Web Special Novel, Revenge based,

Revenge based | Best Urdu Novel | Yeh Ishq ki talaash ha Ep#10

Revenge best Urdu Novels, Tania Tahir novels, all catogaries forced marriage based, politics based, cousin marriage based and also funny based novel, multiple catogaries & Complete pdf novel ,Here you find all kinda interesting New Urdu NOVEL.

 

Revenge based Web Special ,Best Urdu Novel,Yeh Ishq ki talaash ha
Revenge based , Web Special , Best Urdu Novel,Yeh Ishq ki talaash ha

ناول: یہ_عشق_کی_تلاش_ہے

ازقلم_تانیہ_طاہر

قسط_نمبر_10

 

 

صبح کا انتظار عالم شاہ نے آنکھوں میں کیا تھا …..

اور صبح ہوتے ہی اسنے ۔۔ حویلی والوں کو مکرم کے ہاتھ پیغام بھیجوا دیا کہ وہ سب لوگ یہاں سے دفع ہو جائیں ان سب کے پاس بس ایک گھنٹہ ہے “اور یہ بات حویلی والوں پر بم

بن کر گیری ۔۔۔۔۔

عالم نہ جانے کیوں اضطراب کا شکار تھا وہ اروش کو ایک بار نظر بھر کر دیکھنا چاہتا تھا

۔۔۔ وہ تیمور کی کنپٹی پر بندوق رکھ کر اسے طلاق دلا دے گا اور اسکے بعد وہ ۔۔ کچھ بھی

اس سے لے جائیں اسے کچھ نہیں چاہیے

مکرم واپس لوٹ آیا ۔۔۔

اروش کو دیکھا تم نے ” عالم نے پوچھا سیاہ لباس میں شکن زدہ لباس ۔۔وہ اسے بے حد پریشان لگا ۔۔

نہیں سائیں۔ وہ شاید سو رہی ہوں ” مکرم نے کہا ۔۔ تو عالم خاموش ہو گیا ۔۔وقت سرکتا رہا ایک ایک لمہہ عجیب ازیت میں گزارا اور ۔۔۔ وہ منتظر رہا حویلی والوں کیطرف سے کسی پیغام کا لیکن وہاں سے کوئ پیغام نہیں آیا ۔۔۔ جب شام ڈھل آئ ۔۔ تو اسنے خود کو فریش کیا ۔۔تمام سوچوں کا جھٹک کر ۔۔وہ فریش ہو کر ۔۔۔ سیاہ ہی قمیض شلوار میں ۔۔۔

آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر تیار ہوا ۔۔۔ آج وہ اسے پا لے گا ۔

آج وہ اسکی ہو جائے گی ۔۔۔۔

کیونکہ حویلی والوں نے کچھ نہیں کہا تھا اور ۔۔ وہ اب بس ۔۔ بندوق کے زور پر یہ کام کروائے گا ۔۔۔

کیونکہ مزید اس سے دوری وہ برداشت نہیں کر سکتا ۔۔تھا ۔۔۔

عالم نے صیام کا نمبر ملایا ۔۔۔۔

ہاں عالم میں بس کچھ ہی دیر میں پہنچ رہا ہوں یار ۔۔۔ تم انکی بینڈ بجاؤ باقی میں آ کر بجاتا ہوں “صیام نے کہا تو عالم مسکرا دیا ۔۔اور سیل فون وہیں چھوڑ کر ۔۔ وہ جب نکلا ۔۔ تو دل

کی عجیب دھڑک پر ایک پل کو رکا ۔۔

یہ آج کیا ہو رہا تھا اسکو ۔۔ اسنے مکرم کو دیکھا ۔۔۔۔

وہ تو بلکل ٹھیک تھا ۔۔۔ خود پر قابو پاتے سر جھٹک کر ۔۔ وہ حویلی والوں کے پاس آ گیا ۔۔۔۔

ممتاز سن بیٹھی تھی جبکہ تیمور صوفے پر پریشان ۔۔۔۔ اسفند جبکہ سبحان پر چیخ رہے تھے ۔۔۔

عالم” اسفند نے عالم شاہ کو دیکھا تو دوڑ کر اسکے پاس آئے۔ عالم ناگواری سے تین قدم

دور ہوا ان سے جبڑے بھینچ گئے ۔۔۔۔۔۔

یہ کون سا نیا ڈرامہ ہو رہا تھا ۔۔۔۔

اسفند شاہ اسکی اس حرکت پر اس سے دور ہوئے ۔۔۔

بیٹا لوٹ گئے ہم تو ۔۔ بھاگ گئ وہ بدزات ۔۔۔ بھاگ گئ بیٹا وہ تو ۔۔میرے بیٹے کو کہیں منہ دیکھانے قابل نہیں چھوڑا ۔۔ اچھا تھا ۔۔۔۔ طلاق ہی دے دیتا یہ اسے ۔۔۔۔

