Web Special Novel, Tania Tahir , Best Urdu Novel, Romantic Story 2022

Revenge Based Urdu Novel | یہ عشق کی تلاش ہے | Epi_23

Revenge Based Urdu Novel | یہ عشق کی تلاش ہے | Epi_23

Revenge Based Urdu Novel, Tania Tahir novels, all categories forced marriage based, politics based, cousin marriage based and also funny based novel, multiple categories & Complete pdf novel ,Here you find all kind of interesting New Urdu NOVEL.

 

Revenge Based Urdu Novel, online reading novels

Web Site: Novelsnagri.com

Category : Web special novel

Novel name : یہ عشق کی تلاش ہے

Written by: Tania Tahir

Episode _23

 

کیوں نہیں ہے ٹکے کی بھی اوقات ایک بار غور سے تو دیکھیں کوئ آس لگائے آپکو دیکھ رہا ہے ۔۔۔۔” اسنے بھیگی پلکیں اسکیطرف اٹھائ ۔۔۔۔۔

عالم سر نفی میں ہلانے لگا جبکہ دوسری طرف الماری ہلنے لگی تھی ۔۔۔۔۔اور یہ بات وہ نوٹ کرچکا تھا ۔۔۔۔

مجھے کسی کو آس میں رکھنا ہی نہیں

۔۔ بہت جلد یہاں سے چلا جاؤں گا میں ” اسنے روکھے لہجے میں کہا ۔۔۔ الماری اب بھی ہل رہی تھی وہ بیوقوف لڑکی اسکو دیکھنے کے لیے جیسے تمام حسیں بند کرچکی تھی۔۔۔۔۔

ایسا مت کریں ۔۔بھلے اتنے ہی ظالم رہیں مگر نظروں کے سامنے تو رہیں” وہ بے اختیار سی ہوئ ۔۔

ہوش میں تو ہو ” عالم کو اسکی بے قراری بری لگی تبھی جھڑک کر بولا۔۔

نہیں ۔۔۔۔۔ اب نہیں ہوں ۔۔ہاں پہلے

شمار ہوتا تھا کہ ائرہ ہوں ۔۔اب کچھ نہیں ہوں ۔۔۔۔ اب جو بھی ہیں “

شیٹ اپ ” عالم غصے سے اور ناگواری سے بولا ۔۔

عورت کو اظہار میں زرا بھی بے باک نہیں ہونا چاہیے ” اسنے نخوت سے کہا ۔۔۔۔۔

عورت کیا صرف گھٹ گھٹ کر جینے کے لیے پیدا ہوئ ہے ” ائرہ اسکے اٹھنے پر اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔اسکی آنکھوں

کی سرخی بڑھ گئ تھی ۔۔۔

مرد بھی اکثر صرف گھٹتا ہے گھٹ گھٹ کر جی کر ہی یہاں تک پہنچا ہوں میں ۔۔۔ تم اگر گھٹ رہی ہو تو اس میں میرا کوئ قصور نہیں ہے اور اپنے مطلب سے مطلب رکھو بلکہ وہ ہی کیوں یہاں تم چلی کیوں نہیں جاتی ” وہ بدلحاظی پراترآیا ۔۔۔۔

میں آپکو دیکھنا چاہتی ہو” وہ اسے ایسی نظروں سے دیکھ رہی تھی جیسے وہ اروش کو دیکھتا تھا ۔۔۔۔

اور تمہیں کیا مل رہا ہے مجھے دیکھ کر ” وہ غصے کی انتہا کو چھونے لگا ۔۔۔

سکون ” پھولتی سانسوں میں اسے کہہ گئ

سب بکواس کسی کو کسی سے محبت نہیں ہوتی ۔۔۔ سمجھی تم ۔۔اورمجھے تم سے نہیں ہے ۔۔۔۔

مگر مجھے تو ہے ” وہ اسکی گھورتی آنکھوں میں بے سبی سے دیکھتی بولی ۔۔

اور میں جوتے کی نوک پر رکھتا ہوں ایسی سب سنڈنڈرڈ محبت کو ۔۔” وہ ضبط کرتا کہہ گیا الماری ۔۔ میں حرکت بند ہو گئ تھی ۔۔۔ ائرہ بھیگتی پلکوں سے اسے دیکھتی گئ

