Tania Tahir Novels 2022

Revenge Based Urdu Novel | یہ عشق کی تلاش ہے | Ep#11

Revenge Based Urdu Novel, Tania Tahir novels, all categories forced marriage based, politics based, cousin marriage based and also funny based novel, multiple categories & Complete pdf novel ,Here you find all kind of interesting New Urdu NOVEL.

 

Revenge Based Urdu Novel, online reading novels

Web Site: Novelsnagri.com

Category : Web special novel 

Novel name : یہ عشق کی تلاش ہے

Written by: Tania Tahir

11# ایپیسوڈ نمبر

صبح اسکی آنکھ کھلی تو ہاتھ میں درد سا محسوس ہوا اسنے ہاتھ کھینچنا چاہا مگر ہاتھ پر کسی بھاری چیز کا احساس ہوا تو اسنے چہرہ موڑا ۔۔۔تو ایکدم حق و دق رہ گئ ۔۔۔

صیام اسکے ہاتھ پر سر رکھے سو رہا تھا ۔۔جبکہ اب اسے محسوس ہوا کہ اسکا ایک ہاتھ ۔۔۔ حمائل کے گرد تھا ۔۔۔۔

اور چہرے کا رخ ۔۔ حمائل کیطرف ہی تھا ۔۔۔ وہ کسی چھوٹے بچے کیطرح اس میں چھپا ہوا تھا ایسا کیا ہوا تھا جو وہ یہاں تھا ۔۔

اسنے اپنا ہاتھ اسکے نیچے سے آہستگی سے نکالا ۔۔ جبکہ اسکا ہاتھ بھی اپنے اوپر سے ہٹایا ۔۔وہ نیندوں میں دوسری طرف کروٹ لے گیا ۔۔حمائل دھڑکتے دل سے اسکے پاس سے اچھل کر دور ہوئ ۔۔اور حیرانگی سے اسکو دیکھنے لگی ۔۔۔

جو کہ مزے سے سو رہا تھا ۔۔۔

حمائل کو اپنی دھڑکنوں کا بے ہنگم شور سنائ دیا ۔۔۔۔۔۔۔

وہ ادھر ادھر دیکھتی وہاں سے ہٹ گئ وہ وجہ نہیں جانتی تھی کہ وہ یہاں کیوں آیا تھا ۔۔۔

وہ پہلی بار اسکے پاس آیا تھا اس طرح ۔۔۔۔

وہ ان سوالوں کے جواب ۔۔۔ نہ جانتے ہوئے واشروم میں چلی گئ ۔۔۔۔

فریش ہو کر آئ تو عجیب سا احساس ہوا کہ وہ اسکے بیڈ پر موجود تھا وہ شرمندہ سی تھی زرا ۔۔۔۔

مڑ کر جلدی سے وہ روم سے باہر نکل گئ ۔۔۔

اماں کے کمرے میں جانا تھا ۔۔اسے افسوس ہوا کہ ارمان جا چکا ہے ۔۔۔۔ وہ پہلا شخص تھا جس کے ساتھ وہ ایزی ہو کر بات چیت کر لیتی تھی جبکہ قیصر کو تو انٹرسٹ ہی نہیں تھا جبکہ ارسلان ۔۔۔ کی آنکھوں کو خود پر پڑتا وہ عجیب سا محسوس کرتی تھی ۔۔۔

علینہ تو ویسے ہی اس سے بہت نفرت کرتی تھی وہ اماں کے پاس آئ تو ۔۔اماں کو بخار میں تپتا دیکھ کر ۔۔ اسکو ایکدم جھٹکا سا لگا ۔۔۔۔

آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں اکبری ” حمائل غصے سے بولی ۔۔۔۔

بی بی صیام صاحب آپکے کمرے میں تھا میں آئ تھی پھر میں نے اٹھانا مناسب نہیں سمجھا ” اکبری آہستہ آواز میں بولی ۔۔۔

اکبری آپ مجھے اٹھا دیتیں اور ویسے بھی صیام کب اور کیوں میں کمرے میں آئے مجھے معلوم نہیں مگر ائندہ ایسا مت کیجیے گا ۔۔۔ مجھے اماں کے بارے میں سب بتائیے گا ۔۔۔

پلیز اب آپ فیروز سے کہیں کے ۔۔۔ ڈاکٹر کو بلا کر لائے اماں کو کیسے چڑھ گیا بخار” حمائل پریشانی سے بولی اور ۔۔ اماں کا چہرہ چھو کر بخار کی نوعیت چیک کرنے لگی ۔۔ اماں کی آنکھیں بند تھیں ۔۔۔