عالم نہ سمھجی سے اسے دیکھنے لگا وہ اروش کی بات کر رہا تھا۔ ۔۔۔۔

ایکدم اس نے اسفند شاہ کا گریبان جھپٹا کون بدزات ” وہ سرد لہجے میں بولا کہ اسفند شاہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سننسی سی دوڑ گئی ۔۔۔

بیٹا ۔۔اروش کی بات کر رہا ہوں ” خود کو اس سے چھڑواتے وہ بتانے لگے ۔۔

ہم تو خالی ہاتھ رہ گئے ۔۔سب کے سب ۔۔۔،”اسفند شاہ ۔۔۔ اسکے چہرے کے بدلتے زاویوں کو توجہ سے دیکھ رہے تھے ۔۔

کیا مطلب ہے اس بکواس کا کہاں ہے اروش ” وہ ایکدم بلند آواز میں چلایا ۔۔اور تیمور کے کمرے کیطرف بڑھا اروش کو دیکھنے کے لیے مگر اندر تو کوئ نہیں تھا الٹے ہی قدموں وہ پلٹ کر تیمور تک پہنچا اور اسکا گریبان جکڑ کر اسے جھنجھوڑ ہی دیا ۔۔۔

کہاں ہے اروش ۔۔۔۔۔ ” عالم کو لگا یہ اسکے ساتھ جان بوجھ کر رہے ہیں اور اسکو لندن بھیجوا چکے ہیں ۔۔۔۔

وہ پاگل سا ہونے لگا اسے لگا ۔۔۔۔ شاید وہ سب وہ چیر دے گا اگر اسے اروش نہ دیکھی تو ۔۔۔۔

بھاگ ۔۔۔۔گئ۔۔۔ وہ ۔۔۔” تیمور ہکلا سا گیا ۔۔

یہ سب جھوٹ بول رہے ہیں ۔۔ سب جھوٹ اروش تو ایسی ہے ہی نہیں ” عالم ۔۔اپنے بال مٹھی میں جکڑ گیا ۔۔۔۔

مکرم اسکی جانب بڑھا ۔۔۔۔۔

سائیں میں تلاشتا ہوں ۔۔۔ ” مکرم کو عالم کی فکر سی ہوئ اور وہ جلدی سے بولا ۔۔۔

مکرم اسے میرے سامنے لے آؤ ” عالم نے کھینچ کر ٹیبل پر لات ماری ۔۔۔۔

کانچ چھناکے سے ٹوٹی ۔۔۔۔۔

اگر اسکو کچھ ہوا ۔۔۔ تیمور اسفند شاہ ۔۔۔۔ تو میں تم لوگوں کو اسی حویلی میں جلا کر راکھ کر دوں گا ” تیمور کے منہ پر کھینچ کر مکہ مارا ۔۔۔ وہ تو بھپر گیا تھا ۔۔۔

جب ہم کہہ رہے ہیں وہ بھاگ گئ ۔۔۔۔

چپ” وہ غرایا ۔۔۔۔۔ ڈھونڈو مکرم ۔۔ بلکہ میں خود ڈھونڈتا ہوں ٫ عالم شاہ باہر کی جانب بھاگا ۔۔۔۔ اسے کوئ ہوش نہیں رہا تھا ۔۔۔

مکرم نے ان گھٹیا لوگوں کو دیکھا ۔۔۔۔

تبھی صیام بھی وہاں داخل ہوا ۔۔عالم کو دیوانوں کیطرح باہر بھاگتے دیکھا تو اسکے پیچھے دوڑا ۔۔

عالم کہاں جا رہے ہو ۔۔”

صیام چلایا ۔۔۔۔

اروش کو ڈھونڈنے” عالم نے جواب دیا ۔۔۔صیام کو کچھ سمھجہ نہیں آیا مگر وہ بھی اسکے پیچھے ہو لیا ۔۔۔۔

عالم اس روڈ پر بھاگتے ہوئے ایسا لگ رہا تھا ۔۔جیسے کوئ شیر بھپر سا گیا ہو ۔۔

عالم تم رک سکتے ہو” صیام بمشکل اسکے آگے آیا ۔۔۔۔ مگر وہ تھامنے کے لیے تیار ہی کہاں تھا ۔۔۔۔

