Web Special Novel, QAID JUNOON Novels 2022

QAID JUNOON | Novels 2022 | Ep_12 | Faiza Sheikh Novel

QAID JUNOON | Novels 2022 | Ep_12 | Faiza Sheikh Novel

 

Novelsnagri.com is a platform for social media writers. We have started a journey for all social media writers to publish their content. Welcome all Writers to our platform with your writing skills you can test your writing skills.
QAID JUNOON, Novels 2022, from romance to tragedy, from suspense to action, from funny to horror and many more free Urdu stories

 

قید جنون

قسط نمبر بارہ

از قلم فائزہ شیخ

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

یہ دن کے بارہ بجے کا وقت تھا۔۔سورج آب و تاب سے چمک رہا تھا۔۔۔۔جس کی تپش انسانوں کے ساتھ ساتھ چرند ، پرند اور جانوروں کو بھی اپنی تپش سے جھلسائے جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

ایسے میں پاکستان کے صوبے بلوچستان کی تحصیل اوتھل میں بہت سے لوگ ایک کھلے میدان میں لگے ٹینٹ میں موجود تھے۔۔۔

جہاں آج پھر سے جر گے میں ہونے والے فیصلے کا نتظار کیا جارہا تھا۔۔۔۔۔

فیصلہ دو شاہ خاندانوں کے درمیان تھا۔۔۔۔دونوں ہی رتبے میں ایک سے بھر کر ایک تھے۔۔۔۔اور دونوں کی دشمنیاں برسوں سے چلی آرہی تھی۔۔۔۔۔۔

ایک طرف معظم شاہ اپنے سب صاحب زادوں کے ساتھ وہاں ایک طرف رکھی گئی کرسیوں پر براجمان تھے۔۔۔۔۔انگ انگ سے غرور جھلک رہا تھا۔۔۔۔۔اور طنزیہ مسکراہٹ ہونٹوں پر

رقصاں تھی۔۔۔۔۔۔

جبکہ دوسری طرف وقاص شاہ اپنے صاحب زادوں کے ساتھ بظاہر پر سکون جبکہ اندر

سے خوف زدہ بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔

جبکہ دونوں خاندانوں کے دائیں جانب رکھے گئے صوفہ پر اس گاؤں کا پنچائیت براجمان تھا۔۔۔۔ جس کا فیصلہ سننے کے لیے ہر کوئی ہمہ تن گوش تھا۔۔۔۔۔

تو پنچائیت یہ فیصلہ کرتی ہے کہ معظم شاہ کو حق دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے پوتے آزر شاہ کے قتل کے بدلے وقاص شاہ سے خون بہا میں رقم لیتے ہیں یا خون کا بدلہ خون چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔یہ انکی مرضی ہے۔۔۔۔۔۔

آخر کار پنچائیت کا سربراہ خاموشی کے قفل کو توڑے فیصلہ معظم شاہ کے ہاتھ میں دیتی ہے۔۔۔ جس پر سب کی نگاہیں معظم شاہ کا رخ کرتی ہیں۔۔۔ جن کی پر سوچ نظریں وقاص شاہ پر تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے ان دونوں میں سے کچھ بھی نہیں چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔

معظم چوہدری کی بات پر سب لوگ بے یقینی سے معظم چوہدری کو دیکھتے ہیں کہ ان سے اس رحم دلی کی امید کسی کو نا تھی۔۔۔ کیونکہ ان کی سفاکیت سے ہر کوئی واقف تھا۔۔۔۔۔۔

معظم چوہدری ہم پر احسان کرنے کی ضرورت نہیں تمہیں۔۔۔۔۔رقم کا مطالبہ کرو۔۔۔تمہیں اس سے بڑھ کر رقم دی جائی گی۔۔۔۔۔

وقاص چوہدری کی آواز میں خاصہ غرور تھا جو ان شاہ خاندانوں کو وراثت میں ملا تھا۔۔۔۔