بہار نکلو ” عالم سے مزید برداشت نہیں ہوا اسنے اسے باہر دھکا دیا ۔۔

عالم ” ائرہ کا لہجہ کانپ اٹھا ۔۔۔۔ اور اگر حمائل نہ آتی تو وہ وہیں بیٹھ کر رو دیتی ۔۔۔۔۔

حمائل سب سے گھبرا کر اسے جلدی سے اپنے روم میں لے گئ ۔۔صیام اور مکرم گھر پر نہیں تھے ۔۔۔۔

ائرہ اسکے سینےسے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر روتی رہی ۔۔۔

مجھے مجھے نہیں ہونی چاہیے تھی محبت ایسا کیوں ہوا ۔۔مجھے بتاؤ تم میں تو بہت خوش تھی میں نے سوچ لیا تھا باسم سے شادی کر لوں گی مگر یہ یہ ظالم شخص میری آنکھوں کے آگے آ گیا ۔۔ حمائل میں جان بوجھ کر نہیں کرتی میں بے بسی محسوس کرتی ہوں ” وہ اسے اپنا حال دل بتانے لگی جبکہ حمائل بھی اسکے ساتھ ساتھ روتی رہی

پلیز سنبھالو خود کو سب ٹھیک ہو جائے گا “

نہیں وہ کچھ ٹھیک ہونے نہیں دے گا ۔۔۔۔ ” ائرہ نے خو اذیتی سے سوچا اور جیسے ایک جگہ نگاہ ٹھرا دی ۔۔

ٹھیک ہے پھر ” اسنے اپنی آنکھیں بے دردی سے رگڑیں ۔۔جیسے کچھ سوچ چکی ہو ۔۔۔۔

وہ اٹھی ۔۔۔۔ مگر ہمت جواب دے گئ ۔۔وہ دوبارہ بستر پر گیر گئ حمائل گھبرائے ۔۔ ائرہ نے آنکھیں بند کر لیں دوبارہ اسکی آنکھ سے آنسو بہنے لگے ۔۔۔ جبکہ ۔۔۔

حمائل اسکا بخار دیکھ کر جلدی سے ۔۔ ٹھنڈے پانی کی پٹیاں لینے بھاگی تھی ۔۔۔۔

دوسری طرف عالم نے نفرت سے دروازے کو دیکھا تھا جہاں سے ۔۔۔ ابھی ائرہ کو اسنے باہر نکالا تھا اور دوسری نظر الماری پر گئ اسنے دروازہ کھولا تو تیمور پورا مرد تھا ۔۔۔۔ ایکدم لڑھک کر سانس گھٹنے کے باعث بے ہوش ہوتا نیچے آ پڑا ۔۔۔

تیمور کو اسنے اپنے قدموں میں دیکھا تھا ۔۔۔۔

اور تادیر دیکھتا رہا ۔۔۔۔۔۔

وہ پسینے میں شرابور تھا ۔۔۔۔۔ جبکہ چہرہ بھی سانس گھٹنے کی وجہ سے نیلاہٹ پرتھا ۔۔۔

عالم اس سے ایک قدم دور ہوا ۔۔ آنکھوں کے آگے اروش کی لاش آ گئ

اسنے پاؤں اٹھایا ۔۔۔۔اور جوتا اسکی گردن پر رکھنا چاہا ۔۔۔۔۔۔

اور رکھ کر بس نہیں چلا دبا دے مگر وہ پیچھے ہٹ گیا تھا ۔۔۔۔۔

تمھیں آسان موت نہیں دوں گا ” وہ بڑبڑایا اور اسکا ہاتھ کھینچ کر باہر لے آیا ۔۔۔اور کچھ فاصلے پر ڈائینیگ کے قریب پھینک کر ۔۔وہ اپنے روم میں چلا گیا ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہاج نے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔اور دوڑتا ہوا اسکے پاس آ گیا