صیام نے اسکے دونوں بازو جکڑ لیے ۔۔۔۔۔

اروش ” عالم نے اسکو دور جھٹکا ۔۔۔

پاگل ہو گئے ہو بات بتاؤ پوری وہ کہاں ہے ” صیام چیخا ۔۔۔

وہ اسے لندن پہنچا چکیں ہیں وہ اسے کہیں چھپا چلیں ہیں صیام ۔۔۔۔ میری اروش کو وہ کہہ رہے ہیں وہ بھاگ گئ بھلا تم بتاؤ وہ بھاگ سکتی ہے کہیں ” وہ بے بسی سے بولا جبکہ صیام کا دماغ خراب ہو گیا ۔۔ عالم کو ۔۔ زبردستی گاڑی میں بیٹھا کر ۔۔ وہ حویلی کیطرف دوبارہ چل دیا دونوں نکلے اور صیام نے گن لوڈ کی ۔۔۔

آج یہ تو تیمور شاہ نہیں یہ پھر صیام خان نہیں ۔۔

وہ دندناتا ہو اندر آیا ۔۔۔ مکرم ان لوگوں کے پاس ہی تھا اسنے ۔۔تیمور پر گن تان لی ۔۔

جواب دے کہاں ہے اروش” وہ بولا ۔۔

بھاگ گئ” صیام نے پھر وہی بات کی ۔۔

سچ بتا کہاں ہے اروش ورنہ تیری کھوپڑی اڑا دوں گا ” صیام نے بندوق کا بٹ اسکے ماتھے پر مارا جس سے ایکدم خون نکلنے لگا ۔اسفند شاہ بیٹے کی چوٹ پر تڑپ گئے ۔۔۔

اور صیام کو اس سےدور کرنے کی کوشش کرنے لگے

میں پوچھ رہا ہوں کہاں ہے اروش ” وہ اتنی شدت سے دھاڑا تھا ۔۔کہ ۔۔۔ اسکی گردن کی رگیں پھول چکیں تھیں۔

عالم شاہ بھی اسکے نزدیک آیا ۔۔تیمور کی حالت پتلی ہونے لگی ۔۔۔

تبھی ۔۔ باہر سے چیخنے چلانے کی آوازیں آنے لگیں ۔۔

سب ایکدم ان آوازوں کی جانب متوجہ ہوئے ۔۔۔۔

چوکیدار کسی کو جھاڑ رہا تھا ۔۔۔ مکرم باہر بھاگا جبکہ صیام نے تیمور کو دور جھٹکا دیا جس کی زبان تالو سے چپک رہی تھی

ہم سب کہہ رہے ہیں وہ بھاگ گئ ہے رات کو ہی” اسفند شاہ نے عالم شاہ کو دیکھا ۔۔

وہ لڑکی میرے بیٹے کی نہیں ہو کی تمھاری کیا ہوتی ۔۔۔

اور اچانک سے اٹھنے والی مکرم کی چیخ پر اسفند شاہ بھی رک گئے ۔۔۔۔

وہ باہر کی جانب دیکھنے لگے ۔۔۔

جبکہ صیام اور عالم نے ایک دوسرے کو دیکھا عالم کو خطرے کا احساس ہوا۔۔

مکرم ایسا شخص نہیں تھا کسی بھی بات پر ایسا ری ایکشن دے

اسکا دل مٹھی میں جکڑا گیا صیام باہر نکلا جبکہ سب ہی باہر نکلے ۔۔۔ ممتاز سبحان وہاج سارہ انکی ماں اسفند شاہ اور تیمور بھی سب سے پیچھے ۔۔

یہ کون ہے” عالم شاہ نے ایک بوڑھے کو دیکھا ۔۔۔۔

ظالموں ۔۔او ظالموں ایک اور جان مار بیٹھے ہو میں گواہ ہوں میرا اللہ گواہ ہے میں گواہی دوں گا دنیا میں اگر کسی نے ۔۔۔۔ اس بچی کو انصاف دلانے چاہا ۔۔۔ تو میں گواہی دوں گا ۔۔ کہ ان ظالموں نے اس بچی کو مار کر کھائ میں پھینکنے کی کوشش کی ۔۔۔ یہ تو اسکی لاش درخت سے اٹک گئ ۔۔۔۔

وہ بوڑھا روتے ہوئے چلایا ۔۔۔۔

عالم سمت سب ساکت رہ گئے ۔۔۔۔۔

مکرم چادر سختی سے تھامے کھڑا تھا ۔۔جو وہ منظر دیکھ رہا تھا اگرعالم دیکھ لیتا تو

شاید دیواروں میں ٹکرے مار لیتا ۔۔۔

عالم کے قدموں میں جنبش ہوئ ۔۔۔

صیام بھی اسکے ساتھ ہی حرکت میں آیا ۔۔

سب منتظر تھے کہ یہ کون ہے ۔۔جبکہ تیمور شاہ اور اسفند شاہ کی حالت ایسی تھی کہ کاٹو

