Tania Tahir Novels 2022

Revenge based novel, یہ عشق کی تلاش ہے by Tania Tahir Epi#4

Here you find all types of interesting New Urdu Novel, Revenge based novel, Tania Tahir Novels , all category to forced marriage, childhood marriage, politics based, cousin based and funny novels multiple categories & complete PDF novels Here…

Revenge based novel,YE ISHQ KIO TALAASH HAI by Tania Tahir Novels
Revenge based novel, YE ISHQ KI TALAASAH HAI by Tania Tahir

Revenge based novel ,TaniaTahir Novels 

 

یہ عشق کی تلاش ہے
#4 ایپیسوڈ نمبر
از قلم تانیہ طاہر

وہ حویلی میں داخل ہوا تو ۔۔۔ چاروطرف خاموشی تھی ملازموں نے اسکا خوبصورت چہرہ دیکھا اسپر خوشی کی رمق دیکھی اور دوبارہ اپنے کاموں میں مصروف ہو گئے جبکہ عالم شاہ جانتا تھا وہ جہانزیب شاہ کے کمرے میں ہوں گے سب ۔۔ وہ جلدی جہانزیب شاہ کے کمرے تک پہنچا ۔۔۔۔ تو اندر سے آوازیں آنے لگیں وہ وہیں رک گیا ۔۔۔۔

یہ کس کی اجازت سے بابا کسی بھی غیر کے سر پر آپ نے سرداری سجا دی ۔۔۔”اسفند شاہ کافی غصے میں تھا ۔۔
یہ میرے تیمور کا حق تھا ” وہ ضبط سے بولے ۔۔۔
عالم وہی ہے نہ دادا جان جو ہمارے ملازم کا بیٹا تھا ۔۔۔اور آپ نے دستار اسکے سر بندھوا دی کمال ہی ہو گیا یہ تو “تیمور کی آواز سنائ دی ۔۔۔۔

پلیز تیمور آپ دیکھ رہے ہیں دادا جان اور بابا کی کیا حالت ہے پھر بھی غصہ ہو رہے ہیں ” اروش کی مدھم آواز پر وہ دروازے کی ناب تھام گیا ۔۔ کس قدر سکون میسر آیا تھا اسے اس وقت یہ آواز سن کر ۔۔۔۔



میری جان ۔۔ میں اپنے حق کی بات کر رہا ہوں ” تیمور کی آواز پر اسنے سرخ نظروں سے دروازے کو دیکھا ۔۔۔۔۔۔
دوبارہ اروش کی آواز نہیں آئ ۔۔۔
بابا جان کو ٹھیک کرانے کی کوشش کریں بھائ صاحب آپ ۔۔۔۔
تب ہی ساری سچائیوں پر سے پردے ہٹیں گے “

کون سی سچائ “اسفند شاہ کا انداز پھاڑ کھانے والا تھا ۔۔۔
ہممم بہت اچھے سے پتہ چل جائے گا آپکو جلد کے عالم شاہ کون ہے ” ممتاز نے طنز کیا ۔۔۔

اچھا چچی تو بتا دیں کون ہے عالم شاہ ہم بھی دیکھ لیں ایک ملازم کے بیٹے کی کیا اوقات ہو گئ ایسی بھی” تیمور کڑوے لہجے میں بولا ۔۔۔۔
جبکہ عالم کو قدموں کی آواز دروازے کے نزدیک آتی سنائ دی ۔۔وہ ایک جست لگا کر ۔۔۔۔ دروازے سے دور ہوا ۔۔ ممتاز نے دروازہ کھولا ۔۔۔اور پھر دروازہ بند کر دیا ۔۔

اسکی اس پراسرارحرکت پر سب چونک سے گئے تھے وہ دوبارہ آ بیٹھی ۔۔۔ جبکہ عالم نے دوبارہ دروازے کی ناپ تھام لی اگر اس عورت نے اپنا منہ کھولا تو واقعی وہ اسے عبرت کا نشان بنا دے گا ۔۔۔۔

مت بتاو ممتاز کچھ ۔۔۔جس نے جاننا ہوگا وہ خود جان لے گا ” سبحان شاہ کی آواز ابھری ۔۔ آخر کب تک ہم یہ سب سہیں گے ۔۔۔ وہ عالم وہ دو ٹکے کا انسان ۔۔۔ اسنے آپکی اور بابا جان کی یہ حالت کی اور دستار کا مالک بن گیا ۔۔ کیوں نہ جانیں سب اسکے بارے میں ۔۔۔۔”

ممتاز کی نفرت سے بھرپور آواز ابھری ۔۔۔
عالم شاہ نے خود کو بمشکل اندر جانے سے روکا تھا ۔۔۔
سبحان شاہ نے بھی اسکے لیے اپنے اندر کے زہر کو واضح کیا تھا ۔۔۔
کون ہے یہ عالم “اروش کی ایک بار پھر آواز ابھری ۔۔۔۔۔

کوئ نہیں اروش تم نے دور رہنا ہے ہر معاملے سے ۔۔ تیمور تم اروش کا ہر قیمت پر خیال رکھنا “۔ سبحان شاہ بولے ۔۔۔ جبکہ اسفند شاہ غصے سے اٹھ کھڑے ہوئے ۔۔
ایک نوکر کے بیٹے سے تم لوگ ڈر رہے ہو کچھ سمھجہ نہیں آ رہی مجھے” وہ غصے سے چلائے تو سب خاموش ہو گئے ۔۔

خود تیمور بھی سمھجہ نہیں پا رہا تھا کہ عالم شاہ جو انکے ملازم کا بیٹا تھا اس سے سب لوگ کیوں خوف زدہ تھے ۔۔۔۔ عالم انھیں قدموں سے پلٹ گیا ۔۔۔۔

وہ اندر نہیں گیا ۔۔ حالانکہ جتنا اروش کو دیکھنے کے لیے عالم بے تاب تھا اتنا تو شاید ہی کوئ انسان کسی کے لیے ہوتا ہو مگروہ خاموشی سے پلٹ آیا ۔۔۔
کیونکہ اب اسکے داماغ نے سارے سیدھے راستوں پرعمل کرنے سے نفی کر دی تھی ۔۔۔۔۔

یہ لوگ اسکی انسانیت کے قابل ہی نہیں تھے ۔۔ وہ چلتا ہوا اپنے پورشن میں آ گیا ۔۔۔ اور وہیں لاونج میں بیٹھ کر سگار پینے لگا ۔۔۔
کچھ توقف سے اسکی کال بجنے لگی ۔۔۔

صیام کا نمبر دیکھ کر کال پیک کر لی ۔۔
ملے ہوجلدی بتاؤ ” اسنے بے تابی سے پوچھا ۔۔۔
نہیں ۔۔۔ “سرد لہجےمیں بولا

کیوں “صیام نے وجہ جاننا چاہی ۔۔۔۔
وہ جانتی ہی نہیں عالم شاہ کے بارے میں ۔۔۔”ٹوٹا ہوا سا لہجہ تھا ۔۔۔
یار تو اسے بتاؤ کہ تم کون ہو ” صیام زرا غصے میں لگا ۔۔۔
ہممم بتانا تو پڑے گا اس سمیت سب کو کہ عالم شاہ کون ہے ” عالم نے دھواں فضا کے سپرد کردیا ۔۔۔۔