اکبری باہر بھاگی ۔۔ اور فیروز کو فورا کہا ۔۔ تبھی علینہ بھی اٹھ گئ ۔۔ اور اکبری سے کافی کا کہنے لگی مگر اکبری نے اسے ۔۔۔ اماں کی خراب طبعیت کا بتایا تو ۔۔وہ عاجز سی ہوتی ۔۔ وہاں آ گئ ۔۔

حمائل ۔۔انکے پاس تھی ۔۔

کیا ہوا ہے انھیں ” علینہ نے پوچھا ۔۔۔۔

بخار ہو گیا ہے بے ہوش ہو گئیں ہیں” حمائل کا لہجہ بھیگ گیا ۔۔

تو اس میں رونے کی کیا بات ہے انکی عمر ہے ایسا ویسا تو ہو جاتا ہے ۔۔ تم یہ اکبری مجھے کافی بنا دو ” علینہ لاپرواہی سے بولی ۔۔۔

جبکہ حمائل بس ایک نظر اسے دیکھ کر منہ موڑ گئ ۔۔ جواب دینے کا اسکا دل نہیں تھا نہ ہی وہ بے حسں تھی ۔۔ اکبری دوڑ کرا ندر آئ ۔۔

حمائل بی بی صیام صاحب کو بھی اٹھا دیں ” وہ بولی تو حمائل اس سے پہلے کچھ کہتی علینہ نے گھور کرا سکو دیکھا ۔۔

یہ بات تم سے کیوں پوچھ رہی ہو ” علینہ بھڑک کر بولی ۔۔

وہ جی ۔۔صیام صاحب حمائل بی بی کے کمرے میں ہے نہ اسی لیے کہہ رہی ہوں ۔۔”

وہ وہاں کیا کر رہا ہے” وہ تڑخ کر بولی اور باہر نکل گئ ۔۔۔

اکبری تم بحث مت کرو انکو کافی بنا دو ” حمائل نے کہا اکبری منہ بناتی باہر چلی گئ اور کچھ ہی دیر بعد فیروز ڈاکٹر کو لے کر آ گیا ۔۔۔

اماں کا چیک اپ کیا ۔۔ تو انکا بی پی بھی لو تھا ۔۔۔

ڈاکٹر ضروری ہدایت دے کر ۔۔اور انکا چیک اپ کر کے چلا گیا ۔۔۔ تو تبھی صیام دوڑتا ہو اندر داخل ہوا ۔۔ ڈاکٹر کو ۔۔۔۔ ملازم باہر لے کر جا رہا تھا جبکہ علینہ بھی پیچھے ہی تھی ۔

کیا ہوا ہے اماں کو ” وہ بے تابی سے پوچھنے لگا جبکہ حمائل کو دیکھا ۔۔۔

بخار ہو گیا ہے “

کیسے ” وہ ایکدم چیخا ۔۔۔۔

حمائل ڈر گئ ۔۔۔

م۔۔معلوم نہیں “

تو تمھیں معلوم رکھنا چاہیے ۔۔۔ اماں کی دیکھ بھال بہت ضروری ہے اور تم نے لاپرواہی برتی” وہ بھڑک رہا تھا ۔

صیام میں واقعی نہیں جانتی اماں رات تک ٹھیک تھیں” وہ بھیگے لہجے میں اسے بتانے لگی ۔۔۔۔

جبکہ صیام نے اسے غصے سے پرے دھکیلا اور ۔۔۔اپنی ماں کے پاس آ گیا ۔۔۔۔

اماں ۔۔” وہ انھیں پکارنے لگا ۔۔جزبات ایسے تھے کے اسکا چہرہ سرخی مائل ہو رہا تھا

علینہ مسکرا کر حمائل کو دیکھنے لگی ۔۔

تمھاری ولیو بس اتنی ہی ہے مجھے بہت افسوس ہے چار سال میں بھی تم اسکے دل میں اپنی جگہ نہیں بنا سکی ” علینہ اسکے پیچھے پیچھے آتی بولی جبکہ حمائل وہاں سے نکل گئ تھی ۔۔۔۔