تو بدن میں لہو نہیں ۔۔سفید منہ سے وہ اپنے سیاہ گناہوں کو دیکھ رہے تھے

عالم نے چادر کو مکرم کے ہاتھ سے پکڑ کر کھینچا ۔۔۔۔

تو سامنے کے منظر نے اس مظبوط مرد کے قدموں کو ہلا دیا ۔۔۔ وہ لڑکھڑا کر ایکدم آگے ہی قدموں پر گیرہ ۔۔۔

جبکہ ممتاز سمیت سارہ اور اسکی ماں کی بھی چیخ نکلی ۔۔۔۔۔

ہائے میری بچی ۔۔اروش اروش میری جان میری بچی ۔۔اروش ” ممتاز اسکے پاس آئ ۔۔اور اسکو جھنجھوڑنے لگی جو نیلی ہو چکی تھی اور لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ اروش ہے ۔۔۔۔۔۔۔

صیام نے جلدی سے عالم کو پکڑا یہ ظلم کی انتہا تھی اسکے دوست پر ہاں یہ اسپر ظلم کی انتہا تھی ۔۔۔۔

جو ان لوگوں نے اسکے ساتھ کیا تھا ۔۔۔۔۔

عالم شاہ زمین میں ڈھیر سا ہو گیا ۔۔۔۔ اسکی زبان پر ایک لفظ بھی نہیں تھا ۔۔۔۔

تیمور نے باپ کی جانب دیکھا جو اسے گھور رہا تھا کہ ہوش کرو اور جاؤ اسکے پاس ۔۔۔۔

غرض وہ اب بھی یہ ظاہر کرنذ چاہتے تھے کہ وہ بھاگ گئ تھی مل گئ ہے تو خود ہی کسی کھائ میں گیر گئ تھی ۔۔۔۔

وہ لوگ تو اتنے صدمے میں تھے کہ ۔۔۔۔۔ کوئ کسی کی طرف متوجہ نہیں ہوتا ۔۔۔

تیمور نہ چاہتے ہوئے بھی اسکیطرف بڑھا ۔۔

اروش ا۔۔۔اروش”اسکے انداز میں کوئ رغبت نہیں تھی ممتاز نے واویلا مچا دیا تھا سبحان شاہ بھی رو رہے تھے جبکہ ۔۔۔۔ عالم صرف خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔

صیام کی اپنی آنکھیں بھیگ گئیں مگر اس لڑکی کے لیے نہیں ۔۔صرف اپنے دوست کے لیے ۔۔۔ وہ پل پل مر رہا تھا اسکے لیے ۔۔۔۔۔

عالم” صیام نے اسکو اٹھایا ۔۔۔۔۔

عالم کو جیسے جھٹکا لگا وہ ہوش میں آیا اسنے اپنے منہ پر ہاتھ پھیرہ

عجب مسافت تھی ۔۔۔ تھکا دینے والی ۔۔۔۔۔

ابھی خواب بھی پورے نہیں دیکھے تھے ۔۔۔ کہ خواب ٹوٹ ہی گیا ۔۔۔۔۔

وہ وہاں سے اٹھا ۔۔۔۔ اور چلتا ہوا ۔۔۔۔ اپنے پورشن میں آ گیا ۔۔ صیام نے ایک نظر اروش کی لاش کو دیکھا اور دوسری نظر اپنے دوست پر ڈالی جس کی چال میں بھی تھکاوٹ تھی ۔۔۔۔

مکرم یہیں رہنا مجھے ان لوگوں پر ٹکے کا بھی یقین نہیں ہے کبھی یہ گھٹیا لوگ کسی معصوم کے آخری سفر کو بھی برباد کر دیں تم تدفین کا انتظام کرو ” صیام نے عجلت میں کہا اور وہاں سے بھاگتا ہوا ۔۔

عالم کے پاس آیا مگر وہ اپنے کمرے میں بند ہو گیا تھا ۔۔۔

صیام تادیر دروازہ بجاتا رہا مگر اسنے دروازہ نہیں کھولا۔۔۔۔

اور یوں صیام کو خالی ہاتھ پلٹنا پڑا ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اروش کو جب لے جایا جانے لگا ۔۔۔ تو صیام نے بے حد کوشش کی کہ عالم کمرے سے نکلے اور اپنے ہاتھوں سے اسکو اسکے آخری سفر تک پہنچائے ۔۔۔۔۔

