Web Special Novel, Revenge ,Best Urdu Novel,Yeh Ishq ki talaash ha

Revenge Based Novels | یہ عشق کی تلاش ہے Epi #7 | Tania Tahir

Revenge Based Novels, Tania Tahir Novels , all category to forced marriage, childhood marriage, politics based, cousin based and funny novels multiple categories & complete PDF novels. Here you find all types of interesting New Urdu Novel. 

 

Revenge Based Novels, Urdu Novel

Web Site: Novelsnagri.com

Category : Web special novel 

Novel name : یہ عشق کی تلاش ہے

Written by: Tania Tahir

Revenge Based Novels, YE ISHQ KIO TALAASH HAI by Tania Tahir Novels
Revenge Based Novels, YE ISHQ KI TALAASAH HAI by Tania Tahir

یہ عشق کی تلاش ہے

#7 ایپیسوڈ نمبر

پوری حویلی میں مہمان بھرے ہوئے تھے ۔۔ چچا کی فیملی آئ تھی ۔

صیام کا زیادہ وقت جو زمینوں اور ڈیرے پر گزرتا تھا آج کل گھر پر ہی گزر رہا تھا ۔۔۔۔

چچا کے تین بیٹے اور ایک بیٹی تھی وہ اکثر گرمیوں کی چھٹیوں میں آ جاتے تھے ۔۔۔

وہ تینوں نوکری کرتے تھے اور کافی اچھی پوزیشن میں کماتے تھے ۔۔۔

جبکہ بیٹی پڑھ رہی تھی ۔۔۔ صیام بھی شہر سے پڑھا تھا مگر بابا کی وفات کے بعد وہ گاؤں لوٹ آیا تھا ۔۔ جبکہ شہر میں وہ چچا کے ساتھ ہی رہتا تھا تبھی انکے تینوں بیٹوں سے اسکا تعلق بہت اچھا تھا یہاں تک کہ انکی بیٹی سے بھی ۔۔

 

چچا نے اس بات پر بھی اپنی بھابھی سے اختلاف کیا تھا کہ صیام کا نکاح ایک انجان لڑکی سے کیسے کر دیا ۔۔۔۔ جبکہ علینہ تو انکے خاندان کی تھی مگر ۔۔ حمائل کے لیے اماں شروع سے ہی حساس تھیں اماں کی طبعیت بگڑی اور اس طرح صیام خان نے ماں کی خاطر حمائل سے نکاح کر لیا تھا ۔۔۔

 

جو کہ اسکے بقول اسکے گلے کا ہار تھا اور وہ جلد اس نکاح کو ختم کر دے گا اور اگر اسکی شادی علینہ سے ہوتی ہے تو اس میں کوئ حرج نہیں تھا علینہ ایک پڑھی لکھی اور کافی خوبصورت لڑکی تھی ۔۔

 

حمائل کیطرح ڈرپھوک ۔۔۔ اور ان پڑھ نہیں جو کہ بس ایف آئے پاس تھی۔۔۔۔ چچا نے ہی شاید اسکے دماغ میں یہ سب بیٹھایا ہوا تھا کہ صیحی وقت آنے پر وہ یہ فیصلہ لے خیر وہ بچہ نہیں تھا زمینے سنبھالتا تھا ۔۔۔

 

اسے خود بھی اس فیصلے میں کوئ اعتراض نہیں تھا کیونکہ ۔۔۔ ایس ابلکل نہیں تھا اکہ علینہ کی بوپڈنیس یہ علینہ سے اسے کوئ اختلاف تھا۔  ۔

تبھی انکے آنے پر وہ خوش تھا یہاں تک کہ اسنے عالم کو بھی کہا کہ وہ بھی حویلی کا چکر لگائے ۔۔۔۔

 

جس کو اسنے حسب توقع قبول نہیں کیا تھا ۔۔

مگر وہ جانتا تھا جس دن وہ ضد لگائے گا وہ آ جائے گا ۔۔ اس وقت چچا اور چچی تو گاؤں کے کچھ بڑے گھروں سے ملنے گئے ہوئے تھے ۔۔ کچھ انکے رشتے دار بھی تھے ۔۔

اماں جبکہ اپنے کمرے میں تھی ۔۔۔۔ اور اماں کے ہی پورشن میں وہ لوگ حال میں بیٹھے اپنی پرانی باتیں یاد کر رہے تھے حمائل جبکہ اس دن کے بعد صیام کے سامنے نہیں آئ تھی ۔۔۔

 

جیسے بکھر کر کوئ خود کو سمیٹ کر قید کر لے وہ بلکل ویسی ہو گئ تھی ۔۔ صیام نے زندگی میں کبھی اس سے یہ سوال نہیں کیا تھا کہ وہ اپنی پہچان بتائے وہ کس کی اولاد ہے