تمھیں میری کوئ مدد چاہیے” صیام نے اسکے لہجے کی خوفناکی کو محسوس کیا تھا
۔۔ نہیں “عالم نے ایک لفظی جواب دیا اور ۔۔ فون بند کر دیا ۔۔۔۔
ابھی فون رکھا ہی تھا کہ مکرم بھی اسکے پاس آ گیا ۔۔۔ جس سے اب وہ ہلکی آواز میں باتیں کر رہا تھا ۔۔۔اور مکرم سب سمھجہ کر سر ہلا رہا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلی صبح حویلی میں ۔۔ان لوگوں کے لیے خوبصورت تھی اروش نے بھرپور انگڑائ لی تیمور کی طرف ایک نظر دیکھا اور مسکرا کر کھڑکی پر سے پردہ ہٹا دیا ۔۔۔
اروش “تیمور ناگواری سے چلایا ۔۔ جبکہ اروش نے منہ بنایا اور دوبارہ پردہ ڈال دیا ۔۔۔
اور فریش ہو کر باہر آ گئ ۔۔۔۔
گیلے بال اور سفید لباس ۔۔۔۔ جس کا دوپٹہ بھی اسنے لیا ہوا تھا ۔۔۔
اس وقت ملازموں کے سوا وہاں کوئ نہیں تھا ۔۔ تبھی وہ لون میں آ گئ ۔۔۔۔
یہ صبح اسے لندن میں گزاری ہر صبح سے کہیں زیادہ حسین اور اپنائیت سے بھرپور لگ رہی تھی ۔
میڈیم” پیچھے سے آتی آواز پر وہ چونک کر پلٹی اور مسکرا دی ۔۔۔ کیا آپ کچھ لیں گی”ملازم نے پوچھا ۔۔
ام م م م نہیں ایکچلی میں اتنی صبح ناشتہ نہیں کرتی ۔۔۔” وہ مسکرا کر بولی اور لون میں اتر گئ ملازمہ بھی ایسے پیچھے پیچھے آئ ۔۔
مگر میڈیم ہمیں آرڈرز ہیں کہ آپکو صبح کافی یہ بیڈ ٹی لازمی دی جائے ” ملازمہ بولی تو اروش نے اسکو حیرانگی سے دیکھا ۔۔ مسکراہٹ نے البتہ چہرے کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا ۔۔۔
اور کس نے دیے ہیں آپ کو یہ آرڈرز”وہ بولی ۔۔۔۔
عالم شاہ سائیں نے” ملازمہ کی آواز پر اروش چونک گئ چہرے کی مسکراہٹ غائب ہو گئ ۔۔۔۔اسکے اندر ایک تجسس سا بھر گیا ۔۔ کہ یہ عالم ہے کون جس نے دادا اور بابا کے ساتھ ایسا سلوک کیا اور اسکے ساتھ مہمان نوازی نبھا رہا ہے ۔۔۔
کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے انکو ” اروش نے ملازمہ سے سوال کیا ۔۔۔۔
جبکہ ملازمہ اپنے پیچھے آنے والی ایک چھوٹی لڑکی سے ۔۔ کافی کا کپ لے کر اسکے ہاتھ میں پکڑانے لگی ۔۔ جسے اروش نے تھام لیا ۔۔۔۔
ملازمہ نے سانس بھال کیا ۔۔۔۔
جی بہت بار دیکھا ہے ” ملازمہ نے جواب دیا اور مسکرانے لگی ۔۔۔۔۔
کیا میں نے بھی انھیں دیکھا ہے ” اروش کے سوال پر ملازمہ نے اسکی طرف دیکھا ۔۔
میرا مطلب جب میں یہاں ہوتی تھی تو میں کسی عالم شاہ کے بارے میں نہیں جانتی تھی ۔۔۔ یہاں سب انکے بارے میں جانتے ہیں سوائے میرے”اروش کی افسردگی پر کوئ جی بھر کے راضی ہوا تھا ۔۔جبکہ ملازمہ نے ۔۔۔ سر ہلایا ۔۔۔
کیا آپ جاننا چاہتی ہیں انکے بارے میں ” ملازمہ نے سوال کیا ۔۔۔
ام م م ہاں کیوں کہ میں نے ان سے پوچھنا ہے کہ میرے بابا اور داداجان کا کیا قصور تھا جو انھوں نے ایسا کیا “وہ خفگی سے بولی ۔۔۔۔
آپ اس طرف چلی جائیں وہ عالم شاہ سائیں کا حصہ ہے ۔۔ حویلی کا کوئ ملازم وہاں نہیں جا سکتا اسی لیے میں آپکے ساتھ نہیں جا پاؤں گی۔۔ بس مکرم بھائ وہاں سے یہاں آتے ہیں ۔۔۔۔
حویلی کے پیچھے” اروش منہ میں بڑبڑائ ۔۔۔ اور ملازمہ کے ہاتھ میں کافی کا کپ دینے لگی ۔۔
سچ بتاؤ میں یہ کڑوی چیز نہیں پیتی ۔۔ تیمور اٹھیں گے انکے ساتھ ناشتہ کر لوں گی ”
مگر میڈیم شاہ سائیں کے آرڈرز کے خلاف گئے تو ۔۔ جی ہمیں نقصان ہو گا “ملازمہ نے بے چارگی سے کہا ۔۔
ارے بھئ جب نہیں پینی تو نہیں پینی”وہ چیڑ کر بولی ۔۔۔
معافی چاہتی ہوں میڈیم میں یہ آپ سے نہیں لے سکتی ” ملازمہ نے کہا اور جلدی سے وہاں سے چلی گئ کہیں دوبارہ وہ اسے کپ نہ تھما دے اروش حیرت سے شانے اچکاتی کپ ہاتھ میں لیے اس طرف چلنے لگی ۔۔۔۔
جہاں عالم شاہ تھا وہ اسے دیکھنا چاہتی تھی ایک نظر ۔۔۔
وہ پیچھلی سائیڈ پر آ گئ تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئ کہ وہ یہ کہاں آ گئ ہے ۔۔ یہ بھی حویلی کا حصہ تھا وہ تو جانتی تک نہیں تھی ۔۔
سامنے والی حویلی تو شاید کچھ نہیں تھی جتنا خوبصورت یہ حصہ تھا ۔۔۔
ہری ہری گھاس پر چلنے والے سفید مور اور سفید میمنوں کو دیکھ
کر وہ دوڑتی ہوئی ان تک پہنچی ۔۔
کپ ایک طرف رکھا اور ۔۔۔ اس میمنے کو اپنی بانہوں میں بھر لیا ۔۔۔
وہ اتنا چھوٹا اور اتنا پیاری تھا کہ اسکا بس نہیں چلا ۔۔۔ کیسے پیار کرے ۔۔۔۔
اسے گود میں اٹھا کر وہ مسکراتی ہوئی ۔۔۔۔ فوارے کو دیکھنے لگی ۔۔
جو سفید پتھروں سے بنا تھا ان پتھروں میں عجب چمک تھی جیسے سنگ مرمرکے ہوں ۔۔۔۔ اوران پتھروں پر تیرتا پانی کا شور ۔۔۔ اسنے مسکرا کر گھیری سانس بھری ۔۔۔۔
یہ جگہ اسکی پسند کے عین مطابق تھی۔۔۔ پانی کو ہاتھ میں بھر کر اپنی شفاف ہتھیلی پر شفاف پانی دیکھ کر وہ مسکرائی مگر پانی پر بننے والی عکس سے ایکدم گھبرا کر وہ پلٹی ۔۔۔
جاگنگ ٹریک سوٹ میں ۔۔۔ کانوں میں ائیر پورٹس لگائے ۔۔۔
وہ اونچا لمبا مرد ۔۔۔۔جو کے حسین چہرے پر ۔۔ پسینے کی معمولی سی بوندیں تھیں ہاتھ میں پانی کی بوتل تھی ۔ سانسیں اکھڑی ہوئ سی تھیں ۔۔۔۔
وہ ۔۔۔ گھبرا کر اسکو دیکھنے لگی ۔۔ بڑی بڑی آنکھوں میں آج پورا عالم شاہ اتر چکا تھا ۔۔۔
عالم خاموشی سے ۔۔۔ اسے دیکھ رہا تھا ۔۔ سفید لباس میں سفید میمنا گود میں اٹھائے وہ خوف زدہ سی لگی ۔۔۔
عالم ” اسکے منہ سے بس اتنا ہی نکلا ۔۔ اروش نے جیسے ایک بار پھراسے چونک کر دیکھا گویا تصدیق کرنی چاہی کہ وہ واقعی عالم ہے ۔۔ اسنے حلق میں تھوک نگلا اور اچانک میمنا اسکے ہاتھ سے چھٹا اور عالم کے قدموں سے لپٹ گیا ۔۔۔۔
مگر عالم نے نوٹس نہیں لیا ۔۔
اروش نے ۔۔۔۔ مرجھائے ہوئے چہرے سے یہ منظر دیکھا ۔۔۔
عالم نے جھک کر وہی بکری کا بچہ اٹھایا ۔۔۔ اور دوبارہ ۔۔اروش کو تھما دیا ۔۔۔
