمہیں ؟؟

زرک نے آنکھیں کھولیں جو بہت ہی بخار اور رت جگے کی وجہ سے سرخ ہو رہی تھیں

یہ کیا حالت بنائی ہے ؟؟ کیا ہوا ہے ؟؟ اتنا تیز بخار کیسے ہوا ؟؟ عمر نے اسے جانچتی نظروں سے دیکھا وه دهیرے سے زخمی سا مسکرایا تو عمر کا دل کٹ سا گیا تھا اسے یوں مسكراتے دیکھ کر

کیا کچھ نہیں تھا اس کی مسکراہٹ جیسے میں کچھ کھو دینے کا غم ، نہ ملنے کی مایوسی ڈر و خوف !! عمر نے کچھ نہ کہا بس اسے دیکھتا رہا

زرک یوں ہی لیٹا رہا اور پھر سے آنکھیں موند لیں عمر نے دکھ سے اسے دیکھا کچھ بولنے ہی لگا تھا کہ چپ ہو گیا زرک نے پھر سے آنکھیں کھول لیں اب چھت کو بلا وجہ گھورے جا رہا تھا اور پھر اٹھ بیٹھا

عمر نے اس لئے چائے بنائی اور اور دوائی دینے لگا تو وه بیزار سا بولا

یار عمر میں نے نہیں کھانا کچھ نہ ہی یہ چائے پینی ہے !!

کیوں !! عمر نے سائیڈ ٹیبل پر کپ رکھتے ہوئے پوچھا

بس میرا دل نہیں کر رہا !! وہ بے زاری سے بولا

چلو اچھا تم مت پیو میں ہی پی لیتا ہوں !! پر یہ میڈیسن تو کھا لو !! عمر نے کپ اٹھاتے ہوئے کہا

زرک اسے دیکھ کر رہ گیا اور کوئی ضد کیے بغیر میڈیسن کھا لی اور دوبارہ لیٹ گیا تھا وه جانتا تھا عمر ایسے اس کی جان نہیں چھوڑے گا کچھ دیر میں ہی دوائی نے اثر دکھانا شروع کیا اور وه پھر سے سو گیا عمر اسے دیکھ کر گری سوچ میں گم تھا اور یہ ہی سوچ رہا تھا کہ کیسے سب کچھ ٹھیک کیا جائے ۔۔۔

زرک تو اپنے کیے پر شرمندہ اور تڑپ رہا تھا اپنی ہی زندگی کو خود تباہ کرنے پر عذاب میں مبتلا تھا اور مسلسل تڑپ رہا تھا ۔۔۔۔

_________________________________________

ماشاءالله !! میری پیاری سی بہن کتنی خوبصورت لگ رہی ہے !! وه منگنی کی دلہن بنی اپنے روم میں تھی بیوٹیشن نے آخری ٹچ دیا اور اس کا دوپٹہ سیٹ کیا

میرب پہلے تو بہت ڈر رہی تھی لیکن ماہی کے یوں کہنے پر شرمائی شرمائی بہت کیوٹ اور پیاری لگ رہی تھی

ہارون بھائی تو آج مر مٹے گے آپ پر !! ماہی نے شرارت سے کہا تو وه شرم سے سرخ پر گئی

ارے ماہی بھئی لے آؤ ہماری بیٹی کو !! نانو نے اندر آ کر کہا تو نظر میرب پر پڑ گئی ماشاءالله !! اللّه نظر بد سے بچائے آمین نانو اس کا ماتھا چومتی ہوئیں بولیں

نانو آپ چلو میں لے کر آ رہی ہوں میرب آپی کو !! ماہی بول کر میرب کو نیچے لے آئی جہاں سب نے ہی خوب تعریفیں کی کہ آج تو میرب پر روپ بہت آیا ہے

ہارون تو بس دیکھے ہی جا رہا تھا جو سفید کرتا شلوار میں غضب کا لگ رہا تھا سب ہی اسے رشک سے دیکھ رہے تھے

دھیان سے بھائی !! ذرا تحمل ذرا صبر !! آنا تو آپی نے آپ کے پاس ہی ہے !! ماہی نے اس کے کان میں سرگوشی کی تو وه اسے گھورنے لگا ماہی نے فٹ معصوم سی شکل بنا لی تھی ہارون کو ہنسی آ گئی تو ماہی بھی مسکرا پڑی

میری تو یہ بیٹی بھی بہت پیاری لگ رہی ہے !! پاس ہی بیٹھی نانو نے ماہی کی بلائیں لی تھیں ماہی نے مسکرا کر ہارون کو چڑایا

ہاں دادو !! آج تو یہ چڑیل بھی اچھی لگ رہی ہے !! ہارون نے بھی فٹ بدلہ اتارا تھا ماہی نے سنتے ہی منہ سوجا لیا

نانو دیکھیں بھائی کو !! وه روہانسی ہی ہو گئی

نہ بیٹا تنگ نہ کرو میری شہزادی بیٹی کو !! نانو کے کہنے پر ہارون کا قہقہہ بے ساختہ تھا پھر ایک نظر میرب کو دیکھ کر وه اچانک سے اس کے پاس سے اٹھا اور احمد صاحب کے پاس جا کر ان کے کان میں کچھ کہا تو وه اسے گھور کر رہ گئے اور باہر کو چل دیے تا کہ انتظامات کر سکیں