 اب اسکے اس سوال نے یہ بات حمائل پر واضح کر دی تھی کہ صیام کے نزدیک اسکی کیا حیثیت ہے اور اسکی نفرت کی وجہ بھی اسے خوب سمھجہ آ گئ تھی ۔۔۔۔

اپنی محبت کو ایک خول میں چھپائے وہ خود میں سمٹ گئ تھی ۔۔۔۔ اکبری ۔۔۔ یہ پلاؤ دم پرلگا دیا ہے ۔۔۔ تم میٹھا فریزر میں سے نکال لینا اور ۔۔۔ سالن بھی بن گیا ہے میں اپنے کمرے میں جا رہی ہوں اماں پوچھیں تو ۔۔ کہہ دینا ۔۔۔۔ بھوک لگ رہی تھی تو پہلے ہی کھا لیا “حمائل نے کہا اور وہاں سے جانے لگی جبکہ اکبری نے اسکو پکارہ ۔

 

مگر بی بی آپ نے تو صبح بس ناشتہ کیا تھا وہ بھی تھوڑا سا “اکبری کو اسکی فکر ہوئ ۔۔۔ اسکی اداس آنکھیں ۔۔۔ جیسے اکبری کا دل پسیج رہی تھیں جبکہ جس کا دل نرم ہونا چاہیے تھا اور بھی سخت ہو گیا ۔۔۔۔

بھوک نہیں مجھے” حمائل نے نرمی سے کہا اور کچن سے باہر نکلی ۔۔۔ شکرتھا حال کمرے کا سامنا کچن سے نہیں تھا وہ باہر نکل کر اپنے روم میں چلی گئ ۔۔۔ جبکہ اکبری ہال کمرے میں آئ اور ان سب کو کھانا لگانے کی اطلاع دی ۔۔

ہاں یار بہت بھوک لگی ہے ” قیصر بولا۔۔۔۔

چلو پھر اٹھو ” صیام ہنس کر بولا۔۔۔اور وہ سب ٹیبل پر بیٹھ گئے ۔۔

پیچھلی باتوں میں وہ سب اتنا مگن تھے کہ کسی اور کی ہوش نہیں رہی اکبری نے کھانا لگا دیا اور خوش گپیوں میں کھانا کھایا جانے لگا ۔۔

ویسے تمھاری منکوحہ نہیں نظر آ رہی ۔۔۔ ہمیں آئے ہوئے تین دن ہو گئے ہیں مگر وہ سامنے نہیں آئیں ۔۔۔۔”ارمان نے کہا ۔۔ توصیام نے اسکیطرف دیکھا ۔۔ جبکہ علینہ نے ارمان کیطرف  گھور کر دیکھا قیصر اور ارسلان کا بھی یہ ہی حال تھا ۔۔۔

 

ارمان اسکا کیا ذکر ہے بھلا “علینہ بیچ میں بولی ۔۔

کیوں وہ گھر کا فرد ہے اسے ہمارے ساتھ کھانا کھانا چاہیے”ارمان نے ڈانٹا چلائے جبکہ قیصر جو ان میں بڑا تھا ارمان کو گھورا ۔۔

صیام البتہ چپ چاپ کھانا کھانے لگا ۔۔۔۔ علینہ نے بھی ارمان کو گھورا اور۔۔۔۔

اس طرح یہ موضوع ختم ہو گیا۔

میں نے سنا تھا تم نے ہیوئ بائیک کا نیو ماڈل منگایا ہے ۔۔۔”صیام ارسلان سے بولا ۔۔

ہاں یار مگر بابا مان نہیں رہے ۔۔۔اور میرے پاس اتنے پیسے نہیں” وہ ہنس پڑا جبکہ سب مسکرا دیے ۔

 

اکبری ابھی انھیں کے پاس کھڑی تھی کہ اچانک اماں خود ہی باہر نکل کر آ گئیں ۔۔۔ اکبری نے جلدی سے انکا ہاتھ تھاما اور صیام بھی اپنی جگہ سے اٹھا ۔۔۔

تو ۔۔۔ اماں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے مسکراتے ہوئے بیٹھنے کا کہا بیٹھو بچو بیٹھو ۔۔ بس میں نے سوچا میں بھی تم لوگوں کے ساتھ کھانا کھا لوں “وہ مسکرائیں ۔۔

بلکل آنٹی آپ نے صیحی سوچا۔۔ علینہ بولی تو سب نے سر ہلایا  ارے میری بیٹی کہاں ہے ” بیٹھتے ساتھ ہی انھیں حمائل کی کمی محسوس ہوئ ۔۔۔

سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگے ۔۔۔۔ جبکہ صیام نے انکے لیے پلیٹ تیار کی ۔۔