تمہیں کس نے کہا کہ میں رحم دلی کو اپنائے تم لوگوں کو اپنے پوتے کا خون معاف کرنے والا ہوں۔۔۔۔۔۔بلکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک نظر سب کو دیکھتے رکے۔۔۔۔ اور وقاص چوہدری کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑیں جن کی آنکھوں میں خود الجھن تھی۔۔۔۔۔کہ وہ۔ سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ معظم شاہ کی مانگ کیا یے۔۔۔۔۔۔۔

شاہ صاحب ۔۔۔۔۔پنچائیت آپ کے فیصلے کا انتظار کر رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اپنی مانگ بتائیں۔۔۔۔۔

پنچائیت کے سربراہ کو معظم شاہ کا پہیلیاں بوجھنا پسند نہ آیا تبھی انکو بولنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔۔۔

میں ونی کی رسم چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔

معظم شاہ کی بات نے وقاص چوہدری کو آگ لگا دی کہ کچھ سوچتے ہوئے ان کا جرگے میں قہقہہ گونجا۔۔۔۔۔۔

معظم شاہ ۔۔۔۔ ونی کی رسم نہیں ہو سکتی کیوں کہ ہمارے خاندان کی اس نسل میں ابھی تک کوئی لڑکی پیدا نہیں ہوئی۔۔۔۔۔لہذا۔۔۔۔یہ بات تمہاری قابلِ قبول نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وقاص شاہ نے قہقہہ لگاتے جتاتی نظروں سے معظم شاہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔

لڑکی نہیں ہے لیکن لڑکا تو ہے نا۔۔۔۔۔۔۔۔تمہارے خاندان کا اکلوتے وارث “امر مجتبی شاہ”۔۔۔۔۔۔۔رضوان شاہ کا بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔

فہد شاہ کی بات تھی یا یا کوئی پگھلا ہوا سیسہ جو وقاص شاہ کے خاندان پر گرتی انکو ساکت کر گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمہاری ہمت کیسی ہوئی ہمارے خاندان کے اکلوتے وارث۔۔۔۔میرے بیٹے کو اس رسم میں مانگنے کی۔۔۔۔۔۔۔۔

رضوان شاہ نے اپنی جگہ سے اٹھتے فہد شاہ کا گریبان پکڑتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

اس میں ہمت کی کیا بات ہے۔۔۔۔۔ہم پر ظلم ہوا ہے۔۔۔میرا بیٹا قتل ہوا ہے۔۔۔۔میں کچھ بھی مانگ سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔اور یہ روایت برسوں سے قائم ہے ۔۔۔۔۔۔اور پنچائیت کا اصول ہے۔۔۔۔۔اور ہم مانگ یہی ہے کہ ہمیں “امر مجتبیٰ”چاہئے

فہد شاہ نے رضوان شاہ سے اپنا گریبان چھڑواتے ہوئے کہا۔۔۔۔

رک جائیں آپ دونوں۔۔۔۔۔پنجائیت کا فیصلہ آپ سب کو ماننا پڑے گا۔۔۔انکار اور لڑائی جھگڑے کی کوئی گنجائش نہیں۔۔۔۔۔ہے۔۔۔۔

پنچائیت کے سربراہ نے انکو باز رہنے کا کہا۔۔۔اب ان کا رخ معظم شاہ کی طرف تھا۔۔۔۔۔

کیا آپ اپنی بات پر قائم ہیں۔۔۔۔ونی میں امر مجتبی چاہتے ہیں۔۔۔یہ جاننے کے باوجود کہ یہ وقاص خاندان کا پہلا سپوت ہے جس نے اتنے سالوں بعد ان کے خاندان میں جنم لیا۔۔۔۔۔

انہوں نے معظم شاہ سے پوچھتے ہوئے کہا جس پر ان کے اثبات پر سر ہلانے پر ان کا رخ وقاص شاہ کی طرف تھا۔۔۔۔ جن کا چہرہ برداشت کی گواہی دے رہا تھا۔۔۔۔۔

میں یعنی پنچائیت کا سر براہ آپکو حکم دیتا ہوں کہ آپ امر مجتبی کو ابھی کے ابھی لے کر آئیں اور ابھی اس وقت ونی کی رسم کے مطابق اسکا نکاح معظم چوہدری کی کسی پوتی کے ساتھ کیا جائے گا۔۔۔۔۔۔

