QAID JUNOON Best Novels 2022

QAID JUNOON Best Novel 2022 | Ep#14 | Faiza Sheikh Novel

QAID JUNOON Best Novel 2022 | Ep_14 | Faiza Sheikh Novel

Novel Nagri is a platform for social media writers. We have started a journey for all social media writers to publish their content. Welcome all Writers to our platform with your writing skills you can test your writing skills.

 

QAID JUNOON Best Novels 2022 , from romance to tragedy, from suspense to action, from funny to horror and many more free Urdu stories.

 

 

 

قید جنون

قسط_نمبر_14

از قلم فائزہ شیخ

کہا نا مجھے کل کوئی بھی گھر پر نہیں چاہیے نا تم نا تمہاری بہنیں سمجھ گئی کھانا بنانے

کے بعد لوگ گھر پر نظر مت آنا مجھے اپنی بات مکمل کر کے ناز بیگم نے مہلب کو گھور کر دیکھا

لیکن ممانی ہم اتنی صبح کہاں جائیں گے اور کل تو چھٹی ہے بازار بھی اتنی جلدی نہیں کھلتے مہلب نے آخری کوشش کی تھی ممانی کو منانے کی مگر ناز بیگم کو تو مہلب کی بات سخت ناگوار گزری تھی

لیکن ویکن کچھ نہیں جو کہا ہے وہی کرو میری بلا سے جہاں بھی جانا ہے جاؤ پر مہمانوں کے آنے سے پہلے مجھے نظر مت آنا اور شام پانچ بجے سے پہلے گھر میں گھسنے کا سوچنا بھی مت پتا کہاں سے آگئیں ہے مفت کی روٹیاں توڑنے شرم بھی نہیں آتی تم لوگو کو کتنی بد تمیز لڑکیاں ہو آگے سے جواب دیتی ہو نخوست سے سر جھٹکتی ناز بیگم یہ جا وہ جا

جبکہ مہلب آنسوں پیتی اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی اتنا کچھ وہ کیسے برداشت کر رہی تھی کافی دیر بیٹھی آنسو بہاتی رہی وقت کا احساس ہی نا ہو سکا ممانی کی کرخت آواز سن کر وہ جیسے ہوش میں آئی

ابھی تک یہیں بیٹھی ہو آخر کس قسم کی لڑکی ہو تم اتنی ڈھیٹ توبہ توبہ اب میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو اٹھو اور دفعہ ہو جاؤ چائے بناؤ سب کے لئے تمہارے ماموں آنے والے ہیں اور ہاں چائے بنا کر اپنے کمرے میں چلی جانا تمہارے ماموں کو چائے میں خود دے دوں گی ممانی کا روپ کوئی نیا تو نہیں تھا تو پھر کیوں میں اتنا دل پر لے رہی ہوں سر جھٹک کر جی کہتی اندر کی جانب بڑھی

چائے بنا کر تھکن سے چور سیدھا اپنے اور بہنوں کے مشترکہ کمرے میں جا کر بیڈ پر پر جیسے ڈھے سی گئی ماہی کو رات سے بخار تھا اور میرب ساتھ والے گھر میں ٹیوشن پڑھا نے گئی تھی جو کہ کل ہی اسے ملی تھی ساجدہ باجی کی دو جڑواں بچیاں تھی دونوں ہی ماہی کی ہم عمر ہونے کے ساتھ ساتھ ہم جماعت بھی تھیں

ماہی خود تو مہلب سے پڑھ لیتی تھی اور مہلب کو کہیں جا کر پڑھانے کی اجازت نہیں تھی ہوتی بھی تو کیسے آخر ممانی کے سارے کام کون کرتا پھر اور اب جب میرب ہاسٹل کو خیر باد کہہ آئی تھی ساجدہ باجی نے ممانی کی کئی منتیں کر ڈالیں بڑی مشکل سے ممانی نے اجازت دی

ممانی کو اس بات سے اعتراض تھا کہ میرب ہی کیوں جا کر پڑھائے وہ اپنی بچیوں کو بھی تو یہاں بھیج سکتی ہے مگر ساجدہ باجی کے شوہر کافی سخت تھے وہ تو اس حق میں ہی نہیں تھے کہ بچیوں کو ٹیوشن کیا سکول بھی جانا چاہیے بس اپنی بچیوں کا شوق دیکھتے

