revenge based urdu novels, saaiyaan Epi 13

revenge based, urdu novels, online Urdu novels, saaiyaan novel revenge based & novel is full of emotions, romance, suspense & thrill, Story of a girl who wants to follow the society style. Novel written by Bisma Bhatti.

Web Special Novel, revenge based, urdu novels,

 

سائیاں

#از_قلم_بسما_بھٹی

#قسط_13

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
میرے عشق کا ثبوت نا مانگ ۔۔۔
میں تو ازل سے قفط تیرا ہی ہوں ۔۔۔
” ماہم سعیر شاہ ولد سعیر شاہ کا نکاح احسام فرید شاہ ولد فرید شاہ سے دس لاکھ حق مہر سکہ رائج الوقت طے پایا ہے کیا آپ کو قبول یے ؟” مولوی کے الفاظ ماہم کے کانوں سے ٹکڑائے ۔
ایک بے تاثر نگاہ سامنے اٹھائی اور پردے کے اس طرف سپاٹ چہرے سے بیٹھے احسام شاہ کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔ دیکھ رہا تھا کہ نکاح کرے گی بھی یا نہیں ۔
اس کا دل کیا کہ ابهى انکار کر دے لیکن اسے ملیحہ اور اپنے بھائی کاچہرہ نظرآ گیا جن کی خوشیاں اس کے ذریعے ہی ملنی تهی ۔
ایک گہرا سانس لیا ۔
” یاں مجھے عنابیہ پسند ہے ” اس کے کانوں میں احسام کے الفاظ گونجے ۔
” قبول ۔۔۔ ہے ” دل پر پتھر رکھ کر اس نے اپنی زبان سے کلمات ادا کیے ۔
احسام کے ماتھے پر بل پڑے کیونکہ وہ ماہم کے سپاٹ سنجیدہ چہرے سے جان گیا تھا کہ یہ لڑکی اسے ٹف ٹائم دینے والی تهی ۔ کیا تھا اگر یہ انکار کر دیتی ۔ لیکن اب کیا ہو سکتا تھا ۔
پھر احسام شاہ سے پوچھا گیا ۔ اس نے ایک نظر ماہم کو دیکھا جو اب اسے نہیں دیکھ رہی تھی بلکہ بے تاثر نگاہوں سے دوسری طرف دیکھ رہی تھی لیکن وہ احسام شاہ کی نظروں سے انجان نہیں تهی ۔
اس نے گہرا سانس لیا اور قبول ہے کہہ دیا جو اس نے کبھی عنابیہ کے لیے سوچا تھا ۔
اور اس اعجاب و قبول میں دونوں ہی سپاٹ چہرہ لیے بیٹھے تھے اور کوئی نہیں جانتا تھا کہ ان کی نبھ بھی جائے گی یا نہیں ۔
لیکن ایک ہستی تھی شاہ حویلی میں جو جانتی تھیں بلکہ پورا یقین رکھتی تھیں کہ احسام اس رشتے کو بہت اچھے سے نبھا دے گا کیونکہ ماہم کوئی عام لڑکی نہیں تهی ۔ اللّٰه نے اسے حسن و سیرت دونوں سے نوازا تھا ۔ وہ یہ بھی جانتی تھیں کہ احسام تو ماہم کی اک قربت کی مار ہے ۔
اپنے ہر ہر لفظ کا خود آئینہ ہو جاؤں گا
اس کو چھوٹا کہہ کے میں کیسے بڑا ہو جاؤں گا
تم گرانے میں لگے تھے تم نے سوچا ہی نہیں
میں گرا تو مسئلہ بن کر کھڑا ہو جاؤں گا
مجھ کو چلنے دو اکیلا ہے ابھی میرا سفر
راستہ روکا گیا تو قافلہ ہو جاؤں گا
ساری دنیا کی نظر میں ہے مرا عہد وفا
اک ترے کہنے سے کیا میں بے وفا ہو جاؤں گا
____________
” ملیحہ شاہ ولد فرید شاہ کا نکاح زامل سعیر شاہ ولد سعیر شاہ سے دس لاکھ سکہ رائج الوقت طے پایہ ہے قبول ہے ؟ ” مولوی اب ملیحہ کے سمانے بیٹھا پوچھ رہا تھا ۔
” قبول ہے ” ملیحہ نے ایک سیکنڈ نہیں لگایا تھا یہ کہنے میں کیونکہ وہ زامل کی بس ہونا چاہتی تھی تا کہ جیسے بھی حالات ہوں وہ اس کا ساتھ نا چھوڑے ۔
یہی سلسلہ پھر زامل کی طرف ہوا ۔ جس کا دل اس وقت اتنا سخت ہو گیا تھا کہ ایک نظر بھی اٹھا کر سامنے اپنے نام کی سجی سنوری دلہن کو نہیں دیکھا ۔ لیکن اس کی حکمرانی زامل شاہ نے دل سے قبول کی تھی ۔ بس اسے انتظار تھا وقت بدلنے کا جب احسام شاہ کو اس کی بہن کی قدر ہو گی ۔