پنچائیت کے سربراہ کی بات پر وقاص چوہدری نے ضبط سے آنکھیں میچی۔۔۔ اپنے اکلوتے لختِ جگر کو دشمن کے حوالے کرنے کی ہمت نہیں تھی ان میں لیکن پنچائیت فیصلہ کر چکی تھی اور اب انکار کی گنجائش ہی نہیں بنتی تھی۔۔۔۔۔۔

لیکن۔۔۔۔نکاح والی بات کا سنتے فہد شاہ اور باقی بھائیوں کے ماتھے پر بل آئے اور کچھ کہنا چاہا لیکن انکی بات کو زبان شہزاد شاہ نے دی۔۔۔۔۔۔

لیکن نکاح کیوں ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم اپنے خاندان کی کسی بھی لڑکی کا نکاح ان کے بیٹے سے نہیں کریں گے۔۔۔۔۔۔

شہزاد شاہ نے انکی بات سے انکار کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔وہ کہاں اپنے خاندان کی بیٹیوں کو اس بےہودہ رسم کے بھینٹ چڑھا سکتے تھے۔۔۔۔یہ جانے بغیر جس سے انہوں نے بیٹے کا مطالبہ کیا ۔۔۔۔ وہ بھی کسی کی اولاد ہے۔۔۔۔۔

کیوں نہیں ہو سکتا نکاح۔۔۔۔۔۔۔کیا آپ کے خاندان میں بھی کوئی لڑکی نہیں ہے کیا۔۔۔

پنچائیت کے سربراہ نے انکو کڑی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔ جس پر انہوں نے ایک فضول سا جواز پیدا کیا۔۔۔

میرا مطلب ہے کہ۔۔۔۔۔ نکاح کی کیا ضرورت ہے۔۔۔اس کے بغیر بھی تو ہم اسکو ونی میں لے جا سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔

انہوں نے ایک نظر باپ کو دیکھتے ہوئے کہا جنہوں نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے نکاح کی رضامندی ظاہر کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر لڑکا ونی میں جا سکتا ہے۔۔۔۔ تو آپ کے خاندان کی لڑکی کا نکاح امر مجتبی سے کیوں نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ پھر تو ونی کی بجائے۔۔۔۔رقم کا مطالبہ کروں۔۔۔۔۔۔۔

وقاص شاہ نے معظم چوہدری کو دیکھتے ہوئے کہا کہ کیا پتا اپنے خاندان کی لڑکی کی خاطر وہ ان کے پوتے کو بحش دے۔۔۔لیکن سامنے موجود شحص اپنے دل میں ایک پتھر رکھتا ہے۔۔۔۔۔جسکو اپنی انا کے علاوہ کوئی بھی پیارا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہمیں منظور ہے۔۔۔۔۔

معظم شاہ کی بات نے وقاص شاہ اور ان کے بیٹوں کی آخری امید بھی ختم کر دی گئی۔۔۔۔۔

اور پنچائیت کے فیصلے پر لڑکا اور لڑکی دونوں کو لانے کا حکم دیا گیا۔۔۔۔ جس کی تکمیل کے لیے فہد شاہ اور رضوان شاہ نے اپنی اپنی حویلی کا رخ کیا۔۔۔۔۔۔۔

______

ونی یا سوارہ ایک رسم کے دو نام ہیں۔پنجاب میں اسے ونی جبکہ سرحد میں اسے سوارہ کہا جاتا ہے۔سندھ اور بلوچستان میں بھی اس طرح کی رسمیں ہیں۔

جن کے ذریعے دو خاندانوں میں صلح کی خاطر جرگہ یا پنچایت کے ذریعے بطور جرمانا ہرجانہ لڑکیاں دی جاتی ہیں۔۔۔۔۔لیکن آج ان دونوں خاندانوں میں اس رحم کی بھینٹ ایک معصوم شہزادہ چڑھنا تھا۔۔۔۔۔جو اس سب سے انجان اپنی دنیا میں مگن تھا۔۔۔۔

ونی ایک روایت ہے قدیم زمانہ میں قبیلوں اور خاندانوں میں دشمنیوں اور قتل و غارت کو روکنے کیلئے جرگے اور پنچایت کا نظام رائج تھا اور اسی کے ذریعے اس طرح کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔۔

مغل بادشاہ جلال الدین اکبر نے دور شہنشایت میں ہندؤوں کی رسم ستی اور مسلمان کی رسم سوارہ یا ونی کے خاتمے کی کوششیں کی لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکے۔۔

دنیا اکیسویں صدی میں سانس لے رہی ہے اور پاکستان میں اب بھی سخت ترین قوانین کی موجودگی کے باوجود ملک میں کئی فرسودہ رسومات آج بھی زندہ ہیں۔

وفاقی شرعی عدالت نے سوارہ یا ونی کی رسم کو غیر اسلامی قرار دے دیا تھا لیکن اسکے باوجود بھی یہ گناہ آج بھی ہورہا ہے۔۔۔۔۔جن میں بلوچستان کا علاقہ بھی شامل تھا۔۔۔۔

_______

دادی سائیں میں فرسٹ آیا ہوں سکول میں۔۔۔۔۔۔۔

خدیجہ شاہ جو پلنگ پر پریشان سی ہاتھ میں تسبیح لیے بیٹھی تھی۔۔۔۔گیارہ سالہ اپنے پوتے”امر مجتبیٰ” کی بات سن کر مسکرائی۔۔۔

میرا پتر بہت لائک ہے۔۔۔۔ ماشاءاللہ۔۔۔۔۔

دادا سائیں نے اسکی پیشانی چومتے ہوئے کہا جس پر اسکی کھلکھاہٹ حویلی میں گونجی۔۔۔۔شاید آخری بار۔۔۔۔

امر۔۔۔۔آ جاؤ کھانا کھا لو۔ میرا بیٹا۔۔۔۔۔۔نہیں تو اب مار کھاؤ گے۔۔۔۔۔۔۔

جویریہ شاہ ہاتھ میں اسکے لیے چاولوں کی پلیٹ پکڑے باہر آئی جو کھانے کے معاملے میں بیت تنگ کرتا تھا ۔۔۔۔۔اسکو پھر سے باہر بھاگتے دیکھ ڈپٹا۔۔۔۔۔۔۔جس کا کھانا کھانے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔۔۔۔۔

بھابھی سائیں ۔۔۔۔ کیوں ڈانٹتی ہیں۔۔۔۔ میرے بیٹے کو ۔۔یہ آج چچی سائیں سے کھائے گا۔۔۔۔

عائشہ شاہ نے اسکو پلنگ سے گود میں اٹھاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔جس پر اس کے اثبات پر سر ہلانے پر جویرہ شاہ نے اسکو نروٹھے پن سے گھورا۔۔۔۔۔جو چچی سائیں کے گلے لگے انکو چڑا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اماں سائیں آپ پریشان نہ ہو۔۔۔ اللّٰہ بہتر کرے گا۔۔۔۔۔۔پنچائیت یقیناً اداسائیں کو سمجھے گی کہ آزر شاہ کا قتل فقط ایک خادثہ تھا۔۔۔جو جانے انجانے میں ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔

جویریہ شاہ نے اماں سائیں کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔کہ وہ سب بھی بہت پریشان تھی کہ ناجانے پنچائیت کیا فیصلہ کرے گی۔۔۔۔

بیگم امر کو تیار کروں۔۔۔۔ اسکو پنچائیت لے کر کر جانا ہے ابھی۔۔۔۔۔۔۔

رضوان شاہ حویلی آتے ہی جویریہ بیگم کو مخاطب کیا جس پر انہوں نے اسکو اچھنبے سے دیکھا۔۔۔۔۔۔کہ وہ پنچائیت لے کر جانے کی بات کیوں کر رہے ہیں۔۔۔۔۔

پنچائیت کیوں جانا ہے۔۔۔۔ بول بھی کیا فیصلہ کیا پنچائیت نے۔۔۔۔

دادی سائیں نے انکو دیکھتے فکرمندی سے پوچھا ۔۔۔ جو اس وقت خود بکھرے ہوئے تھے۔۔۔۔۔ جان سے پیارے اکلوتے بیٹے سے جدائی کا سوچتے ان ک دل پاگل ہونے کا تھا۔۔ کتنی منتوں مرادوں سے رب نے انکو اس خوبصورت نعمت سے نوازا تھا۔۔۔ان کا بس چلتا تو وہ اپنے بیٹے کو زمانے کی سرد و گرم سے بچا لیتے لیکن وہ اس معاملے میں بالکل بےبس تھے۔۔۔۔۔۔۔

