Tania Tahir Novels 2022

Revenge based novel, یہ عشق کی تلاش ہے Epi #3 Tania Tahir Novels

Here you find all types of interesting New Urdu Novel, Revenge based novel, Tania Tahir Novels , all category to forced marriage, childhood marriage, politics based, cousin based and funny novels multiple categories & complete PDF novels Here…

Revenge based novel, Tania Tahir Novels
Revenge based novel,یہ عشق کی تلاش ہے Epi #3 Tania Tahir Novels

Revenge based novel, Tania Tahir Novels

یہ عشق کی تلاش ہے

ایپسوڈ نمبر 3#

دو دن گزر گئے تھے حویلی میں خوشی کا عالم تھا اور یہ سب عالم شاہ کی بدولت تھا وہ اپنے پورشن میں خوش خرم تھا ۔۔۔۔ اور انتظار تھا تو اسکا جس کے لیے اسکی سانسیں بھی طلب گار تھیں ۔۔۔

سبحان شاہ کا بہت برا ایکسیڈنٹ ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ اب چلنے کے قابل نہیں رہے تھے اوپر تلے ہونے والے حادثات کی وجہ سے ۔۔۔۔

پنچائیت بیٹھی گی جو کے حویلی کے اندر ہی تھی ۔۔ جس میں جہانزیب شاہ اور ویل چئیر میں سبحان شاہ تھے ۔۔ جبکہ ممتاز کے منہ میں تو ایلفی گھل گئ تھی ایک لفظ بھی وہ نہیں بولتی تھی اور یہ سب مناظر دیکھ کر بڑے بزرگوں نے سرداری عالم شاہ کے سرکر دی ۔۔ کیونکہ ۔۔۔ وہ ہی اگلی پیٹی میں پہلا قدم رکھ رہا تھا ۔۔ عالم شاہ کے پلین کے مطابق سب ٹھیک ہو رہا تھا اس وقت اگر نہ بھی ہوتا تو وہ خود اپنی مرضی سے ہر چیز موڑنے کی صلاحیت رکھتا تھا ۔۔۔

اور جب فیصلہ ہو گیا ۔۔ تو جہانزیب شاہ جو روکنا چاہتے تھے انکار کرنا چاہتے تھے ۔۔ چپ چاپ رونے لگے ۔۔عالم نے انکی جانب دیکھا ۔۔۔ اور مسکرا دیا ۔۔

اسکے سر پر دستار انھیں کہاں اچھی لگتی ۔۔۔



سبحان شاہ بھی خاموشی سے اسے دیکھ رہے تھے

حالانکہ آپ لوگوں کو خوش ہونا چاہیے مگر افسوس کے آپ لوگوں کے منہ لٹک گئے ۔۔ وہ کہتے ہیں نہ کم سوچنا چاہیے ۔۔۔ نہ جانے آنے والے وقت آپکو ۔۔ مفلوج اپائج ہی نہ کر دیں” اسنے مسکرا کر طنزیہ نظر سب پر ڈالی ۔۔۔ اور سر جھٹک کر ان سب کو یوں ہی خاموش چھوڑ کر وہ باہر نکل آیا ۔۔ اب انتظار تھا تو عروش کا وہ واپس آتی اوراسکی ہو جاتی ۔۔۔۔

ایک ایک دن اسنے گن گن کر گزارا مگر عروش ہفتہ گزر جانے کے بعد بھی واپس نہیں لوٹی ۔۔۔۔

اسنے طیش میں آ کر سیگار لبوں میں دبائے اور ۔۔۔ جہانزیب شاہ کے پاس آ گیا ۔۔۔

راستے میں ممتاز نے بھیا کو دیکھا تھا جبکہ سبحان شاہ نے بھی وہ رات کا کھانا کھا رہے تھے ۔۔۔۔

عالم نے ان دونوں پر توجہ نہیں دی ۔۔ جوتے سے دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا جہانزیب شاہ بستر پر پڑے تھے ۔۔۔۔

اسکی جانب دیکھ کر ۔۔۔۔ مسکرانے لگے ۔۔ گو کہ مسکراہٹ کافی عجیب لگ رہی تھی مگر یہ تو عالم شاہ ہی جانتا تھا کہ انکا دل عروش کے نہ آنے پر کتنا بے چین ہے ۔۔اور عالم جیسے پاگل سا ہونے لگا وہ ایک لمہے میں انکے نزدیک پہنچا اور انکی گردن جکڑ کر انکو اٹھا لیا ۔۔