ملہحہ نے آد شکر ادا کیا کہ خدا نے اسے اس کی محبت کے نام لکھ دیا ۔
مرض عشق جسے ہو اسے کیا یاد رہے
نہ دوا یاد رہے اور نہ دعا یاد رہے
تم جسے یاد کرو پھر اسے کیا یاد رہے
نہ خدائی کی ہو پروا نہ خدا یاد رہے
لوٹتے سیکڑوں نخچیر ہیں کیا یاد رہے
چیر دو سینے میں دل کو کہ پتا یاد رہے
رات کا وعدہ ہے بندے سے اگر بندہ نواز
بند میں دے لو گرہ تا کہ ذرا یاد رہے
قاصد عاشق سودا زدہ کیا لائے جواب
جب نہ معلوم ہو گھر اور نہ پتا یاد رہے
دیکھ بھی لینا ہمیں راہ میں اور کیوں صاحب
ہم سے منہ پھیر کے جانا یہ بھلا یاد رہے
تیرے مدہوش سے کیا ہوش و خرد کی ہو امید
رات کا بھی نہ جسے کھایا ہوا یاد رہے
کشتۂ ناز کی گردن پہ چھری پھیرو جب
کاش اس وقت تمہیں نام خدا یاد رہے
خاک برباد نہ کرنا مری اس کوچے میں
تجھ سے کہہ دیتا ہوں میں باد صبا یاد رہے
گور تک آئے تو چھاتی پہ قدم بھی رکھ دو
کوئی بیدل ادھر آئے تو پتا یاد رہے
تیرا عاشق نہ ہو آسودہ بہ زیر طوبیٰ
خلد میں بھی ترے کوچے کی ہوا یاد رہے
باز آ جائیں جفا سے جو کبھی آپ تو پھر
یاد عاشق کو نہ کیجے گا بھلا یاد رہے
داغ دل پر مرے پھاہا نہیں ہے انگارا
چارہ گر لیجو نہ چٹکی سے اٹھا یاد رہے
زخم دل بولے مرے دل کے نمک خواروں سے
لو بھلا کچھ تو محبت کا مزا یاد رہے
حضرت عشق کے مکتب میں ہے تعلیم کچھ اور
یاں لکھا یاد رہے اور نہ پڑھا یاد رہے
گر حقیقت میں ہے رہنا تو نہ رکھ خود بینی
بھولے بندہ جو خودی کو تو خدا یاد رہے
_______
” زمر شاہ ولد سامر شاہ کا نکاح کیف یوسف شاہ ولد یوسف شاہ کے ساتھ دس لاکھ سکہ رائج وقت طے پایا ہے کیا آپ کو قبول ہے “
زمر نے غصیلی نگاہیں اٹھا کر پاس کھڑی اپنی ماں کو دیکھا جو دل تھامے پریشان نظروں سے اسے دیکھ رہی تھیں کہ کہیں کچھ ایسا نا کر دے جو سب کے لیے نقصان دہ ہو ۔
پردے کی اوٹ میں بیٹھا کیف اس کے منہ سے ان دو جملوں کے بولنے کے لیے بےتاب تھا ۔ اس کی بے تابی اس کی تڑپ اس کی آنکھوں میں صاف عیاں تھیں ۔
” بولیں بیٹا قبول ہے ؟” مولوی نے دوسری بار پوچھا ۔
” نہیں ” سامنے بیٹھے کیف کو کٹر نگاہوں سے دیکھتی بولی ۔
کیف تڑپ اٹھا تھا ۔ ۔سب کے چہرے پر پریشانی عود آئی ۔
زوبیہ کے ماتھے پر بل پڑ گئے ۔ سہیلہ سامر کا سانس سینے میں ہی اٹک گیا تھا ۔ نہیں امید تھی کہ وہ سب کے سامنے انکار کر دے گی ۔
تبھی کیف پردہ اٹھاتا اس تک آیا ۔
زمر نے اسے بے تاثر نگاہوں سے دیکھا جو اسے قہر برساتی نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔ کیف شاہ کو بڑی برادری میں ریجیکٹ کیا گیا تھا یہ اتنی بڑی بات نا ہوتی اگر کیف شاہ کو زمر شاہ انکار نا کرتی ۔ وہ اسکی چاہت تھی ۔ اس کا انکار خنجر بن کر دل میں کھبا تھا ۔ اور کیف جانتا تھا کہ زمر شاہ کو اگر کوئی سنوار سکتا ہے تو وہ بس کیف یوسف شاہ ہے ۔
” دوبارہ پوچھیں ” کیف اس کی آنکھوں میں آ کھیں ڈالے کرختگی سے بولا ۔
مولوی نے یوسف شاہ کو دیکھا جنہوں نے سر ہاں میں ہلا کر اجازت دی ۔
” زمر شاہ ولد سامر شاہ کا نکاح کیف یوسف شاہ ولد یوسف شاہ کے ساتھ دس لاکھ سکہ رائج وقت طے پایا ہے کیا آپ کو قبول ہے ” مولوی نے دوبارہ پوچھا ۔