پیچھے میرب اس کے یوں اٹھنے پر حیران تھی کہ اب پتا نہیں اس کو کون سے بات بری لگ گئی تھی جس کا غصّہ و بھگتنا تھا ممانی ایک طرف آرام سے بیٹھی یہ سب دیکھ رہی تھیں ان کو یہ رشتہ ہی نہیں کرنا تھا لیکن احمد صاحب نے ان کو سختی سے منع کیا ہوا تھا کوئی فساد برپا نہ کرنے پر تب ہی وه یوں بیٹھی ہوئی تھیں جن کے منہ کے زاویے ہی ٹھیک نہیں ہو رہے تھے ۔۔۔۔۔

________________________________________

وه ساجد کے ساتھ گھر تو آ گئی تھی لیکن اسے زرک کی نظریں اور اس کا رویہ نہیں بھول رہا تھا مسلسل ہی وه اسی کو سوچے جا رہی تھی اسے سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ وه کیوں ایسا تھا کبھی کھڑوس سا تو کبھی نرم سا اپنی اسی پرسنیلٹی کی وجہ سے وه مہلب کے دماغ پہ چھایا ہوا تھا یہ نکاح کے بولوں کا ہی اثر تھا کہ دونوں ایک دوسرے کو ہی سوچ رہے تھے دونوں کی روحیں اسی لئے بے چین سی تھیں لیکن مہلب یہ بات نہیں جانتی تھی وه تو اپنے شوہر سے ہی انجان تھی کہ آخر اس کا شوہر ہے کون جس نے اس کی زندگی برباد کی اور اب غائب تھا وه تو یہ ہی سمجھ رہی تھی کہ اسے اپنے بچے کا جب پتا چلے گا تو کیا ہو گا اس کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کرے گا اب اسے یہ خوف بھی تھا کہ اس کے بچے کے دشمن اس تک نہ پہنچ جائیں ہر وقت اسے اب یہ ہی دھڑکا لگا رہتا تھا جس کا ذکر وه مور جان سے بھی کرتی رہتی تھی جو اس کو تسلی ہی دیتی تھیں کہ سب خیر ہو گی لیکن وه پھر بھی پریشان رہتی تھی ۔۔۔۔

_____________________________________

آج بھی وه عمان کو اپنے ساتھ لے آئی تھی کیوں کہ اب وه ہر لمحہ ہی خوف زدہ سی رہتی تھی پتا نہیں اسے یہ خوف کیوں لا حق ہو چکا تھا تب ہی وه عمان کو اپنے سے جدا نہیں کرتی تھی اور اپنے ساتھ ساتھ ہی رکھتی آج بھی جب وه اسے آفس ساتھ لے آئی تو عمر تو خوش ہو گیا تھا اسے دیکھ کر پھر مہلب کو کام کرنے کا بول کر اس سے عمان لے کر اپنے آفس آ گیا تھا جہاں زرک خان نڈھال سا کام کر رہا تھا بخار کی حالت میں بھی وه آفس آیا تھا

زرک دیکھو کون آیا ہے!! عمر نے روم میں انٹر ہوتے ہوئے کہا

زرک خان نے چونک کر سر اٹھایا تو عمان کو دیکھ کر اس کی آنکھیں چمکنے لگی تھیں

ارے میرا بیٹا میری جان !! زرک نے جلدی سے اٹھ کر اٹھ کر عمر سے عمان کو لیا اور اسے بے تابی سے چومنے لگا جس پر عمان کھلکھلا کر ہنس پڑا تھا زرک اور عمر بھی اسے یوں خوش ہوتے دیکھ کر خود بھی خوش ہو رہے تھے

زرک اسے اپنی گود میں بیٹھا کر اس سے باتیں کرنے لگا عمان زرک کو اچھی طرح پہچانتا تھا اور اس سے کافی مانوس بھی ہو چکا تھا

پاپا !! عمان نے ایک دم ہی اس کے گال پر ہاتھ رکھ کر بولا تو زرک کی خوشی کا کوئی ٹھکانا ہی نہیں تھا اپنے بیٹے کے منہ سے پاپا سننا اس کے لئے بہت اعزاز کی بات تھی اس نے فٹ عمان کے گال چومے تھے خوشی سے اس کی آنکھوں میں آنسو ہی آ گئے تھے عمر نے اسے دیکھا تو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتا اسے حوصلہ دیا جس پر زرک نے مسکرا کر اسے دیکھا اور عمان سے چھوٹی چھوٹی باتیں کرنے لگا جو اپنی توتلی زبان میں جواب دیتا تھا وه بھی اٹک اٹک کر کیوں کہ ابھی وه زیادہ روانی میں بول نہیں سکتا تھا اس لئے چھوٹے چھوٹے لفظ بولتا تھا اب وه دو سال کا ہونے والا تھا