وہ پھڑپھڑا کر رہ گئے ۔۔۔۔

میں نے کہا تھا کہ آگ لگا دوں گا ۔۔۔ ہر چیز میں آگ لگا دوں گا اگر وہ نہ آئ ۔۔۔” عالم غرایا ۔۔۔۔ اس کی اونچی آواز سن کر ممتاز بھاگتی ہوئی ۔۔۔۔ آئیں جبکہ ملازم سبحان شاہ کو بھی وہاں لے آئے ۔۔ جہانزیب شاہ کی حالت دیکھ کر ۔۔ ممتازبھاگ کر عالم تک پہنچی ۔۔۔

عالم چھوڑیں بابا کو کچھ ہو جائے گا ” وہ رونے لگیں ۔۔

ہٹ” وہ چلایا ۔۔۔۔۔ آنکھیں نکال کر اسنے جہانزیب شاہ کو کسی فالتو سامان کیطرح بستر پر پھینک دیا

مجھے عروش چاہیے” وہ دھاڑا ۔۔۔۔۔

جبکہ سبحان شاہ ہنسنے لگے ۔۔۔۔

کتنا اچھا ہو کہ وہ کبھی واپس نہ آئے ۔۔۔۔” جلتی پر تیل کا کام کر گئ تھی یہ بات ۔۔۔۔ عالم پل میں ان تک پہنچا اور کھینچ کر لات اسکی ویل چئیر پر ماری جس سے سبحان شاہ الٹ کر دور جا گیرے ۔۔۔ تکلیف سے کراہنے لگے ۔۔

ممتاز کے تو اوسان خطا ہو گئے عالم اس سے پہلے انکو مار مار کر انکا دلیہ بناتا ۔۔ ممتاز نے اسکے آگے ہاتھ جوڑ دیے

میں میں بلاؤ گی عروش کو تم ایسا مت کرو ” وہ عالم سے بولی ۔۔۔ عالم جو طوفان کیطرح ان تینوں پر برس پڑتا ایکدم رک کر ممتاز کو دیکھنے لگا ۔۔

اٹھاو فون ۔۔۔ اور اگر وہ کل رات تک یہاں نہ آئ ۔۔۔ تو ۔۔۔۔ میں تم تینوں کو جلا کر راکھ کر دوں گا اور اسکے بعد بھی ۔۔

عروش شاہ صرف عالم شاہ کی ہو گی ۔۔۔۔ یہ یاد رکھنا ۔۔” وہ وارن کرتا۔۔۔ دندناتا ہوا وہاں سے ۔۔ چلا گیا ۔۔ جبکہ پیچھے سے ممتازبیگم نے سبحان شاہ کو سیدھا کیا اور جہانزیب شاہ کو بھی ۔۔۔۔ وہ ان دونوں کی حالت دیکھ کر رونے لگی ۔۔

کاش بابا آپ اتنی نفرت عالم سے نہ کرتے کاش اس کے اندر اتنی نفرت نہ ڈالتے ۔۔یہ پھراسکو اسکی ماں کے ساتھ ہی مار دیتے” وہ چلائ ۔۔اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔ جہانزیب شاہ کی بھی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔۔۔ جبکہ سبحان شاہ ۔۔۔ تکلیف سے کراہ رہے تھے ۔۔۔۔

اسی دوران ملازم دوڑ کر ان تک آیا اور ممتاز کے آگے ۔۔سیل فون کر دیا ۔۔۔

شاہ صاحب کا حکم ہے کہ ابھی عروش بی بی کو کال کی جائے ” مکرم بولا ۔۔۔۔

ممتاز نے ڈر کر اسکو دیکھا کہیں وہ انہی باتیں سن کر عالم کو نہ بتا دے اسنے خاموشی سے موبائل تھامنے میں ہی عافیت جانی اور موبائل پر عروش کا نمبر ڈائل کرنے لگی ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

تیمور یہاں آ کر میں نوٹ کر رہی ہوں ۔۔۔ تم کچھ زیادہ ہی دوسری لڑکیوں سے فری ہو رہے ہو ” عروش نے خفگی سے اسکی طرف دیکھا وہ دونوں ایک پارٹی سے لوٹے تھے جہاں تیمور نے اسے ایک منٹ کے لیے بھی لفٹ نہیں کرائی تھی ۔۔۔ اور وہ ساری پارٹی میں یوں ہی بیٹھ کر واپس لوٹی تھی ۔۔۔

عروش کم اون اب تم اتنی بیک ورڈ بنوگی تو ۔۔۔ کام کیسے چلے گا ۔۔۔۔ تم جانتی ہو ۔۔ بابا اپنا بیزنیس پھیلانا چاہ رہے ہیں اور میں جن سے بات کر رہا تھا کام کا ہی موضوع تھا “