” قبول یے بولو ” کیف کے لہجے کی وحشت نے زمر کی آنکھوں میں ایک دم ڈر پیدا کر دیا تھا ۔
اتنا ترخ انداز تھا کہ کیف کی موجودگی زمر کو ایسے لگ رہی تھی کہ اگر وہ زرا بھی قریب ہوا تو اس کے اندر جلتی تپش سے وہ بھسم ہو جائے گی ۔
زمر نے ہراساں نگاہوں سے کیف کو دیکھتے نفی کرنی چاہی کہ کیف نے اس کا جبڑا پکڑا ۔
ایک دم ماحول پریشان کن ہو گیا ۔ سب کی آنکھوں میں فکر پریشانی گھل گئ ۔
کیف اس کے ریشم کے دوپٹے میں چھپے چہرے کو بھی باخوبی محسوس کر رہا تھا ۔
کیف نے اس کا جبڑا پکڑ کر اوپر نیچے سر کو کیا ۔ ّزمر کی آنکھوں میں نمی آ گئ ۔
” ق۔۔۔۔ قبول ۔۔۔ ہے ” اس کی لڑکھڑاتی زبان سے فقط اتنا نکلا ۔
تین دفعہ مولوی نے اس سے یہی سوال کیا ۔
تینوں دفعہ کیف کی گرفت نے اسے قبول ہے کہنے پر مجبور کر دیا ۔
وہ ہراساں نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔
اس کے قبول کرنے پر کیف کا دل ہلکا ہو گیا ۔ تنے اعصاب ایک دم سکون میں آ گئے ۔
آرام سے اس کا جبڑا چھوڑا ۔ وہ محسوس کر سکتا تھا کہ اس کی پکڑ سے زمر کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا ۔
زمر نے سر نیچے کر لیا. آنسو کی لڑی اس کی آنکھوں سے بہہ نکلی ۔
کیف نے اپنے سر پر ہاتھ پھیرا خود کو پرسکون کیا ۔ گہرا سانس لیتے وہ اپنی جگہ پر واپس بیٹھا ۔
” کیف یوسف شاہ ولد یوسف شاہ کا نکاح زمر سامر شاہ ولد سامر شاہ کے ساتھ دس لاکھ سکہ رائج الوقت کے طے پایا ہے کیا آپ کو قبول ہے !” مولوی نے اب کیف سے پوچھا جو سرد نگاہوں سے زمر کو دیکھ رہا تھا جس کی دوبارہ ہمت نہیں ہوئی تھی کیف کی طرف دیکھنے کی ۔
” قبول ہے ” کیف نے الفاظ ادا کرنے میں زرا بھی وقت نہیں لگایا تھا ۔ اس کی محبت آج پورے حق سے مل رہی تھی کیسے نا قبول کرتا ۔
تینوں مرتبہ کیف کی دھڑکنیں اگر دھڑک اٹھی تھیں تو صرف زمر شاہ کے لیے جو اس کا جنون تھا ۔
تجھ سے جو دھیان کا تعلق ہے
 پکے ایمان کا تعلق ہے
میری چپ کا تیری خاموشی سے
 روح اور جان کا تعلق ہے
ٹو سمجھتا ھے میرے لہجے کو
اور یہ مان کا تعلق ہے
 تجھ سے میرے خیال کا رشتہ
یعنی وجدان کا تعلق ہے
ٹو رہتا ھے دل میں یوں
 جیسے گھر سے سامان کاتعلق ہے
___________
تینوں دلہنوں کو ان کے شوہر کے کمرے میں پہنچا دیا گیا تھا ۔
شاہ حویلی میں ایسے شادیاں نہیں ہوتی تھیں ۔بڑے دھوم دھڑلے سے ہوتی تھیں تا کہ سب کو پتہ چلے کہ شاہ حویلی میں شادی تهی ۔ لیکن اس بار جو شادیاں ہو رہی تھیں ان میں کسی کی خوشء شامل نہیں تھی ۔ اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ ایسے ہی جوڑے بننے تھے لیکن جو حادثے شاہ حویلی میں ہو گئے تھے اس کے بعد دھوم دھڑلہ بہت مشکل تھا ۔
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
دروازہ کھول کر اندر آیا ۔ نظر بے اختیار بیڈ کی طرف بڑھی لیکن خالی بیڈ تھا یعنی وہ نہیں تھی ۔
چھنک کی آواز پر اس نے ڈریسنگ کی طرف دیکھا جہاں وہ آتش فشاں روپ میں دوپٹے سے الجھ رہی تھی جس سے پنز نہیں اتر رہی تھیں ۔
اس کا حسن سچ میں قابلِ تعریف تھا لیکن احسام شاہ جانتا تھا کہ ابھی ماہم شاہ اسے اپنے حسن کو سراہنے کا موقع نہیں دے گی ۔ پر یہ بھی تھا کہ احسام شاہ اس کے حسن سے بری طرح گھائل ہوا تھا ۔
اس کے قدم اس کی طرف بڑھے جو الجھ رہی تھی خود میں ۔ یا تو وہ احسام شاہ کی موجودگی کو محسوس کر کے بھی انجان بن رہی تھی یا ہو سکتا تھا کہ اس نے احسام کو دیکھا ہی نہیں ۔
ماہم کے الجھتے ہاتھ رکے جب اسے اپنے پیچھے کسی کا احساس ہوا ۔ نظریں سامنے شیشے پر کیں جہاں وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔ کتنا مکمل جوڑ تھا ان کا. کبھی ماہم نے ایسے سپنے سجائے تھے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں گے تو کتنے حسین لگے گیں ۔ لیکن اس کا سپنا بہت بری طرح ٹوٹا تھا اور ٹوٹ کر مکمل ہوا تھا ۔
” اصولاً تمہیں میرا انتظار ہونا چاہیے تھا ” اس کے سر سے الجھی پنز کو نکالتے ہوئے بولا ۔
” ایسا کیوں لگا ؟ ” سپاٹ آواز میں جواب دیا ۔
” کہا نا ۔۔۔ اصولاً ۔۔۔ اور اصول انسان کو جینا سکھاتے ہیں ” اس کے سر سے پنز نکال کر اس کے ہاتھ میں رکھیں ۔
دوپٹہ چھن سے پیچھے جو گر گیا ۔
احسام کی نظر اس کی دودھیا کمر پر جیسے ہی پڑی پلٹنا بھول گئ۔ پیچھے سے گلہ ڈیپ تھا جن پر نازک سی تین ڈوڑیاں تھیں ۔ ماہم نے جان کر لیا تھا ایسا ڈریس تا کہ احسام شاہ چڑے لڑے جل بھن جائے کہ ماہم نے کیسا ڈریس پہنا ہے لیکن وہ یہ بھول گئ تھی کہ وہ اس کے نکاح میں تھی اور مرد اپنی ملکیت پر آرام سے بہک جاتا ہے ۔
” اصولوں کا کیا ہے ۔۔ وہ تو ہوتے ہی توڑنے کے لیے ہیں ” پلٹ کر اس کی طرف رخ کرتے تمسخرانہ انداز میں کہا ۔
احسام ہوش میں آیا تھا لیکن شائد اب اصل میں بہک سکتا تھا ۔ کیونکہ وہ حسن کی دیوی بنی اس کے چہرے سے چند انچ دور تھی ۔ اس کا دل تو ایسے کبھی عنابیہ کو دیکھ کر بھی نہیں دھڑکا تها ۔ اس کے سراپے سے اٹھتی مدہوش کن خوشبو اس کے تنے اعصاب بری طرح سے جھنجھوڑ چکی تهی ۔
” تم احسام شاہ سے الجھنا چاہتی ہو ؟ ” اس کہ طرف زرا جھکتے گھمگھیر آواز میں پوچھا ۔
ماہم بے ساختہ ڈریسر کے ساتھ لگی ۔ اسکا چھوٹا سا دل سکڑ کر سینے میں دھڑک اٹھا تھا ۔ اوپر اوپر سے ہی تو وہ اس سے جنگ کرنے بیٹھ جاتی تھی پر اندر سے تو پور پور احسام شاہ کا نام الاپتا تھا ۔
” بولو ! ” اس کے دونوں اطراف پر ہاتھ رکھتے وہ اسے نظریں جھکانے پر مجبور کر گیا تھا.
ماہم نے زرا سی نظریں اٹھا کر اسے دیکھا ۔
” مجھ میں کہیں ۔۔ عنابیہ تو نظر نہیں آ رہی ؟ ۔۔۔ کیونکہ اتنے پاس آنے کے تو اسی کے خواب دیکھے ہوں گے نا ! ” وہ مزید اس کے سحر میں کھو جاتا کہ ماہم نے کاری وار کیا تھا ۔
احسام کی آنکھیں ایک دم سنجیدہ ہو گئی تھیں. ماتھے پر بل پڑے تھے ۔ جبڑا بھینچ گیا تھا ۔ اتنے سخت الفاظ کی وہ ماہم سے امید نہیں کر رہا تھا ۔ اسے لگا تھا کہ احسام شاہ کی زرا سی قربت سامنے کھڑی لڑکی کو پگھلا سکتی ہے لیکن وہ زبان سے مات دینے میں ماہر تھی ۔
ماہم جان گئ تھی کہ وہ احسام شاہ کو تپانے میں کامیاب ہو چکی ہے تبھی تمسخرانہ انداز میں ہنستے سائیڈ سے گزرنے لگی کہ احسام نے اس کا بازو پکڑا ۔
ماہم نے رک کر اسے دیکھا جس کی گرفت مضبوط تھی ۔
اس نے گھما کر اسے سامنے کیا ۔ دونوں کے چہرے شیشے میں واضح تھے ۔ احسام کے سینے سے اس کی پشت لگی تھی. وہ خون آشام نگاہوں سے اس کے عکس کو دیکھ رہا تھا ۔ ماہم کی آنکھوں میں ہلکا سا خوف تھا لیکن اوپر سے وہ مضبوط بن رہی تھی.