اروش اب بھی حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
نہیں یہ آپکا ہے “اسنے اس میمنے کو اتارنا چاہا ۔۔۔ عالم کی شخصیت سے وہ کنفیوز لگ رہی تھی ۔۔
یہ تمھارے پاس سے اب کبھی کہیں نہیں جائے گا ” عالم نے اپنی بات پر زور دیا ۔۔۔۔
مگر”اروش نہیں چاہتی تھی عالم نے اسکی طرف نگاہ اٹھائ اور اروش نے اس بکری کے بچے کو ۔۔ اپنے نزدیک کر لیا ۔۔۔
کافی نہیں پی “وہ اس سے ایسے بات کر رہا تھا جیسے برسوں سے جانتا ہو ۔۔ اروش نے گھاس پر کافی کا مگ دیکھا ۔۔۔
میں ۔۔۔میں تیمور کے ساتھ ناشتہ کروں گی ” وہ سرجھکائے بولی ۔۔۔ گویا پہلی ملاقات میں ہی وہ اس سے سہمی ہوئی لگ رہی تھی ۔۔
عالم نے اپنے غصے پرکنٹرول کرتے ہوئے اپنی جیکٹ کی زیپ کھول دی ۔۔
اروش نے حونک نظروں سے اسکو دیکھا ۔۔
اگراسکو ناشتہ ملے ہی نہ تو “عالم نے شانے آچکا کر کہا اور اپنی بیلڈنگ میں جانے لگا ۔۔۔۔۔
اروش اب بھی وہیں کھڑی تھی ۔۔
آجاؤ ” اسنے اسے اندر آنے کو کھا ۔۔
نہیں ” اروش نے صاف انکار کیا اور وہ بکری کا بچہ وہیں چھوڑ کروہ وہاں سے بھاگ اٹھی ۔۔ عالم نے اسکو بھاگتے ہوئے دیکھا ۔۔۔ اور مسکرا دیا ۔۔۔۔
مکرم سائیں ۔۔۔ حویلی والوں کو تب تک کچھ کھانے کو مت دینا جب تک اروش سائیں ۔۔ ہمارے ساتھ ناشتہ کرنے نہ آئیں اور سیدھے لفظوں میں یہ پیغام پہنچا دینا “اسنے تولیہ لے کر گردن صاف کی اور مکرم کو دیکھا جس نے سر ہلایا ۔۔۔اور اسکی حکم کی تعمیل کے لیے نکل اٹھا ۔۔۔
جبکہ عالم شاور لینے اپنے روم میں آ گیا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا ڈر بھی لگ رہا تھا ۔۔ وہ مرد خوبصورت تھا بے حد ۔۔۔ مگر ۔۔۔ اس سے عجیبخوف بھی آ رہا تھا ۔۔۔
وہ اندر آئ تو ممتاز آٹھ چکی تھی کچن کے باہر کھڑی تھی۔۔۔۔
جبکہ کچن کا دروازہ بند تھا ۔
کیا ہوا مما” اروش نے ان سے پوچھا ۔۔۔ نہ جانے بیٹا اب اس عالم نے ہمیں زیچ کرنے کے لیے نیا کون سا کھیل کھیلا ہے ۔۔۔۔ کچن ہی بند کرا دیا ۔۔” ممتاز نے سرد آہ بھری اور صوفے پر بیٹھ گئ ۔۔
مما وہ ایسے کیوں کر رہے ہیں”اروش نے الجھ کر سوال کیا ممتاز نے دیکھا اور دل میں آیا سب بتا دے صرف تمھاری وجہ سے۔۔ اگر اسے تمھیں دے دیا جائے تو وہ شانت ہو جائے گا ۔۔۔۔
مگر وہ بتا نہیں سکیں ۔۔
اروش” تیمور کی آواز پر وہ پلٹی
اور روم میں بھاگی ۔۔۔
سب اٹھ گئے تھے رفتہ رفتہ مگر کچن نہیں کھولا تھا ۔۔
داداجان کی دوائیوں کا وقت ہو گیا تھا ۔۔۔
مگر کچن کے دروازے ہرممکن کوشش کے بعد بھی نہیں کھل رہے تھے ۔۔
چاہتا کیا ہے وہ ” اسفند شاہ نے ۔۔۔ بھڑک کر پوچھا ۔۔۔۔
اروش اسکے ساتھ ناشتہ کرے گی تو۔۔۔ ہمیں کچھ کھانا نصیب ہو گا “ممتاز نے مکرم کا دیا پیغام پہنچایا ۔۔۔ تیمور اور اروش دونوں ہی وہاں موجود نہیں تھے ۔
یہ کیا حرکت ہے منہ توڑ دوں گا میں اس عالم شاہ کا میں دیکھتا ہوں زرا ”
اسفند شاہ بھڑک کر جانے لگے مگر ممتاز کی بات پر روک گئے ۔۔
بھائ جان عالم کے پورشن میں کوئ نہیں جا سکتا ۔۔۔۔
وہ خود گولیوں سے بھون دے گا آپکو کوئ بھی پیغام دینا ہے مکرم کو دیں” ممتاز نے اسکو آگاہ کیا ۔۔اسفند شاہ ۔۔۔ حیران رہ گئے اور باہر نکلے مکرم خاموشی سے کھڑا تھا ۔۔
کون ہے عالم شاہ “اسفند شاہ نے سختی سے پوچھا ۔۔۔۔
وہی جس نے آپ لوگوں کا کھانا پینا بند کر دیا ہے ۔۔۔ اروش بی بی وہاں چلی جائیں تو ۔۔ کچن کھل جائے گا “مکرم نے کہا اور اس سے پہلے ۔۔۔ اسفند شاہ بھڑک کر مکرم کے تھپڑ رکھتے ۔۔۔ مکرم نے انکے ہاتھ پر بندوق ماری کے وہ بلبلا ہی گئے انکی بوڑھی ہڈیوں میں مکرم سے لڑنے کی ہمت نہیں تھی کیونکہ مکرم ایک جوان لڑکا تھا ۔۔۔
مکرم نے گھور کراسکو دیکھا اور اسفند شاہ اندر چلے گئے ۔۔۔
بھوک لگ رہی ہے مجھے” تیمور نے غصے سے کہا ۔۔ ممتاز بیگم اسے بتا چکیں تھیں ۔۔
میں دیکھتا ہوں اس عالم شاہ کو ” وہ اروش کے متعلق جان کر آپے سے باہر ہونے لگا ۔۔ کہ اسفند شاہ نے اسے روک دیا ۔۔
نہیں تم کہیں نہیں جاؤ گے ۔۔ وہاج اور سارہ بھی اٹھ گئے تھے ۔۔سب ناشتے کے منتظر تھے ۔۔۔
باباجانے دیں مجھے ۔۔۔” تیمور بھڑک کر بولا ۔۔۔
میں نے کہا نہ کوئ نہیں جائے گا ۔۔۔ اروش کو جانے دو ” اسفند شاہ کی بات پراروش نے تیمور کو اور تیمور نے باپ کو دیکھا ۔۔
بابا بیوی ہے وہ میری اور کوئ بھی مرد اسے بولا لے میں بھیج دوں پاگل ہوں میں” تیمور تلملایا تو اروش کو تیمور کی لندن والی بات یاد آ گئ ۔۔ کہ وہ چاہے تو کچھ بھی کرے ۔۔۔
مگر شاید پاکستان میں اسکے خیالات مختلف تھے ۔۔۔۔
بیٹے اس وقت جو ہو کہہ رہا ہے کرنے دو ۔۔۔ اس بات کا حل ہم نکالیں گے “اسفند شاہ نے
تیمور کو سمجھایا اور اروش کو بھیجنے کا فیصلہ ہو گیا ۔۔۔۔
مجھے ڈر لگ رہا ہے مما “اروش کی آنکھیں بھیگ گئیں ۔۔۔۔۔
جبکہ تیمور کا ہاتھ اسنے سختی سے جکڑا ہوا تھا ۔۔
وہ تمھیں کچھ نہیں کہے گا ” ممتاز نے تسلی دی۔۔۔
تیمور” اروش نے اور بھی اختیار سے اسکا ہاتھ پکڑ لیا تیمور کچھ نہیں بولا ۔۔
یارجاؤ بھی ۔۔ کیا ہمیں کھانا نصیب ہو گا یہاں “وہاج بولا تو اسفند شاہ نے اروش کو ۔۔۔ وہاں سے باہر جانے کا کہا ۔۔تیمور بھڑک کراپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔ اروش نے اسکو حیرانگی سے دیکھا وہ کیسے مان گیا تھا کسی بھی مرد کے پاس اپنی بیوی بھیجنے پر ۔۔۔۔
اروش سہمی ہوئی وہاں سے باہر نکل گئ ۔
مکرم نے اسکو دیکھ کر مؤدب ہو کر اسکے لیے راستہ چھوڑا ۔۔۔
اور اروش حویلی کے پیچھلی طرف آ گئ ۔۔۔ پاؤں بے دم سے ہو رہے تھے خوف الگ رہا تھا ۔۔