اسکی اماں اور سارہ بھی گھبرا کر آئ ۔۔۔۔۔

اسے روم میں لے جایا گیا ۔۔اور ڈاکٹر کو بلایا گیا ۔۔۔۔

تو ڈاکٹر نے سانس گھٹنے کی وجہ بتائ لیکن سمجھہ کچھ نہیں آیا کہ اسکا سانس کیوں گھٹا ۔۔۔۔

وہ سب پریشان تھے ۔۔ تیمور کو کچھ دیر کے بعد ہوش آ گیا ۔۔۔

اور اسے یاد آیا کہ اسکے سانس گھٹنے کی وجہ کیا تھی

۔

وہ چپ ہوگیا اورگھر والوں کو اپنی مرضی سے سنبھال لیا ۔۔ کیونکہ وہ ابھی کسی کو بتا کر بےعزت ہونا نہیں چاہتا تھا کہ ۔۔وہ ائرہ کے کمرے میں تھا

وہ سنبھل کر بولا کہ ۔۔۔ ایسے ہی اسکا سانس گھٹ گیا تھا ۔۔ بس ۔۔

ڈاکٹر نے میڈیسنز لکھ کر دیں اور چلا گیا ۔۔۔

جبکہ ۔۔۔۔ وہ سب اسکے پاس بیٹھ گئے ۔۔

بیٹا تم لوگوں نے اپنے باپ کے بارے میں کچھ سوچ ہے یہ نہیں وہ کہاں ہیں “

اور تیمور حویلی میں تو اتنی بدبو ہے نہ پوچھو باہر جانے کے لیے بھی میں تو یہیں کا دروازہ استعمال کر رہا ہوں ۔۔ حویلی کے پیچے باغ سے بھی بدبو آنے لگی ہے اب نہ جانے کیوں جبکہ پہلے وہاں نہیں تھی” وہاج نے اسے بتایا ۔۔۔

وہاں کیسے بدبو پھیل گئ ” تیمور ششوپنج میں پڑ گیا ۔۔۔

اچھا خیر ۔۔۔ یہ بابا کا پتہ کرو وہاج ” تیمور اٹھ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔

بابا کہاں غائب ہیں” سب پرسوچ تھے مجھے تو لگ رہا ہے ہمیں چھوڑ کر بھاگ نکلیں ہیں ” سارہ نے غصے سے کہا اتنی کوشش کے باوجود بھی عالم کی نظر اسپر نہیں اٹھتی تھی ۔۔۔۔

وہ اب چیڑ رہی تھی ۔۔۔

نہیں ایسا نہیں ہے سب چیزیں پروپرٹی کے پیپرز سب اسکی جگہ پر ہیں پھر بابا کیسے بھاگ سکتے ہیں اگر بھاگنا ہوتا تو وہ کچھ نہ کچھ لے کر بھاگتے ” تیمور نے کہا تو انکی ماں نے سر ہلایا ۔۔

 چلو ٹھیک ہے میں پتہ کرتا ہوں ” وہاج نے کہا اور تیمور نے سر ہلایا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات ائرہ کو ہوش آیا ۔۔۔۔ تو وہ شرمندہ ہو گئ وہ صیام اور حمائل کے روم میں تھی ۔۔۔

وہ جلدی سے اٹھ گئ ۔۔

سوری مجھے اندازہ نہیں ہوا ” اسنے شرمندگی سے کہا ۔۔۔

بیٹھ جاؤ ۔۔۔ ” صیام نے کہا ۔۔

نہیں مجھے بھوک ہے ” وہ بولی صیام نے بھی زیادہ فورس نہیں کیا وہ یہاں جب سے آئ تھی کھا پی بھی نہیں رہی تھی کچھ تبھی اسنے سر ہلایا ۔۔

کھانا لگ گیا ہے چلو اکٹھے کھاتے ہیں ” وہ بولا ۔۔ تو تینوں نیچے آ گئے تبھی عالم بھی اپنے کمرے سے نکلا تو ۔۔۔۔ نظر ائرہ پر اٹھی قابل رحم حالت میں بھی بے حد حسین لگ رہی تھی وہ ۔۔نگاہ پھیر کروہ نیچے چلا گیا ۔۔۔