آگے پڑھنے کی اجازت دی تھی مگر کہیں جا کر ٹیوشن پڑھنا سختی سے منع کر رکھا تھا

جبکہ بچیوں کو اب پڑھائی میں تھوڑا مسلہ ہو رہا تھا تو ساجدہ باجی نے ممانی کی بہت منت سماجت کی آخر مما نی نے کچھ سوچ کر اجازت دے ہی دی اپنی ہی سوچوں میں گم نجانے اسکی کب آنکھ لگی اسے کچھ ہوش نا تھا

یہ میں کیا سن رہا ہوں بیٹا شام کا وقت کوئی سونے کا وقت ہے سونے کے لئے تو رات ہوتی ہے آئندہ میں نا سنو کے اس وقت کوئی سو رہا ہے کھانے کی ٹیبل پر ماموں نے مہلب کو دیکھتے ہی کہا

اپنی پلیٹ میں چاول نکالتے ایک پل کے لئے اس کے ہاتھ رکے ایک نظر ممانی کو دیکھا اور جی ماموں جان کہہ کر کھانے کی طرف متوجہ ہوئی اس سارے عرصے میں ناز بیگم ایسے بیٹھی تھیں وہاں جیسے وہاں کوئی موجود ہی نا ہو ماموں کی باتوں پر انجان بننے کی اداکاری کرتی ممانی سے مہلب نے بے حد نفرت محسوس کی تھی

نانو پلیز آپ واپس آجائیں دل ہی دل میں دعا کرتی میرب مہلب کے لئے کافی افسردہ تھی نانو ہوتی تو ممانی کی اتنی مجال نا ہوتی کہ انہیں کچھ کہہ سکیں جیسے ہی نانو کہیں جاتیں تو ممانی کا اصل روپ انہیں دیکھنے کو ملتا جس سے تینوں بہنیں ہی تنگ تھیں

کاش پاپا آپ ہمیں چھوڑ کر نا جاتے میرب نے آنسوں بھری نگاہوں سے مہلب کو دیکھا تو مہلب نے آنکھ کے اشارے سے خاموشی سے کھانا کھانے کو کہا جانتی تھی میرب منہ پھٹ ہے اور جو بات اسے بری لگے سب کے سامنے بول دیتی ہے چاہے ممانی ہی کیوں نا سامنے ہو

بھئی اتنی خاموشی کیوں ہے اماں کدھر ہیں کھانے پر کیوں نہیں آئیں ؟ماموں نے کھانا کھاتے ممانی سے دریافت کیا تو ممانی گڑبڑا گئیں

وہ صبح ثنا آئی تھی کہ رہی تھی بھائی کو بتا دینا اماں دو دن میرے گھر پر رکیں گی تو بس مجھے بتانا یاد ہی نہیں رہا ممانی صفائی سے جھوٹ بولا جس پر ماموں نے آنکھ بند کر کے یقین کر لیا ممانی نانو اور ماموں سے دبتی تھیں جبھی کچھ باتیں ان سے چھپائی جاتیں

کھانا ختم کر کے سارے برتن دھو لینا شیزا بیٹا کچن بھی صاف کر دینا مما نی نے پیار بھری نظروں سے اپنی لاڈلی بیٹی کی جانب دیکھ کر کہا جیسے ماموں کو کچھ جتایا ہو
جی مما جی آپ فکر نا کریں دھل جائیں گے مسکرا کر جواب دیتی شیزا اس وقت میرب اور مہلب کو زہر لگی شیزا بھی ہوبہو اپنی ماں کی کاپی تھی

ماموں کے سامنے کچھ اور بعد میں کچھ میرب نے ساتھ بیٹھی مہلب کو کہنی ماری اور جلدی جلدی کھانا ختم کرنے کو کہا مہلب میرب کی شرارت سمجھ کر مسکرا بھی نا سکی تھی کے میرب نے نئی پھلجڑ ی چھوڑ دی اوکے شیزا آپی گڈ نائٹ اوکے ماموں جان لویو آپی آپ نے کھانا کھا لیا ہے تو چلیں سونے ویسے بھی شیزا آپی برتن دیکھ لیں گی کہہ کر میرب نے آؤ دیکھا نا تاؤ جلدی سے مہلب کا ہاتھ پکڑ کر روم میں آکر ہی دم لیا