مکرم نے ان سب کو دیکھا اور ۔۔ نوکروں کو آرڈر دیا کے کچن کے دروازے کھول  ۔۔۔ اور گویا سب نےسانس لیا ۔۔ بھوک سے حالت غیر ہو رہی تھی ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عالم شاہ ٹیبل پر بیٹھا سفید لباس لٹھے کے سوٹ میں اسکا منتظر تھا اروش وہاں آئ تو عالم نےاسکی جانب دیکھا ۔۔۔
آو”اسنے اپنی ساتھ والی چئیر کیطرف اشارہ کیا ۔۔
لبوں پر جان لیوا مسکان تھی ۔۔۔
اروش نے نفی میں سر ہلایا وہ بچوں کیطرح سہمی ہوئی تھی کہ کسی بھی وقت رو دے گی ۔۔۔۔
عالم محسوس کرچکا تھا ۔۔
ڈر لگ رہا ہے “عالم نے سوال کیا ناشتے کو خود بھی نہیں چھوا تھا ۔۔
اروش نے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔
کیوں “سوال کیا ۔۔۔۔
مج۔۔مجھے کچھ سمھجہ نہیں آ رہی “اور کہتے ساتھ ہی اروش رونے لگی۔۔
عالم نے کانٹا چھوڑا اور ۔۔ اٹھ گیا ۔۔۔
اسکا چہرہ بے ساختہ ہاتھوں میں بھر لیا ۔۔ اروش نے حیرت سے اسکو دیکھا اور اس سے دور ہونا چاہا ۔۔۔۔
دیکھو مجھ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں تم جن لوگوں میں ہو اصل ان سے ڈرو ان میں سے کوئ بھی تمھارا اپنا نہیں ہے یہاں صرف میں ہوں تمھارا ” وہ اسکے آنسو صاف کرتا بولا ۔۔ انداز میں چاہت تھی سرور تھا ۔۔
اس تپش بھرے لمس سے گھبرا کر اروش دور ہو گئ ۔۔۔
وہ میرے اپنے ہیں آپ کو تو میں جانتی بھی نہیں” اروش نے جواب دیا ۔۔۔
صرف کھانے کی حوس میں تمھارے اپنوں نے تمھیں اسکے پاس بھیج دیا ۔۔ جس کو تم جانتی تک نہیں ”
ساؤنڈ سٹرینج ” عالم مسکرا کر دوبارہ ٹیبل پر بیٹھ گیا ۔۔۔
م۔۔مجبوری تھی ” اروش نے جلدی سے انکی حمایت کی ۔۔
عالم نے مسکرا کرایک لقمہ بھرا ۔۔۔اوراسکا ہاتھ پکڑ کر اچانک ہی کھینچ کراسے چئیر پر بیٹھا لیا اور چئیر کو بلکل اپنے نزدیک کر لیا اروش بھاگ جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔۔
اگر میں مجبور ہوتا اتنا ۔۔۔۔ تب بھی تمھیں کسی غیر مرد کے حوالے نہ کرتا ۔۔۔۔ اور سچ بتاؤ تو ۔۔۔۔ بڑے ضبط سے یہ تیمور نامی سانپ کا ذکرسن رہا ہوں دیکھ رہا ہوں ” اسکے ہاتھ جکڑ کر وہ سرد لہجے میں بولا ۔۔۔
چ۔۔۔چاہتے کیا ہیں آپ “اروش بے حد ڈر گئ تھی ۔۔۔
فلحال
تمہارے ے ساتھ ناشتہ باقی باتیں رفتہ رفتہ کھل جائیں گی ”
میں تیمور
کے ساتھ ہی کروں گی” اروش بھی ضدی ہو گئ ۔۔۔۔
جبکہ عالم نے گھیرہ سانس بھرا ۔۔ کانٹے سے لقمہ منہ میں اتارا ۔۔ اور کانٹے کی نوک اسکے بازو میں جھبو دی ۔۔ یہ عمل بڑی تیزی سے ہوا تھا ۔۔
آہ “اروش کی آہ نکلی تکلیف سے وہ زرا بے چین سی ہوئ ۔۔۔
چلو کھاؤ جلدی ۔۔ دوبارہ نہ کہنا پڑے” عالم نے زبردستی کی ۔۔
اور اروش کو چار نگار اسکے ساتھ کھانا ہی پڑا دو لقمے لے کر وہ رک گئ اور اسکے بعد عالم نے اپنے کانٹےسے۔۔ خود ناشتہ بھول کر اسکو ناشتہ کرایا ۔۔ جس کی نگاہ تک عالم سے ملنے کے لیے تیار نہیں تھی ۔۔
مگر عالم کے لیے تو یہ بہت سے بھی زیادہ تھا کہ وہ اسکے نزدیک بیٹھی ہے اسکے جھوٹے کانٹے سے کھا رہی ہے ۔۔۔۔۔
اسکے لبوں سے جب جب کانٹا ٹکرا رہا تھا ۔۔ عالم شاہ خود کو ضبط کی انتہا پر محسوس کرتا رہا ۔۔۔
جوس” عالم نے اسکے آگے گلاس کیا ۔۔ اروش نے اسکو دیکھا ۔۔
میں پہلے ہی بہت سارا کھا چکی ہوں ” وہ رو دینے کو تھی ۔۔
تو اس میں رونے والی تو کوئ بات نہی ” عالم نے جوس اسکے لبوں سے لگا دیا ۔۔۔۔۔
اور اروش کو وہ بھی پینا پڑا ۔۔۔
اوکے اب اٹھو “عالم نے جلدی سے کہا اروش نے نوٹ کیا کہ اسنے ناشتہ نہیں کیا ۔۔ مگراسے پرواہ نہیں تھی وہ تو ابھی تک کچھ سمھجہ نہیں پا رہی تھی کہ ہو کیا رہا ہے ۔۔۔
وہ اٹھ گئ ۔۔۔۔
عالم نے اسکی جانب دیکھا لبوں کے کناروں میں مسکان تھی ۔۔۔
م۔۔میں جاؤ “اروش جان بخشی کی طلبگار تھی جب کہ دوسری طرف وہ جان دے دینے کے لیے تیار تھا ۔۔۔۔
ہممم ایک شرط پر ” عالم نے دونوں کے بیچ سے چئیرہٹا لی اوراسکے نزدیک آیا ۔۔ جبکہ اروش دور ہو گئ ۔۔۔ آنکھوں میں گھبراہٹ تھی ۔۔۔
رات میرے آنے سے پہلے تم یہاں میرے پاس ہو گی ۔۔ رائٹ” اسنے آرڈر دیا ۔۔
ک۔۔۔کیوں “اروش رونے لگی
کیونکہ عالم چاہتا ہے “اسنے پیار سے گال تھپتھپایا ۔۔۔
اور اروش کو جانے کا اشارہ کیا وہ پل کے پل میں وہاں سے بھاگتی ہوئی نکلی تھی ۔۔۔۔
عالم نے گھیرہ سانس کھینچا۔۔ پل کی چوتھائ میں اسے ۔۔ تیمور سے اروش کو الگ کرنا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ بھاگ کر حویلی میں آئ تو وہاں سب ناشتہ کر رہے تھے اروش تیمور کو ناشتہ کرتے دیکھ وہیں رک گئ ۔۔۔۔
وہ کیسا شخص تھا ۔۔۔سب پراپنی ناراضگی واضح کرتے ہوئے ۔۔ وہ بھاگ کر کمرے میں بند ہو گئ
تیموراسے دیکھ کر جلدی سے اٹھا ۔۔
اروش دروازہ کھولو ” اسنے دروازہ بجایا ۔۔۔
اور ملازمہ نے اگلے ہی لمحے سب کے آگے سے کھانا سمیٹ لیا ۔۔۔۔
یہ سب کیا ہو رہا ہے “اسفند شاہ دھاڑے ۔۔۔ جبکہ ممتاز نے سبحان شاہ کیطرف دیکھا ۔۔۔۔
اور دونوں نگاہ پھیر گئے ۔۔
کچن کو دوبارہ تالا لگا دیا گیا تھا ۔۔
اروش “تیمور نے اسے پکارہ
تمھیں میری پرواہ نہیں تھی مجھے لینے آنے کے بجائے تم آرام سے بیٹھے کھانا کھا رہے ہو ” اروش اندر سے بولی ۔۔۔
تیمور شرمندہ سا رہ گیا ۔۔
باباجان نہ روکتے تو اس شخص کے ٹکڑے کردیتا تمھارے سامنے پلیز یار اب نہیں ہو گی ایسی غلطی ۔۔۔ دروازہ کھولو دیکھو میں نے تو ناشتہ بھی نہیں کیا “تیمور نے کہا تو اروش نے دروازہ کھول دیا اور اسکے سینے سے لگ گئ ۔۔
اسنے
تمہیں کچھ کہا ہے ” تیمور نے اسکا چہرہ پکڑ کر سوال کیا اور اروش نے نفی میں گردن ہلا دی ۔۔
اب بس تم کہیں نہیں جاؤ گی ” تیمور بولا تو اروش پھر سے اسکے سینےسے لگ گئ خوف نے اسکی پکڑ تیمور پر سخت تر کر دی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ عشق کی تلاش ہے
ایپیسوڈ نمبر چار
از قلم تانیہ طاہر