رئیلی انکے ساتھ ڈرنک کرنا انکی بانہوں میں بانہیں ڈالنا انکے گال پرکس کرنا ۔ ۔۔ رئیلی تیمور یہ سب تمھارے کام کا حصہ ہے “عروش نے پہلی بار کسی سے بحث کی تھی ۔۔۔ اور بحث کے دوران ہی اسکی آنکھیں بھیگ گئیں ۔۔

اچھی بھلی لائف گزر رہی تھی جب سے اسفند شاہ نے یہ کہا تھا کہ ۔۔۔ وہ اپنا بیزنیس بڑھانا چاہتے ہیں اور اسکے لیے ۔۔۔ انھیں ۔۔۔ پارٹیز میں آنا جانا ہو گا اورعروش یہاں رہتے اپنی پڑھائی پوری کر لے کیونکہ وہ ابھی صرف بیس سال کی تھی اور گریجویشن کی سٹوڈنٹ تھی۔۔۔

اور اسکے پاس تجربہ نہیں تھا تبھی وہ بیزنیس میں انٹرفائیر نہیں کر رہی تھی مگر تیمور کے ساتھ ہر جگہ۔۔۔۔موجود ہوتی تھی مگر ہر گزرتے دن کے ساتھ۔۔۔ تیمور کا رویہ ۔۔۔ بدل رہا تھا ۔۔۔۔

عروش آئ رئیلی رئیلی لو یو ۔۔۔۔ دیکھو ۔۔۔ میں تم سے تب سے پیار کرتا ہوں جب تم بلکل اتنی سی تھی” اسنے مسکرا کر ۔۔۔ اسکے بال سنوارے ۔۔ عروش اسکی جانب دیکھنے لگی ۔۔۔

تو بتاؤ بھلا تمھارے علاؤہ کیا مجھے ۔۔ کوئ اور پسند آئے گا ۔۔۔۔

اور ۔۔ یہ لندن ہے ۔۔۔ یہاں یہ باتیں عام ہیں جنھیں تم پکڑ رہی ہو ۔۔”

اگر میں نے یہ سب کیا تو ” عروش نے اسکی شرٹ کے بٹن سے کھیلتے ہوئے سوال کیا ۔۔

نو پروبلم میں بلکل دقیہ نوس نہیں ہوں کے تم پر بےجا پابندیاں لگاؤ ۔۔۔ ” وہ اسکے ماتھے پر پیار کرتا بولا ۔۔۔

عروش نے ایک پل کو اسکی جانب دیکھا اور پھر مسکرا کر سر ہلا دیا تھا ۔۔

یہ تو طے تھا وہ ۔۔ اسی سے محبت کرتا تھا ۔۔۔۔

وہ ریلکس ہوئ ۔۔

چلوجاؤ ڈریس چینج کر کے آو مجھ میں وٹامن عروش کی کمی ہو رہی ہے ” وہ شرارت کرتا بولا ۔۔۔

جبکہ وہ شرما سی گئ ۔۔۔

اس سے پہلے وہ اٹھتی سیل فون بجنے لگا ۔۔ اسنےسیل فون پیک کیا ۔۔۔

تیمور اسی کی جانب دیکھ رہا تھا ۔۔۔

مما کی کال ہے” وہ ایکسائٹیڈ ہوگی ۔۔۔۔

اور کال پیک کی ۔۔۔۔ ویڈیو کال تھی کال پیک ہوتے ہی۔۔۔۔

ممتاز بیگم کی رونے کی آواز پر وہ دونوں متوجہ ہوئے تیمور نے اچک کر اس کے ہاتھوں سے سیل فون لیا ۔۔

چچی کیوں رو رہی ہیں آپ “وہ سنجیدگی سے بولا ۔۔۔

جبکہ ممتاز اور رونے لگی اگر وہاں مکرم نہ کھڑا ہوتا تو ۔۔۔ شاید وہ اسے کہتی تم کبھی مت لوٹنا عروش ۔۔۔۔

مگر مکرم کھڑا تھا سبحان شاہ ممتاز یہ جہانزیب شاہ کچھ نہیں بول پائے ۔۔

واپس آ جاؤ ۔۔ تیمور بیٹا یہاں سب تباہ ہو گیا ہے ” وہ رونے لگیں ۔۔

کیا ہو ہے مما “عروش کو تو شاید رونے کا بھانا چاہیے تھا وہ ماں کو روتا دیکھ کر رونے لگی ۔۔۔

 شیٹ آپ عروش ” تیمور نے جھاڑ دیا ۔۔۔۔

تو اسنے اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے ۔۔۔ آنسو صاف کر دیے ۔۔۔

بتائیں چچی ہوا کیا ہے” تیمور بولا ۔۔۔

جبکہ ممتاز نے جہانزیب شاہ کیظرف کیمرہ کر دیا ۔۔۔ تیمور کو حیرت کا جھٹکا لگا جبکہ عروش تو مزید رونے لگی ۔۔

داداجان” وہ حونک تھا ۔۔۔

انکی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے تیمور بے چین ہو گیا تھا ۔۔۔

کیا ہوا ہے آپکو بتائیں مجھے یہ کیسے ہوا ۔۔۔”تیمور چلایا ۔۔

جبکہ دوسری طرف ممتاز نے فون سبحان شاہ کیطرف کر دیا ۔۔۔

جن کو وئیل چئیر پر دیکھ کرعروش کی چیخ نکل گئ ۔۔

بابا ۔۔۔ بابا” وہ چلانے لگی ۔۔۔

واپس آجاؤ عروش “بالآخر ممتاز نے کہا ۔۔ دوسری طرف عالم نے سنا تھا ۔۔۔۔

مکرم وہیں کھڑا تھا وہ فون پر سب سن رہا تھا ۔۔۔۔

مما میں واپس آ رہی ہوں مما بابا کو کیا ہوا ہے کیسے ہوا یہ سب “عروش پوچھنے لگی ۔۔ عالم شاہ کو اسکی آواز ۔۔۔۔ بے حد قیمتی لگی تھی ۔۔۔

میں بابا سے بات کرتا ہوں ” تیمور نے کہا اور فون بند کرنے لگا ۔۔۔

تیمور تم بھی آنا ۔” ممتاز نے ہمت کر کے کہہ ہی دیا ۔۔ مکرم نے ۔۔۔ چونک کر اسکو دیکھا عالم شاہ نے مٹھیاں بھینچ لیں ۔۔۔

افکورس چچی میں آو گا بلکہ ہم سب ” اسنے کہا اور کال ڈسکنیکٹ کر دی ۔۔۔۔

مکرم سائیں”کال بند ہوتے ہی عالم کی آواز ابھری

جی سائیں حکم”

اس بڑھیا کی زبان تو کاٹ کر لے آؤ “”وہ بڑے پیار سے بولا ۔۔۔

ممتاز کے رنگ اڑ گئے ۔۔

حکم سائیں” مکرم نے کہا اور پیچھے سے چاقو نکالا لیا ۔۔

معاف کر دو معاف کر دو ہمیں “سبحان شاہ گڑگڑانے لگا ۔۔ جبکہ عالم کچھ نہیں بولا روتی ہوئی ممتاز کو اس سے پہلے مکرم جکڑ کر اسکی زبان نکالتا

۔۔ عالم بول اٹھا

 روکو ” مکرم رک گیا ۔۔۔۔

ہاتھ کاٹ دو ” وہ بولا جیسے محظوظ ہو رہا ہو ۔۔

مکرم نے ممتاز کے ہاتھ پکڑے ۔۔۔ اور چاقو اسکی کلائی پر رکھا ۔۔۔۔

عالم معاف کر دو ۔۔۔ میں منا کر دوگی” ممتاز چلائ ۔۔۔

نہیں ویسے تم نےاچھا کیا آنے دوسب کو ” عالم مسکرا دیا ۔۔

چھوڑ دو مکرم اور واپس آجاؤ مگر سمشں کو حکم دے دو ان تینوں پر خاص نظر رکھیں ” اسنے کہا اور فون بند کر کے دوسری طرف اچھال دیا ۔۔۔

سگار منہ میں دباکر وہ ۔۔۔ سگار پینے لگا۔۔۔۔ ۔۔۔

 

بابا داداجان کو فالج ہو گیا ہے آپکو پتہ چلا ‘ تیمور بولا ۔۔۔ اسفند شاہ نے سر ہلایا ۔۔وہاج اور سارہ کے ساتھ بیٹھے وہ رات کا کھانا کھا رہے تھے ۔۔۔

یار آپکو پتہ تھا آپ نے بتایا نہیں ” تیمور غصہ ہوا عروش کی تصویر آنکھیں سرخ ہو گئیں تھیں

میں تم سے بات کرنا چاہ رہا تھا مگر تم دونوں گھر نہیں تھے ” اسنے کہا تیمور نے سر پکڑ لیا ۔۔۔

ہم واپس جا رہے ہیں” تیمور بولا ۔۔۔

اسفند شاہ نے سر ہلایا ۔۔

اوہ پلیز میں کہیں نہیں جاؤ گا “وہاج نے سر جھٹکا ۔۔۔

ہم سب جائیں گے” اسفند غصے سے بولے

۔۔ڈیڈ میں اور موم یہی رہیں گے “سارہ نے بھی کہا ۔۔۔۔

جبکہ انھوں نے سارہ کو گھور کر دیکھا ۔۔۔

جو میں نے کہہ دیا سو کہہ دیا ۔۔ سب پیکینگ کر لو اپنی ” وہ اٹھے

تیمور مجھے تم سے بات کرنی ہے ” عروش کو نظر انداز کر کے وہ بولے تو تیمور سر ہلا کر انکے پاس چلا گیا جبکہ باقی کسی نے بھی عروش کو چپ نہیں کرایا وہ

خود ہی وہاں سے اپنے روم میں آ گئ ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

تم جانتے ہو واپس جانے کا فیصلہ کیوں کیا میں نے”اسفند شاہ نے اسکی طرف دیکھا ۔۔

کیوں ” تیمور بولا ۔۔۔۔

اب پگڑی تمھارے سر سجے کی بیٹے ۔۔۔۔ اور بابا کی جگہ تم لو گے “

وہ مسکرا کر اسکا شانہ تھپتھپانے لگے ۔۔

تیمور جو چند لمہے پہلے افسوس میں تھا کہ اسکے داداجان کو کیا ہو گیا ایکدم جیسے ۔۔ اسکے دماغ میں بھی یہ بات آ سمائ ۔۔۔اور وہ مسکرا دیا ۔۔۔۔

چچا جان کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے ۔۔ ٹانگوں سے رہ گئے ہیں “وہ بولا تو اسفند شاہ نے اسکی طرف دیکھا ۔۔ کچھ پل دیکھتے رہے اور پھر ہنس دیے ۔۔

چلو جو بھی ہوا ہمارے حق میں اچھا ہو ا” اسنے کہا ۔۔۔ اور پھر دونوں تادیر باتیں کرتے رہے ۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 اماں یہ کھانا ” حمائل نے انکے آگے کھانا رکھا ۔۔۔

حمائل تمھاری طبعیت ٹھیک ہے ۔۔ “انھوں نے اسکا مرجھایا ہوا چہرہ دیکھا ۔۔۔

جی اماں ” وہ مسکرائ مگر چہرے نے ساتھ نہیں دیا ۔۔۔۔

پھر ایسی مرجھائے مرجھائے سی کیوں ہو رہی ہو ” وہ جیسے باضد ہو گئیں ۔۔۔

اماں چند دنوں سے سانس لینے میں دقت ہو رہی ہے ۔۔۔۔ ” وہ بتانے لگی ۔۔۔ جبکہ انکے بیٹے کے کام چھپا گئ ۔۔۔ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ انکی محبت میں انکے بیٹے کے لیے کمی آئے ۔۔۔

 ارے جھلی تو بتایا کیوں نہیں صیام کو بتاتی ۔۔وہ تمھیں ڈاکٹر کے پاس لے جاتا ۔۔ دہی رانی ۔۔۔ خراب طبعیت سے یوں ہی پھیر رہی ہے ” انھوں نے اسکو ڈپٹا ۔۔۔ تو وہ خاموش ہو گئ ۔۔۔۔

چل صیام کو بلا لا یہ اکبری سے کہہ وہ بلا لائے گی ۔۔۔۔

وہ بولیں ۔۔۔ تو اسنے اکبری سے کہہ دیا جو وہیں کھڑی تھی ۔۔۔

جو جانتی تھی کہ کس وجہ سے سانس لینے میں دقت ہے ۔۔ اکبری سر ہلا کر صیام کے پورشن کیطرف آ گئ ۔۔۔۔

جو کہ کافی بڑا تھا اور بہت خوبصورت اور جدید تھا یہاں سب آ سکتے تھے سوائے حمائل کے جب کبھی وہ غلطی سے یہاں قدم رکھ لیتی تو ۔۔ صیام بنا لحاظ کے اسکے منہ پر تھپڑ مار دیتا ۔۔۔

اکبری نے وہاں موجود ملازموں کو پیغام دیا

اور انھوں نے اندر صیام کو پیغام دیا ۔۔۔۔

جو کہ آرام سے مووی دیکھنے میں مصروف تھا ۔۔۔۔

اماں کا پیغام سن کر وہ ایکدم اٹھا ۔۔۔

اور جمپ لگا کر وہ وہاں سے دوڑتا ہوا اماں کے پورشن میں آ گیا ۔۔۔

اور جیسے ہی وہ اندر آیا ۔۔۔

حمائل کو انکے پاس کھڑا دیکھ کر وہ گھیرہ سانس کھینچ گیا اسکی تیکھی ناک کے بلوں میں ناگوری محسوس ہو رہی تھی ۔۔

جی اماں سائیں حکم کریں ” وہ انکے ہاتھ پکڑ کر بیٹھ گیا ۔۔

جگ جگ جی میرا لالا ” پہلے تو انھوں نے اسے پیار کیا ۔۔۔اور صیام مسکرا دیا ۔۔۔

اور حمائل کیطرف دیکھا ۔۔۔

صیام نے بھی اسکی طرف دیکھا جو نیلے رنگ کے پھول دار لباس میں سفید چمکتی ہوئی رنگت اور جھکی آنکھیں لیے کھڑی تھی جبکہ سر پر دوپٹہ تھا ۔۔۔۔

میرا بچہ خود بھی خیال رکھتے ہیں ۔۔۔ بھلے ابھی رخصتی نہیں ہوئ مگر بیوی ہے تیری دیکھ تجھے پتہ ہے اسے کیا مرض ہے اب سانس چڑھے ہوئے ہیں چہرہ بھی مرجھا گیا بچی کا جا اسے ڈاکٹر پر لے جا “انھوں نے کہا تو صیام نے پھر سے حمائل کیطرف دیکھا ۔۔۔

جی ٹھیک ہے ” اور انکے سامنے تو وہ اسی طرح حکم مانتا تھا ۔۔۔

اماں خوش ہوئیں ۔۔۔

جا حمائل چادر اوڑھ آ لے جائے گا تجھے اور اکبری تو بھی ساتھ جانا ” وہ بولیں تو اکبری نے سر ہلایا ۔۔

حمائل وہاں سے باہر نکلی جبکہ صیام ۔۔۔انکے پاس بیٹھا رہا ۔۔۔

میرا بچہ کام شام تو ٹھیک جا رہا ہے” وہ مسکرا کر اسکے خوبصورت چہرے کو دیکھتیں بولیں ۔۔۔

جی اماں آپکی دعائیں ہیں “صیام نے انکے ہاتھ چوم لیے ۔۔۔

وہ تو اسکو دیکھ دیکھ کر واری صدقے ہوئے جا رہی تھیں ۔۔۔۔

کچھ دیر تک وہ انکے پاس بیٹھ کر وہ باتیں کرتا رہا ۔۔۔

تھوڑی دیر میں حمائل اور اکبری چادر لے کر آ گئیں ۔۔۔

ٹھیک ہے اللہ کے امان میں ۔۔ جاؤ دونوں ” وہ بولیں تو صیام اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔ اکبری صیام کے پیچھے تھی جبکہ حمائل اکبری کے پیچھے ۔۔۔

صیام ان کے پورشن سے نکلا اور اپنے پورشن میں جانے لگا

۔۔

اکبری باہر ہی رک گئ ۔۔

وہ آگے جا کر تھوڑی دیر کے لیے رکا ۔۔

کیا ہوا اکبری ۔۔اسکا علاج تو یہیں ہو گا تم نے آنا نہیں ساتھ”صیام کڑوے لہجے میں بولا ۔۔ تو اکبری سٹپٹا گئ ۔۔

خان جی معافی چاہتی ہوں

۔ بڑی بی بی حکم نہ دیتیں ۔۔تو ایسی غلطی نہیں کرتی”وہ بولی ۔۔۔ صیام یوں ہی اسے غصے سے دیکھتا رہا ۔۔۔ حمائل نے نگاہ اٹھائ ۔۔اور اس سے پہلےوہ جلدی سے پلٹتی ۔۔۔ صیام نے اسکا ہاتھ جکڑ لیا ۔۔۔

صیام اماں سے جھوٹ بولا ہے آپ نے “

میں تمھارا علاج کرنا چاہتا ہوں ۔۔ یقین مانو حمائل تمھارا علاج مجھ سے زیادہ اچھا کوئ نہیں کرے گا ” وہ اسکے کان کے قریب ہوتا بولا

۔۔ حمائل دوبارہ تکلیف نہیں سہنا چاہتی تھی ۔۔۔

م۔۔۔میں ٹھیک ہوں ” وہ بولی آنکھوں میں خوف تھا اسکی پکڑ میں عجیب بات تھی عجیب گرمائش تھی جو حمائل کو ٹھیک نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔

جاؤ اکبری ۔۔۔ آج رات اماں کے پاس مت جانا صبح پوچھیں کہ ڈاکٹر نے کیا کہا ۔۔ تو بتا دینا ۔۔۔ کہ ایسا علاج کیا ہے آئندہ حمائل بی بی کو کبھی سانس نہیں چڑھے گا ” اسنے سخت تیوروں میں کہا ۔۔ تو اکبری ۔۔ وہاں سے بھاگ گئ ۔۔۔ حمائل اکبری کو روکنا چاہتی تھی مگر روک نہیں سکی ۔۔