مگر عالم نے نہ آنا تھا وہ آیا بھی نہیں ۔۔اور اروش کی تدفین کرنی پڑی ۔۔۔۔۔

صیام واپس لوٹا ۔۔۔۔ تو بے حد تھک چکا تھا ۔۔ مگر وہ عالم کے پاس سے ۔۔ نہیں گیا تھا وہ اسی کے گھر میں تھا مکرم پر اسکی نظر گئ جو ڈور کھڑا رورہا تھا ۔۔۔۔۔

صیام نے سر تھام لیا ۔۔۔

یار تم تو چپ کرو اب ۔۔۔۔ ” صیام نے اسے جھڑک دیا ۔۔۔

آپ شاہ سائیں کو کہیں وہ باہر آ جائیں ورنہ میں حویلی والوں کو راکھ کر دوں گا ” وہ بھڑکا ۔۔۔۔۔

صیام اٹھا اور عالم کا دروازہ پھرسے بجایا ۔۔۔

عالم” صیام نے پکارہ ۔۔۔۔۔

جبکہ عالم شاہ کے وجود میں گہری خاموشی تھی

ایسی خاموشی جو ٹوٹے ہی نہیں ۔۔۔۔

وہ تو بینائ تھی اسکی ۔۔ اسکے علاؤہ اسے دیکھتا ہی کیا تھا ۔۔۔۔۔

اسنے اپنی تنہائیوں سے نکل کر اروش شاہ سے عشق کیا تھا ۔۔۔۔

آج اسے اپنا آپ بے حد کمزور لگا تھا ۔۔۔کیا تھا وہ ایک کمزور بزدل انسان ۔۔کیسے وہ ان لوگوں پر بھروسہ کر کے اسے انکے پاس چھوڑ آیا۔۔۔

کیسے اسنے انپر یقین کر لیا ۔۔۔۔

کس طرح وہ تڑپی تھی اسکے ساتھ کیا کیا تھا ۔۔۔۔۔۔

اسنے اپنی پیشانی پیٹ ڈالی ۔۔۔۔۔ جبکہ زمین پر بیٹھا ۔۔۔ وہ اندھیرے کمرے میں ۔۔۔۔۔۔ جیسے چیخ اٹھا ۔۔۔ خاموشی میں اسکے چیخنے کی آواز کی دہشت نے پورے گھر کا ہلا کر رکھ دیا ۔۔۔

صیام کا ضبط جواب دے گیا ۔۔

عالم دروازا کھولو ۔۔” عالم کے دھاڑ نے اسکے رونگٹھے کھڑے کر دیے تھے ۔۔۔

جبکہ عالم خود کو ۔۔ اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہا تھا ۔۔آنکھوں سے ایک آنسو نہیں نکلا تھا ۔۔۔۔۔

اسکی آنکھ سے وہ غم جسے وہ نکلنا چاہتا تھا بہہ نہیں رہا تھا ۔۔۔

وہ کمزور ہو گیا تھا ٹوٹ گیا تھا ۔۔ بکھر گیا تھا ۔۔۔۔۔۔

دیدارِ یار نہ ہو تو کیسے آرام آتا ہے ۔۔۔۔

وہ کیوں نہیں مر گیا اسکے ساتھ ۔۔۔۔۔

عالم شاہ کے کہاں کہاں ازیت نہیں تھی مگر افسوس آنکھ سے ایک آنسو نہیں ٹوٹا دل پھٹ رہا تھا مگر غم ہلکا نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔

دماغ سن رہ گیا ۔۔۔۔

سانسیں بھاری ہو گئیں۔ ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور وہ قیامت خیز دن بھی گزر گیا ۔۔۔۔ اگلا دن چڑھ آیا ۔۔۔حویلی والے تو سکون میں ہی آ گئے ۔۔

وہاں ناشتہ ہونے لگا اسفند شاہ سے زیادہ اس وقت کوئ مطمئین نہیں تھا ۔۔۔۔

انھیں یقین تھا عالم پر وار ہو چکا ہے۔۔۔

اب یہ سب انکا ہو گا ۔۔۔اور وہ سکون سے یہاں زندگی گزاریں گے ۔

سبحان شاہ اور ممتاز تو غم سے آدھ مرے ہو چکے تھے ۔۔

تیمور خاموش بیٹھا تھا انھوں نے اسکی کمر تھپ تھپائ ۔۔۔

کمی نہیں ہے تمھیں کسی چیز کی خوش رہو آپ یہ پگ تمھارے سر سجے گی “

مجھے یقین تھا آپ دونوں نے ہی کچھ کیا ہے” وہاج نے باپ کیطرف دیکھا اسفند شاہ مسکرا دیے ۔۔