سب ڈائینیگ پر خاموشی سے کھانا کھا رہے تھے تیمور بار بار ائرہ کو دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا ۔۔۔ وہ باہر کیسے آیا ۔۔۔

کیا عالم کو پتہ تھا وہ اسی ششوپنج میں تھا ۔۔ کہ اچانک ائرہ کی آواز پر ۔۔۔ اسکی جانب حیرانگی سے دیکھنے لگا ۔۔۔

کیسے ہو تیمور ” وہ مسکرا کر بولی اپنے سلکی بالوں کو کانوں کے پیچھے اڑیس لیا اور ۔۔۔۔

سرخ نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔ سب نے حیرانگی سے ائرہ کو دیکھا تھا ۔۔۔۔

میں ٹھیک ہوں ” وہ بولا اور کانٹا چھوڑ دیا ۔۔۔۔

عالم نے پہلی بار کھانا چھوڑ کر اسکی جانب توجہ سے دیکھا تھا حمائل اور صیام توچونکے تھے جبکہ باقی سب بھی

وہ ایکچلی مجھے کہنا تھا کہ ۔۔۔۔ ” ائرہ بولی

ہاں ہاں گھبراؤ نہیں ” تیمور توخوشی سے پھولے نہ سمایا ۔۔۔

شادی کرو گے مجھ سے ” ائرہ بے جھجھک بولی ۔۔۔

اور تیمور کیطرف دیکھنے لگی ۔۔

عالم کے ہاتھ سے کانٹا چھوٹا تھا ۔۔۔ اور اسنے ایکدم ناگواری سے دوبارہ کانٹا اٹھا لیا ۔۔۔

اور ۔۔۔ دوبارہ کھانے لگا مگر نوالہ بھاری ہو گیا

ائرہ “صیام غصے سے دھاڑا ۔۔۔

حمائل نے بھی غصے سے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔

کیا ہوگیا ہے ریلکس رہو ۔۔۔ صیام ۔۔۔ زندگی میری ہے اور مجھے لگتا ہے تیمور ایک اچھا انسان ہے”

رئیلی ” وہ بولا ۔۔اور اٹھ کھڑا ہوگیا ۔۔

عالم ناگواری چہرے پرسجائے کھانا کھا رہا تھا صیام کا غصے سے برا حال تھا

یہ وہی ہے جس نے تمھیں کیڈنیپ کیا تھا ” صیام نے گویا یاد دلایا

میں نے معاف کر دیا ” ائرہ نے کہا ۔۔

تھینکیو ائرہ ۔۔۔” تیمور ایکدم اٹھ کر اسکے نزدیک آیا ۔۔۔اور اسکا ہاتھ تھام لیا ۔

اوہ تمھیں تو بخار ہے ۔۔۔ خیرتھینکیو یار ۔۔۔۔تم نے مجھے معاف کردیا ۔۔” وہ مسکرا کربولا ائرہ بھی مسکرا دی ۔۔۔

عالم اٹھ کر جانے لگا ۔۔۔

کیوں نہ ابھی نکاح کرلیں ” وہ عالم کی پشت دیکھتی تیمورکا ہاتھ تھامتی بولی ۔۔ جبکہ عالم کہ قدم رک گئے ۔۔

ہاں ہاں کیوں نہیں ” تیمور تو پھولے نہیں سمایا ۔۔۔

جبکہ صیام نے اسکے ہاتھ سے ایک جھٹکے سے تیمور کا ہاتھ جدا کیا

منہ توڑ دوں گا میں تمھارا ۔۔۔” وہ شعلے اگلنے لگا ۔۔۔

عالم نے ایک پل کے لیے سر گھما کر ائرہ کو دیکھا جو اسی کیطرف دیکھ رہی تھی اور پھر وہ آگے چلا گیا یہ بس لمہہ لگا تھا ۔۔۔