اماں سائیں۔۔۔۔وہ امر کو ونی میں دیا جائے گا۔۔۔۔یہ فیصلہ ہوا۔۔۔۔ ہے پنچائیت میں۔۔۔۔

اپنے ضبط کے بندھن کو توڑتے اپنی ماں کے گود میں سر رکھتے سسکتے ہوئے کہا۔۔۔۔

جبکہ ان کی بات مقابل سب کے دلوں پر زلزلہ طاری گئی۔۔۔۔۔

آپ کیا کہہ رہے ہیں۔۔۔۔سائیں۔۔۔۔ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔۔

جویرہ شاہ کے لیے تو یقین کرنا ہی مشکل تھا کہ ان کے شوہر ان کے بیٹے کو خود سے دور کرنے کی بات کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔

ادا سائیں بولیں ۔۔۔۔۔نا آپ جھوٹ کہہ رہے ہیں۔۔وہ اتنا چھوٹا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔آپ سب لوگ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔

عائشہ شاہ نے بے یقینی کی کیفیت میں پوچھا ۔۔۔خدا نے انکو اولاد کی نعمت سے محروم رکھا تھا ۔۔۔۔۔یہی وجہ تھی کہ انکو امر اپنی جان سے عزیز تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔

اماں سائیں تو ابھی تک ساکت بیٹھی بے یقین تھی۔۔۔۔۔جبکہ اردگرد کھڑے ملازمین بھی بھی انکو دکھی نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔

ان کو پیسے دیتا۔۔۔ ۔منہ بولی رقم دیتا۔۔۔ ۔تم لوگ کچھ نہیں کر پائے۔۔۔۔ہمارے پوتے کو بھینٹ چڑھا دیا ۔۔۔۔۔

دادی نے یکدم غصب ناک ہوتے ان کو خود سے دور کرتے کہا ۔۔۔جس پر انہوں نے بے بسی سے آنکھیں میچی۔۔۔۔۔۔

اماں سائیں۔۔۔۔۔سب کچھ رکھا۔۔۔ان کے آگے۔۔۔۔

لیکن ان کا مطالبہ صرف امر تھا۔۔۔۔۔

انہوں نے ماں کو جواب دیتے امر کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔جو خود بھی سہما سا کھڑا حالات سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔کہ یکدم انہوں نے اٹھ کر اسکو گود میں اٹھاتے باہر لے جانا چاہا۔۔۔۔۔

کہ اچانک سے جویرہ شاہ ان کے رستے میں حائل ہوتی رکاوٹ بن گئیں ۔۔۔۔

میں آپ کو ایسا نہیں کرنے دوں گی ۔۔۔۔۔۔میں اپنے بیٹے کو خود سے دور نہیں جانے دوں گی ۔۔۔سمجھے آپ ۔۔۔۔۔میں جان لے لوں گی سمجھی ۔۔۔۔۔

انہوں نے امر کو ان سے چھینتے ہوئے کہا۔۔۔۔لیکن ان کی گرفت مضبوط تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔

اماں سائیں ۔۔۔۔۔ان کو روک لیں ۔۔۔۔میں مر جاؤ گی۔۔۔۔۔اپنے بیٹے کے بغیر۔۔۔۔۔۔

یکدم انہوں نے فرش پر گرتے روتے ہوئے اماں سائیں کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔جن کا خود دل لرز رہا تھا۔۔۔۔۔

لیکن وہ ایک مضبوط کردار کی عورت تھی۔۔۔۔۔۔۔وہ اصول و ضوابط کو جانتی تھی ۔۔۔۔۔امر کو ونی میں دینے کے علاوہ ان کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔نہ دینے کی صورت میں ان کے خاندان کے تمام مردوں کو سزا سنائی جانی تھی۔۔۔۔۔