کیا واقعی تیمور تم نے ” سارہ رک گئ ۔۔۔

آہستہ بولو” تیمور نے سارہ کو گھورا ۔۔۔

بہت اچھا کیا تم نے ۔۔” سارہ کو اروش سے پہلے ہی چیڑ تھی کیونکہ ہر جگہ اسی کی تعریف ہوتی تھی جس سے وہ بے حد جیلسی محسوس کرتی تھی ۔۔۔۔

جبکہ انکی ماں بھی مسکرا دی۔۔۔

آگے کا کیا پلین ہے اور اب جو بھی پلین ہو تم باپ بیٹے مجھے اطلاع دے دیا کرو تا کہ کچھ ہو تو مجھ پرا ثر نہ پڑے” وہ کھاتے ہوئے بولیں۔۔۔

تیمور کو ہنسی آ گئ ۔۔۔۔۔

جبکہ سب ہنس دیے ۔۔

یہ دادا کو کیا ہو گا ” وہاج نے پوچھا ۔۔

ایک کمرے میں پڑیں ہیں تمھیں کیا تکلیف ہے” تیمور نے پوچھا ۔۔

نہیں مجھے لگا انکو بھی ٹھکانے لگانے کا پلین ہے” وہاج نے ڈانٹا چلائے ۔۔

بس کرو۔۔

جو ہو چکا ہے اسکے علاوہ کچھ نہیں ہو گا اور ۔۔ دادا جان سے کسی کو کوئ مسلہ نہیں بلکہ میں سوچ رہا ہوں انکا مناسب علاج کرا لوں ۔۔اسکے بعد وہ بھی ہمارے ساتھ ہی شامل ہوں گے “

کیا آپکو لگتا ہے ایسا ہو گا ” وہاج نے پوچھا ۔۔

وہ میرا باپ ہے میں جانتا ہوں اسے ” اسفند شاہ ہنسے ۔

پھر توداداجان کا علاج ضروری ہے” تیمور بولا جبکہ اسفند شاہ نے سر ہلایا ۔۔ وہ سب مطمئین تھے ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

دن آہستگی سے اپنی چال چلتے رہے صیام کو تو یہ دن طویل لگے تھے کیونکہ وہ ۔۔۔اپنی حویلی نہیں جا سکا تھا ۔۔۔۔۔

اس دوران وہ عالم کو ایک پل بھی تنہا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا ۔۔۔۔

نہ وہ کچھ کھا رہا تھا نہ اسنے ہفتے سے دروازہ کھولا۔۔۔۔

صیام لونج میں بیٹھا تھا اسنے کھانا بنوایا اور روز کیطرح اسکے روم کے سامنے ٹیبل

رکھوا دی ۔۔

اسے بھوک لگتی تو تھوڑا بہت کھا لیتا ۔۔۔۔۔

وہ منتظر تھا ۔۔۔اسکا۔۔ اور تبھی دروازہ کھلا ۔۔۔

عالم باہر نکلا ۔۔۔۔ ہاتھ میں پاسپورٹ تھا ۔۔۔۔

جبکہ چہرہ بلکل مرجھایا ہوا تھا ۔۔۔

صیام اچانک کھڑا ہو گیا ۔۔۔

وہ نیچے اترا ۔۔۔۔ ہاتھ میں سفری بیگ تھا ۔۔۔

کہاں جا رہے ہو ” صیام نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔۔

ملیشیا ” عالم نے جواب دی ۔۔اسکی پتلیاں ساکت تھیں جیسے ان میں کوئ تاثر نہ ہو ۔۔۔۔

عالم ان سب فرعونوں کو یوں ہی چھوڑ کر تم چلے جاؤ گے یہاں سے ” صیام کو غصہ آیا ۔۔۔

مجھے غرض نہیں کسی سے ” اسنے بس اتنا جواب دیا اور باہر نکلنے لگا ۔۔۔

میں بھی آپکے ساتھ چلو گا مکرم دوڑ کر نزدیک آیا ۔۔۔۔

نہیں مجھے کسی کی ضرورت نہیں” عالم نے اسے روک دیا ۔۔۔

مگر مجھے تو ہے ” مکرم رو دینے کو تھا عالم نے کچھ خاص نوٹس نہیں لیا اور پھر نکلنے لگا ۔۔۔

عالم تم ایسا کچھ نہیں کرو گے اگر تمھیں یہاں سے جانا ہے تو میرے ساتھ حویلی چلو۔۔ ٹھیک ہے لعنت بھیجو ان لوگوں پر مگر ۔۔۔ کہیں باہر نہیں جاو گے تم ” صیام نے اسے بیگ لیا ۔۔۔۔