تیمور نے صیام کو دور کیا ۔۔۔۔

تمھارا کیا مسلہ ہے ۔” وہ غصے سے بولا

ائرہ پاگل مت بنو ” صیام نے اسکو سمجھانا چاہا ۔

میں فیصلہ کر چکیں ہوں ” ائرہ نے کہا اور کمرے میں جانے سے پہلے تیمور کو دیکھا ۔۔۔

آدھے گھنٹے میں نکاح کا انتظام کرلو ” اسنے کہا اور مسکرا کراندر چلی گئ حمائل اسکے پیچھے بھاگی تھی تیمور تو خوشی سے پاگل ہو رہا تھا سب ایکدم خوش ہو گئے

انکی ماں ۔۔۔ بھی اورسارہ نے تو یہ کانٹا خوشی سے نکلتا تھا تھا ۔۔ اب عالم تک پہنچنا آسان ہو جائے گا مگراس سے بات کرنے کی ہمت سی نہیں ہوتی تھی زرا ۔۔۔۔

تبھی وہ اس سے بات نہیں کر سکی تھی اب تک

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ کیا کر رہی ہو تم ” حمائل نے غصے سے اسکیطرف دیکھا

فیصلہ کیا ہے بس ایک “

فیصلہ اسے فیصلہ کہتے ہیں اسے موت کہتے ہیں ائرہ جسے تم گلے لگانے جا رہی ہو ” حمائل کو پہلی بار اتنا غصہ آیا تھا ۔۔۔۔۔

کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔۔ میں وہ موت سہہ نہیں سکتی جو مجھے پل پل مل رہی ہے

۔۔” وہ سکون سے بولی ۔۔۔

ائرہ تم خوش نہیں رہو گی” حمائل نے کہا

تم جانتی ہو اس شخص نے مارا تھا اروش کو ” حمائل نے ۔۔ بتایا

ہاں جانتی ہوں “

اور تم اسی سے شادی کر رہی وہ گندہ دو نمبر نسان ہے مجھے “

فرق نہیں پڑتا موسم سخت ہے یہ نرم ۔۔۔

محبت کا ظلم ہر ظلم سے بڑا ہے میں اس کو سہہ نہیں پا رہی اور میں نے بلکل درست فیصلہ کیا ہے” وہ بولی اور آنکھیں بند کر کے لیٹ گئ

حمائل حیران تھی اس ضد پر “

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تیمور نے جھٹ پٹ انتظام کیا تھا ۔۔۔۔

اور یہاں تک کے اسکے لیے سرخ لباس بھی لایا تھا جو اسنے سارہ کے ہاتھ بھیجوایا ۔۔

ائرہ اس سرخ لباس کو دیکھنے لگی ۔۔اور کچھ دیر بعد اٹھ کر پہن لیا ۔۔

آنکھیں رو رو کر پھول چکیں تھیں ۔۔۔ اور پردوں پر سرخ لکیریں سی بن گئ تھیں ۔۔ وہ سرخ جوڑا پہن کر آئینے کے سامنے آئ ۔۔

تو اپنا چمکتا چہرہ ۔۔ شیشے میں دیکھ کر نفرت سی ہوئ

اتنی بدصورت ہوں میں ۔۔۔” آنسو پھر سے بہنے لگے ۔۔۔

ایک نظر ۔۔۔ اپنی محبت کی عزت کے بھی لائق نہیں ہوں ” وہ رو دی۔۔۔۔

اور سامان میں لائ گئ ریڈ لیپسٹک خالی چہرے پر لگا لی ۔۔۔۔

اور دوپٹہ سر پر لے لیا۔۔۔

کوئ سوچ نہیں سکتا تھا کہ وہ ۔۔بس جوڑے میں اور سرخ لپسٹک میں آتش فشاں لگ رہی تھی جو