وہ حویلی میں داخل ہوا تو ۔۔۔ چاروطرف خاموشی تھی ملازموں نے اسکا خوبصورت چہرہ دیکھا اسپر خوشی کی رمق دیکھی اور دوبارہ اپنے کاموں میں مصروف ہو گئے جبکہ عالم شاہ جانتا تھا وہ جہانزیب شاہ کے کمرے میں ہوں گے سب ۔۔ وہ جلدی جہانزیب شاہ کے کمرے تک پہنچا ۔۔۔۔ تو اندر سے آوازیں آنے لگیں وہ وہیں رک گیا ۔۔۔۔
یہ کس کی اجازت سے بابا کسی بھی غیر کے سر پر آپ نے سرداری سجا دی ۔۔۔”اسفند شاہ کافی غصے میں تھا ۔۔
یہ میرے تیمور کا حق تھا ” وہ ضبط سے بولے ۔۔۔
عالم وہی ہے نہ دادا جان جو ہمارے ملازم کا بیٹا تھا ۔۔۔اور آپ نے دستار اسکے سر بندھوا دی کمال ہی ہو گیا یہ تو “تیمور کی آواز سنائ دی ۔۔۔۔
پلیز تیمور آپ دیکھ رہے ہیں دادا جان اور بابا کی کیا حالت ہے پھر بھی غصہ ہو رہے ہیں ” اروش کی مدھم آواز پر وہ دروازے کی ناب تھام گیا ۔۔ کس قدر سکون میسر آیا تھا اسے اس وقت یہ آواز سن کر ۔۔۔۔
میری جان ۔۔ میں اپنے حق کی بات کر رہا ہوں ” تیمور کی آواز پر اسنے سرخ نظروں سے دروازے کو دیکھا ۔۔۔۔۔۔
دوبارہ اروش کی آواز نہیں آئ ۔۔۔
بابا جان کو ٹھیک کرانے کی کوشش کریں بھائ صاحب آپ ۔۔۔۔
تب ہی ساری سچائیوں پر سے پردے ہٹیں گے ”
کون سی سچائ “اسفند شاہ کا انداز پھاڑ کھانے والا تھا ۔۔۔
ہممم بہت اچھے سے پتہ چل جائے گا آپکو جلد کے عالم شاہ کون ہے ” ممتاز نے طنز کیا ۔۔۔
اچھا چچی تو بتا دیں کون ہے عالم شاہ ہم بھی دیکھ لیں ایک ملازم کے بیٹے کی کیا اوقات ہو گئ ایسی بھی” تیمور کڑوے لہجے میں بولا ۔۔۔۔
جبکہ عالم کو قدموں کی آواز دروازے کے نزدیک آتی سنائ دی ۔۔وہ ایک جست لگا کر ۔۔۔۔ دروازے سے دور ہوا ۔۔ ممتاز نے دروازہ کھولا ۔۔۔اور پھر دروازہ بند کر دیا ۔۔
اسکی اس پراسرارحرکت پر سب چونک سے گئے تھے وہ دوبارہ آ بیٹھی ۔۔۔ جبکہ عالم نے دوبارہ دروازے کی ناپ تھام لی اگر اس عورت نے اپنا منہ کھولا تو واقعی وہ اسے عبرت کا نشان بنا دے گا ۔۔۔۔
مت بتاو ممتاز کچھ ۔۔۔جس نے جاننا ہوگا وہ خود جان لے گا ” سبحان شاہ کی آواز ابھری ۔۔ آخر کب تک ہم یہ سب سہیں گے ۔۔۔ وہ عالم وہ دو ٹکے کا انسان ۔۔۔ اسنے آپکی اور بابا جان کی یہ حالت کی اور دستار کا مالک بن گیا ۔۔ کیوں نہ جانیں سب اسکے بارے میں ۔۔۔۔”
ممتاز کی نفرت سے بھرپور آواز ابھری ۔۔۔
عالم شاہ نے خود کو بمشکل اندر جانے سے روکا تھا ۔۔۔
سبحان شاہ نے بھی اسکے لیے اپنے اندر کے زہر کو واضح کیا تھا ۔۔۔
کون ہے یہ عالم “اروش کی ایک بار پھر آواز ابھری ۔۔۔۔۔
کوئ نہیں اروش تم نے دور رہنا ہے ہر معاملے سے ۔۔ تیمور تم اروش کا ہر قیمت پر خیال رکھنا “۔ سبحان شاہ بولے ۔۔۔ جبکہ اسفند شاہ غصے سے اٹھ کھڑے ہوئے ۔۔
ایک نوکر کے بیٹے سے تم لوگ ڈر رہے ہو کچھ سمھجہ نہیں آ رہی مجھے” وہ غصے سے چلائے تو سب خاموش ہو گئے ۔۔ خود تیمور بھی سمھجہ نہیں پا رہا تھا کہ عالم شاہ جو انکے ملازم کا بیٹا تھا اس سے سب لوگ کیوں خوف زدہ تھے ۔۔۔۔ عالم انھیں قدموں سے پلٹ گیا ۔۔۔۔
وہ اندر نہیں گیا ۔۔ حالانکہ جتنا اروش کو دیکھنے کے لیے عالم بے تاب تھا اتنا تو شاید ہی کوئ انسان کسی کے لیے ہوتا ہو مگروہ خاموشی سے پلٹ آیا ۔۔۔
کیونکہ اب اسکے داماغ نے سارے سیدھے راستوں پرعمل کرنے سے نفی کر دی تھی ۔۔۔۔۔
یہ لوگ اسکی انسانیت کے قابل ہی نہیں تھے ۔۔ وہ چلتا ہوا اپنے پورشن میں آ گیا ۔۔۔ اور وہیں لاونج میں بیٹھ کر سگار پینے لگا ۔۔۔
کچھ توقف سے اسکی کال بجنے لگی ۔۔۔
صیام کا نمبر دیکھ کر کال پیک کر لی ۔۔
ملے ہوجلدی بتاؤ ” اسنے بے تابی سے پوچھا ۔۔۔
نہیں ۔۔۔ “سرد لہجےمیں بولا
کیوں “صیام نے وجہ جاننا چاہی ۔۔۔۔
وہ جانتی ہی نہیں عالم شاہ کے بارے میں ۔۔۔”ٹوٹا ہوا سا لہجہ تھا ۔۔۔
یار تو اسے بتاؤ کہ تم کون ہو ” صیام زرا غصے میں لگا ۔۔۔
ہممم بتانا تو پڑے گا اس سمیت سب کو کہ عالم شاہ کون ہے ” عالم نے دھواں فضا کے سپرد کردیا ۔۔۔۔
تمھیں میری کوئ مدد چاہیے” صیام نے اسکے لہجے کی خوفناکی کو محسوس کیا تھا
۔۔ نہیں “عالم نے ایک لفظی جواب دیا اور ۔۔ فون بند کر دیا ۔۔۔۔
ابھی فون رکھا ہی تھا کہ مکرم بھی اسکے پاس آ گیا ۔۔۔ جس سے اب وہ ہلکی آواز میں باتیں کر رہا تھا ۔۔۔اور مکرم سب سمھجہ کر سر ہلا رہا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلی صبح حویلی میں ۔۔ان لوگوں کے لیے خوبصورت تھی اروش نے بھرپور انگڑائ لی تیمور کی طرف ایک نظر دیکھا اور مسکرا کر کھڑکی پر سے پردہ ہٹا دیا ۔۔۔
اروش “تیمور ناگواری سے چلایا ۔۔ جبکہ اروش نے منہ بنایا اور دوبارہ پردہ ڈال دیا ۔۔۔
اور فریش ہو کر باہر آ گئ ۔۔۔۔
گیلے بال اور سفید لباس ۔۔۔۔ جس کا دوپٹہ بھی اسنے لیا ہوا تھا ۔۔۔
اس وقت ملازموں کے سوا وہاں کوئ نہیں تھا ۔۔ تبھی وہ لون میں آ گئ ۔۔۔۔
یہ صبح اسے لندن میں گزاری ہر صبح سے کہیں زیادہ حسین اور اپنائیت سے بھرپور لگ رہی تھی ۔
میڈیم” پیچھے سے آتی آواز پر وہ چونک کر پلٹی اور مسکرا دی ۔۔۔ کیا آپ کچھ لیں گی”ملازم نے پوچھا ۔۔
ام م م م نہیں ایکچلی میں اتنی صبح ناشتہ نہیں کرتی ۔۔۔” وہ مسکرا کر بولی اور لون میں اتر گئ ملازمہ بھی ایسے پیچھے پیچھے آئ ۔۔
مگر میڈیم ہمیں آرڈرز ہیں کہ آپکو صبح کافی یہ بیڈ ٹی لازمی دی جائے ” ملازمہ بولی تو اروش نے اسکو حیرانگی سے دیکھا ۔۔ مسکراہٹ نے البتہ چہرے کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا ۔۔۔
اور کس نے دیے ہیں آپ کو یہ آرڈرز”وہ بولی ۔۔۔۔
عالم شاہ سائیں نے” ملازمہ کی آواز پر اروش چونک گئ چہرے کی مسکراہٹ غائب ہو گئ ۔۔۔۔اسکے اندر ایک تجسس سا بھر گیا ۔۔ کہ یہ عالم ہے کون جس نے دادا اور بابا کے ساتھ ایسا سلوک کیا اور اسکے ساتھ مہمان نوازی نبھا رہا ہے ۔۔۔
کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے انکو ” اروش نے ملازمہ سے سوال کیا ۔۔۔۔
جبکہ ملازمہ اپنے پیچھے آنے والی ایک چھوٹی لڑکی سے ۔۔ کافی کا کپ لے کر اسکے ہاتھ میں پکڑانے لگی ۔۔ جسے اروش نے تھام لیا ۔۔۔۔
ملازمہ نے سانس بھال کیا ۔۔۔۔
جی بہت بار دیکھا ہے ” ملازمہ نے جواب دیا اور مسکرانے لگی ۔۔۔۔۔
کیا میں نے بھی انھیں دیکھا ہے ” اروش کے سوال پر ملازمہ نے اسکی طرف دیکھا ۔۔
میرا مطلب جب میں یہاں ہوتی تھی تو میں کسی عالم شاہ کے بارے میں نہیں جانتی تھی ۔۔۔ یہاں سب انکے بارے میں جانتے ہیں سوائے میرے”اروش کی افسردگی پر کوئ جی بھر کے راضی ہوا تھا ۔۔جبکہ ملازمہ نے ۔۔۔ سر ہلایا ۔۔۔
کیا آپ جاننا چاہتی ہیں انکے بارے میں ” ملازمہ نے سوال کیا ۔۔۔
ام م م ہاں کیوں کہ میں نے ان سے پوچھنا ہے کہ میرے بابا اور داداجان کا کیا قصور تھا جو انھوں نے ایسا کیا “وہ خفگی سے بولی ۔۔۔۔
آپ اس طرف چلی جائیں وہ عالم شاہ سائیں کا حصہ ہے ۔۔ حویلی کا کوئ ملازم وہاں نہیں جا سکتا اسی لیے میں آپکے ساتھ نہیں جا پاؤں گی۔۔ بس مکرم بھائ وہاں سے یہاں آتے ہیں ۔۔۔۔
حویلی کے پیچھے” اروش منہ میں بڑبڑائ ۔۔۔ اور ملازمہ کے ہاتھ میں کافی کا کپ دینے لگی ۔۔
سچ بتاؤ میں یہ کڑوی چیز نہیں پیتی ۔۔ تیمور اٹھیں گے انکے ساتھ ناشتہ کر لوں گی ”
مگر میڈیم شاہ سائیں کے آرڈرز کے خلاف گئے تو ۔۔ جی ہمیں نقصان ہو گا “ملازمہ نے بے چارگی سے کہا ۔۔
ارے بھئ جب نہیں پینی تو نہیں پینی”وہ چیڑ کر بولی ۔۔۔
معافی چاہتی ہوں میڈیم ۔۔۔
جاگنگ ٹریک سوٹ میں ۔۔۔ کانوں میں ائیر پورٹس لگائے ۔۔۔
وہ اونچا لمبا مرد ۔۔۔۔جو کے حسین چہرے پر ۔۔ پسینے کی معمولی سی بوندیں تھیں ہاتھ میں پانی کی بوتل تھی ۔ سانسیں اکھڑی ہوئ سی تھیں ۔۔۔۔
وہ ۔۔۔ گھبرا کر اسکو دیکھنے لگی ۔۔ بڑی بڑی آنکھوں میں آج پورا عالم شاہ اتر چکا تھا ۔۔۔
عالم خاموشی سے ۔۔۔ اسے دیکھ رہا تھا ۔۔ سفید لباس میں سفید میمنا گود میں اٹھائے وہ خوف زدہ سی لگی ۔۔۔
عالم ” اسکے منہ سے بس اتنا ہی نکلا ۔۔ اروش نے جیسے ایک بار پھراسے چونک کر دیکھا گویا تصدیق کرنی چاہی کہ وہ واقعی عالم ہے ۔۔ اسنے حلق میں تھوک نگلا اور اچانک میمنا اسکے ہاتھ سے چھٹا اور عالم کے قدموں سے لپٹ گیا ۔۔۔۔
مگر عالم نے نوٹس نہیں لیا ۔۔
اروش نے ۔۔۔۔ مرجھائے ہوئے چہرے سے یہ منظر دیکھا ۔۔۔
عالم نے جھک کر وہی بکری کا بچہ اٹھایا ۔۔۔ اور دوبارہ ۔۔اروش کو تھما دیا ۔۔۔
اروش اب بھی حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
نہیں یہ آپکا ہے “اسنے اس میمنے کو اتارنا چاہا ۔۔۔ عالم کی شخصیت سے وہ کنفیوز لگ رہی تھی ۔۔
یہ تمھارے پاس سے اب کبھی کہیں نہیں جائے گا ” عالم نے اپنی بات پر زور دیا ۔۔۔۔
مگر”اروش نہیں چاہتی تھی عالم نے اسکی طرف نگاہ اٹھائ اور اروش نے اس بکری کے بچے کو ۔۔ اپنے نزدیک کر لیا ۔۔۔
کافی نہیں پی “وہ اس سے ایسے بات کر رہا تھا جیسے برسوں سے جانتا ہو ۔۔ اروش نے گھاس پر کافی کا مگ دیکھا ۔۔۔

میں ۔۔۔میں تیمور کے ساتھ ناشتہ کروں گی ” وہ سرجھکائے بولی ۔۔۔ گویا پہلی ملاقات میں ہی وہ اس سے سہمی ہوئی لگ رہی تھی ۔۔
عالم نے اپنے غصے پرکنٹرول کرتے ہوئے اپنی جیکٹ کی زیپ کھول دی ۔۔
اروش نے حونک نظروں سے اسکو دیکھا ۔۔
اگراسکو ناشتہ ملے ہی نہ تو “عالم نے شانے آچکا کر کہا اور اپنی بیلڈنگ میں جانے لگا ۔۔۔۔۔

اروش اب بھی وہیں کھڑی تھی ۔۔
آجاؤ ” اسنے اسے اندر آنے کو کھا ۔۔

نہیں ” اروش نے صاف انکار کیا اور وہ بکری کا بچہ وہیں چھوڑ کروہ وہاں سے بھاگ اٹھی ۔۔ عالم نے اسکو بھاگتے ہوئے دیکھا ۔۔۔ اور مسکرا دیا ۔۔۔۔

مکرم سائیں ۔۔۔ حویلی والوں کو تب تک کچھ کھانے کو مت دینا جب تک اروش سائیں ۔۔ ہمارے ساتھ ناشتہ کرنے نہ آئیں اور سیدھے لفظوں میں یہ پیغام پہنچا دینا “اسنے تولیہ لے کر گردن صاف کی اور مکرم کو دیکھا جس نے سر ہلایا

۔۔۔اور اسکی حکم کی تعمیل کے لیے نکل اٹھا ۔۔۔
جبکہ عالم شاور لینے اپنے روم میں آ گیا ۔۔۔۔

اسکا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا ڈر بھی لگ رہا تھا ۔۔ وہ مرد خوبصورت تھا بے حد ۔۔۔ مگر ۔۔۔ اس سے عجیبخوف بھی آ رہا تھا ۔۔۔
وہ اندر آئ تو ممتاز آٹھ چکی تھی کچن کے باہر کھڑی تھی۔۔۔۔
جبکہ کچن کا دروازہ بند تھا ۔

کیا ہوا مما” اروش نے ان سے پوچھا ۔۔۔ نہ جانے بیٹا اب اس عالم نے ہمیں زیچ کرنے کے لیے نیا کون سا کھیل کھیلا ہے ۔۔۔۔ کچن ہی بند کرا دیا ۔۔” ممتاز نے سرد آہ بھری اور صوفے پر بیٹھ گئ ۔۔

مما وہ ایسے کیوں کر رہے ہیں”اروش نے الجھ کر سوال کیا ممتاز نے دیکھا اور دل میں آیا سب بتا دے صرف تمھاری وجہ سے۔۔ اگر اسے تمھیں دے دیا جائے تو وہ شانت ہو جائے گا ۔۔۔۔

مگر وہ بتا نہیں سکیں ۔۔
اروش” تیمور کی آواز پر وہ پلٹی
اور روم میں بھاگی ۔۔۔
سب اٹھ گئے تھے رفتہ رفتہ مگر کچن نہیں کھولا تھا ۔۔
داداجان کی دوائیوں کا وقت ہو گیا تھا ۔۔۔
مگر کچن کے دروازے ہرممکن کوشش کے بعد بھی نہیں کھل رہے تھے ۔۔

چاہتا کیا ہے وہ ” اسفند شاہ نے ۔۔۔ بھڑک کر پوچھا ۔۔۔۔
اروش اسکے ساتھ ناشتہ کرے گی تو۔۔۔ ہمیں کچھ کھانا نصیب ہو گا “ممتاز نے مکرم کا دیا پیغام پہنچایا ۔۔۔ تیمور اور اروش دونوں ہی وہاں موجود نہیں تھے ۔
یہ کیا حرکت ہے منہ توڑ دوں گا میں اس عالم شاہ کا میں دیکھتا ہوں زرا ”
اسفند شاہ بھڑک کر جانے لگے مگر ممتاز کی بات پر روک گئے ۔۔
بھائ جان عالم کے پورشن میں کوئ نہیں جا سکتا ۔۔۔۔

وہ خود گولیوں سے بھون دے گا آپکو کوئ بھی پیغام دینا ہے مکرم کو دیں” ممتاز نے اسکو آگاہ کیا ۔۔اسفند شاہ ۔۔۔ حیران رہ گئے اور باہر نکلے مکرم خاموشی سے کھڑا تھا ۔۔

کون ہے عالم شاہ “اسفند شاہ نے سختی سے پوچھا ۔۔۔۔
وہی جس نے آپ لوگوں کا کھانا پینا بند کر دیا ہے ۔۔۔ اروش بی بی وہاں چلی جائیں تو ۔۔ کچن کھل جائے گا “مکرم نے کہا اور اس سے پہلے ۔۔۔ اسفند شاہ بھڑک کر مکرم کے تھپڑ رکھتے ۔۔۔ مکرم نے انکے ہاتھ پر بندوق ماری کے وہ بلبلا ہی گئے انکی بوڑھی ہڈیوں میں مکرم سے لڑنے کی ہمت نہیں تھی کیونکہ مکرم ایک جوان لڑکا تھا ۔۔۔

مکرم نے گھور کراسکو دیکھا اور اسفند شاہ اندر چلے گئے ۔۔۔
بھوک لگ رہی ہے مجھے” تیمور نے غصے سے کہا ۔۔ ممتاز بیگم اسے بتا چکیں تھیں ۔۔
میں دیکھتا ہوں اس عالم شاہ کو ” وہ اروش کے متعلق جان کر آپے سے باہر ہونے لگا ۔۔ کہ اسفند شاہ نے اسے روک دیا ۔۔
نہیں تم کہیں نہیں جاؤ گے ۔۔ وہاج اور سارہ بھی اٹھ گئے تھے ۔۔سب ناشتے کے منتظر تھے ۔۔۔

باباجانے دیں مجھے ۔۔۔” تیمور بھڑک کر بولا ۔۔۔
میں نے کہا نہ کوئ نہیں جائے گا ۔۔۔ اروش کو جانے دو ” اسفند شاہ کی بات پراروش نے تیمور کو اور تیمور نے باپ کو دیکھا ۔۔

بابا بیوی ہے وہ میری اور کوئ بھی مرد اسے بولا لے میں بھیج دوں پاگل ہوں میں” تیمور تلملایا تو اروش کو تیمور کی لندن والی بات یاد آ گئ ۔۔ کہ وہ چاہے تو کچھ بھی کرے ۔۔۔

مگر شاید پاکستان میں اسکے خیالات مختلف تھے ۔۔۔۔
بیٹے اس وقت جو ہو کہہ رہا ہے کرنے دو ۔۔۔ اس بات کا حل ہم نکالیں گے “اسفند شاہ نے تیمور کو سمجھایا اور اروش کو بھیجنے کا فیصلہ ہو گیا ۔۔۔۔

مجھے ڈر لگ رہا ہے مما “اروش کی آنکھیں بھیگ گئیں ۔۔۔۔۔
جبکہ تیمور کا ہاتھ اسنے سختی سے جکڑا ہوا تھا ۔۔
وہ تمھیں کچھ نہیں کہے گا ” ممتاز نے تسلی دی۔۔۔

تیمور” اروش نے اور بھی اختیار سے اسکا ہاتھ پکڑ لیا تیمور کچھ نہیں بولا ۔۔یارجاؤ بھی ۔۔ کیا ہمیں کھانا نصیب ہو گا یہاں “وہاج بولا تو اسفند شاہ نے اروش کو ۔۔۔ وہاں سے باہر جانے کا کہا ۔۔تیمور بھڑک کراپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔ اروش نے اسکو حیرانگی سے دیکھا وہ کیسے مان گیا تھا کسی بھی مرد کے پاس

اپنی بیوی بھیجنے پر ۔۔۔۔اروش سہمی ہوئی وہاں سے باہر نکل گئ ۔مکرم نے اسکو دیکھ کر مؤدب ہو کر اسکے لیے راستہ چھوڑا ۔۔۔

اور اروش حویلی کے پیچھلی طرف آ گئ ۔۔۔ پاؤں بے دم سے ہو رہے تھے خوف

الگ آ رہا تھا ۔۔مکرم نے ان سب کو دیکھا اور ۔۔ نوکروں کو آرڈر دیا کے کچن کے دروازے کھول دو ۔۔۔ اور گویا سب نےسانس لیا ۔۔ بھوک سے حالت غیر ہو رہی تھی ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عالم شاہ ٹیبل پر بیٹھا سفید لباس لٹھے کے سوٹ میں اسکا منتظر تھا اروش وہاں آئ تو عالم نےاسکی جانب دیکھا ۔۔۔
آو”اسنے اپنی ساتھ والی چئیر کیطرف اشارہ کیا ۔۔
لبوں پر جان لیوا مسکان تھی ۔۔۔
اروش نے نفی میں سر ہلایا وہ بچوسچ بتاؤ توپکڑ تیمور پر سخت تر کر دی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Read online urdu novels, Revenge based novel, Tania Tahir Novels, romantic story , Revenge novel , at this website Novelsnagri.com for more Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit website and give your reviews. you can also visit our facebook page for more content Novelsnagri ebook

Leave a Comment

Your email address will not be published.