جبکہ ممانی اور شیزا ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے شیزا کا موڈ آف ہو چکا تھا وہ تو سمجھی تھی ہمیشہ کی طرح ہی ہوگا پاپا جلدی کھانا ختم کر لیں گے اور اٹھ کر اپنے روم میں چلیں جائیں گے اور ان کے جانے کے بعد یہ سارا کام مہلب ختم کرتی ماموں کے سامنے تو ممانی صرف شو کرتی تھیں

کہ شیزا سارا کام کرتی ہے مگر میرب ہی تھی جو ان کے ٹکر کی تھی ممانی میرب سے کم ہی مخاطب ہوتی تھیں انہیں میرب ایک آنکھ نا بھاتی تھی منہ پر صاف جواب جو دیتی تھی
ممانی کا اپنی ہی باتوں میں پھنسنا میرب کھلکھلا کر ہنسی دروازے کی اوٹ سے دیکھتی ہنس ہنس کر برا حال تھا مزید شیزا پر ظلم ہوا کہ ماموں نے چائے کی فرمائیش بھی کر دی شیزا تلملا کر رہ گئی

حد کرتی ہو میرب کتنی بری بات ہے مہلب نے میرب کو ٹوکا

ارے آپی آپ نے ہی ان کو سر پر چڑھایا ہوا ہے ایک بار صرف ایک بار میری طرح جواب دے کر دیکھیں اگلی بار کسی کی مجال نہیں ہو گی سر پر چڑھنے کی میرب نے اپنی ہی دھن میں کہا تھا جبکہ مہلب میرب کی بات پر چپ رہ گئی ایک گہری سانس خارج کرتی نماز کی تیاری کرنے لگی

____________________

زمان احمد کا تعلق ایک پڑھے لکھے گھرانے سے تھا زمان احمد اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے ابھی تیرا برس کے تھے کہ ان کے والد اس دنیا سے چل بسے ان کی والدہ اپنے شوہر کی جدائی برداشت نا کر سکیں اور ایک مہینے بعد ہی ہارٹ اٹیک کی وجہ سے ان کی وفات زمان احمد کو اکیلا کر گئی محنت کر کے اپنی پڑھائی مکمل کی ساتھ ہی پارٹ ٹائم جاب کیا کرتے یونیورسٹی کے دنوں میں ایک خوبصورت لڑکی کو اپنا دل دے بیٹھے زرگل کا تعلق ایک امیر کبیر اور ماڈرن گھرانے سے تھا

جبکہ زمان احمد ابھی تک صرف اتنا کما لیتے کے ان کی ماہانہ فیس اور گھر چلتا جس میں وہ خود اکیلے رہتے اکیلے ہونے کی وجہ سے وہ اپنے سارے کام خود کرنے کے عادی ہو گئے تھے زرگل کو جب سے دیکھا تھا

انہیں اپنے گھر میں بسانے کا سوچنے لگے اپنی سٹڈیز کے مکمل ہوتے ہو زر گل کے گھر اپنا رشتہ بھیجا زرگل خود زمان احمد کو بے حد چاہنے لگی تھی زرگل چونکہ ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھتی تھی زمان احمد کا رشتہ آتے ہی زرگل کے والد سیخ پا ہو گئے کہاں زر گل اور کہاں ایک یونیورسٹی کا معمولی سا پروفیسر زرگل سے بہت پیار کرنے کی بدولت ان کو ہار ماننا پڑی اور اس طرح وہ اس رشتے پر راضی ہو گئے مگر ہار انہوں نے درحقیقت زرگل کے سامنے مانی تھی جبکہ سوچ اس کے برعکس تھی