یوں ہی زرک سے کھیلتا وه اب اس کی گود میں پر سکون ہو کر سو رہا تھا زرک نے اسے احتیاط سے صوفے پر لیٹا دیا اور خود واپس کام کرنے لگا اب عمر بھی اس کے ساتھ بیٹھا کسی مسئلے پر بات کر رہا تھا

اور یوں ہی کسی بات پر دونوں ہنس رہے تھے کہ وہ آفس میں آئی

سر !! وه جیسے ہی اندر آئی تو دونوں کی ہنسی کو بریک لگا

سر کام ختم ہو گیا ہے تو میں جاؤں ؟؟؟

جی بلکل آپ جا سکتی ہیں !! عمر نے زرک کو گھور کر دیکھا تو یک ٹک اسی کو دیکھنے میں مصروف تھا

سر عمان یہاں ہے ؟؟ مہلب نے اب دوبارہ پوچھا وه اسے ہی ڈھونڈتے ہوئے یہاں آئی تھی

جی یہ یہاں سو رہا ہے !! مہلب اب اسے لینے کے لئے آگے بڑھی اسے گود میں ہی ابھی اٹھایا تھا کہ وه نیند سے جاگ گیا اور رونے لگ گیا

عمان ماما ہے یہاں !! گھر چلیں عمان خان !! وه اب اسے چپ کرانے میں ہلکان ہو رہی تھی اب وه رونے میں زور پکڑ چکا تھا زرک سے رہا نہ گیا اور آگے بڑھ کر اس کی گود سے عمان کو لے لیا اور اسے پیار سے چپ کروانے لگا اب وه ہچکیوں سے رو رہا تھا

پاپا !! ماما ہائی !! عمان کے یہ بولنے کی دیر تھی کہ مہلب شاک میں کھڑی لڑکھڑا گئی بر وقت اس نے چیئر کا سہارا لیا

پاپا !! ہائی !! عمان اس کے گال پر اپنے چھوٹے ہاتھ رکھتا پھر سے بولا زرک نے اس کے آنسو صاف کیے اور بولا

عمان کی ماما ہائی نہیں کرے گی عمان جانی کو !!زرک جو پریشان ہو گیا تھا اس کے یوں بولنے پر ایک نظر مہلب پر ڈال کر اس نے اس کے گال چومیں اور اسے اپنے سینے سے لگا کر ٹہلنے لگا عمر حیران پریشان کبھی زرک کو دیکھتا تو کبھی مہلب کو دیکھتا

وه جو اسے حیران ہو کر دیکھ رہی تھی اب زیادہ دیر تک اسے اپنے بیٹے کے ساتھ لاڈ اٹھاتا نہیں دیکھ پائی تھی اس کے ذہن میں طرح طرح کے خیال اور خوف نے ایک ساتھ آنا شروع کر دیا تھا جس کی وجہ سے اب وه ہوش کھوتی جا رہی تھی

عمر نے زرک کو دیکھا جو عمان کے ساتھ مصروف تھا اور پھر موڑ کر پیچھے دیکھا تو چیخ پڑا

مہلب !!!!!! وه اب چیئر پر گرتی ہوش سے بیگانا ہو چکی تھی زرک بھی اس کے چیخنے پر متوجہ ہوا اور عمان کو عمر کو پکڑا کر جلدی سے اس کے قریب آیا اور اسے اپنی بانہوں میں لے لیا

مہلب !! مہلب میری جان آنکھیں کھولو !! ایسا نہ کرو میرے ساتھ !! مہلب !!!!! اس کا چہرہ مسلسل تھپتھپا رہا تھا اسے خود اپنا ہوش بھی اب نہ تھا اس کی تو اب جان پر بن گئی تھی اسے اپنی زندگی اپنے سے بہت دور جاتی ہوئی دکھائی دی جو وه نہیں چاہتا تھا بیشک وه چاہتا تھا کہ مہلب کو سچائی پتا لگ جائے لیکن جس طرح حقیقت سامنے آئی تھی وه اچھا نہیں ہوا تھا

وه اسے اپنے ساتھ لگائے جهنجھوڑنے میں لگا رہا پھر عمر کے کہنے پر وه اسے بازوؤں میں اٹھائے باہر کو بھاگا جہاں اس کی گاڑی اب عمر ڈرائیو کرنے والا تھا احتیاط سے اسے گاڑی میں ڈال کر خود بھی اسی کے ساتھ بیٹھ گیا عمر نے عمان کو بڑی مشکل سے بہلایا ہوا تھا اب ضرورت تھی تو جلدی ہوسپٹل پہنچنے کی ۔۔۔۔۔۔۔۔

______________________________

continued…

QAID JUNOON Best Novels 2022  Most romantic Novel 2022 is a website where you can find all genres, Rude heroine romantic novel, QAID JUNOON, Best Novels 2022, from romance to tragedy, from suspense to action, from funny to horror and many more free Urdu stories.

Also Give your comments on the novels and also visit our Facebook page for E-books . Hope all of you enjoy it. And also visit our channel for more novels.

Leave a Comment

Your email address will not be published.