عالم نے صیام کی جانب دیکھا ۔۔وہ بھڑک نہیں رہا تھا غصہ نہیں کر رہا تھا ۔۔وہ سرد سا لگ رہا تھا ۔۔عالم اسکیطرف دیکھتا رہا ۔۔۔۔

میں کسی کی شکل نہیں دیکھنا چاہتا ” سنجیدگی سے کہا ۔۔گویا صیام کی بھی نہیں دیکھنا چاہتا تھا وہ ۔۔صیام چپ سا رہ گیا ۔۔۔

جبکہ عالم نے اسکے ہاتھ سے اپنا بیگ لیا اور وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔۔

یہ آخری بار تھا جو صیام نے عالم کو دیکھا ۔۔

مکرم تو وہیں زمین میں بیٹھ کر رونے لگا ۔۔۔۔

اسکی سنائ گئ ایک ایک چیز یوں ہی رہ گئ ۔۔اسکے پالے ہوئے جانور اسکے پیچھے دوڑے ۔۔۔۔

مرجھایا ہوا مور لڑھک کر گیر گیا ۔۔۔ گویا مالک کے چلے جانے سے وہ بھی دنیا سے کوچ کر گیا ہو وہ کئ دن سے بیمار بھی تھا ۔۔۔

فوارے کا شور تھم گیا ہو ۔چاروں سو سناٹا چاہ گیا ۔۔

عالم شاہ ۔۔وہاں سے ہمیشگی کے لیے کوچ کر گیا تھا ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ خبر حویلی والوں کو پہنچی تو خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہا ۔۔۔۔

وہ سب ایسے خوش تھے جیسے عید ہو گئ ہو ۔۔۔ ممتاز نے ان سب کی خوشی دیکھی اور وہ کمرے سے باہر نکل آئ ۔۔۔

تم لوگوں نے مارا ہے میری بچی کو اور اب جشن بنا رہے ہو کہ عالم تمھاری زندگیوں سے چلا گیا ” ممتاز کو لگا حلق سوکھ گیا ہو ۔۔۔

وہ سب اسکی طرف دیکھنے لگے ۔۔۔

ہاں اسکے منہ پر تکیہ رکھ کر میں نے مار دیا ۔۔ایک بات کہو ایکطرح بلکل درست فیصلہ لیا میں نے ۔۔۔ نہ اس لاٹھی سے میں نے سانپ کو مارا ۔۔۔

اپ بھی ریلکس کریں اروش کی عمر اتنی ہی لکھی تھی اب وہ جنت میں سکون کی سانس لے گی نہ عالم ہو گا نہ تیمور ” تیمور نے ہنس کر کہا ۔۔۔

اسکے واضح اقرار پر ۔۔۔۔ ممتاز کانپ اٹھی ۔۔۔۔۔

اور اگر آپ نے ادھر ادھر یہ خود کو بھی یہ بات بتانے کی کوشش کی تو اپنے لنگڑے شوہر کے ساتھ ۔۔۔۔ یہاں سے باہر ملیں گیں ۔۔۔ اب تیمور شاہ کی حکومت ہے یہاں ۔۔۔۔ ” وہ ہاتھ بلند کر کے بولا۔۔۔

ممتاز چکر کر گر گئیں ۔۔۔۔ جبکہ سب نے بے ہوش ممتاز کو اگنور کر دیا ۔۔۔۔

اور اپنی خوشی میں پھر سے مگن ہوئے ۔

ایکچلی بابا ہمیں اپنے لندن والے فرینڈز کو بھی یہاں بلانا چاہیے گرینڈ پارٹی کریں گے” وہاج بولا ۔۔۔

شیور برو ” تیمور نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا سب ہنس پڑے ۔۔۔

آزادی کا دن تھا ۔۔۔۔

وہ مزے میں تھے جبکہ ایک ملازمہ نے آنسو صاف کرتے ہوئے ممتاز کے بے ہوش وجود کو اٹھایا تھا وہاں سے ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صیام گھر واپس لوٹا ۔۔۔ تو ۔۔۔گھر میں خاموشی تھی ۔۔۔۔

اسے ملازم نے بتایا کہ ارمان جا چکا ہے ۔۔۔ اسنے سر ہلایا ۔۔ خود نہ جاتا تو میں نکال دیتا اسے ” وہ نخوت سے بولا سر جھٹک کر ۔۔اور بیڈ پر گیر گیا ۔۔۔اسکی آنکھوں میں بے

ساختہ نمی سی اتر آئے ۔۔آج اسکا دوست اسکے پاس سے چلا گیا تھا ۔۔

وہ جانتا تھا وہ دوبارہ اسکو اپنی شکل کبھی نہیں دیکھائے گا وہ بے حد غمگین تھا ۔۔۔

اتنا کہ دل پر ہاتھ رکھ کر آج اسنے ان دھڑکنوں کو محسوس کیا ۔۔۔

ہمیشہ وہ اروش کا زکر اس سے کرتا تھا تبھی وہ جانتا تھا اروش اسکے لیے کیا تھی

اسکی تو سانسیں چھین لی گئیں وہ اب ایک خالی انسان رہ گیا تھا جزبات سے عاری اسنے سب کو اسکے حال پر چھوڑ دیا تھا جبکہ حق تو یہ تھا کہ سب کو وہ جان سے مار دیتا ۔۔۔

مگر وہ اتنا کمزور اور شکستہ ہو گیا تھا کہ وہ چلا گیا چپ چاپ اور کیسے ان لوگوں میں جیت کا جشن منایا ۔

اسکے ملازم نے دروازہ بجایا وہ آنکھیں صاف کرتا اٹھا ۔۔۔

اور اندر آنے کی اجازت دی ۔۔

خان کوئ مکرم آیا ہے” اسنے بتایا۔۔تو صیام اپنے کمرے سے باہر آ گیا ۔۔۔

مکرم خود لگ ہی نہیں رہا تھا وہ مکرم ہے جو عالم شاہ کے نام سے ہی اتنی محبت اور وفاداری رکھتا تھا آج ۔۔اکیلا تھا ۔۔۔

سائیں ۔۔ نکال دیا ان لوگوں نے شاہ سائیں کے ملازموں کو ۔۔۔

میرا تو کوئ ٹھکانہ بھی نہیں ۔۔۔ سائیں ۔۔۔ جانتا تک نہیں کہ کون ہے اپنا بچپن سے شاہ سائیں وہ ہی اپنا مانا تھا ” وہ رو دیا ۔۔ صیام سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔

سائیں حویلی کے ملازم بتا رہے تھے وہ جشن منا رہے ہیں ۔۔۔ وہ بتا رہے تھے تیمور شاہ نے چیخ چیخ کر اقرار کیا ہے کہ اروش بی بی کا دم گھوٹ کر مارا ہے بدبخت نے “مکرم اور بھی رونے لگا ۔۔جبکہ صیام نے سر تھام لیا ۔۔۔

تم یہیں میرے ساتھ رہو دوبارہ مت لوٹنا “صیام نے کہا ۔۔۔

تو مکرم اسکیطرف دیکھنے لگا اور صیام اٹھ کر دوبارہ اپنے کمرے میں آ گیا ۔۔۔۔

بے چینی سے تکلیف بڑھ گئ ۔۔۔۔

کمرہ بے حد وسیع لگنے لگا ۔۔

وہ گھیرے گھیرے سانس لے کر خود کو نارمل ظاہر کرنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔ مگر جب بات نہ بن پڑی تو وہ عجلت میں وہاں سے نکلا ۔۔۔۔

علینہ جو اپنی دوست سے بات کر رہی تھی صیام کو حمائل کے کمرے کیطرف بھاگتے دیکھا تو اسنے کال بند کی ۔۔۔

اور صیام کو پکارہ ۔۔ جس نے اسکی پکار نہیں سکی اور حمائل کے کمرے میں گھس گیا ۔۔۔۔

وہ مدہوش سو رہی تھی ۔۔

صیما نے دروازہ لوک کر لیا ۔۔۔

اسکا دل کیا اسی پہلو میں سو جائے یہیں چین ملے گا ۔۔۔

اپنے کمرے

 سے اسے خوف آ رہا تھا ۔۔۔

وہ جوتا اتار کر شرٹ اتار کر صوفے پر پھینکتا ۔۔۔۔

حمائل کے بیڈ پر آ گیا ۔۔۔

وجود جل رہا تھا ۔۔۔ اندرآگ لگی تھی۔۔۔

اسنے حمائل کا ہاتھ کھولا اور ۔۔۔اسپر سر رکھ لیا جبکہ اسکے کمبل میں خود کو چھپا لیا ۔۔۔

جس سے سخت نفرت کرتا تھا کیسے اسکے پہلو میں بچوں کیطرح چھپ گیا تھا ۔۔۔

حمائل کی سانسوں کی مدھم آواز وہ اسکے کمبل میں چھپا سنتا گیا ۔۔۔۔

کافی دیر سننے کے بعد ۔۔۔ اسپر نیند طاری ہونے لگی ۔۔اور اسپر اسکی بانہوں میں نیند مہربان ہو گئ ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Continued…………

For all interesting Novels visit to our website hop you guys are enjoying it. Revange ,Best Urdu Novel, یہ عشق کی تلاش ہے Epi #10

Leave a Comment

Your email address will not be published.