اماں کے لیے کچھ ہلکا پھلکا بنانے ۔۔۔جبکہ اسنے اسکو جواب نہیں دیا ۔۔۔۔

علینہ نے اکبری کے ہاتھ سے کافی کا کپ لیا اور حمائل کو دیکھتی رہی ۔۔

نازک سی وہ لڑکی تھی ۔۔۔ کافی دبلی پتلی ۔۔۔

جبکہ چہرے پر حیا اور حسن کا الگ ہی روپ تھا ۔۔ بال گھنے لمبے تھے جبکہ بالوں میں چوٹیاں کے بل دیے ہوئے تھے ۔۔۔

سادہ سا لباس ۔۔۔ اور گھبرایا ہوا انداز وہ دلکش تھی ۔۔۔

علینہ ابھی اسے دیکھنےمیں ہی مصروف تھی ۔۔۔ کہ ارسلان بھی وہیں آ گیا ۔۔۔۔

ارسلان نے علینہ کو دیکھا ۔۔۔۔

تم یہاں کیا کر رہی ہو ۔۔” وہ پوچھنے لگا ۔۔

کافی بنوائ ہے میں نے ویسے حمائل میں بھی تمام ۔۔۔ مراسیوں والے گٹس ہیں” اسنے اٹھلا کر کہا اور ہنستی ہوئی باہر نکل گئ ۔۔ جبکہ ارسلان نے اکبری کو دیکھا ۔۔۔

جو منہ بنائے کام کر رہی تھی اور حمائل ایسے کھڑی تھی جیسے جانتی ہی نہ ہو کہ وہ آیا ہے ۔۔۔

ارسلان بلکل اسکی پشت پر جا کر کھڑا ہو گیا ۔۔

میرے لیے بھی کافی بنا دو گی ” اسکے کان میں جھک کر پوچھا ۔۔۔ حمائل ایکدم اچھلی اور ۔۔۔ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگی ۔

ارسلان خباثت سے مسکرایا ۔۔۔۔

اچانک ہی اسکے دیکھنے کے انداز بدل گیا تھا ۔۔۔

حمائل کی سانسیں پھول گئیں ۔۔۔

اوہ تم ڈر گئ ” ارسلان نے اسکا ہاتھ پکڑنا چاہا ۔۔

آپ زرا دور ہو کر کھڑے ہوں ” حمائل بولی ۔۔۔

جبکہ ۔۔ ارسلان ۔۔۔ ہنس کر دور ہوا ۔۔۔۔

اچھا کافی کا کپ لے کر میرے روم میں تو آؤ ” وہ کہنے لگا ۔۔

حمائل جبکہ بے حد ڈری ہوئ تھی ۔۔۔ارسلان مسکرا کر باہر نکل گیا جبکہ اکبری اسکے پاس آئ ۔۔

حمائل بی بی آپ ٹھیک ہیں ” وہ پوچھنے لگی ۔۔

حمائل ڈری ہوئی تھی تبھی رو دی ۔۔

بی بی “اکبری نے اسکے ہاتھ پکڑے ۔۔۔

مجھے ان سے ڈر لگ رہا ہے اکبری ۔۔۔ بہت عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں ارمان بھائ تو بہت اچھے ہیں ۔۔۔جبکہ قیصر بھائ تو چلو اگنور کرتے ہیں ۔۔۔ جبکہ ۔۔ یہ ۔۔۔ ” وہ سرخ نظروں سے اسکو دیکھنے لگی اکثر اس سے اپنے دل کی باتیں شئیر کر لیتی تھی ۔۔

میں تو کہتی ہوں اس خبیث کی حرکتیں ۔۔ صیام صاحب کو بتا دیں “

نہیں وہ غصہ ہو گے” وہ ایکدم ڈر گئ ۔۔

حمائل بی بی اسطرح تو “

اکبری پلیز تم کسی کو مت بتانا میں ٹھیک ہوں تم کافی دے دو ۔۔ انکو ” اسنے کہا اور ٹرے اٹھا کر ۔۔ اماں کے کمرے میں آ گئ ۔۔

اماں کو ہوش آ چکا تھا وہ رو رہیں تھیں صیام انکا ہاتھ تھامے بیٹھا تھا ۔۔

صیام تو میری زندگی میں ہی ۔۔۔ رخصتی لے لے صیام “وہ دوسری بار یہ ہی بات کہہ رہی تھیں ۔۔۔

اماں ابھی ” صیام اور کب ۔۔۔ میرے بچے اس بچی کا سوچ میرا تو چل چلا کا وقت ہے ۔۔

اماں پلیز کیسی باتیں کر رہیں ہیں” صیام نے سختی سے کہا ۔۔۔

نہیں ۔۔۔صیام تو رخصتی لے ۔۔ کیا میری زندگی میں میں اپنے پوتا پوتی کو نہیں دیکھ سکوں گی ” وہ رو دیں جبکہ ۔۔۔ صیام نے انکا ہاتھ سختی سے تھا م لیا ۔۔۔۔