اماں آپ کھانا شروع کریں ” صیام نے کہا تو انھوں نے نفی میں سر ہلا دیا ۔۔۔

میں تو روز اسی کے ساتھ کھاتی ہوں آج تو میرے کمرے میں آئ ہی نہیں ۔۔۔۔ جا اکبری بلا کر لا حمائل کو ” اماں بضد ہوئ تو اکبری پلٹ گئ اور حمائل کے کمرے میں آ گئ ہو جو آنکھوں پر ہاتھ رکھے لیٹی ہوئی تھی ۔۔

 

حمائل بی بی “وہ بولی تو حمائل نے ہاتھ ہٹایا ۔ بی بی آپکو بڑی  بی بی بلا رہی ہیں” اکبری نے کہا جبکہ حمائل اٹھی ۔۔

انکی طبعیت تو صیحی ہے تم نے انھیں دوائ دے دی ” وہ پریشان لگی ۔۔ بی بی وہ تو کھانا ہی نہیں کھا رہی “

 

ماں بھی بچوں والی کبھی کبھی حرکت کرتی ہیں وہ مسکرا کر اٹھی یہ جانے بنا کہ آج وہ اپنے کمرے میں نہیں سب کے ساتھ کھا رہی ہیں ۔۔ وہ نیچے آئ اور ٹیبل کیطرف جانے کے بجائے حال روم کے باہر سے ہی اماں کے روم میں جانے لگی ۔۔

 

بی بی وہ سب کے ساتھ کھا رہی ہیں ادھر” اکبری سر جھکا کر بولی ۔۔ جبکہ حمائل نے اکبری کو دیکھا ۔۔۔

کچھ پل اسکو دیکھتی رہی اور اکبری شرمندہ سی تھی اور چار نگار کچھ دیر بعد وجود میں جنبش کرتی وہ ہلی اور اندر کی جانب چل دی ۔۔ ارے آ گئ حمائل” اماں اسکو دیکھ کر بولی تو سب کی نگاہ حمائل پر گئ ۔۔۔

صیام نے البتہ مڑ کر نہیں دیکھا تھا وہ چپ چاپ کھا رہا تھا علینہ نے اسکے سوگوار سے سادگی میں ڈھلے حسن کو۔۔ بھڑک کر دیکھا تھا ۔۔۔اور قیصر اور ارسلان نے بھی اسکو بھرپور اگنور کر دیا جبکہ ارمان کی نگاہ اسپر ٹک ہی گئ اسے یقین ہی نہیں آیا کہ یہ لڑکی صیام خان کو پسند نہیں ۔۔

یہ لڑکی ” وہ حیران تھا حمائل نظریں جھکائے اماں کے پاس آ گئ ۔۔۔

تم نے کھانا نہیں کھایا ” اماں نے اسکو دیکھا ۔۔ اماں کھا لیا تھا وہ اماں کیطرف متوجہ تھی ۔۔۔۔

اچھا ٹھیک ہے میرے ساتھ تھوڑا سا کھا لو ۔۔ چلو بیٹھو ۔۔ صیام ادھر ہو جاؤ یہ یہاں بیٹھے گی ” وہ بولیں تو صیام نے انکی جانب دیکھا ۔۔۔

کاش وہ جواب دے سکتا مگر وہ جواب دیے بںا اٹھ کر جگہ تبدیل کر چکا تھا ۔۔

اماں خوش تھیں وہ دونوں ساتھ ساتھ بیٹھے تھے آج پہلی بار اکبری سے کہہ کر حمائل کی پلٹ تیار کرائ اور اسکے آگے رکھ کر وہ سب بچوں سے بات کر رہیں تھیں ۔۔ جبکہ ارمان کی نظر بار بار حمائل پر ہی اٹھ رہی تھی ۔۔۔

 

بیٹا طبعیت خراب ہے جو کھا نہیں رہی”وہ کچھ دیر بعد حمائل سے بولیں ۔۔

نہیں اماں میں ” ایکدم ٹیبل کے نیچے سے اسکا ہاتھ صیام کے ہاتھ میں قید ہو گیا ۔۔۔

کھا رہی ہوں ” حمائل نے مدھم سی مسکراہٹ سے کہا ۔۔۔ اورکانٹا اٹھا کر کھانے لگی ۔۔

 

ڈرامے جتنے کرنے ہوں میرے سامنے کیا کرو چپ چاپ کھانا کھاؤ “وہ مدھم لہجے میں اماں کے متوجہ ہوتے ہی غرایا ۔۔۔

حمائل نے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی ۔۔ مگر اسنے نہیں چھوڑا ۔۔۔اور اسے یوں ہی کھانا کھانا پڑا۔۔۔

کھانا ۔۔۔ اماں کے بقول خوشگواری ماحول میں کھایا گیا ۔۔۔ جبکہ باقی سب حمائل کی وجہ سے بے حد اریٹیٹ ہو رہے تھے