۔۔ پھٹ پڑے تو سب تباہی کر دے ۔۔اور یہ ہی حال تیمور کا ہونا تھا ۔۔

وہ تو بے قابو ہوگیا جبکہ ائرہ باہر آئ

۔

کھلے بال ایک شانے پرتھے ۔۔

نفرت سے صیام نے اسے دیکھا ۔۔

ائرہ مولوی کے سامنے آ بیٹھی ۔۔۔۔

تیمور اسکے سامنے بیٹھا تھا ۔

ائرہ نے تیمور کو دیکھ کر پلوں چہرے پر گیرہ لیا ۔۔۔اور ۔۔۔

نظریں جھکا لیں اس ضد پر سینے میں پرا دل پھٹنے کو تھا ۔۔۔ ۔

درسے چیخیں نکل آئیں ۔۔۔۔

وہ یوں ہی بیٹھی رہی ۔۔۔۔

کہ اچانک احساس ہوا ۔۔۔

وہ خوشبو جانی پہچانی سی ساتھ آ بیٹھی ہے ۔۔وہ ازیت سے ہنسی

یعنی موت سے گلے لگوانے وہ آیا تھا ۔۔۔۔

ائرہ نے زہن جھٹک دیا

مولوی نے نکاح شروع کیا

ائرہ ولد (…) آپ کو (….) حق مہر لعالم شاہ سے نکاح قبول ہے”

یہ الفاظ تھے یہ

۔۔۔۔ یہ کرنٹ ۔۔

گھونگٹ پلٹ کر اسنے ۔۔۔ عالم کو دیکھا جو آنکھوں میں شعلے لیے بیٹھا تھا

وہ ڈب دباتی آنکھوں سے اسے دیکھتی جلدی سے بولی

قبول ہے قبول ہے ۔۔ قبول ہے ۔۔ ہزار بار قبول ہے ۔۔

تیمور ایکدم اٹھا

مولوی نے یہ ہی سوال عالم سے کیا جس نے مدھم آواز میں ائرہ کی آنکھوں میں دیکھتے قبول ہے کہا ۔۔۔۔۔

یہ سب کیا ڈرامہ ہے” تیمور چلایا ۔۔۔۔

نکاح تو ائرہ کا اور اسکا ہو رہا تھا یہ عالم کہاں سے بیچ میں آ گیا

وہ تلملا ہی گیا۔۔۔۔

عالم اور ائرہ نے سائین کیے ۔۔۔۔۔

ان سب کے چہرے دیکھنے لائق تھے مکرم کو اور حمائل دبا دبا مسکرا رہے تھے جبکہ عالم وہاں سے اٹھ کر چلا گیا

۔۔

ائرہ کو جیسے بجلی کی تاروں نے چھو لیا تھا ۔۔

وہ ایکدم ۔۔۔ اٹھ کر حمائل کے پاس آئ دونوں ہاتھوں سے اسے تھام لیا

تم تم نے دیکھا تم نے دیکھا کہیں یہ میرا خواب تو نہیں ۔۔۔” وہ بولی

حمائل کھلکھلا دی ۔۔

نہیں یہ سچ ہے”

صیام نے بھی اسکے سر پر ہاتھ رکھا ۔۔۔

خوش قسمت ہو تم تو ” صیام ہنسا ۔۔۔

تیمور پر جو تیزاب گیرہ تھا وہ اسکے منہ کو دیکھ رہا تھا اور اسے اندازا ہو گیا تھا چڑیا جسے وہ مسل دینا چاہتا تھا ہاتھ سے نکل گئ ہے ۔۔

ائرہ تو جھوم اٹھی ۔۔۔۔

اسکا بس نہیں چل رہا تھا چلا چلا کر سارا حبس اندر کا نکال دے ۔۔

صیام حمائل مکرم بھی بے حد خوش تھے ۔۔

اسنے تیمور کو دیکھا جو حیران تھا وہ اسکے نزدیک آئ ۔۔ وہ دن یاد آیا جب اسکے دونوں ہاتھوں پر کٹ ڈالے تھے اسنے ۔۔۔۔۔

ائرہ میں جیسے پہلے والا جوش بھر گیا تیمور کچھ کہتا

ائرہ نے کھینچ کر لات ماری تھی اسکے پیٹ پر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

continued…

 

Revenge Based Urdu Novel, Tania Tahir Novels, romantic story , Revenge story , at this website Novelsnagri.com for more Urdu Novels and afsanay that are based on different kind of content and stories visit website and give your reviews. you can also visit our facebook page for more content Novelsnagrhttp://Novelsnagri ebook

 

 

 

 

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *