Web Special Novel, revenge based novel, online urdu novels,

revenge based novel, online urdu novels, saaiyaan Epi 11

haveli based urdu novel, online urdu novels, saaiyaan based on forced marriage, revenge based novel & novel is full of emotions, romance, suspense & thrill, Story of a girl who wants to follow the society style.Novel written by Bisma Bhatti.

Web Special Novel, revenge based novel, online urdu novels,

 

#سائیاں

#از_قلم_بسما_بھٹی

#قسط_11

___****____****____****___***__

” مجھے نکاح نہیں کرنا امی ” زمر سہیلہ سامر کے سامنے سپاٹ چہرے سے بولی ۔
” کیوں نہیں کرنا !” انہوں نے غصے سے پوچھا ۔
” آپ کیسے یہ سوال کر سکتی ہیں مجھسے جب یہ جانتی ہیں کہ اس حویلی کے لوگوں نے ہماری بہن کے ساتھ کیا ؟” وہ تقریباً چیختے ہوئے بولی ۔
” چٹاخ ” سہیلہ کا اس کی بلند اور جارحانہ آواز پر ہاتھ اٹھ گیا ۔
” امی ؟” وہ بے یقینی سے انہیں دیکھنے لگی ۔
” آ۔۔۔واز۔۔ آہستہ ۔۔۔ یہ تمہارے ساتھ ہو رہا تھا ۔۔۔ تو تم راضی تھی ؟ ۔۔۔ کسی کی رکھیل بننے کیلیے راضی تھی ۔۔۔ اب تمہیں عزت سے عزت کرنے والے کے نام کیا جا رہا ہے تو نخرے آ رہے ہیں ” اس کی طرف دیکھتے غصے سے کہا ۔
” امی یہ آپ کیسے کہہ سکتی ہیں ۔۔۔میری عنو نجانے کس حال میں ہو گی ۔۔۔ پتہ نہیں ۔۔۔ کیا سلوک کیا جا رہا ہو گا۔۔۔۔ اور میں یہاں شادی رچاتی پھڑوں ” وہ روتی ہوئی غصے سے بولی .
” جو ونی ہو جاتا ہے ۔۔۔ وہ مر جاتا ہے گھر والوں کیلیے ۔۔۔یہ ریت رہی ہے ۔۔۔ اب تمہیں شادی ہی رچانی ہے ۔۔۔ عنو کو بھول کر ” اس کی طرف انگلی سے وارن کرتے سختی سے کہا ۔
دل تو ان کا بھی پھٹنے کو تھا لیکن اپنی ایک بیٹی کی خاطر وہ دوسری بیٹی نہیں گنوا سکتی تھیں یہ جانتے ہوئے کہ اب عنابیہ کے پیچھے بھاگنا دیوار سے سر پھوڑنے کے مترادف تھا ۔
” میں کبھی نہیں بھولوں گی ۔۔کبھی نہیں یاد رکھیے گا ۔۔۔سب سے بدلہ لوں گی ” ان کو جاتے دیکھ کر وہ بلند آواز سے روتے ہوئے چیخی ۔ لیکن سہیلہ جا چکی تھیں۔
” کیسے آپ کے نام ہو جاؤں کیف ۔۔۔ آپ کی غلطی نے ۔۔۔ میری بہن کہ خوشیاں اجاڑ دیں ” بیڈ کے ساتھ لگتے وہ روتے ہوئے نیچے بیٹھ گئ۔
🔥🔥🔥🔥🔥🔥
” آپ کہہ رہی ہیں کہ میں احسام سے شادی کر لوں؟” ماہم سنجیدسے بولی۔ زوبیہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
” آپ نے سوچا بھی کیسے کہ میں اس ٹیپیکل شخص سے نکاح کروں گی جس کا دل کہیں ہے دماغ کہیں اور خود وہ کہیں ہے ” کتاب کو زور سے بند کرتے وہ تن فن کرتی ان کے سامنے رکتےغصے سے بولی تھی۔
” تمیز نا بھول جایا کرو ماہم “زوبیہ مے کرختگی سے کہا.
“اس شخص کے نام پر پھول نہیں کھلیں گے میرے منہ سےسمجھ لیں ” ماہم نے دانت پیس کر کہا ۔
” ماہم تمیز سے بات کرو ۔۔جو بھی تھا جو بھی ہوا ۔۔ بھول جاؤ ۔۔۔ موو آن کرو ” زوبیہ شاہ نے کڑے تیوروں سے اسے ٹوکا ۔
” مام ۔۔۔ موو آن کرو جاؤں ؟ ” ماہم نے حیرانی سے پوچھا جیسے اس کی ماں کوئی مزاق کر رہی ہو ۔
” میں کیوں موو آن کروں مام ؟ ۔۔۔ کیا میں نے دغا دیا ہے ؟ کیا میں نے جانتے بوجھتے ہوئے اپنے دل میں کسی کو رکھا ہے ؟ کیا میں کسی اور کی محبت میں مبتلا نظر آئی ہوں ؟ ” وہ وہ ہر بات پر زور دیتے اپنی مام سے سوال کر رہی تھی جن کے پاس اس کا جواب نہیں تھا. بات کرتے کرتے آنکھیں سرخ ہو گئیں تھیں ۔ کیا ضبط تھا کیا کنٹرول تھا خود پر کہ آنسو نکلنے نہیں دیا ۔
” نہیں نا !!! نہیں ۔۔۔۔۔ نا !” وہ دو بار چیخی ۔ اورزوبیہ نے زور سے آنکھیں بند کیں۔
” بس کرو ماہم ۔۔۔۔۔ زندگی پر فیکٹ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ہمارے پاس ہماری ساری چاہتوں کا سامان ہو ۔پر فیکشن تو اسے کہتے ہیں کہ پاس جو ہے ہم زند گی کے کسی بھی مرحلے میں ہوں ہمارا تعلق اللّٰه سے ہمیشہ مضبوط رہے اور یہ کہ سب حاصل ہونے کے باوجود بھی ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنے کی توفیق ہو۔ بیٹا ایک وفادار عورت مرد کو غدار نہیں بناتی بلکہ ایک اچھی بیوی مرد کو مزید باوفا بناتی ہے تمہاری اچھائی اسے بدل دے گی ” انہوں نے پیار سے سمجھانا چاہا ۔
” صحیح ۔۔۔ سب کچھ ہم لڑکیاں ہی بدلیں برداشت کریں ۔۔۔ اور مردوں کو ٹرے میں رکھ کر پیش کرتے ہیں آپ لڑکیوں کو ۔۔۔۔ یاد رکھیے گا مام ۔۔۔ آپ کا چہیتا اس رشتے سے خوش ہو گیا نا تو ماہم کا نام بدل دینا۔ ۔۔۔ ماہم کے جسم روح کا ایک بھی حصہ ٹٹولیے ۔۔۔ کہیں بے وفا یا غدار نظر آئے تو اسی وقت زندہ جلا دیں ” ان کی طرف سرخ نگاہوں سے دیکھتی وہ ان کو بہت خوفزدہ کر گئ تھی ۔
وہ کہہ کر بنا ان کی سنے باہر کو پلٹی ۔
دروازہ کھولا تو سامنے ہی احسام کو کھڑے پایا ۔ جو شائد زوبیہ کے پاس آ رہا تھا ۔
ماہم نے ایک نظر اسے دیکھا اور پلٹ کر زوبیہ کو ۔
” آپ کا چہیتا ۔۔۔ ماتھے پر مہراب بنا کر سجا لیں ” کاٹ دار لہجے میں کہتی اسے سائیڈ مارتی تن فن کرتی چلی گئی ۔
” تایا جان بلا رہے ہیں آپ کو پھوپھو ” احسام نے سپاٹ چہرے سے کہا ۔
” ام سوری بیٹا ۔۔ وہ بس غصے میں تھی اس کی بدتمیزی نادانی سمجھنا ” زوبیہ نے سنجیدگی سے کہا اور سائید سے گزرنے لگی کہ احسام نے ان کا راستہ روکا ۔
” آپ اس کو رہنے دیں ۔۔۔آپ یہ بتائیں کیا آپ مجھسے ناراض ہیں ” نرم لہجے سے پوچھا چہرہ ابهى بھی سپاٹ تھا.
” بچے تم سے کیا ناراضگی تم تو بچے ہو ۔۔۔ بس افسوس ہے کہ میری بیٹی کی ہنسی تمہاری وجہ سے کہیں گم ہو گئی ہے ۔۔۔ میں جو تھکتی نہیں تھی ماہم اور سب گھروالوں کے سامنے تمہاری تعریفیں کر کر کے ایک پل میں تم نے مجھے جھوٹا ثابت کر دیا ۔۔۔ تم سے کیا ناراضگی ۔۔غلطیاں بڑوں سے بھی ہوتی ہے ” افسردگی اور سنجیدگی سے وہ اس کی طرف دیکھتی بولیں ۔
احسام کا شرمندگی سے سر جھک گیا حرکت بھی تو ایسی کی تھی ۔
” میرے بس میں نہیں تھا پھوپھو ۔۔۔ پتہ نہیں کیسے ۔۔عنابیہ ” احسام سر جھکاأے بولتا بولتا چپ ہو گیا ۔
” اب یہ بتاؤ ۔۔۔ میری بیٹی کا کیا کرنا یے ۔۔۔ ایک بات یاد رکھنا احسام ۔۔۔۔ وہ تم سے شادی بھی نہیں کرنا چاہتی. ۔۔ اور وہ کسی اور سے شادی بھی نہیں کرے گی ۔۔۔ کیونکہ وہ خود کو تمہاری وفادار سمجھتی ہے ۔۔۔۔ تم جانتے ہو حویلی میں نکاح کی بات چل رہی ہے ۔۔۔ مجھے اپنی بیٹی اسی حویلی میں چاہیے ۔۔ وہ بھی خوش ۔۔ سمجھ گئے ” زوبیہ سپاٹ چہرے سے کہتی سائیڈ سے گزر گئی۔ نا انہیں احسام کی بات سننی تھی نا کچھ مزید سنانا تھا. اپنی بیٹی کو کتنا کا سمجھائی جاتی وہ۔
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
” آ۔۔۔ نٹی کیسی ۔۔۔ ہیں ” قمر جب کمرے میں آیا تو عنابیہ نے انگلیوں کو مڑورتے ہوئے پوچھا ۔
قمر نے اس کی طرف دیکھا جو ابهى بھی نقاب میں تھی اور بیڈ کے سامنے صوفے پر کونے سے لگی بیٹھی تھی ۔ آنکھیں سنجیدہ تھیں۔
وہ چلتا ہوا اس کے سامنے بیڈ پر بیٹھ گیا ۔ عنابیہ کی آنکھیں جھک گئیں ۔
“انہیں شاک لگا تھا میڈیسن دی ہیں اور نیند کا انجیکشن بھی لگایا ہے ڈاکٹرز نے اب آرام کر رہی ہیں ” تھکے تھکے انداز میں اسے دیکھتے جواب دیا ۔ عنابیہ نے سر بس ہلایا.
” عنابیہ میں جانتا ہوں جو بھی ہوا وہ آپ کیلیے بہت مشکل تھا ۔ جو بھی کیا اپنی فیملی کیلیے کیا آپ نے لیکن ۔۔۔ میں آپ کو ایسے تکلیف میں بھی نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔ ایسے کبھی نہیں سوچا تھا کہ آپ اس کمرے میں ایسے ہوں گی ” ٹھہرے ہوئے لہجے میں وہ اس کے غم کا تکلیف کا مداوا کرنا چاہ رہا تھا ۔
” نہیں ۔۔۔۔ یہ تو ہونا تھا ۔۔۔ مردوں کی غلطیاں چھپانے کیلیے عورت کو ہی پیش کیا جاتا ہے ۔۔۔ کیف بھائی نے جو کیا ۔۔۔ اس کا نقصان تو حویلی کی کسی بھی ایک لڑکی نے بھرنا تھا ۔۔۔ تو کیا فرق پڑتا ہے وہ میں ہی کیوں نا ہوں ” اپنے ہاتھوں کی لکیروں پر نظریں جمائے وہ ڈبڈبائی آنکھوں سے بولی ۔
قمر نے اس کے کھلے ہاتھوں کو دیکھ کر اپنے ہاتھوں کو رکھ کر تھام لیا ۔ وہ بوکھلا گئی ۔ پیچھے کھینچنا چاہا مگر قمر نے اپنے ہاتھوں کے دباؤ سے ایسا ہونے نا دیا ۔
” میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں عنابیہ ۔۔۔ بہت قدر کرتا ہوں ۔۔۔ بہت محبت کرتا ہوں آپ سے ۔۔۔ آپ کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہوں ۔۔۔ اپنے دل میں مجھے جگہ دیں گی ؟” بہت مان سے بہت حق سے اس کے سامنے اعتراف کیا تھا اپنی محبت کا ۔
عنابیہ نے حیرت سے اسے دیکھا جو اس سے محبت کا دعویٰ کر رہا تھا ۔
” یہ آپ۔۔۔۔۔ کیا ۔۔۔ کہہ۔۔۔رہے ہیں !” وہ بوکھلاتے بولی ۔
” میں سچ کہہ رہا ہوں ۔۔۔ جب دیکھا تھا پہلی دفعہ تبھی اچھی لگی تھیں آپ ۔۔۔ بہت اچھی لگی تھیں ۔۔۔ میں نے تو کبھی آپ کو دیکھا نہیں ۔۔۔۔اب جیسے بھی کر کے جس طرح مرضی کے حالات میں ہمارا نکاح ہوا ہے ۔۔ لیکن ہوا تو ہے نا ۔۔۔ میں آپ کا ساتھ چاہتا ہوں ۔۔ آپ کی محبت چاہتا ہوں
” اس کے ہاتھوں پر دباؤ دیتے ایک امید سے کہہ رہا تھا ۔ یہ جانے بغیر کے عنابیہ پر کیا بیت رہا تھا ۔
” میں ۔۔۔۔ ای۔۔۔ ایسا ۔۔۔ نہیں کر سکتی ” اپنے ہاتھوں کو نکالنے کی کوشش کرتے کہا ۔
” کیوں ؟ ” قمر نے نا سسمجھی سے پوچھا ۔
 ” میں کسی کی ۔۔۔ امانت ہوں ۔۔۔۔ شروع سے ۔۔۔ اپنے سائیں کی امانت ہوں ۔۔۔ میرے دل میں صرف وہ ہیں ” نم ہوتی آنکھوں سے وہ قمر کو اپنی جگہ منجمد کر گئ تھی ۔
” ت۔۔۔ تو یہاں ۔۔کیسے آ گئیں !” اپنے بکھرتے لہجے پر مشکل سے ضبط کرتے پوچھا ۔
” ہم دونوں مجبور تھے ۔۔ کیف بھائی ۔۔بہت چاہتے ہیں آپی زمر کو ۔۔۔ وہ مر جاتے اگر ۔۔۔ زمر آپی کو ونی کر دیا جاتا ۔۔۔ ان کی خاطر ہم نے یہ کیا ۔۔۔ سائییں مجبور تھے ” نقاب کے اوپر سے ہی آنسو کو صاف کرتے بولی ۔
” عنابیہ ۔۔۔ ایک بات کہوں ” اس کے ہاتھوں پر دباؤ دیتے ہلکی مسکان سے پوچھا ۔
اس نے سر ہلایا ۔
 “اگر مرد نے کسی عورت سے شادی کرنی ہوتی ہے تو وہ کر ہی لیتا ہے ۔ بس اس کی اپنی مرضی اور ضد ہونی چاہیے ۔ وہ سب کو راضی بھی کر لیتا ہے اور ہر بات کا مطلب بھی سمجھا دیتا ہے ۔ اور سب کو اس کے سامنے ہار ماننی ہھی پڑتی ہے ۔ جو اصل خاندانی مرد ہوتے ہیں وہ لڑکیوں کے احساسات سے نہیں کھیلتے بلکہ نکاح کرتے ہیں اس لیے مرد کبھی مجبور نہیں ہوتا بس پاگل بناتا ہے. ! ” وہ اس کی طرف دیکھتا عنابیہ کا سانس سکھا گیا تھا ۔
وہ ہراساں نظروں سے اسے دیکھنے لگی.
” اب آپ میری بیوی ہیں ۔۔۔ میں آپ سے بہت محبت کرتا ہوں ۔۔۔ اور میں انتظار کروں گا ۔۔۔ کب آپ کے دل میں میرے لیے پیار آتا ہے ۔۔۔ مگر آپ کو اکیلا نہیں چھوڑوں گا ۔۔کہیں بھی ۔۔ کسی بھی جگہ ۔۔کبھی نہیں ” اس کے ہاتھوں پر دباؤ دیتے گھمگھیر آواز سے کہا ۔
اس کی آواز میں ایسا دم تھا ایسا مان تھا کہ عنابیہ کو اپنا آپ مجرم لگنے لگا ۔ کہ جس کی خاطر وہ اپنے شوہر سے دور ہونے کا سوچ رہی اس نے تو دھوکے سے دور کر دیا خود سے اور جو ابھی اس کے سامنے بیٹھا ہے اس کا شوہر ہے وہ اتنا بڑا دل رکھتا اتنا بڑا ظرف رکھتا ہے کہ میرے دل میں کسی اور کی چاہت پر برہم نہیں ہوا ۔
” مجھسے کیسا پردہ آپ کا ؟ ۔۔۔ کائنڈلی ۔۔۔ یہ نقاب اب ہٹا دیں ۔۔۔۔ آپ مجھ پر بھروسہ کر سکتی ہیں ” اس کے ہاتھوں پر ہلکا سا بوسہ دیا ۔
عنابیہ کا سانس ایہ بار پھر تھم گیا اس حرکت پر ۔ وہ خود میں سمٹ سی گئ۔
قمر نے اس کے ہاتھوں کو چھوڑا ۔
” میں کھانے کا کہتا ہوں آپ فریش ہوں لیں ” نرمی سے مسکرا کر کہا اور کمرے سے باہر چلا گیا ۔
اس کے جاتے ہی وہ مریل قدموں سے شیشے کے سامنے آئی ۔ خود کو نقاب میں کتنی دیر گھورتی رہی ۔
” مجھ پر بھروسہ کر سکتی ہیں ” اس کے کانوں میں قمر کے الفاظ گونجے ۔
آہستہ سے سائیڈ پر لگی پن اتار دی اور نقاب چہرے سے ڈھلک گیا ۔
رویا رویا سا مرجھاتا چہرہ واضح تھا ۔ زندگی کس مقام پر لے آئی تھی ۔ آج اس کے لیے وہ نقاب ہٹا رہی تھی جو کبھی نامحرم تھا جسے کبھی دیکھنے کیا سوچنے کی بھی چاہ نہیں کی ۔ سچ کہتے ہیں جو سبق قسمت پڑھا دیتی ہے وہ کوئی نہیں پڑھا سکتا ۔
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
” سائیں ” دروازے پر ناک دیا تو زامل نے اس کی آواز پر پلٹ کر دیکھا جو چہرے پر ایک سائید سے نقاب کیے اس کے جواب کی منتظر تھی ۔
زامل نے لب بھینچ لیے اور کھڑکی کے پاس جا کھڑا ہو گیا تھا جانتا تھا ماہم کے بعد اس کی کمزوری ملیحہ تھی۔
وہ اس کی بےاعتنائی پر رنجیدہ ہو گئ نم آنکھوں سے اندر آئی اور دروازے کے پاس کھڑی اسے دیکھنے لگی ۔
” کیوں آئ ہو !” اس کی خاموشی پر بنا پلٹے سنجیدگی سے پوچھا ۔
” جو تیرے بچھڑنے سے مجھے مرض لگے ۔۔۔۔ اسی مرض سے مر جاؤں میرے حق میں دعا کر ” بھرائی آواز میں وہ خود تو تڑپی تھی لیکن مقابل کا سینہ چیڑنے کے مترادف تھا ۔
زامل جھٹکے سے مڑا تھا ۔
” ملیحہ ” اس کی آواز میں جھڑک تھی اسے ایسے الفاظ بولنے سے منع کرنے کی جھڑک ۔
” مجھے ۔۔۔ خود سے کیوں دور ۔۔۔ کر رہے ہیں !” وہ روتی ہوئی بولی ۔
” جو تمہارے بھائی نے کیا ہے ۔۔۔ میری بہن کو اتنی تکلیف دی ۔۔ اس کے بعد ۔۔۔ مجھسے اچھے کی امید رکھ رہے ہو ؟ ” اس کی طرف چہرہ موڑ کر واپس کھڑکی کی طرف کر لیا ۔
ماہم جو اپنے بھائی سے بات کرنے آ رہی تھی اندر کی آواز ان کر اس کے قدم رک گئیے بےساختہ وہ دروازے کی سائیڈ پر ہو گئ ۔
” سائیں. ۔۔ پلیز ۔۔۔ آپ بھائ کے جرم کی سزا ۔۔ مجھے کیوں دے رہے ہیں ” وہ روتی ہوئی بولی ۔ ہچکی بندھ گئ تھی ۔
زامل نے مٹھیاں بھینچی اس کا رونا برداشت سے باہر تھا ۔
” تم کیوں رو رہی ہو ۔۔۔ تم کونسا مجھسے محبت کرتی ہو ” زامل نے سپاٹ چہرے سے کہا پلٹا اب بھی نہیں تھا ۔
ملیحہ نے جھکا سر جھٹکے سے اٹھایا ۔
ماہم نے تیوروں سے دیوار کو گھورا جیسے یہیں سے اپنے بھائی کو کھا جائے گی ۔
ملیحہ جبڑا بھینچ کر اس تک پہنچی ۔ اس کے کندھے کھینچ کر مقابل کیا ۔
زامل نے اسے دیکھا جو روتے ہوئے غصے سے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔
اس نے زامل کے کالر کو اپنے ہاتھوں میں جکڑا مل زامل نے حیرانی سے اسے دیکھا ۔
” مجھسے پوچھ رہے ہیں کہ میں کونسا آپ سے محبت کرتی ہوں !” دبے دبے غصے سے بولی ۔ زامل نے نظریں چڑائی۔
” میری طرف دیکھیں ” اس کے نظریں چرانے پر وہ دانت پیستے بولی ۔ اس کی جنونی آواز پر زامل نے اسے دیکھا ۔
اس کی لہو چھلکاتی آنکھوں میں دیکھنے کی ہمت ملیحہ میں کہاں تھی ۔
” میں آپ کو ۔۔۔۔ کبھی نہیں بتاؤں گی ۔۔ کہ مجھے آپ سے کتنی محبت ہے ” اس کی آنکھوں میں دیکھتی وہ روتے ہوے بولی ۔
زامل نے اس کے آنسو صاف کیے تو بےخود ہوتی اس کے سینے پر سر رکھ گئ۔ اور بازو گردن کے گرد حائل کر دیا ۔
زامل نے ضبط سے آنکھیں بند کر لیں ۔ اسے نہیں علم تھا کہ ملیحہ اس کے لیے اتنا جزباتی ہو گی ۔
” مار دیں مجھے ۔۔۔ مگر ایسے چھوڑیں نا ۔۔۔ ورنہ ملیحہ ہمیشہ کیلیے مر جائے گی ۔۔ آپ نہیں تو کوئی نہیں ” اس کے سینے پر سر رکھے وہ ہچکیاں لیتے روتے بولی.
زامل نے دونوں بازووں سے اسے خود میں بھینچ لیا ۔ اس کا اپنا دل لرز گیا تھا اس کی حالت پر .
” اور ماہم کا کیا ملیحہ ؟ ۔۔۔ اس کی خوشیوں کو تباہ کر کے ہم اپنی جنت کیسے بنا سکتے ہیں ” اس کے چہرے کو اپنے مقابل کرتے استفسار کیا ۔
” کیا میرا اپنے بھائی پر اختیار ہے سائیں ؟ ۔۔۔ اگر ایسا ہے تو میں خدا کی قسم ۔۔ ماہم کے قدموں میں گرا دوں ” اس کی آنکھوں میں دیکھتے بولی ۔
” میں تمہیں چاہتا ہوں ملیحہ ۔۔۔ مگر کیرے کیے میری بہن اہک یے بہت اہم ” اسے خود سے دور کرتے سنجیدگی سے کہا ۔
ملیحہ نے اسے دیکھا جو منہ دوبارہ پھیر گیا تھا یعنی اب مزید بات نہیں کرنی ۔
” س۔۔”
” چلی جاؤ ملیحہ ” سپاٹ لہجے میں کہا ۔
ملیحہ کے آنسو ٹوٹ کر رخسار پر گرے ۔ وہ الٹے قدم لیتی بھاگتے ہوئے تقریباً کمرے سے نکل گئ۔
زامل نے اسکے جاتے ہی زور سے آنکھوں کو بند کر لیا. اتنا آسان بھی نہیں تھا سب کچھ کرنا ۔
ماہم اسے جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔ اس کا بھائی اس کے لیے قربانی دے رہا تھا ۔ وہ گہرا سانس بھر گئ۔ اور اندر کمرے میں آئی ۔
” بھائی ۔۔۔ ملیحہ رو کیوں رہی تھی ” انجان بنتے سوال کیا ۔
ماہم کی موجودگی پر وہ پلٹا ۔
” کچھ نہیں بس ایسے ہی ” زامل نے جواب دیا اور دوبارہ کھڑکی کی طرف منہ کر لیا ۔ نظریں جو چرا رہا تھا ۔
” بھائی ۔۔۔ کبھی کبھی سب کچھ ٹھیک کرنے کیلیے قربانی دینی پڑتی ہے ۔۔۔ کسی ایک خوشیوں کی وجہ سے ۔۔۔پورے خاندان کی خوشیاں داؤ پر نہیں لگاتے ” اس کی پشت کو دیکھتے وہ تحمل انداز سے بولی ۔
” تو جو احسام نے کیا ہے ! اسے بخش دوں ؟” وہ پلٹ کر دھاڑا تھا ۔
” بخش دیں ” جتنا تعیش میں وہ بولا تھا اتنے ہی سکون سے ماہم نے جواب دیا ۔
” تم جانتی ہو کیا بول رہی ہو !” زامل نے اسے آنکھیں دیکھائیں ۔
” جب میں راضی ہوں اس سے نکاح کیلیے تو آپ بھی ملیحہ کو کوئی تکلیف نا دیں ۔۔ وہ بہت چاہتی ہے آپ کو ” اس کے ہات کو اپنے ہاتھ میں لیتے مسکرا کر کہا ۔
” یہ سب ۔۔میری وجہ سے بول رہی ہو نا ” اس کا ہاتھ جھٹکتا غصے سے بولا ۔
” نہیں ۔۔۔ میں ہمارے لیے کر رہی ہوں ۔۔۔ماما کو ہم توڑ نہیں سکتے ۔۔۔ انہیں اس عمر میں تکلیف نہیں دے سکتے ۔۔۔ مان جائیں بھائی ۔۔۔ مجھے یقین ہے ہماری صحبت ۔۔۔ ایک دوسرے کو سنوار دے گی ” اس کے ہاتھ کو دوبارہ سے پکڑتے میٹھے لہجے میں سمجھایا ۔ اسے یہ کرنا ہی تھا اپنے بھائی کی خوشیوں کیلیے ۔
” اگر اس نے تمہیں ایک زرہ برابر بھی تکلیف دی نا ۔۔۔۔ تو وہیں اسکی قبر کھود دوں گا ” اس کہ طرد وارن کرنے کے انداز میں کہا ۔
” آپ کو محنت ہی نہیں کرنی پڑے گی ۔۔۔ میں خودی اپنا بدلہ چکتا کر لوں گی ” اس کے سیبےس ے لگتے کھلکھلاتے جواب دیا ۔ زامل نے اسکے گرد بازو حائل کر دیے ۔
” احسام تمہیں ماہم نے ٹوٹ کر چاہا تھا ۔۔۔ اب تم چاہت میں ٹوٹو گے ۔۔۔ اب میں تمہیں اس دغا کی تکلیف بتاؤں گی ” زامل کے سینے سے لگے وہ احسام کے تصور سے ہمکلام تھی جو اس کا بننے سے پہلے ہی ہرجائی ہو گیا تھا ۔
تم مری آنکھ کے تیور نہ بھلا پاؤ گے
ان کہی بات کو سمجھوگے تو یاد آؤں گا
ہم نے خوشیوں کی طرح دکھ بھی اکٹھے دیکھے
صفحۂ زیست کو پلٹو گے تو یاد آؤں گا
اس جدائی میں تم اندر سے بکھر جاؤ گے
کسی معذور کو دیکھو گے تو یاد آؤں گا
اسی انداز میں ہوتے تھے مخاطب مجھ سے
خط کسی اور کو لکھو گے تو یاد آؤں گا
میری خوشبو تمہیں کھولے گی گلابوں کی طرح
تم اگر خود سے نہ بولو گے تو یاد آؤں گا
آج تو محفل یاراں پہ ہو مغرور بہت
جب کبھی ٹوٹ کے بکھرو گے تو یاد آؤں گا
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷
” او مائی گاڈ ۔۔۔سیف !” وہ اس وقت شہر میں مال آیا ہوا تھا کہ اسے اپنے پیچھے مانوس سی آواز سنائی دی ۔
وہ فوراً سے مڑا کہ اس کی آنکھیں دھنگ رہ گئیں۔