شادی کے بعد کے چند مہینے دونوں بہت خوش رہے مگر آہستہ آہستہ زرگل کو یہ گھر قید خانہ لگنے لگا ان سب چیزوں سے تنگ آکر زرگل نے اپنی پرانی روٹین اختیار کی اور دوستوں کے ساتھ گھومنا پهرنا اور پارٹیز میں جانا شروع کر دیا جوکہ زمان احمد کو سخت نا پسند تھا اس بات کو لے کر آئے روز جھگڑے ہونے لگے زمان احمد کو بلکل پسند نا تھا

کہ ان کی بیوی غیر مردوں کے ساتھ گھومے پھرے مگر زرگل زمان احمد سے تنگ آگئی تھی زرگل کو لگ رہا کہ اس زمان احمد سے شادی کر کے بہت بڑی غلطی کر دی ہے انہیں زمان احمد کی غربت سے چھٹکارا حاصل کرنا تھا

ایک امیر باپ کی بیٹی زرگل کو زمان احمد کا گھر کسی قید خانے سے کم نا لگا تھا اپنی عیش و آرام والی زندگی چھوڑ کر ایک غریب آدمی کے ساتھ رہنا اسے اب حماقت سے کم نا لگا دن گزرتے گئے جھگڑے بڑھتے گئے

اسی دوران زرگل امید سے ہوگئی زر گل کو بچے کی کوئی خواہش نا تھی تبھی اپنے باپ سے زمان احمد کو چھٹکارا دلوانے کو کہا زر گل کے والد تو چاہتے ہی یہ سب تھے

انہوں نے زمان احمد کو بلایا اور زر گل کو طلاق دینے کو کھا زمان احمد نا مانے تو زرگل نے حمل ضائع کرنے کا کہہ دیا کیونکہ انہیں اپنا فیگر خراب نہیں کرنا تھا زرگل کی بات سن کر زمان احمد شاک کی کیفیت میں چلے گئے انہیں یقین نہیں ہو رہا تھا کہ زرگل ایسی نکلے گی مگر اس سب میں ان کی اولاد کا کیا قصور تھا کچھ سوچ کر زر گل اور اس کے والد کے سامنے شرط رکھی

جسے سن کر زرگل کچھ دیر خاموش ہگئی مگر زمان سے الگ ہونے کی جلدی میں یہ شرط مان گئیں شرط یہ تھی کہ زمان احمد اس صورت میں زرگل کو طلاق دیں گے کہ پہلے زرگل کو اس بچے کو دنیا میں لانا ہوگا زرگل کو اس بات کی پرواہ نا تھی

بس انہیں اپنی آزادی عزیز تھی اور آزادی پانے کے لئے وہ خوشی خوشی زمان کی ساری شرائط مان گئیں جس میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ طلاق کے بعد وہ پلٹ کر بچے کا مطالبہ نہیں کریں گی بچہ زرگل کو چاہیے بھی نہیں تھا اور آخر ایک ننھا سا وجود دنیا میں آیا

جسے پکڑتے ہی زمان احمد کی آنکھوں میں آنسوں آگئے انہوں نے بہت کوشش کی تھی

اس رشتے کو بچانے کی مگر زرگل ایسا چاہتی ہی نہیں تھی ننھی پری کو ہاتھوں میں اٹھا تے ہی اپنے وعدے کے مطابق زمان احمد نے زرگل کو اس کے باپ کے سامنے طلاق دے دی گھر آتے ہی زمان احمد اپنی بیٹی کو سینے بھینچے پھوٹ پھوٹ کر رو دیے زر گل نے اپنی بیٹی کو ایک نظر دیکھا تک نا تھا نا ہی ان کے اندر ممتا کا کوئی احساس جاگا زرگل کو چاہیے تھا اسے وہ مل گیا

یعنی آزادی اور کچھ عرصے بعد ہی زرگل نے اپنے باپ کی طرح امیر لڑکے سے شادی کر لی اور ادھر زمان احمد مہلب کی خاطر اپنی جاب چھوڑنے کا سوچنے لگے مہلب کو اکیلا تو وہ چھوڑ نہیں سکتے تھے نا ہی کسی اور پر انہیں بھروسا تھا نوشین جوکہ زمان کی كولیگ تھی ساری صورتحال سے آگاہ تھی