جو کہ حمائل نے بھی محسوس کیا تھا ۔۔۔ اماں نے کھانا کھایا ۔۔اور حمائل کے سر پر پیار کرتیں اٹھ گئیں ۔۔ انکے جاتے ہی ۔۔ حمائل نے بھی اپنی ۔۔ پلیٹ دور کی اور اٹھنے لگی ۔۔ جبکہ صیام نے بھی اسکا ہاتھ چھوڑ دیا ۔۔

ارے آپ بیٹھیں نہ جا کیوں رہی ہیں ہم تو آپ سے ملے بھی نہیں “ارمان نے ہلکی سی سمائل سے کہا ۔۔۔ حمائل مہمان نوازی نبھانے کو مسکرائ ۔۔

میں زرا مصروف ہوں ” وہ بولی اور چلی گئ۔۔۔ جبکہ ارمان نے سر ہلا دیا ۔۔

صیام نے ارمان کیطرف دیکھا جس کے چہرے پرمدھم مسکان تھی۔۔ علینہ ۔۔۔ قیصر اور ارسلان بھی یہ منظر دیکھ چکے تھے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلی صبح حمائل سب کے اٹھنے سے پہلے ہی ۔۔۔ لون میں آگئ ۔۔۔

طبعیت عجیب بھوجل سی تھی وہ سب ۔۔۔ صیام کے پورشن میں تھے جبکہ چچا چچی اماں کے پورشن میں سب ہی سو رہے تھے تبھی وہ لون میں آ گئ ۔۔

صبح کی پہلی تازی ہوا نے اسکے چہرے پر اپنے آپ مسکراہٹ بکھیر دی تھی ۔۔۔

ارمان جوگنگ کر کے ابھی لوٹا تھا ۔۔۔ لون میں اسکو دیکھ کر وہ اسکے پاس آ گیا ۔۔۔

ایک دم وہ بولا تو حمائل ڈر گئ ۔۔۔۔

ڈر کر اسکو دیکھنے لگی ۔۔

ارے اتنا سا دل “وہ ہنسا ۔۔

آپ نے مجھے ڈرا دیا “حمائل نے سنبھل کر کہا ۔۔

اوکے سوری”ارمان نے کہا تو حمائل مسکرا دی ۔۔۔۔

آپ یہاں اسوقت “ارمان نے بات چھڑانے کو پوچھا ورنہ وہ چلی جاتی ۔۔

میں اسی وقت اٹھتی ہوں “حمائل نے کہا۔۔

کیا ہم دونوں ساتھ واک کر سکتے ہیں” ارمان نے پوچھا حمائل نے ایک نگاہ اسپر ڈالی۔۔۔۔

اگر آپکو برا لگا تو ۔۔۔ رہنے دیں اٹس اوکے “ارمان نے کہا اور بالوں میں ہاتھ پھیرہ حمائل کچھ دیر کے توقف کے بعد سر ہلا گئ ۔۔۔

ارمان ایک دم خوش ہو گیا ۔۔۔۔

آپ نے کتنا پڑھا ہے “وہ پوچھنے لگا حمائل نے اسکیطرف دیکھا وہ کیوں اس کے بارے میں جاننا چاہ رہا تھا ۔۔

میں نے بس ایف آئے ۔۔۔ اماں کی طبعیت خراب رہتی تھی اسی وجہ سے تعلیم جاری نہیں رکھی

اور پھر ایف اے کے بعد آپکا نکاح ہو گیا “ارمان نے بات پوری کی ۔۔ حمائل نے سر ہلا دیا ۔۔

دوبارہ پڑھنے کا نہیں سوچا “وہ پوچھنے لگا ۔۔ حمائل نے سر نفی میں ہلا دیا۔۔

آپ کچھ زیادہ ہی پریشان رہتی ہیں اور یقین مانے میرا پریشان لوگوں میں کوئ خاص انٹرسٹ ہوتا ہے ” وہ ہنس دیا ۔۔۔۔

جبکہ حمائل اسکو عجیب نظروں سے دیکھنے لگی ۔۔ اوہ ۔۔۔ ڈونٹ وری ۔۔۔ یہ مت سوچیے کہ ۔۔ میں فلرٹ کر رہا ہوں “وہ کچھ زیادہ ہی ۔۔ فری تھا بولا ۔۔۔۔ اور ہنسنے لگا ۔۔۔

حمائل کو اسکی اس بات سے تسلی ہوئ اور پہلے جو وہ اس سے گھبرا رہی تھی جیسے اب کچھ گھبراہٹ کم ہوئ ۔۔۔

آئ ہیو گرل فرینڈز ٹو ۔۔” وہ بولا ۔۔۔  حمائل نے خاموشی ے اسکو دیکھا ۔۔

میرا مطلب میری ایک دوست ہے مجھے پسند ہے کیا آپ اسکی تصویر دیکھنا چاہیں گی”ارمان کی بات پر حمائل نے جلد سے سر ہلایا ۔۔