” شنیزہ ! ” وہ شاکڈ نظروں سے بولا ۔
“شکر ہے ۔۔ تمہیں ۔۔۔ میں بھولی نہیں “ایک ادا سے بالوں کو کندھے پر لاتے کہا ۔
سیف کا جبڑا بھینچ گیا وہ بھولا نہیں تھا اس پل کو جب ساری یونیورسٹی کے سامنے اسکی ذات کی تذلیل کر کے گئ تھی ۔
” او کم ان سیف ۔۔۔اب کیا میں یہ سمجھوں کہ ۔۔تم مجھے سیلفش لڑکی سمجھ رہے ہو !” اس کو سائیڈ سے گڑتے دیکھ کر وہ منت جیسے انداز میں بولی۔
” تمہیں سسمجھتا نہیں ہوں ۔۔۔تم ہو ” پلٹ کر غصے سے جواب دیا ۔
” اس دن یونیورسٹی میں جو ہوا ۔۔ تمہیں لگتا ہے میں کروں گی وہ سب. !” اس کو دوبارہ واپس پلٹتے دیکھ کر وہ تیزی سے بولی ۔
سیف کے قدم رکے ۔ مگر وہ پلٹا نہیں ۔
” تم تو اپنی بات کہہ کر چلے گئے ۔۔۔کتنا ویٹ کیا میں نے تمہارا ۔۔۔ اوراس انتظار کی حالت یہ دیکھو تمہارے چکروں میں پاکستان آ گئی ہوں ” اس کےرک جانے پر وہ نرم لہجے میں بولی ۔ پتھر پر پانی پر گیا تھا اورایک اور ضرب نے پتھر پر لکیر ڈال ہی دینی تھی ۔
وہ پلٹا اور نا سمجھی سے اسے دیکھا۔
” تمہیں یقین نہیں آ رہا !” وہ اس کے سامنے ایک قدم کے فاصلے پر رکی ۔ سیف نے نا میں سر ہلایا ۔
” میرا خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا جب تم نے مجھے پرپوز کیا تھا ۔۔۔ لیکن میں مجبور تھی ۔۔ میں تمہیں ایکسپٹ کر لیتی تو بابا تمہیں شوٹ کروا دیتے ” آنکھوں میں نمی سمائے نم لہجے میں بتایا ۔
” میں کیسے مان لوں ۔۔۔۔ کیسے تم پر یقین کر لوں ! ” سیف نے نفی میں سر ہلاتے کہا ۔
” تمہاری محبت کی قسم ۔۔ میں تمہیں تب بھی بہت چاہتی تھی ۔۔۔ اب بھی میری محبت ویسسی ہی ہے کم نہیں ہوئی ” شنیزہ نے اس کا ہاتھ تھاما ۔
سیف نے اپنا ہاتھ دیکھا اور اسے جس کی آنکھوں میں جھوٹ نہیں تھا ۔
” تمہاری ایک ایک بات مجھے آج بھی یاد ہے شنیزہ ” اس کی طرف سپاٹ نگاہوں سے دیکھا ۔
” اور مجھے تمہارے ساتھ گزارا ہر اک پل ۔۔۔ میں دو دن ہوش میں نہیں رہی تھی ۔۔ جب میں نے تمہیں سب کے سامنے بےعزت کیا تھا ۔۔۔ تمہیں کچھ ہو جاتا تو میں مر جاتی سیف ” اس کے ہاتھ پر دباؤ دیتے وہ رو دی ۔ سر جھکا لیا ۔
سیف نے اس کے جھکے سر جو دیکھا ۔
” مجھے چلنا چاہیے ” سیف نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچا ۔
” مجھسے بدلہ لے رہے ہو ۔۔۔ اب مجھے ٹھکرا کر !” اس کے دور جانے پر وہ تڑپ کر بولی ۔
” شاہزادہ ہوں ۔۔۔ عورتوں سے بدلہ نہیں لیتا ” سنجیدگی سے جواب دیا ۔
” مجھے ایک موقع تو دو ۔۔۔ خود کو پروف کرنے کا ۔۔ کہ میں سچ میں تمہیں چاہتی ہوں ” منت بھرے انداز میں کہا ۔
” اب وہ وقت نہیں رہا ۔۔سب بدل گیا ہے ” دوسری رخ کرتے جواب دیا ۔
” میں تمہاری منتظر رہوں گی سیف ۔۔۔ میں کینیڈا سے یہاں اس لیے نہیں آئی کہ تم مجھے دیکھو نا میری محبت کی قدر نا کرو ۔۔۔ یہ جاانتے ہوئے بھی کہ پاکستان میں کیرا کوئی رشتہ نہیں ہے۔۔فقط تمہاری محبت کے علاوہ ” اس کیکمر کو دیکھتے وہ نمآلود آواز میں بولی ۔
سیف کے پلٹنے کا انتظار کیے بنا ہی آنکھوں پر گلاسز لگا کر وہ پلٹ گئی ۔
سیف نے رخ موڑ کر اسے دور جاتے دیکھا ۔
🌷🌷🌷🌷🌷🌷🌷

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناول نگری میں ہر نئے پرانے لکھاری کی پہچان، ان کی اپنی تحریر کردہ ناول ہیں۔ ناول نگری ادب والوں کی پہچان ہے۔ ناول نگری ہمہ قسم کے ناول پر مشتمل ویب سائٹ ہے جو عمدہ اور دل کو خوش کردینے والے ناول مہیا کرتی ہے۔ناول کا ریوئیو دینے کیلئے نیچے کمنٹ کریں یا پھر ہماری ویب سائیٹ پر میل کریں۔شکریہ

novelsnagri786@gmail.com

Read revenge based novel, online urdu novels, saaiyaan novel at this website Novelsnagri.com for more Online Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit this website and give your reviews. you can also visit our facebook page for more content Novelsnagri ebook

2 thoughts on “revenge based novel, online urdu novels, saaiyaan Epi 11”

  1. My spouse and I absolutely love your blog and find the majority of your post’s to be exactly
    I’m looking for. Would you offer guest writers to write content
    for you? I wouldn’t mind composing a post or elaborating on most of the
    subjects you write with regards to here. Again, awesome blog!

  2. Fantastic site you have here but I was wanting to know if
    you knew of any user discussion forums that cover the same topics
    talked about in this article? I’d really like to be a part
    of group where I can get feed-back from other experienced people
    that share the same interest. If you have any suggestions,
    please let me know. Kudos!

Leave a Comment

Your email address will not be published.