” میں نے عنابیہ کو پسند کی نگاہ سے ہمیشہ دیکھاا ۔۔۔۔۔ لیکن جب تم سے نکاح ہوا تھا ماہم ۔۔۔۔ تو وہ کچھ میں سوچ چکا تھا جس کی اگر میں نے ایک بھی جھلک دکھا دی نا ۔۔۔تو ماہم احسام شاہ ۔۔۔ آپ مجھسے صبح تک آنکھ نہیں ملا پائیں گی ” شیشے میں اس کے عکس پر نظریں گاڑے سرد مہری سے کہا ۔ لہجے میں صاف وارننگ تھی ۔
” ای۔۔۔ ایسا بھی کیا تم ۔۔۔۔ تمہارے دماغ میں ؟ ۔۔۔کہ ماہم شاہ کو شرم دلا دو ؟ ” اس کے خیالوں سے ناواقف وہ اسے چیلنجنگ انداز میں آگ لگا چکی تھی ۔
احسام سائیڈ طرف سے ہنسا ۔ ماہم نے نا سمجھی سے اسے دیکھا ۔
” احسام شاہ ۔۔۔۔ کبھی بھی اپنے شکار کو حاصل کرنے کے لیے ۔۔۔ جلدی نہیں مچاتا ۔۔۔ وہ آہستہ آہستہ ۔۔۔ اس کی جان نکالتا ہے ۔۔۔ اور سواد لیتا ہے ” اس کے کان کے پاس لب رکھ کر خمار میں ڈوبی آواز سے کہا ۔
ماہم کے سر کے اوپر سے یہ بات گزری تھی کیونکہ وہ کون سا ایسے لڑکوں سے ملی تهی جو اس سے ایسی معنی خیز باتیں کرتا ہو ۔ اس نے تو کبھی کسی کی آنکھوں کی طلب بھی بننا پسند نہیں کیا ۔
” کی۔۔۔۔ ” اس کے الفاظ وہیں دفن ہو گئے جب اپنے کندھے سے شرٹ کھسکتی محسوس ہوئی ۔
اس نے ساکت دھڑکنوں سے شیشے میں احسام کو دیکھا جو دل جلا دینے والی مسکان سے اسے دیکھ رہا تھا ۔
” کیا ہوا مسز ۔۔۔ سانس تو لیں آپ !” اس کے سانس روکنے پر وہ شاطر مسکان سے بولا ۔
ماہم کی جان فنا ہو رہی تھی ۔
احسام نے اس کی ہونق زدہ چہرے کو دیکھ کر مشکل سے ہسنی دبائی ۔
لیکن نظر جب دودھیا سفید کندھے پر گئ تو دل جیسے اپنی جگہ سے اچھل گیا تھا اور آنکھوں کے راستے اس کے دودھیا سراپے کو دیکھ رہا تھا ۔
اس کے دل نے دہائی مچائی کہ چھو لو اسے ۔ یہ تمہاری ہے ۔۔ سکون پہنچاؤ اس کے لمس سے ۔
ماہم کے جسم میں جسیے سکت ہی نہیں رہی تھی کہ وہ خود کو احسام کی جکڑ سے نکال سکے ۔
اپنے دل کی بات پر لبّیک کرتے اس نے جھک کر اس کے کندھے پر بوسہ دیا ۔ ماہم کے پورے جسم میں جیسے کرنٹ دوڑ گیا ۔
بے ساختہ اس نے پلٹنا چاہا کہ احسام نے ایسا ہونے نا دیا ۔ اور اپنے بازووں کو اس کی کمر سے گزر کر پیٹ پر رکھ دیا کہ وہ پوری طرح اس کے حصار میں آ گئ۔
” اتنی سی ہمت بس ؟ ” اس کے کان کے پاس لب رکھتے پوچھا ۔
وہ جو بس بے ہوش ہو جانے والی تھی اس کی آواز پر جیسے دل تھم سا گیا تھا ۔ ایک خفا کن نگاہ شیشے میں اس کے عکس سے ملائی ۔ وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا ہلکی مسکان سے ۔
” تم حسین ہو ۔۔۔۔ تب تک ۔۔۔ جب تم زبان نہیں دکھاتی ” اس کے گردن میں گہرا سانس لیتے کہا کہ وہ اور سمٹ سی گئ۔
” ل۔۔۔ لیو ۔۔۔۔ م ۔۔۔ می اح۔۔ احسام ” اس کے سخت ہاتھوں پر اپنے نازک سے ہاتھوں کا دباؤ دیتے کمزور لہجے میں کہا ۔
” فوراً چینج کرو جا کر ۔۔۔ اس سے پہلے میں تمہاری سانس بھی بند کر دوں. ” اس کے بالوں کو ایک سائیڈ پر کیا ۔ ماہم نے آنکھیں بند کر لیں ۔
ترک کی آواز سے ڈوڑی ٹوٹی جس کے اندر لگے تین موتی فرش پر بکھر گئے ۔ اس کی صاف شفاف دودھیا کمر واضح تھی ۔ احسام نے اس کی کمر سے ناک رگڑا کہ وہ گہرا سانس لیتی ڈریسر کو تھام گئ ۔ احسام نے اس کی کمر پر انگلیاں پھیریں ۔ اس حرکت نے اس کے اوسان اور خطا کر دیے ۔ اس کے لمس پر وہ سرخ ہوتی مزید خود میں سمٹ سی گئ۔ اس کی مدہوش کن خوشبو میں احسام نے جھک کر گہرا بوسہ اس کی کمر پر دیا کہ ماہم نے اپنی جگہ لرز گئی تھی ۔ جسم یک ٹھنڈا ہو چکا تھا ۔
احسام شاہ کی قربت جان لیوا تهی ۔
احسام نے شیشے میں اس کے عکس کو خمار آلود نگاهوں سے دیکھا جس کی قربت نے احسام شاہ کے جاہ و جلال کو کہیں دور سلا دیا تھا ۔بس یاد تھا تو اتنا کہ اس کے نزدیک ایک حسین اپسرا کھڑی ہے جو احسام شاہ کے حواس گھل کر رہی ہے ۔
مسکرا کر گرفت ہلکی کی کوئ پتہ نہیں تھا لہ وہ مزید بہک جاتا ۔
اس کی ہلکی گرفت پر وہ تیزی سے دور ہوئی ۔
اپنا لہنگا سنبھالا اور اکھڑی سانسوں پر وہ ڈریسنگ میں بند ہو گئ ۔
احسام نے مسکراتی نگاہوں سے دروازے کو دیکھا ۔
” سامی ۔۔۔ تم ماہم شاہ کی فقط ایک قربت کی مار ہو ” فضیلت شاہ کی آواز اسے اپنے کانوں میں محسوس ہوئی ۔ وہ ہنس دیا ۔
اس وقت اسے نا تو عنابیہ یاد آ رہی تھی نا اس سے کی گئ کسی وقت میں محبت ۔ یاد تھا تو بس اتنا کہ ماہم شاہ نے احسام شاہ کو چاروشانے چت کر دیا تھا ۔
دھنک دھنک مری پوروں کے خواب کر دے گا
وہ لمس میرے بدن کو گلاب کر دے گا
قبائے جسم کے ہر تار سے گزرتا ہوا
کرن کا پیار مجھے آفتاب کر دے گا
جنوں پسند ہے دل اور تجھ تک آنے میں
بدن کو ناؤ لہو کو چناب کر دے گا
میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
وہ جھوٹ بولے گا اور لا جواب کر دے گا
انا پرست ہے اتنا کہ بات سے پہلے
وہ اٹھ کے بند مری ہر کتاب کر دے گا
سکوت شہر سخن میں وہ پھول سا لہجہ
سماعتوں کی فضا خواب خواب کر دے گا
اسی طرح سے اگر چاہتا رہا پیہم
سخن وری میں مجھے انتخاب کر دے گا
مری طرح سے کوئی ہے جو زندگی اپنی
تمہاری یاد کے نام انتساب کر دے گا
🔥🔥🔥🔥🔥🔥
 کیف دروازے پر کھڑا تھا ۔ اس کا دل بہت گھبرا رہا تھا ۔ اسے نہیں علم تھا کہ اب کیا ہو گا اور زمر کیسا ری ایکشن دے گی ۔
ہمت جمع کرتے دروازہ کھولا ۔ اندر قدم رکھا ۔
نظر بیڈ پر گئ۔ وہ وہاں نہیں تھی ۔ کیف نے گہرا سانس لیا ۔ اسے علم تھا کہ ایسا ہونا تھا ۔
اسا نے اپنی گھڑی اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھی ۔ چادر جو کندھوں پر لی تھی وہ اتار کر بیڈ پر رکھی ۔ تبھی دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے واشروم کی طرف دیکھا ۔
زمر بھی اسے دیکھ کر ایک پل رکی مگر دوسرے پل سنجیدگی سے چہرہ سپاٹ کرتے باہر آئی ۔ وہ سب کچھ تبدیل کر چکی تھی ۔ اس نے اپنا لہنگا اتار دیا تھا ۔ میکاپ سارا اتار دیا تھا ۔ کوئی جیولری تک اس نے نہیں پہنی تھی ۔ مکمل سادا روپ لیے وہ باہر آئی تھی ۔ اس نے زرا کیف کا خیال نہیں کیا تھا کہ وہ اسے اس روپ میں دیکھنے کے کتنے خواب سجا چکا تھا لیکن ایک یہ زمر تھی جس نے اس کا ایک بھی خواب پورا نہیں ہونے دیا تھا ۔
وہ بھی سرد نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا جو اس سے بے نیاز بنی پھر رہی تھی ۔
کیف نے اس کی طرف قدم لیے جو ڈریسنگ کے سامنے کھڑی اپنے بھیگے بالوں میں کنگھی کر رہی تھی ۔ پانی کی بوندوں نے اس کی کمر بھگو دی تھی ۔ دوپٹہ اس کا ایک طرف پڑا تھا اور وہ خود سپاٹ چہرے سے خود کو شیشے میں دیکھ رہی تھی ۔