ٹھیک ہے جیسا آپ چاہیں ” وہ جیسے صبر کا گھونٹ بھرتا بولا

اماں خاموش ہو گئیں ۔۔۔۔

تو دل سے کہہ رہا ہے” وہ پوچھنے لگی

جی آپ نے جو کہہ دیا ۔۔۔وہ میں نے کر دیا ۔۔۔۔اب اس میں میرا دل تھا یہ نہیں اس سے فرق نہیں پڑتا ” وہ کہہ کر اٹھ گیا ۔۔

جبکہ پیچھے کھڑی حمائل کو ایک نظر دیکھ کر وہ باہر نکل گیا ۔۔

حمائل تو خود ساکت تھی ۔۔

پھر اماں کے دیکھنے پر ہوش میں آئ ۔۔اور اماں کے پاس آ گئ ۔۔۔

انکے سینےسے لگ کر اچانک رونے لگی ۔۔۔

پریشان نہ ہو میری بچی سب ٹھیک ہو ۔۔۔ جائے گا ۔۔۔

انھوں نے کہا تو حمائل نے انہوں سختی سے پکڑ لیا ۔۔۔

اماں میں نہیں کرنا چاہتی رخصتی ” وہ روتے ہوئے بولی یہ جانے بنا کہ ۔۔باہر کھڑا وہ یہ سب سن رہا ہے ۔۔۔

اے پگلی ۔۔۔ ایسی باتیں نہیں کرتے” اماں نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا۔۔۔

اماں ۔۔۔ میں نہیں چاہتی آپ پلیز میری بات مان جائیں انھیں فورس نہ کریں ” اسنے کہا ۔۔

جبکہ صیام نے سختی سے مٹھیاں بھینچ لیں ۔۔۔

وہ اسکی ماں کی طبعیت اور بھی خراب کر دینا چاہتی تھی ۔۔۔

مگر وہ اندر نہیں آیا اور حمائل ایکدم سیدھی ہوئ اسے خود بھی احساس ہوا کہ ۔۔ وہ غلط کر رہی ہے ۔۔

اور اسنے اٹھ کر اپنے آنسو صاف کیے ۔۔۔

آپ اب کچھ کھائیں ” اسنے کہا ۔۔

تو اماں مسکرا دی ۔۔۔ اور اسکے ہاتھوں سے دیے لقمے کھانے لگی ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صیام وہاں سے ہٹ کر ۔۔ اپنے کمرے میں آ گیا ۔۔۔

اسے حمائل پر سخت غصہ تھا ایک تو عالم کی فکر جانتا تک بھی نہیں کہ وہ گیا کہاں تھا۔۔

اور اوپر سے ایکدم یہ سب ۔۔۔

اسنے غصے سے ۔۔۔شاور لینے جانے کا سوچا اور واشروم چلا گیا ۔۔۔۔۔

اسکے دماغ میں ایک ہی بات تھی ۔۔

کہ وہ ہوتی کون ہے ۔۔ رخصتی سے انکار کرنے والی اسکی اتنی ولیو ہے ۔۔۔۔

وہ بھڑک رہا تھا ۔۔ وہاں سے نکل کر ۔۔ وہ زمینوں کے لیے نکل گیا ۔۔۔

جبکہ ارسلان نے اسکو جاتے دیکھا ۔۔۔ وہ اکبری کا بنایا ہوا کافی کا کپ ہی پی رہا تھا ۔۔۔

علینہ اور قیصر بھی اپنے کمرے میں تھے جبکہ اسکے انکے باپ دو چار دنوں کے لیے دوسرے گاؤں گئے ہوئے تھے وہ انتظار میں تھا کب حمائل وہاں سے باہر نکلے گی

گھر میں تقریبا سناٹا تھا ۔۔۔

کافی دیر انتظار کے بعد حمائل اماں کو سلا کر کمرے سے نکلی تو باہر ارسلان کو دیکھ کراسکے دل کہا وہ دوبارہ اندر چلی جائے ۔۔۔