 

اوہ لیڈی ایکسائڈیڈ” وہ ہنسا ۔۔۔ اور اپنا سیل فون نکالا ۔۔ حمائل منتظر نظروں سے ۔۔ دیکھنے لگی ۔۔

آپکے پاس سیل فون نہیں”

نہیں کبھی ضرورت نہیں پڑی”حمائل نے شانے آچکا دیے ۔۔۔

اچھا یہ دیکھیں ۔۔ یہ ایک بہت تیز لڑکی ہے ۔۔سچ بتاو تو مجھے ایسی ہی بہت پسند ہے ” اسکی آنکھوں میں محبت تھی ۔۔۔

حمائل مسکرا دی ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 اسکی آنکھ کھلی ۔۔۔۔ تو پانی کی پیاس کی طلب سی ہوئ ۔۔۔ وہ اٹھا ۔۔۔ پانی پیا تو نیند بھی اڑ گئ ۔۔۔

فریش ہونے کی نیت سے وہ واشروم جانے سے پہلے گلاس وال پر سے پردے ہٹا گیا ۔۔۔

مگر سامنے کا منظر ۔۔ حیران ہی کر گیا ۔۔

حمائل وہ حمائل جس کے منہ پرصیام نے کبھی ہلکی سی مسکراہٹ نہیں دیکھی تھی

وہ سامنے ارمان کے ساتھ کھڑی منہ پر ہاتھ رکھے ہنس رہی تھی جبکہ ارمان بھی سیل فون پر کچھ دیکھا کر ہنس رہا تھا ۔۔۔

وہ نہیں جانتا تھا مگر اسے یہ منظر بہت ہی برا لگا ۔۔۔

وہ پلٹا اور فریش ہوا چٹکیوں میں ۔۔۔۔ اور نیچے آ گیا ۔۔۔

اماں کے پورشن کیطرف ۔۔۔ آ کر وہ لون میں اترنے سے پہلے اپنی گھڑی کو دیکھنے لگا ۔۔ صبح کے 7 بج رہے تھے

اور پھر پتہ کیا ہوا۔۔۔ وہ گیرگئ” اسے ارمان کی آواز آئ ۔۔ جبکہ حمائل ایکدم ہنس پڑی ۔۔۔

یعنی آپ تو بہت بدتمیز ہیں “

یار اسکی جیسی باتیں تو نہ کرو ۔۔۔” وہ ہنس دیا ۔۔

آپ نے اتنا برا مذاق کیا ۔۔۔۔ تو غصہ تو آنا ہی تھا ” حمائل نے سر نفی میں ہلایا ۔۔۔۔

اب خیر اتنا برا بھی نہیں تھا ۔۔ کسی پر پانی پھینک دینا ” وہ دونوں پھرسے ہنسنے لگے جبکہ ۔۔ صیام گھیرہ سانس بھرتا ۔۔ نیچے اترا ۔۔۔ اور انکے نزدیک انے لگا ۔۔

ارے تم” ارمان نےا سکو دیکھا ۔۔

ہاں میں کیوں ۔۔ کوئ پرسنل بات تھی”صیام نے سپاٹ لہجے میں کہا ۔۔۔

پرسنل ۔۔ ہاں ٹاپ سیکرٹ ہے” ارمان نے آنکھ ماری۔۔ اسکے ساتھ کھڑی اسکی بیوی کو صیام نے مٹھیاں بند کر لیں اور حمائل کو دیکھا جو خاموشی سے سر جھکا گئ تھی

اوکے میں چلتا ہوں آپ ناشتہ ریڈی کریں میں ڈریس چینج کر کے آیا ” اسنے حمائل سے کہا جس نے سر ہلا دیا ۔۔

اورارمان وہاں سےبھگتا وہاں نکل گیا ۔۔۔ حمائل نے بھی قدم واپسی کے لیے لیے تو ۔۔ صیام نے اسکا ہاتھ جکڑ لیا ۔۔

اسے غصہ آ رہا تھا کیوں ۔۔ وہ نہیں جانتا تھا مگراسے غصہ آ رہا تھا ۔۔۔

ابھی یہاں کھڑی اسکے ساتھ تو بہت باتیں بھنگار رہی تھی اچانک میرے آتے ہی کیوں ۔۔۔ جا رہی ہوں ” وہ تلخی سے بولا ۔۔۔

میں  ناشتہ بنانے جا رہی ہوں ”  حمائل نے اپنا ہاتھ ھ چھڑوانا چاہا ۔۔۔ صیام نے جھٹک کر اسکا ہاتھ چھوڑا کے وہ پیچھے ہوئ ۔۔۔

 