کیف اس کے پیچھے آ کر کھڑا ہوا ۔ زمر نے ایک نظر اسے دیکھا پھر سے پورا دھیان بالوں میں کنگھی کرنے میں لگا دیا ۔
” تم جانتی ہو کیف یوسف شاہ ۔۔۔ زمر شاہ سے کتنا پیار کرتا ہے ” اس کے عکس پر نظریں ٹکائے حزبات سے چور آواز میں کہا ۔
اس کا نظرانداز کرنا کیف کا دل چیڑ رہا تھا ۔
زمر کے ہاتھ رکے لیکن اس نے کوئی جواب نا دیا ۔
” مجھ سے بات کرو زمر ۔۔۔۔ مجھ سے لڑو بے شک ۔۔۔۔ مارنا چاہو مار دو ۔۔۔۔ مگر چپ نا رہو ” اس کی آواز میں منت تھی طلب تھی التجا تھی ۔
زمر نے ایک نظر دوبارہ شیشے میں اسے دیکھا پھر سپاٹ چہرے سے سائیڈ سے گزرنے لگی تھی کہ کیف نے اسے دونوں بازووں سے پکڑ کر سامنے کیا ۔
اس نے چونک کر کیف کو دیکھا جو آنکھوں میں درد جزبات لیے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔
” پلیززز ۔۔۔ زمر مجھے ۔۔۔ ایسے چپ سے نا مارو ۔۔۔۔ پلیز ” اس کے ماتھے سے ماتھا جوڑتے وہ درد کہ انتہا پر تھا ۔
زمر کی آنکھیں نم ہو گئیں تھیں ۔ کب اس نے کیف کو ایسے ٹوٹے ہوئے دیکھا تھا نا اس نے چاہا تھا کہ وہ اس کے سامنے منت کرے .
” جو ہوا ۔۔۔ اس کے بعد آپ ۔۔۔ مجھسے کیا امید رکھتے ہیں ۔۔۔ میری بہن آپ کی وجہ سے ۔۔۔ کس حال میں آ گئ ۔۔۔ اور آپ مجھسے محبت کی توقع کر رہے ہیں ۔۔۔ اتنا خود غرض سمجھ لیا آپ نے ؟ ” اس کے سینے پر ہاتھ رکھے وہ بھی ازیت کے در پر تھی ۔ ٹوٹے پھوٹے لہجے میں شکایت کر رہی تھی ۔
” مجھے اگر علم ہوتا ۔۔۔۔۔ تو کبھی ایسا نا ہوتا زمر ۔۔۔۔ مجھے نہیں پتہ لگنے دیا سب نے کہ عنابیہ کو پیش کر رہے ہیں ۔۔۔۔ میری جان بستی ہے تم دونوں میں ۔۔۔ وہ میری چھوٹی بہن جیسی ہے ۔۔۔ مجھ سے بھی برداشت کرنا نا ممکن ہے ” اس کی آنکھوں میں دیکھتے وہ زمر کا دل بدلنا چاہ رہا تھا ۔
” پھر کیا ہوتا ؟ ۔۔۔ اگر آپ کو بتا دیتے ؟ کیا کرتے آپ ؟ ” لہجے میں طنز تھا ۔
” میں خود کو پیش کر دیتا ۔۔۔۔ مجھسے قتل ہوا تھا نا ۔۔۔ تو وہ خون کا بدلہ خون سے لے لیتے ۔۔ مار دیتے مجھے ” اس کی آنکھوں میں دیکھتے وہ بے خوفی سے بولا ۔
” سائیں ” زمر نے بے یقینی سے اسے پکارا ۔ اس کا تو دل دہل گیا تھا کیف کے منہ سے یہ سب سن کر ۔
” میں سچ کہہ رہا ہوں ۔۔۔ میں خود کو پیش کر دیتا لیکن کسی شاہ حویلی کی بیٹی نا دیتا ” اس کے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں لیتے کہا ۔
زمر نے نفی میں سر ہلایا ۔ اس کی آنکھیں پانی سے بھڑ گئی تھیں ۔
کیف نے پورے استحقاق سےاس کی آنکھوں کا پانی چن لیا ۔ کیسے وہ اس کی آنکھوں میں پانی دیکھتا ۔
” سیدھا کہہ دیں ۔۔۔ کہ زمر مر جاؤ ۔۔۔ میں مر جاؤں گی ۔۔۔ ایسے خود ۔۔۔ کو مجھ سے ۔۔۔ دور کرنے کا سوچ ۔۔۔۔ بھی کیسے سکتے ہیں آپ ؟ ” اس کے کالرز کو پکڑے وہ ہزیاتی انداز میں بولی ۔
کیف نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا ۔
زمر نے اس کے سینے پر سر رکھا ۔ آنسووں میں روانی آ چکی تهی ۔
کیف نے اس کے سر کا بوسہ لیا ۔
زمر کا جسم اب ہلکہ ہلکہ کانپ رہا تھا. صاف تھا کہ وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی ۔
” بس زمر ۔۔۔ تمہارے آنسوں مجھے تکلیف دے رہے ہیں ” اس کے گرد حصار تنگ کرتے ہوئے کہا ۔
” اور جو آپ مجھے تکلیف دیتے ہیں ” اس کی طرف چہرہ کرتے روٹھے انداز سے کہا ۔
کیف کو اس کے اس انداز سے پوچھنے پر ڈھیروں پیار آیا ۔
” میری جان ۔۔۔۔ میں مرنا پسند کروں گا تمھیں تکلیف دینے سے پہلے ” اس کی آنکھوں میں محبت سے دیکھتے کہا ۔
” بس کریں ۔۔۔ سائیں اگر اب کوئی ایسی بات منہ سے نکالی تو خدا کی قسم ۔۔۔۔ جان لے لوں گی اپنی ” اس کو سخت تیوروں سے گھورتے کہا ۔
” کیوں ؟ ۔۔۔۔ مجھ سے دور رہ کرر تو خوش ہو جاتی ہو ۔۔۔۔ مرنا میرا کیوں برا لگتا ہے ؟ ” اس کے گال پر الٹے ہاتھ سہلاتے پوچھا ۔
” آپ سے بے انتہا محبت ہے مجھے ۔۔۔۔ بہت زیادہ محبت کرتی ہوں آپ سے ۔۔۔۔ دور اس لیے تھی کہ ناراض تھی ۔۔۔۔ ورنہ میری سانسیں تو صرف آپ کے ساتھ چلتی ہیں ” اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیتے وہ جزباتی ہو گئ تھی ۔
کیف اس کے اعتراف پر مسکرا دیا
” اگر اتنی سانسیں مجھسے جڑی ہیں ۔۔۔ تو یہ سانسیں دور کیوں ہیں ؟ ” اس کے چہرے کے پاس اپنا چہرہ کرتے گھمگھیر آواز سے پوچھا ۔
کیف کی بات پر زمر کا دل دھڑک اٹھا ۔ وہ کانوں تک سرخ کندھاری ہو چکی تهی ۔ آنکھیں جھک گئ تھیں ۔
زمر نے دور ہونا چاہا لیکن اس کے حصار نے یہ سوچ نا ممکن کر دی ۔
” پ ۔۔۔ پلیز ۔۔۔ سا۔۔۔ سائیں ” اسکے سینے پر دونوں ہاتھ رکھتے وہ شرم سے ہکلا گئ تھی ۔
” گیو می یو بریتھس ۔۔۔۔ جسٹ ونس ” اس کے کان کے پاس سرگوشی کی ۔
کیف کی گرم سانسیں اسکا چہرہ جھلسا رہی تھیں ۔ زمر نے چہرہ موڑنا چاہا لیکن کیف نے اس کے گال پر ہاتھ رکھ کر اپنی طرف کیا ۔
زمر نے بھاری سانسوں سے زرا سی نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا ۔ جو آنکھوں میں منہ زور جزبات لیے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔
زمر کی نگاہیں پھر سے جھک گئیں ۔
اور یہ منظر کیف کو بے خود کر گیا ۔بے ساختہ وہ اس کے چہرے پر سایہ کر گیا تھا ۔ جس کی شدت زمر کی کیف کی شرٹ پر پکڑ سے محسوس ہو رہی تھی ۔
پہلی تشنگی ہمیشہ جان لیوا ہوتی ہے ۔
تجھے روز دیکھوں قریب سے
 میرے شوق بھی میں عجیب سے
میں نے مانگا ہے بس تجھی کو
 اپنے رب اور اس کے حبیب سے
میری آنکھوں میں ہے بس عاجزی
 میرے خواب بھی ہیں غریب سے
میرے سب دکھوں کی دوا ہو تم
 ملے کیا سکوں پھر طبیب سے
میں بہت ہی خوش ہوں جوڑ کر
 نصیب اپنے تیرے نصیب سے

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ناول نگری میں ہر نئے پرانے لکھاری کی پہچان، ان کی اپنی تحریر کردہ ناول ہیں۔ ناول نگری ادب والوں کی پہچان ہے۔ ناول نگری ہمہ قسم کے ناول پر مشتمل ویب سائٹ ہے جو عمدہ اور دل کو خوش کردینے والے ناول مہیا کرتی ہے۔ناول کا ریوئیو دینے کیلئے نیچے کمنٹ کریں یا پھر ہماری ویب سائیٹ پر میل کریں۔شکریہ

novelsnagri786@gmail.com

 

Read revenge based, urdu novels, saaiyaan at this website Novelsnagri.com for more Online Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit this website and give your reviews. you can also visit our facebook page for more content Novelsnagri ebook

Leave a Comment

Your email address will not be published.