مگر اسنے اپنے کمرے میں جانا تھا اور اکبری کے پاس بھی ۔۔

وہ چپ چاپ سر جھکا کر وہاں سے جانے لگی ۔۔۔ کہ ارسلان آگے آ گیا ۔۔۔

مجھے تم سے بات کرنی ہے ” وہ بولا ۔۔

مگر مجھے کوئ بات نہیں کرنی” وہ ہمت کرتی بولی ۔۔۔ اور سائیڈ سے گزرنا چاہا ۔۔۔۔

جبکہ ارسلان نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔

ارسلان بھائ یہ آپ کیا کر رہے ہیں چھوڑیں میرا ہاتھ ” وہ خوف زدہ نظروں سے اسکو دیکھتی بولی ۔۔۔

جبکہ ارسلان ہنس دیا ۔۔۔

تم تو ہاتھ پکڑتے ہی گھبرا جاتی ہو ” وہ ہنسنے لگا ۔۔

جبکہ حمائل بار بار اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرنے لگی

صیام تو تمھیں منہ نہیں لگاتا ۔۔۔ تمھیں میری طرف سے بہت کچھ ملے گا ایسا ” وہ ہنستے ہوئے آنکھ دبا کر بولا ۔۔

حمائل کا دل پتے کیطرح کانپنے لگا ۔۔۔

وہ کتنی گھٹیا بات اس سے کر رہا تھا ۔۔

میں صیام کو ۔۔۔ بتا دوں گی” وہ رونے لگی ۔۔

ہاہا اور وہ تمھاری بات کا یقین کر لے گا ۔۔۔ خیر وہ بے وقوف آدمی ۔۔ت۔ھاری بات کا کبھی یقین نہیں کرے گا ۔۔۔

چلو ۔۔۔۔ کچھ دیر کمرے میں چل کر بات کرتے ہیں یہاں مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا ” ارسلان نے اسکو کھینچا۔۔۔

میرا ہاتھ چھوڑیں ورنہ میں شور مچانا شروع کر دوں گی ” وہ بری طرح روتی بولی ۔۔۔

چلا لو۔ ۔۔کوئ نہیں ہے فلحال تمھاری مدد کے لیے” وہ شانے آچکا کر بولا ۔۔۔

جبکہ حمائل نے ادھر ادھر دیکھا ۔۔۔ اور اکبری کو تلاشنے کی کوشش کرنے لگی جبکہ ۔۔۔ اکبری اللہ کی مدد کی وجہ سے۔۔ سامنے سے آ رہی تھی ۔۔

ارسلان نے اکبری کو دیکھ کر غصے سے حمائل کا ہاتھ چھوڑ دیا ۔۔

حمائل ہاتھ چھوڑتے ہی اسکا ۔۔اپنے کمرے میں بھاگ اٹھی جبکہ ۔۔۔ ارسلان مسکرا کر سر نفی میں ہلاتا وہاں سے چلا گیا ۔۔ اکبری بھی حمائل کے پیچھے گئی مگر حمائل نے تو دروازہ بند کر لیا تھا اکبری نے بہت افسوس سے ۔۔۔ اسکو دیکھا ۔۔۔۔

اور اس بچی کے لیے دعا کی جو بے حد مشکل میں پھنس گئی تھی ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ سارا دن اسنے یوں ہی جلتے کڑھتے گزار دیا ۔۔

لاکھ کوشش کے باوجود بھی وہ اور مکرم عالم کو ٹریس نہیں کر سکے تھے۔۔۔۔

اور اسی وجہ سے ۔۔وہ بے حد غصے میں تھا ۔۔۔وہ واپس لوٹا ۔۔۔

تو سب سے پہلے اماں کے پاس ہی گیا ۔۔۔

اماں کے پاس بیٹھا تو ۔۔ انکے پاس وہی بات تھی ۔۔کہ وہ بس شادی کی تیاریاں شروع کرنا چاہتی ہیں ۔۔ جبکہ وہ انکی ہاں میں ہاں ملاتا رہا ۔۔۔

اور جب انھیں مکمل یقین ہو گیا کہ وہ رخصتی پر راضی ہے تو انھوں نے فیروز سے کہا ۔۔کہ حویلی کو ۔۔ سجا دیں اور گاؤں والوں کو اطلاع دے دیں ۔۔۔۔

صیام کچھ دیر بیٹھنے کے بعد وہاں سے اٹھ آیا

اسے حیرانگی ہوئ کہ ۔۔ حمائل یہاں موجود نہیں تھی اسنے ۔۔۔

چیڑ کر اسکے کمرے کا رخ کیا ۔۔۔

یہ سب کیا تھا ۔۔ اسکی اماں کی طبعیت خراب تھی اور وہ محترمہ کمرہ بند کیے پڑی تھی ۔۔اسنے دروازہ پیٹا ۔۔۔

اکبری فورا اوپرا ئ ۔۔

صیام صاحب ہم تم کو ایک بات بتانا چاہتی ہے ” وہ بولی صیام نے اسکی طرف دیکھا ۔۔

کون سی بات “وہ سختی سے پوچھنے لگا اور تبھی کلک کی آواز سے حمائل نے دروازہ کھول دیا ۔۔ اکبری کو ۔۔۔ دیکھا جیسے آنکھوں آنکھوں میں وہ اسے روک رہی ہو کہ صیام کو کچھ نہ بتائے ۔۔۔۔

تم یہاں کیوں بند ہو ” صیام کا سارا دھیان حمائل کیطرف چلا گیا ۔۔۔

جبکہ حمائل کچھ بولی نہیں اور صیام نے اسے اندر دھکا دیا اور پیچھے دروازہ بند کر دیا۔۔

نیچے کھڑی علینہ نے بھی یہ منظر دیکھا اور وہ تیر کی تیزی سے اوپر آئ

وہ بھی ان دونوں کی رخصتی کی خبر سن چکی تھی اور صیام سے ہی بات کرنا چاہتی تھی مگر صیام ۔۔۔ نے دروازہ بند کر لیا تھا ۔۔

حمائل ۔۔ اسکو دیکھنے لگی جو ۔۔ کمرے کے وسط میں کھڑا تھا۔

تمھیں زیادہ ہی نخرے چڑھ گئے ہیں شاید ۔۔ “وہ بے رخی سے بولا ۔۔

میں نے ایسا کیا کیا ہے جو آپ عدالت لگانے آ گئے ہیں”حمائل نے اپنے آنسوں کا گولہ حلق میں اتارا اور اس سے پوچھا ۔۔

اماں نیچے اکیلی تھیں اور تم یہاں بند تھیں انہیں کھانا اب اتنی دیر سے دو گی”وہ بولا ۔۔ غصےسے میں ہر وقت انکے پاس ہی ہوتی ہوں ۔۔ میری طبعیت نہیں تھی ٹھیک اسی لیے اپنے کمرے میں آ گئ “

آج کے بعد حمائل میں دیکھوں نہ کہ تم نے اماں سے لاپرواہی برتی ہو ” اسنے کہا اور اسکے نزدیک آیا صبح والی اسکی بات یاد آئ جس کی وجہ سے سارا دن اسکا خراب ہوا تھا اور اسنے سب پر ا تنا غصہ کیا تھا ۔۔

حمائل نے سر اثبات میں ہلا دیا وہ اس سے بحث ہی نہیں کرنا چاہتی تھی جبکہ ارسلان کی حرکات کی وجہ سے وہ بے حد خوف زدہ تھی

مگر صیام کو بتانے پر کیا وہ واقعی اسکی بات پر یقین کرتا اتنا اسنے اسکو کونفیڈینس دیا ہی کب تھا کہ وہ اسپر یقین کرتی ۔۔

صیام اسکے نزدیک آیا ۔۔تو حمائل ایکدم ڈر گئ۔۔۔یہ بات ۔۔ صیام کو کافی عجیب لگی کیونکہ وہ اسکے نزدیک آنے پر کبھی اسطرح نہیں ڈری ۔۔

کیا ہوا ہے تمھیں ” وہ اسکی سرخ پھولی ہوئی آنکھوں کو اب نوٹس کر رہا تھا ۔۔

ک۔۔کچھ بھی نہیں” حمائل نے جلدی سے کہا ۔

کسی نے کچھ کہا ہے” اسکا پہلا خیال علینہ پر ہی گیا ۔۔

کہا بھی ہے تو آپ کیا کر لیں گے”حمائل نے اسکی جانب دیکھا صیام کا چہرہ ایکدم سرخ ہوا ۔۔

ٹھیک کہہ رہی ہو ۔۔ میں نے کون سا تمھاری حمایت میں کچھ کرنا ہے خیر یہ کمرے میں بند ہونے کی ضرورت نہیں باہر نکلو اور کھانا دو مجھے” اسنے کہا ۔۔

حمائل نے سر ہلایا اور جانے لگی ۔۔ جبکہ اسے چیڑ ہوئ ۔۔ اسکی ان حرکات پر ۔۔

حمائل تم ہوش میں رہ سکتی ہو “صیام بے زار ہوا حمائل نے اسکو ایک نگاہ دیکھا اور وہاں سے باہر نکل گئ جب وہ نکلی تو علینہ بھی کھڑی تھی ۔۔ غصے میں ۔۔۔

اسکے پیچھے صیام نکالا۔۔

تم یہاں کیوں آئ ہو ” صیام نے علینہ سے پوچھا ۔۔

میں نے تم سے سوال کرنا ہے اسی لیے آئ ہوں” علینہ نے کہا ۔۔ حمائل یہ اکبری کی بھی پرواہ نہیں کی ۔۔

ٹھیک میرے پورشن میں آ جاؤ ” صیام نے جان بوجھ کر یہ بات کہی حمائل کو دیکھ کر ۔۔

جبکہ حمائل کہ قدم بے ساختہ ساکت پڑ گئے اور علینہ اتنے میں ہی خوش ہو گئ ۔۔

حمائل سیدھا کچن میں آئ ۔۔۔

اسے لگ رہا تھا اسکی حیثیت اسکی محبت اسکی زندگی میں کچھ نہیں ہے بس اسے یہ پتہ ہے کہ وہ ۔۔ صیام خان کی ملازمہ ہے ۔۔۔۔

اور اس میں شاید اتنا دم نہیں تھا کہ وہ ۔۔ لڑ پاتی جھگڑا کرتی کہ وہ انسان ہے ۔۔اسے انسان ہی سمھجا جائے ۔۔۔

نہ کہنے کے لیے کچھ تھا کہ ہی کرنے کے لئے عجیب نفسیاتی دباؤ کا وہ شکار ہونے لگی تھی ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

علینہ نے اس سے سخت جھگڑا کیا تھا اس بات پر کہ وہ ۔۔۔ کس طرح رخصتی لے سکتا ہے جبکہ وہ جانتا ہے کہ علینہ اسے کتنا پسند کرتی ہے۔۔۔۔۔

مگر شادی کے لیے اساکا دل نہیں مانتا تھا علینہ پر جبکہ وہ ۔۔اس بات کا پابند بلکل نہیں تھا کہ وہ ۔۔ دوسری شادی نہ کرتا حمائل اسے کتنا روک سکتی تھیں اسکی جرت ہی نہیں تھی وہ اسے روک سکتی

مگر اسکا دل علینہ پر راضی نہیں تھا اور نہ ہی یہ بات تھی کہ علینہ اسے بری لگتی تھی بلکہ انکی آپس میں اچھی انڈر سٹینڈینگ تھی ۔۔

اور وہ ایک دوسرے کو سمجھتے بھی تھے اور علینہ بلکل اسی طرح تھی جیسا وہ لڑکی کو دیکھنا چاہتا تھا بولڈ بے باک ۔۔۔ حاضر جواب ۔۔

اسے اپنی لاپرواہی پرغصہ آیا کہ وہ علینہ کے ساتھ غلط کر رہا ہے وہ یہاں پر ۔۔۔ رخصتی لے کرعلینہ کا اوپشن ساتھ رکھ سکتا تھا ۔۔ اسنے علینہ کو ایک میسیج سینڈ کیا جس میں درج تھا کہ وہ اس سے شادی لازمی کرے گا ۔۔

جبکہ سمائیل اموجی تھا علینہ نے سین تو کر لیا مگر جواب نہیں دیا ۔۔صیام نے بھی دوبارہ نہیں دیکھا ۔۔

وہ حمائل کیطرف سوچنے لگا ۔۔

وہ لڑکی شروع سے ہی اسے پسند نہیں تھی

وہ خوبصورت تھی اس سے بے حد محبت کرتی تھی ۔۔ اور سب سے اہم با حیا ۔۔۔ تھی ۔۔ مگر پھر بھی بہت کچھ ایسا تھا جو صیام کو جاننا تھا اسکے بارے میں وہ ایسی لڑکی کے ساتھ زندگی ساری زندگی نہیں گزار سکتا تھا ۔۔جس کے بارے میں وہ کچھ بھی نہیں جانتا تھا ۔۔۔

وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں سے نکلا اور چلتا ہوا باہر آ گیا ۔۔ رات گھیری تھی ۔۔ تبھی وہاں کوئ موجود نہیں تھا ۔۔

اور صیام کافی دیر یوں ہی ٹھلتا رہا ۔۔۔اور اسکے بعد۔۔۔ اسکے قدم بے ساختہ حمائل کے کمرے کیطرف اٹھے ۔۔

وہ کوریڈور پار کرکے جیسے ہی سامنے آیا ۔۔ ارسلان کو حمائل کے کمرے کے باہر دیکھ کر اسے حیرت ہوئ ۔۔

تم یہاں کیا کر رہے ہو “صیام نے زرا کڑوے لہجے میں پوچھا ۔۔۔

میں یہاں ایسے ہی ٹھل رہا ہوں ” ارسلان مسکرایا ۔۔

ٹہلنے کی جگہ نیچے ہے میری بیوی کے کمرے کے باہر نہیں” صیام سختی سے گویا ہوا تو ۔۔ ارسلان سر ہلا کر وہاں سے چلا گیا ۔۔

صیام نے دروازہ کھولا وہ لوک تھا ۔۔۔

حمائل” اسنے پکارہ ۔۔ حمائل نے جیسے ہی اسکی آواز سنی دروازہ ایکدم کھول دیا ۔۔

صیام اندر اسکی حالت دیکھ کر حیران رہ گیا ۔۔۔۔

حمائل” اسکے منہ سے نکلا اور ۔۔ وہ اندر آ گیا ۔۔

حمائل نے اور کچھ نہیں دیکھا سیدھا اسکے سینے سے جا لگی ۔۔

گویا اس سے بڑی اسکے لیے کوئ پناہ گاہ نہیں تھی۔۔

صیام ایک منٹ کے لیے ساکت ہوا اور پھر اسکے ہاتھ حمائل کی پشت پر ۔۔ حفاظتی بندھ کیطرح بندھ گئے ۔۔۔۔

کیا ہوا ” صیام نے پیچھے دروازہ اپنی لات سے بند کردیا ۔۔کسی ملازم کی نظر نہ پڑ جائے۔۔

م۔۔۔مجھے ڈر لگ رہا ہے” اسنےاسکے سینے پر یوں ہی سر رکھے کہا ۔۔۔

جبکہ صیام نے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرہ ہمیشہ بندھے بال آج کھلے تھے جبکہ شیمپو کی بھنی بھنی خوشبو بھی آ رہی تھی اور بالوں کی نمی وہ اپنی انگلیوں کے عہد پر محسوس کر سکتا تھا ۔۔

کس سے ڈر لگ رہا ہے” اسنے حمائل کو دور نہیں کیا ۔۔

اسکا چہرہ اسکے سینے میں چھپا صیام میں الگ ہی جزبات اجاگر کر رہا تھا ۔۔

چہرے کی نرمی اور گیلا پن صیام کے حواسوں پر چھا رہا تھا ۔۔۔۔۔

حمائل کچھ نہیں بولی اور تھوڑی دیر بعد اسے احساس ہوا وہ کیا کر رہی ہے ۔۔ وہ جھٹکا کھا کر اس سے دور ہوئ ۔۔

صیام کو اچھا نہیں لگا وہ اسکے وجود سے جدا ہوئ تھی ۔۔

اسکا دل کیا وہ اسے یوں ہی تھامے رکھے ۔۔۔

س۔۔۔سوری میں ۔۔۔” وہ سر جھکا گئ۔۔۔

جبکہ بیڈ پر پڑا دوپٹہ بھی اٹھا کر ۔۔ سر پر جما لیا ۔۔۔

صیام بھاری قدم اسکی جانب اٹھاتا اسکے نزدیک ہوا ۔اور اسپر سے دوپٹہ اتار کر ایکطرف اچھال دیا ۔۔اور اسی دوپٹے ہر قدم دھرتا وہ اسکے نزدیک آیا ۔۔اور اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام لیا ۔۔

حمائل کی سانسوں میں طوفان سا برپا ہو گیا ۔۔

اس سے پہلے وہ اسکی سانسوں کو قید کرتا ۔۔حمائل نے جلدی سے چہرہ موڑ لیا

صیام نے ناگواری سے اس حرکت کو دیکھا ۔۔

اور یوں ہی اسکا چہرہ پکڑے رکھا ۔۔ مگراسنے اسکا رخ اپنی طرف نہیں کیا ۔۔

کچھ توقف کے بعد حمائل خود ہی ہار گئ ورنہ وہ اپنی نظروں سے اسے جھلسا دیتا ۔۔

حمائل نے رخ اسکی جانب کر لیا ۔۔ جبکہ صیام جیسے منتظر تھا..

 

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 Revenge Based Urdu Novel, Tania Tahir Novels, romantic story , Revenge story , at this website Novelsnagri.com for more Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit website and give your reviews. you can also visit our facebook page for more content Novelsnagri ebook

 

Leave a Comment

Your email address will not be published.