زمان احمد نوشین کو پسند تھے مگر تب نوشین نے اپنے دل کو سمجھا لیا تھا کے وہ شادی شدہ ہیں مگر اب زمان احمد کو اور اس ننھی سی مہلب کو کسی کی ضرورت تھی نوشین کافی دنوں سے سوچ میں تھی کہ آخر کیسے بات کرے مگر بھلا ہو جواد کا اس نے محسوس کر لئے تھے

نوشین کے جذبات محسوس تو زمان احمد نے بھی کیا تھا پر جان بوجھ کر انجان بنے رہے کہ وہ مزید کوئی رسک نہیں لینا چاہتے تھے اکھڑ جوواد کے سمجھانے پر زمان احمد نوشین سے شادی پر آمادہ ہوئے مگر ایک ڈر بھی تھا کہ نجانے وہ مہلب کے ساتھ کیسا سلوک کرے

انہوں نوشین سے شادی مہلب کے لئے کی تھی یہ بات نوشین بھی اچھی طرح جانتی تھی اور شادی کے کچھ ہی عرصے میں زمان احمد کو اندازہ ہو گیا تھا کہ نوشین زر گل سے کافی مختلف ہے نوشین نے مہلب کو ایسا پیار دیا کہ زمان احمد بھول ہی گئے تھے

مہلب زرگل کی بھی بیٹی ہے انہیں تو مہلب سے نوشین کا پیار دیکھ کر لگتا تھا کہ نوشین ہی اسکی ماں ہے وقت گزرتا گیا اور ان کی زندگی میں میرب آئی میرب کے ماہین زمان احمد اپنی تینوں بیٹیوں اور بیوی کے ساتھ ایک بہترین زندگی گزار رہے تھے

کہ اچانک ایک حادثہ ہوا جس میں زمان احمد اور نوشین دونوں اپنی جان سے پیاری بیٹیوں کو چھوڑ کر اس دنیا سے چلے گئے اپنے دوست کی شادی میں جاتے وقت ایک کار ایکسیڈنٹ میں دونوں کی جان چلی گئی تینوں بیٹیاں اپنی نانی کے پاس تھیں جانا تو سب کو تھا

مگر ماہی کی تبیعت خرابی کی وجہ سے نانو نے انہیں اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا ساتھ ہی بارش بھی تجی اتنی سردی میں بچوں کو ساتھ لے جانا انہیں حماقت لگا تھا تبھی خود ہی جانے کا ارادہ کیا اور پھر دوبارہ واپس نہیں آئے ۔۔۔۔۔۔۔

اور اس طرح ان تینوں کو نانی نے اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا جس پر ماموں تو بہت خوش تھے اور ان تینوں کو اپنو زمے داری سمجھ کر ان کی دیکھ بھال کی جبکہ دوسری طرف سب سے زیادہ تکلیف ناز بیگم یعنی ممانی کو تھی ان کو لگتا تھا تینوں ایک بیٹھی بٹھائی مصیبت ہیں جو ان کے گلے پڑ گئی ہے

ناز بیگم کے اپنے شوہر سے دبتی تھیں ساتھ ہی ساس کا بھی خوف تھا مگر نانی سے ناز بیگم کا رویہ ان معصوم بچیوں کے ساتھ کچھ ڈھکا چھپا نہیں تھی یہی وجہ تھی کہ نانو ان تینوں کے زیادہ قریب تھیں

حناں صاحب یعنی ماموں ان کا ایک بیٹا ہارون جو کہ ہائر سٹڈیز کے لئے باہر گیا تھا اور ایک بیٹی شیزا جو کہ ابھی بی اے کر رہی تھی

مہلب میرب اور ماہی ان تینوں کا کھانا پینا اٹھنا بیٹھا ممانی کو کھٹکتا تھا بظاہر تو ماموں کے حساب سے تینوں ایک اچھی زندگی گزار رہی تھیںگر مما نی نے کیسے وہی زندگی ان کے لئے اجیرن بنا رکھی تھی ماموں اس بات سے انجان تھے

سارا دن آفس میں کام کرتے رات کو گھر لوٹتے انہیں جو ناز بیگم بتاتیں آنکھ بند کر کہ یقین کر لیتے کیونکہ انہیں اپنی شریک حیات پر خود سے زیادہ بھروسا تھا جبکہ نانو ممانی کی دوغلی طبیعت پہچان گئیں تھی

ان تینوں بہنوں سے بلا کا بیر تھا ممانی کو سونے پر سہاگا اس بات نے کیا کہ دو بار شیزا کے لئے رشتے آئے دونوں بار ایک رشتہ مہلب کو پسند کر گیا ایک میرب کو ممانی کے تو تن بدن میں آگ لگ گئی تھی شیزا کا سلوک ان سے شروع دن سے خراب تھا بچپن ساتھ گزرا اور پھر جوانی ایک دن بھی شیزا نے سیدھے منہ بات نا کی اور اب تو شیزا جو پہلے تھوڑا بہت برداشت کر لیتی تھی

ان رشتوں والی بات سے مزید ان کے خلاف دل میں آگ لئے پھرتی اور یہی وجہ تھی کہ اس بار نانو کو بہانے سے خالہ کی طرف بھیجا گیا تھا اور ان تینوں سے سارا کام لے کر انہیں مہمانوں کے چلے جانے تک گھر سے باہر رہنے کا حکم ملا تھا

مہلب کب سے سوچ میں بیٹھی تھی کہ کہاں جائیں گی وہ اتنی دیر تک اوپر سے ماہی کو بخار تھا اس حالت میں مزید مشکل تھا خیر کل کی کل دیکھی جائے گی یہ سوچ کر مہلب سونے کی کوشش کرنے لگی مگر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی

______________________

ہائے ينگ مین کیسے ہو دور سے ہاتھ ہلاتی علیزے کو زیڈ کے دیکھ چکا تھا نجانے کیوں اسے کوفت محسوس ہونے لگی

یار یہ کیا بات ہوئی میں آئی ہوں تو تم جا رہے ہو سیدها بولو بات نئی کرنی اتنا ایٹیٹیوڈ کسے دکھا رہے ہو زیڈ کے کو اس طرح پھر سے کرتے دیکھ کر علیزے جی بھر کر غصہ ہوئی

میڈم علیزے میں لڑکیوں کو منہ لگانا پسند نہیں کرتا اوکے اور ان کو تو بلکل بھی نہیں جو خود آ آ کر چھپکلی کی طرح زبردستی چپکتی ہیں آئی سمجھ سو مجھ سے دور رہا کرو بنا علیزے کا چہرہ دیکھے زیڈ کے وہاں سے چلا گیا جبکہ علیزے کو اپنی توہین کا احساس شدت سے ہو رہا تھا دور تک زیڈ کے کی پشت کو گھورتی کسی گہری سوچ میں گم تھی

میں اپنی اس توہین کا بدلہ تم سے سود سمیت لونگی مسٹر زیڈ کے ایک ایک لفظ چبا کر ادا کرتی علیزے کے تن بدن میں آگ لگی تھی

کر لو جتنا اگنور کرنا ہے میرا وقت بھی آئے گا دیکھنا اور بہت جلد آئے گا توہین کا احساس ختم ہی نا ہو رہا تھا پاگلوں کی طرح یہاں سے وہاں چکر کاٹتی علیزے کے دماغ میں کچھ الگ چل رہا تھا

یار ڈارلنگ تم ادھر ہو میں کب سے تمہیں ڈھونڈ رہا ہوں چلو کلاس مس ہو جائے گی جلدی چلو تیز تیز بولتا خضر علیزے کے پاس آیا اور ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ لے جانے لگا
نہیں مجھے نہیں جانا اپنا ہاتھ چھڑاتی علیزے کسی طور بھی اپنی توہین بھول نہیں پا رہی تھی

__________________

Novelnagri.com is a website where you can find all genres, Rude heroine romantic novel, QAID JUNOON, Best Novels 2022, from romance to tragedy, from suspense to action, from funny to horror and many more free Urdu stories.

Also Give your comments on the novel QAID JUNOON Best Novels 2022 and also visit our Facebook page for E-books . Hope all of you enjoy it. And also visit our channel for more novels For more romantic novels visit to my channel click on the link Given below

https://youtube.com/channel/UCKFUa8ZxydlO_-fwhd_UIoA

Leave a Comment

Your email address will not be published.