کیا ہوا محبت ختم ہو گئ تمھاری کیا ” صیام نے طنز کیا ۔۔۔۔ جبکہ حمائل کی کراہ ختم ہو گئ ۔۔۔۔

بے بسی سے اسکو دیکھنے لگی ۔۔۔

انکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ بہنے لگے ۔۔۔۔

اور صیام اسے کھینچتا ہوا اپنے روم میں لے آیا ۔۔۔

سموکینگ کرو گی ۔۔۔ شاید کھل کرسانس آ جائے تمھیں ” مسکرا کر اسکے نزدیک سیگریٹ کا ڈبہ پھینکا

جبکہ حمائل دور ہوئ ۔۔۔۔ اسکا بستربے ترتیب تھا اسکے کمرے میں ۔۔۔۔ ایل سی ڈی پر جو چل رہاتھا ۔۔۔

حمائل کے قدم اسکو دیکھ کر لڑکھڑا سے گئے ۔۔۔۔ بے باکی کی انتہا تھی ۔۔ جو ایل سی ڈی پر وہ دیکھ رہا تھا ۔۔ حمائل خوف زدہ ہو گئ

کہیں وہ اسکے ساتھ “اسنے صیام کو دیکھا۔۔۔ جو سیگریٹ میں میں دبا چکا تھا ۔۔

اور ایل سی ڈی کیطرف ہی دیکھ رہا تھا ۔۔

حمائل کو لگا واقعی اسکی سانسیں رک جائیں گی ۔۔۔

حمائل نے کچھ نہیں دیکھا ۔۔ وہ وہاں سے ۔۔۔ بھاگنے کے لیے دروازے کیطرف بھاگی ۔۔۔ جبکہ صیام نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسکو نزدیک تر کر لیا ۔۔۔

کمرے میں ماحول مدھم میوزک اور صیام خان کی ہاتھوں کی حرارت ۔۔۔ لگ رہی تھی کہ وہ اسکے ساتھ کچھ کر دینے کا ارادہ رکھتا ہے ۔۔۔۔

صیام محبت کا بھرم نہ توڑیں میری محبت رسوائ کی حقدار نہیں ہے ” حمائل نے روتے ہوئے اسکو خود سے دور کرنا چاہا۔۔۔

کیوں میری جان ۔۔۔ یہ رسوائ تو نہیں تمھارے لیے تو یہ لمہے قیمتی ہو ہونے چاہیے تھے ۔۔۔۔ کہ تمھیں صیام خان کی قربت نصیب ہو گی ” وہ اپنا چہرہ اسکے نزدیک کرتا بولا ۔۔۔۔

جبکہ حمائل کی جان سوکھے پتے کیطرح کانپ سی رہی تھی ۔۔۔ صیام نہیں ۔۔۔ صیام خدا کے لیے ۔۔”صیام نے اسے گھما کر بستر پر پھینکا ۔۔۔۔

حمائل کا رنگ فق ہو گیا ۔۔۔۔ صیام اپنی شرٹ کے بٹن کھول رہا تھا ۔۔۔۔ صیام “اسکے لب پھڑپھڑائے ۔۔۔جبکہ صیام خان پر جیسے اسکی قربت سوار ہونے لگی ۔۔۔

اس سے پہلے وہ اس نرم بستر میں جس میں حمائل دھنسی خوف سے کانپ رہی تھی خود بھی دھنس کر سب بھول جاتا ۔۔۔ اسکا سیل فون تیزی سے بجنے لگا ۔۔۔

چونک کر اسنے سیل فون کو دیکھا ۔۔۔

عالم کی کال تھی ۔۔۔۔

حمائل جو آنکھیں بند کر چکی تھی ۔۔۔۔ سختی سے ایکدم آنکھیں کھول کر اسکو دیکھنےلگی ۔۔۔

ہاں بولو عالم ” صیام نے پوچھا ۔۔۔۔

حمائل دور سرکنے لگی کیونکہ صیام رخ موڑ چکا تھا ۔۔۔

کیا کر رہے ہو تم ” عالم نے سوال کیا ۔۔

میں ” صیام رکا جبکہ اچانک اسے دروازہ کھل کر بند ہونے کی آواز آئ ۔۔۔ اور دروازہ دھڑ سے بند ہو گیا ۔۔۔