کیا بات کر رہا تھا وہ “صیام نے سوال کیا ۔۔۔ چہرے پر بلا کی سختی تھی لہجہ کھردرا تھا یہ تو منظر اسکے لیے عام ہی تھا کچھ نیا نہیں تھا ۔۔

ہمیشہ سے وہ ایسا ہی تھا اسکے ساتھ ۔۔۔۔ کچھ نہیں پوچھ رہے تھے کتنا پڑھی

 ہوں ۔۔ سیل یوز نہیں کرتی بس “

تو ہنسی کس بات پر آ رہی تھی”صیام نے عجلت میں پوچھا ۔۔ حمائل کو ارمان کی بات یاد آئ…

پلیز کسی کو مت بتائیے گا میں نے ابھی مشل کے بارے میں کسی کو نہیں بتایا ۔۔۔۔

کچھ نہیں ” حمائل بولی اور وہاں سے پھر سے جانے لگی ۔

صیام اسکے راستےمیں آ گیا ۔۔۔ اسکے لیے تم ناشتہ بناؤ گی “

رات کھانا میں نے سب کے لیے بنایا تھا صیام ۔۔۔ آپ تو مجھے سے بات کرنا پسند نہیں کرتے آپکا بہت وقت ضائع ہو چکا ہے ” حمائل بولی لہجہ وہی تھاعام سا ۔۔۔ معمولی ۔۔ وہ وہاں سے نکل کر چلی گئ ۔۔ جبکہ پیچھے سے صیام نے مٹھیاں سختی سے بند کر لیں ۔۔ اور وہ بھی اندر آ گیا ۔۔۔

 

اسنے حمائل کو دیکھا ۔۔ جو کچن میں تھی ۔۔۔

وہ ادھر ادھر کشن اٹھا کر پھینکنے لگا بار بار اسکی پشت پر بھی نگاہ ڈال لیتا ۔۔۔۔

اکبری یہ صفائ کی ہے تم نے “بلاوجہ غصے سے بھڑکا ۔۔۔ جبکہ ۔۔۔ اسکی آواز پر حمائل بھی مڑی ۔۔

خان جی دوبارہ کر دیتی ہوں “وہ جلدی سے بولی ۔۔ صیام نے کشن زمین پر پٹخ دیا ۔۔

مہمان آئے ہوئے ہیں چند دن میں چلے جائیں گے یوں مہمان نوازی کرتے ہیں” وہ بھڑکا ۔۔

جبکہ ۔۔۔ حمائل کو لگا وہ اسے سنا رہا ہو ۔۔

اسنے ارمان کے لیے شیک بنائ اور ۔۔۔ اکبری سے کہا ٹیبل پر لگ جائے ۔۔

اماں کے لیے ناشتہ بنایا ۔۔۔ اور ساتھ کے ساتھ صیام کے لیے بھی ناشتہ بنا کر ۔۔۔ اسنے اکبری کے ہاتھ اماں کا ناشتہ بھجوایا ۔۔۔

اور ٹیبل پر دوسری ملازمہ سے ناشتہ لگوا دیا ۔۔

صیام ٹیبل پر ہی موجود تھا تب ارمان ایا ۔۔

حمائل نہیں کرتی تمھارے ساتھ ناشتہ ” وہ بیٹھتا ہوا بولا ۔۔۔۔

صیام کے ایک دم یہ بات بجلی کیطرح لگی کہ وہ کیسے فارمل وہ کر حمائل کا نام لے رہا تھا ۔۔۔۔

نہیں” صیام نے ضبط سے جواب دیا ۔۔۔

تب تک قیصر ارسلان بھی اٹھ گئے علینہ دیر سے اٹھتی تھی ۔۔

چچی چچا نے بھی اپنے کمرے میں بلا لیا تھا… اچھا ۔۔ تو بولا لیتے ہیں انھیں بھی” ارمان نے کہا ۔۔اور اکبری کو اسکو لانے کا کہا

اکبری جی صاحب کہہ کر اماں کے کمرے میں چلی گئ جہاں حمائل تھی ۔۔ صیام چپ چاپ بیٹھا رہا وہ جانتا تھا وہ نہیں آئے گی ۔۔

جبکہ ارمان نارملی ۔۔۔ سیل یوز کرتے ہوئے شیک پی رہا تھا ۔۔۔

جو کہ حمائل نے بنایا تھا ۔۔۔

صیام نے اسکی جانب دیکھا ۔۔

اونچا لمبا قد کلین شیو وہ لڑکا ۔۔۔۔

شہری سا خوبصورت تھا ۔۔۔

قیصر اور ارسلان کی نسبت ۔۔۔ صیام نے نگاہ ہٹا لی مگر جیسے ہی حمائل حال میں داخل ہوئ دوسری طرف صیام اس کو ایک ٹک دیکھتا رہ گیا۔۔۔۔۔