چھوٹی بہو ۔۔۔۔۔۔۔بڑی بہو کو کمرے میں لے جاؤ۔۔۔۔۔۔اور تم جاؤ رضوان شاہ۔۔۔ایسا نہ ہو کہ ہم خود پر ضبط کھو دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔

انہوں نے عائشہ شاہ کو جویرہ شاہ کے کمرے میں لے جانے کے ساتھ رضوان شاہ کو جانے اشارہ کیا ۔۔۔۔۔

جس پر رضوان شاہ امر کو ان کے پاس لے کر آئے۔۔۔۔جس پر وہ اپنا چہرہ پھیر گئی۔۔۔۔۔۔۔

میں اپنے ہوتے کو ضرور ملو ں گی ۔۔۔جب یہ ایک مضبوط مرد بن کر واپس لوٹے گا ۔۔۔۔اور اس دن کا بے صبری سے انتظار کروں گی ۔۔۔۔۔۔

میرا دل کہتا ہے میرا ہوتا واپس ضرور آئے گا

انہوں نے اس سے منہ موڑتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔یہ جاننے کے باوجود کہ ونی میں جانے کے بعد وہ کبھی بھی ان سے مل نہ پائے گا۔۔۔لیکن تقدیر کا کھیل کون جانتا ہے۔۔۔۔اس سے تو صرف رب واقف ہے۔۔۔۔۔اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک بہتر مقدر لکھنے والا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جبکہ امر جو سب کو روتے دیکھ بغیر کچھ سمجھے خود بھی زور و قطار رونا شروع ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

سائیں۔۔۔۔ایسا نہ کریں۔۔۔۔۔۔خدارا ایسا نہ کریں۔۔۔۔میری گود مت اجاڑیں۔۔۔۔۔۔۔میرا بیٹا۔۔۔میں مر جاؤں گی۔۔۔۔۔۔ایک ماں کی ممتا کا تو خیال کر لیں ۔۔۔۔۔یہ ہمارا بیٹا ہے۔۔۔۔ کیسے رہے گا میرے بغیر۔۔۔۔سائیں اسکو نیند نہیں آتی۔۔۔۔۔ایک ماں کی بددعا نہ لیں۔۔۔۔۔خدا آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گا ۔۔۔۔۔ماں کو بیٹے سے جدا کر رہے ہیں ۔۔۔۔

یہ دیکھیں میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کے پاؤں پکڑتی ہوں۔۔۔۔ رک جائیں۔۔۔۔۔وہ دیکھیں وہ رو رہا ہے۔۔۔۔۔کیسے رہے گا وہ میرے بنا۔۔۔۔۔۔

جویرہ شاہ یکدم عائشہ شاہ سے اپنا ہاتھ چھڑواتے اپنے شوہر کے پاؤں پکڑے سسکتی روتے سب کا دل دہلا گئی ۔۔۔۔۔لیکن رضوان شاہ سب باتوں سے کان لپیٹے حویلی سے باہر نکلتے چلے گئے ۔۔۔۔پیچھے ایک ماں کی آہیں،، سسکیاں،،، شاہ حویلی کر درو دیوار ہلا گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

______

میں نکاح نہیں کروں گی۔۔۔۔۔۔اماں سائیں بول دے جا کے۔۔۔۔۔ بابا سائیں کو کہ “درمکنون شاہ”کسی رسم کے بھینٹ نہیں چڑھے گی۔۔۔۔۔

جیسے ہی اس کو اطلاع ملی کہ اسکا نکاح کیا جائے گا۔۔۔ونی میں آنے والے لڑکے سے۔۔۔۔تب سے اسنے پوری حویلی سر پر اٹھائی ہوئی تھی ۔۔۔۔جبکہ سب خواتین اس کو منانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔۔لیکن اسکی نا ہاں میں بدل نہیں رہی تھی ۔۔۔۔۔

درمکنون دیکھ میری بچی۔۔۔۔۔۔ضد مت کر ان مردوں کے غصب کو آواز نہ دے ۔۔۔۔۔کر لے نکاح میرے بچی۔۔۔۔۔۔۔

دادی سائیں اس کے پاس آتے اس سے التجا کرتے بولی جو کسی کے بھی قابو میں نہیں آرہی تھی۔۔۔۔۔سولہ سالہ “درمکنون شاہ”ایسی ہی تھی۔ اپنا بات پر قائم رہنے والی۔۔۔۔کسی کی نہ سننے والی ۔۔۔۔۔۔۔اس سے اگر کوئی اپنی منوا سکتا تھا تو وہ صرف “آزر شاہ”اور “داہیم شاہ” تھے۔۔۔۔۔

آزر شاہ تو دنیا کے معاملات سے بے خبر اللّٰہ کی رحمت میں چلا گیا تھا۔۔۔۔۔۔

جبکہ ” داہیم شاہ” اس سب معاملات سے انجان شہر اپنے کسی کام سے گیا ہوا تھا ۔۔اور تمام معاملات سے اسکو انجان رکھا گیا تھا۔۔۔۔۔کہ وہ اس سب میں رکاوٹ بن سکتا تھا۔۔۔

یہ کیا تماشہ لگایا ہوا ہے۔۔۔۔تم سب نے۔۔۔۔۔اور تم درمکنون چلو ہمارے ساتھ۔۔۔۔۔پنچائیت انتظار کر رہی ہوں گی۔۔۔۔۔۔۔

فہد شاہ نے اندر آتے رعب دار لہجے میں کہا جس پر سب خواتین ایک جگہ پر ڈر کے سمٹ کر کھڑی ہو گئیں۔۔۔کہ حویلی کے مردوں کا دوسرا نام ہی خوف تھا۔۔۔۔۔جبکہ وہ اپنے

باپ کو دیکھتے قدم قدم چلتے ان کے نزدیک آتی۔۔۔۔۔۔۔۔سب کے دل دھڑکا گئ۔۔۔۔

بابا سائیں۔۔۔۔یہ ظلم نہ کریں۔۔۔۔۔۔اس رسم کو رکوا دیں۔۔۔۔۔کسی کی آہ نہ لیں۔۔۔ بابا سائیں۔۔۔۔۔۔یہ غلط ہے۔۔۔۔اگر ادا سائیں آج زندگی ہوتے تو وہ اپنے گنہگاروں کو معاف کر دیتے ۔۔۔۔۔۔آپ لوگ یہ فیصلہ اللّٰہ پر چھوڑ دیں۔۔۔۔بابا سائیں۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے باپ کے پاس جاتے صلح جوئی انداز میں اپنی بات منوانی چاہی۔۔۔۔۔جبکہ اس کی جرات کو دیکھتے سب خواتین اپنے منہ پر ہاتھ رکھ چکی تھی۔۔۔۔۔کہ کسی بھی معاملات میں بولنے کا حق ان خواتین کو حاصل نہ تھا۔۔۔۔۔۔۔لیکن وہ “درمکنون شاہ ” تھی۔۔۔۔جو ایک دل کی حساس اور کردار کی مضبوط لڑکی تھی ۔۔۔۔۔کسی نا حق بات کا ساتھ نہ دیتی تھی۔۔۔حق بات کو حق بات کہتے ہوئے انجام کا پروا نہ کرتی تھی۔۔۔۔۔۔وہ اس معاملے میں اپنے بھائی ” آزر شاہ ” پر گئی تھی۔۔۔۔۔

چٹاحححححح

________

 

اپنی رائے کا اظہار لازمی کریں۔۔۔۔آج تک آپ سب نے بہت سی ونی بیسڈ سٹوری پڑھیں ہوگی۔۔۔۔لیکن اس کو پڑھنے کے بعد آپ سب کو یہ کہانی منفرد لگے گی۔۔۔۔

continued…….

 

Urdu http://Novelsnagri.com is a website where you can find all genres, Rude heroine romantic novel, QAID JUNOON, Novels 2022, from romance to tragedy, from suspense to action, from funny to horror and many more free Urdu stories.

 

Also Give your comments on the novels and also visit our Facebook page for E-books . Hope all of you enjoy it. And also visit our channel for more novels

 

https://youtube.com/channel/UCKFUa8ZxydlO_-fwhd_UIoA

Leave a Comment

Your email address will not be published.