تمھیں تسلی ہونی چاہیے

۔ اب کچھ نہیں کر رہا ” وہ بگڑے موڈ میں بولا ۔۔

اگر تمھارا شکار حمائل خان تھی تو تمھارے سارے دانت باہر نکال دے گا عالم تمھیں محبت کا مقام اور رتبے کا اندازا ہی نہیں ” عالم غصے سے بھڑکا۔ ۔۔

ایک تو یہ محبت اور محبت کی لوجک میری سمھجہ سے باہر ہے ۔۔۔۔ “صیام نے ایل سی ڈی اف کی اور لیٹ گیا ۔۔

کیا دیکھ رہے تھے جو تمھارے جزبات میں حوس کی آگ لگی ” عالم اسکی رگ رگ سے واقف تھا ۔۔ صیام خاموش ہو گیا ۔۔۔

تمھیں شرم آنی چاہیے صیام “

عالم پلیز یار بیوی ہے وہ میری”

ابھی کل مجھے تم ہی کہنے والے تھے چار سال ہو گئے نکاح کو اب تک تم نے اسے منہ نہیں لگایا اور ۔۔ آج تم ایک چیپ سی مووی دیکھ کر اسپر اپنی حوس نکالنے والے تھے” عالم کا غصہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا ۔۔

شیٹ آپ یار” صیام کو یہ باتیں بری لگ رہیں تھیں ۔۔

یو شیٹ آپ ۔۔ اگر تم سدھرے نہیں تو میں حمائل کو یہاں لے آؤ گا اور تمھیں پتہ ہے یہ سب میرے لئے مشکل نہیں “

تو لے جاؤ میں مرا نہیں جا رہا ہوں اسپر مجھے اسکے نام سے تڑیاں نہ دو ” صیام نے جھلے میں کہا اور فون بند کر دیا ۔۔۔۔

تادیر وہ اسکی خوف زدہ آنکھوں کو سوچتا رہا اور پھر سر جھٹک کر سو گیا ۔۔۔

 

عالم شاہ زمینوں کے کام سے نکلا ہوا تھا ۔۔۔ اسکو صیام پر سخت غصہ تھا ۔۔۔

اسکی چیپ حرکتوں پربھی بھڑک گیا تھا وہ اسے ۔۔ تہذیب ہی نہیں تھی محبت کو کیسے رکھا جاتا ہے ۔۔۔۔

اور وہ آج صبح ہی زمینوں پرآ گیا تھا ۔۔۔

شام تک ارادہ ڈیرے پر ہی روکنے کا ہو گیا تو ۔۔ مکرم دوڑتا ہوا اسکے نزدیک آیا ۔۔

شاہ سائیں” وہ پھولتی سانسوں میں بولا ۔۔عالم شاہ نے اسکو دیکھا انداز بے ضرر تھا ۔۔۔ شاہ سائیں عروش بی بی حویلی آ گئیں ہیں “مکرم کے کہنے کی دیر تھی عالم شاہ ایکدم اپنی جگہ سے اٹھا ۔۔۔۔

اور۔۔ اپنی گاڑی کی چابی لے کر وہ ڈیرے سے دوڑتا ہوا نکلا تھا ۔۔۔

کچھ ہوش نہیں رہی تھی کہ اسکا کتنا پیسہ وہاں پڑا تھا جہاں سے وہ بھاگ کر آیا تھا ۔۔۔ اور نہ اسے اپنے رتبے اور مقام

کی پرواہ تھی ۔۔۔

محبوب اتنا نزدیک تھا اور اسکی خوشبو کو وہ پہچان نہیں سکا ۔۔ وہ بھاگتا ہوا ۔۔ گاڑی میں سوار وہاں اور اندھا دھند گاڑی کو حویلی کے راستے میں ڈال دیا ۔۔۔

تیز ڈرائیونگ کے دوران اسنے صیام کو ۔۔۔ کال ملائ

جس نے کال پیک کی ۔۔۔

عروش ۔۔۔ آ گئ “وہ بولا ۔۔ صیام کے چہرے پر مسکان پھیل گئ۔۔۔۔۔

آرام سے عالم شاہ آرام سے ۔۔۔ کم۔از کم اپنے رتبے کا تو خیال کرو ” وہ بولا ۔۔۔

سالے کھوتے تجھے عشق ہو عالم شاہ کی بدعا ہے یہ “وہ بولا اور سیلفون بند کر دیا………..

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Read online urdu novels, Revenge based novel, Tania Tahir Novels, romantic story , Revenge novel , at this website Novelsnagri.com for more Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit website and give your reviews. you can also visit our facebook page for more content Novelsnagri ebook

Leave a Comment

Your email address will not be published.