اوہ ہائے لیڈی” ارمان بولا ۔۔

اٹس اوسم یار ۔۔۔ اتنا اچھا شیک میں نے کبھی نہیں پیا ” وہ بولا ۔۔قیصر ارسلان حیرت سے اسکو دیکھنے لگے ۔۔

شکریہ”حمائل نے مسکرا کر جواب دیا ۔۔

ویسے واقعی کھانا آپ اچھا بناتی ہیں” قیصر کو بھی ماننا پڑی ۔۔۔

حمائل خوش سی ہوگئ ۔۔

بولتی بھی اچھا ہیں بھائ ۔۔” ارمان نے کہا ۔۔ قیصر حیران ہوا ۔۔۔

جبکہ ارسلان نے بھی بیچ میں بولنا ضروری سمجھا ۔۔۔

ہاں وہ لوگ اسکو اگنور کرتے تھے مگر زاتی بیر کوئ نہیں تھا اس سے اور ارمان کو اس طرح بات کرتے دیکھ۔ انھیں بھی اڈمیٹ کرنا پڑتا ۔۔ کہ وہ کھانا لزیز بناتی تھی ۔۔۔

تم نے کہاں سن لیا انکا بولنا “ارسلان نے پوچھا ۔۔۔ حمائل خفیف سی ہونے لگی ۔۔۔

ارے ابھی تو دونوں باہر بات کر رہے تھے”ارمان نے شانے آچکاے ۔۔

اوہ اچھا ” ارسلان نے کہا ۔

آپ ناشتہ کریں ہمارے ساتھ” صیام نے کہا ۔۔ تو حمائل نے نفی کی ۔۔۔۔

نہیں میں اماں کے ساتھ کر چکی ہوں اگر آپکو کچھ اور کھانا ہیں تو بتا دیں “

کیا واقعی آپ بنائیں گی میرے لیے” ارمان حیران ہوا ۔۔۔

قیصر کو ہنسی آئ ۔ یہ بھی انھوں نے ہی بنایا ہے “

تو وہ تینوں ہنس دیے۔۔۔

حمائل ماں کے پاس جاؤ “صیام کی آگ اگلتی آواز ابھری ۔۔۔ تو ان سب کو اچانک جیسے سانپ سا سونگ گیا ۔۔

تم نے سنا نہیں میں نے کیا کہا ہے ۔۔ جسٹ گیٹ آؤٹ” وہ بولا ۔۔۔ تو حمائل شرمندگی سے وہاں سے نکل گئ ۔۔۔

ارمان قیصر اور ارسلان تینوں اسکو دیکھنے لگے ۔۔

تم ناشتہ کرو اکبری تمھیں بنا دے گی جو تمھیں چاہیے”صیام نے جواب بس اتنا ہی دیا اور وہاں سے اٹھ گیا ۔۔

اور کسی کو دیکھے بنا اماں کے روم میں آ گیا ۔۔۔ وہاں حمائل بھی موجود تھی ۔۔

اماں مجھے لگتا ہے حمائل کی طبعیت نہیں ٹھیک میں نے باہر بھی دیکھا ہے مشکل سے سانس لے رہی ہے ” وہ سرد لہجے میں بولا ۔۔

میری بیٹی تو ٹھیک ہے ۔۔ دیکھو ” اماں بولیں ۔۔

بتاو حمائل ۔۔۔ ابھی تم باہر اکھڑ اکھڑ ہے سانس کیوں لے رہی تھی” وہ آنکھوں میں وارنگ لیے بولا ۔۔

جبکہ ۔۔ حمائل نے اسکیطرف دیکھ کر سر ہلا دیا ۔۔۔

تم چادر لے لو میں ڈاکٹر کے پاس لے جاتا ہوں ” وہ کہہ کر نکل گیا جبکہ اماں اپنے بیٹے کا اسکا خیال رکھنے پر کافی خوش ہوئیں ۔۔

 

جا میری بچی ” وہ بولیں تو حمائل باہر نکل آئ ۔۔۔

اور صیام نے اسکا ہاتھ جکڑ لیا ۔۔ وہ خاموشی سے اسے اپنے پورشن میں گھسیٹ کر لے آیا ۔۔۔

حمائل حیرانگی سے اسکو دیکھ رہی تھی ۔۔

کیا کر رہی ہو یہ تم ” صیام نے اسکا منہ جکڑ کر پوچھا ۔۔۔ صیام آپ مجھے اپنے کمرے میں کیوں لے آئے “حمائل خود کو چھڑانے کی کوشش میں اپنا قصور جاننا چاہ رہی تھی ۔۔

صیام خود نہیں سمھجہ پا رہا تھا اسکوجھٹک کر اسنے زور زور سے مکے دیوار پر برسا دیے ۔۔۔ حمائل دیوار سے لگی ۔۔

اسکو بھیگی نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔اور ایکدم وہ اسکے نزدیک ہوا ۔۔۔

اور اسکی سانسوں کو قبضے میں جکڑ لیا ۔۔۔۔ حمائل سن ہو گئ ۔۔۔ اسکے عمل میں شدت تھی ۔۔۔۔

 

اتنی کے حمائل تڑپ سے اٹھی تھی سانس لینے میں دشواری ہوئ ۔۔۔۔ مگر صیام نے جیسے اندر کی آگ بھجانی تھی۔۔۔

وہ تادیر اسکو تڑپاتا رہا ۔۔۔۔ اور جب اس سے جدا ہوا تو۔۔ حمائل کو اسکا ہی سہارا لینا پڑا۔۔۔۔۔

یہ اوقات ہے تمھاری ۔۔ ۔۔ مت نکلو اپنی اوقات سے “

اسکے لفظوں کے معنی جاننے کے لیے حمائل نے سرخ آنکھیں کھولی ۔۔

کیا کیا ہے میں نے جو مجھے میری اوقات بتائ ہے آپ نے “

وہ سوال کر اٹھی ۔۔۔

صیام خان اپنے منہ سے کیسے بتاتا ۔۔ کہ مجھے تمھارا وجود ارمان کے ساتھ اچھا نہیں لگ رہا ۔۔۔

آنا کے جس معیار پر وہ تھا وہ مر جایا جاتا ہے مار دیا جاتا ہے ۔۔ مگر اندرونی کیفیت نہیں بتائ جاتی ۔۔جبکہ وہ خود اپنی حرکت پر زیادہ غصہ تھا اسے فرق نہیں پڑنا چاہیے تھا مگر فرق پڑرہا تھا اور ۔۔ اسنے حمائل وہ خود سے دور کر دیا ۔۔

چلی جاؤ یہاں سے ” صیام بولا اور رخ موڑ گیا ۔۔۔۔

آپ میرا علاج کرتے ہیں ۔۔ مجھے سزا دیتے ہیں ۔۔۔۔ یہ اپنی ماں کو بیوقوف بناتے ہیں ” حمائل کی سانسیں اکھڑ گئیں۔۔

وہ دیوار کا سہارا لیتی پھر بھی بولی ۔۔۔

منہ بند کرو اور جاؤ کہا ہے نہ” وہ غصے میں لگا ۔۔۔ جبکہ حمائل واقعی اسکے پاس نہیں رہنا چاہتی تھی باہر نکل گئ ۔۔۔

وہ باہر نکلی تو اسکے چلنے سے بھی سانسیں پھول رہیں تھیں ۔۔۔ ارمان جو صیام کے پاس ہی آ رہا تھا یہ دیکھ کر حمائل کے نزدیک ہوا ۔۔

حمائل کیا ہوا ہے ” وہ بولا ۔۔۔

کچ۔۔کچھ نہیں ۔۔ یہ عام سا مسلہ ہے “حمائل نے بتایا ۔۔۔

مجھے لگتا ہے آپکو دمے کا مسلہ ہے اسی حالت میں انسان سے سانس نہیں لیا جاتا ۔۔ یہ پھر تھروٹ الرجی”وہ اندازے لگانے لگا ۔۔۔

حمائل نے ہمت کر کے چلنے کی کوشش کی ۔۔۔۔

اور ارمان نے اسکو سہارا دیا ۔۔ وہ کسی بھی وقت گر جاتی ۔۔ تبھی صیام نے دروازہ کھول لیا ۔۔۔۔

دونوں کو دیکھ کر۔۔۔ وہ شاکڈ رہ گیا ۔۔۔ جبکہ حمائل تو لہرا کر زمین بوس ہوئ تھی ۔۔۔

حمائل”ارمان ایکدم بولا ۔۔۔۔

صیام ۔۔۔۔ البتہ سن کھڑا تھا ۔۔۔

آہستگی سے اسکے نزدیک آیا ۔۔ جاؤ تم دیکھ لو گا میں “

مگر “

ارمان ” صیام چلایا ۔۔۔۔

اپنے کام سے کام رکھو میرے بیوی کے نزدیک بھی اب مجھے نظر مت آنا ورنہ میں سب بھول جاؤ گا ” صیام کی بات پر ارمان سن سا رہ گیا..

صیام نے حمائل کو بازؤں میں ایک ہی جست میں اٹھا لیا ۔۔اورا سکے سامنے جیسے حق جتاتا وہ اسے اپنے کمرے میں لے گیا..

 

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Read online Urdu novels, Revenge Based Novels, Tania Tahir Novels, romantic story , Revenge Novel , at this website Novelsnagri.com for more Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit website and give your reviews. you can also visit our facebook page for more content Novelsnagri ebook

1 thought on “Revenge Based Novels | یہ عشق کی تلاش ہے Epi #7 | Tania Tahir”

Leave a Comment

Your email address will not be published.